Baaghi TV

امریکا، ایران امن معاہدے کا مجوزہ مسودہ منظر عام پر آگیا

عرب میڈیا العربیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے مجوزہ معاہدے کے حتمی مسودے کی تفصیلات جاری کر دیں۔

العریبیہ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع اور اہم آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز شامل ہے مسودے کے مطابق امریکا ایران پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرے گا، جبکہ دونوں ممالک جنگ بندی کی 60 روزہ توسیع کے دوران ایران کے افزودہ یورینیئم سے متعلق مذاکرات کریں گے۔

مسودے میں تمام فریقوں کو فوری طور پر جارحانہ فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ معاہدے پر عمل درآمد کے دوران کسی بھی قسم کے فوجی حملے سے گریز کیا جائے گا،جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں تنازع کو ثالثی اور رابطہ کاری کے ایک متفقہ نظام کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان امن تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں-

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک خصوصی مونتاج ویڈیو نشر کی ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق بار بار کیے گئے دعوؤں کو یکجا کیا گیا۔

سی این این کے معروف میزبان اینڈرسن کوپر نے پروگرام کے دوران کہا کہ ٹرمپ ایک بار پھر ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے ایسی بات کی ہو،ٹرمپ اب تک کم از کم 39 مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ یا مفاہمت ہونے والی ہے یا اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

سی این این کی جانب سے نشر کیے گئے ویڈیو مونتاج میں مختلف اوقات میں ٹرمپ کے وہ بیانات شامل کیے گئے جن میں انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات، امن معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے بارے میں امید ظاہر کی تھی، حالیہ دنوں میں بھی ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور موثر معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور جلد پیشرفت متوقع ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے متعدد دعوے کیے گئے تھے لیکن ان میں سے کئی عملی نتائج تک نہیں پہنچ سکے دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں اور مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

سی این این کی رپورٹ اور اینڈرسن کوپر کے تبصرے نے امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے تازہ دعوے اس بار حقیقت کا روپ دھار سکیں گے یا نہیں۔

More posts