Baaghi TV

Tag: مودی سرکار

  • مودی کی اگنی ویر سکیم،رشتے آنا بند،نوجوانوں نے بھارتی فوج میں جانا چھوڑ دیا

    مودی کی اگنی ویر سکیم،رشتے آنا بند،نوجوانوں نے بھارتی فوج میں جانا چھوڑ دیا

    مودی سرکار کی اگنی ویر سکیم ناکام، نوجوانوں نے تقرر نامہ ملنے کے باوجود بھارتی فوج میں شمولیت سے معذرت کر لی

    جون 2022 میں بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے نوجوانوں کے لئے اگنی پتھ سکیم کا اعلان ہوا جس کا مقصد بھارتی فوج کی تنخواہوں اور پنشن کے بجٹ کو کم کرنا تھا ، اگنی پتھ سکیم کے تحت ساڑھے 17 سال سے 23 سال تک کی عمر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو فوج میں چار سال کے لیے بھرتی کیا جائے گا اور مدت کے اختتام کے بعد ان سب میں سے صرف 25 فیصد افراد کی مدت ملازمت بڑھائی جائے گی، اس سکیم کے تحت فوج میں بھرتی ہونے والے افراد اگنی ویر کہلائیں گے ملازمت کے اختتام پر 11 سے 12 لاکھ روپے دیے جائیں گے لیکن اس کے بعد یہ تمام افراد پینشن وصول کرنے کے اہل نہیں ہوں گے،اگنی ویر سکیم میں بھارتی نوجوان شامل ہوئے، ٹیسٹ انٹرویو دیئے لیکن تقرر نامہ ملنے کے بعد انہیں گھر والوں نے بھارتی فوج میں جانے سے روک دیا،

    فوج میں اب جانے کا کوئی فائدہ نہیں،انوپ
    ایک نوجوان انوپ کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج میں جانا میرا اور میرے والدین کا خواب تھا، میں نے ساتویں جماعت سے ہی فوج میں بھرتی ہونے کی تیاری شروع کر دی تھی لیکن جب سے مودی سرکار اگنی ویر سکیم لائی ہمارے خوابوں پر پانی پھر گیا،والد نے کہا کہ چھ سال کی تیاری کے بعد چار سال کی نوکری کا کوئی مطلب نہیں ہے اسلئے فوج میں اب جانے کا کوئی فائدہ نہیں،بھارتی نوجوان انوپ اب پولیس میں بھرتی ہونے کی تیاری کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ اگر اگنی ویر سکیم نہ آتی تو میں فوج میں ہوتا کیونکہ دوڑ میں بہت اچھا تھا، میری زندگی بدل گئی ہوتی تا ہم اگنی ویر سکیم نے سب کچھ تباہ کر دیا، میرا مستقبل غیر یقینی ہو گیا،

    انوپ یادو کا تعلق بہار کے ضلع بانکا سے ہے، انکی اگنی ویر سکیم کے تحت بھارتی فوج میں نوکری مل چکی تھی تا ہم انوپ نے بھارتی فوج کو جوائن نہیں کیا، خبر رساں ادارے دی وائر سے انوپ نے کھل کر گفتگو کی اور اگنی ویر سکیم بارے اپنے خدشات کا اظہار کیا،

    نوجوانوں کو بھارتی فوج میں اب مستقبل نظر نہیں آ رہا
    انوپ کے ٹرینر مونو رنجن کا کہنا ہے کہ انوپ اکیلا نہیں بلکہ سینکڑوں نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے اگنی ویر سکیم کی وجہ سے بھارتی فوج کی نوکری چھوڑی دی،کئی ایسے امیدوار ہیں جو تقرری حاصل کرنے کے بعد بھی اگنی ویر بننے نہیں گئے اور اب کہیں اور نوکری کی تیاری کر رہے ہیں،ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگنی ویر سکیم کے تحت بھارتی فوج میں جانیوالے پہلے بیچ میں سے 50 نوجوانوں نے دوران ٹریننگ ہی واپسی کی راہ اختیار کر لی تھی کیونکہ انہیں اب بھارتی فوج میں مستقبل نظر نہیں آ رہا تھا،

    مودی سرکار نے جب اگنی ویر سکیم کا اعلان کیا تھا تو دھرم پورہ گاؤں میں سب سے بڑا مظاہرہ بھارتی سابق فوجیوں نے کیا تھا جس میں قریبی دیہاتوں کے سابق فوجیوں نے بھی شرکت کی تھی،دھرم پورہ جہاں ہر سال پہلے تقریبا دس افراد بھارتی فوج میں جاتے تھے اب انکی تعداد کم ہو گئی ہے اور اب تقریبا تین سے چار جوان ہی بھارتی فوج میں جا رہے ہیں کیونکہ اگنی ویر سکیم آنے کے بعد نوجوان مایوس ہو چکے ہیں،

    اگنی ویر سکیم کی وجہ سے بھارتی نوجوانوں کی شادیوں میں رکاوٹیں،رشتے آنا بند
    مودی کی اگنی ویر سکیم کی وجہ سے بھارتی نوجوانوں کی شادیوں کو لے کر بھی رکاوٹیں آ رہے ہیں، بہار میں شادی کے وقت پوچھا جاتا ہے کہ لڑکا کیا کرتا ہے، اگر لڑکا فوج میں ہو تو رشتہ فوری مل جاتا ہے تا ہم اگنی ویر سکیم آنے کے بعد فوج میں جانے والوں کو رشتے نہیں مل رہے، لڑکی والے کہتے ہیں چار سال کی نوکری کے بعد لڑکا کیا کرے گا، ہماری بیٹی کہاں سے کھائے گی؟دھرم پورہ کے سابق فوجی رمیش کہتے ہیں کہ،اگنی ویر سکیم آنے کے بعد اس سکیم کے تحت بھارتی فوج میں جانیوالے لڑکوں کے رشتے نہیں آ رہے، لڑکی والے کہتے ہیں کہ چار سال کی نوکری والے سے بیٹی کی شادی نہیں کر سکتے۔

    بھارتی فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو اب عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتا
    دھرم پورہ سے ملحق گاؤں بریجا کے یادو برادری کے نوجوانوں نے اگنی پتھ اسکیم پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ 21 سالہ امت کمار یادو گزشتہ چار سالوں سے فوج کے لیے تیاری کر رہے تھے، اس سال ان کی عمر کی حد ختم ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں، پہلے جب گاؤں کے نوجوان فوج میں بھرتی ہونے کے بعد واپس آتے تھے تو لوگ انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، لیکن اب گاؤں والے طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ دیکھو اگنی ویر آرہا ہے،بھارتی فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو اب عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتا بلکہ لوگ فوجی ماننے سے بھی انکار کر دیتے ہیں،اگنی ویر سکیم کی وجہ سے والدین کے حوصلے بھی ٹوٹ چکے ہیں، وہ اب فوج کی تیاری کرنے کی بات کہنے پر خوش نہیں ہوتے

    بہار میں 15 سے 29 سال کی عمر کے لوگوں میں بے روزگاری کی شرح 18.7 فیصد ہے جبکہ قومی سطح پر یہ شرح 16.5 فیصد ہے،بہار میں پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریوں کے بہت کم مواقع کی وجہ سے یہاں کے نوجوان سرکاری نوکریوں کی تیاری کرتے ہیں، دی ہندو کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ 2022 تک بہار میں ہر سال فوج میں بھرتی کی ریلی ہوا کرتی تھی اور 2022 سے پہلے کے تین سالوں میں ریاست سے 10000 فوجی بھرتی کیے گئے تھے۔ لہذا، 2022 میں اگنی پتھ اسکیم کی سب سے زیادہ پرتشدد مخالفت صرف بہار میں دیکھی گئی،بکسر، سارن، بھوجپور، مظفر پور، بیگوسرائے، پٹنہ اور دیگر اضلاع کے ہزاروں نوجوانوں نے زبردست مظاہرہ کیا۔ کئی ٹرینوں کو جلا دیا گیا اور ریل اور سڑک جام کر دیے گئے، پولیس نے ان مظاہروں کے حوالے سے 145 ایف آئی آر درج کی تھیں اور 804 افراد کو گرفتار کیا تھا ۔بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول نے بھی اگنی پتھ کے حوالہ سے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سکیم کو نوجوانوں نے مسترد کردیا ہےمودی نہیں سمجھتے کہ ملک کے لوگ کیا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے دوستوں کی آوازوں کے علاوہ کچھ اورسننا نہیں چاہتے ،

    ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ چار سال کی ملازمت کے بعد ایک نوجوان فوجی صلاحیت اور جنگ میں ٹرینڈ ہو جائے گا ایک بار جب وہ بے روزگار ہو جائے گا تو آگے کیا کرے گا؟ وہ دہشت گرد، مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف جائے گا اور یہاں تک کہ پولیس بھی ایسے نوجوانوں کو گرفتار نہیں کر پائے گی وہ پولیس اہلکاروں کے مقابلے میں فوجی جنگ میں زیادہ باصلاحیت ہوں گے۔

    اگنی ویر اسکیم کے آغاز کے بعد نوجوان بھارتی فوج میں شامل ہونے کا جذبہ کھو رہے ہیں،سکھویندر سنگھ سکھو ن
    اگنی ویر اسکیم کے باعث بھارتی عوام کی فوج میں شمولیت میں عدم دلچسپی ،اقتدار کی ہوس میں مودی سرکار نے بھارتی فوج کو بھی نشانے پر رکھ لیا،مودی سرکار کی جانب سے بھارتی فوج میں شمولیت کے لیے انتہائی بے معنی اگنی ویر اسکیم متعارف کروا دی گئی ،ہماچل پردیش کے وزیراعلی سکھویندر سنگھ سکھو نے بھی مودی سرکار کی جانب سے اگنی ویر اسکیم پر تشویش کا اظہار کیا،سکھویندر سنگھ سکھو کا کہنا ہے کہ اگنی ویر اسکیم کے آغاز کے بعد نوجوان بھارتی فوج میں شامل ہونے کا جذبہ کھو رہے ہیں،اگنی ویر اسکیم سے بھارتی نوجوانوں کی فوج میں شمولیت کے جذبے کی سخت حوصلہ شکنی ہوئی ہے،سکھویندر سنگھ سکھو نے مودی سرکار کو اگنی ویز اسکیم پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اب نوجوانوں میں ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ معدوم ہوتا جا رہا ہے

    اس سے قبل کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے بھی مودی سرکار کی جانب سے بھارتی فوج کے لیے متعارف کرائی گئی اگنی ویر اسکیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ مودی کی جانب سے اگنی ویر اسکیم زبردستی مسلط کی گئی ہے،اگنی ویر اسکیم متعارف کروانے سے مودی سرکار کا بھیا!نک چہرہ کھل کر سامنے آ گیا،اس امر میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ مودی سرکار اپنے سیاسی مفادات کے لیے ملک کے جوانوں کا سودا کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی.

    فوج کے بعد اب پولیس میں اگنی ویر سکیم آ رہی،بہار کے سابق نائب وزیر اعلی کا دعویٰ
    دوسری جانب بہار کے سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے اگنی ویر اسکیم کے حوالہ سے دعویٰ کیا ہے مرکز کی بی جے پی حکومت محکمہ پولیس میں بھی فوج کی طرح اگنی ویر اسکیم لانے کی تیاری کر رہی ہے،بھارت کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ اگنی ویر اسکیم ہے، 2000 میں بی جے پی حکومت نے سب سے پہلے پنشن کو ختم کیا جس کی وجہ سے لوگوں میں کافی غصہ ہے، اب نوجوانوں میں زبردست ناراضگی ہے، خاص کر ان نوجوانوں میں جنہیں چار سال میں ہی باہر کا راستہ دکھا دیا جائے گا،اگر ان جوانوں کی ڈیوٹی کے دوران جان جاتی ہے تو انہیں شہید کا درجہ بھی نہیں دیا جائے گا، ان نوجوانوں کو نہ پنشن کا فائدہ ملے گا اور نہ ہی کینٹین کی سہولت، ملک کے نوجوانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے

    دوسری جانب مودی سرکار کی پالیسیوں سے نالاں بھارتی فوجی اپنی جانیں لینے لگے،بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والی مودی سرکار مکافات عمل کی زد میں آ گئی،مودی سرکار میں بھارتی فوجیوں میں خودکشیوں کے رحجان کی شرح میں سنگین حد تک اضافہ ہو چکا ہے،18 مئی کو مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی فوج کے میجر مبارک سنگھ پڈا نے مبینہ طور پر خو دکشی کر لی،بھارتی میجر نے جموں کشمیر کے علاقے اکھنور میں اپنے کمرے میں خود کو گولی ما!ر کر خودکشی کر لی،مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجی کی خود کشی کا پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی 16 نومبر کو ضلع ادھم پور میں 38 سالہ نائیک ہریش سنگھ نے گولی ما!ر کر اپنی زندگی کا خا!تمہ کر لیا تھا،جنوری 2007 سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں تعینات خود کشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 601 تک پہنچ چکی ہے،مودی سرکار کی نااہلی اور ناقص پالیسیوں کے بدولت بھارتی سیکیورٹی فورسز میں ذہنی تناؤ اور ڈپریشن سنگین حد تک بڑھ چکا ہے جو بعد میں خود کشی کا سبب بننے لگا ہے،اس وقت مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارتی سیکیورٹی فورسز کے نصف سے زائد اہلکا!ر شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں،دوسرے ممالک کے خلاف پروپگینڈا کرنے اور طاقت کے نشے میں چور مودی سرکار اپنے سیکیورٹی اہلکا روں کی مشکلات سے بے پرواہ ہے

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • بھارتی انتخابات ، مودی کی بے چینی،سادہ اکثریت حاصل کرنا مشکل

    بھارتی انتخابات ، مودی کی بے چینی،سادہ اکثریت حاصل کرنا مشکل

    بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں، حکمران جماعت بی جے پی الیکشن جیتنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے تو وہیں کانگریس بھی اتحادیوں کے ساتھ ملکر حکومت بنانے کی خواہاں ہے، دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہی ہیں،ایسے میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بھارتی انتخابات پر اپنا تجزیہ پیش کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے بھارتی انتخابات بارے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ غیر متوقع ہو سکتا ہے، پہلی بار بھارتی وزیراعظم مودی اور انکی جماعت بی جے پی بے چین ہیں، انہیں احساس ہو گیا ہے کہ انتخابات کے نتائج جیسے وہ چاہتے ہیں ویسے نہیں ہوں گے جس طرح وہ توقع کر رہے تھے، اس طرح نتائج نہیں آ رہے، کئی ریاستوں میں انہیں سرپرائز ملے گا، ایک بات یقینی ہے، کہ بی جے پی کو اکثریت نہیں مل رہی جس کے مزے انہوں نے پچھلی بار لئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بی جے پی زیادہ سیٹیں جیت جائے گی تا ہم اسے سادہ اکثریت نہیں مل رہی جو انکے سیاسی نعرے کے لئے بہت ضروری ہے، اگر 272 سیٹیں نہیں ملتیں تو مودی اتنے متعلقہ نہیں ہوں گے جتنے وہ پچھلے انتخابات کے بعد تھے۔انتخابی مہم میں اب بی جے پی کا اچانک موڈ بدل گیا ہےاور ایک بار پھر بی جے پی نے مسلم مخالف نعرے شروع کر دیے ہیں حالانکہ انتخابات سے قبل انہوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا تھا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بی جے پی اپنے پرانے آزمائے ہوئے حلقوں پر قائم ہے۔انکے لئے کوئی نیا ووٹ نہیں ہے، بھارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ بہت اہم ہے۔ اگر 67% سے زیادہ ووٹرز ووٹ دیتے ہیں تو مودی جیت سکتے ہیں۔ کم ٹرن آؤٹ مودی کے خوابوں کے لیے تباہ کن ہوگا۔ بہت سے ہندوتوا لیڈروں کو انتخابات سے پہلے ہی باہر کردیا گیا۔ یہ بین الاقوامی برادریوں کو مطمئن کرنے اور پیراڈائم شفٹ کی عکاسی کرنے کی ایک کوشش تھی۔ تاہم اب مودی نے خود ہی شور مچانا شروع کر دیا ہے اور وہ پرانا منتر پرواپس آ گیا ہے۔ یہ پہلی بار حکمران اشرافیہ میں خوف و ہراس کی عکاسی کرتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی انتخابات میں بھارتی الیکشن کمیشن کو کریڈٹ جاتا ہے، جو مضبوط اور یقینی طور پر غیر جانبدار ہے۔ حسن یہ ہے کہ بھارت کو عبوری حکومت کی ضرورت نہیں ہے اور پھر بھی کوئی حکومت پر دھاندلی کا الزام نہیں لگاتا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • بھارت میں  صاف اور شفاف  انتخابات ایک سوالیہ نشان

    بھارت میں صاف اور شفاف انتخابات ایک سوالیہ نشان

    الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ میں بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابات کو متنازعہ قرار دیا گیا

    ایک طرف مودی سرکار انتخابی مہم کے دوران اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشا نہ بنا رہی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں پر دباؤ ڈال کر جماعت چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے،الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ متعدد اپوزیشن امیدواروں پر دباؤ ڈالا گیا جس سے وہ اپنی پارٹی رکنیت سے دستبردار ہوگئے، بہت سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے تا کہ بی جے پی کو اکثریت مل سکے،الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پہلے ہی کانگریس کے امیدوار اور پانچ دیگر کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے تھے،

    پرنس پٹیل نامی بھارتی شہری نے مودی سرکار کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ،”میں بی جے پی کو ووٹ دینے کے بجائے کبوتر کو ووٹ دوں، میرے بچے تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی بے روزگار ہیں” بھو جن ریپبلکن سوشلسٹ پارٹی کے امیدوار وجے لوہار نے کہا کہ،”مودی سرکار کے تسلط کے باعث اپوزیشن امیدواروں کی زندگیاں خطرے میں ہیں”بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار ماضی میں بھی متنازعہ حالات میں انتخابی جیت کا اعلان کرتی رہی ہے ،ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ 2014 سے 2019 میں بی جے پی نے گجرات کے حلقے سے تمام سیٹیں جیتیں اور 2019 میں مدھیہ پردیش کے حلقے سے 28 سیٹیں حاصل کیں یہ دھاندلی کی واضح مثال ہے، آزاد امیدوار چوہان نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ،”مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا اور ذہنی طور پر اذیت دی گئی یہاں تک کہ میں نے ہار مان لی”

    گجرات میں مقیم سیاسی تجزیہ کار کے مطابق، "بھارتی انتخابی عمل میں مودی سرکار کی جانب سے دھاندلی بھارتی انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے” مودی سرکار نے انتخابات کی آڑ اور اقتدار کی حوس میں بھارت کے ہر ادارے کو نقصان پہنچایا جس سے عالمی سطح پر اسکی شدید جگ ہنسائی ہوئی،اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین جو دیگر ممالک میں تو انتخابات کے بعد فوری طور پر اپنا ردعمل دیتے ہیں، کیا انہیں بھارت میں ہونے والے متنازعہ انتخابات نظر نہیں آرہے جہاں مودی نے تمام طبقوں کو خو_فز_دہ کرکے جیت حاصل کرنے کی کوشش کی

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • بھارتی انتخابات،دی گارڈین نے  مودی سرکار کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا

    بھارتی انتخابات،دی گارڈین نے مودی سرکار کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا

    بھارت میں انتخابات شروع ہو چکے ہیں،دنیا کی سب سےبڑی جمہوریت کی دعویدار بھارت کے حوالہ سے دی گارڈین نے رپورٹ شائع کر کے مودی سرکار کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا ہے

    دی گارڈین کے مطابق مودی سرکار ایک جانب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے، تو دوسری جانب انتخابات سے پہلے ہی جیت کا اعلان کرتی نظر آتی ہے، اپوزیشن جماعت کے اکاوٴنٹس منجمد ہونا، تمام اہم اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاری، استغاثہ کا بطور ہتھیار استعمال اور بی جے پی کو 1.25 بلین کی امداد حاصل ہونا کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا،دی گارڈین کے مطابق مختلف سرویز سے پتا چلتا ہے کہ بھارتی عوام بے روزگاری، مہنگائی اور آمدنی اور مالی عدم تحفظ کے متعلق شدید پریشانی کا شکار ہیں، مودی سرکار ان تمام مسائل کے بارے میں نہایت ناقص ریکارڈ کی حامل ہے بھارت200 ملین سے زائد مسلمانوں کا گھر ہے لیکن مودی انھیں نظر انداز کرتے ہوئے محض ہندو انتہا پسندوں کو ترجیح دیتا ہے، جن کی جانب سے مسلمانوں کو امتیازی سلوک اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، مودی جنوبی ہندوستان میں مقبولیت سے محروم ہے کیوں کہ وہاں علاقائی و ثقافتی شناخت کو ہندومت پر ترجیح دی جاتی ہے

    دی گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جن علاقوں میں مودی کی مقبولیت کم ہو وہاں تشدد اور دہشت گردی سے ہندومت کے قوانین نافذ کروائے جاتے ہیں، اروند کیجریوال کی گرفتاری مودی کے اپنے آپ میں اعتماد کی کمی کا ثبوت ہے، مودی کے پاس عدم تحفظ محسوس کرنے کی بہت وجوہات ہیں

    بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • بھارتی ریاستی اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے،مقدمہ درج،تحقیقات کا حکم

    بھارتی ریاستی اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے،مقدمہ درج،تحقیقات کا حکم

    بھارتی ریاستی اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ گئے، ریاستی وزیراعلیٰ نے کاروائی کا اعلان کر دیا

    بھارت کی ریاستی اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنے پر اراکین اسمبلی حیران رہ گئے ہیں کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدرا میا کا کہنا ہے کہ راجیہ سبھا کے انتخابات کے دوران پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنے کے واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی، ٹی وی چینلز کی فوٹیج منگوائی جائے گی اور کاروائی کی جائے گی

    بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی نے کرناٹک اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اور کہا کہ کانگریس کے حامیوں نے راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے، بی جے پی کارکنان نے کانگریس کے امیدوار سید ناصر حسین کا نام لیا، واقعہ پر بنگلورو سٹی نے از خود مقدمہ بھی درج کر لیا ہے وہیں بی جے پی نے پولیس کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کیخلاف کاروائی کی درخواست بھی دے دی ہے

    کرناٹک کے وزیرداخلہ جی پرمیشور کاکہنا ہے کہ بنگلور پولیس نے ٹی وی چینلز سے اکٹھے کی جانیوالی ویڈیو فوٹیج کومزید تحقیقات کے لیے فارنزک سائنس لیبارٹری کو بھیج دیا ہے،دوسری جانب کانگریس کے نومنتخب رکن پارلیمنٹ سید ناصر حسین نے ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حامیوں نےناصر صاحب زندہ باد کے نعرے لگائے تھے، گھر واپس جاتے ہوئے ایک میڈیا ہاؤس سے فون آیا کہ کسی نے فلاں فلاں نعرہ لگایا، میں ان لوگوں کے بیچ میں تھا اور ایسا کوئی نعرہ کبھی نہیں سنا،

    واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے تعلقات اچھے نہیں ہیں اور ملک میں ایک ایسی فضا قائم ہے کہ پاکستان سے متعلق کوئی بھی مثبت بات کہنے کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے ماضی میں بھی کئی بار پاکستان زندہ باد کہنے کے واقعات پر متعدد افراد کے خلاف کیسز درج ہونے کے ساتھ ہی انہیں گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

    بھارتی کسان نے کس پارٹی کی ٹی شرٹ پہن کر خودکشی کی؟

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    دوسری جانب بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کے علاقے تروپور میں روڈ شو کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر موبائل فون پھینک دیا گیا،بھارتی وزیر اعظم مودی تامل ناڈو، کیرالہ اور مہاراشٹر کے دو روزہ دورے پر ہیں۔بھارتی وزیر اعظم ایک خصوصی طیارے کے ذریعے کوئمبٹور میں ائر فورس بیس پہنچے اور وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے تروپور پہنچے تھے۔ جہاں بی جے پی کے ریاستی صدر انامالائی اور دیگر رہنماؤں نے استقبال کیا،تروپور میں عام لوگوں نے بھی پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے اور نعرے لگا کر وزیر اعظم مودی کا پرجوش استقبال کیا، اس دوران عوام میں سے کسی نے مودی کی گاڑی پر موبائل فون پھینک دیا جس کے بعد اسپیشل پروٹیکشن گروپ کے ایک رکن نے سیل فون ہٹانے کو کہا،واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی،

  • بھارت میں غیر ملکی فنڈنگ کے نام پر صحافیوں کے خلاف کاروائیاں

    بھارت میں غیر ملکی فنڈنگ کے نام پر صحافیوں کے خلاف کاروائیاں

    بھارت میں غیر ملکی فنڈنگ کے نام پر صحافیوں کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی گئی ہیں

    صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں، لیپ ٹاپ، موبائل فون پولیس نے قبضے میں لے لئے ہیں، ایک ہی وقت میں 30 مقامات پر چھاپے مارے گئے، دہلی پولیس کے سپیشل سیل نے کاروائی کی، دہلی پولیس کے سپشل سیل نے نیوز ویب سائٹ سے منسلک صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے، کاروائی دہلی،نوئیڈا،غازی آباد میں کی گئی، چھاپے کے دوران کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے،تاہم اے این آئی نے کسی بھی گرفتارری کی تردید کی ہے،

    دہلی پولیس کے سپیشل سیل نے صحافیوں کے گھروں پر چھاپے کے دوران انکے گھروں سے لیپ ٹاپ، موبائل فون، ہارڈ ڈسک، فائلیں قبضے میں لی ہیں، دہلی پولیس نے یواے پی اے کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے، اس کاروائی کے حوالہ سے صحافی ابھیسار شرما نے ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ دہلی پولیس نے انکے گھر چھاپہ مارا ہے اور اس دوران انکا فون اور لیپ ٹاپ پولیس لے گئی ہے،

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس کے سپشل سیل کے ایک سو سے زائد اہلکار چھاپے کے دوران شامل تھے، پیرا ملٹری فورس کے اہلکار بھی ہمراہ تھے، پولیس نے چھاپوں کے حوالہ سے میڈیا کو آگاہ نہیں کیا ، بھارتی میڈیا کے مطابق صحافیوں پر غیرملکی فنڈنگ کو لے کر چھاپے مارے گئے، دہلی پولیس نے 17 اگست کو بھی ایک کاروائی کی تھی،اسکے بعد ایک نیا مقدمہ درج کیا گیا ہے، درج مقدمے کے مطابق تحقیقات کے دوران تین برسوں میں 38 کروڑ روپے کی غیر ملکی فنڈنگ کا انکشاف سامنے آیا ہے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    بھارت میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے صحافیوں کے گھروں پر چھاپوں کی مزمت کی ہے،اور مودی سرکار پر کڑی تنقید کی ہے، کانگریس کے رہنما پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مردم شماری کے نتائج سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے، پورے ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مودی کی نیند اڑی ہوئی ہےجب نصاب سے باہر کوئی سوال ہوتومودی جی کے نصاب کا ایک دیکھا بھالا ہتھیار باہر نکال لیا جاتا ہے جو مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کا ہتھیار ہے۔ آج صبح سےصحافیوں کے خلاف جو کارروائی کی جا رہی ہے وہ اسی نصاب کا حصہ ہے

    انڈین نیشنل کانگریس نے بھی صحافیوں کے خلاف کاروائیوں پر تنقید کی اور کہا کہ مودی ڈرے ہوئے، گھبرائے ہوئے ہیں، صحافی مودی کی کوتاہیاں، ناکامیان سامنے لا رہے ہیں،ا سی لئے انکے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے،سواج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی صحافیوں کے خلاف کاروائیوں پر کہا کہ چھاپے کوئی نئی بات نہیں،بی جے پی نے ہمیشہ صحافیوں کے گرد گھیرا تنگ کیا، ایک طرف من پسند میڈیا کو اشتہارات کے نام کر کروڑوں دیئے جاتے ہیں دوسری جانب صحافیوں کے گھروں پر چھاپے،؟مودی سرکار سچ کو جھٹلا نہیں سکتی،

  • جی 20 سربراہی اجلاس،دہلی کو سجا دیا گیا

    جی 20 سربراہی اجلاس،دہلی کو سجا دیا گیا

    جی 20 سربراہی اجلاس، بھارت میں عالمی رہنماؤں کی آمد جاری، دہلی کی سیکورٹی سخت کر دی گئی،

    جی 20 سربراہی اجلاس میں امریکی صدر، ترک صدر،برطانوی وزیراعظم سمیت اہم شخصیات بھارت پہنچ رہی ہیں، کچھ مہمان پہنچ چکے ہیں، مودی سرکار مہمانوں کے استقبال اور انکی سیکورٹی کو لے کر انتہائی درجے تک محتاط ہے، دہلی میں آج عام تعطیل تھی تو وہیں دو دن تک پبلک ٹرانسپورٹ کا روٹ بدل دیا گیا ہے، کئی علاقوں میں گھروں سے نکلنا منع کر دیا گیا ہے، آن لائن فوڈ ڈلیوری بھی روک دی گئی ہے، وزراء کو بھی سرکاری کاریں کھڑی کر کے شٹل بس سروس استعمال کرنے کا کہا گیا ہے،

    جی 20 سربراہی اجلاس جس مقام پر ہونا ہے، اس کے مرکزی دروازے پر نٹراج کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے، بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا تھا کہ بھارت منڈپم میں نصب نٹراج کا مجسمہ بھارت کی صدیوں پرانی آرٹ اور روایات کے ثبوت کا گواہ ہے۔
    مرکزی دروازے پر نٹراج کا مجسمہ نصب

    جی 20 سربراہی اجلاس میں مہمان دہلی ایئر پورٹ پر اتریں گے وہاں سے خصوصی فول پروف سیکورٹی میں مہمانوں کو ہوٹل پہنچایا جائے گا، دہلی ایئر پورٹ کو سجایا گیا ہے، ایئرپورٹ پر بالخصوص لاؤنج، گیٹ پر فوارہ، پینٹنگز اور جی ٹوینٹی کا لوگو بنایا گیا ہے،

    دہلی ایئر پورٹ کو سجایا گیا ہے

    جی 20 سربراہی اجلاس پرگتی میدان میں ہو گی، یہاں پر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر ہے، اس جگہ کو بھارت منڈیم کا نام دیا گیا ہے، منڈیم کو روشنیوں اور پینٹنگز سے لے کر گیٹ کو نٹراج کے مجمسے سے سجا دیا گیا ہے

    g20 mant

    دہلی میٹرو سٹیشن، ریلوے سٹیشن سمیت اہم مقامات، فلائی اوورز، بلند عمارتوں پر جی 20 کا لوگو لگایا گیا ہے، سڑکوں پر گاندھی کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں، لوگو میں لائٹیں نصب کی گئی ہیں،

    g20 mahatm

    جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے سپین کے صدر پیڈرو سانچیز نے بھارت آنا تھا تا ہم انہیں کرونا ہو گیا جس کی وجہ سے وہ بھارت نہیں آ رہے، کرونا کی اطلاع سپین کے صدر نے خود ٹویٹر پر دی اور کہا کہ میں کرونا کی وجہ سے بھارت کا دورہ نہیں کر سکوں گا، جی 20 سربراہی اجلاس میں میری نمائندگی قائمقام نائب صدر نادیہ کالوینو اور وزیر خارجہ کریں گے، سپین کے صدر کرونا کے بعد اپنی رہائشگاہ پر موجود ہیں اور انہوں نے قرنطینہ کر لیا ہے،

    بھارت کو گزشتہ برس یکم دسمبر کو جی 20 کی صدارت ملی تھی، نئی دہلی میں نو دس ستمبر کو منعقد ہونے والا 18 ویں جی 20 سربراہی اجلاس سال بھر میں منعقد ہونے والے تمام G20 عمل اور میٹنگوں کا اختتام ہوگا ،اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا،

    چینی صدر کی جانب سے بھارت میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت سے معذرت پر امریکی صدر جو بائیڈن نے مایوسی کا اظہار 

    برطانیہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہوگئے

    بھارتی مرکزی بینک کی 18 ممالک کو بھارت کرنسی میں تجارت کی سہولت

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    بھارت جی 20 کی صدارت کا غیرقانونی استعمال کررہا. وزیر خارجہ

    جی 20 اجلاس میں شرکت کے لئے نائیجریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو بھارت پہنچ گئے ہیں

    جی 20 اجلاس،بائیڈن پہنچیں گے آج بھارت،دہلی کی عوام کیلئے مشکلات

    وزیراعظم مودی نے کابینہ اراکین کے لئے ایس او پیز جاری کی ہیں

    جی 20 کانفرنس،سخت سیکورٹی،دہلی فورسز کا شہر بن گیا

  • جی 20 سربراہی اجلاس،سپین کے صدر کرونا کا شکار،دہلی میں ہائی الرٹ

    جی 20 سربراہی اجلاس،سپین کے صدر کرونا کا شکار،دہلی میں ہائی الرٹ

    نئی دہلی میں جی 20 کانفرنس کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں،مہمانوں کی آج سے آمد شروع ہو جائے گی، سپین کے صدر کرونا کا شکار ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ جی 20 اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے، امریکی صدر جوبائیڈن بھارت کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں

    جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے سپین کے صدر پیڈرو سانچیز نے بھارت آنا تھا تا ہم انہیں کرونا ہو گیا جس کی وجہ سے وہ بھارت نہیں آ رہے، کرونا کی اطلاع سپین کے صدر نے خود ٹویٹر پر دی اور کہا کہ میں کرونا کی وجہ سے بھارت کا دورہ نہیں کر سکوں گا، جی 20 سربراہی اجلاس میں میری نمائندگی قائمقام نائب صدر نادیہ کالوینو اور وزیر خارجہ کریں گے، سپین کے صدر کرونا کے بعد اپنی رہائشگاہ پر موجود ہیں اور انہوں نے قرنطینہ کر لیا ہے،

    جی 20 سربراہی اجلاس،رہنماؤں کی بھارت آمد جاری
    بھارت میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے عالمی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا، اطالوی وزیراعظم اور ارجنٹائن کے صدر دہلی پہنچ چکے ہیں،کوموروس کی یونین کے صدر اور افریقی یونین کی چیئرپرسن،ایزالی اسومانی بھی دہلی پہنچ چکے ہیں،نئی دہلی ہوائی اڈے پر وزیر مملکت برائے ریلوے راؤ صاحب دانوے نے اسومنی کا استقبال کیا، دیگر عالمی رہنما بھی آج بھارت پہنچ جائیں گے،بھارتی وزیراعظم جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران اور اجلاس سے قبل عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، مودی اپنی رہائشگاہ پر یہ ملاقاتیں کریں گے،آج جمعہ کو مودی سے بنگلہ دیش اور امریکی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوں گی،کانفرنس کے آخری دن مودی کی فرانس کے صدر کے ساتھ ملاقات ہو گی، مودی سے کینڈین وزیراعظم کی بھی ملاقات طے ہے،

    نئی دہلی جی 20 سربراہی اجلاس کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنا رہا ہے۔ اس اجلاس میں عالمی رہنما عالمی سیاسی کشیدگیوں، اقتصادی سست رفتاری اور خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تبادلہ خیال کریں گے،جی 20 سربراہی اجلاس میں آنے والے مہمانوں میں امریکی صدر جوبائیڈن، برطانوی وزیراعظم رشی سونک، کینیڈا کے وزیراعظم ،سمیت متعدد عالمی رہنما شامل ہیں، تاہم روس، چین کے صدر سربراہی اجلاس میں نہیں آ رہے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ بھارت کی بھی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی،

    جی 20 کانفرنس،سخت سیکورٹی،دہلی فورسز کا شہر بن گیا
    جی 20 کانفرنس میں آنے والے مہمانوں کی سیکورٹی کے لئے سخت انتظامات کئے جا رہے ہیں، دہلی میں آج بھی سیکورٹی کی وجہ سے عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، دہلی میں زمین سے لے کر فضا تک ہر طرف سیکورٹی فورسز کا پہرہ ہے، دہلی میں ایسی سیکورٹی پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی،دہلی پولیس، این ایس جی، سی آر پی ایف، سی اے پی ایف کے پچاس ہزار سپاہئ اور بھارتی فوج کے تقریبا اسی ہزار سپاہی سیکورٹی پر تعینات ہیں تو وہیں بلٹ پروف گاڑیاں، اینٹی ڈرون سسٹم، ایئر ڈیفنس سسٹم، فائٹر جیٹ رافیل، ایئر فورس اور آرمی ہیلی کاپٹر کو بھی سیکورٹی کے لئے تعینات کیا گیا ہے،

    پولیس حکام کے مطابق دہلی میں پہلی بار اتنی سخت سیکورٹی اقدامات کئے جا رہے ہیں،جی 20 کانفرنس میں جی 20 کے رکن 18 ممالک کے صدر ،وزیراعظم ،یورپی یونین کے مندوبین اور نو مہمان ممالک کے سربراہ دہلی پہنچیں گے، یہ بھارتی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اتنے عالمی رہنما دہلی آئیں گے اسی وجہ سے دہلی کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے،

    دہلی پولیس کے دس ہزار سے زائد اہلکار کانفرنس کے دوران صرف ٹریفک کنٹرول کے لئے تعینات کئے گئے ہیں،مہمان ہوٹل میں ٹھہریں گے اور وہان سے کانفرنس کے مقام پر پہنچیں گے، ہوٹل سے کانفرنس تک مہمانوں کو پہنچانے کے لئے وی وی آئی پی سیکورٹی کے انتظامات ہیں، روٹ کلیئر ہونے کے بعد مہمانوں کو روانہ کیا جائے گا، 950 کمانڈوز کا ایک خصوصی دستہ اس دوران تعینات ہوگا، مہمانوں کو ہوٹل سے کانفرنس کے مقام تک پہنچنے میں 50 منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگے گا،

    جی 20 سربراہی اجلاس،عشائیہ میں بھارتی ارب پتی افراد کو بھی دعوت نامے جاری
    جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارت کے ارب پتی بھی عشائیے میں شریک ہوں گے، عشائیہ کے لئے بھارتی مہمانوں کو بھی دعوت دے دی گئی ہے، عشائیے میں مکیشن امبانی، گوتم اڈانی سمیت بھارت کے 500 افراد کو دعوت دی گئی ہے، عشائیہ میں کانفرنس میں آنیوالے تمام عالمی مہمان بھی شریک ہوں گے، ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندر شیکرن، بھارتی ایئرٹیل کے بانی اور چیئرمین سنیل متل، آدتیہ برلا گروپ کے چیئرمین کمار منگلم بلا کو بھی عشائیے میں شرکت کے لئے دعوت دی گئی ہے،

    عشائیے میں سیاستدانوں کو بھی دعوت دی گئی ہے، بھارت کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کو بھی عشائیے میں مدعو کیا گیا ہے،تمام وزرائے اعلیٰ کو بھی عشائیہ میں شرکت کے لئے دعوت دی گئی ہے، بھارت کی سابق حکمران جماعت کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی کو عشائیہ میں شرکت کا دعوت نامہ نہیں دیا گیا،

    بھارت کے لئے جی 20 کی میزبانی کرنا خوشی کی بات ہے، راہول گاندھی
    کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے جی 20 سربراہی اجلاس کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جی 20 کی میزبانی بھارت کر رہا ہے یہ خوشی کی بات ہے، جی 20 سربراہی اجلاس میں عالمی لیڈروں کے اعزاز میں عشائیہ میں بھارتی صنعتکاروں اور سیاستدانوں کو دعوت دی گئی ہے تا ہم کانگریس کے صدر ملکار جن گھڑکے کو دعوت نہیں دی گئی جس پر راہول نے مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ آپ ملک کے 60 فیصد عوام کے لیڈر پر توجہ نہیں دیتے۔

    چینی صدر کی جانب سے بھارت میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت سے معذرت پر امریکی صدر جو بائیڈن نے مایوسی کا اظہار 

    برطانیہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہوگئے

    بھارتی مرکزی بینک کی 18 ممالک کو بھارت کرنسی میں تجارت کی سہولت

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    بھارت جی 20 کی صدارت کا غیرقانونی استعمال کررہا. وزیر خارجہ

    جی 20 اجلاس میں شرکت کے لئے نائیجریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو بھارت پہنچ گئے ہیں

    جی 20 اجلاس،بائیڈن پہنچیں گے آج بھارت،دہلی کی عوام کیلئے مشکلات

    وزیراعظم مودی نے کابینہ اراکین کے لئے ایس او پیز جاری کی ہیں

    بھارت کو گزشتہ برس یکم دسمبر کو جی 20 کی صدارت ملی تھی، نئی دہلی میں نو دس ستمبر کو منعقد ہونے والا 18 ویں جی 20 سربراہی اجلاس سال بھر میں منعقد ہونے والے تمام G20 عمل اور میٹنگوں کا اختتام ہوگا ،اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا،

  • بھارت میں ایک اور ٹرین حادثہ

    بھارت میں ایک اور ٹرین حادثہ

    بھارت میں ایک اور ٹرین حادثہ ہوا ہے، حادثہ اڑیشہ میں ہی ہوا جہاں پہلے تین ٹرینیں ٹکرائیں اور سینکڑوں اموات ہوئیں، اب نیا حادثہ اڑیشہ کے ضلع بارگڑھ میں پیش آیا ہے جہاں میندھا پلی کے مقام پر مال گاڑی کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اٹر گئیں، اسکے بعد اس ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہو گئی ، بوگیاں پٹڑی سے اترنے کی فوری اطلاع ریلوے حکام کو دی گئی

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایسٹ کوسٹ ریلوے کا کہنا ہے کہ ایک پرائیوٹ سیمنٹ فیکٹری کے لئے چلائی گئی مال گاڑی کی بوگیاں پٹڑی سے اتری ہیں تا ہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، اس مسئلے میں ریلوے کا کوئی کردار نہیں کیونکہ مقامی سیمنٹ فیکٹری اس مال گاڑی کو چلانے کی زمہ دار تھی،

    دوسری جانب جمعہ کو اڑیسہ میں ہونیوالے ٹرین حادثہ کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت بحال ہو گئی ہے، بھارتی وزیر ریلوے اشونی نے میڈیا سے بات کی اور اس بات کی اطلاع دی، انکا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں جو افراد اس حادثے میں لاپتہ ہوئے جنکی لاشوں کی شناخت نہیں ہوئی، جلد سے جلد اس سارے عمل کو مکمل کرکے لاشوں کو لواحقین کے حوالے کریں، ہماری زمہ داری ابھی ختم نہیں ہوئی،

    اڑیشہ میں ہونیوالے ٹرین حادثے کے بعد بھارت کی اپوزیشن نے وزیر ریلوے سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں جب بھی ٹرین حادثہ ہوا، وزیر ریلوے نے زمہ داری قبول کی اور استعفی دیا ، اب موجودہ وزیر ریلوے کو استعفیٰ دینا چاہئے، ادھو دھڑے گروپ کے رہنما سنجے راوت نے بھی ٹرین حادثے پربھارتی وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے وزیر اعظم کے لئے ایک کھلونا بن گیا ہے وزیر اعظم صرف ہری جھنڈی دکھاتے رہتے ہیں

    بھارتی وزیر ریلوے کا کہنا ہے کہ ٹرین حادثہ کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور مکمل تحقیقات کی جائیں گی، ریسکیو آپریشن میں ایک کوچ سے مسافروں کو نکالنے کے لیے کرین کی ضرورت پڑ سکتی ہے .

    سویڈن نے سیکس کو کھیل کا درجہ دیتے ہوئے مقابلے کروانے کا اعلان کر دیا

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • مودی سرکارنے 100 سے 200 کروڑ فنڈز پی ٹی آئی کو دلوائے،بھارتی تجزیہ کار کے تہلکہ خیز انکشافات

    مودی سرکارنے 100 سے 200 کروڑ فنڈز پی ٹی آئی کو دلوائے،بھارتی تجزیہ کار کے تہلکہ خیز انکشافات

    بھارتی تجزیہ نگار سمیت جین نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر مودی سرکار سے فارن فنڈنگ لینے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار نے 100 سے 200 کروڑ بھارتی روپے پی ٹی آئی کو دلوائے اس فنڈ کی بدولت عمران خان نے فوج کے خلاف بولنا شروع کیا۔

    باغی ٹی وی : ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بھارتی تجزیہ نگار سمیت جین نے کہا کہ دو لوگ ہیں جو بزنس کو بہت اھے سے کرنا جانتے ہیں ایک ہے گجراتی اور ایک ہے چنگیزی،آپ دیکھیں مودی جب سےآئے ہیں انہوں نے ملک کی اکانومی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہےمجھے پوچھا تھا ایک شو میں کسی نے کہ کشمیر میں اتی ڈویلپمنٹ کیسے ہو رہی ہے پہلے تو پیسے ہی نہیں ہوتے تھے ہمارے پاس اب اتنی ترقی کہاں سے اور کیسے ہو رہی ہے-

    ریت کی طرح جماعت بکھر جانے کے بعد مذاکرات یاد آ گئے؟،مریم اورنگزیب


    سمیت جین کے مطابق میں نے کہا مودی جی کے بھی ماسٹر شوق ہے ہم لوگ ہر سال 10 سے 12 ہزار کروڑ روپیہ کشمیر کے اوپر لگاتے تھے، مودی جی نے ’عمران خان کی پارٹی کو فنڈز دلا دئیے 100، 200 کروڑ روپے، وہ آرمی کے خلاف بولنا شروع ہوگئےاس طرح ہمارا جو ہمارا 9 ہزار 900 کروڑ روپیہ بچا وہ ہم نے کشمیر میں ترقیاتی کاموں میں لگا دیا اس سے بڑھیا گیم کیا ہو سکتی ہے-

    مریم نواز کا چیف جسٹس پر عہدے کے بے دریغ استعمال کا الزام

    انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نے جو انڈیا کیلئے کیا ہے ان کا جو اکاؤنٹ ہے جس پر ان کے اوپر نیب میں کیسز چل رہے ہیں، یہ فنڈز کہاں سے آئے ہیں؟ اس کے اندر بھارتیوں کی بہت بڑی کنٹریبیوشنزہیں، اور یہ انہوں نے کبھی ظاہر نہیں کئے، جو کہ کافر ملک سے انہیں اجازت ہی نہیں تھی کہ الیکشن فنڈز دوسرے ملک سے حاصل کریں۔

    امریکی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات