Baaghi TV

Tag: موسم

  • بارشوں کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    بارشوں کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ ہفتے کے وسط سے ملک کے بیشتر علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہےیہ سلسلہ 16 جنوری سے ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا اور 19 جنوری تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ایک کمزور مغربی ہواؤں کا سسٹم ملک میں داخل ہوگا، جس کی شدت 20 جنوری سے بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ 21 جنوری سے یہ موسمی نظام ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

    16 تا 19 جنوری کے دوران گلگت بلتستان کے علاقوں دیامر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے اور شگر میں بارش اور برفباری متوقع ہےاسی طرح آزاد کشمیر کے علاقوں نیلم ویلی، مظفرآباد، پونچھ، ہٹیاں بالا، باغ اور حویلی جبکہ بالائی خیبر پختونخوا کے اضلاع چترال، دیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، کوہستان، سوات، کالام، شانگلہ، اپر اور لوئر دیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور ہلکی سے درمیانی برفباری کا امکان ہے۔

    بارشوں کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    18 تا 20 جنوری کے دوران مری، گلیات اور گردونواح میں بھی ہلکی بارش اور برفباری متوقع ہے 20 تا 23 جنوری کے دوران گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، مری، گلیات، اسلام آباد، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، بہاولپور، مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع اور پشاور، مردان، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 20 جنوری (رات) سے 23 جنوری کے دوران چترال، دیر، شانگلہ، کوہستان، سوات، کالام، مری، گلیات، وادیٔ نیلم، باغ، حویلی اور راولا کوٹ میں درمیانی سے شدید برفباری کا بھی امکان ہے، جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ اور بالائی علاقوں میں سفری مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

    معروف اینکر پرسن اقرار الحسن سید نے اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کردیا

    دوسری جانب شدید موسمی صورتحال کے بارے میں این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا ہےاین ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ شدید سردی کی لہر کا الرٹ جاری کیا ہےآئندہ دنوں میں جنوری کے آخر تک رات اور صبح کے اوقات میں شدید سرد موسم کی توقع ہے، بالائی علاقوں میں درمیانے سے شدید درجے کی برفباری کا امکان ہے، رابطہ سڑکیں، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے الرٹ میں کہا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں ممکنہ برفباری کے باعث برفانی تودے گرنے اور پھسلن کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، عوام سے احتیاط کرنے کی اپیل کی گئی ہےشدید سردی اور برفباری بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے، احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ میدانی علاقوں میں سرد و خشک موسم اور بعض مقامات پر کورا/ پالا پڑنے کا امکان ہے، فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز اور برفباری والے علاقوں میں گاڑی کے ٹائروں پر حفاظتی زنجیر کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے شدید سرد موسم کے دوران گرم کپڑوں اور ہیٹر کا محفوظ استعمال کریں، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں۔

    چاند پر ہوٹل کےمنصوبے کی افتتاحی تقریب سامنے آ گئی

    صوبائی اداروں اور ضلعی اتنظامیہ کو پہاڑی علاقوں میں ممکنہ برفباری کے پیش نظر پیشگی اقدامات اور ضروری مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہےسیاحتی مقامات پر دستیاب وسائل بالخصوص رہائشی مقامات کی دستیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے آمد رفت کے لیے اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

    موسم سے متعلق مستند معلومات کے لئے ٹی وی، ریڈیو، تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے راہنمائی حاصل کریں،این ڈی ایم اے نے تمام ممکنہ خطرات اور موسمی صورتحال کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہی اور ضروری اقدامات کے لئے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    چین نے امریکی و اسرائیلی سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر پر پابندی عائد کر دی

  • بارش برسانے والا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہوگا

    بارش برسانے والا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہوگا

    لاہور:مغرب سے بارش برسانے والا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہوگا جس کے سبب پنجاب کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر شدید سردی اور دھند ہے جبکہ بادلوں اور سورج کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بادلوں اور دھند سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے، بارش برسانے والا سسٹم لاہور پنجاب کے میدانی علاقوں کے بجائے مری اور گلیات میں بارش برسائے گا۔

    لاہور میں آج کم سے کم درجہ حرارت 3.6 ڈگری ریکارڈ ہوا جبکہ زیادہ سے زیادہ 14 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، 24 گھنٹوں کے دوران لاہور اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں بارش کا امکان نہیں جبکہ موسم خشک اور سرد رہے گا۔

    دوسری جانب روس کے دارالحکومت میں برفباری کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان دنوں ماسکو شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جہاں کئی فٹ برفباری ریکارڈ کی جارہی ہےماسکو میں رواں ماہ 146سالہ ریکارڈ کی پانچویں سخت برف باری ہوئی اور ویک اینڈ پر ایک ملین کیوبک میٹرز برف صاف کی گئی،شدید سردی کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے نظام کے ساتھ ساتھ شہریوں کو دیگر معمولات زندگی میں بھی دشواری کا سامنا ہے،ماسکو میں آج درجہ حرارت منفی9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جب کہ مزید برفباری کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

  • 17 سے 18 جنوری کے بعد موسم کی شدت میں اضافے کا امکان

    17 سے 18 جنوری کے بعد موسم کی شدت میں اضافے کا امکان

    محکمہ موسمیات نے 17 سے 18 جنوری کے بعد موسم کی شدت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے-

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا ہے کہ لاہور میں اس موسم سرما میں برفباری کا کوئی امکان نہیں ہے متعلقہ ادارے موسمیاتی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال درجہ حرارت میں کمی آئی ہے، تاہم پنجاب میں بارش کا حجم کافی کم رہا ہے۔ رواں سال دسمبر میں پنجاب میں صرف 2.5 ملی میٹر بارش ہوئی جو کہ گزشتہ سال کے 11.2 ملی میٹر کے مقابلے میں 75 فیصد کم ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب میں شدید دھند بھی ایک بڑا چیلنج ہے اور جب تک بارش نہیں ہوتی، دھند کی صورتحال میں بہتری نہیں آ سکتی، مری اور گلیات میں 17 اور 18 جنوری کے بعد بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے گزشتہ سال سردی کا موسم معمول سے طویل رہا تھا اور رواں سال بھی شدید سردی دیر سے شروع ہونے کے باعث طویل رہنے کا امکان ہے، کلائمیٹک پیٹرن تبدیل ہو رہا ہے اور مارچ یا اپریل کے آغاز تک سردی برقرار رہنے کا امکان ہے،17 سے 18 جنوری کے بعد موسم کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے اور بعض حصوں میں بارش کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اور گرد و نواح میں آج موسم سرد اور خشک رہے گا، مری، گلیات اور گرد و نواح میں شدید سردی اور کہرا پڑنے کا امکان ہے، پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آج موسم سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے۔

    بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد، شمالی اضلاع میں شدید سردی کی توقع ہے، بلوچستان کے جنوب مغربی اضلاع میں ہلکی بارش کا امکان ہے، جیوانی، پسنی، اورماڑہ، کیچ اور تربت میں بارش ہونے کی توقع ہے،سندھ کے مختلف اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، سکھر، روہڑی، شکارپور، کشمور، دادو، لاڑکانہ، ٹنڈوجام اور موہنجوداڑو میں دھند پڑنے کی توقع ہے۔

    خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد، پہاڑی علاقوں میں شدید ٹھنڈ کا امکان ہے، پشاور، مردان، نوشہرہ، بنوں، کرک اور لکی مروت میں دھند چھائے رہنے کی توقع ہےڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ، صوابی اور گرد و نواح میں بھی دھند پڑنے کا امکان ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موسم شدید سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب سندھ، پنجاب اورخیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں شدید دھند کے باعث ٹریفک کی روانی معطل ہےلاہور میں دھند کےباعث فلائٹ شیڈول جزوی متاثر ہے، بیرون ملک جانے والی متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔

    دھند کے سبب حد نگاہ کم ہونے پر ایم2 ٹھوکرنیازبیگ سےچکری ، ایم 3 فیض پور سےدرخانہ، ایم 4 پنڈی بھٹیاں سےشیرشاہ تک بند ہےاس کے علاوہ ایم5 شیر شاہ سےسکھر، ایم 14 انجراسے عیسیٰ خیل تک بند ہے سیہون سےلاڑکانہ تک مختلف مقامات پرحدِ نگاہ 10سے30 میٹر رہ گئی ۔

  • موسم کی خرابی :4 پروازیں منسوخ جبکہ  67 پروازیں تاخیر کا شکار

    موسم کی خرابی :4 پروازیں منسوخ جبکہ 67 پروازیں تاخیر کا شکار

    موسم کی خرابی اور انتظامی مسائل کے باعث آج بھی 4 پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا جبکہ 67 پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔

    فلائٹ شیڈول کے مطابق پشاور دوحہ کے مابین غیرملکی ایئر لائن کی 2 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اس کے علاوہ لاہور مشہد کے درمیان غیرملکی ایئر لائن کی 2 پروازوں کو منسوخ کیا گیا ہے۔

    فلائٹ شیڈول کے مطابق اسلام آباد ایئر پورٹ کی 27 پروازوں میں 1 سے ساڑھے 5 گھنٹے تک تاخیر ہوئی ہے،پشاور ایئرپورٹ پر 6، ملتان 5، کراچی 16 جبکہ لاہور کی 10 پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔

    دوسری جانب پنجاب، بالائی سندھ اور خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں گہری دھند کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہیں شدید دھند کی وجہ سے موٹروے ایم ون، صوابی سے پشاور، ایم 2 ٹھوکر نیاز بیگ سے بلکسر، ایم 3 فیض پور سے سمندری اور ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک بند کردی گئی اس کے علاوہ ایم 5 شیرشاہ سے سکھر اور ایم 11 لاہور سے سمبڑیال تک بند ہے۔

    پنجاب: ہر ضلعی اسپتال میں جدید کارڈیک کیتھ لیب کا آغاز

    جبکہ سردی کے حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں سب سے کم درجہ حرارت اسکردو میں منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اس کے علاوہ کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی کا موسم خشک اور رات میں سرد رہنے کا امکان ہےشہر کا کم سے کم درجہ حرارت 9.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا اور کم سے کم درجہ حرارت 8 سے 10ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے اس کے علاوہ شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24سے 26ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے، ہوا میں نمی کا تناسب 58 فیصد ہے اور شمال مشرق کی سمت سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔

    پنجاب: بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے پرواز کارڈ پروگرام متعارف

    محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ شہر میں رات سب سے کم درجہ حرارت جناح ٹرمینل پر 7.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا، گلستان جوہر میں 10.5، شارع فیصل 11.5، بن قاسم میں 11 اور ماڑی پور میں 12.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • شدید دھند کے باعث  موٹروے کے مختلف حصے بند

    شدید دھند کے باعث موٹروے کے مختلف حصے بند

    وسطی پنجاب میں شدید دھند کے باعث موٹرویز پر حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی، جس کے پیش نظر موٹروے پولیس نے حفاظتی اقدامات کے تحت مختلف موٹروے سیکشنز بند کر دیئے ہیں۔

    ترجمان موٹروے پولیس سنٹرل ریجن کے مطابق موٹروے ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے ملتان تک بڑی گاڑیوں کے لیے دھند کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے، جبکہ موٹروے ایم 4 فیصل آباد سے عبدالحکیم تک اور موٹروے ایم 3 سمندری سے رجانہ تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے موٹرویز کی بند ش کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے کیونکہ دھند میں لین کی خلاف ورزی اور تیز رفتاری خطرناک حادثات کا باعث بن سکتی ہے۔

    شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور اگر سفر ناگزیر ہو تو دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیں دھند میں محفوظ سفری اوقات صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک ہیں،موٹروے پولیس نے ڈرائیور حضرات کو فوگ لائٹس کے لازمی استعمال، لین ڈسپلن پر سختی سے عمل کرنے، آگے والی گاڑی سے محفوظ فاصلہ رکھنے اور تیز رفتاری سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

    بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    ترجمان سید عمران احمد کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی رہنمائی یا مدد کیلئے شہری موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کر سکتے ہیں، موسم بہتر ہوتے ہی موٹرویز کو مرحلہ وار ٹریفک کے لیے بحال کر دیا جائے گا۔

    اداکار آغا شیراز کو دل کا دورہ، اسپتال میں زیر علاج

  • لاہور موسم کی خرابی اور دھند کے باعث پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر

    لاہور موسم کی خرابی اور دھند کے باعث پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر

    لاہور میں موسم کی خرابی اور دھند کے باعث پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر پیش آرہی ہے۔

    اتحاد ایئر لائن کی ابو ظہبی سے لاہور آنے والی پرواز کو اسلام آباد ائیرپورٹ اتار لیا گیا ہے،سعودی ایئر لائن کی پرواز بارہ گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچی جبکہ دھند کی وجہ سے ایک درجن سے زائد پروازیں دو سے بارہ گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہیں۔

    علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دبئی، ابو ظہبی، استنبول، شارجہ، جدہ ،مدینہ منورہ جانے والی پروازیں بھی تاخیر کا شکار رہی ہیں،ایئر لائن نے مسافروں کو ائیرپورٹ آنے سے قبل پروازوں کی معلومات لیکر آنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    دورہ کراچی کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سے ملوں گا،سہیل آفریدی

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کی جانب سے پنجاب میں شدید دھند کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا،این ڈی ایم اے کے مطابق اگلے 3 روز کے دوران جنوبی اور وسطی پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کا امکان ہے۔

    چوہوں نے 200 کلو چرس کھا کر گرفتار ملزم کو رہائی دلوا دی

    این ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، جھنگ، ملتان، خانیوال، میاں چنوں اور ساہیوال میں شدید دھند متوقع ہے جب کہ اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولپور، بہاولنگر، لودھراں اور وہاڑی کے علاقوں میں بھی شدید دھند کا امکان ہےاس کے علاوہ بالائی سندھ کے علاقوں بالخصوص سکھر کے اطراف دھند ہوسکتی ہے جب کہ اسلام آباد میں بھی رات اور علی الصبح دھند کے امکانات موجود ہیں۔

    چوہوں نے 200 کلو چرس کھا کر گرفتار ملزم کو رہائی دلوا دی

  • مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری

    مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری

    مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا آغاز ہو چکا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق چمن میں 15 ملی میٹر، جیوانی میں 13 ملی میٹر، کوئٹہ کے علاقے سمونگلی میں 7 ملی میٹر، کوئٹہ کے شہری علاقوں میں 6 ملی میٹر، اورماڑہ میں 3 ملی میٹر، پشین میں 2.5 ملی میٹر، پنجگور میں 2 ملی میٹر، دالبندین میں 1.3 ملی میٹر، قلات میں 1.0 ملی میٹر جبکہ گوادر میں 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    ادھر ضلع قلعہ عبداللہ، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی، چمن، پشین اور مسلم باغ کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے،کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں یکم جنوری تک بارشوں اور بالائی علاقوں میں برفباری جاری رہنے کا امکان ہے۔

    جونیئر اسکواش چیمپئن شپ : پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹائٹل جیت لیا

    کسانوں اور مقامی آبادی نے حالیہ بارش کو امید کی کرن قرار دیا ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید بارش اور برفباری کے امکانات موجود ہیں جو اگر مسلسل رہے تو بلوچستان میں جاری خشک سالی کے اثرا ت کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

    قائداعظم کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے، شیخ خلیل الرحمن چاولہ

  • شدید دھند کے باعث موٹر وے مختلف مقامات سے بند

    شدید دھند کے باعث موٹر وے مختلف مقامات سے بند

    شدید دھند کے باعث موٹر وے کو مختلف مقامات سے بند کر دیا گیا-

    موٹروے پولیس نے لاہور- سیالکوٹ موٹروے کو شدید دھند کے باعث بند کر دیا ہےترجمان موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم 3 فیض پور سے سمندری تک دھند کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ حادثات سے بچا جا سکے۔

    ترجمان سنٹرل ریجن نے بتایا کہ موٹروے ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد جبکہ موٹروے ایم 2 لاہور سے کوٹ مومن تک دھند کی وجہ سے بند کردی ہےدھند میں لین کی خلاف ورزی انتہائی خطرناک ہے اور یہ حادثات کا سبب بن سکتی ہے، ڈرائیورز اور مسافروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موٹروے پراحتیاطی تدابیر اختیار کریں اور صرف محفوظ اوقات میں سفر کریں۔

    شمالی کوریا کا اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    موٹروے پولیس نے واضح کیا کہ دھند میں محفوظ سفر کے لیے صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت موزوں ہے، اس دوران ڈرائیورز کی توجہ اور رفتار پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہےشہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال میں پولیس اور ہیلپ لائنز سے رابطہ کریں-

    مجرمانہ سرگرمیاں: گزشتہ پانچ برسوں میں سعودی عرب سے ہزاروں بھارتی ملک بدر

  • گوادر میں  نایاب موسمی مظہر سمندری بگولے کا مشاہدہ

    گوادر میں نایاب موسمی مظہر سمندری بگولے کا مشاہدہ

    گوادر اور اس کے گرد و نواح میں مغربی سسٹم کے اثرات کے دوران ایک نایاب موسمی مظہر سمندری بگولے کا مشاہدہ کیا گیا-

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی کم دباؤ کے اس سسٹم کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش ہونے کا بھی امکان ہے لینڈ اسپاؤٹس اور واٹر اسپاؤٹس دراصل ہوا کے ایک جیسے گھومتے ہوئے ستون ہوتے ہیں، تاہم ان کی تشکیل کی جگہ مختلف ہوتی ہےواٹر اسپاؤٹس پانی کی سطح پر بنتے ہیں جبکہ لینڈ اسپاؤٹس زمین پر تشکیل پاتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ کمزور بگولوں کی ایک قسم سمجھے جاتے ہیں جو زمین سے اوپر کی جانب بنتے ہیں، عام بگولوں کے برعکس جو بادلوں سے نیچے آتے ہیں لینڈ اسپاؤٹس ظاہری طور پر دھول کے بگولوں سے مشابہ ہوتے ہیں لیکن یہ بادلوں سے جڑے ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے،پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

    سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات سردار سرفراز کے مطابق گوادر میں نظر آنے والا لینڈ اسپاؤٹ جنوب مغربی بلوچستان کے اطراف مغربی کم دباؤ کے پہنچنے کے باعث بنااس سے قبل بھی کئی مواقع پر گوادر سمیت پاکستانی ساحلی علاقوں میں واٹر اسپاؤٹس دیکھے جاچکے ہیں۔

    آخری بار 20 جنوری 2019 کو ساحلی پٹی سے تقریباً 57 ناٹیکل میل دور گھوڑا باری کے سمندر میں ایک شاندار واٹر اسپاؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا جو طوفان جیسا منظر پیش کر رہا تھا اس سے پہلے 28 فروری 2016 کو ماہی گیروں نے ساکونی کلمت خور سے دور بلوچستان کے قریب موسم کے ایک اور نایاب واقعے کی اطلاع دی تھی۔

    پنجاب پولیس کے ریٹائر ہونے والے افسران کی فہرست جاری

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نام کے برخلاف لینڈ اسپاؤٹ یا واٹر اسپاؤٹ پانی سے بھرا ہوا ستون نہیں ہوتا بلکہ یہ بادل سے بھری ہوا کا ایک گھومتا ہوا کالم ہوتا ہے جو زمین یا سمندر کی سطح تک پہنچتا ہے واٹر اسپاؤٹ کے اندر نظر آنے والا پانی دراصل بادل میں نمی کے گاڑھا ہونے کے عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    واٹر اسپاؤٹس کی دو اقسام ہوتی ہیں، ایک طوفانی اور دوسری منصفانہ موسم کی۔ منصفانہ موسم کے واٹر اسپاؤٹس عام طور پر کم رفتار بادلوں سے بنتے ہیں، اسی لیے یہ اکثر تقریباً ایک ہی جگہ پر قائم رہتے ہیں۔ دونوں اقسام کے لیے ہوا میں نمی کی بلند سطح اور نسبتاً گرم پانی کا درجہ حرارت ضروری ہوتا ہے۔

    ٹیکنیکل ایڈوائزر فشریز محمد معظم خان کے مطابق لینڈ اسپاؤٹس اور واٹر اسپاؤٹس عموماً کمولس قسم کے بادلوں کے ساتھ بنتے ہیں اور ان کا تعلق زیادہ تر گرج چمک سے نہیں ہوتا یہ مظاہر عموماً مختصر دورانیے کے ہوتے ہیں اور خود بخود ختم ہو جاتے ہیں، تاہم واٹر اسپاؤ ٹس کو طویل عرصے سے سنگین سمندری خطرات میں شمار کیا جاتا رہا ہے، پانی پر بننے والے مضبوط اسپاؤٹس چھوٹی کشتیوں کے لیے خطر نا ک ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے ایسے مظاہر سے مناسب فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔

    سہیل آفریدی کا دورۂ پنجاب ، ناروا سلوک کے شکووں پر خواجہ آصف کا ردعمل

    ماہرین کے مطابق ایک عام واٹر اسپاؤٹ کا اوسط قطر تقریباً 50 میٹر ہوتا ہے، جبکہ اس میں ہوا کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے اگرچہ بعض واٹر اسپاؤٹس ایک گھنٹے تک بھی موجود رہ سکتے ہیں، تاہم ان کی اوسط زندگی عموماً 5 سے 10 منٹ کے درمیان ہوتی ہے۔