Baaghi TV

Tag: موسم

  • مون سون اسپیل:مزید بارشوں کی پیشگوئی

    مون سون اسپیل:مزید بارشوں کی پیشگوئی

    پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیا لکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہےخیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران شدید بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے، مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

    دوسری جانب قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے متعلقہ انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، تیز بارش اور گرج چمک کے دوران احتیاط برتنے اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں 263 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ گوجرانوالہ میں 286 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 278 ملی میٹر اور نارووال میں 235 ملی میٹر بارش ہوئی۔ شدید بارش کے باعث کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، متعدد انڈر پاسز اور اہم شاہراہیں زیرِ آب آگئیں۔ لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے بعض علاقوں میں سڑکوں پر پانی اس قدر جمع ہوگیا کہ کشتی چلانے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

    مسلسل بارشوں کے باعث دریائے راوی کے ہیڈ بلوکی کے مقام پر بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے محکمہ آبپاشی کے مطابق ہیڈ بلوکی پر پانی کی آمد 84 ہزار 515 کیوسک جبکہ اخراج 61 ہزار 315 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔ شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں نمی کا تناسب 83 فیصد رہا۔

  • مون سون کا دوسرا اسپیل:لاہور میں شدید بارش،130 سے زائد مقامات زیرِ آب

    مون سون کا دوسرا اسپیل:لاہور میں شدید بارش،130 سے زائد مقامات زیرِ آب

    لاہور بارش سے متاثر، 130 سے زائد مقامات زیرِ آب

    مون سون کے دوسرے اسپیل نے لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا چوبرجی، جین مندر، بورڈ آف ریونیو، لائبریری چوک، چرچ چوک، ڈلٹن، اک موریا، کشمیری گیٹ، شالیمار چوک، تحسین چوک، شاہدرہ چوک، ٹمبر مارکیٹ، لاری اڈا، سبزی منڈی، حاجی کیمپ، لکشمی چوک، قرطبہ چوک، مولا بخش چوک، قادری چوک، جوڑے پل، افشاں چوک، غازی روڈ، گجومتہ، عسکری 11، وطین چوک، پیراگون، پیر بہاشاہ چوک، چلڈرن ہسپتال، چونگی امرسدھو، جنرل ہسپتال، فردوس مارکیٹ، برکت مارکیٹ، فاطمہ میموریل ہسپتال، بگریاں اور کجلباش چوک سمیت 130 سے زائد مقامات پر بارشی پانی جمع ہونے سے ٹریفک شدید متاثر ہے۔

    سی ٹی او لاہور سمیت تمام ٹریفک افسران و وارڈنز فیلڈ میں موجود ہیں،ٹریفک پولیس نے اپیل کی ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستے اختیار کریں۔

    دوسری جانب واسا لاہور کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللطیف نے کہا کہ مون سون سیزن کے لیے اس بار گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں بہتر تیاریاں کی گئی ہیں اور اگر شہر میں کہیں بھی بارش کا پانی جمع ہوتا ہے تو واسا کا ہدف ایک گھنٹے کے اندر اسے نکالنا ہے، واسا نے نئی مشینری خریدی ہے متعدد ری چارج ویلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ لاہور میں موجود تقریباً 3 ہزار کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ شہر کی 7 بڑی ڈرینز، جن کی مجمو عی لمبائی 94 کلومیٹر ہے ان کی صفائی کا عمل 3 مرتبہ مکمل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں 100 سے 150 ملی میٹر تک بارش بھی ہو جائے تو واسا ایک گھنٹے کے اندر شہر کی اہم سڑکوں سے پانی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں بھی بارش کا پانی جمع ہوگا اسے ایک گھنٹے کے اندر کلیئر کرنے کی کوشش کی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر کے لیے تقریباً 700 نئی مشینیں خریدی گئی ہیں جن میں واسا کے ٹرک، سکر مشینیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی وسائل کی بدولت اس سال مون سون کی تیاریاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جامع ہیں۔

    عبد اللطیف کے مطابق لاہور میں تقریباً 18 ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ کنویں ان مقامات پر بنائے گئے ہیں جہاں ماضی میں بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا اب بارش کا پانی ان ری چارج ویلز میں جمع ہو کر قدرتی انداز میں فلٹر ہوتا ہے اور بعد ازاں پارکس اور گرین بیلٹس کی آبپاشی سمیت دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ری چارج ویلز میں سیوریج کا پانی شامل نہیں ہوتا، اسی لیے یہ کنویں صرف ان مقامات پر تعمیر کیے گئے ہیں جہاں سیوریج کے پانی کے ملنے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔

  • بھارت نے بغیر اطلاع کے ڈیم کے دروازے کھول دیے،ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

    بھارت نے بغیر اطلاع کے ڈیم کے دروازے کھول دیے،ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

    بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں واقع سلال ڈیم کے تمام 11 دروازے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کھول دیے گئے، جس کے نتیجے میں دو لاکھ چوبیس ہزار کیوسک کا بڑا سیلابی ریلا دریائے چناب میں داخل ہو گیا ہے۔

    محکمہ ایریگیشن پنجاب نے ڈیم کے گیٹس کھولے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے سیالکوٹ اور وزیر آباد کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اسسٹنٹ کمشنر وزیر آباد کا کہنا ہے کہ ضلع میں تمام ضروری حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور پی ڈی ایم اے کی طرف سے بڑے سیلاب کی اطلاع دی گئی ہے، یہ بڑا سیلابی ریلا اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر وزیر آباد اور سیالکوٹ کے علاقوں تک پہنچ سکتا ہے جس سے دریا سے ملحقہ نشیبی علاقوں کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

    فی الوقت دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور دیگر بیراجوں پر شدید سیلابی صورتحال برقرار ہے،پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 75 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک ہے اور وہاں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے خانکی بیراج پر 2 لاکھ 61 ہزار 463 کیوسک پانی کی آمد کے باعث بلند درجے کا سیلاب ہے، جبکہ دریائے راوی میں کوٹ نینا کے مقام پر 17 ہزار 500 کیوسک پانی کی آمد سے صورتحال فی الحال معمول کے مطابق بتائی جا رہی ہےدریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔

    اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی

    دوسری جانب ملک بھر میں جاری مون سون کے دوسرے طوفانی اسپیل نے شدید تباہی مچائی ہوئی ہے پنجاب میں دو دنوں کے دوران بارشوں اور حادثات کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 107 زخمی ہو چکے ہیں گوجرانوالہ میں 31 گھنٹوں کے دوران 250 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جہاں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے۔

    لاہور، فیصل آباد، نارووال، منڈی بہاؤالدین اور گجرات سمیت متعدد شہروں میں کئی فٹ پانی جمع ہو چکا ہےشکر گڑھ میں نالہ بئیں اور کامونکی میں نالہ ڈیک میں طغیانی آنے سے بند ٹوٹ گئے اور پانی کئی آبادیوں اور دیہات میں داخل ہو گیا ہے، جس سے دسیوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    واسا لاہور کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللطیف نے کہا کہ مون سون سیزن کے لیے اس بار گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں بہتر تیاریاں کی گئی ہیں اور اگر شہر میں کہیں بھی بارش کا پانی جمع ہوتا ہے تو واسا کا ہدف ایک گھنٹے کے اندر اسے نکالنا ہے، واسا نے نئی مشینری خریدی ہے متعدد ری چارج ویلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ لاہور میں موجود تقریباً 3 ہزار کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ شہر کی 7 بڑی ڈرینز، جن کی مجمو عی لمبائی 94 کلومیٹر ہے ان کی صفائی کا عمل 3 مرتبہ مکمل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں 100 سے 150 ملی میٹر تک بارش بھی ہو جائے تو واسا ایک گھنٹے کے اندر شہر کی اہم سڑکوں سے پانی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں بھی بارش کا پانی جمع ہوگا اسے ایک گھنٹے کے اندر کلیئر کرنے کی کوشش کی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر کے لیے تقریباً 700 نئی مشینیں خریدی گئی ہیں جن میں واسا کے ٹرک، سکر مشینیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی وسائل کی بدولت اس سال مون سون کی تیاریاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جامع ہیں۔

    عبد اللطیف کے مطابق لاہور میں تقریباً 18 ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ کنویں ان مقامات پر بنائے گئے ہیں جہاں ماضی میں بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا اب بارش کا پانی ان ری چارج ویلز میں جمع ہو کر قدرتی انداز میں فلٹر ہوتا ہے اور بعد ازاں پارکس اور گرین بیلٹس کی آبپاشی سمیت دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ری چارج ویلز میں سیوریج کا پانی شامل نہیں ہوتا، اسی لیے یہ کنویں صرف ان مقامات پر تعمیر کیے گئے ہیں جہاں سیوریج کے پانی کے ملنے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔

    پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بارشوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے خیبرپختونخوا میں تین روز کے دوران حادثات کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے اور 19 افراد زخمی ہوئے ہیں جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا روغہ میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی اور ان کے دو بچے جاں بحق ہو گئے گلگت بلتستان کے ضلع دیامرمیں بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث استور ویلی اور دیگر اہم سڑکیں بند ہو چکی ہیں، جبکہ شمالی وزیرستان میں دریائے ٹوچی میں طغیانی آ گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کا یہ سلسلہ 24 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے جس کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو متحرک رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

  • مون سون بارشوں کا نیا سسٹم پاکستان میں داخل ،پنجاب  کے بیشتر اضلاع میں بارشیں

    مون سون بارشوں کا نیا سسٹم پاکستان میں داخل ،پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشیں

    لاہور: مون سون بارشوں کا نیا سسٹم پاکستان میں داخل ہو گیا ہے جس کے اثرات کے باعث آج لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں دوپہر کے بعد ہلکی بارش متوقع ہے شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے،ممکنہ بارشوں کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجاب نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کرتے ہوئے نشیبی علاقوں اور حساس مقامات پر پیشگی حفاظتی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے-

    دوسری جانب ایم ڈی واسا غفران احمد نے بھی لاہور میں بارش کے امکانات کے باعث تمام آپریشنل عملے کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے،جب تک شہر کی شاہراہوں اور نشیبی علاقوں سے بارش کا پانی مکمل طور پر نکال نہیں لیا جاتا افسران اور فیلڈ عملہ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا رہے گا،حکام نے شہریوں کو بھی بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسم سے متعلق تازہ صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

  • کل سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    کل سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے کل 19 جولائی سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کی ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب سے مرطوب ہوائیں بالائی اور وسطی علاقوں میں مسلسل داخل ہو رہی ہیں، ہفتہ اور اتوار کو ان ہواؤں کی شدت میں مزید اضافہ کا امکان ہےاسلام آباد، مری اور خطہ پوٹھوہار ، خیبر پختونخوا ، پنجاب کشمیر اور گلگت بلتستان میں کل سے 23 جولائی تک بارشں متوقع ہیں، بارشوں سے راولپنڈی سمیت پنجاب کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے اس کے علاوہ بلوچستان کے ژوب، بارکھان، موسیٰ خیل، لورالائی، سبی اور زیار ت میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب نے بارشوں سے مختلف علاقوں میں شہری اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا الرٹ جاری کر دیا ہےترجمان پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد میں اربن فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے، جبکہ مقامی ندی نالوں، نالہ لئی، کشمیر، مری، گلیات اور شمال مشرقی پنجاب کے برساتی نالوں میں طغیانی کا بھی خطرہ ہے۔

  • مغربی ہواؤں کےسسٹم کے زیر اثر 18 سے 25 جولائی تک بارشوں کی پیشگوئی

    مغربی ہواؤں کےسسٹم کے زیر اثر 18 سے 25 جولائی تک بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پیرسے بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کا سسٹم داخل ہوگا،جو ملک کے مختلف حصوں پراثراندازہوں گی ،جبکہ پیر سے ہی بارشوں کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، مری اور خطہ پوٹھوہار میں 19 سے 23 جولائی تک بارش متوقع ہے،راولپنڈی سمیت پنجاب کےکئی علاقےزیرآب آنےکاخدشہ ہےخیبر پختونخوا میں 19سے23جولائی تک گرج چمک کےساتھ بارش متوقع ہے ،اسی طرح پنجاب کےبیشتر علاقوں میں 19سے23جولائی کے دوران آندھی اوربارش کا امکان ہے آزاد کشمیر میں 18سے25جولائی کےدرمیان موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں گلگت بلتستان میں 18سے 25 جولائی کے دوران موسلادھار بارشوں کا امکان ہے جبکہ سندھ کےبیشتر علاقوں میں موسم گرم رہنے کی توقع ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملاقات کی جس میں ملک میں مون سون بارشوں کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی،ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مون سون کے دوران صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کے ساتھ رابطوں اور ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو ملک میں مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال کی تیاری پر بریفنگ دی،اس کے علاوہ وزیراعظم کو پیشگی اطلاع نظام کو مکمل فعال بنانے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اس حوالے سے تعاون پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

  • طوفان ‘باوی’ نے چین میں  تباہی مچا دی، لاکھوں افراد متاثر

    طوفان ‘باوی’ نے چین میں تباہی مچا دی، لاکھوں افراد متاثر

    رواں سال چین سے ٹکرانے والے طاقتور ترین طوفان ’باوی‘ نے تائیوان کے بعد چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں بھی تباہی مچا دی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق طوفان باوی ہفتہ کی رات چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے ساحلی شہر یوہوان سے ٹکرایا، جس کے بعد اس نے وینژو کے علاقے یوئیکنگ میں دوسری بار لینڈ فال کیاموسمیاتی ماہرین کے مطابق اگرچہ طوفان کی شدت کم ہو کر ٹراپیکل اسٹورم کی سطح پر آ گئی ہے، تاہم آئندہ چند روز کے دوران مشرقی اور شمالی چین میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے، جس سے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں،چینی حکام نے طوفان کی آمد سے قبل صوبہ ژی جیانگ سمیت مختلف علاقوں سے تقریباً 20 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

    ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صرف یوئیکنگ شہر میں 1,300 سے زائد درخت گر گئے، جن میں سے 700 سے زیادہ جڑوں سمیت اکھڑ گئے کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بڑے بڑے پتھر شاہراہوں پر آ گرے، ریسکیو ٹیموں نے بھا ری مشینری اور چین سا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں سے گرے ہوئے درخت ہٹانے اور نکاسی آب کا کام شروع کر دیا ہے۔

    یوہوان کے ساحلی قصبے کانمین کے رہائشیوں نے بتایا کہ طوفان کے باعث گھروں میں پانی داخل ہو گیا اور پوری رات جاگ کر صورتحال کا مقابلہ کرنا پڑا، مقامی دکانداروں کے مطابق کئی عمارتوں، دکانوں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل طوفان باوی تائیوان سے بھی ٹکرایا تھا، جہاں تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کے باعث متعدد علاقے متاثر ہوئے، تائیوان کے محکمہ فائر سروس کے مطابق 134 افراد زخمی ہوئے، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی طوفان کے باعث تائیوان میں 137 بین الاقوامی اور 62 اندرون ملک پروازیں منسو خ کی گئیں، جبکہ چین کے صوبہ ژی جیانگ میں 327 پروازیں اور متعدد ٹرین سروسز معطل کر دی گئیں،شنگھائی میں بھی 1,620 ٹرینیں اور 684 پرواز یں منسوخ کر دی گئیں، جس سے لاکھوں مسافر متاثر ہوئے۔

    ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ طوفان کمزور پڑ رہا ہے، لیکن اس کا وسیع نظام کئی سو کلومیٹر اندرونِ ملک تک شدید بارشیں برسا سکتا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشات برقرار رہیں گے رواں سال ایل نینو موسمی رجحان کے باعث چین کو مزید شدید موسمی حالات اور طاقتور طوفانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے ہنگامی امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔

  • مختلف شہروں میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی

    مختلف شہروں میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے-

    مون سون کا نیا سسٹم ملک میں داخل ہوتے ہی مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا اسلام آباد اور راولپنڈی میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی، جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیرآب آ گئے اس کے علاوہ لاہورسمیت پنجاب کے کئی شہروں میں بھی بادل برسے۔

    ادھر محکمہ موسمیات نے دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، پشاور، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، مالاکنڈ، نوشہرہ، باجوڑ، ہنگو، کوہاٹ، لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں بارش کا امکان ظاہر کیا ہے پنجاب میں راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، لاہور، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، ملتان، جھنگ، بھکر، میانوالی، لیہ اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ کراچی میں بھی موسم گرم اور حبس برقرار رہنے کی توقع ہے۔ شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے اور ہوا میں نمی کا تناسب 74 فیصد تک رہنے کا امکان ہے بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بھی موسم گرم رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، تاہم ژوب، موسیٰ خیل، شیرانی، کوہلو اور بارکھان میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے شمال مشرقی بلوچستان میں شام اور رات کے اوقات میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے-

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں کے باعث شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے۔

    ادھر پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر صوبائی کنٹرول روم اور تمام ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو فعال کر دیا گیا ہے، جہاں صورتحال کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔

    اتھارٹی نے ریسکیو 1122، واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے نشیبی علاقوں اور پانی جمع ہونے والے مقامات سے فوری نکاسی آب یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارش کے دوران بجلی کے کھمبوں، لٹکتی ہوئی تاروں، کچے مکانات اور بوسیدہ عمارتوں سے دور رہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والے افراد لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں آج رات  بارش کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں آج رات بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آج رات موسلادھار بارش کا امکان ظاہر کیا ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج رات اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش متوقع ہے جبکہ لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور پشاور میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور آمدورفت متاثر ہونے کا امکان ہے-

    مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں موسلادھار بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، محکمہ موسمیات نے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ صورتحال کے پیش نظر ضروری احتیاطی اقدامات اور پیشگی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 13 جولائی تک ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جبکہ بعض علاقوں میں موسلادھار بارش بھی متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی پنجاب، پوٹھوہار، اسلام آباد، مری، گلیات اور شمالی علاقوں میں بارش ہونے کی توقع ہے، لاہور، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال اور حافظ آباد میں بھی بارش متوقع ہے فیصل آبا د، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب اور بھکر میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہےجبکہ شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن میں موسلادھار بارش ہونے کا امکان ہے، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، مظفر گڑھ، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں بھی بارش متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارش کی پیشگوئی کی ہے، پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ اور ہنگو کے علاوہ سوات، دیر، چترال، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بھی بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 11 سے 13 جولائی کے دوران وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں مظفرآباد، نیلم ویلی، راولا کو ٹ، باغ، حویلی، پونچھ، کوٹلی، میرپور اور بھمبر میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ گلگت، سکردو، استور، دیامر، غذر، گانچھے، شگر، نگر اور ہنزہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    بلوچستان کے شمال مشرقی اضلاع میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، کوہلو اور زیارت ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں بارش ہونے کا امکان ہے جبکہ سندھ کے بالائی اور وسطی علاقوں میں 12 اور 13 جولائی کے دوران بارش متوقع ہے سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور، شکارپور، گھوٹکی، خیرپور اور نوشہرو فیروز میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

  • بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کاخطرہ ، الرٹ جاری

    بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کاخطرہ ، الرٹ جاری

    پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے بالائی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں آئندہ ہفتے متوقع نئی مغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرے سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔

    ہفتہ کے روز جاری کیے گئے الرٹ میں محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کی گلیشیائی وادیوں میں جزوی سے مکمل ابر آلود موسم کے ساتھ معتدل سے شدید بارش اور گرج چمک کا امکان ہے ان علاقوں میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ درجہ حرارت اور بارشوں کا امتزاج برف اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سبب بن سکتا ہے۔

    برف اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بلند رہ سکتی ہے، موجودہ گلیشیائی جھیلیں مزید پھیل سکتی ہیں جبکہ پگھلتے ہو ئے پانی کی بڑی مقدار کے باعث نئی گلیشیائی جھیلیں بھی وجود میں آ سکتی ہیں محکمہ موسمیات نے خبردار کیاکہ دریاؤں کے کنارے آباد نشیبی علاقے اور زیریں بستیاں اچانک سیلابی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہیں، جبکہ حساس مقامات پر فلیش فلڈ کا بھی نمایاں خطرہ موجود ہے۔

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ گلیشیائی جھیلوں کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث قدرتی برفانی یا مورین ڈیم غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات رونما ہونے کا خدشہ ہےمستقل منجمد زمین (پرما فراسٹ) کے پگھلنے اور سطحی پانی کی زیادتی کے باعث پہاڑی ڈھلوانوں سے مٹی اور ملبے کے بڑے ریلے بھی آ سکتے ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے برف پوش اور گلیشیائی وادیوں میں رہنے والے شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور مقامی برساتی نالوں کے کناروں سے دور رہیں اور پانی کی سطح میں اچانک یا بتدریج ہونے والی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھیں۔

    ادارے نے مشورہ دیا کہ پیش گوئی کے دوران دریاؤں، ندیوں، گلیشیائی جھیلوں اور تنگ پہاڑی وادیوں کے قریب کیمپنگ، ٹریکنگ یا قیام سے گریز کیا جائے، جبکہ ایسی غیر مستحکم ڈھلوانوں سے بھی دور رہا جائے جہاں برف پگھلنے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ یا ملبے کے ریلوں کا خطرہ ہو رہائشیوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کیے جانے والے موسم کی پیش گوئیوں اور انتباہات پر مسلسل نظر رکھیں محکمہ موسمیات نے قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 24 گھنٹے الرٹ رہیں اور تمام ضروری احتیاطی اقدامات یقینی بنائیں۔

    پاکستان میں 13 ہزار 32 سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی خطوں کے بعد دنیا میں گلیشیئرز کا سب سے بڑا ذخیرہ سمجھے جاتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے چترال اور گلگت بلتستان کے قریباً 10 ہزار گلیشیئرز سکڑنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

    گلوف سے مراد گلیشیائی جھیل سے پانی اور ملبے کا اچانک اخراج ہے، جس کے نتیجے میں پہاڑی علاقوں میں انسانی جانوں، املاک اور لوگوں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 71 لاکھ سے زیادہ افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔