Baaghi TV

Tag: مون سون

  • مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری

    مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری کر دیا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا 11واں اسپیل 16 ستمبر سے شروع ہو گا جو 19 ستمبر تک جاری رہے گا اس دوران دریاؤں کے بالائی علاقوں میں زیادہ بارشوں کا امکان ہے، مون سون بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہےڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیر و تفریح سے گریز کریں۔

    واضح رہے کہ پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 104 سے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے راوی، دریائے چناب اور ستلج کے سیلابی ریلوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی،شدید سیلاب کے باعث پنجاب میں 45 لاکھ 70 ہزار لوگ اور 4700 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے ہیں۔

    ہدف صرف بھارت کے خلاف میچ نہیں بلکہ ایشیا کپ کی ٹرافی جیتنا ہے،صائم ایوب

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق متاثرہ علاقوں سے 25 لاکھ 12 ہزار لوگوں اور 20 لاکھ 19 ہزار سے زائد جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے،جبکہ متاثرہ اضلاع میں 392 ریلیف کیمپس، 493 میڈیکل کیمپس اور 422 ویٹرنری کیمپس بھی قائم کیے ہیں، منگلا ڈیم 93 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے۔ جبکہ بھارت میں دریائے ستلج پر موجود بھاکڑا ڈیم 88 فیصد، پونگ ڈیم 94 فیصد اور تھین ڈیم 89 فیصد تک بھر چکا ہے۔

    گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

  • مون سون کے مزید طوفانی اسپیل، شہری علاقوں میں سیلاب کا خدشہ

    مون سون کے مزید طوفانی اسپیل، شہری علاقوں میں سیلاب کا خدشہ

    سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے شہری علاقوں میں مون سون کے ایک اور طوفانی اسپیل کے باعث شدید سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

    فیصل آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا اور سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، جبکہ جہلم میں بھی شہر کا بڑا حصہ پانی میں ڈوب گیا، جس سے نظامِ زندگی متاثر ہوا۔قصور کے علاقے گنجے کلاں میں ایک نوجوان دریائے ستلج کے سیلابی پانی میں ڈوب گیا، جس کی تلاش کے لیے آپریشن اندھیرے کے باعث روک دیا گیا ہے اور یہ صبح دوبارہ شروع ہوگا۔ متاثرہ نوجوان ویڈیو بناتے ہوئے نشیبی علاقے میں جمع پانی میں ڈوبا تھا۔

    ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق جلالپور پیر والا میں 25 ریسکیو بوٹس آپریشنل ہیں اور مزید 38 کشتیاں روانہ کی گئی ہیں۔ مظفر گڑھ اور علی پور جتوئی کے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔ جلالپور پیر والا میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، رات اور پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود ریسکیو کارروائی جاری ہے۔

    مظفر گڑھ میں عظمت پور زمیندارہ بند ٹوٹنے کے نتیجے میں متعدد بستیاں زیرِ آب آ گئیں اور ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق متاثرین کے لیے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور بند ٹوٹنے سے 7 ہزار سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔بہاولپور میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہے، تحصیل حاصل پور میں متعدد زمیندارہ بند ٹوٹ گئے، جس کے باعث موضع پلہ، چھوہن، نصیر پور، خیرو دیہ، لڈن ریاستی، نور پور اور نورو چکری سمیت متعدد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔

    قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 8 ستمبر کو پاکستان پہنچیں گے

    علی امین گنڈاپور کا پشاور میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان

    کے پی کے،میٹرک امتحانات میں ناقص کارکردگی پر 15 پرنسپل معطل

    غزہ پر اسرائیلی حملے، اسکول اور خیمے نشانہ، 21 فلسطینی شہید

  • مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ 9 ستمبر تک مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بہاولپور، بہاولنگر اور گجرات میں ابھی بارش ہو رہی ہے اور ساتھ ہی پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے پنجاب کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی اور گجرات میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے بھی دورہ کیا،گجرات کی بڑی سڑکیں کلیئر ہیں، اور اگلے 24 گھنٹوں میں گجرات کو کلیئر کر دیا جائے گا گجرات کی کئی سڑکوں پر پانی نکالنے کا عمل جاری ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں آج اتوار کو صبح سویرے گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔ جس کے باعث موسم ٹھنڈا ہو گیا۔ تاہم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

  • 29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے  کی پیشگوئی

    29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے )نے 29اگست سے 9ستمبر بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کردی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرنے کہاکہ 29اگست سے 9ستمبر تک بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگا،ملک میں مون سون بارشوں کا 8واں سلسلہ جاری ہے،پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں،جموں کے اطراف میں 300ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئیں،شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی ہے۔

    ادھربھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر گئی، اور دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے جب کہ کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گرودوارے میں داخل ہوگیا اور علاقے میں 300 لوگ پھنس گئے۔

    بجلی سستی ہونے کا امکان

    رپورٹ کے مطابق گجرات میں دریائے چناب کے کری شریف حفاظتی بند کے اوپر سے پانی گزرنا شروع ہو چکا ہے، سیلابی ریلا بند کو توڑتا ہوا سڑکوں پر آگیا، جہاں ٹریفک معطل اور ملحقہ دیہاتوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں،ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ 2014 کے تباہ کن سیلاب کی یاد دلا رہا ہے، جب تقریباً 50 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے۔

    شکر گڑھ میں سیلاب کے باعث دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں،متاثرہ علاقوں سراخ پور، کری شریف، خلیل پور اور دیگر دیہات میں ضلعی انتظامیہ کی امدادی ٹیمیں تاحال نہ پہنچ سکیں، مقامی افراد نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے،بھمبھر نالے میں طغیانی سے نواحی دیہات دادو برسالہ، گوجر کوٹلہ اور پلاوڑی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جہاں پانی کا کٹاؤ جاری ہے اور دیہاتوں کا فاصلہ محض 15 فٹ تک رہ گیا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی اس وقت ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے،محمد اورنگزیب

    شکرگڑھ کے گاؤں جرمیاں جھنڈا سے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے اسسٹنٹ کمشنر عدنان عاطف اور ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں،شدید بارش کے باعث ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اب تک 294 افراد کو دریائے راوی سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔

    راولپنڈی، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ اور حافظ آباد سے ریسکیو ٹیموں کو نارووال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ گجرات شہر میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں تاحال نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکےدریائے چناب میں ہیڈمرالہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 9 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ خانکی کے مقام پر 4 لاکھ 32 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    احسن اقبال کا کرتارپور کا ہنگامی دورہ

  • مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ،پاکستان موسمیاتی تباہی کے دہانے پر آگیا، جس کے ممکنہ خطرناہ اثرات سے ملک میں سیلاب و خشک سالی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور فنڈنگ کے معاملات پر سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں اجلاس کی صدارت جنید اکبر نے کی جب کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک میں حالیہ صورتحال اور مستقبل کے خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے اور آنے والے سال میں شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگیں گے،چترال شمال و جنوب اور اسکردو جیسے علاقے مستقبل میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں،مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک برقرار رہے گا، پانی کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ستلج کے علاقے سے اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے مختلف متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان بھی بھجوایا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں تباہ شدہ مقامات کی تعمیر نو کی جائے گی۔

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    ان کا کہنا تھا کہ خطرناک علاقوں میں لوگ پانی کے راستوں پر رہ رہے تھے، ملک بھر کے نشیبی علاقوں کو خالی کروا یا جائے گا، ریسکیو نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بہترین کام کیا اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلاحی تنظیموں نے بھی بہترین کام کیہ جون 26 سے اب تک کا تمام ڈیٹا موجود ہے، آنے والا سال بدقسمتی سے زیادہ مشکل ہوگا، ہمیں مل کر گلیشئرزکا تحفظ کرنا ہوگا، دنیا کے دوسرے بڑے گلیشئر ہمارے ملک میں ہیں۔

    اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے سوال کیا کہ کیا این ڈی ایم اے ارلی وارننگ دے گا؟ کمراٹ میں جھیل بنی اور اس سے سارے علاقے کی خوبصورتی برباد ہوگئی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ محکمہ موسمیات چند ماہ کا بتاتا ہے، ہم نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں،ملک میں 7500 گلیشئرز ہیں، شمالی علاقوں میں زیادہ پگھل رہے ہیں،گلیشئر کے مکمل پگھلنے کے بعد خشک سالی کے امکانات بڑھ جائیں گے، خشک سالی سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی اور پانی کی کمی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    پی اے سی اجلاس میں جنید اکبر نے کہا کہ پاکستان کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے،انہوں نے شکوہ کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کی سزا بھگت رہے ہیں مگر بدلے میں ہمیں امداد نہیں بلکہ صرف قرضے مل رہے ہیں۔

    اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد دنیا نے پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے تھے جن میں 8.9 ارب کثیرالجہتی اداروں اور 1.4 ارب دو طرفہ وعدے شامل تھے، تاہم عملی طور پر زیادہ تر رقم قرضوں کی صورت میں دی گئی، جبکہ صرف 21 لاکھ ڈالر کی گرانٹ ملی، سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر کا تیل ادھار فراہم کیا اور مجموعی طور پر 93 کروڑ ڈالر کی عارضی فنڈنگ موصول ہوئی۔

    اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات،فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ

    سیکرٹری اقتصادی امور کے مطابق سیلاب کے بعد 16 ارب ڈالر کی ضروریات کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس میں سے 8 ارب ڈالر خود اور 8 ارب عالمی اداروں سے لینے کا منصوبہ بنایا گیا، تاہم بریفنگ کے مطابق ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کی بڑی کمٹمنٹس بھی زیادہ تر قرض کی صورت میں تھیں۔

  • مون سون بارشوں کے آٹھویں اسپیل کا الرٹ جاری

    مون سون بارشوں کے آٹھویں اسپیل کا الرٹ جاری

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے صوبے میں مون سون کے 8 ویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا ہے، جس کے مطابق مون سون بارشوں کا آغاز 23 اگست سے ہورہا ہے۔

    ملک کے بالائی اور وسطی حصوں میں 23 سے 27 اگست کے دوران تیز ہواؤں، گرج چمک اور وقفے وقفے سے موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے محکمہ موسمیات کے مطابق 22 اگست سے بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون کی طاقتور ہوائیں ملک کے شمالی حصوں میں داخل ہوں گی جبکہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ بھی 22 اگست کی رات سے شامل ہو جائےگا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ اور مشرقی جنوبی بلوچستان میں 27 سے 29 اگست تک شدید بارشوں کا امکان ہے 23 سے 27 اگست کے دوران کشمیر کے مختلف اضلاع بشمول وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، حویلی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں اکثر مقامات پر بارش جبکہ بعض مقامات پر شدید بارش متوقع ہے،گلگت بلتستان کے علاقوں دیامیر، استور، غذر، ہنزہ، اسکردو، شگر، گانچھے اور گلگت میں بھی بارشوں کا امکان ہےخیبرپختونخوا کے اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، ملاکنڈ، باجوڑ، پشاور، مردان، کرک، بنوں، لکی مروت، وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت متعدد علاقوں میں بارشیں متوقع ہیں۔

    معرکہ حق میں پاکستان نے سچ کی طاقت سے مکار دشمن کو شکست دی ،عطا تارڑ

    پنجاب میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، سرگودھا، فیصل آباد، ساہیوال، خوشاب اور دیگر اضلاع میں 23 سے 27 اگست کے دوران بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ 24 اور 27 اگست کو ڈیرہ غازی خان، بھکر، لیہ، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، راجن پور اور رحیم یار خان میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہےسندھ کے تھرپارکر، عمر کوٹ، مٹھی اور میرپورخاص میں 23 سے 26 اگست کے دوران بارش کی توقع ہے جبکہ بلوچستان کے بارکھان، موسیٰ خیل، لورالائی، سبی، ژوب، قلات اور خضدار میں بھی 23 سے 26 اگست تک بارشیں برس سکتی ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ان دنوں میں شدید بارشوں کے باعث شمالی پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے برساتی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ مسافروں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں کا سفر احتیاط سے کریں اور موسم کی صورتحال سے باخبر رہیں۔

    کالعدم بی ایل اے کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کا قریبی ساتھی گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا

    دوسری جانب اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) آزاد کشمیر نے بھی 23 اگست سے شروع ہونے والے بارشوں کے نئے سلسلے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہےبارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے تمام ضلعی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو کہا گیا ہے کہ وہ دوران بارش ندی نالوں اور خطرناک مقامات کے قریب جانے سے اجتناب کریں اور ناگزیر سفر کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔

    شدید بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے اضافے سے متعلق الرٹ جاری کردیا گیا ہے جبکہ بالائی پنجاب کے اضلاع میں طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں۔

    ترجمان کے مطابق 23 سے 27 اگست تک دریاؤں کے بالائی حصوں میں شدید طوفانی بارشوں کے باعث پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات ، حافظ آباد سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہےدریائے جہلم، چناب، راوی، ستلج اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبہ بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کردیا ہے۔

    سوات : امدادی کارروائیوں کے دوران مدارس کے طلبا کی ایمانداری کی اعلیٰ مثال

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج کے ارد گرد رہائش پذیر شہریوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات دے دی ہیں،ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر نچلے درجے جبکہ تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے اور سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے،اس کے علاوہ دریائے چناب، جہلم اور راوی میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے، تربیلا ڈیم 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 75 فیصد بھر چکا ہے جبکہ بھارتی ڈیمز میں بھاکڑا 80، پونگ 87 اور تھین ڈیم 85 فیصد بھر چکا ہے۔

  • بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنا نقصان ہوا؟ اعداد و شمار جاری

    بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنا نقصان ہوا؟ اعداد و شمار جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) نے بارشوں اور سیلاب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے جانی نقصان کی اعداد و شمار جاری کر دیئے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے باعث ملک بھر میں 41 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 29 مرد، 9 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، بارشوں اور سیلاب کے باعث خیبر پختونخوا میں 19 افراد جاں بحق جبکہ 1 زخمی ہوا، گلگت بلتستان میں 11 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے، سندھ میں بھی بارشوں سے 11 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون سیزن کے دوران،بارشوں کے باعث اب تک ملک بھر میں 748 افراد جاں بحق اور 978 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 459 مرد، 11 خواتین اور 178 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 475 مرد، 243 خواتین اور 260 بچے شامل ہیں، بارشوں اور سیلاب میں ملک بھر میں 990 مکان گرے اور 3 ہزار 898 مویشی بھی ہلاک ہوئے،اب تک پنجاب میں 165، خیبر پختونخوا میں 446 اور سندھ میں 40 افراد جاں حق ہو چکے، اسی طرح گلگت بلتستان میں45، آزاد کشمیر میں 22 اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

    دوسری جانب پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے ) نے خیبرپختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ، بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ڈیٹا بھی جاری کیا ہےجس کے مطابق کے پی میں بارشوں اور سیلاب سے مجموعی طور پر377 افراد جاں بحق جبکہ 182 زخمی ہوئے، کے پی میں سیلاب سے مجموعی طور پر1377 گھروں کو نقصان پہنچا، 1022 گھروں کو جزوی جبکہ 355 گھر مکمل گر گئے،بونیر،صوابی،باجوڑ،مانسہرہ میں کلاؤڈ برسٹ،بارشیں اور سیلاب کےباعث حادثات پیش آئے، صرف بونیر میں 228 افراد جاں حق ہوئے۔

  • تین مزید مون سون سسٹمز پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے کی میڈیا کو بریفنگ

    تین مزید مون سون سسٹمز پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے کی میڈیا کو بریفنگ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حکام نے کہا ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 22 اگست تک جاری رہے گا جس میں مزید شدت متوقع ہے، بارشوں کے 3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    اسلام آباد میں این ڈی ایم اے حکام نے میڈیا کو بریفنگ دی، اس موقع پر ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب شاہ نے کہا کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 22 اگست تک جاری رہے گا جس میں مزید شدت متوقع ہے، 22 اگست کے بعد مون سون کا ایک اور سلسلہ شروع ہو گا، بارشوں کے 3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں،خلیج بنگال کی جانب سے ایک نیا بارشوں کا سلسلہ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے، افغانستان کے ننگرہار اور قندھار ریجن سے ایک سلسلہ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور پنجاب کے علاقے شدید خطرات کا شکار ہیں۔

    جنرل منیجر این ڈی ایم اے زارا حسن نے بتایا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں شدید بارشوں متوقع ہیں، تربیلا ڈیم میں اس وقت 98 فیصد پانی بھر چکا ہے، اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران پانی کے ذخائر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے،کٹاریاں اور گوالمنڈی میں 15 فٹ تک پانی کی سطح بلند ہو چکی ہے، کوہ سلیمان کے ساتھ علاقہ جات میں آج سے نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، آزاد جموں و کشمیر کے نیلم، پونچھ اور باغ میں سیلاب کے خطرات بڑھ گئے ہیں، خیبرپختونخوا میں پشاور چترال دیر چار سدہ میں سیلاب کے خطرات زیادہ ہیں۔

    خاور ڈپریشن کا شکار لگ رہے تھے،ہم ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے،ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد

    ممبر آپریشنز این ڈی ایم اے بریگیڈیئر کامران نے بتایا کہ فروری 2025 سے موجودہ مون سون کے لئے تیاری شروع کر دی گئی تھی، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر موجودہ مون سون کے لئے نقصانات سے بچاؤ کے اقدامات کیے گئے، بونیر اور باجوڑ میں تباہی کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے ہوئی، دو روز میں 337 لوگ اس وقت تک جاں بحق، 178 لوگ اب تک زخمی ہیں، آرمی اور ایف سی کے ذریعے صوبائی حکومت کو ریسکیو کے لیے وسائل مہیا کیے گئے، کل بونیر میں وفاق کی طرف سے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کی جائے گی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ موسم گرما میں گرمی کی شدت ذیادہ ہونے کی وجہ سے مون سون کا پھیلاؤ ذیادہ ہے، گلگت بلتستان میں فلیش فلڈز اور سیاحتی حادثات پیش آئے،ستمبر کے پہلے 10 دنوں تک مون سون کے اسپیل باقی رہیں گے، وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق نقصانات کے ازالے کے لئے سروے کیا جائے گا۔

    سہ فریقی سیریز اورایشیا کپ کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان، بابر اور رضوان ٹیم سے باہر

    ان کا کہنا تھا کہ مواصلات کے نقصانات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا، کل سے ذیادہ جانی نقصان والے اضلاع میں ریلیف پیکجز پہنچائے جائیں گے اگلے دو ہفتوں میں ہمارا فوکس شمالی پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ہو گا، ارلی وارننگ نقصانات سے بچنے کے لئے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

  • دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، کئی مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب

    دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، کئی مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب

    مون سون بارشوں اور گلیشیئرز پگھلنے کے نتیجے میں پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ تربیلا اور تونسہ بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 68 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے اور وہاں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

    اسی طرح دریائے جہلم اور دریائے چناب کے اہم مقامات پر پانی کی صورتحال فی الحال معمول کے مطابق ہے، تاہم نالہ پلکھو کینٹ میں نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے اسی طرح دریائے راوی کے مقامات پر بہاؤ معمول کے مطابق ہے لیکن نالہ بسنتر میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جس سے نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

    ڈیمز کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تربیلا ڈیم 98 فیصد جب کہ منگلا ڈیم 68 فیصد بھر چکا ہے۔ تربیلا ڈیم کا لیول 1547.94 فٹ اور منگلا ڈیم کا لیول 1211.15 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ دریاؤں کے پاٹ میں موجود افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں،شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دریاؤں، نہروں، ندی نالوں اور تالابوں میں ہرگز نہ نہائیں اور سیلابی صورتحال میں دریاؤں کے کناروں پر سیر و تفریح سے گریز کریں۔

    حکام نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو کسی صورت دریاؤں یا ندی نالوں کے قریب نہ جانے دیں ایمرجنسی کی کسی بھی صورتحال میں شہری پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پی ڈی ایم اے پنجاب کی اولین ذمہ داری ہے۔

    ادھرمحکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا میں آج موسم مرطوب اور مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہے جبکہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارش متوقع ہے، پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، صوابی، چترال، دیر، سوات، بونیر اور مالاکنڈ سمیت مختلف علاقوں میں بارش ہوگی۔ اسی طرح باجوڑ، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ، ہری پور اور ایبٹ آباد میں بھی بارش کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ خیبر، مہمند، کرم، اورکزئی کے علاوہ جنوبی اضلاع بنوں، کوہاٹ، ہنگو، کرک اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں بھی بارش ہوگی،بارش کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے جبکہ چترال، سوات، بونیر، دیر، شانگلہ اور کوہستان سمیت بٹگرام، تورغر، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

    گزشتہ روز بھی صوبے کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی،سب سے زیادہ بارش تیمرگرہ میں 98 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، مالم جبہ میں 76 ملی میٹر، کاکول میں 64 ملی میٹر جبکہ بالاکوٹ اور سیدو شریف میں 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، پشاور میں کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ آج درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ مالم جبہ میں درجہ حرارت 16 ڈگری اور کالام میں 17 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • مون سون بارشوں کے اگلے اسپیل کی پیشگوئی ، فلڈ ایڈوائزری جاری

    مون سون بارشوں کے اگلے اسپیل کی پیشگوئی ، فلڈ ایڈوائزری جاری

    لاہور:پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے اگلے اسپیل کی پیشگوئی کرتے ہوئے فلڈ ایڈوائزری جاری کر دی۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج، راوی، چناب اور جہلم اور ملحقہ ندی نالوں میں سیلاب سے متعلق ایڈوائزری جاری کی ہے،مون سون بارشوں کا ساتواں اسپیل 13 اگست سے شروع ہوگا، بارشوں کے باعث پنجاب کے بڑے دریاؤں میں پانی کے اضافے کا خدشہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبہ بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی جبکہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، لائیو اسٹاک اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے

    سینئر وکیل خواجہ شمس کے قتل میں ملوث سہولت کار خیبرپختونخوا سے گرفتار

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام تر انتظامات پیشگی مکمل کریں اور ایمرجنسی کنٹرول رومز میں اسٹاف کو 24 گھنٹے الرٹ رکھا جائے۔ ریسکیو 1122 کی ڈائزاسٹر رسپانس ٹیموں کو بھی ہائی الرٹ رکھا جائے عوام الناس کو موجودہ صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا جائے، دریاؤں کے پاٹ میں موجود مکانوں اور مویشیوں کے انخلاء کو یقینی بنائیں۔ عوام جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

    غزہ پراسرائیلی مظالم،متعدد ممالک میں احتجاج، غزہ میں جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ

    عوام سے اپیل کرتے ہوئے ڈی جی نے کہا کہ دریاؤں نہروں ندی نالوں اور تالابوں میں ہرگز مت نہائیں، ہنگامی انخلاء کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں، شہری ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔