Baaghi TV

Tag: مون سون

  • کوہاٹ میں بارش کے دوران کچے مکان کی چھت گرگئی،خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    کوہاٹ میں بارش کے دوران کچے مکان کی چھت گرگئی،خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    کوہاٹ میں بارش کے دوران کچے مکان کی چھت گرگئی، ملبے تلے دب کر بچوں اور خواتین سمیت 11افراد جاں بحق جبکہ 12 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق پیر کو کوہاٹ کے نواحی پہاڑی گاؤں مالگین میں شدید بارش سےکچے مکان کی چھت گرگئی واقعےمیں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی،جاں بحق ہونےوالوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں حادثے کے وقت مکان میں تقریب جاری تھی ملبے سے زخمیوں کو نکال کر ابتدائی طبی امداد کے بعد مختلف اسپتالوں میں منتقل کیاگیا،زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے-

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کوہاٹ کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائےحادثہ پر پہنچ گئیں اورامدادی کارروائیاں شروع کردیں ریسکیو آپریشن میں ریسکیو 1122 کوہاٹ کی چار ایمبولینسیں، ریسکیو 1122 کرک کی دو ایمبولینسیں اور ایک ریکوری وہیکل نےحصہ لیا ریسکیو اہلکاروں نےمقامی افراد کےتعاون سے ملبے تلے دبے تمام متاثرین کو نکال کر ابتدائی طبی امداد فراہم کی-

    اس کے علاوہ اٹک میں بھی بارش سے دیوار گرگئی جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوگئے ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں بارش کے بعد برساتی ند یوں میں طغیانی آگئی ،بارش کے باعث ملتان، ڈی جی خان اور مظفرگڑھ کے متعدد علاقوں میں بجلی معطل ہوگئی،سیلابی ملبہ گھروں میں داخل ہوگیا، زر عی زمینیں، فصلیں اوردرخت بہہ گئے،تھورکی رابطہ سڑک متعدد مقامات پربند ہے،ٹریفک معطل، بجلی بھی منقطع ہوگئی۔

  • مون سون بارشیں: وزیراعلیٰ کا پنجاب بھر کے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک رہنے کا حکم

    مون سون بارشیں: وزیراعلیٰ کا پنجاب بھر کے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک رہنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مون سون بارشوں کے آغاز پر صوبے بھر میں تمام متعلقہ اداروں، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور فیلڈ افسران کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مون سون بارشوں کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں کو مکمل طور پر متحرک رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر فیلڈ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں میں مسلسل نگرانی رکھیں اور عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مون سون بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے، اس لیے تمام متعلقہ افسران اور عملہ مکمل الرٹ رہے ، کیونکہ کسی قسم کی کوتاہی یا غیر ذمہ داری کی کوئی گنجائش نہیں،بارشوں کے دوران عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ذمہ داری برداشت نہیں کی جائے گی-

    مریم نواز شریف نے واسا سمیت تمام متعلقہ اداروں کو بارش کے پانی کی فوری نکاسی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ واسا کے آپریشنز کی مسلسل نگرانی اور مؤثر مانیٹرنگ کی جائے تاکہ شہری علاقوں میں پانی کھڑا نہ ہونے پائے، انہوں نے نشیبی علاقوں اور چوکنگ پوائنٹس سے پانی کی جلد از جلد نکاسی کے احکامات بھی جاری کیے۔

    وزیراعلیٰ نے پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم اور تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو مکمل طور پر فعال رکھنے کی ہدایت کی، جبکہ ریسکیو 1122 ، واسا اور دیگر امدادی اداروں کو مشینری اور عملے سمیت ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیا،انہوں نے محکمہ آبپاشی کو برساتی نالوں، ڈرینز اور نہروں میں پانی کے بہا ؤ کی مسلسل نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں۔

    وزیراعلیٰ نے شہری اور دیہی علاقوں میں تمام مین ہولز پر ڈھکن موجود ہونے کو یقینی بنانے، تعمیراتی مقامات پر حفاظتی انتظامات مکمل رکھنے اور خستہ حال و حساس عمارتوں کی خصوصی نگرانی کا بھی حکم دیا اورکہا کہ اہم شاہراہوں اور مرکزی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی ہر صورت برقرار رکھی جائے، جبکہ سیف سٹی اتھا رٹی، چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اور متعلقہ ٹیمیں مکمل الرٹ رہیں اور عوام کی رہنمائی کے لیے مؤثر رابطہ برقرار رکھیں۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ ادارے، فیلڈ ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ مکمل مستعدی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں تاکہ مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے جانی نقصان پر اظہارِ افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے جانی نقصان پر اظہارِ افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان اور وسیع پیمانے پر تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    بنگلہ دیش میں شدید مون سون بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے قد رتی آفت کے باعث متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ہزاروں شہری متاثر ہوئے ہیں، سیلابی پانی سے سڑکیں، مکانات اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو نے کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شدید بارشوں کے بعد کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ حکام متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مزید بارشوں کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہی پرافسوس کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی جانب سے وہ متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور اس مشکل گھڑی میں بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں،انہوں نے دعا کی کہ زخمی افراد جلد صحتیاب ہوں اور متاثرہ علاقوں میں موجود تمام افراد محفوظ رہیں، پاکستان اس قدرتی آفت کے باعث غمزدہ بنگلہ دیشی عوام کے دکھ میں برابر کا شریک ہے اور متاثرین کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہے۔

  • مختلف شہروں میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی

    مختلف شہروں میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے-

    مون سون کا نیا سسٹم ملک میں داخل ہوتے ہی مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا اسلام آباد اور راولپنڈی میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی، جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیرآب آ گئے اس کے علاوہ لاہورسمیت پنجاب کے کئی شہروں میں بھی بادل برسے۔

    ادھر محکمہ موسمیات نے دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، پشاور، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، مالاکنڈ، نوشہرہ، باجوڑ، ہنگو، کوہاٹ، لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں بارش کا امکان ظاہر کیا ہے پنجاب میں راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، لاہور، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، ملتان، جھنگ، بھکر، میانوالی، لیہ اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ کراچی میں بھی موسم گرم اور حبس برقرار رہنے کی توقع ہے۔ شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے اور ہوا میں نمی کا تناسب 74 فیصد تک رہنے کا امکان ہے بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بھی موسم گرم رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، تاہم ژوب، موسیٰ خیل، شیرانی، کوہلو اور بارکھان میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے شمال مشرقی بلوچستان میں شام اور رات کے اوقات میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے-

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں کے باعث شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے۔

    ادھر پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر صوبائی کنٹرول روم اور تمام ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو فعال کر دیا گیا ہے، جہاں صورتحال کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔

    اتھارٹی نے ریسکیو 1122، واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے نشیبی علاقوں اور پانی جمع ہونے والے مقامات سے فوری نکاسی آب یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارش کے دوران بجلی کے کھمبوں، لٹکتی ہوئی تاروں، کچے مکانات اور بوسیدہ عمارتوں سے دور رہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والے افراد لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  • بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کاخطرہ ، الرٹ جاری

    بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کاخطرہ ، الرٹ جاری

    پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے بالائی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں آئندہ ہفتے متوقع نئی مغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرے سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔

    ہفتہ کے روز جاری کیے گئے الرٹ میں محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کی گلیشیائی وادیوں میں جزوی سے مکمل ابر آلود موسم کے ساتھ معتدل سے شدید بارش اور گرج چمک کا امکان ہے ان علاقوں میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ درجہ حرارت اور بارشوں کا امتزاج برف اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سبب بن سکتا ہے۔

    برف اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بلند رہ سکتی ہے، موجودہ گلیشیائی جھیلیں مزید پھیل سکتی ہیں جبکہ پگھلتے ہو ئے پانی کی بڑی مقدار کے باعث نئی گلیشیائی جھیلیں بھی وجود میں آ سکتی ہیں محکمہ موسمیات نے خبردار کیاکہ دریاؤں کے کنارے آباد نشیبی علاقے اور زیریں بستیاں اچانک سیلابی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہیں، جبکہ حساس مقامات پر فلیش فلڈ کا بھی نمایاں خطرہ موجود ہے۔

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ گلیشیائی جھیلوں کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث قدرتی برفانی یا مورین ڈیم غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات رونما ہونے کا خدشہ ہےمستقل منجمد زمین (پرما فراسٹ) کے پگھلنے اور سطحی پانی کی زیادتی کے باعث پہاڑی ڈھلوانوں سے مٹی اور ملبے کے بڑے ریلے بھی آ سکتے ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے برف پوش اور گلیشیائی وادیوں میں رہنے والے شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور مقامی برساتی نالوں کے کناروں سے دور رہیں اور پانی کی سطح میں اچانک یا بتدریج ہونے والی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھیں۔

    ادارے نے مشورہ دیا کہ پیش گوئی کے دوران دریاؤں، ندیوں، گلیشیائی جھیلوں اور تنگ پہاڑی وادیوں کے قریب کیمپنگ، ٹریکنگ یا قیام سے گریز کیا جائے، جبکہ ایسی غیر مستحکم ڈھلوانوں سے بھی دور رہا جائے جہاں برف پگھلنے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ یا ملبے کے ریلوں کا خطرہ ہو رہائشیوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کیے جانے والے موسم کی پیش گوئیوں اور انتباہات پر مسلسل نظر رکھیں محکمہ موسمیات نے قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 24 گھنٹے الرٹ رہیں اور تمام ضروری احتیاطی اقدامات یقینی بنائیں۔

    پاکستان میں 13 ہزار 32 سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی خطوں کے بعد دنیا میں گلیشیئرز کا سب سے بڑا ذخیرہ سمجھے جاتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے چترال اور گلگت بلتستان کے قریباً 10 ہزار گلیشیئرز سکڑنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

    گلوف سے مراد گلیشیائی جھیل سے پانی اور ملبے کا اچانک اخراج ہے، جس کے نتیجے میں پہاڑی علاقوں میں انسانی جانوں، املاک اور لوگوں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 71 لاکھ سے زیادہ افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا میں دریاؤں، ڈیموں ،نہروں میں نہانے اوربوٹنگ پر پابندی عائد

    خیبرپختونخوا میں دریاؤں، ڈیموں ،نہروں میں نہانے اوربوٹنگ پر پابندی عائد

    کے پی کے میں مون سون کے دوران دریاؤں، ڈیموں اور نہروں میں نہانے اور بوٹنگ پر پابندی عائد کردی گئی-

    ضلعی انتظامیہ نے مون سون سیزن کے اختتام تک دفعہ 144 نافذ کر دی،پشاور بھر میں دریاؤں اور نہروں میں غیر قانونی بوٹنگ اور تیراکی پر پابندی ہوگی ،کا بل ریور کنال، جولی شیخ کنال اور بڈھنی نالہ میں بھی تیراکی ممنوع قرار دی گئی ہے ، بڑا دریا، شاہ عالم، ناگومان اور ادیزئی دریا میں بھی نہانے پر پابندی رہے گی ورسک گریویٹی کنال اور ورسک لفٹ کنال میں بھی تیراکی پر پابندی لگا دی گئی ٹائر ٹیوبز کے ذریعے بوٹنگ اور پانی کے کناروں پر تفریحی سرگرمیاں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں ، ضلعی انتظامیہ کے احکامات کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت کارروائی ہوگی۔

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہےپی ڈی ایم اے کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور شدید گرم موسم کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے اورسیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے اپر و لوئر چترال، سوات، اپر دیر، کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں حساس گلیشیائی علاقوں میں مسلسل نگرانی، ممکنہ خطرات کا بروقت جائزہ لینے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے پی ڈی ایم اے نے ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر امدادی اداروں کو ہنگامی مشینری، ضروری سامان اور عملہ ہر و قت تیار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں عوام، خصوصاً بالائی علاقوں کے رہائشیوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسمی صورتحال پر نظر رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

  • 8 سے 14 جولائی کے دوران بارشوں کےنئے سلسلے کی پیشگوئی

    8 سے 14 جولائی کے دوران بارشوں کےنئے سلسلے کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کرتے ہوئے آئندہ ایک ہفتے کے دوران بارشوں کی شدت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،پنجاب اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی بارش اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں تک ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ 8 سے 14 جولائی کے دوران بالائی دریائی علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ متوقع ہے 11 سے 13 جولائی کے دوران بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بعض مقامات پر موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    فلڈ فورکاسٹ ڈویژن کے مطابق دریاؤں کی موجودہ صورتحال قابو میں ہے، بڑے دریاؤں میں اس وقت کسی بڑی سیلابی صورتحال کا خدشہ نہیں، جبکہ پانی کے بہاؤ کی صورتحال مستحکم ہےتربیلا اور منگلا ڈیم کی صورتحال معمول پر ہے، جبکہ بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بھی مسلسل مستحکم ہے۔

  • ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان

    ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان

    ملک کے شمالی حصوں میں آج سے فعال موسمی نظام داخل ہونے کا امکان ظاہر کردیا گیا، آزاد کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا اور شمال مشرقی پنجاب میں بارش متوقع ہے۔

    آج سے دریائے سندھ کے بالائی علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے، دریائے جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے بالائی علاقوں میں بھی بارش متوقع ہے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد، پوٹھوہاراور آزاد کشمیر میں موسلادھار بارش متوقع ہے اسی طرح گلگت بلتستان اورشمالی بلوچستان میں بارشوں کی شدت میں اضافہ متوقع ہے تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی آمد میں معمولی اضافے کاامکان ہے ، دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج میں پانی کے بہاؤ میں معمولی اضافہ متوقع ہے۔

    موجودہ صورتحال میں بڑے پیمانے پر دریائی سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں،پہاڑی ندی نالوں اور چھوٹے برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں مقامی سطح پر اضافہ متوقع ہے،حساس بالائی علاقوں اور پہاڑی ندی نالوں میں مقامی سیلاب کا خدشہ ہے،شہری علاقوں میں سیلاب اور نشیبی علاقے زیر آب آنے کا بھی خدشہ ہے ،اسی طرح خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، سندھ، خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں ہونے والی بارشوں سے جہاں گرمی کا زور ٹوٹ گیا، وہیں کئی شہروں میں نشیبی علاقے زیرآب آگئے، ندی نالوں میں طغیانی، بجلی کی فراہمی میں تعطل اور حادثات کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    سندھ کے ضلع تھرپارکر میں مون سون کی پہلی بارش نے موسم خوشگوار بنا دیا ننگرپارکر، اسلام کوٹ، تھرکول، مٹھی، عمرکوٹ اور ڈانو دھاندل سمیت مختلف علاقوں میں بارش سے جل تھل ایک ہوگیا جبکہ خشک سالی سے متاثرہ علاقے میں بارش کے بعد لوگوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔

    ادھر خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں جی ٹی روڈ سمیت مختلف علاقوں کو جانے والی رابطہ سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں نشیبی علاقے زیرآب آگئے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    پشاور میں تیز آندھی اور موسلادھار بارش سے معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ریسکیو ترجمان کے مطابق مختلف مقامات پر دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے بارش سے پشاور کے مضافاتی علاقے فقیر کلے، پخہ غلام، چغلپورہ، شاہ عالم پل اور یوسف آباد زیادہ متاثر ہوئے۔

    اسلام آباد سمیت خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں بھی تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے وفاقی دارالحکومت میں آج رات اور منگل کے روز مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ ہونے والی موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا اور شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں بھی تیز آندھی کے ساتھ بارش ہوئی، جس کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔

    محکمہ موسمیات نے پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالا، لاہور اور فیصل آباد کے نشیبی علاقوں میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • مون سون کا پہلا اسپیل:ملک بھر میں 6 جولائی تک بارشیں متوقع

    مون سون کا پہلا اسپیل:ملک بھر میں 6 جولائی تک بارشیں متوقع

    ملک بھر میں آج سے 6 جولائی کے دوران مون سون بارشوں کا امکان ہے –

    محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان،آزاد کشمیر، شمالی بلوچستان اور بالائی سندھ میں بارش متوقع ہے،اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات اور گجرات سمیت دیگر شہروں میں بھی بارش متوقع ہے،شمال مشرقی پنجاب میں موسلادھار بارش سے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ راجن پور، لیہ اور میانوالی میں 3 سے 5 جولائی کے دوران بارش متوقع ہے ، اسی طرح ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی 3سے 5جولائی کےدوران بارش کاامکان ہےخیبرپختونخوا کے بالائی اور پہاڑی اضلاع میں موسلادھار بارش کا امکان ہے،دیر، سوات، چترال، کوہستان، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد، خیرپور اور شہید بینظیر آباد میں 3 جولائی سے بارش کا امکان ہے جبکہ بلوچستان کے ژوب، شیرانی، بارکھان، سبی، کوہلو، ہرنائی اور ڈیرہ بگٹی میں بارش متوقع ہے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے،استور، سکردو، گلگت، ہنزہ، دیامر اور غذر میں بھی بارش کاامکان ہےمظفرآباد، نیلم ویلی، راولاکوٹ، باغ، بھمبر اور میرپور میں بھی بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب مون سون کے دوران لاہور ائرپورٹ پر فضائی حفاظت کے خصوصی اقدامات نافذ کردئیے گئے،جاری نوٹم میں پرندوں کی بڑھتی سرگرمی کے پیش نظر پائلٹس کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے،5 جولائی سے 15 ستمبر تک روزانہ صبح 5:01 سے 8:00 بجے رن ویز دستیاب نہیں ہوں گے،عارضی آپریشنل اقدامات سے شیڈول کمرشل پروازیں متبادل اوقات میں آپریٹ ہوں گی،ہنگامی لینڈنگ کی سہولت بدستور دستیاب رہے گی۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہےاس سال بارشوں کا باقاعدہ آغاز ملک کے شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر کے علاقوں سے ہونے کی امید ہے، جس کے بعد یکم جولائی سے ملک کے بالائی شمالی حصوں اور پنجاب کے شمال مشرقی علاقوں میں بارشیں ہونے کی توقع ہے۔

    پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 6 جولائی تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور اور فیصل آباد میں اربن فلڈنگ کے خطرے سے خبردار کر دیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، شیخوپورہ اور نارووال سمیت متعدد اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکپتن، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، قصور، نورپور تھل، بھکر، لیہ، میانوالی، بہاولپور، ڈی جی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں اور گردونواح میں بھی بارش متوقع ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ آسمانی بجلی اور گرج چمک کے دوران کھلے مقامات پر جانے سے گریز کریں، گردوغبار اور تیز آندھی کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں، جبکہ شمالی علاقوں کا سفر کرنے والے سیاح احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں شہری پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • ملک میں مون سون کی پہلی بارشیں کب ہوں گی؟

    ملک میں مون سون کی پہلی بارشیں کب ہوں گی؟

    محکمہ موسمیات نے ملک میں رواں سال مون سون کی پہلی بارشوں کے سلسلے کی پیش گوئی کر دی ہے-

    محکمہ موسمیات نے بتایا کہ مون سون کی ٹھنڈی ہوائیں 30 جون کو ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہونا شروع ہو جائیں گی، جس کے بعد یکم جولائی سے لے کر چھ جولائی تک ملک کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسیں گے۔

    محکمہ موسمیات نے الگ الگ صوبوں اور علاقوں کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے خوبصورت علاقوں میں یکم سے چھ جولائی کے دوران کہیں کہیں بہت تیز اور موسلادھار بارش ہونے کا امکان ہے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی یکم سے پانچ جولائی تک بادل جم کر برسیں گے جس سے موسم خوشگوار ہو جائے گا۔

    پنجاب کے بالائی اور وسطی اضلاع میں بھی یکم سے چھ جولائی تک بارش کی قوی امید ہے، جبکہ دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات اور ان کے آس پاس کے علاقوں میں بھی اس دوران تیز بارشیں ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے ملک کے دیگر حصوں کے حوالے سے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں یکم سے پانچ جولائی تک تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ خوب بارش متوقع ہے،اسی طرح شمال مشرقی بلوچستان کے علاقوں میں یکم سے چار جولائی تک بادلوں کے برسنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ سندھ کے بالائی اضلاع میں تین اور چار جولائی کو بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔