Baaghi TV

Tag: مون سون

  • مون سون : ملک کے مختلف علاقوں میں یکم جولائی سے بارشوں کی پیشگوئی

    مون سون : ملک کے مختلف علاقوں میں یکم جولائی سے بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک میں مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کے آغاز کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم جولائی سے شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر سمیت ملک کے شمالی علاقوں میں بارشیں شروع ہو سکتی ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ پاکستان میں مون سون کا باقاعدہ آغاز یکم جولائی سے متوقع ہے، جس کے تحت ملک کے شمال مشرقی علاقوں، پنجاب اور کشمیر میں بارشوں کا امکان ہے، مون سون ہوائیں ابتدائی طور پر شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر کے علاقوں کو متاثر کریں گی، جبکہ یکم جولائی سے پنجاب کے شمالی اور شمال مشرقی حصوں میں بارشیں شروع ہو سکتی ہیں۔

    ترجمان نے بتایا کہ سندھ میں فی الحال مون سون کے آغاز کے امکانات کم ہیں اور 5 جولائی تک صوبے میں نمایاں بارشوں کی توقع نہیں ہے، خلیج بنگال میں بننے والا کم دباؤ کا نظام آئندہ دنوں میں سندھ تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بارشیں ہو سکتی ہیں،رواں مون سون سیزن کے دوران کراچی سمیت سندھ میں معمول سے کم بارشیں ہونے کا امکان ہے ، بھارت میں بھی جون کے دوران معمول سے 43 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کا اثر خطے کے موسمی نظام پر پڑ سکتا ہے۔

  • محکمہ موسمیات نے مون سون بارشوں سے متعلق پیشگوئی کر دی

    محکمہ موسمیات نے مون سون میں بارشوں سے متعلق پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات پاکستان نے مون سون سیزن 2026 کے لیے موسمیاتی پیش گوئی جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارش متوقع ہے جبکہ بعض شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہو سکتی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں معمول سے زیادہ بارشوں کی توقع ہے، جولائی سے ستمبر کے دوران ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ شمالی پنجاب اور مغربی گلگت بلتستان میں گرمی کی شدت نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کے دوران شدید بارشوں کے باعث سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے، ملک بھر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے باعث ہیٹ اسٹریس کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں کم بارشوں کے باعث پانی کی قلت کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، علاوہ ازیں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات کے نتیجے میں سیلابی خطرات میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے،ماہرین نے متعلقہ اداروں کو ممکنہ موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات اور مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

  • بھارتی ریاست اتر پردیش میں طوفان، 90 افراد اور114 مویشی ہلاک

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں طوفان، 90 افراد اور114 مویشی ہلاک

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں تیز آندھی، بارش اور ژالہ باری کے باعث شدید طوفانی صورتحال میں تقریباً 90 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    شمالی ریاست میں مارچ سے جون تک گرم موسم کے دوران طوفان عام ہیں، جس کے بعد مون سون کی بارشیں موسم کو نسبتاً بہتر بنا دیتی ہیں ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریلیف دفتر نے جمعرات کو بتایا بدھ کے روز نامساعد موسمی حالات کے باعث 89 افراد ہلاک ہوئے،ریاست میں طوفان، بارش، ژالہ باری اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 53 افراد زخمی بھی ہوئے، 87 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 114 مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔

    تیز ہواؤں کے باعث درخت اور بل بورڈ جڑ سے اکھڑ گئے، کچھ گاڑیوں پر گر گئے، جبکہ گرد و غبار اور بادلوں نے سڑک کنارے لگے لکڑی کے اسٹالز کا سامان بھی بکھیر دیا ریاستی ریلیف حکام کے مطابق بعض اموات درخت گرنے اور گھروں کی دیواریں گرنے کے باعث ہوئیں۔

    ریاست کے چیف منسٹر، جو وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ متاثرین کی مدد کی جائے اور 24 گھنٹوں کے اندر مالی امداد تقسیم کی جائے۔

  • وزیراعظم کی مون سون سے قبل پیشگی تیاری یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی مون سون سے قبل پیشگی تیاری یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے ملاقات کی-

    وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے ملاقات کی، جس میں رواں برس مون سون بارشوں کے حوالے سے تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، ملاقات میں وزیراعظم کو پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اطلاع دینے والے نظام کی تنصیب، پیشرفت اور کارکردگی سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ مون سون سیزن سے قبل تمام ضروری اقدامات مکمل کیے جائیں اور خطرات سے دوچار علاقوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے، پیشگی اطلاع کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے تاکہ ممکنہ قدرتی آفات سے بروقت نمٹا جا سکے اور انسانی جانوں و املاک کے نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

    واضح رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے 2026 کے مون سون سیزن میں معمول سے 22 سے 26 فیصد زائد بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ملک میں موسم کی شدت بڑھ رہی ہے اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری ناگزیر ہے۔

    ڈی جی این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسم زیادہ شدت اختیار کر رہا ہے، اور آئندہ مون سون سیزن ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشیں لا سکتا ہے،

  • مریم نواز کی مون سون سے قبل  نکاسی آب کے پراجیکٹس کی تکمیل کی ہدایت

    مریم نواز کی مون سون سے قبل نکاسی آب کے پراجیکٹس کی تکمیل کی ہدایت

    مریم نواز نے نکاسی آب کے پراجیکٹس جون سے پہلے مکمل کرنے کا ہدف دیتے ہوئے 15 شہروں میں جاری نکاسی آب کے پراجیکٹس پر 24 گھنٹے کام کرنے کا حکم دے دیا۔

    مون سون سے قبل سیوریج لائن اور بارشی پانی کے نکاس کے پراجیکٹس کی یقینی تکمیل کی ہدایت کی، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، گجرات، اوکاڑہ، جھنگ، ملتان اور سیالکوٹ میں نکاسی آب پراجیکٹس پر تیزی سے کام جاری ہے، جہلم، حافظ آباد، ساہیوال، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور راولپنڈی میں نکاسی آب پراجیکٹس جاری ہے۔

    15 شہروں کے لیے 2265 کلو میٹر طویل سیوریج لائن اور بارش کے پانی کے نکاس کے لیے 189 کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی، فیز ون میں 86 ڈسپوزل اسٹیشن اور 9 انڈر گراؤنڈ اسٹوریج ٹینک بنائے جائیں گے۔

    Water and Sanitation Agency سیوریج اور بارشی پانی کے نکاس کے پراجیکٹ کی تکمیل پر 752 کلو میٹر طویل سڑکیں بھی تعمیر کرے گا، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں 15 شہروں میں واسا کمپلیکس ڈیزائن کی منظوری دی گئی۔

    واسا کمپلیکس میں افسران کے لیے ہوسٹل بھی بنائے جائیں گے، واسا، ڈیش بورڈ اور موبائل ایپ پر جاری پراجیکٹس کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی، واسا مون سون سے قبل بڑے پیمانے پر نالوں کی صفائی کے لیے ڈی سلٹنگ مہم بھی شروع کرے گا۔

  • مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری

    مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری کر دیا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا 11واں اسپیل 16 ستمبر سے شروع ہو گا جو 19 ستمبر تک جاری رہے گا اس دوران دریاؤں کے بالائی علاقوں میں زیادہ بارشوں کا امکان ہے، مون سون بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہےڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیر و تفریح سے گریز کریں۔

    واضح رہے کہ پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 104 سے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے راوی، دریائے چناب اور ستلج کے سیلابی ریلوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی،شدید سیلاب کے باعث پنجاب میں 45 لاکھ 70 ہزار لوگ اور 4700 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے ہیں۔

    ہدف صرف بھارت کے خلاف میچ نہیں بلکہ ایشیا کپ کی ٹرافی جیتنا ہے،صائم ایوب

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق متاثرہ علاقوں سے 25 لاکھ 12 ہزار لوگوں اور 20 لاکھ 19 ہزار سے زائد جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے،جبکہ متاثرہ اضلاع میں 392 ریلیف کیمپس، 493 میڈیکل کیمپس اور 422 ویٹرنری کیمپس بھی قائم کیے ہیں، منگلا ڈیم 93 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے۔ جبکہ بھارت میں دریائے ستلج پر موجود بھاکڑا ڈیم 88 فیصد، پونگ ڈیم 94 فیصد اور تھین ڈیم 89 فیصد تک بھر چکا ہے۔

    گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

  • مون سون کے مزید طوفانی اسپیل، شہری علاقوں میں سیلاب کا خدشہ

    مون سون کے مزید طوفانی اسپیل، شہری علاقوں میں سیلاب کا خدشہ

    سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے شہری علاقوں میں مون سون کے ایک اور طوفانی اسپیل کے باعث شدید سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

    فیصل آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا اور سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، جبکہ جہلم میں بھی شہر کا بڑا حصہ پانی میں ڈوب گیا، جس سے نظامِ زندگی متاثر ہوا۔قصور کے علاقے گنجے کلاں میں ایک نوجوان دریائے ستلج کے سیلابی پانی میں ڈوب گیا، جس کی تلاش کے لیے آپریشن اندھیرے کے باعث روک دیا گیا ہے اور یہ صبح دوبارہ شروع ہوگا۔ متاثرہ نوجوان ویڈیو بناتے ہوئے نشیبی علاقے میں جمع پانی میں ڈوبا تھا۔

    ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق جلالپور پیر والا میں 25 ریسکیو بوٹس آپریشنل ہیں اور مزید 38 کشتیاں روانہ کی گئی ہیں۔ مظفر گڑھ اور علی پور جتوئی کے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔ جلالپور پیر والا میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، رات اور پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود ریسکیو کارروائی جاری ہے۔

    مظفر گڑھ میں عظمت پور زمیندارہ بند ٹوٹنے کے نتیجے میں متعدد بستیاں زیرِ آب آ گئیں اور ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق متاثرین کے لیے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور بند ٹوٹنے سے 7 ہزار سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔بہاولپور میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہے، تحصیل حاصل پور میں متعدد زمیندارہ بند ٹوٹ گئے، جس کے باعث موضع پلہ، چھوہن، نصیر پور، خیرو دیہ، لڈن ریاستی، نور پور اور نورو چکری سمیت متعدد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔

    قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 8 ستمبر کو پاکستان پہنچیں گے

    علی امین گنڈاپور کا پشاور میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان

    کے پی کے،میٹرک امتحانات میں ناقص کارکردگی پر 15 پرنسپل معطل

    غزہ پر اسرائیلی حملے، اسکول اور خیمے نشانہ، 21 فلسطینی شہید

  • مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ 9 ستمبر تک مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بہاولپور، بہاولنگر اور گجرات میں ابھی بارش ہو رہی ہے اور ساتھ ہی پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے پنجاب کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی اور گجرات میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے بھی دورہ کیا،گجرات کی بڑی سڑکیں کلیئر ہیں، اور اگلے 24 گھنٹوں میں گجرات کو کلیئر کر دیا جائے گا گجرات کی کئی سڑکوں پر پانی نکالنے کا عمل جاری ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں آج اتوار کو صبح سویرے گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔ جس کے باعث موسم ٹھنڈا ہو گیا۔ تاہم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

  • 29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے  کی پیشگوئی

    29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے )نے 29اگست سے 9ستمبر بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کردی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرنے کہاکہ 29اگست سے 9ستمبر تک بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگا،ملک میں مون سون بارشوں کا 8واں سلسلہ جاری ہے،پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں،جموں کے اطراف میں 300ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئیں،شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی ہے۔

    ادھربھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر گئی، اور دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے جب کہ کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گرودوارے میں داخل ہوگیا اور علاقے میں 300 لوگ پھنس گئے۔

    بجلی سستی ہونے کا امکان

    رپورٹ کے مطابق گجرات میں دریائے چناب کے کری شریف حفاظتی بند کے اوپر سے پانی گزرنا شروع ہو چکا ہے، سیلابی ریلا بند کو توڑتا ہوا سڑکوں پر آگیا، جہاں ٹریفک معطل اور ملحقہ دیہاتوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں،ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ 2014 کے تباہ کن سیلاب کی یاد دلا رہا ہے، جب تقریباً 50 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے۔

    شکر گڑھ میں سیلاب کے باعث دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں،متاثرہ علاقوں سراخ پور، کری شریف، خلیل پور اور دیگر دیہات میں ضلعی انتظامیہ کی امدادی ٹیمیں تاحال نہ پہنچ سکیں، مقامی افراد نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے،بھمبھر نالے میں طغیانی سے نواحی دیہات دادو برسالہ، گوجر کوٹلہ اور پلاوڑی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جہاں پانی کا کٹاؤ جاری ہے اور دیہاتوں کا فاصلہ محض 15 فٹ تک رہ گیا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی اس وقت ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے،محمد اورنگزیب

    شکرگڑھ کے گاؤں جرمیاں جھنڈا سے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے اسسٹنٹ کمشنر عدنان عاطف اور ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں،شدید بارش کے باعث ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اب تک 294 افراد کو دریائے راوی سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔

    راولپنڈی، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ اور حافظ آباد سے ریسکیو ٹیموں کو نارووال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ گجرات شہر میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں تاحال نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکےدریائے چناب میں ہیڈمرالہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 9 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ خانکی کے مقام پر 4 لاکھ 32 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    احسن اقبال کا کرتارپور کا ہنگامی دورہ

  • مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ،پاکستان موسمیاتی تباہی کے دہانے پر آگیا، جس کے ممکنہ خطرناہ اثرات سے ملک میں سیلاب و خشک سالی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور فنڈنگ کے معاملات پر سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں اجلاس کی صدارت جنید اکبر نے کی جب کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک میں حالیہ صورتحال اور مستقبل کے خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے اور آنے والے سال میں شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگیں گے،چترال شمال و جنوب اور اسکردو جیسے علاقے مستقبل میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں،مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک برقرار رہے گا، پانی کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ستلج کے علاقے سے اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے مختلف متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان بھی بھجوایا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں تباہ شدہ مقامات کی تعمیر نو کی جائے گی۔

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    ان کا کہنا تھا کہ خطرناک علاقوں میں لوگ پانی کے راستوں پر رہ رہے تھے، ملک بھر کے نشیبی علاقوں کو خالی کروا یا جائے گا، ریسکیو نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بہترین کام کیا اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلاحی تنظیموں نے بھی بہترین کام کیہ جون 26 سے اب تک کا تمام ڈیٹا موجود ہے، آنے والا سال بدقسمتی سے زیادہ مشکل ہوگا، ہمیں مل کر گلیشئرزکا تحفظ کرنا ہوگا، دنیا کے دوسرے بڑے گلیشئر ہمارے ملک میں ہیں۔

    اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے سوال کیا کہ کیا این ڈی ایم اے ارلی وارننگ دے گا؟ کمراٹ میں جھیل بنی اور اس سے سارے علاقے کی خوبصورتی برباد ہوگئی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ محکمہ موسمیات چند ماہ کا بتاتا ہے، ہم نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں،ملک میں 7500 گلیشئرز ہیں، شمالی علاقوں میں زیادہ پگھل رہے ہیں،گلیشئر کے مکمل پگھلنے کے بعد خشک سالی کے امکانات بڑھ جائیں گے، خشک سالی سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی اور پانی کی کمی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    پی اے سی اجلاس میں جنید اکبر نے کہا کہ پاکستان کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے،انہوں نے شکوہ کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کی سزا بھگت رہے ہیں مگر بدلے میں ہمیں امداد نہیں بلکہ صرف قرضے مل رہے ہیں۔

    اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد دنیا نے پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے تھے جن میں 8.9 ارب کثیرالجہتی اداروں اور 1.4 ارب دو طرفہ وعدے شامل تھے، تاہم عملی طور پر زیادہ تر رقم قرضوں کی صورت میں دی گئی، جبکہ صرف 21 لاکھ ڈالر کی گرانٹ ملی، سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر کا تیل ادھار فراہم کیا اور مجموعی طور پر 93 کروڑ ڈالر کی عارضی فنڈنگ موصول ہوئی۔

    اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات،فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ

    سیکرٹری اقتصادی امور کے مطابق سیلاب کے بعد 16 ارب ڈالر کی ضروریات کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس میں سے 8 ارب ڈالر خود اور 8 ارب عالمی اداروں سے لینے کا منصوبہ بنایا گیا، تاہم بریفنگ کے مطابق ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کی بڑی کمٹمنٹس بھی زیادہ تر قرض کی صورت میں تھیں۔