Baaghi TV

Tag: مہنگائی

  • غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ اضافے کا اعلان کیا ہوا کہ میرے لئے تو کمبختی آ گئی۔وہ یوں کہ رات گئے جونہی حکومت نے پندرہ دنوں بعد پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کیا تو "ماما بلو” جسے مجھ سے ملے ہوۓ کافی عرصہ ہو گیا تھا وہ آن دھمکا اور لگا ہاتھ اٹھا اٹھا کر صلواتیں سنانے-! یہ ہے تمہاری حکومت جس نے اب پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے۔کیسی ہے یہ حکومت ؟ جو دن کے اوقات میں قیمتیں بڑھانے کی سمری کو مسترد کرتی ہے اور جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔اور لوگ سونے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ایسے میں تم قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیتے ہو تاکہ سوۓ ہوۓ لوگ صبح بیدار ہوں تو ان کو یہ روح فرسا خبر ملے اور ان کے آنے والے پورے دن کا ستیاناس کر دے۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں-؟

    یہی کہ لوگ اب مر جائیں کیونکہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہو چکی ہے کہ اب یہی راستہ ان کے پاس رہ گیا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں۔نہ صرف خود مر جائیں بلکہ اپنی "جیا جنت "کو بھی ساتھ لیکر ملک عدم کو سدھار جائیں۔

    آپ نے حکومت میں آتے وقت دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے تھے۔اب وہ سب دعوے کیا ہوۓ۔؟عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ۔لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ۔عوام کو سہولیات دینے کا دعویٰ۔مہنگائی کو ختم کرنے کا دعویٰ- عوام میں ہائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کا دعویٰ۔ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کا دعویٰ۔صحت اور تعلیم کی سہولیات کو عام کرنے کا دعویٰ۔

    معاشرے میں موجود نا انصافی اور استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ۔یہ سب دعوے اب کیا ہوۓ۔لوگ تو اب مایوس ہونے لگے ہیں آپ سے بھی اور وہ بھی اتنی جلدی-! ۔لیکن جب کوئی آپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اس بحران کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیتے ہو۔او بھائی-! یہ سابقہ حکومت کا گند تھا تو آپ نے کیوں اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔؟ کیوں ان کی برائیوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔؟ چلنے دیتے ان کو اور کچھ عرصہ اپنے ان کرتوتوں کیساتھ۔اگر ملک کی بھلائی اور عوام کی اشک سوئی ہی آپ کا مقصد تھا تو اب وہ مقصد کہاں گیا۔؟

    معلوم ہوا تمہارے پاس کوئی پالیسی کوئی پلان اور کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تم بھی بغیر کسی تیاری کے آۓ ہو ان سابقہ حکمرانوں کی طرح جنہیں حکومت کرنے کا تو کوئی تجربہ ہی نہ تھا سواۓ ملک کو لوٹنے کے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم صرف نے سابقہ حکمرانوں کے بغض میں اس بھاری پتھر کو چوما ہے۔

    "ماما بلو” اپنی لمبی چوڑی اس تقریر کے بعد جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں نے اسے کہا کہ تمہاری یہ باتیں بلکل سچ ہیں۔ نئی آنے والی موجودہ اتحادی حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ  دعویٰ کیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح  یہ ہو گی کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جاۓ اور  اس کیساتھ   ساتھ افراط زر میں بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاۓ گا مگرحالیہ دو مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں جو  ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس کیساتھ ساتھ  بجلی اور گیس کے نرخوں میں جو  اضافہ ہوا ہے اس نے  تو عوام کی کمر ہی توڑ کر رکھ  دی ہے بلکہ اس کی چیخیں ہی نکال دیں ہیں-

    اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت بظاہر صرف دعووں پر جی رہی ہے  اور وعدوں پر انحصارکر رہی ہے اور عوام کو سہولت پہنچانے اور مہنگائی ختم کرنے کے یہ دعوے اب دھوکہ سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ اب اس طرف کسی کی بھی کوئی نظر یا توجہ نہیں ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جنہیں حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے وہ بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ حکومت اتحادیوں کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور انہیں خوش کر کے اور ان کے مفادات پورے کر کے ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

    اس اتحادی حکومت نے آتے ہی قرضہ لینے کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبے پر صرف پندرہ دنوں کے اندر اندر تیل کی قیمتوں میں چوراسی روپے کا خطیر اور ہوشربا اضافہ کیا تھا جس سے ہر وہ شخص بلبلاء کے رہ گیا جو کما کے کھاتا ہے۔جو مزدور ہے جو دیہاڑی دار ہے۔ جو ٹھیلے والا اور سبزی فروش ہے اور جو پینشنر ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں بلکہ اب وہ وقت آ چکا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پھٹنے کو ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئے روز بجلی گیس پٹرول سمیت اشیائے خوردونوش میں اضافہ کرکے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری یوٹیلیٹی سٹورز  پر  کئی اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آبادی کے تناسب سے انہتائی کم تعداد پر موجود ان سٹوروں پر ساری اشیائے خردو نوش دستیاب نہیں ہیں اور شومئی قسمت ان یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی لوگ مطمن نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان کی انتظامیہ کے بارے میں یہ  شکائیت کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ بعض اشیاء جیسے چینی اور گھی باہر ہی باہر اپنے تعلق داروں یا دوکانداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور عوام اس سے محروم ہی رہتی ہے۔

    اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے آٹے گھی اور چینی کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔وہ سارا سارا دن ذلیل و خوار ہو کر شام کو بے نیل و مرام اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

    اس بد نظمی ہی کی وجہ سے آج ہمارا ہر شعبہ زندگی انحطاط کا شکار ہے۔ہر جگہ کوئی نہ کوئی مافیا قبضہ جماۓ بیٹھا ہے۔بلکل اسی طرح سیاست کا شعبہ بھی بد ترین فرعونیت کا شکار ہے۔ ہر ایک خود کو ہی جمہوریت کا ٹھیکیدار اور چیمپین سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔موجودہ سیاسی بحران اس کی بہترین مثال ہے۔ آئین کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔

    بڑے بڑے آئینی عہدیدار ہی آئینی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔اسی لئے ہماری عدلیہ پہ بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔عام لوگوں کے سالہا سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور وہ انصاف کیلئے ترستے اور جیلوں میں بند رہتے ہیں دوسری طرف پوری دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جاتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بلکل برعکس ہے۔یہاں غریبوں سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔غریبوں سے بجلی کے بل اس پہ انواع و اقسام کے اضافی ٹیکس لگا کر لئے جاتے ہیں اور امیروں اور واپڈا اہلکاروں کو بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے۔موجودہ ماہ کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ہزاروں روپے ڈال دئے گئے ہیں ۔

    طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پہ کسی قسم کا کوئی تاسف یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو واپڈا نے غریب عوام پہ ڈھا رکھا ہے ۔ غریبوں کیلئے تیل مہنگا کیا جاتا ہے اور اہل ثروت اور اہل اقتدار کیلئے اس کے مفت کوٹے مقرر ہیں۔حکومت اگر کسی چیز پہ سبسڈی دیتی ہے تو اس سبسڈی کا بہت بڑا حصہ یہ بڑی بڑی توندوں اور پیٹوں والے کھا جاتے ہیں اور غریب بیچارا بھوکا رہ جاتا ہے۔

    ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس نے ملک کو استحکام نصیب نہیں ہونے دیا۔جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ فرعون بن بیٹھتا ہے اور دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے پروگرام بناۓ جاتے ہیں اور انہیں برسر اقتدار آنے کی صورت میں سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں جب نوے کی دہائی میں دو سیاسی پارٹیوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے وہ وہ جتن کئے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں اور یہی کچھ بعد میں آنے والوں نے بھی کیا اور کسی کو کام نہ کرنے دیا بلکہ احتجاج دھرنے اور لانگ مارچ کر کے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر حکومتیں بر طرف ہوئیں اور ہر برطرفی کے پیچھے جمہوریت کے کسی نہ کسی دعویدار اور ٹھیکیدار کا ہاتھ ہی محسوس کیا گیا۔

    سوال یہ ہے اب شکائیت کس سے کریں کہ کب تک ایسا ہوتا رہیگا اور کب تک عوام مہنگائی نا انصافی اور ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور کب تک امیر اور غریب کے درمیان موجود یہ تقسیم باقی رہے گی۔؟ دنیا داروں نے تو جینے کا حق ہی چھین لیا۔لہذا اب شکائیت صرف اللہ سے ہے جو قادر مطلق ہے اور پالنے والا ہے سب جہانوں کا۔ اسلئے خدارا سوچو۔سوچو -! اس ملک کی بہتری کیلئے اس کی بقاء اور ترقی کیلئے اس کے استحکام اور حفاظت کیلئے کیونکہ یہ ملک ہی ہے جس کی بناء پر دنیا میں ہماری پہچان ہے۔

  • مہنگائی بنگلہ دیش پہنچ گئی:مہنگائی کےخلاف عوام احتجاج کرتےہوئےسڑکوں پرنکل آئی،ایک ہلاک 24 زخمی

    مہنگائی بنگلہ دیش پہنچ گئی:مہنگائی کےخلاف عوام احتجاج کرتےہوئےسڑکوں پرنکل آئی،ایک ہلاک 24 زخمی

    ڈھاکہ :بنگلادیش میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے شروع ہوا۔ گزشتہ شب بنگلہ دیش کے دارالحکومت سے 15 کیلو میٹر دور واقع شہر نارایانگانج میں احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے۔

     

     

    بنگلادیش کی تاریخ میں اس سے قبل اتنی مہنگائی نہیں ہوئی تھی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ بلند ترین اضافہ ہے جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہزاروں مظاہرین نے فیول اسٹیشنت کا گھیراؤ کرلیا۔

     

    مظاہرین نے اس اضافے کو بدترین مہنگائی لانے والی سونامی قرار دیتے ہوئے حکومت سے قیمتیں فی الفور کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔بنگلادیش نے حال ہی میں 4 ارب ڈالر کے قرض کے لیے آئی ایم ایف میں درخواست جمع کرائی ہے۔

     

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

     

    بنگلادیش کے وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ معیشت مستحکم ہے تاہم یوکرین روس جنگ کے بعد سے پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور ڈالر کی اونچی پرواز سے ادائیگیوں کے توازن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

  • اگر میں وزیر خزانہ ہوتا تو اتنی مہنگائی نہ کرتا، اسحاق ڈار

    اگر میں وزیر خزانہ ہوتا تو اتنی مہنگائی نہ کرتا، اسحاق ڈار

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وہ وزیر خزانہ ہوتے تو روپے کی قدر نہ گراتے، اتنی مہنگائی نہ کرتے اور روپے کو مینیج کرتے۔

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آپس کی بات میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں ایڈونچر نہ ہوتے تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بھارت کے ساتھ تجارت کے سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے، اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اجلاس میں کیا جائے۔

    دوسری طرف وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بات زیر غور ہے، اس وقت ٹماٹر، پیاز لینے چاہئیں، وزیراعظم سے بھی بھارت سے تجارت کھولنے کے حوالے سے بات کروں گا، اس حوالے سے فیصلے میں دوسے چاردن لگیں گے۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) جانے سے کم ازکم دیوالیہ نہیں ہوئے، سیلاب کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں،عمران خان کی حکومت نے تاریخی قرض لیے،عمران خان نے اپنے دوستوں کوایمنسٹی دی۔ہم نے عام آدمی کوڈیفالٹ سے بچایا ہے،اب ہم مہنگائی کوکم کریں گے، جومشکل فیصلے تھے وہ شہبازشریف نے کرلیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگرتحریک انصاف نے روس سے کوئی تیل لینے کا معاہدہ کیا توہمیں دکھا دیں، اس حوالے سے من گھڑت باتیں کی جارہی ہیں۔ شوکت ترین کی ٹیپ سامنے آنے پر ان کے جھوٹ سامنے آگئے ہیں، ان لوگوں نے ملک کو تماشا بنا دیا تھا، حیرت ہوئی ٹیپ سامنے آنے کے بعد بھی تیمورجھگڑا،اسد عمر پریس کانفرنس کر رہے ہیں

  • مہنگی بجلی مگرپھربھی میسرنہیں‌:کراچی والے بھی سڑکوں پر نکل آئے

    مہنگی بجلی مگرپھربھی میسرنہیں‌:کراچی والے بھی سڑکوں پر نکل آئے

    کراچی:شہرقائد کے کئی علاقوں میں رہائشی بجلی کی طویل بندش اور بجلی کے مہنگے بلوں کے خلاف جمعرات کو سڑکوں پر نکل آئے اور کے الیکٹرک کے دفاتر کے باہر احتجاج کیا۔

    کراچی کے علاقے کورنگی میں آج مکینوں نے کے الیکٹرک کے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔ عینی شاہدین کے مطابق، خواتین، مردوں اور بچوں پر مشتمل لوگوں کے ایک گروپ نے دارالعلوم کے قریب کے کے دفتر کے باہر احتجاج کیا، کورنگی انڈسٹریل ایریا کی مرکزی سڑک بلاک کر دی اور کمپنی کے خلاف نعرے لگائے۔ایک بیان میں، کورنگی پولیس کے ترجمان نے کہا کہ مظاہرین کے ای بلڈنگ کے باہر مہنگے بلوں کی شکایات پر جمع تھے۔

    مظاہرے کے دوران مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں سنگر چورنگی کے قریب دونوں ٹریکس پر ٹریفک میں خلل پڑا۔ مظاہرین نے پاور یوٹیلیٹی کے پرائیویٹ گارڈز کو بھی زیر کیا اور بعد میں زبردستی اس کے دفتر میں گھس گئے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے روکنے کے لیے لانڈھی ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور عوامی کالونی اسٹیشن ہاؤس آفیسر اپنی نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور ہجوم کو منتشر کیا۔اس کے علاوہ شہر کے شاہ لطیف ٹاؤن کے رہائشیوں نے جوگی موڑ کے قریب نیشنل ہائی وے کو بجلی کی بندش کے خلاف احتجاجاً بلاک کر دیا۔

    ملیر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عرفان بہادر نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ رہائشی اپنے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جس میں گزشتہ ماہ اضافہ کیا گیا تھا مظاہرین نے پاور یوٹیلیٹی حکام کے سامنے ایک میمورنڈم پیش کیا اور بعد میں پرامن طور پر منتشر ہو گئے، افسر نے مزید کہا کہ شاہراہ پر کچھ دیر کے لیے ٹریفک معطل رہی۔اسی طرح ناظم آباد کے مکینوں نے بھی کے الیکٹرک آفس کے باہر احتجاج کیا۔

  • برطانیہ میں مہنگائی کی بلند ترین شرح،تنخواہوں میں اضافے کیلئے پورٹ ملازمین نے ہڑتال کردی

    برطانیہ میں مہنگائی کی بلند ترین شرح،تنخواہوں میں اضافے کیلئے پورٹ ملازمین نے ہڑتال کردی

    برطانیہ میں دہائیوں بعد مہنگائی کی بلند ترین شرح کے باعث شہریوں کے لیے گزر اوقات کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کےمطابق برطانیہ کی سب سےبڑی کنٹینر پورٹ کمپنی فیلکس اسٹو کے 2 ہزار یونین ملازمین نے ہڑتال کرتے ہوئے کام چھوڑ دیا، مزدور تنخواہوں کےحوالےسے 8 روزہ ہڑتال پرچلےگئےاحتجاج کرنے والے ملازمین میں کرین ڈرائیور، مشین آپریٹرز سمیت دیگر مزدور شامل ہیں، 1989 کے بعد فیلکس اسٹو میں کی جانے والی یہ پہلی ہڑتال ہے۔

    پوسٹل ورکرز رواں ماہ کے آخر میں 4 روزہ ہڑتال پر جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ٹیلی کام شعبے سے تعلق رکھنے والی بڑی کمپنی بی ٹی کو دہائیوں میں پہلی مرتبہ ہڑتال کے باعث بندش کا سامنا کرنا پڑے گا –

    جاپان حکومت کی نوجوان نسل سے زیادہ سے زیادہ شراب پینے کی اپیل

    ایمیزون کے گوداموں میں کام کرنے والا عملہ، مجرمانہ کیسز لڑنے والے وکلا اور ڈسٹ بینوں سے کوڑا کرکٹ جمع کرنے والے ملازمین بھی ہڑتال پر جانے والے دیگر افراد میں شامل ہیں۔

    تنخواہوں میں اضافے کے یہ مطالبات مہنگائی کی بلند شرح کی وجہ سے ہیں جو گزشتہ ماہ 10 فیصد سے بڑھنے کے بعد 40 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جبکہ خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث لاکھوں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    ہڑتال پر جانے والی کمپنی فیلکس اسٹو کے عملے کی نمائندگی کرنے والی یونائیٹ یونین کا کہنا ہے کہ کام رکنے سے بندرگاہ بری طرح سے متاثر ہوگی جب کہ کمپنی سالانہ 2 ہزار بحری جہازوں سے تقریباً 40 لاکھ کنٹینرز ہینڈل کرتی ہے۔

    یونائیٹ یونین نے مہنگائی میں اضافے کی شرح سے اپنے ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے اور دلیل دی ہے کہ پورٹ سے متعلق یہ شعبہ بہت منافع بخش کاروبار ہے۔

    برطانیہ:بحرانوں کی زد میں آگیا:کہیں توانائی بحران تو کہیں مہنگائی مارگئی:ٹرانسپورٹ…

    رہنما لز ٹرس نے برطانیہ میں کساد بازاری کے امکان کو مسترد کر دیا جب کہ ان کے متوقع وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    رشی سنک کو شکست دینے اور برطانوی وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں سب سے آگے لز ٹرس نے ایک انٹرویو میں عزم ظاہر کیا کہ اگر وہ اقتدار آئیں تو چھوٹے کاروبار اور خود انحصاری پرمبنی روزگار کے انقلاب کی قیادت کریں گی بہت زیادہ باتیں ہو رہی ہیں کہ کساد بازاری ہونے والی ہے، میں نہیں مانتی کہ ایسا ہونا ضروی ہے، ہم ملک میں مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں برطانیہ کو اگلا گوگل یا فیس بک بنانے کے لیے معاشی حالات پیدا کرنے چاہییں، ہمارا ادارہ اور خواہش اس طرح کے مواقع اور منصوبے شروع کرنے کے بارے میں ہے۔

    یورپ میں توانائی کا بحران انتہا کو پہنچ گیا،ایندھن خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں…

  • جماعت اسلامی نے مہنگی بجلی کے خلاف تحریک شروع کر دی

    جماعت اسلامی نے مہنگی بجلی کے خلاف تحریک شروع کر دی

    پشاور:جماعت اسلامی نے مہنگی بجلی کے خلاف تحریک شروع کر دی،اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی ،بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردی ہے جس کا آغازکل نماز جمعہ سے کیا گیا ، امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مہنگی بجلی کے خلاف احتجاجی تحریک کے آغاز پر پشاور قصہ خوانی بازار میں ہونے والے مرکزی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت آئے روز غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتی ہے۔ 34 یونٹ جلانے والے کو 7000 کا بل بھیجا جاتا ہے۔ پی ڈی ایم حکومت کے اقدامات سے عوام کا جینا مرنا محال ہو گیا، ناانصافی مزید برداشت نہیں کی جا سکتی، عوام اسلام آباد جانے کے لیے تیار ہو جائیں، سوات کے حالات ابتر، ہاتھوں کی ویڈیو نوجوان بندھے ہوئے ہیں، وزیراعظم، وزیراعلیٰ کا جواب۔ یا استعفیٰ دے دیں۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی اپیل پر جمعہ کو ملک بھر میں مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں دانستہ اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی، امیر جماعت اسلامی ضلع پشاور عتیق الرحمان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے میں جماعت اسلامی 15 اگست کو اسلام آباد میں مظاہرہ کرے گی اور 17 اگست کو لاہور میں لیسکو ہیڈ کوارٹر کا گھیراؤ کرے گی۔

    سراج الحق نے کہا کہ خیبرپختونخوا 20 ارب یونٹ سستی بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ 12 ارب یونٹس کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا سے بجلی کی پیداوار کی فی یونٹ قیمت 87 پیسے ہے جب کہ عوام کو 20 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل بھیجے جاتے ہیں۔

    سراج الحق نے کہا کہ اس وقت مالاکنڈ دوئیاں میں شدید خوف وہراس ہے۔ صوبے بھر میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے۔ سوات میں جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا گھر ہے، میں صورتحال ابتر ہے۔ ڈی ایس پی اور فوجی جوانوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے ویڈیو سامنے آئے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ قوم کو جواب دیں یا استعفیٰ دیں۔

  • ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

    ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر دالوں کی قیمت میں 48 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا گیا۔ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف دالوں کی قیمت میں اڑتالیس روپے کلو تک اضافہ کردیا گیا ہے، اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری ہوگا۔

    پاکستان میں مہنگائی12فیصد سے بڑھ کر21فیصد تک پہنچ گئی:ایشین ترقیاتی بینک

    نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف دالیں 48 روپے فی کلو تک مہنگی کی گئی ہیں، کالے چنے کی فی کلو قیمت میں 48 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد کالے چنے کی قیمت 172 روپے سے بڑھا کر 220 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ دال مسور 40 روپے اضافے بعد 310 روپے فی کلو ہوگئی ہے، جب کہ لال لوبیا 35 روپے مہنگا کرکے نئی قیمت 270 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔

    مہنگائی کی شرح 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر اب ثابت مسور بھی 35 روپے مہنگی میسر ہوگی، اور اس کی نئی قیمت 310 روپے فی کلو ہوگئی ہے، دال مونگ 30 روپے اضافے بعد 200 روپے فی کلو میں ملے گی، جب کہ دال چنا کی قیمت 190 روپے سے بڑھا کر 220 روپے کر دی گئی ہے۔

    اس سے پہلےادویات کی قیمتوں میں 300فیصد تک اضافہ ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں جان نکالنے لگیں۔میڈیسن مارکیٹ میں ادویات کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات مہنگی۔انفلوویک ویکسین کی قیمت 600سے بڑھا کر 1989کردی گئی۔

    شہر میں محکمہ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی شہر میں ادویات کی قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔میڈیسن مارکیٹ میں جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں اب آسمان سے باتیں کرنے لگی ۔

    حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل گئے،سراج الحق

    شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات منگی ،شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات منگی ہونے کیساتھ عام اسٹورز پر غائب بھی ہیں۔ جس کی وجہ سے لواحقین پریشان ہیں۔انفلوویک ویکسین کی قیمت 600سے بڑھا کر 1989کردی گئی۔

  • بجلی کے بعد ایل پی جی بھی عوام کی پہنچ سے دور

    بجلی کے بعد ایل پی جی بھی عوام کی پہنچ سے دور

    قصور
    مہنگائی کا نیا طوفان،بجلی کے بعد اب ایل پی جی ( لیکوئیڈ پیٹرولیم گیس) بھی مہنگی،عوام سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ گیا ہے جس کے باعث لوگ سخت پریشان ہو گئے ہیں
    کچھ بعید نہیں کہ گورنمنٹ کی نااہلی کے باعث لوگ بھوکے مرنے کیساتھ خودکشیاں کرنے پہ بھی مجبور ہو جائیں
    بار بار بجلی مہنگی کرنے کے بعد اب بہت زیادہ ضروری اور گھر کی بنیادی ضرورت ایل پی جی کو بھی مہنگا کر دیا گیا ہے
    ایل پی جی کی قیمت 230 روپیہ فی کلو سے بڑھا کر اچانک 280 روپیہ فی کلو کر دی گئی ہے جس سے لوگ چیخنے پر مجبور ہو گئے ہیں
    شہریوں نے گورنمنٹ سے رحم کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ خداراہ غربت میں ہی سہی میں جینے تو دیجئے خودکشیوں پر مجبور نا کیجئے

  • حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل گئے،سراج الحق

    حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل گئے،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل کر رہ گئے۔ قوم کو لڑانے اور تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن حکمران جماعتیں حالات کی نزاکت کو جانتے ہوئے بھی خطرناک کھیل کھیل رہی ہیں۔ حکومت جان لے کہ قومی اداروں کو اونے پونے داموں فروخت کرنے کے ایجنڈے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، اقدامات اور قانون میں تبدیلی کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ ملکی اثاثے بیچنے کے شوق میں مبتلا حکمران آف شور کمپنیوں اور بیرون ملک بنکوں سے ذاتی اثاثے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں۔

    فارن فنڈنگ کیس:اسد قیصر، قاسم سوری و دیگر کیخلاف آپریشن کلین اپ شروع ہونیکا امکان

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے مکینوں کا سب کچھ سیلاب کی نذر ہو گیا، حکمران فوٹوشوٹ کے علاوہ کچھ کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ ایک طرف گھنٹوں لوڈشیڈنگ جاری اور دوسری جانب بجلی کا بل دیکھ کر لوگوں کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ کرپشن اور سودی معیشت نے ہر شعبہ بربادکر دیا۔ موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے مل کر پاکستان کو اس نہج پر پہنچایا۔ ایک ایجنڈے کے تحت عوام کو مکمل طور پر آئی ایم ایف کی غلامی میں دھکیل دیا گیا۔ استعماری طاقتیں پاکستان کے فیصلے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں نافذ کرتی ہیں۔ قوم اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے، مافیاز سے نجات کے لیے جدوجہد کرنا ہر محب وطن شہری پر لازم ہو گیا۔

    سراج الحق نے کہا کہ مارشل لائی حکومتیں اور نام نہاد جمہوری ادوار ڈلیور کرنے میں ناکام رہے، اب ملک کو اسلامی نظام چاہیے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کی اہلیت رکھتی ہے، قوم ہمارا ساتھ دے۔

     

    پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ پارٹی ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کرنا ہے،رانا ثناء اللہ

     

    بلوچستان کے سیلابی علاقوں کے تین روزہ دورہ کے بعد منصورہ میں مرکزی نظم کے اجلاس میں امیر جماعت اور دیگر قائدین نے جماعت اسلامی بلوچستان کو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بہترین کارکردگی دکھانے پر مبارک باد دی اور اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں جماعت اسلامی بے پناہ پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ امیر جماعت اور مرکزی قائدین نے لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے فوجی افسران اور جوانوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور حادثہ کو قومی سانحہ قرار دیا۔ اجلاس میں سیلاب میں جاں بحق افراد کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ایمرجنسی اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔

    امیر جماعت نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے تاحال اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے لٹے پٹے بے حال افراد کو ہمیشہ کی طرح تنہا چھوڑا ہوا ہے۔ انھوں نے جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کو امدادی سرگرمیوں میں بھرپور تیزی لانے کی ہدایات کے ساتھ ساتھ قوم سے عطیات اور امداد کی فراہمی کی اپیل بھی کی۔

    سراج الحق نے کہا کہ ملک کی معیشت مکمل طور پر ڈوب چکی ہے۔ سودی قرضوں پر انحصار، بیڈ گورننس اور کرپشن کی وجہ سے معیشت کا سقوط ہوا۔ اگر پی ٹی آئی نے پونے چار برسوں میں ہر شعبے کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت بھی سابقہ پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے۔ جن لوگوں نے مہنگائی کے خلاف جلسے جلسوس اور ریلیاں نکالیں انھوں نے صرف تین ماہ میں ہی بنیادی ضروریات کی اشیا کی قیمتوں میں سو گنا سے زیادہ اضافہ کردیا۔

    آج آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں،ادویات، پٹرول، بجلی اور گیس سفید پوش آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ ملک میں لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار، ذرائع آمدن ختم ہونے کی وجہ سے گھر گھر غربت ناچ رہی ہے۔ لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ فاقوں پر مجبور ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خودکشیاں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ملک کا مجموعی نظام ایڈہاک کی بنیادوں پر چل رہا ہے۔ انھوں نے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ عوام کا مزید امتحان نہ لیں، ایسا نہ ہو کہ پاکستان میں بھی سری لنکا جیسے حالات پیدا ہو جائیں۔

    امیر جماعت نے کہا کہ بہتری کا واحد راستہ اسلامی نظام ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست اور جدوجہد کا مقصد ملک کو قرآن و سنت کا نظام دینا ہے۔ ہم سودی معیشت کے خلاف جنگ کو حتمی مرحلے تک لے کر جائیں گے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان اپنی جدوجہد میں مزید تیزی لائیں اور قرآن و سنت کا پیغام گھر گھر پہنچائیں تاکہ ملک میں پرامن اسلامی انقلاب کی راہ ہموار ہو۔

  • ملک بھرمیں پبلک ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال،عوام کو مشکلات کا سامنا

    ملک بھرمیں پبلک ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال،عوام کو مشکلات کا سامنا

    لاہور:ٹرانسپورٹرز نے حکومت کی جانب سے نو نکاتی مطالبات تسلیم نہ کرنے پر ہڑتال کردی، پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے مسافروں کوشدید پریشانی کاسامنا ہے۔مطالبات پورے نہ ہوئے ٹرانسپورٹرزکا کہنا ہےکہ ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی،

    آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ ایکشن کم ٹی کی کال پر ٹرانسپورٹرزکی لاہور سمیت ملک بھر میں ہڑتال جاری ہے،چِیئرمین کمیٹی عصمت اللہ نیازی کا کہنا ہے 10 روزپہلے مطالبات پیش کئے مگر تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

    ٹرانسپوٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک سیٹ پر ٹیکس تین سو روپے سے بڑھا کر چار ہزار اور آٹھ ہزار روپے ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ ٹرانسپورٹرکا کہنا ہے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہڑتال کے ساتھ ساتھ سڑکیں بھی بلاک کردیں گے۔

    شہر کے مختلف بس اڈوں پر ٹرانسپورٹرز نے گاڑیاں بند کر دیں ، مسافروں کا کہنا ہے ہڑتال کے باعث شدیدپریشانی کاسامنا ہے، ویگنوں نے بھی کرائے ڈبل کر دیے ہیں۔

    ایسوسی ایشن نے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو انڈسٹری کا درجہ دیا جائے جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کو آسان بنایا جائے۔ ٹریفک وارڈنز اور موٹروے پولیس کو ناجائز چالانوں سے روکا جائے۔

    دوسری طرف تاجروں نے بجلی کے بلوں میں ٹیکس عائد کیے جانے کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا تاجر سیلز ٹیکس لگے بجلی کے بل جمع نہیں کرائے گا۔

    مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چودھری و دیگر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 سے 20 ہزار روپے تک بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکس بند دکانوں اور زیرو میٹر ریڈنگ کی تفریق کیے بغیر کمرشل بلوں میں شامل کیا گیا جب کہ تاجر پہلے ہی ایڈوانس ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور دیگر ٹیکس ادا کررہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بجلی کی قیمتوں کو کم کیا جانا چاہیے تھا۔ جیسے ہی بجلی کی قیمت بڑھتی ہے تو ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا چھوٹا تاجر بل ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ باربار حکومت سے گزارش کی کہ بجلی بلوں پر لگائے جانے والے اس ٹیکس کو ختم کیا جائے، مگر وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان کی نمائندہ تاجر تنظیم کے ساتھ اس ٹیکس کو لگاتے ہوئےکوئی بات نہیں کی۔