Baaghi TV

Tag: مہنگائی

  • مہنگائی کی شرح 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    مہنگائی کی شرح 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    جولائی میں مہنگائی کی شرح 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، ایک ماہ میں سبزیوں کی قیمتوں میں 25 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2022 میں مہنگائی کی شرح 14 سال کی بلند ترین سطح 24 اعشاریہ 9 فیصد رہی جبکہ جولائی 2021 میں مہنگائی کی شرح 8 اعشاریہ 4 فیصد تھی۔

    اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں 3 روپے فی کلوگرام کمی کردی

    ایک ماہ میں سبزیوں کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا، آلو 11 فیصد مہنگے اور پیاز کی قیمت میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جولائی میں دالوں کی قیمتیں 14 فیصد تک بڑھ گئیں، ماش اور مسور کی دال 10 فیصد جبکہ موم کی دال 3 فیصد مہنگی ہوئی۔ادارہ شماریات کے مطابق کھانے کے تیل کی قیمت میں 8 فیصد اور چائے کی پتی کی قیمت میں 9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس عرصے میں انڈے 8 فِصد، آٹا 6 فیصد اور دودھ 4 فیصد مہنگا ہوا۔

     

    تاجروں کا بجلی بلوں میں سیلز ٹیکس کیخلاف ملک گیر ہڑتال کرنے کا اعلان

     

    ایک ماہ میں بجلی 39 فیصد، تعمیراتی خام مال کی قیمت میں 3 فیصد، برقی آلات کی قیمت میں ڈیڑھ فیصد جبکہ پلاسٹک مصںوعات بھی ڈیڑھ فیصد تک مہنگی ہوئی۔

    دوسری جانب اوگرا نے اگست کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان کر دیا۔اوگرا کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 2 روپے 51 پیسے فی کلو گرام کمی کی گئی ہے۔
    اس کمی کے بعد ایل پی جی کی ایک کلو گرام کی نئی قیمت 217 روپے 92 پیسے ہو گئی۔قیمبت میں کمی کے نتیجے میں ایل پی جی کے 11 اعشاریہ 8 کلو کے گھریلو سلنڈر پر 29 روپے 56 پیسے کم ہو گئے۔اوگرا کے مطابق گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2 ہزار 571 روپے 41 پیسے مقرر کی گئی ہے۔جولائی میں ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 2 ہزار 600 روپے 97 پیسے کا تھا۔اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی ان نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے ہی ہو گا۔

  • وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا

    وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا

    وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا

    وفاقی وزیر خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ساڑھے تین روپے اضافہ کیا گیا ہے،پوری دنیا میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اگلےچار ماہ میں مجموعی طور پر ساڑھے سات روپے فی یونٹ بجلی مہنگی ہوگی بجلی کی فی یونٹ قیمت میں26 جولائی ساڑھے تین روپے اضافہ کیا گیا ہے،اگست میں پھر ساڑھے تین روپے اور اکتوبر میں 90پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی ہوگی وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں ساڑھے 7روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دیدی گردشی قرضے میں ہم نے کمی کر دی ہے،لائن لاسسز میں کمی کا آغاز کر دیا ہے،پوری دنیا میں اس وقت توانائی کا بحران ہے،ملک کے 5بڑے برآمدی شعبوں کو کم قیمت بجلی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،

    وفاقی وزیر خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا ہے،حکومت غریب ترین افراد کے تحفظ کیلئے ہر ممکن کو شش کر رہی ہے،پوری دنیا میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے،ملک کے غریب ترین بجلی صارفین پر قیمت میں اضافے کا اثر نہیں ہوگا ،بجلی کی قیمت میں نومبر سے کمی آنا شروع ہو جائے گی منظوری اس شرط پر دی گئی ہے کہ غریب صارفین پر بوجھ نہ پڑے

    مصدق ملک کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمت میں کمی اکتوبر کے بعد نظر آنا شروع ہوجائے گی،

    دوسری جانب تحریک انصاف کا بجلی کی قیمت میں اضافے پر ردعمل سامنے آیا ہے ، تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اصل میں عوام نے پی ڈی ایم کا بائیکاٹ کیا ہے اب پی ڈی ایم کی عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے کانپیں ٹانگ رہی ہیں یہ کیس وہ ہے کہ کوئی کیس ہی نہیں، اسکا فیصلہ 30 منٹ میں آ جانا چاہیے،پی ڈی ایم والے آئے بیٹنگ کی اور رنز نہیں بنا سکے تو میچ چھوڑ کر بھاگ گئے ،بجلی کے بنیادی ٹیرف میں مسلط شدہ حکومت نے 3 اعشاریہ پانچ صفر فی یونٹ اضافہ کیا ہے اس اضافے کی وجہ صرف اور صرف نون لیگ کے امپورٹڈ ایندھن پہ چلنے والے پاور پلانٹ ہیں،پوری قوم نون لیگ کی اس غلطی کی قیمت ادا کر رہی ہے،

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    برلن :کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا،اطلاعات کے مطابق جرمن میڈیا گروپ (RND) نے جمعہ کو اگلے سال کے بجٹ سے متعلق ملکی وزارت خزانہ کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 2023 میں حکومتی قرضوں کی فراہمی پر جرمنی کو اس وقت لگ بھگ دوگنا لاگت آئے گی جو اس وقت بڑھتی ہوئی افراط زر کی وجہ سے خرچ کرتا ہے۔

     

     

     

    آراین ڈی میڈیا گروپ کی طرف سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پچھلی حکومتوں کی افراط زر کی پیشن گوئیوں میں غلط حساب کتاب کی وجہ سے، جرمنی کی اس کے عوامی قرضوں پر سود کی ادائیگی 16 بلین یورو ($16.09 بلین) سے بڑھ کر اگلے سال تقریباً 30 بلین یورو ہو جائے گی،

     

     

     

    نیوزآؤٹ لیٹ میں کہا گیا ہے کہ برلن نے افراط زر میں اضافے کے خطرے کو کم سمجھا اور اس کے نتیجے میں اب اسے ان بانڈز کی کے ذریعے بہت زیادہ رقم فراہم کرنے کی ضرورت کا سامنا ہے۔

     

     

    "2023 کے بجٹ کے مسودے کی دستاویزات کے مطابق، آنے والے سال میں افراط زر سے منسلک بانڈز کی ادائیگی کے لیے تقریباً 7.6 بلین یورو مختص کیے جائیں گے۔ یہ اس سال کے مقابلے میں €3 بلین یورو زیادہ ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 7 بلین یورو زیادہ ہے،

     

     

    رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جن بینکوں، انشورنس کمپنیوں یا فنڈز نے جرمن حکومت کو قرضے فراہم کیے ہیں، بنیادی طور پر اس صورت حال سے فائدہ اٹھائیں گے، کیونکہ انہیں سود کی ادائیگی میں زیادہ رقم ملے گی۔ تاہم، جرمن ٹیکس دہندگان کے خوش ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ یہ ان کی رقم ہے جو سود کی ادائیگی پر خرچ کی جائے گی۔

     

     

     

    جرمن پارلیمان کے بائیں بازو کے دھڑے کے رہنما، ڈائٹمار بارٹش نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’قرض لیتے وقت افراطِ زر کی حد سے کم شرح پر شرط لگانا ایک غلطی تھی جو اب ٹیکس دہندگان کے لیے بہت مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے پچھلی حکومتوں کی قرضہ پالیسیوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

  • چار عشروں کے دوران افراطِ زر کی بلند ترین شرح

    چار عشروں کے دوران افراطِ زر کی بلند ترین شرح

    واشنگٹن :امریکا میں افراطِ زر کی وجہ سے گیس اور خوراک کی قیمتیں اور کرائے 1981ء کے بعد سے سب سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی خاندانوں پر پڑنے والے دباؤ کی وجہ سے فیڈرل ریزرو شرحِ سود میں ایک بار پھر اضافہ کر سکتا ہے۔

    امریکی حکومت نے گزشتہ روز بتایا کہ ملک میں جون میں افراط زر کی شرح پچھلے چار دہائیوں میں سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ اشیاء کی قیمتیں گزشتہ برس کے مقابلے میں 9.1 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ 1981ء میں کنزیومر قیمتوں میں اضافے کے بعد سے یہ سب بڑا اضافہ ہے۔ صرف مئی میں ہی قیمتوں میں 8.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مئی سے جون کے درمیان ہر ماہ قیمتوں میں 1.3 فیصد کا اضافہ ہوتا رہا حالآنکہ اپریل سے مئی تک قیمتوں میں صرف ایک فیصد اضافہ ہوا تھا۔

    آمدنی کے مقابلے ضروری اشیاء کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ کم آمدنی والے طبقے اس سے بالخصوص متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ان کی آمدنی کا بہت بڑا حصہ لازمی اشیاء مثلاً خوراک، ٹرانسپورٹیشن اور مکان کے کرائے ادا کرنے پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ گیس کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے اور یہ جون کے وسط میں تقریباً 5 ڈالر سے 4.66 فی گیلن ڈالر تک پہنچ گئی ہیں تاہم یہ مثبت پیش رفت بعض ماہرین اقتصادیات کی امیدوں کے مطابق نہیں ہے۔

    افراط زر کی وجہ سے صارفین کا اعتماد بری طرح متزلزل ہوا ہے جس کے امریکی صدر جو بائیڈن اور اُن کی پارٹی دی ڈیموکریٹس دونوں کے لیے سیاسی مضمرات ہو سکتے ہیں۔ امریکا میں نومبر کے وسط مدتی پارلیمانی انتخابات میں افراط زر ایک اہم مسئلہ ہو سکتا ہے۔

     

  • مہنگائی کم  کرنے آئے ہیں ،عوام شیر کو ووٹ دیں، مریم نواز

    مہنگائی کم کرنے آئے ہیں ،عوام شیر کو ووٹ دیں، مریم نواز

    ر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان سے پنجاب کی ترقی ہضم نہیں ہوتی۔چنیوٹ موڑ پر ریلی سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ آدھے لوگ عمران خان کو جھوٹا اور آدھے چور کہہ رہے ہیں،وہ چور اور جھوٹا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت گزر گیا ہے، اب روز خوشخبریاں آئیں گے، شہباز شریف عوام کو بہت بڑا ریلیف دینے جارہے ہیں۔
    بڑی عید پر بڑی خوش خبری ،وزیراعظم کا پٹرول سستا کرنیکا فیصلہ

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج نوازشریف کی محبت میں پورا جھنگ باہر نکلا ہے ،17جولائی کو پنجاب دشمن عمران خان کو پنجاب سے اٹھاکر باہر پھینکنا ہے۔ یہ فرح گوگی کو پھر پنجاب پر مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے جو ہم نہیں ہونے دیں گے،17جولائی کو کوئی گھر میں نہیں بیٹھے گا، سب نکلیں گے ۔ مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ہم گلیاں ، سڑکیں بنوانے اور آلو پیاز کی قیمتیں کم کرنے آئے ہیں، وعدہ ہے جب تک یہاں ترقی نہیں آئے گی آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

    مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہو؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ پنجاب ترقی کرے تو شیر کو ووٹ دیں۔ مریم نواز جھنگ پہنچ گئیں جہاں چراغ آباد انٹر چینج پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ بعد ازاں گوجرہ موڑ پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشکل دور گزر گیا ہے اچھا دور آنے والا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہو؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ پنجاب ترقی کرے تو شیر کو ووٹ دینا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا مقابلہ عمران خان سے نہیں مہنگائی سے ہے، ن لیگ کا مقابلہ عمران خان سے نہیں نااہلی، مہنگائی اور پنجاب دشمنی سے ہے، وعدہ کریں 17 جولائی کو گھروں میں نہیں بیٹھیں گے اور 17 جولائی کو پنجاب کے دشمنوں کو اٹھا کر باہر پھینکیں گے۔رہنما ن لیگ نے مزید کہا کہ اسلم بھروانہ وہ شیر ہے جو عمران خان کو ٹھوکر مارکر واپس آیا، شیر پر مہر لگائیں، وعدہ کرتی ہوں عوام کی قسمت بدلنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گی۔

  • چند ماہ کے دوران مہنگائی میں کمی آئے گی: مفتاح اسماعیل

    چند ماہ کے دوران مہنگائی میں کمی آئے گی: مفتاح اسماعیل

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں حالات بہتر ہوں گے اور مہنگائی میں کمی آئےگی، عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم قیمتوں میں کمی ہوئی تو عوام کو ریلیف دیں گے۔

    واضح رہے کہ اڑھائی ماہ قبل پٹرول کی عالمی مارکیٹ میں قیمت 125 ڈالر بیرل سے بڑھ چکی تھی جو اب مسلسل نیچے آرہی ہے، اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی گر چکی ہے، جس کے بعد قوی امکان ہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمت کم ہوسکے۔

    سرکاری ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دیتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا، ہماری پہلی ترجیح پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانا تھا۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ چند روز میں ہوجائے گی۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے حکومت نے تمام مشکل فیصلے کیے، عمران خان نے اپنی حکومت جاتے دیکھ کر پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کا اعلان کیا، گزشتہ حکومت نے نیب قوانین کو سیاسی مخالفین کیلئے استعمال کیا، عمران خان حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھی۔

  • میں تاں ہنڈا ای لئیساں کادورختم ہوگیا:موٹرسائیکلوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

    میں تاں ہنڈا ای لئیساں کادورختم ہوگیا:موٹرسائیکلوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

    لاہور:میں تاں ہنڈا ای لیساں کادورختم ہوگیا:موٹرسائیکلوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ،تفصیلات کےمطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ملک میں بڑھتی مہنگائی کے بعد ہنڈا نے اپنی موٹرسائیکلوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کردیا ہے۔

    ہنڈٓا کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق سی ڈی 70 پانچ ہزار اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 6 ہزار 5 سو سے بڑھ کر ایک لاکھ 11 ہزار 5 سو روپے کی ہوگئی ہے۔اسی طرح ہنڈا سی جی 125 چھ ہزار اضافے کے بعد 1 لاکھ 68 ہزار 5 سو سے بڑھ کر 1 لاکھ 74 ہزار5 سو روپے کی ہوگئی ہے۔

    سی ڈی 70 ڈریم کی نئی قیمت 1 لاکھ 19 ہزار 5 سو روپے ہوگئی ہے جو کہ 6 ہزار اضافے سے پہلے 1 لاکھ 13 ہزار 5 سو روپے تھی۔ہنڈا پرائیڈر بھی 6 ہزار روپے اضافے کے بعد 1 لاکھ 44 ہزار 9 سو سے بڑھ کر 1 لاکھ 50 ہزار 9 سو روپے کی ہوگئی ہے۔سی جی 125 ایس ای بھی 7 ہزار روپے مہنگی ہوگئی جس کے بعد نئی قیمت 1 لاکھ 98 ہزار 5 سو سے 2 لاکھ 5 ہزار 5 سو تک پہنچ گئی ہے۔

    ہنڈا سی بی 125 ایف کی قیمت میں 10 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 2 لاکھ 35 ہزار 9 سو روپے بڑھ کر 2 لاکھ 63 ہزار 9 سو روپے ہوگئی ہے۔ سی بی 150 ایف کی قیمت کو بھی پر لگ گئے اور 15 ہزار روپے کا بڑا اضافہ دیکھا گیا، اس اضافے کے بعد موٹرسائیکل کی قیمت 3 لاکھ 8 ہزار 9 سو سے بڑھ کر 3 لاکھ 23 ہزار 9 سو روپے ہوگئی ہے۔

    ہنڈا سی بی 150 ایف ایس ای 15 ہزار روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 12 ہزار 9 سو سے بڑھ کر 3 لاکھ 27 ہزار 9 سو روپے کی ہوگئی ہے۔

  • یورپ میں اقتصاد مندی 2023 تک جاری رہ سکتی ہے:امریکی انسٹی ٹیوٹ

    یورپ میں اقتصاد مندی 2023 تک جاری رہ سکتی ہے:امریکی انسٹی ٹیوٹ

    واشنگٹن:یورپ میں اقتصاد مندی 2023 تک جاری رہ سکتی ہے،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے ایک فائننشیئل انسٹی ٹیوٹ نے پیشگوئی کی ہے کہ یورپ میں افراط زر اور اقتصادی مندی دوہزار تیئس تک جاری رہ سکتی ہے،رشا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق شہر نیویارک کے مورگن اسٹینلی فائننشیئل انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ یورپی ممالک، رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں روس سے انرجی مصنوعات کی درآمدات میں کمی کی بنا پر کساد بازاری کا شکار ہوں گے۔

    مورگن اسٹینلی فائننشیئل انسٹی ٹیوٹ کی پیشگوئی کے مطابق ایسا نظر آتا ہے کہ افراط زر اور اقتصادی مندی دوہزار تیئس تک جاری رہے گی اور اس کی ایک وجہ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ روس کی قدرتی گیس اور انرجی کی سیکورٹی کی ضمانت نہ ہونے کے باعث اکثر یورپی ممالک کا اقتصاد ناقابل پیشگوئی ہو گیا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اقتصادی مندی کے باوجود یورپ کا سینٹرل بینک شرح سود میں اضافہ کر کے اسے دسمبر کے مہینے تک اعشاریہ سات پانچ فیصد کر سکتا ہے۔

    روس کے خلاف مغربی ممالک کے اقدامات ایسی حالت میں ہیں کہ مغرب کو ان تمام اقدامات کے باوجود یہ وہم ہے کہ اقتصادی شعبے بالخصوص تیل اور گیس کے شعبوں میں روس پر پابندی بڑھنے سے یورپ کے اقتصادی حالات اور انرجی کی عالمی منڈی پہلے سے زیادہ درہم برہم ہو سکتی ہے۔ یورپی ممالک کی روس مخالف پالیسیاں جاری رہنے سے یورپ کی داخلی سیکورٹی کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔

  • ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

    ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران نے اسلام آباد میں ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ہمارے دور میں مہنگائی کا شور کررہے تھے خود اقتدار میں آتے ہی مہنگائی کردی ہے.

    عمران خان نے دعوی کیا کہ دو جولائی کو اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے جارہے ہیں، اور ساتھ ہی کارکنان کو کہا کہ آپ نے ڈور ٹو ڈور جانا ہے اور جلسہ میں شرکت کیلئے عوام سے درخواست کرنی ہے انہوں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ملزم ہے وہ کبھی قاضی نہیں بن سکتا کیونکہ چور کبھی بھی اپنا احتساب نہیں کرسکتا ہے اور امریکہ نے یہ جو لوگ ہم پر سازش کے ذریعے نازل کیئے یہ مانے ہوئے کرپٹ لوگ ہیں اور ان غداروں نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایک متخب حکومت کوختم کیا تاکہ یہ لوگ جو مسلسل تیس سال سے چوری کررہے ہیں اس کو جاری رکھ سکیں.

    انہوں نے ورکز کو بتایا کہ امریکہ کے غلاموں کی اس حکومت نے آتے ہی ناصرف مہنگائی کی بلکہ نیب کو ختم کیا، ایف آئی اے کو اپنے ماتحت کیا اور اپنے اوپر بنائے گئے سارے کیسز ختم کروائے، گیارہ سو ارب کے کرپشن کے کیسز انہوں نے ختم کیئے نیب ترامیم کرکے تاکہ یہ اپنی کرپشن کا تحفظ کرسکیں.

    عمران خان نے کہا کہ: پاکستان کی تاریخ میں کبھی محض دو ماہ میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جتنی ان کے دور میں ہوئی ہے. اور اس سے عام آدمی کے اوپر شدید ترین بوجھ پڑا کیونکہ پٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس سب مہنگا کردیا، اور پھر ضروری اشیاء خوردونوش آٹا، گھی، حتکہ چاول کو بھی دگنا مہنگا کردیا.

    ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی آسمان پر اور معیشت زمین پر آگئی، اور ہمارا روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے تیس روپے اور گر گیا ہے، لیکن بات صرف اتنی نہیں بلکہ اور مہنگائی آنی ابھی باقی ہے.

    سابق وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ پاکستان کی معاشی سروے کہتی ہے کہ سترہ سال میں جو بہترین پرفامنس تھی وہ ہمارے آخری دو سالوں میں تھی.

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم پر بھی آئی ایم ایف کاپریشر تھالیکن ڈھائی سال مہنگائی روکے رکھی، امپورٹڈ حکومت نے ایک طرف مہنگائی مسلط کردی،وہ بوجھ ڈالا،بجلی ،گیس،پیٹرول ،ڈیزل سب مہنگا ہوگیا، ڈالر30روپےاور مہنگا ہوگیا،ڈیزل، پیٹرول،گیس اور مہنگی ہونگی۔

    جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب مشکل وقت آتاہے توڈیزل عمرہ کرنےچلا جاتا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہر دور میں یزید آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے، کوفے والوں کو پتہ تھا کہ امام حسین ؑ حق پر تھے مگر یزیدی خوف کے باعث انہوں نے مدد نہ کی ہمارے ملک کےساتھ جو ظلم ہورہاہےاس کےخلاف سارےپاکستانی آواز بلند کریں۔

  • ملک میں الیکشن فوری ہونے چاہئیں، اس سے پہلے ریفارمز ضروری ہیں: سراج الحق

    ملک میں الیکشن فوری ہونے چاہئیں، اس سے پہلے ریفارمز ضروری ہیں: سراج الحق

    لاہور : امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ ملک میں الیکشن فوری ہونے چاہئیں تاہم الیکشنز سے پہلے ریفارمز ضروری ہیں، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کا ایک ہی ایجنڈا ہے یہ دونوں جماعتیں عوام کی بہتری نہیں چاہتیں۔ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کرنا ضروری ہے۔

    مہنگائی کیخلاف ٹرین مارچ میں روانگی سے پہلے ملتان ریلوے سٹیشن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نہریں خشک ہو چکی ہیں، فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، ملک میں بیروزگاری عروج پر ہے، نوجوان ڈگریاں جلا رہے ہیں، رشوت اور سفارش کے بغیر نوکری نہیں ملتی۔

    امیر جماعت سلامی کا کہنا تھا کہ روز نئے ٹیکسز لگائے جا رہے ہیں، حکمرانوں کے اپنے بینک اکاوئنٹس بڑھتے جا رہے ہیں، پٹرول گیس بجلی اور کھانے پینے کی اشیا سب مہنگی ہو چکی ہیں۔ حکومت نے عوام کو نچوڑ کر آئی ایم ایف کو خوش کیا ہوا ہے۔ اسمبلیوں میں پیٹرول مافیا اور ڈرگ مافیا بیٹھے ہیں، عوام کا کسی کو خیال نہیں ،سیاستدانوں کے گھوڑے اور کتے تک عیاشیاں کر رہے ہیں لیکن غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، پچاس گرام کا پراٹھا 25 روپے میں ملتا ہے، دونوں جماعتوں نے غریب عوام کا سینڈ وچ بنا دیا ہے ،عمران زرداری اور شہباز میں کوئی فرق نہیں انکی کرپشن کی وجہ سے ملک تباہی کیطرف جا رہا ہے، ایک لیٹر پٹرول کی قیمت سونے کے بھاو کے برابر ہے۔

    سراج الحق نے کہا کہ 14 سال سندھ پر پیپلزپارٹی جبکہ 9 سال سے کے پی کے میں عمران خان بیٹھا ہے تاہم پنجاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہبا ز کی حکومت ہے جبکہ مرکز میں پی ڈی ایم ہے یہ جماعتیں سرکاری وسائل سے جلسے کرتی ہیں اور روڈ بلاک کر کے عوام کو تکلیف پہنچاتی ہیں عوام کیساتھ غلاموں جیسا برتاو رکھا جا رہا ہے عوام پسینہ بہہا کر خزانہ بھرتی ہے اور یہ مافیا اس خزانے پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں،کروڑوں روپے الیکشن پر لگا کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور پھر لوٹ مار اور کرپشن کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ پہلے نواز شریف کو لائی پھر اسکو نکالا تو عمران خان آیاؕ اب و ہ بھی یہی کہہ رہا ہے مجھے کیوں نکالا، ملک میں اس وقت ڈمی حکومت اور ڈمی اپوزیشن ہے، وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کو ختم کرنے کیلئے فیصلہ دے دیا ہے یہ ایک خوش آئند بات ہے لیکن وفاقی ھکومت اب اس فیصلے کیخلا ف سپریم کورٹ جا رہی ہے ، سودی نظام کے خاتمے کیلئے شرعی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تو حکومت کیخلاف ہر ممکن مزاحمت کریں گے، سودی نظام اب مغرب میں بھی ختم ہو رہا ہے تو یہاں بھی اس کو ختم کیا جانا چاہیے۔