Baaghi TV

Tag: مہنگائی

  • مہنگائی مارگئی:برطانوی شہری یوٹیلٹی بلز ادا کرنے سے قاصر،معاشی حالات بہت ابتر

    مہنگائی مارگئی:برطانوی شہری یوٹیلٹی بلز ادا کرنے سے قاصر،معاشی حالات بہت ابتر

    لندن:مہنگائی مارگئی:برطانوی شہری یوٹیلٹی بلز ادا کرنے سے قاصر،معاشی حالات بہت ابتر،اطلاعات کے مطابق تقریباً نصف برطانوی اپنے توانائی کے بلوں کی ادائیگی کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں ان کے پاس بل ادا کرنےکےلیے پیسے نہیں ، نئے سرکاری اعداد و شمار نے منگل کو انکشاف کیا ہے – کیونکہ سب سے سستے گروسری کی قیمت میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    برطانوی سپر مارکیٹوں میں سب سے کم قیمت والے سبزیوں کے تیل اور پاستا کی قیمت گزشتہ سال میں تقریباً دو تہائی بڑھ گئی ہے، دفتر برائے قومی شماریات نے اس حوالے سے مزید لکھا ہے کہ سب سے سستے سبزیوں کے تیل کی قیمت میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سب سے سستا پاستا ایک سال پہلے کے مقابلے میں اب 60 فیصد زیادہ مہنگا ہے۔

    دیگر گروسری اسٹیپلز جن میں سال ستمبر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ان میں چائے (46%)، چپس (39%)، روٹی (38%) اور بسکٹ (34%) شامل ہیں۔اورنج جوس (-9%)، کیما بنایا ہوا گائے کا گوشت (-7%)، چینی (-0.3%) اور چاول (-0.2%) ان کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کے لیے واحد اہم چیزیں تھیں۔

    سب سے سستی دستیاب اشیاء میں اضافہ وسیع پیمانے پر خوراک کی اوسط قیمتوں میں اضافے کے مطابق ہے، مہنگائی کا پیمانے نوٹ کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق جس نے ہر ماہ سپر مارکیٹ کی ویب سائٹس سے تقریباً 1.5 ملین قیمتوں کو نوٹ کرکے اعداد و شمار مرتب کیے ہیں۔

    سابق باکسر اور بااثر شخصیت اینڈریو ٹیٹ نے اسلام قبول کرلیا

    ان اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ، مذکورہ ادارے نے اپنی رائے اور طرز زندگی کے سروے کے حصے کے طور پر زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے اثرات کو ٹریک کرنے کے لیے برطانیہ میں 16 سال اور اس سے زیادہ عمر کے 13,305 لوگوں کے جوابات کا تجزیہ کیا۔

    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر کے آغاز میں تقریباً نصف (45%) بالغ افراد اپنے توانائی کے بلوں کو برداشت کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔

    ارشد شریف کی میت کو لے کر آنے والا طیارہ اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ کر گیا

    یہ 10 میں سے سات (72%) لوگوں میں قبل از ادائیگی میٹر، 55% معذور افراد، 44% سفید فام، 69% سیاہ فام اور 59% برطانوی ایشیائی ہو گئے۔مجموعی طور پر، 3% بالغوں نے اپنے کرایہ یا رہن کی ادائیگیوں کے بقایا جات کی اطلاع دی، اور 5% نے اپنے توانائی کے بلوں میں پیچھے رہنے کی اطلاع دی۔ یہ بالترتیب 4% اور 7% معذور افراد تک بڑھ گیا۔

    وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کیلئے کچھ نہیں دیا،وزیراعلیٰ پنجاب

    وہ بالغ افراد جو اپنا گھر کرائے پر لے رہے تھے ان کے مقابلے میں رہن کی ادائیگی کرنے والوں کے لیے توانائی، کرایہ یا رہن کی ادائیگیوں کو برداشت کرنا مشکل ہونے کا امکان زیادہ تھا۔تقریباً 10 میں سے ایک کرایہ دار نے اپنے توانائی کے بلوں میں پیچھے رہنے کی اطلاع دی، اور 5% نے اپنے کرایے کی ادائیگی میں پیچھے رہنے کی اطلاع دی۔ اس کا موازنہ بالترتیب 3% اور 1% ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا ہے جن کے پاس رہن ہے۔

  • او آئی سی کومسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مفادات کےتحفظ کےلئےاپنا کردار ادا کرناچاہئے:مریم اورنگزیب

    او آئی سی کومسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مفادات کےتحفظ کےلئےاپنا کردار ادا کرناچاہئے:مریم اورنگزیب

    اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اسلامو فوبیا کے مسئلے سے نمٹنے کی کاوشوں کو تیز کرنے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مسلم اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے او آئی سی کے کردار کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کا گھنائونا رجحان کم نہیں ہوا، جنوبی ایشیاءمیں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور جرائم گہری تشویش کا باعث ہیں، بھارت میں بے گناہوں کا قتل، فرقہ وارانہ فسادات اور الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر اسلام کی منفی تصویر کشی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، ہمیں سچائی پر مبنی خبروں کے ذریعے جعلی خبروں کا مقابلہ کرنا ہوگا، پاکستان اور نائیجیریا جیسے او آئی سی کے کئی رکن ممالک دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے سب سے زیادہ دوچار ہیں، پاکستان میں حالیہ سیلاب سے تقریباً 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، متاثرہ ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فنانسنگ کو بڑھایا جائے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزیہاں او آئی سی وزراءاطلاعات کانفرنس کے 12 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں 57 ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے او آئی سی وزراءاطلاعات کانفرنس کے اجلاس کے دوران پرتپاک اور فراخدلانہ مہمان نوازی پر ترکیہ کے عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ سوشل میڈیا کا دور آنے کے بعد پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے او آئی سی نے نمایاں کوششیں کی ہیں، ہم ذرائع ابلاغ اور پبلک پالیسی پر او آئی سی ایکشن پروگرام 2025ءکے ساتھ اپنی بھرپور وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں، اس ضمن میں ہم او آئی سی کے رکن ممالک کی استعداد کار میں اضافہ اور بہترین طریقے استعمال میں لانے کے پختہ عزم پر بھی کاربند ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے او آئی سی کے رکن ممالک کو درپیش چند بڑے چیلنجز اور ان سے نمٹنے میں میڈیا کے کردار کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ہمارے دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، حال ہی میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ پاکستان کا ایک تہائی سے زائد رقبہ زیر آب ہے، 33 ملین سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے، 10 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ لاکھ سے زائد افراد امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے باعث 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ریلیف و بحالی کا کام انجام دیا، ہم عالمی برادری بالخصوص او آئی سی کے رکن ممالک کے مشکور ہیں جنہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف سرگرمیوں میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب موسمیاتی ناانصافی کی ایک بڑی مثال ہے جس کا آج بہت سے ممالک سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان اور نائیجیریا جیسے او آئی سی کے کئی رکن ممالک دنیا میں سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہیں حتیٰ کہ ہمارا ملک میں کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک میں میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی برادری کی جانب سے بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے فوری، اجتماعی اور فیصلہ کن کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرے اور کلائمیٹ فنانسنگ کو بڑھایا جائے۔ اسلامو فوبیا کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسلامو فوبیا کا گھنائونا رجحان کم نہیں ہوا، ہمارے خطے، جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور جرائم بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث ہیں۔ ہماری کوششوں کے باوجود ہندوستان میں بے گناہوں کا قتل، منصوبہ بندی کے تحت فرقہ وارانہ فسادات اور الیکٹرانک و سوشل میڈیا میں اسلام کی منفی تصویر کشی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کی نمائندہ تنظیم ہونے کی حیثیت سے او آئی سی انفرادی طور پر اس کوشش کیلئے صف اول کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مسلم اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے اس ضمن میں چند سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اطلاعاتی استعماریت کا مقابلہ کرنا ہوگا اور ایک نیا انفارمیشن رجیم قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مسلم ممالک میں آزاد میڈیا ہے جس نے اسلام کے تشخص کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں جگہ بنا لی ہے لیکن مسلم ریاستوں میں اطلاعاتی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم ریاستوں کو اسلام اور مسلم معاشروں کے بارے میں غلط تصورات سے نمٹنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات سے نمٹنے کے لئے زیادہ جمہوریت کے مزید فروغ، زیادہ عوامی شرکت، اجتماعیت میں اضافے اور اظہار رائے کی آزادی پر توجہ مرکوز کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ حساس مگر عالمی سطح پر نمایاں ہونے والے یہ موضوعات ہمارا ہدف ہونے چاہئیں جنہیں مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے خلاف غلط اور گمراہ کن نیت سے استعمال کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں فیک نیوز کا سچی خبروں کے ذریعے مقابلہ کرنا ہوگا، جدید ٹیکنالوجی سے سوشل میڈیا پر رجحان بنانے والے طریقوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنانا ہوگی، ہمیں عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کی راہ ہموار کرنا ہوگی، روبوٹس سے عوامی رائے پر اثراندا ہونے کے ہتھکنڈوں سے نمٹنا ہوگا، ٹرولز کی جگہ حقیقی رائے شماری اور آگہی کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، ایسے قوانین کی ضرورت ہے جس کے تحت نفرت پھیلانے اور دھوکہ دہی کرنے والوںکی نشاندہی ہو اور انہیں سزا مل سکے، ان اقدامات کے ساتھ ساتھ بنیادی آزادیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کا عالمی دن منانے کی قرارداد کی منظوری بڑا قدم ہے، ہمیں اس قرارداد سے پیدا ہونے والی تحریک کی رفتار اور دائرے میں وسعت لانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ”او آئی سی“ کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کرتے ہیں کہ اسلاموفوبیا کے لئے خصوصی نمائندے کا تقرر کریں، اسلاموفوبیا کے لئے نمائندہ خصوصی کے تقرر کا فیصلہ اسلام آباد میں او آئی سی وزرا خارجہ کونسل کے اجلاس میں منظور کردہ قرار داد میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی قیادت میں ماہرین کا پینل تشکیل دیا جائے جو اسلامو فوبیا کے واقعات سے نمٹنے کے لئے تنظیم کو تجاویز دے۔ اس پینل کے ذریعے اسلامو فوبیا کا نشانہ بننے والوں کی حمایت کی جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کشمیری اور فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رکن ممالک کے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری اور فلسطینی عوام کے مصائب اور جرات مندانہ جدوجہد کی زیادہ سے زیادہ کوریج جاری رکھیں جو بھارتی اور اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں مسلسل جارحیت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کا میڈیا منظم خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی المیوں کی حقیقت اور شدت سے دنیا کو ترجیحی بنیادوں پر آگاہ کرے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کی کوششوں کے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن اور طویل المدتی ترقی کے لئے پاکستان کی جدوجہد کا بھرپور ادراک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کو اسلام اور اس کی تعلیمات کی حقیقی تصویر پیش کرنے، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے اور انتہاءپسندی و دہشت گردی کو مسترد کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر میڈیا ٹولز اور آپشنز کو استعمال کرنے کی کوششوں کو مربوط کرنا چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس ضمن میں سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں او آئی سی کے رکن ممالک میں میڈیا تنظیموں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنی چاہئے، ہمیں اسلام کی حقیقی روح کے مطابق غلط معلومات کے تدارک اور رواداری جیسی اسلامی اقدار کے فروغ کے لئے مشترکہ اسلامک میڈیا ایکشن انسٹیٹیوشنز قائم کرنے چاہئیں۔

    انہوں نے کہا کہ ”او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ کا ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن“ غلط معلومات اور اسلامو فوبیا کے تدارک کے لئے اجتماعی کوششوں کی قیادت کرے۔ یہ رکن ممالک سے صحافیوں کا انتخاب کر سکتا ہے اور متعلقہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے تحقیقی صحافت اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے جموں و کشمیر اور فلسطین کے دوروں کا اہتمام کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو ثقافتی اور میڈیا وفود کے تبادلوں کے لئے ٹھوس اہداف اختیار کرنے چاہئیں، ہم اپنی ثقافتوں اور عوام کی باہمی افہام و تفہیم کیلئے سکرین ٹورازم کی بڑی صلاحیت بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سوشل میڈیا اور سائبر اسپیس کے دور میں غلط معلومات اور اسلامو فوبیا پر ایک ورکنگ گروپ قائم کرنا چاہئے، ورکنگ گروپ تجربات کو شیئر کرنے اور ان مسائل پر تفصیل سے بات کرنے کے مقصد کے ساتھ باہم نشست کے طریقہ کار کے تحت کام کر سکتا ہے، پلیٹ فارم کو بہترین طریقوں کو بروئے کار لانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ورکنگ گروپ کے پہلے اجلاس کی میزبانی کی پیشکش کرتا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ او آئی سی وزراءاطلاعات کانفرنس با معنی غور و خوض غلط معلومات اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں اور باہمی تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • مہنگائی کا ٹاپ گئیر،بیکری پراڈکٹس مہنگی

    مہنگائی کا ٹاپ گئیر،بیکری پراڈکٹس مہنگی

    قصور
    مہنگائی کا نیا طوفان ،بیکری پراڈکٹس ایک بار پھر مہنگی،غریب عوام کی پہنچ سے دور،حکمران خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ سالوں سے مہنگائی کو لگا ٹاپ گئیر ختم نا ہو سکا بلکہ مہنگائی نے مزید سپیڈ پکڑ لی ہے جس سے غرباء بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں
    سابقہ گورنمنٹ کی طرح موجودہ گورنمنٹ بھی محض دعوؤں تک ہی محدود ہے اور نااہلی کی حدوں کو چھو رہی ہے
    بیکری کی اشیاء میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے
    گزشتہ سال 70 روپیہ میں ملنے والی ڈبل روٹی 110, 15 روپیہ والا بن 30 روپیہ کا ہو گیا ہے جبکہ بسکٹ و دیگر پراڈکٹس کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے جس پہ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا
    غریب لوگ مہنگے آٹے کے باعث پہلے ہی سخت پریشان تھے اوپر سے بیکری پراڈکٹس غرباء کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں
    آئے دن قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور گورنمنٹ خاموشی سے تماشہ دیکھتی ہے
    لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ گورنمنٹ کی طرح اس گورنمنٹ کی بھی بلیک میلروں سے ڈیل ہو گئی ہے کہ ہمارا حصہ ہمیں دو اور جب چاہو جیسے چاہو عوام کو رج کے لوٹو اور مال بناؤ

  • آٹا نایاب،4 ہزار فی من تک فروخت جاری

    آٹا نایاب،4 ہزار فی من تک فروخت جاری

    قصور
    دکانوں پہ آٹا نایاب ،آٹا چکیوں پہ قیمتیں 4 ہزار فی من تک پہنچ گئیں،مہنگائی کے مارے لوگ شدید پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور شہر اور گردونواح میں دکانوں پہ آٹا نایاب ہو چکا ہے جس کے باعث آٹا چکی مالکان کی چاندی ہو گئی ہے
    خودساختہ قیمتیں مقرر کرتے ہوئے آٹا چکی مالکان نے 36 سو سے 4 ہزار فی من تک آٹا بیچنا شروع کر دیا ہے جس کے باعث مہنگائی کے مارے لوگ مذید پریشان ہو کر رہ گئے ہیں
    ضروریات زندگی کی اشیاء کیساتھ اچانک سے آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کی چیخیں نکلوا کر رکھ دی ہیں
    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور سے دکانوں پہ آٹے کی فراوانی کو یقینی بنانے اور آٹے کی سرکاری قیمتوں پہ فروخت کو یقینی بنانے کی استدعا کی ہے

  • مہنگائی کا نیا طوفان،فی انڈہ 25 روپیہ

    مہنگائی کا نیا طوفان،فی انڈہ 25 روپیہ

    قصور
    مہنگائی کا نیا طوفان،فارمی انڈہ تاریخ کی بلند ترین قیمت پہ،سخت گرمی کے باوجود فی انڈہ 25 روپیہ

    تفصیلات کے مطابق قصور میں مہنگائی کے نئے طوفون نے سراٹھایا ہوا ہے
    بجلی،سوئی گیس,سبزیاں پھل و تمام ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جس کے باعث غریب لوگ سخت پریشان ہیں اور دو وقت کی روٹی کو ترس گئے ہیں
    چیزوں کی قیمتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں سخت گرمی کے باوجود فارمی انڈے کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں
    شدت کی گرمی کے باوجود فارمی انڈہ 25 روپیہ کا فروخت ہو رہا ہے
    لوگوں کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ مہنگائی کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہے

  • شدید مہنگائی،چھوٹے دکانداروں نے کام چھوڑ دیئے

    شدید مہنگائی،چھوٹے دکانداروں نے کام چھوڑ دیئے

    قصور
    تیزی سے بڑھتی مہنگائی سے پریشان غریب چھابڑی والے، چھوٹے دکاندار کام چھوڑنے پہ مجبور،مہنگائی سے اخراجات بڑھ گئے کام نا ہونے کے برابر،حکمران ںے ضمیری کی حدوں کو پار کر گئے

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ تین سالوں سے شروع ہونے والی تیز رفتار مہنگائی نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے جس کے باعث غریبوں کا جینا تو محال تھا ہی اب سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہے
    اس مہنگائی کے باعث غریب چھابڑی والے اور چھوٹے دکاندار اپنے کام دھندے بند کرنے پہ مجبور ہو گئے ہیں
    خاص کر فنگر چپس،پکوڑے سموسے بیچ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے محنت کش سخت متاثر ہوئے ہیں
    مہنگے ترین گھی و ایل پی جی کے باعث یہ لوگ اپنا چھوٹا کاروبار جاری نا رکھ سکے اور بیشتر مزدور کام چھوڑنے پہ مجبور ہو گئے ہیں
    ان لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے حکمرانوں نے سوائے تسلیوں کے اور اپنے لوگوں کو نوازنے کے کچھ نہیں کیا اور نا ہی سابقہ و موجودہ گورنمنٹ مہنگائی کنٹرول کر سکی ہے بلکہ پہلے سے کئی گنا اضافہ ہی ہوا ہے
    ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حکمران بے ضمیری کی حدوں کو چھو رہے ہیں اگر اس جہان میں ہم ان کو نہیں پوچھ سکتے تو ان شاءاللہ اگلے جہان ان کے گریبان ضرور پکڑیں جہاں کو عدالت ان کو بچا نا سکے گی

  • ایل پی جی کی بلند ترین قیمتیں،ارباب اختیار کو بدعائیں

    ایل پی جی کی بلند ترین قیمتیں،ارباب اختیار کو بدعائیں

    قصور
    غرباء کی بنیادی ضرورت ایل پی جی (لیکوئیڈ پیٹرولیم گیس) کا مصنوعی بحران،360 روپیہ فی کلو تک فروخت جاری،لوگ سر پکڑ کا بیٹھ گئے،ارباب اختیار کو بدعائیں

    تفصیلات کے مطابق ماضی کی طرح موجودہ گورنمنٹ بھی بلیک مارکیٹنگ مافیا کے آگے مکمل بے بس ہے
    ضلع قصور میں ایل پی جی ( لیکوئیڈ پیٹرولیم گیس) کا مصنوعی بحران شدت اختیار کر گیا ہے
    چند دن قبل تک 230 روپیہ فی کلو فروخت ہونے والی ایل پی جی 360 روپیہ فی کلو فروخت ہو رہی ہے
    غرباء کی بنیادی ضرروت ایل پی جی کا ایک دم سے اتنا مہنگا ہو جانا حکومتی کارکردگی پہ سوالیہ نشان ہے
    بااثر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتیں 500 روپیہ فی کلو تک ہونے کا خدشہ ہے
    جبکہ اس مصنوعی بحران کو سیلاب سے جوڑا جا رہا کے کہ راستے بند ہیں جس کے باعث مہنگی فروخت کی جا رہی ہے
    لوگوں کا کہنا ہے بفرض اگر راستے بند بھی ہیں تو فضائی راستے اس عوامی سہولت کیلئے کیوں استعمال نہیں کئے جا سکتے ؟ کیا گورنمنٹ اور اشرافیہ بلیک مارکیٹنگ مافیا کے ساتھ ساز باز کئے ہوئے ہے؟

    لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر گورنمنٹ اور لوگوں کے خون پسینے سے پلنے والہ اشرافیہ بلیک مارکیٹنگ مافیا کو قابو نہیں کر سکتا تو خداراہ اپنے گھروں کو جائیں اور پھر ہر کسی کو اپنی من مانی کرنے دی جائے تاکہ اس مان مانیوں کے اثرات ایک ہی بار دیکھ لئے جائے
    کیونکہ لوگ تو پہلے ہی خودکشیوں پہ مجبور ہیں اور مر رہے ہیں پھر جس کے زور بازو میں اثر ہو گا کم ازکم و تو چھین کر کھائے گا ہی
    مہنگائی کے مارے لوگ ارباب اختیار کو سرعام بدعائیں دے رہے ہیں

  • ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک کا لفظ یونانی زبان کے لفظ "پلاسسٹیکوس” سے نکلا ہے جسکے معنی مختلف اشکال میں تبدیل ہونے کی صلاحیت کے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط تک صنعتی ترقی کے باعث جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہونے لگا۔ اُس زمانے میں ہاتھی دانت کا استعمال مختلف اہم اشیا میں ہوتا جیسے کہ پیانو کے کی بورڈ میں یا سنوکر بالز میں۔ اسی طرح کچھوؤں کے خول سے کنگھی بنائی جاتی۔ اور دیگر جانوروں کی ہڈیوں یا سینگوں سے مختلف طرح کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ۔ ایسے میں کئی جانوروں کی نسل معدوم ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے مصنوعی میٹریل کی تلاش تھی جو پائیدار اور مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ سستا بھی ہو۔ یہ بات آپکو حیران کن لگے مگر پلاسٹک کی ایجاد دراصل ماحول اور جانوروں کو بچانے کے لیے کی گئی۔ 1862 میں برطانیہ کے ایک کیمیاء دان الییکسنڈر پارکِس نے ایسا میٹریل ایجاد کیا جسے دنیا کا سب سے پہلا پلاسٹک کہا جا سکتا ہے۔ (ویسے فطرت میں بھی کچھ قدرتی پلاسٹک پائے جاتے ہیں). اس پلاسٹک کا نام پارکیسائن رکھا گیا۔ اسے مختلف اشیاء میں ہاتھی دانت اور کچھوے کے خول کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا مقصود تھا۔ یہ پلاسٹک دراصل کپاس کے دھاگوں کو گندھگ اور نائیٹرک ایسیڈ میں حل کر کے بنایا جاتا جسکے بعد اس میں سبزیوں سے نکلا تیل شامل کیا جاتا۔ بعد میں اس پلاسٹک کا استعمال سینما گھروں کی ریلز میں، کنگھوں میں اور بلیئرڈ کی گیندوں میں عام ہونے لگا۔ سستا ہونے کے باعث اب یہ عوام میں مقبول ہونے لگا۔ مگر اسکا استعمال ابھی بھی محدود تھا۔

    1907 میں بیلجیم کے ایک کیمیا دان لیو بائیکی لینڈ نے پہلا ستنھیٹک پلاسٹک متعارف کرایا۔ یہ محض دو کیمیکلز کے کو لیبارٹری میں حرارت اور دباؤ کے زیرِ اثر لا کر بنایا گیا۔

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد خام تیل اور پلاسٹک انڈسٹری کے اشتراک سے پلاسٹک ٹیکنالوجی مزید بہتر آئی اور اسکا استعمال پیکنک اور روزمرہ کی اشیاء میں بڑھتا گیا۔

    بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام طرح کا پلاسٹک ماحول کے لئے برا ہے۔ یہ بت مکمل نہیں ۔ دراصل ایک بار استعمال ہونے والا پلاسٹک ماحول کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    چند اور اہم مسائل بھی پلاسٹک سے جڑے ہیں۔جن میں اس کی تیار ہونے کے عمل میں زیریلی اور مضرِ صحت گیسوں اور کیمکلز کا اخراج اور قدرتی ماحول میں ڈی کمپوز نہ ہونا شامل ہے۔ پلاسٹک کی عمر بے حد طویل ہوتی ہے۔ایک پلاسٹک کے ٹکڑے کو جو بوتلوں، پییکنگ یا گھریلو استعمال کے کام اتا ہے، ماحول میں ڈی کمپوز جعنی گلنے سڑنے ہونے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔وجہ یہ کہ اسےقدرت میں موجود بیکٹریا یا دیگر مائیکروب آسانی سے کیمیائی طور پر توڑ نہیں سکتے۔اسکے علاوہ یہ آکسیجن یا فضا میں موجود دیگر گیسوں یا پانی میں موکود کئی کیمکلز سے کیمیائی تال میل نہیں رکھتا۔

    یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو صحیح طور پر ٹھکانے لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ نکاسی آب کے راستے دریاؤں، ندی نالوں سے ہوتا ہوا سمندروں تک جا پہنچتا ہے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں جاتا ہے۔

    پلاسٹک محض سمندروں میں نہیں، اسکے چھوٹے چھوٹے ذرات ہماری خوراک، ہوا اور پینے کے پانی میں بھی موجود ہوتے ہے۔ اسے مائیکرپلاسٹک کہتے ہیں۔ یہ محض انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس سے پودوں اور جانوروں کی نشونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے آج سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔اسکے استعمال کو روکنے یا کم کرنے کے لئے پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے بہت سی حکومتیں اور فلاحی تنظیمیں آگاہی مہم چلا رہی ہیں ۔ اسکے علاہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر پلانٹس لگائے جا رہے ہیں۔

    کولڈ ڈرنک اور دیگر خوراک بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کی زیادہ سے زیادہ ری سائیکلنگ کریں۔

    مثال کے طور پر جرمنی یا دیگر یورپی ممالک میں آپ کولڈ رنکس یا پانی کی بوتلیں خریدنے جائیں تو اس کی کل قیمت پر آپکو اضافی 25 سے 30 سینٹ دینے پڑتے ہیں۔ یہ رقم پلاسٹک کی بوتل کی ہوتی ہے جو بوتل خالی ہونے کے بعد جب آپ سپر مارکیٹ کے باہر لگی مشین میں ڈالتے ہیں تو آپکو واپس کر دی جاتی ہے۔ مقصد گاہک کو مجبور کر کے پلاسٹک کی بوتلوں کی ری سائیکلنگ کو یقینی ںنانا ہوتا ہے ۔
    بالکل ایسے ہی کئی ممالک میں پلاسٹک، پیپر اور کھانے پینے کے کوڑے کے لیے جگہ جگہ الگ رنگ کے کوڑے دان موجود ہوتے ہیں۔ تاکہ بہتر طریقے سے مختلف قسم کے کوڑے کو الگ کر کے اسے ری سائیکل کیا جا سکے۔

    پلاسٹک کی آلودگی کو روکنے کے لیے 30 مائیکرمیٹر سے موٹے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اُڑ نہ سکیں، پائیدار ہوں اور بار بار استعمال کیے جا سکیں۔ جبکہ ہماری ہاں عوام دہی کے لیے بھی کہتے ہے کہ شار ڈبل کروا رہی ہوتی ہے اور زرا سی ہوا چلنے سے شاپر قوم کی مہنگائی کو دیکھ کر اُڑنے والی نیندوں کیطرح اُڑ رہے ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ زرعی ملک ہے لہذا یہاں ایک وسیع آب پاشی کا نظام ہے۔

    شہروں میں آبادی بڑھنے، ، پہاڑی علاقوں کی سیاحت اور عوام میں بے حسی کے اضافے کے باعث ہماری آبی گزرگاہیں، شہر، دیہات سب پلاسٹک کی لپیٹ میں ہیں۔۔یوں لگتا ہے کچھ عرصے بعد پورا ملک پلاسثک کا بن جائے گا۔

    مگر اس آلودگی کو لیکر حکومتی سنجیدگی، واضح پالیسی یا حکمت عملی کا مکمل فقدان ہے۔اشرافیہ میں بیٹھے "محترم” بابے خود شاپر کی شکل کے ہوتی جا رہے ہیں۔ توندیں اور بے حسی بڑھتی اور عقل اور سر کے بال گھٹتے جا رہے ہیں۔

    پلاسٹک کے تھیلوں پر کسی خاص علاقے یا شہر میں پابندی لگا دینا ہی کافی نہیں ۔ اس حوالے سے آگاہی مہم چلانا، پلاسٹک کے تھیلوں کی کوالٹی کو بہتر بنانا، ایک سے زائد بار پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا، پلاسٹک کے متبادل ماحول دوست پیپر یا کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا، غیر ضروری طور پر پلاسثک کے استعمال کو روکنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ سنجیدہ اقدامات ہیں جن سے ملک میں پلاسٹک کی آلودگی کو کم کر کے انسانوں، اور دیگر جانداروں کے لیےرہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

    ملک کو صاف رکھ کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت اور ماحول دوست چہرا سامنے لا کر اسے غیر ملکی سیاحت کے لیے پُر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو مفت کی روٹیاں اور "گورے کمپلیکس” کے علاوہ بھی کئی طریقے ہیں سیاحت کے فروغ کے لیے جو تادیر اثر رکھتے ہیں۔جن میں سب سے اہم یہ پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ اور ملک کو صاف کرنا ہے۔

    ضرورت واضح حکمت عملی اور شعور کی ہے۔

  • انڈونیشیا میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ،ملک گیر مظاہرے اوراحتجاج

    انڈونیشیا میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ،ملک گیر مظاہرے اوراحتجاج

    جکارتہ:انڈونیشیا میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آگئے اور کئی شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئے۔

    غیرملکی خبرایجنسی کےمطابق دارالحکومت جکارتہ سمیت سورابایا،مکاسار،کینڈاری،ایچ اور یوگیاکارتہ میں طالبعلموں اور لیبر یونین نے مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے ٹائر جلائے اور کئی مقامات پر سڑکیں بھی بلاک کردیں۔

    مظاہرین نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

    انڈونیشیا کے صدر جوکوویڈوڈو نے کہا ہے کہ جب انھوں نے ہفتے کو پیٹرول کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ کا اعلان کیا تو ان کے پاس بہت ہی کم مواقع تھے۔انڈویشیا میں کئی برس سے پیٹرول پر حکومت کی جانب سے سبسیڈیز دی جاتی رہی ہیں۔

    سال 1998 میں اس وقت کے صدر سوہارتو کی جانب سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئی تھیں جس کے بعد ملک گیر طلبہ تنظیموں کی جانب سے مظاہرے اور ہنگامہ آرائی کی گئی تھی جس کے بعد سوہارتو مستعفی ہوگئے تھے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • قیمتوں میں اضافہ: ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی دھمکی دیدی

    قیمتوں میں اضافہ: ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی دھمکی دیدی

    اسلام آباد:بڑھتی ہوئی قیمتوں کیخلاف ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر تک قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کریں گے۔

    ایل پی جی کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس پر ایل پی جی ایسوسی ایشن نے کی ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دیتے ہوئے حکومت کو 10 ستمبر تک قیمتیں کنٹرول کرنے کا الٹی میٹم دیدیا۔

    چیئرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر تک قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کریں گے، اوگرا نے قیمت 212 روپے مقرر کی لیکن فروخت 280 روپے میں ہورہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گھریلو سیلنڈر کی قیمت 2496 مقرر ہے جبکہ مارکیٹ میں 3300 میں فروخت ہو رہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں گیس کی قیمت 270 سے 300 روپے فی کلو وصول کی جارہی ہے۔

    دوسری طرف ملک بھر میں مہنگائی کی شرح انتہائی بلند سطح 44 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی،ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1 اعشاریہ 83 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 23 اشیائے ضروریہ قیمتیں بڑھیں۔رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 47 روپے 42 پیسے بڑھ گئی، فی کلو ٹماٹر 110 رو پے کی اوسط قیمت سے 157 روپے تک پہنچ گئے، پیاز کی فی کلو قیمت میں 35 روپے 6 پیسے کا اضافہ ہوا، آلو کی فی کلو قیمت 3 روپے 88 پیسے بڑھ گئی، انڈوں کی قیمتوں میں فی درجن 7 روپے 25 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 51 روپے 2 پیسے مہنگا ہوا، بچوں کے خشک دودھ کا 390 ملی گرام کا پیکٹ 8 روپے 57 پیسے مہنگا ہوا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق برائلر مرغی کی فی کلو قیمت میں 2 روپے 48 پیسے کا اضافہ ہوا، گندم کا 20 کلو آٹے کا تھیلا 7 روپے تک مہنگا ہوا، دال مونگ، ماش، جلانے کی لکڑی بھی مہنگی ہوئی، ایک ہفتے کے دوران صرف 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے دال مسور کی فی کلو قیمت میں 3 روپے 91 پیسے کی کمی ہوئی، ویجی ٹیبل گھی کی قیمتوں میں 5 روپے 52 پیسے، چینی، کیلے، ڈالڈہ کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی جبکہ حالیہ ہفتے تازہ دودھ اور دہی سمیت 21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات