Baaghi TV

Tag: ناسا

  • ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا آرٹیمیس 2 مشن ایک بار پھر ملتوی

    ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا آرٹیمیس 2 مشن ایک بار پھر ملتوی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند پر انسانوں کے بھیجنے کا منصوبہ پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے-

    ناسا کی جانب سے آرٹیمیس 2 مشن کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہےاس مشن کے تحت 4 خلا بازوں کو 5 دہائیوں بعد چاند کے مدار پر بھیجے جانا تھاپہلے اس مشن کے لیے 8 فروری کی تاریخ طے کی گئی تھی مگر پھر اسے مارچ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا،اب ایک بار پھر اسے ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب اسے اپریل میں روانہ کیے جانے کا امکان ہے۔

    اس سے قبل فروری کے شروع میں آرٹیمس 2 کو راکٹ سسٹم کی آزمائش کے دوران سامنے آنے والے مسائل کے باعث ملتوی کیا گیا تھااب ناسا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایک بار پھر راکٹ سسٹم میں مسائل کو دریافت کیا گیا ہےناسا کی جانب سے 6 مارچک و یہ مشن روانہ کیے جانا تھا مگر راکٹ کے اوپری حصے میں ہیلیم کے بہاؤ میں مسائل کو دریافت کیا گیا ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین اس نئی دریافت کے باعث مارچ میں آرٹیمس 2 مشن کو روانہ کرنا ممکن نہیں رہا۔

    سرحد پار دہشتگردی اب برداشت کی حد سے تجاوز کر چکی ہے،صدر مملکت

    واضح رہے کہ آخری بار ناسا نے 1972 میں اپوپو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا اور اب 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایسا دوبارہ کیا جا رہا ہے 10 روزہ آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز موجود ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ پڑتال کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہوسکیں ،یہ مشن پہلے 2 بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔

    پیرا فورس اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف پریس کانفرنس ،ہڑتال کی وارننگ

    یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گاآرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گےآرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گااس کے مقابلے میں آرٹیمس 2 مشن کو ناسا کی تاریخ کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا ،اس راکٹ کو آرٹیمس 1 کو چاند پر بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔

  • چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

    چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

    ناسا نے ہفتے کے روز 2 روزہ مشق کے ساتھ چاند کے اپنے نئے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی-

    کمانڈر رِیڈ وائسمین اور ان کے عملے کو پہلے ہی جراثیم سے بچاؤ کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، یہ خلا باز 1972 کے بعد چاند کی طرف روانہ ہونے والے پہلےانسان ہوں گےوہ یوسٹن میں اپنے مرکز سےاس مشق کو مانیٹر کریں گے، اور راکٹ کی پرواز کی منظوری ملنے کے بعد کینیڈی اسپیس سینٹر جائیں گے۔

    322 فٹ (98 میٹر) بلند اسپیس لانچ سسٹم راکٹ 2 ہفتے قبل لانچ پیڈ پر پہنچایا گیا تھا، اگر پیر کے روز ایندھن بھرنے کا ٹیسٹ کامیاب ہوا تو ناسا ایک ہفتے کے اندر راکٹ کو لانچ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، ٹیمیں راکٹ کے ٹینک میں 7 لاکھ گیلن سے زائد انتہائی سرد ایندھن ڈالیں گی ،سرد موسم کی وجہ سے ا یندھن بھرنے کی مشق اور لانچ 2 دن کے لیے ملتوی ہوئی ہے، اب 8 فروری کو راکٹ کے پرواز کرنے کا امکان ہے۔

    بھارت اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں ،خواجہ آصف

    اورین کیپسول میں سوار امریکی اور کینیڈیائی خلا باز چاند کے گرد پرواز کریں گے اور پھر بغیر وقفے کے واپس آئیں گے اور آخرکار پیسفک میں واپس پہنچیں گے یہ مشن تقریباً 10 دن جاری رہے گا،ناسا نے اپالو پروگرام کے دوران 1968 سے 1972 کے درمیان 24 خلا بازوں کو چاند تک بھیجا تھا، جن میں سے 12 نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔

    ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر اپنا نام بھجوانے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے نام اکٹھے کرنے شروع کردیے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ناسا نے لکھا کہ اپنا نام چاند پر بھیجنے کے موقع کو ضائع نہ کریں،ادارہ ناموں کو اکٹھا کر رہا ہے جن کو ایک ایس ڈی کارڈ میں بھر کر آرٹیمیس دوم مشن کے دوران اورین میں بھیجا جائے گا،اپنے پیارے دوستوں، بچوں اور پیاروں کے لیے بھی بورڈنگ پاس نہ بھولیں۔

    واضح رہے آرٹیمس دوم مشن کے لیے لانچ پیڈ پر راکٹ کو تیار کیا جا رہا ہے جس کی لانچ فروری میں متوقع ہے 10 روزہ مشن میں ناسا کے چار خلانورد چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آئیں گے،یہ مشین امریکی خلائی ادارے کی نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر انسان کو چاند پر اتارنے کی کوشش کی ایک کڑی ہے۔

    آئل ٹینکر سے نو کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد، ملزم گرفتار

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

  • آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    زمین اور مریخ کے درمیان تمام ریڈیو رابطے کچھ دنوں کے لیے منقطع ہو جائیں گے، کیونکہ سورج دونوں سیاروں کے درمیان آ رہا ہے، یہ ایک قدرتی مظہر ہے جسے سولر کنجکشن کہا جاتا ہے اس دوران مریخ پر موجود تمام روبوٹک مشنز سے براہِ راست رابطہ عارضی طور پر معطل کردیا جائے گا۔

    ناسا کے مطابق، 29 دسمبر 2025 سے 9 جنوری 2026 تک کسی بھی مریخی مشن کو نئی ہدایات نہیں بھیجی جائیں گی اس دوران سورج کی انتہائی گرم، برقی چارج شدہ گیسیں جو پلازما کہلاتی ہیں، ریڈیو سگنلز میں خلل ڈال سکتی ہیں، جس سے کسی بھی کمانڈ کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک معمولی رکاوٹ یا بگ، کسی سطر کے ایک بِٹ کو بھی بدل دے، تو پورا سسٹم متاثر ہو سکتا ہے، اور اربوں ڈالر کے مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

    گزشتہ دو دہائیوں سے مریخ کے گرد مدار میں گھومنے والے سیٹلائٹس، سطح پر اترے لینڈرز اور متحرک روورز مسلسل سرخ سیارے کا مشاہدہ کررہے ہیں ان مشنز نے مریخ کی فضا، موسم، ارضیاتی ساخت اور وہاں ممکنہ قدیم زندگی کے آثار کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں، تاہم سولر کنجنکشن کے دوران یہ تمام مشنز عملی طور پر خود مختار ہوجاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سولر کنجنکشن کے دوران مریخ پر موجود خلائی مشینیں زمین سے ہدایات لیے بغیر خود ہی کام کرتی ہیں۔

    راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع

    سولر کنجنکشن شروع ہونے سے پہلے ناسا کے ماہرین مریخ پرموجود ہر خلائی مشین کو پہلے ہی ایک مکمل منصوبہ بھیج دیتے ہیں، جس میں تقریباً دو ہفتوں تک کے تمام کام طے کیے جاتے ہیں، ان ہدایات کے مطابق خلائی مشینیں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سے آلات عارضی طور پر بند رکھنے ہیں، کہاں توانائی بچانی ہے اور کون سا سائنسی ڈیٹا اکٹھا کر کے محفوظ کرنا ہے، تاکہ زمین سے رابطہ نہ ہونے کے باوجود مشن محفوظ طریقے سے اپنا کام جاری رکھ سکے۔

    کچھ مشنز اس دوران اپنے حساس آلات عارضی طور پر بند کردیتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جاسکے، جبکہ بعض روورز اور مدار گرد مشینیں ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں اور اسے اپنی اندرونی یادداشت میں محفوظ کرلیتی ہیں چند مشنز محدود پیمانے پر سگنل بھیجتے بھی رہتے ہیں، اس آگاہی کے ساتھ کہ اس کا کچھ حصہ زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوسکتا ہے۔

    کنسرٹ میں پرفارمنس کے دوران شائے گل زخمی ہو گئیں

    اس پورے عمل میں سب سے اہم اصول یہی ہے کہ زمین سے کوئی نئی ہدایت نہ بھیجی جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر کمانڈ کے کسی ایک بٹ میں بھی خرابی آگئی تو برسوں کی محنت اور اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ مشن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    آج کل مریخ پر موجود خلائی گاڑیاں خاصی حد تک خودمختارہو چکی ہیں۔ وہ خود دیکھ سکتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک کام کر رہا ہے یا نہیں، اور اگر کوئی خرابی ہو جائے تو خود کو محفوظ حالت میں لے آتی ہیں زمین سے نئے حکم ملے بغیر بھی وہ پہلے سے بنے منصوبے کے مطابق اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔

    اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    ناسا کے ماہرین اس کو ایسے سمجھاتے ہیں جیسے والدین کسی ذمہ دار بچے کو چند دن کے سفر پر بھیج دیں۔ تمام تیاری پہلے کر لی جاتی ہے، اور پھر اس پر بھروسا کر کے اسے خود کام کرنے دیا جاتا ہےمشن پر کام کرنے والی ٹیموں کے لیے یہ وقت ایک طرح کا امتحان بھی ہوتا ہے، کیونکہ انہیں اپنی خلائی مشینوں کو کچھ دنوں کے لیے خود پر چھوڑنا پڑتا ہے، اور ساتھ ہی یہ روزانہ کی مسلسل نگرانی سے ایک مختصر آرام کا موقع بھی بن جاتا ہے۔

    دوسری جانب یہ وقفہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ چاہے ہماری ٹیکنالوجی کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، قدرت کے کچھ قوانین ایسے ہیں جن کے سامنے انسان کو انتظار کرنا پڑتا ہے-

  • لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت

    لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت

    ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت کر لیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرینِ فلکیات نے ناسا کی جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک نہایت عجیب و غریب سیارہ دریافت کیا ہے جس کی ساخت لیموں سے مشابہ بتائی جا رہی ہےسائنس دانوں کے مطابق اس غیر معمولی سیارے کی خصوصیات ستاروں اور سیاروں کے درمیان موجود روایتی فرق کو دھندلا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرین فلکیات نے اس سیارے کو PSR J2322-2650b کا نام دیا ہےیہ سیارہ اپنے مرکزی ستارے کے انتہائی قریب گردش کر رہا ہے جہاں اس کا فاصلہ محض 10 لاکھ میل ہے جو زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے تقریباً 100 گنا کم ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ PSR J2322-2650b کا ایک سال صرف 7.8 گھنٹوں پر مشتمل ہے جو اسے اب تک دریافت ہونے والے تیز ترین مدار والے سیاروں میں شامل کرتا ہےاس سیارے کا مرکزی ستارہ ایک پلسر ہے یعنی ایک انتہائی تیز رفتار گھومنے والا نیوٹرون ستارہ جس کی شدید کششِ ثقل نے سیارے کی ساخت کو بگاڑ کر بیضوی بنا دیا ہے جو دیکھنے میں لیموں کی شکل سے مشابہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس سیارے کا ماحول بھی غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے جس میں ہیلیئم اور کاربن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہےانہی عناصر کی وجہ سے سیارے پر نہایت تیز ہوائیں چلتی ہیں، جو اس کے ماحول کو مزید منفرد بنا دیتی ہیں،PSR J2322-2650b جیسی دریافتیں کائنات کی ساخت اور سیاروں کی اقسام کے بارے میں موجود سائنسی تصورات کو چیلنج کرتی ہیں اور یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید اجسام دریافت ہوں جو ستاروں اور سیاروں کے درمیان فرق کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔

  • خلا سے لی گئی خانہ کعبہ کی دل چھو لینے والی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    خلا سے لی گئی خانہ کعبہ کی دل چھو لینے والی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    مکہ مکرمہ، خلا سے لی گئی مکہ مکرمہ کی تصویر میں خانہ کعبہ ہیرے کی مانند چمکتا ہوا دیکھا گیا-

    مسلمانوں کے مقدس ترین مقام کی ایک تصویر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جارہی ہے، خانہ کعبہ اس کی دلکش تصویر کو خلا سے بنایا گیا ہے، اس تصویر میں مقدس مقام انتہائی روشن نقطے کی طرح نظر آرہا ہے، یہ تصویر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے تقریباً 400 کلومیٹر کی بلندی پر لی گئی۔

    https://x.com/astro_Pettit/status/1995634887584612841?s=20

    یہ نادر منظر رواں سال خلا کے 220 دن کے دورے سے واپس آنے والے NASA کے سائنسدان اور فوٹوگرافر ڈونلڈ پیٹٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرشیئر کیا ہےڈونلڈ پیٹٹ نے تصویرکے ساتھ لکھا کہ مکہ مکرمہ کی مدار سے لی گئی تصاویر میں مرکز میں روشن نقطہ خانہ کعبہ ہے، جو اسلام کا مقدس ترین مقام ہے، یہ مقام خلا سے بھی واضح طور پر نظر آتا ہے اور اس کی روشنی اور چمک دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ جاتا ہے۔

    ڈونلڈ پیٹٹ اپنے چوتھے آئی ایس ایس مشن کے دوران خلائی فوٹوگرافی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں, انہوں نے یہ دلکش منظر اسٹیشن کی کاپولا ونڈو سے ہائی ریزولوشن نِکون کیمرے کے ذریعے قید کیا۔

    nasa

    سوشل میڈیا صارفین نے بھی خانہ کعبہ کی روشنی کو ایک حیرت انگیز منظر قرار دیا،ماہرین نے بھی تصدیق کی کہ یہ تصویر جدید سیٹلائٹ اور خلا میں لی گئی فوٹوگرافی کے ذریعے ممکن ہوئی ہے، جو مذہبی اور سائنسی دلچسپی دونوں کا محور بن گئی،یہ تصویر نہ صرف مسلمانوں کے لیے روحانی اہمیت رکھتی ہے بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کو اسلامی مقدس مقامات کی عظمت اور روشنی کی حقیقت دکھانے والا ایک منفرد منظر بھی ہے۔

  • ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ

    ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔

    غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 5 دہائیوں بعد انسان ایک بار چاند کے مدار پر واپسی کیلئے تیار ہے ناسا نے مقررہ وقت سے پہلے ہی چاند کے مدار پر انسان بردار خلائی مشن کو بھیجنے کا اعلان کر دیا۔

    ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلی انسان بردار پرواز فروری 2026 میں چاند کی جانب بھیجی جاسکتی ہے۔ اور ناسا کا آرٹیمس پروگرام بنیادی طور پر انسانوں کو 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک بار پھر چاند پر واپس بھیجنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    نومبر 2022 میں آرٹیمس ون مشن چاند پر جاکر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، لیکن اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا اس 10 روزہ آرٹیمس ٹو مشن کا مقصد چاند کے گرد انسانوں کو پہنچانا اور پھر واپس لانا ہےخلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے، یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہو گا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔

    ٹی ٹوئنٹی کی رینکنگ جاری،بابر اور صائم ایوب کی تنزی

    یہ مشن پہلے اپریل 2026 میں بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم اب اسے فروری میں بھیجے جانے کا امکان ہےناسا کی قائم مقام ڈپٹی ایسوسی ایڈمنسٹریٹر لکیشا ہاکنس نے کہا کہ آرٹیمس ٹو مشن کو جلد از جلد 5 فروری تک بھیجا جاسکتا ہے۔ تاہم ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ خلا بازوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔

    اس کے بعد آرٹیمس تھری مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گا، 2027 میں شیڈول آرٹیمس تھری مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔

    گوگل نے پاکستان میں اے آئی پلس پلان متعارف کرا دیا

  • ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا۔

    ناسا کے سیٹلائٹ نے حال ہی میں امریکی ریاست الاسکا کے ساحل کی ایک تصویر جاری کی ہے اس تصویر میں ساحل پر ایک جزیرہ دیکھا جاسکتا ہے جو وہاں طویل عرصے سے جمی برف پگھلنے سے تشکیل پایا ہےیہ جزیرہ السیک جھیل کے اندر واقع ہے جہاں السیک گلیشیئر بتدریج پگھل رہا ہے اور علاقے کو پانی سے بھر رہا ہے،ناسا نے السیک گلیشیئر دو تصاویر شیئر کی ہیں جن میں سے ایک 5 جولائی 1984ء کو لی گئی پرانی تصویر ہے اور دوسری 6 اگست 2025ء کو لی گئی نئی تصویر ہے۔

    امریکی خلائی ادارے نے دونوں تصاویر کا آپس میں موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ السیک گلیشیئر نے ماضی میں ایک پہاڑ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جسے پرو نوب (Prow Knob) کہا جاتا تھا اور اب پچھلی 4 دہائیوں کے دوران یہ گلیشیئر 5 کلو میٹر سے زیادہ پگھل گیا جس کے بعد وہاں اب ایک جھیل بن گئی ہے نئی تصویر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پہاڑ اب گلیشیئر سے مکمل طور پر الگ ہو گیا ہے جو کہ پانی سے گھرا ہوا ہے اور اسے سرکاری طور پر ایک جزیرے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

    jazeera

  • ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز  کہکشاں دریافت کر لی

    ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز کہکشاں دریافت کر لی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کا استعمال کرتے ہوئے ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز کہکشاں JADES-GS-z13-1 دریافت کی ہے، جو بگ بینگ کے صرف 33 کروڑ برس بعد وجود میں آئی تھی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ کہکشاں غیر متوقع طور پر چمکدار الٹرا وائلٹ (یو وی) روشنی، خاص طور پر ہائیڈروجن ایٹمز سے خارج ہو تے لائمین-الفا ظاہر کرتی ہے، جو ابتدائی کائنات میں موجود گھنے غیر متحرک ہائیڈروجن بادلوں کی موجودگی کے باوجود حیران کن ہے اس اخراج کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کی ری آئنائزیشن—جب یو وی روشنی نے ہائیڈروجن ایٹمز کو آئنائز کر کے دوبارہ نمودار کی—پہلے سے متو قع وقت سے قبل واقع ہوئی۔

    باغبانپورہ قبرستان سے لڑکی کی لاش ملنے کے معاملے میں اہم انکشافات

    JADES کائنات کی مشاہدے میں آنے والی سب سے دور کہکشاؤں میں سے ہے اس کی روشنی کو جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ تک پہنچنے میں تقریباً 13.5 ارب سال لگے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کہکشاں کائنات کی عمر کے قریب قریب ہے، یہ دریافت ابتدائی کہکشاؤں کی تشکیل کے بارے میں موجود نظریات کو چیلنج کرتی ہے اور ابتدائی کائنات کی حالت کے بارے میں نئے بصیرت فراہم کرتی ہے۔ ​

    پی ایس ایل 10 کے ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز ہوگیا

  • 9ماہ سے خلا میں پھنسے خلابازوں کی زمین پر واپسی

    9ماہ سے خلا میں پھنسے خلابازوں کی زمین پر واپسی

    جون 2024 میں 8 روزہ مشن پر انٹرنیشل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں جانے والے 2 امریکی خلا باز آخرکار 9 ماہ بعد زمین پر واپس لوٹ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ دونوں خلا باز بوئنگ کے اسٹار لائنر اسپیس کرافٹ کی اولین انسان بردار پرواز کے ذریعے آئی ایس ایس پہنچے تھے مگر پھر وہی پھنس گئے کیونکہ اسٹار لائنر انہیں واپس لانے کے قابل نہیں رہا Butch Wilmore اور سنیتا ولیمز کی واپسی میں ائیر لائنر کے تھر سٹرز رکاوٹ بنے جن کے باعث اسٹار لائنر کیپسول کو ڈوکنگ کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوا۔

    اس کے بعد ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ دونوں کی واپسی اسپیس ایکس کے ڈراگون اسپیس کرافٹ سے ہوگی، اسپیس ایکس کا اسپیس کرافٹ 9 ماہ بعد اب دونوں کو واپس لا رہا ہےان دونوں کی واپسی کے لیے اسپیس ایکس کریو 9 مشن میں شامل 2 افراد کو نکال دیا گیا تھا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

    ناسا کی جانب سے ان کریو مشنز کے ذریعے آئی ایس ایس میں موجود عملے کو تبدیل کیا جاتا ہے یہ مشن ستمبر 2024 میں لوگوں کو لے کر آئی ایس ایس پہنچا تھا اور اب 18 مارچ کو زمین پر 9 ماہ سے خلا میں پھنسے خلا بازوں کو واپس لے کر لوٹ رہا ہے۔

    ناسا کی جانب سے پہلے منصوبہ بنایا گیا تھا کہ کریو 9 مشن کے عملے کی واپسی فروری میں ہوگی مگر اسپیس ایکس کا ڈراگون مشن ایک ماہ تاخیر سے روزانہ ہوا۔

    کریو 10 مشن کے تحت 4 افراد کو 14 مارچ کو آئی ایس ایس کے لیے روانہ کیا گیا تھا اور اس کا کیپسول اسپیس اسٹیشن سے 29 گھنٹے بعد جڑ گیا تھا۔

    ہیپاٹائٹس سی کا بہت جلد ملک سے مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔وزیراعظم

    اب Butch Wilmore اور سنیتا ولیمز کے ساتھ آئی ایس ایس میں موجود ناسا اور روس کے 2 خلا باز بھی زمین پر واپس لوٹ رہے ہیں، طویل عرصے تک خلا میں پھنسے رہنے والے جوڑے نے اس عرصے مٰں وہاں سائنسی تجربات کیے جبکہ آئی ایس ایس کی مر مت میں بھی حصہ لیا،سنیتا ولیمز نے خلا مٰں چہل قدمی بھی کی۔