Baaghi TV

Tag: ناسا

  • کائنات نقطہ آغاز کی طرف گامزن،حیران کُن معلومات سامنےآگئیں

    کائنات نقطہ آغاز کی طرف گامزن،حیران کُن معلومات سامنےآگئیں

    سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات تقریباً 13.8 بلین سال پہلے ہونے والے بگ بینگ کے بعد سے پھیل رہی ہے لیکن اسپیس اور ٹائم کے معکوس پھیلاؤ کی وجہ سے اس میں تیزی سے “قابل ذکر” تبدیلی آسکتی ہے اور یہ بڑے سکڑاؤ کی طرف بڑھ رہی ہے جو شاید ایک نیا بگ بینگ ثابت ہو۔

    اس سے پہلے کہ آپ اپنا سامان باندھنا شروع کریں اور نئی کائنات میں منتقل ہونے کے طریقوں کے بارے میں سوچیں، جان لیں کہ جب سائنس دان ان چیزوں کی پیمائش کرتے ہیں تو وہ اسے لاکھوں سالوں کے پیمانے پر کرتے ہیں۔

    سائنسی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق، “کائنات میں توسیع کا خاتمہ حیران کن طور پر جلد ہی ہو سکتا ہے۔”لیکن جلد ہی کا مطلب ہے “اگلے 65 ملین سالوں کے اندر”۔

    محقق پال اسٹین ہارڈ نے لائیو سائنس کو بتایا کہ “65 ملین سال پہلے ہی چکژولب سیارچہ زمین سے ٹکرایا تھا اور روئے زمین پر ڈائنوسارز کے خاتمے کا باعث بنا تھا۔”ان کا کہنا ہے کہ “کائناتی پیمانے پر، 65 ملین سال نمایاں طور پر مختصر ہیں۔”

    سٹین ہارڈ اور ساتھی محققین آندرے کوسمین اور اینا ایجاس کے مقالے کا کہنا ہے کہ ایک بار جب توسیع ختم ہو جائے گی تو کائنات دوبارہ سکڑنا شروع کر دے گی، اور اس میں موجود تمام مادے اور توانائی ایک چھوٹے حجم میں قید ہو جائیں گے۔

    مقالے میں مزید بتایا گیا کہ ہر ستارہ جو ہم رات کے آسمان میں دیکھ سکتے ہیں وہ ایک عظیم بلیک ہول سے ٹکرا جائے گا جس کا افق اربوں نوری سال پر محیط ہے۔

    یہ سب کب ہوگا، اور اگر یہ بالکل ہوگا بھی تو اس کا انحصار اس قوت کی پیمائش پر ہے جسے سائنس دان صرف مدھم انداز میں سمجھتے ہیں۔

    ڈارک انرجی ایک پراسرار قوت کو دیا جانے والا نام ہے جو کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کو کم کرنے کی بجائے وقت کے ساتھ ساتھ تیز تر کر رہی ہے۔

    لیکن نیو جرسی میں پرنسٹن یونیورسٹی میں پرنسٹن سینٹر فار تھیوریٹیکل سائنس کے ڈائریکٹر سٹین ہارڈ کے مطابق، ڈارک انرجی وہ قوت نہیں ہے جس پر سائنس دانوں نے کبھی یقین کیا تھا بلکہ ایک حقیقی مادہ ہے جسے وہ “Quintessence” کہتے ہیں۔

    یہ مادہ زوال پذیر ہوسکتا ہے، کائنات کے پھیلاؤ کے لیے دباؤ کو کمزور کر سکتا ہے اور کشش ثقل کو راستہ دے سکتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے ناقابل یقین حد تک گھنے، اور ناممکن طور پر گرم یکسانیت کی طرف لے جائے گا۔

    کچھ نظریات پیش گوئی کرتے ہیں کہ کائنات کے سکڑنے کے ساتھ ہی وقت پیچھے کی طرف بھاگنا شروع کر سکتا ہے۔

    اگرچہ اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ پیش گوئیاں، جیسا کہ سائنس دانوں کی ایک ٹوٹتی ہوئی کائنات کی پیش گوئی، ممکن ہے کہ بنی نوع انسان کے ڈائنوسار کے راستے پر جانے کے کافی عرصے بعد خالصتاً نظریاتی رہیں۔

  • ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی  ویڈیو جاری کردی

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ نے مریخ پر سورج گرہن کی مختصر ویڈیو جاری کردی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے مریخ پر سورج گرہن کی جاری کی گئی ویڈیو صرف 49 سیکنڈ کی ہے ور یہ مریخ سے دیکھے جانے والے سورج گرہن کی سب سے پہلی ویڈیو بھی ہے۔


    ناسا کے مطابق مریخ پر بھیجے گئے ’’پرسرویرینس روور‘‘ نے یہ ایچ ڈی ویڈیو 2 اپریل 2022 کے روز اپنے طاقتور ’’ماسٹ کیم زی کیمرا سسٹم‘‘ سے بنائی تھی، جس میں مریخ کے چاند ’’فوبوس‘‘ کو سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    ناسا کے مطابق زمین پر سورج گرہن کے دوران چاند تقریباً مکمل طور پر سورج کو چھپا لیتا ہے اور دن میں بھی رات جیسا منظر ہوجاتا ہے اس کے برعکس، ناسا کی ویڈیو میں مریخی چاند فوبوس کو سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے ضرور دیکھا جاسکتا ہے لیکن وہ سورج کا معمولی حصہ اپنے پیچھے چھپا سکا ہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ فوبوس، ہماری زمین کے چاند سے 157 گنا چھوٹا، یعنی صرف 22 کلومیٹر چوڑا ہے اتنی کم جسامت کی وجہ سے وہ سورج کا چھوٹا سا حصہ ہی اپنے پیچھے چھپا سکتا ہے جبکہ مریخ کا دوسرا چاند ’’ڈیموس‘‘ اس سے بھی چھوٹا ہے، جس کی چوڑائی محض 13 کلومیٹر ہے یہ دونوں چاند ہی بڑے پتھروں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    زمین کا چاند ان دونوں کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑا ہے جس کا قطر 3475 کلومیٹر ہے۔

    واضح رہے کہ ناسا کا ’’پرسرویرینس روور‘‘ اس وقت مریخ پر ایک وسیع گڑھے ’’جزیرو‘‘ میں ایک ایسے مقام پر موجود ہے جہاں سے ارد گرد کے قریبی اور دور دراز کا نظارہ دیکھا جاسکتا ہے پرسرویرینس نے مریخ پر سورج گرہن کا منظر بھی یہیں سے فلم بند کیا ہے۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین نے ستارے پر فوکس کر کے تصویر حاصل کر لی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ تصاویر دس لاکھ میل یعنی 16 لاکھ کلومیٹر کی دوری سے بھیجی گئی ہیں، جن میں دور کہکشاں کا ایک روشن ستارہ سورج کی طرح چمکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے آزمائشی طور پر ایک ستارے کو فوکس کیا تھا اور تصویر کا معیار اُن کی امیدوں سے بھی کہیں زیادہ ہےتاہم ناسا کا کہنا ہے کہ دوربین کو مکمل طور پر فعال اور قابلِ استعمال قرار دینے سے پہلے اب بھی بہت کام باقی ہے۔


    ناسا کی خلائی دوربین نے جس ستارے کی تصویر زمین پر بھیجی ہے، وہ اس سے ایک سو گنا زیادہ واضح اور روشن ہے جتنا کہ زمین سے ایک انسانی آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے جس ستارے کی تصویر بھیجی گئی ہے وہ زمین سے دو ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    ناسا نے یہ دور بین دسمبر کے آخر میں ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی تھی، جسے دس لاکھ میل کی دوری پر ایک ایسے مقام پر نصب کیا جانا تھا جہاں سے ان کہکشاؤں کے بارے میں تصویری معلومات حاصل کی جا سکیں، جن کے متعلق زمین سےجاننا ممکن نہیں ہے تحقیق کا مقصد کائنات کی تخلیق کے راز سے پردہ اٹھانا ہے اور یہ جاننا ہے کہ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی۔ وہ کتنی وسیع ہے اور اس کی انتہا کیا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ ناسا نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی کھینچی گئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی جن میں جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

  • چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے 50 سال قبل چاند سے زمین پر لائے گئے پتھروں کے آخری مجموعے کو آج قریباً 50 برس بعد کھول دیا گیا ہے پتھروں کو زمین پر لانے کے بعد فوراً ایک مکمل طور پر مہربند نلکیوں نما پیکنگ میں رکھا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 73001 نامی یہ زیر تحقیق نمونہ خلانوردوں، یوجین سرنن اور ہیریسن شمٹ نے دسمبر 1972 میں اپالو 17 مشن کے دوران جمع کیا تھا، جو اس پروگرام کا آخری نمونہ تھا۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس کی قیادت اپالو نیکسٹ جنریشن سیمپل اینالیسس پروگرام (ANGSA) کر رہی ہے، جو ایک سائنس ٹیم ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب پر آنے والے آرٹیمس مشن سے پہلے نمونے اور چاند کی سطح کے بارے میں مزید جاننا ہے۔

    ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے اپولو مشنز کے ذریعے زمین پر کُل 2,196 چٹانوں کے نمونے لائے گئے ہیں جس میں سے ایک نمونے کو اب کھولنا شروع کیا گیا ہے، جو آج سے 50 سال قبل اکٹھا کیا گیا ہے، یہ پتھر 35 سیںٹی میٹر لمبی اور 4 سینٹی میٹر چوڑی ٹیوب میں رکھا گیا تھا یہ پتھر چاند کی مشہور وادی ٹارس لیٹرو سے اٹھایا گیا تھا۔

    آثار، معدومیات اور چاند کے پتھروں کی تحقیق میں یہ چلن عام ہے کہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق سے گزارا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت عشروں قبل حقائق کےمقابلے میں قدرے تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس پتھر کے مطالعے میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سےامکان ظاہرکیا جارہا ہے کہ 73001 نامی جس نمونے کو کھولا جارہا ہے اس میں طیران پذیر مادے ار گیس یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    واشنگٹن میں ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا کہ اپالو لینڈنگ سائٹس پر چاند کے نمونوں کی ارضیاتی تاریخ اور ارتقاء کو سمجھنے سے ہمیں ان نمونوں کی تیاری میں مدد ملے گی جن کا سامنا آرٹیمس کے دوران ہو سکتا ہے آرٹیمس کا مقصد قطب جنوبی کے قریب سے ٹھنڈے اور مہر بند نمونے واپس لانا ہے۔ ان نمونوں کو جمع کرنے اور منتقل کرنے، ان کا تجزیہ کرنے، اور سائنسدانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے انہیں زمین پر ذخیرہ کرنے کے لیے درکار آلات کو سمجھنے کا یہ ایک دلچسپ سیکھنے کا موقع ہے۔

    جب اپالو کے خلابازوں نے تقریباً 50 سال پہلے یہ نمونے واپس کیے تو NASA کے پاس ان میں سے کچھ کو نہ کھولے اور قدیم رکھنے کی دور اندیشی تھی۔

    ناسا ہیڈ کوارٹر میں پلینٹری سائنس ڈویژن کی ڈائریکٹر لوری گلیز نے کہاایجنسی جانتی تھی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرے گی اور سائنس دانوں کو مستقبل میں نئے سوالات کو حل کرنے کے لیے مواد کا نئے طریقوں سے مطالعہ کرنے کی اجازت دے گی،اے این جی ایس اے کا اقدام ان خاص طور پر ذخیرہ شدہ اور سیل شدہ نمونوں کی جانچ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آرتیمس چاند پر ناسا کا اگلا مشن ہے جبکہ ایجنسی 2025 تک چاند پر انسان بردار سواریاں بھیجنا چاہتی ہیں اس ضمن میں آرتیمس اول نامی خلائی جہاز اسی سال روانہ کیا جائے گا دیرینہ مطالبے کے بعد اب کانگریس نے اس منصوبے کے لیے رقم بھی جاری کردی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

  • مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ نے چند روز قبل جاری کی جس میں ایک چھوٹا سا پودا دکھائی دے رہا ہے جو بظاہر مٹی سے بنا ہے-

    باغی ٹی وی : اس تصویر کو مریخ پر موجود ’’کیوریوسٹی روور‘‘ نے اپنے طاقتور کیمرے کی مدد سے کھینچا ہے ناسا نے کیوریوسٹی نامی یہ خودکار گاڑی یعنی روور 2012 میں مریخ پر اتاری تھی اور تب سے آج تک یہ مریخ کے مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے وہاں کی ہزاروں تصویریں کھینچ کر زمین پر بھیج چکی ہے-

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی


    ناسا کے مطابق یہ تازہ ترین تصویر اس روور نے جمعہ 25 فروری 2022 کے روز بھیجی تھی جسے ایک ہی مقام کی مختلف زاویوں سے لی گئی آٹھ تصویروں کو یکجا کرکے تیار کیا گیا ہے۔

    کیوریوسٹی روور کے روبوٹ بازو پر نصب ’’مارس ہینڈ لینس امیجر‘‘ (MAHLI) نے پوزیشن بدل بدل کر اس جگہ کی چند تصویریں کھینچیں جنہیں اس کے خودکار امیج پروسیسر کی مدد سے وہیں پر یکجا کرکے حتمی تصویر میں تبدیل کیا گیا۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا


    ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس تصویر کو مریخ پر زندگی کا ثبوت ہر گز نہ سمجھا جائے بلکہ وہاں جاری مختلف قدرتی عوامل کے نتیجے میں (جن کا زندگی سے کوئی تعلق نہیں) مریخ کی مٹی اور چھوٹے چھوٹے پتھروں نے آپس میں مل کر ایسی شکل اختیار کرلی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    قبل ازیں امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی ستاروں کی کھینچی ہوئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی یہ تصویر شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی تھی جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی ستاروں کی کھینچی ہوئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی یہ تصویر شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی ہے جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    فوٹو:ناسا
    واضح رہے کہ دس ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی، دنیا کی مہنگی ترین خلائی دوربین ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا اصل مشن ابھی شروع نہیں ہوا ہے بلکہ آزمائشی مرحلے میں اس کے 18 آئینوں کی سیدھ انتہائی احتیاط سے درست کی جارہی۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    اس بارے میں ناسا نے تصویر کے ساتھ ایک پریس ریلیز بھی جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر کھینچنے کا آغاز 2 فروری سے ہوا جبکہ اسے مکمل ہونے میں 25 گھنٹے لگ گئے۔

    فوٹو بشکریہ: ناسا
    ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ نے دُبّ اکبر (Ursa Major) کے مطلوبہ علاقے میں 156 مقامات کا مشاہدہ کیا اور تصویریں کھینچیں۔ یہ علاقہ زمین سے دکھائی دینے والے پورے چاند جتنا ہے اس دوران خلائی دوربین کے دس نیئر انفراریڈ کیمروں کی مدد سے اس علاقے کی 1,560 تصویریں کھینچی گئیں جنہیں بعد ازاں آپس میں جوڑ کر 2 ارب پکسل والی ایک بڑی تصویر تیار کی گئی۔

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…

    فی الحال ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا ہر آئینہ جداگانہ طور پر کام کررہا ہے لیکن آئندہ چند ماہ میں یہ تمام آئینے ایک دوسرے کے ساتھ اس انداز سے ترتیب میں لائے جائیں گے کہ وہ ایک بہت بڑے آئینے کی طرح کام کرنے لگیں گے۔

    اس دوران ہر مرحلے میں جہاں آئینوں کی ’سیدھ‘ درست کی جائے گی، وہیں آزمائشی تصویریں زمینی مرکز تک نشر کرکے اس دوربین کے مواصلاتی نظام کو بھی جانچا جاتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا


    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے…


    ناسا کے مطابق اس منصوبے میں حساس نوعیت کی سیکڑوں پیچیدگیاں ہیں جو شاید ہی کسی خلائی دوربین نے اس سے پہلے دیکھی ہوں گی۔ اسی لیے پورے مشن اور کمانڈ سسٹم کو نازک قرار دیا گیا تھا جیمزویب خلائی دوربین بیضوی مدار میں سورج کے گرد چکر لگائے گی جبکہ زمین سے اس کا اوسط فاصلہ تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر رہے گا۔ خلاء کے انتہائی تاریک ماحول میں زیریں سرخ (انفراریڈ) شعاعوں کے ذریعے یہ کائنات کے ان دور دراز مقامات کو بھی دیکھ سکے گی جو اس سے پہلے کسی دوربین نے نہیں دیکھے۔

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    یہ مقامات ہم سے تقریباً 13 ارب 70 کروڑ سال دور ہیں، یعنی ان سے آنے والی روشنی بھی اتنی ہی قدیم ہے یعںی خود کائنات۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات کے اوّلین ستارے بھی آج سے 13 ارب 70 کروڑ پہلے وجود میں آئے ہوں گے لیکن اب تک کسی بھی دوربین سے انہیں دیکھا نہیں جاسکا۔ جیمس ویب خلائی دوربین ایسے ستاروں کو بھی دیکھ سکے گی۔

    دوسری جانب اس سے خلا کی وسعتوں میں دوردراز زمین نما سیاروں کی کھوج میں بھی آسانی ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ جیمز ویب ہمیں کائنات کا اولین نظارہ کراسکے گی اور ہم جان سکیں گے کہ اس وقت ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کی صورت کیا تھی۔21 فٹ کا دوربینی آئینہ دور دراز کائنات کی روشنی کو جمع کرسکے گا اور ہمیں قدیم کائنات کا نظارہ کرائے گا۔ خلا کا ماحول زمین آلودگی اور بادلوں وغیرہ سے پاک ہوتا ہے اور اسی لیے یہ دوربین ہمیں کائنات کا ان دیکھا نظارہ کراسکے گی۔


    خیال رہے کہ واضح رہے کہ انسانی تاریخ میں کسی دوربین میں لگائے گئے یہ سب سے بڑے آئینے بھی ہیں۔ 14 ممالک کے سائنسداں، انجینیئر اور سافٹ ویئر ڈیزائنر نے اس منصوبے پر 2004ء میں کام شروع کیا تھا لیکن بار بار یہ منصوبہ تکنیکی خامیوں، ٹیکنالوجی کی کمی اور وبا کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    جیمز ویب ناسا کے دوسرے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے ناسا کے قمری مشین میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ اس کے لیے بنیادی خدمات بھی انجام دیں جیمزویب کی حکمتِ عملی ایک عرصے تک ناسا کی ترقی کی ضامن رہی اور 27 مارچ 1992ء میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

  • بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    واشنگٹن: خلائی سائنس و ٹیکنالوجی میں قابلِ قدر خدمات اور دریافتوں کے بعد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو آخرکار 2031 تک سمندر کی سمت پھینکا جائے گا-

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی ویب سائٹ گیجٹس کے مطابق کانگریس نے ناسا کے ماہرین سے کہا تھا کہ وہ اسٹیشن کے قابلِ عمل ہونے کے متعلق بتائیں اور یہ بھی کہ اس کا مستقبل کیا ہوسکتا ہےاس پر ناسا نے کانگریس کو پیش کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کا مدار مزید نیچے یعنی نچلے ارضی مدار تک کھسکھا کر اسے نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے لیکن آخر کار طے پایا کہ نو برس بعد اس کا رخ زمین ہی ہوگا۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    ناسا نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے بعض حصے قابلِ مرمت ہیں لیکن آخرکار اسے ریٹائر کرنا ہی ہے منصوبے کے تحت اسے بحرالکاہل کے ایک مقام ’پوائنٹ نیمو‘ میں گرایا جائے گا جو ایک غیرآباد اور ویران خطہ بھی ہے۔

    ناسا نے کہا کہ پوائنٹ نیمو ایک ایسا علاقہ ہے جو آبادی سے بہت دور ہے اور یہاں 2001 میں روسی خلائی اسٹیشن میر کو بھی پھینکا گیا تھا۔ اس سے قبل بڑے بڑے سیٹلائٹ بھی اس رخ پر مدار بدر یعنی ڈی آربٹ کئے جاتے رہے ہیں اسے ماہریں خلائی اجسام اور سیٹلائٹ کا قبرستان بھی کہتے ہیں۔

    ناسا نے بتایا کہ منصوبے کے تحت 2030 تک اس کے معمول کے آپریشنز جاری رہیں گے جبکہ اسے بتدریج بند کرکے مکمل خاموش کردیا جائے گا اس کے بعد اسے مدار سے بے دخل کیا جائے گا جو کئی مراحل میں ممکن ہوسکے گا۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے…

    1998 سے آئی ایس ایس خلا میں رہتے ہوئے زمین کے گرد چکر کاٹ رہا ہے۔ اسے دنیا کے پانچ خلائی اداروں نے بنایا تھا اور 2000 سے یہاں انسانوں کی آمدورفت جاری ہے اس کی مشہور خردثقلی تجربہ گاہ میں 3000 سے زائد انوکھے اور دلچسپ تجربات کئے گئے جو زمینی ماحول میں ممکن نہ تھے۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

  • ٹونگامیں پھٹنےوالاآتش فشاں ایٹمی دھماکے سے زیادہ طاقتور ہے،ناسا

    ٹونگامیں پھٹنےوالاآتش فشاں ایٹمی دھماکے سے زیادہ طاقتور ہے،ناسا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ جزیرے ٹونگا میں پھٹنے والے آتش فشاں کا دھماکا ایٹمی بم سے بھی زیادہ طاقتور ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق رواں ماہ 15 جنوری کو پھٹنے والے آتش فشاں سے ہونے والے دھماکے نے ایٹمی دھماکے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ٹونگا آتش فشاں سے 84 فیصد آبادی متاثر ہوئی آتش فشاں کا ملبہ فضا میں 40 کلومیٹر تک اوپر گیا جبکہ اس دوران سمندر میں سونامی کی لہریں اٹھیں۔

    جاپان کےسمندر میں آتش فشاں پھٹ گیا،امریکا میں سونامی کا خطرہ

    رپورٹ کے مطابق اس دھماکے سے جتنی توانائی کا اخراج ہوا وہ پانچ سے 30 میگا ٹن دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے جتنا تھا، جس کی آوازیں 10 ہزار کلومیٹر دور تک سنی گئی، اندازے کے مطابق آتش فشاں جزیرے کا 65 کلومیٹر رقبہ ‘ختم’ کرچکا ہے جس کے بعد ٹونگا آتش فشاں کے دھماکہ کو ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے سو گُنا زیادہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    امریکا میں برفانی طوفان،متعدد ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ

    رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ رہائشیوں نے دھماکے کے بارے میں بتایا کہ اس سے ہمارے دماغ ہلا کر رکھ دیئے تھے 1945 میں ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹم بم کو ’لٹل بوائے‘ کا نام دیا گیا تھا اس ایٹم بم کی طاقت 12 ہزار سے 15 ہزار ٹن بارود جتنی تھی۔ اس بم نے 13 مربع کلومیٹر تک کے علاقے کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔


    واضح رہے کہ جنو بی بحرالکاہل میں جزیرہ ریاست ٹونگا کے قریب زیرِ سمندر بڑا آتش فشاں پھٹنے کے لمحات کا منظر سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں بھی قید کیا گیا ٹونگا میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے سے خوفناک آوازیں پیدا ہوئیں جو 800 کلومیٹر دور فجی میں بھی سنی گئیں۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویرمیں 5 کلومیٹر چوڑا راکھ، بھاپ اور گیس کا شعلہ 20 کلومیٹر تک بڑھتے ہوئے دیکھا گیا سیٹیلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً 5 کلومیٹر چوڑے علاقے پر پھیلی راکھ کا غبار فضا میں 17 کلو میٹر تک بلند ہو رہا ہے جس کے بعد سونامی وارننگ جاری کر دی گئی۔

    ٹونگا میں سونامی سے ایک خاتون ہلاک

  • چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چین کے خلائی مشن چینگ نے چاند کی سطح پر پانی کے شواہد کو دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ان مالیکیولز کی زیادہ تر تعداد سولر ونڈ امپلانٹیشن کے دوران جمع ہوئی چینی خلائی مشن نے چاند پر پانی کے مالیکیولز یا ہائیڈروآکسل کو دریافت کیا ہے جو ایچ 2 او جیسا کیمیکل ہےماہرین نے تجزیہ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی فی ملین 120 حصوں سے کم ہے، جس کے مطابق چاند کی سطح زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ خشک ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    دہائیوں تک سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے، اس وجہ سے سورج کی سخت ریڈی ایشن کے باعث پانی کے مالیکیولز کو کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا-

    ناسا نے اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ چاند کی سطح پر دریافت کیے جانے والےپانی کی مقدار کا موازنہ صحرائےاعظم صحارا سے کیا جائے تو اس صحرا میں سو گنا زیادہ مقدار میں پانی موجود ہے تاہم کم مقدار کے باوجود اس دریافت سے یہ سوال پیدا ہوتا کہ چاند کی مشکل اور ہوا سے محروم سطح پر پانی کیسے بنا اور برقرار رہا۔

    1969 میں جب پہلی بار خلا باز چاند پر پہنچے تھے تو یہ مانا جاتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خشک ہے مگر گزشتہ 20 برسوں کے دوران مختلف مشنز میں چاند کے قطبی علاقوں میں تاریکی میں چھپے گڑھوں میں برف کی تصدیق ہوئی تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ قبل ازیں گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہےعالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

  • 10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا

    10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا

    واشنگٹن :10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا،اطلاعات ہیں کہ کرسمس کے موقع پر خلا میں جانےوالی 10 ارب ڈالر مالیت کی جیمز ویب اسپیس نے دو ہفتوں پرمحیط ڈیپلائمنٹ کا پیچیدہ مرحلہ عبور کرلیا ہے۔اوراب سائنسدانوں نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ کامیابیوں اور انقلاب کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے

    اس حوالے سے خلائی ادارے ناسا نے اپنی ٹوئٹ میں جیمز ویب کے خلائی میدان میں اہم سنگ میل طےکرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہ ’ کامیاب ڈیپلائمنٹ کے بعد جیمز ویب نے اپنا آخری شیشہ کھول دیا ہے جس سے 50 ڈیپلائمنٹس اور 178 پنز کی ریلیز کا مرحلہ طے ہوگیا ہے۔‘

    جیمز ویب اپنے سونے کے پانی چڑھے پھول کی پتیوں جیسے عظیم الجثہ شیشوں کے ساڑھے 6 میٹر طویل آخری شیشے کو مکمل طور پر کھول کر کائناتی تاریخ کے ہر مرحلے کو ریکارڈ کرنے کے لیے تیار ہوگئی ہے۔

     

    ناسا کی اس ٹوئٹ کے بعد ریاست میری لینڈ میں قائم اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹی ٹیوٹ کے انجینئرز کی ٹیم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جیمز ویب میں اب تک لانچ ہونے والی سب سے بڑے اور حساس شیشے لگائے گئے ہیں جنہیں ’ گولڈن آئی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    جسامت میں بہت بڑی ہونے کی وجہ سے اس ٹیلی اسکوپ کو اوریگامی طرز پر راکٹ میں فٹ کیا گیا تھا، جب کہ سورج کی شعاعوں سے محفوظ رکھنے کے اس میں ایک حفاظتی شیلڈ دی گئی ہے جو کہ مستقل طور پر ٹیلی اسکوپ، سورج، چاند اور زمین کے درمیان حائل رہے گی۔

    10 ارب ڈالر مالیت کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین کی سطح سے لاکھوں میل دوری پر شمسی مدار میں گردش کرے گی۔ہبل ٹیلی اسکوپ سے زیادہ طاقت ور جیمز ویب 13 ارب 70 کروڑ سال قبل تشکیل پانے والے اولین ستاروں اور کہکشاؤں سے متعلق معلومات جمع کرے گی۔

    جیمز ویب اسپیس کو زمین سے 340 ملین میل دوری پر موجود خلائی دوربین ہبل کا پیش رو سمجھا جارہا ہے۔

    یاد رہے کہ جیمز ویب اسپیس کی تیاری 30 سال قبل شروع کی گئی تھی۔ اس وقت اس پراجیکٹ کے لیے ناسا نے 500 ملین ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا۔ جیمز ویب کو 2007 میں خلائی سفر پر روانہ کرنا تھا تاہم کچھ تیکنیکی خامیوں کی بنیاد پر اس کی لانچنگ ملتوی ہوتی رہی۔

    جیمز ویب کو 25 دسمبر 2021 کو فرنچ گیوآناخلائی مرکزسے راکٹ آریانے 5 کے ذریعے خلائی سفر پر روانہ کیا گیا تھا۔۔