Baaghi TV

Tag: ناسا

  • ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر لیا

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر لیا

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کیا ہے جو ممکنہ طور پر زندگی کے لیے موافق ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ماہرینِ فلکیات نے سات سیاروں پر مشتملTRAPPIST-1 نامی ایک نظام کا مشاہدہ کیا ہے جس میں یہ سیارے ایک سورج جیسے ستارے کے گرد گھوم رہے ہیں۔

    قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 39 نوری سال کے فاصلے پر موجود اس نظام کی نشان دہی کی اور اس کے متعلق اہم تفصلات حاصل کیں۔

    ان تفصیلات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سیارے اپنے مرکزی ستارے کے ایک ایسے خطے میں موجود ہیں جو قابلِ سکونت ہے۔ قابلِ سکونت خطہ وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں پانی مائع صورت میں موجود رہ سکتا ہے اور ماہرین فلکیات انہیں اس مطالعہ کے لیے سب سے مشہور تجربہ گاہ سمجھتے ہیں کہ نظام شمسی سے باہر کے سیاروں کو زندگی کے لیے کیا موزوں بنا سکتا ہے۔

    یہ ایک ایسی خصوصیت ہوتی ہے جو کسی سیارے پر زندگی کی نشو نما کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے سائنس دانوں کو امید ہے اس سسٹم سے مستقبل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ یا میتھین پر مشتمل دیگر آثار بھی ہاتھ لگیں گے۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    ماہرین کے مطابق یہ ساتوں سیارے اپنے مرکزی ستارے سے اتنے فاصلے پر موجود ہیں جتنا فاصلہ سورج اور نظامِ شمسی کے پہلے سیارے عطارد کے درمیان ہے۔

    اب تک کے نتائج ابتدائی ہیں اور ابھی تک اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے ہیں کہ ان سیاروں میں اصل میں کس قسم کے ماحول ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ یا میتھین جیسے دلچسپ مالیکیولز پر مشتمل گھنے ماحول ہیں، تو 10 بلین امریکی ڈالر کی دوربین آنے والے مہینوں اور سالوں میں ان کا پتہ لگانے کے قابل ہو جائے گی۔ کوئی اور رصد گاہ اتنی طاقتور نہیں ہے کہ ان ماحول کو دیکھ سکے۔

    TRAPPIST-1 سیاروں کا نظام، جو 2017 میں تیار کیا گیا تھا، ماہرین فلکیات کو ایک ستارے کے گرد گردش کرنے والی زمین کے سائز کی دنیاؤں کی تشکیل اور ارتقا کو سمجھنے کے متعدد مواقع فراہم کرتا ہے۔ ستارہ نسبتاً ٹھنڈا ہے، اور سات سیارے اس کے قریب مرکری سورج کے مقابلے میں واقع ہیں۔

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

  • ناسانےچاند کی نئی تصاویر جاری کردیں

    ناسانےچاند کی نئی تصاویر جاری کردیں

    واشنگٹن: ناسا نے چاند کا چکر لگانے کے لیے بھیجے گئے اسپیس کرافٹ اوائن کی جانب سے عکس بند کی گئیں چاند کی نئی تصاویر جاری کردیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز امریکی خلائی ادارے ناسا کا اورائن کے ساتھ غیر متوقع طور پر رابطہ منقطع ہوگیا جو 47 منٹ بعد بحال ہوا۔ لیکن آف لائن ہونے سے قبل اسپیس کرافٹ نے چاند کی نئی دلچسپ تصاویر زمین پر بھیجیں۔

    فوج کی نئی قیادت سےتوقع ہےکہ وہ آئینی حقوق کی بحالی میں کردارادا کرے گی: تحریک…

    مشرقی معیارِ وقت کے مطابق اورائن کے ساتھ رابطہ صبح 1 بج کر 9 منٹ پر منقطع ہوا جس کے بعد ٹیمیں زمین پر مسئلے کو حل کرنے میں لگ گئیں۔ تاہم، مسئلے کے سبب کا تعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔اورائن اسپیس کرافٹ نے گڑھوں سے بھرپور چاند کی سطح کی یہ تصاویر چاند سے صرف 130 کلو میٹر کی دوری سے 8210 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرتے وقت لیں۔

    فیفا ورلڈ کپ؛ جنوبی کوریا اور یوروگوئے کے درمیان میچ بغیر کسی گول کے برابر

    جمعے کے روز اس اسپیس کرافٹ کا انجن چلایا جائے گا جس سے اسپیس کرافٹ چاند کے گرد مدار میں پہنچ جائے گا۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو اورائن اس مدار میں آئندہ ایک ہفتے تک رہے گا اور پھر یکم دسمبر کو زمین پر واپسی کا رخ کرے گا۔واپسی پر اس اسپیس کرافٹ کا 11 دسمبر کو 25.5 دنوں کا مشن مکمل کرنے کے بعد بحرالکاہل میں اترنا متوقع ہے۔

  • ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی-

    باغی ٹی وی : ناسا کے خلائی جہاز اورین نے اپنے خلائی سفر کے چھٹے روز چاند کی تصویر لی، جسے ناسا نے اپنے آفیشل اکاونٹ سے جاری کیا ہے-

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    ناسا کے مطابق چاند کی ہائی ریزولوشن تصویر اس وقت لی گئی جب خلائی جہاز چاند کی سطح سے 129 کلومیٹر اوپر سے گزر رہا تھا۔


    ناسا نےتصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ تصویر ناسا کے اورین خلائی جہاز نے لی ہے جو آرٹیمیس ون مشن کے ایک حصّے کے طور پر پچھلے ہفتے سفر پر روانہ ہوا تھا۔

    واٹس ایپ نےڈیسک ٹاپ ورژن کےصارفین کیلئےدلچسپ فیچرمتعارف کرادیا

    تقریباً 270,000 میل (430,000 کلومیٹر) دور،آرٹیمس 1 جلد ہی خلابازوں کو لے جانے کے لیے بنائے گئے خلائی جہاز میں اپولو 13 کے زمین سے ریکارڈ قائم کرنے والے فاصلے کو پیچھے چھوڑ دے گا۔


    واضح رہے اورین خلائی جہاز میں کوئی انسان موجود نہیں ہے لیکن اسی کے ذریعے مستقبل میں عام لوگوں کے چاند کا سفر ممکن ہو سکے گا، اس جہاز کو روانہ کرنے کیلئے ستمبر میں دو مرتبہ کوشش کی گئی تھی لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے روک دیا گیا۔

    110 سال قبل ڈوبنے والے ٹائی ٹینک جہاز سے ملنی والی گھڑی 98 ہزار پاؤنڈز میں نیلام

  • آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے آرٹیمس 1 مشن کامیابی سے چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرٹیمس 1 مشن میں شامل اورین اسپیس کرافٹ 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا اورین اسپیس کرافٹ کی پرفارمنس توقعات سے بھی زیادہ بہتر رہی ہے۔

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    واضح رہے کہ آرٹیمس 1 مشن کو 16 نومبر کو روانہ کیا گیا تھا اور اورین اسپیس کرافٹ اس وقت زمین سے 2 لاکھ 30 ہزار میل سے زیادہ دور پہنچ چکا ہے اور چاند سے 55 ہزار میل دور ہے۔

    ناسا کو توقع ہے کہ یہ مشن 21 نومبر کو چاند تک پہنچے گا اور وہاں اسپیس کرافٹ کے 4 میں سے ایک مین انجن کو چلایا جائے گا اورین اسپیس کرافٹ چاند کی سطح سے 81 میل اوپر سے گزرے گا۔

    4 دن بعد ناسا کی جانب سے دوسرے انجن کو چلایا جائے گا جس سے اورین اسپیس کرافٹ چاند کے دور دراز واقع مدار تک جاسکے گا اس کے بعد اسپیس کرافٹ کو زمین کی جانب واپس لایا جائے گا اور سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ اسپیس کرافٹ 11 دسمبر کو واپس پہنچے گا۔

    یہ کیپسول چاند کی سطح سے محض 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا۔ جبکہ زمین سے اس کا سب سے زیادہ فاصلہ 70 ہزار کلومیٹر تک ہوگا۔ کوئی بھی ایسا خلائی جہاز جو انسانوں کو لے جانے کے قابل ہو زمین سے اتنے زیادہ فاصلے پر کبھی نہیں گیا ہے۔

    آرٹیمس 1 مشن کی کامیابی مستقبل میں چاند کے لیے انسانی مشنز کی راہ ہموار کرے گی آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 مشن میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے، البتہ یہ مشن چاند پر لینڈ نہیں کرے گا۔

    واپسی پر کیپسول کی رفتار بہت تیز ہو گی، یہ 38 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گا جو آواز کی رفتار سے 32 گنا زیادہ ہے اس کے اندر کی ڈھال کو شدید حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا جو تین ہزار سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔

    فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی فرانس کی ٹیم کو بڑا جھٹکا

    اورین کیپسول کوچاند کی طرف لے جانے کے لیے راکٹ کو خلا میں کئی کام کرنے پڑے۔ جہاز اب اپنے یورپی پروپلشن موڈیول پر انحصار کرے گا تاکہ بقیہ مشن پر اسے محفوظ طریقے سے چلایا جا سکے۔

    یورپی خلائی ایجنسی کے انسانی خلائی پروازکےڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیوڈ پارکرنےبی بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ جب ہم چاند کے گرد اس انتہائی دلچسپ راستے میں مدار میں داخل ہوں گے تو وہ بہت زبردست لمحات ہوں گے۔ ہم پہلی مرتبہ چاند سے بہت آگے جا رہے ہیں۔

    آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجا جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔

    ٹویٹرنے بڑے پیمانے پراستعفوں کے درمیان تمام دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے

  • انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں،ناسا

    انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں،ناسا

    ہماری کائنات ایک وسیع و عریض معمہ ہے ایک ایسا معمہ جس نے بنی نوع انسان کی فطری کیفیت کو جگایا ہے انسان کائنات میں کسی خلائی زندگی کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں،امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں۔

    باغی ٹی وی : اجنبی زندگی (ایلینز) کی شکلوں پر سوال پوچھنا اب تک بے نتیجہ رہا ہے، یہاں تک کہ ہم نے حالیہ برسوں میں جن حد تک ترقی کی ہے مفروضے اور حسابات جیسے کہ ڈاکٹر فرینک ڈریک نے 1960 کی دہائی کے اوائل میں بنائے تھے،زندگی کے ثبوت صرف ہماری کہکشاں میں وافر مقدار میں موجود ہونے چاہئیں، اور پھر بھی عملی طور پر ہم نے پیدا کیا ہے ہمارے اپنے سیارے سے باہر کسی چیز کا کوئی واضح اثبات نہیں-

    ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق اس کی ایک وجہ موجود ہے جس کے باعث انسانوں اور ایلین تہذیب کےملنے کا امکان ختم ہوجاتا ہےناسا کے سائنسدانوں کی جانب سے ایک2210.10582.pdfمیں بتایا گیا کہ یہ وجہ کسی تہذیب کا بہت زیادہ ذہین ہوجانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی ایلین تہذیب کا خاتمہ ممکنہ طور پر خود اپنے ہاتھوں بہت زیادہ ذہانت کی وجہ سے ہوجاتا ہے اگر ہم نے اقدامات نہ کیے تو انسانوں کی قسمت بھی یہی ہوسکتی ہے۔

    اسے گریٹ فلٹر تھیوری کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق کائنات میں متعدد تہذیبیں موجود ہوسکتی ہیں مگر وہ زمین سے رابطے سے قبل ہی خود کو تباہ کرلیں گی سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ ذہانت رکھنے والے جاندار جیسے انسان اپنے خاتمے کا باعث خود بن سکتے ہیں۔

    تاریخ میں پہلی بار چاند پر کاروباری سرگرمیوں کا آغاز

    مگر ان کا کہنا تھا کہ ہم اس سے بچ سکتے ہیں جس کے لیے تباہی کا باعث بننے والے عناصر کی شناخت کرنا ضروری ہے انسان یا کسی بھی ذہین ایلین تہذیب کا خاتمہ جوہری جنگ، وبا، موسمیاتی تبدیلیوں اور کنٹرول سے باہر مصنوعی ذہانت کے نتیجے میں ہوسکتا ہے۔

    محققین کے مطابق اس سے بچنے کا راستہ ایک ہی ہے اور وہ ہے اپنی بقا کے لیے متحد ہوکر کام کرنا۔

  • آرٹیمس1مشن کو14 نومبر کو چاند پر بھیجے جانے کا امکان

    آرٹیمس1مشن کو14 نومبر کو چاند پر بھیجے جانے کا امکان

    نیویارک:ناسا کی جانب سے آرٹیمس 1 مشن کو چاند پر بھیجنے کی تیسری کوشش نومبر کے دوسرے ہفتے میں کیے جانے کا امکان ہے۔

    اس مشن کو پہلے 29 اگست اور پھر 3 ستمبر کو روانہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر تکنیکی مسائل کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔بعد ازاں فلوریڈا میں سمندری طوفان کے باعث اسپیس لانچ سسٹم راکٹ اور اورین کیپسول کو واپس وہیکل اسمبلی بلڈنگ میں پہنچا دیا گیا تھا۔

    مگر اب ناسا کو توقع ہے کہ 14 نومبر کو چاند پر مشن بھیجنے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جس کے لیے راکٹ اور اورین کیپسول کو ایک بار پھر لانچ پیڈ پر پہنچا دیا گیا ہے۔

    فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے آرٹیمس 1 مشن 14 نومبر کو مقامی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 7 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 7 منٹ) پر لانچ کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ یہ ناسا کے 5 دہائیوں بعد چاند پر واپس لوٹنے کے آرٹیمس پروگرام کا پہلا مشن ہے جو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوگا۔اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں ہوگا اور یہ بنیادی طور پر مستقبل کے مشنز کے لیے ٹیسٹ فلائٹ ہے۔

    اس پرواز میں کوئی انسان تو موجود نہیں مگرAdd Form Add Advanced iFrameویژولمتن
    انسانی قد و قامت کی ایک ڈمی ضرور اورنج فلائٹ سوٹ پہنے کمانڈر سیٹ پر بٹھائی جائے گی جس میں مختلف سنسرز نصب ہوں گے۔

    اس ‘کمانڈر’ کا نام Moonikin Campos ہے جبکہ مزید 2 پتلے بھی اس مشن کا حصہ ہیں جن کو انسانی ٹشوز سے بنے میٹریل سے تیار کیا گیا ہے تاکہ خلائی ریڈی ایشن کے اثرات کا تجزیہ کیا جاسکے۔

    لانچ کے ایک ہفتے بعد یہ مشن چاند کے مدار میں داخل ہوگا، جہاں وہ ایک ماہ تک رہے گا اور پھر زمین پر واپس پہنچے گا۔

    آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 مشن میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے، البتہ یہ مشن چاند پر لینڈ نہیں کرے گا۔

    آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجا جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔

    اس مشن کے لیے اسپیس ایکس کے اسٹار شپ لینڈر کو استعمال کیا جائے گا مگر مستقبل کے ان مشنز کا انحصار آرٹیمس 1 کے نتائج پر ہوگا۔

    آرٹیمس 1 مشن کی تجویز 2012 میں پیش کی گئی تھی اور پہلے اسے 2017 میں لانچ کیا جانا تھا، مگر یہ تاخیر کا شکار ہوتا گیا۔

  • جیمز ویب دوربین  نے دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب دوربین نے دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطا بق زمین سے 5000 ہزار نوری سال کے فاصلے موجود ستاروں کے اس جوڑے کو ’وولف-رایٹ 140‘(WR 140) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی ایک نئی تصویر ایک قابل ذکر کائناتی منظر کو ظاہر کرتی ہے: ستاروں کے جوڑے سے کم از کم 17 مرتکز دھول کے حلقے نکلتے ہیں۔ زمین سے صرف 5,000 نوری سال کے فاصلے پر واقع یہ جوڑی اجتماعی طور پر وولف-رائٹ 140 کے نام سے مشہور ہے۔

    ماہرین کے مطابق جب بھی یہ دونوں ستارے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو ایک دائرہ بنتا ہے۔ ستارے جو گیس خارج کرتے ہیں وہ آپس میں ٹکراتی ہیں، دوسری گیس کو دباتی ہے اور اس عمل سے گرد پیدا ہوتی ہے اور یوں گرم گرد کے ہالے نما دائرے وجود میں آتے ہیں۔

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    ستاروں کا مدار ان کو ہر آٹھ سال میں ایک بار ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور درخت کے تنے میں پائے جانے والے چھلوں کی طرح بننے والے غبار کے یہ دائرے اس عمل کے وقوع پزیر ہونے کی تعداد کا تعین کرتے ہیں۔

    نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی NOIRLab کے ایک ماہرِ فلکیات ریان لاؤ کے مطابق جاری کی گئی تصویر میں جاری ستاروں کے گرد و غبار کے پیداواری عمل کا ایک صدی سے زائد کا عرصہ دیکھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تصویر یہ بھی بتاتی ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کتنی حساسیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل زمینی ٹیلی اسکوپس سے صرف گرد کے دو چھلے دیکھے جا سکتے تھے لیکن اب کم از کم 17 چھلے دیکھے جاسکتے ہیں۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

  • ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کا تاریخی مشن کامیاب ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : تجرباتی اسپیس شپ کی ٹکر نے سیارچے کا راستہ کامیابی کے ساتھ بدل دیا۔ ناسا کا ڈارٹ کرافٹ 26ستمبر کو سیارچے سے ٹکرایا تھا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سربراہ ناسا بل نیلسن نے کہا ہے کہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ناسا زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہے۔ ڈارٹ مشن کی کامیابی انسانیت کیلئے اہم سنگ میل ہے پہلی بار انسانیت نے کسی آسمانی چیز کی حرکت کو تبدیل کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس تجرے کے تحت خلائی جہاز یا مصنوعی سیارہ ، زمین کی طرف آنے والے کسی سیارچے سے ٹکرا کر اس کا مدار تبدیل کر دے گا یہ تجربہ مستقبل میں کسی سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا خطرہ ٹالنے کے لیے کیا گیا ہے-

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا تھا ، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا اس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا تھا جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

  • مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    واشنگٹن: ناسا نے جُونو اسپیس کرافٹ سے کھینچی گئی نظامِ شمسی کے پانچویں سیارے مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : یہ تصویر گزشتہ 20 سالوں میں کسی اسپیس کرافٹ کی جانب سے لی گئی یورپا کی سب سے قریبی تصویر ہے۔ اس سےقبل امریکی خلائی ایجنسی کے گیلیلیو نے جنوری 2000 میں یورپا کی سطح سے 351 کلومیٹرکے فاصلے سے تصویر لی تھی۔تصویر میں یورپا کے خط استوا کے قریب کا علاقہ اینون ریجیو دِکھایا گیا ہے۔


    یورپا نظامِ شمسی کا چھٹا بڑا چاند ہے جو دنیا کے چاند کی نسبت تھوڑا چھوٹا ہے جونو کیم نے 29 ستمبر کو یوروپا کی فلائی بائی کے دوران چار تصاویر کھینچیں-

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ میلوں موٹے برف کے خول کے نیچے ایک نمکین سمندر موجود ہے جس سے ممکنہ طور پر یورپا کی سطح کے نیچےزندگی کے لیے سازگار موحول کی موجودگی کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔

    اس موقع پر ڈیٹا جمع کرنے کے لیے جونو اسپیس کرافٹ کے پاس صرف دو گھنٹے کی مہلت تھی۔ اسپیس کرافٹ چاند کے پاس سے 23.6 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گزرا تھا۔

    سان انتونیو میں ساؤتھ ویسٹ ریسرچ سینٹر کے جونو کے پرنسپل تفتیش کار سکاٹ بولٹن نے کہا کہ 2013 میں ہمارے فلائی بائی آف ارتھ کے ساتھ شروع کرتے ہوئے، جونو کے سائنسدانوں نے جونو کے ساتھ ملنے والی متعدد تصاویر پر کارروائی کر کےانمول ثابت کیا ہے-

    مشتری اور اب اس کے چاند کی ہر پرواز کے دوران، ان کا کام ایک ایسا تناظر فراہم کرتا ہے جو سائنس اور آرٹ دونوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے وہ ہماری ٹیم کا ایک اہم حصہ ہیں، جو نئی دریافتوں کے لیے ہماری تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے راہنمائی کرتے ہیں۔

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    ناسا کے ڈبل ایسٹیرائیڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (ڈارٹ) اسپیس کرافٹ نے 22530 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے 96 لاکھ کلومیٹر دور سیارچے سے ٹکرا کر اپنی پہلی سیاروی دفاع کی آزمائش کامیابی کے ساتھ مکمل کرلی ہے یہ زمین کو سیارچوں سے بچانے کے دفاعی نظام کا پہلا تجربہ تھا-

    باغی ٹی وی: جہاں آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا،گوگل سرچ میں بھی ایک دلچسپ فیچر کے ذریعے اس کا جشن منایا گیا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا


    اس مشن کو ڈارٹ کا نام دیا گیا تھا اور گوگل پر dart، dart probe یا double asteroid redirection test سرچ کرنے پر رزلٹس میں اسپیس کرافٹ بائیں سے دائیں جانب آتا ہے وہاں پہنچ کر وہ غائب ہوجاتا ہے اور سرچ پیج ہلکا سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور یہی ناسا کے اس مشن کا بنیادی مقصد بھی ہے۔

    نومبر 2021 میں روانہ کیے گئے مشن کا مقصد ٹکرانے کے بعد اس سیارچے کے مدار کے راستے میں معمولی تبدیلی لانا ہے یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوگا اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں یا ہفتوں میں ہوگا مگر ناسا کی جانب سے ٹکراؤ کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔


    ان میں سے کوئی بھی سیارچہ، جو تقریباً 7 ملین میل دور واقع ہے، زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ٹیسٹ کا اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مستقبل میں، اگر کوئی سیارچہ زمین کے لیے خطرہ بن جاتا ہے تو اس کو دور کرنا ممکن ہے۔

    امریکی کوہ پیما دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی سرکرکے واپس آنے کے دوران گہری کھائی میں گرگئیں

    ناسا کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ یہ بتانے میں تقریباً دو ماہ لگیں گے کہ آیا خلائی جہاز سیارچے کو معنی خیز جھٹکا دینے کے قابل تھا۔

    گوگل اکثر خاص گرافکس یا اینیمیشنز کی نقاب کشائی کرتا ہے، جن میں چوتھے جولائی کو آتش بازی بھی شامل ہے، لیکن ایک اینیمیشن جو تلاش کے نتائج کا زاویہ بدل دیتی ہےGoogle.com پر کمپنی کے Google Doodles میں اکثر تاریخی شخصیات یا سالگرہ کے موقع پر واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا