Baaghi TV

Tag: ناسا

  • “ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصویر جاری کردی

    “ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی“ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصاویر جاری کی ہیں-

    باغی ٹی وی: یہ تصاویر ناسا کے Lunar Reconnaissance Orbiter (LRO) نے لی ہیں جن میں مارول کے معروف تخیلاتی کردار ”سلور سرفر“ کے بورڈ سے مشابہت رکھتی پتلی افقی لکیر دکھائی دے رہی ہےسلور سرفر دراصل مارول کامکس کا ایک کردار ہے جو مکمل طور پر سلور رنگ کا ہوتا ہے اور اپنے سرف بورڈ پر خلا میں گھومتا ہے اور اپنے مالک کیلئے خوراک کا انتظام کرتا ہے، جو پورے پورے سیارے نگل جاتا ہے۔

    خلائی ایجنسی نے کہا کہ یہ پراسرار شے کوئی کامک بک کیریکٹر، سپر ہیرو فلموں یا خلائی مخلوق کا جہاز نہیں، بلکہ ناسا کے ایل آر او نے دراصل وہاں سے گزرتے جنوبی کوریائی سیٹلائٹ کو اس وقت کیمرے میں قید کیا جب دونوں مدار میں ایک دوسرے کے قریب سے گزر رہے تھے۔

    سائنسدانوں کا زمین کی حدت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے خفیہ تجربہ

    ناسا کے مطابق ، ایل آر او نے کوریا ایرو اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھیجے گئے ”دانوری لونر آربیٹر“ کی متعدد تصاویر اس وقت حاصل کیں، جب دونوں 5 اور 6 مارچ کے درمیان متوازی لیکن مخالف سمتوں میں ایک دوسرے کے پاس سے گزر رہے تھے،دانوری جو 2022 سے چاند کے گرد چکر لگا رہا ہے، اس کے اور ایل آر او کے درمیان انتہائی تیز رفتار کی وجہ سے تصویر مسخ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

    رواں سال کراچی میں 425 مقابلوں میں 55 ڈاکو مارے گئے، سندھ پولیس

    دانوری چاند پر جنوبی کوریا کا پہلا خلائی جہاز ہے اور دسمبر 2022 سے چاند کے مدار میں ہے ایل آر او کو 2009 میں شروع کیا گیا تھا تب سے، اس نے اپنے سات طاقتور آلات کے ساتھ اہم ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، یہ چاند کے مطالعہ میں ایک انمول شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    شرجیل میمن کی منشیات فروشوں کیخلاف کارروائیوں کا سیکرٹری انفارمیشن کو آگاہ کرنے …

  • امریکی ایوانِ صدر  کا  ناسا کو چاند کے معیاری وقت کے تعین کا حکم

    امریکی ایوانِ صدر کا ناسا کو چاند کے معیاری وقت کے تعین کا حکم

    واشنگٹن: امریکی ایوانِ صدر نے خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کو چاند کے معیاری وقت کے تعین کا حکم دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :"دی گارڈین” کے مطابق وائٹ ہاؤس چاہتا ہے کہ ناسا چاند پر وقت بتانے کا طریقہ معلوم کرے،اس حوالے سے امریکی ایوانِ صدر نے چاند پر پہنچنے اور وہاں بستیاں بسانے کی سرکاری اور نجی اداروں کی دوڑ تیز ہونے کے پیشِ نظر ناسا سے کہا ہے کہ چاند اور دیگر اجسامِ فلکی کے لیے معیاری وقت کا تعین کرے۔

    امریکی ایوانِ صدر کے آفس آف دی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی نے ایک میمورینڈم کے ذریعے کہا ہے کہ یو ایس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی (OSTP) کے سربراہ کی جانب سے منگل کو بھیجے گئے ایک میمو میں خلائی ایجنسی سے کہا گیا ہے کہ وہ دیگر امریکی ایجنسیوں اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر چاند پر مرکوز ٹائم ریفرنس سسٹم قائم کرے 2026 کے آخر تک کوآرڈینیٹیڈ لیونر ٹائم (سی ایل ٹی) کا تعین کیا جائے-

    کششِ ثقل کے فرق اور دیگر عوامل کے باعث چاند اور نظامِ شمسی میں شامل دیگر اجسامِ فللکی پر وقت کا ادراک زمین پر وقت کے ادراک سے مختلف ہوتا ہے سی ایل ٹی چاند کے وقت کے حوالے سے خلائی جہازوں اور مصنوعی سیاروں کو ایک واضح بینچ مارک فراہم کرے گا۔ خلائی جہازوں اور مصنوعی سیاروں کو اپنے مشنز کے لیے وقت کے معاملے میں قطعیت درکار ہوگی۔

    وائٹ ہاؤس کے آفس آف دی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسیز کی سربراہ آرتی پربھاکر کے میمو میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر موجود کسی شخص کے لیے زمین پر کسی بھی گھڑی میں پایا جانے والا وقت اوسطاً 58.7 مائیکرو سیکنڈ کم ہوگا اور وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے دیگر تغیرات کے نتیجے میں چاند کا وقت زمین کے وقت سے مزید دور ہوتا جائے گا۔

    ناسا کے کمیونی کیشن اینڈ نیویگیشن چیف کیوِن کوگنز کہتے ہیں کہ زمین پر کام کرنے والی گھڑیاں چاند پر مختلف رفتار سے کام کریں گی، واشنگٹن میں امریکی بحریہ کی رصدگاہ میں نصب ایٹمی گھڑیوں کا سوچیے، وہ قوم کے دل کی دھڑکن ہیں اور ہر چیز کو ہم آہنگ بناتی ہیں، اب ہم چاند پر بھی ہارٹ بیٹ چاہتے ہیں۔

    ناسا نے اپنے آرٹیمس پروگرام کے ذریعے ستمبر 2026 میں چاند کی سطح پر خلانورد مشن بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو آخر کار ایک سائنسی قمری اڈہ بھی قائم کرے گا جو مریخ پر مستقبل کے مشنوں کے لیے مرحلہ طے کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کوشش میں درجنوں کمپنیاں، خلائی جہاز اور ممالک شامل ہیں۔

    آرٹیمس پروگرام کے تحت ناسا چند برسوں میں چاند پر انسان بردار مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے اور وہاں ایک مستقل بیس قائم کرنے کی منصوبہ سازی کر رہا ہے کہ مستقبل میں مریخ کے لیے مشن آسانی سے روانہ کیے جاسکیں۔ اس کام میں درجنوں کمپنیاں، خلائی جہاز اور ممالک شریک ہیں۔

    او ایس ٹی پی کے ایک افسر نے بتایا کہ خلائی جہازوں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے اور زمین، مصنوعی سیاروں، چاند پر بیس اور خلا بازوں کے درمیان رابطوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے چاند کا قطعی معیاری وقت جاننا لازم ہے۔

    وقت کی پیمائش کے معاملے میں گڑبڑ مپینگ اور لوکیٹنگ پوزیشنز یقینی بنانا بہت مشکل ہوگا، غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں۔

    زمین پر مختلف خطوں کا مختلف وقت ہوتا ہے۔ بیشتر گھڑیاں اور ٹائم زون کوآرڈینیٹیڈ یونیورسل ٹائم (یو ٹی سی) سے مطابقت رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیارات ایٹمی گھڑیوں کے نیٹ ورک پر منحصر ہیں۔ یہ گھڑیاں دنیا بھر مختلف مقامات پر نصب ہیں۔ یہ گھڑیاں ایک ایسا معیاری وقت ترتیب دیتی ہیں جو سب کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ چاند پر بھی ایٹمی گھڑی نصب کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔

  • ناسا نے خلا میں جانیوالوں کو درخواستیں جمع کرانے کی حتمی تاریخ دیدی

    ناسا نے خلا میں جانیوالوں کو درخواستیں جمع کرانے کی حتمی تاریخ دیدی

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا میں جانے کی خواہش رکھنے والے شہریوں کو 2 اپریل تک درخواستیں جمع کرانے کا وقت دیدیا ہے –

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست 10 نئے خلاباز گریجویٹس کی جانب سے ابتدائی دو سال کی تربیت مکمل کرنے کے ساتھ مشروط ہے خلاباز بننے کے لیے درخواست دہندگان کو امریکی شہری ہونا چاہیے جس کے پاس پہلے سے ہی کسی تسلیم شدہ ادارے سے انجینئرنگ، بائیولوجیکل سائنس، فزیکل سائنس، کمپیوٹر سائنس یا ریاضی میں ماسٹر ڈگری اور ڈاکٹریٹ ڈگری ہو جبکہ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبے میں دو سال کا تجربہ بھی ہو۔

    درخواست گزار کی قابلیتوں کا جائزہ ناسا کا ایسٹروناٹ سلیکشن بورڈ لے گا جو ہیوسٹن کے جانسن اسپیس سینٹر میں انتہائی قابل درخواست دہندگان کے گروپ کو پہلے انٹرویو کے مرحلے کیلئے بلائے گا، بعدازاں اس گروپ میں سے بھی باصلاحیت ترین نصف کو انٹرویو کے دوسرے دور کے لیے چنا جائے گا، پھر اگر درخواست دہندگان انٹرویو کے دوسرے مرحلے کو بھی پاس کرلیتے ہیں تو وہ خلابازی کی بنیادی مہارتوں جیسے کہ اسپیس اسٹیشن کے نظام اور آپریشنز، T-38 جیٹ طیارے کو اڑانے، روبوٹکس اور خلا میں چہل قدمی کی ٹریننگ کیلئے واپس جانسن اسپیس سینٹر میں جا کر تربیت حاصل کریں گے۔

    ناسا کے مطابق اس کا مقصد انہیں مستقبل میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن، چاند یا کمرشل اسپیس فلائیٹ کے لیے اہل بنانا ہے،جہاں تک مریخ کے مشن کا تعلق ہے، تو وہ 2030 کی دہائی میں ہی کسی وقت ممکن ہوسکے گا۔

  • خلا سے نظر آنے والے ”کیووم بادلوں“ کا دلکش نظارہ

    خلا سے نظر آنے والے ”کیووم بادلوں“ کا دلکش نظارہ

    واشنگٹن:ناسانے ایک مظہر کی دلکش لیکن نایاب تصاویر شیئر کی ہیں، جس میں خلا سے نظر آنے والے ”کیووم بادلوں“ کا دلکش نظارہ دکھایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ”نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن“ (ناسا) کی جانب سے انسٹاگرام پر شئیر کی گئی ان تصاویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا، ’بادلوں میں وہ شکلیں کیا ہیں؟ ساتھ ہی وضاحت کی گئی کہ سائنسدانوں کے درمیان طویل عرصے سے کیووم بادلوں کے بارے میں قیاس آرائیاں رہی ہیں، جنہیں ہول پنچ کلاؤڈز یا فال اسٹریک ہولز بھی کہا جاتا ہے، لیکن اب واضح ہوگیا ہے کہ بادلوں کی یہ عجیب شکلیں ہوائی جہازوں کی وجہ سے ہوتی ہیں،’کیووم بادل اس وقت بنتے ہیں جب ہوائی جہاز آلٹوکیومولس بادلوں کے کنارے سے گزرتے ہیں، یہ درمیانی درجے کے بادل انتہائی ٹھنڈے ہوتے ہیں جو پانی کے نقطہ انجماد تک پہنچنے کے باوجود مائع کی شکل میں ہوتے ہیں۔

    چینی صدر ،وزیراعظم ،ایران کی شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر …

    پانی کی یہ بوندیں جیسے جیسے ہوا ہوائی جہاز کے گرد گھومتی ہیں، اڈیبیٹک توسیع نامی ایک عمل ان بوندوں کو برف کے کرسٹل میں جما دیتا ہے، برف کے یہ کرسٹل آخرکار بھاری ہو جاتے ہیں اور آسمان سے گرتے ہیں اور بادل کی تہہ میں ایک سوراخ چھوڑ دیتے ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف کے لیے نیک خواہشات …

    ناسا کے ٹیرا سیٹلائٹ کی اس تصویر میں، گرتے ہوئے برف کے کرسٹل سوراخوں کے بیچ میں بارش کے ایسے پگڈنڈوں کے طور پر دکھائی دے رہے ہیں جو کبھی زمین تک نہیں پہنچ پاتے، انہیں ورگا کہتے ہیں،یعنی جہازوں کے گزرنے پر بادلوں میں موجود کچھ جم کر نیچے گرجاتا ہے اور بادل وہاں سے خالی نظر آتا ہے۔

    اسرائیل تیار،اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں جنگ بندی جلد ممکن،امریکا

  • چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج دئیے

    چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج دئیے

    50 سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار ایسا امریکی خلائی مشن روانہ کیا گیا ہے جو چاند پر اترے گا یہ مشن امریکا کے سرکاری خلائی ادارے ناسا کی بجائے نجی کمپنیوں نے روانہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: 50 سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار ایسا امریکی خلائی مشن روانہ کیا گیا ہے جو چاند پر اترے گا یہ مشن امریکا کے سرکاری خلائی ادارے ناسا کی بجائے نجی کمپنیوں نے روانہ کیا ہے یونائیٹڈ لانچ الائنس نامی کمپنی کے راکٹ والکن کے ذریعے ایک اور کمپنی آسٹرو بائیوٹک ٹیکنالوجی کے لینڈر کو فلوریڈا سے لانچ کیا گیا۔

    اس راکٹ نے اسپیس کرافٹ کو چاند کی جانب روانہ کیا جو 23 فروری کو وہاں لینڈ کرنے کی کوشش کرے گا آسٹرو بائیوٹک چاند پر کامیابی سے مشن لینڈ کرانے والی پہلی نجی کمپنی بننے کی خواہشمند ہے، اب تک صرف 4 ممالک ایسا کرسکے ہیں جن میں امریکا، روس، چین اور بھارت شامل ہیں۔

    یہ 1972 کے بعد امریکا کا پہلا مشن ہے جو چاند پر اترنے کی کوشش کرے گا ناسا کی جانب سے ان دونوں کمپنیوں کو کروڑوں ڈالرز فراہم کیے گئے تھے اور اس کا مقصد چاند پر امریکی موجودگی کا احساس دلانا ہے، کیونکہ دیگر ممالک کی جانب سے اس حوالے سے 2023 میں کافی کام کیا گیا ہے،امریکی خلائی ادارے کو توقع ہے کہ اس مشن سے ناسا کی چاند کی کھوج کی کوششوں کو نئی زندگی ملے گی۔

    واضح رہے کہ ناسا کی جانب سے 2025 میں آرٹیمس 3 مشن کے ذریعے انسانوں کو چاند پر پہنچایا جائے گا والکن راکٹ کی یہ ابتدائی آزمائشی پرواز بھی ہے جو کافی عرصے سے تاخیر کا شکار تھی فروری میں اسپیس ایکس کی جانب سے ایک نجی کمپنی کے لینڈر کو ایک ہفتے کے اندر چاند پر لینڈ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

    دوسری جانب ”ناسا“ نے دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ایوریسٹ کے ٹکڑے چاند کی سطح پر رکھنے کے لیے روانہ کردئیے ہیں خلائی جہاز پر 20 پے لوڈز ہیں جن میں ناسا کے پانچ آلات بھی شامل ہیں، پے لوڈز میں مائونٹ ایوریسٹ کے ٹکڑے بھی شامل ہیں، ان تمام پے لوڈز کا مجموعی وزن 90 کلوگر ام ہے۔

    ناسا کے جدید ترین آلات مستقبل کے مون مشنز کے لیے لوکیشنز کا تعین کریں گے اس خلائی جہاز پر معروف ٹی وی سیریل اسٹار ٹریک کے خالق جین روڈنبری کی باقیات اور ڈی این اے سیمپل بھی شامل ہیں، باقیات اور ڈی این اے سیمپل جہاز پر اپ لوڈ کرنے پر متعدد تنظیموں نے شدید اعتراضات کیے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چاند کی سرزمین کا احترام کیا جانا چاہیے، وہاں ایسا کچھ بھی نہیں بھیجا جانا چاہے جس سے ماحول خراب ہو اور اخلاقی جواز کا سوال اٹھے۔

  • انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں رہنے والے نئے سال کا استقبال 16 بار  کریں گے

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں رہنے والے نئے سال کا استقبال 16 بار کریں گے

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں رہنے والے نئے سال کا استقبال 16 بار کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی: دنیا بھر میں 2024 کا آغاز ہو رہا ہے اور ہر ملک میں لوگوں کو صرف ایک بار پھر سال نو کا جشن منانے کا موقع ملے گامگر انٹر نیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں رہنے والے 16 بار نیا سال مناتے ہیں، اس کی وجہ بھی کافی دلچسپ ہے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن زمین کے گرد 17 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے اور وہاں رہنے والوں کو روزانہ 16 بار سورج طلوع اور غروب ہو تے ہوئے نظر آتا ہے۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق آئی ایس ایس ہر ڈیڑھ گھنٹے میں زمین کے گرد چکر مکمل کرتا ہے اور اسی وجہ سے وہاں رہنے والے 16 بار سورج طلوع اور غروب ہوتے دیکھتے ہیں اس سفر کے دوران وہ دنیا کے متعدد ٹائم زونز سے گزرتے ہیں اور خلا بازوں کو نئے سال کو کئی بار خوش آمدید کہنے کا موقع ملتا ہے خلا باز 45 گھنٹے سورج کی روشنی اور 45 منٹ اندھیرے کا مشاہدہ کرتے ہیں اور بار بار دن رات کی تبدیلی کو مختلف تجربات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے 24 گھنٹے میں متعدد بار دن رات کے مشاہدے سے خلا بازوں کی جسمانی گھڑی پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی،3 دہشتگرد ہلاک

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    سال 2023 ایوی ایشن سیکٹر کے لیے تباہ کن رہا

  • ناسا نے  کرسمس ٹری سے ملتے جلتے ستاروں  کے جھرمٹ کی تصویر جاری کر دی

    ناسا نے کرسمس ٹری سے ملتے جلتے ستاروں کے جھرمٹ کی تصویر جاری کر دی

    سینکڑوں نوری سال دور ستاروں کا ایک جھرمٹ دیکھا گیا ہے جس کی شکل بالکل کرسمس کے درخت سے ملتی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق عیسائیوں کے تہوار کرسمس کے موقع پر ناسا نے سبز رنگ کے ’نوجوان‘ ستاروں کے جھرمٹ NGC 2264 کی تصویر جاری کی ہے جسے Christmas Tree Cluster بھی کہا جاتا ہے، کسی کرسمس کے درخت کی طرح دکھنے والا ستاروں کا یہ جھرمٹ 2500 نوری سال کے فاصلے پر ہے ستاروں کے جھرمٹ کی یہ تصویر ناسا کی چاندرا ایکس رے آبزرویٹری کی جانب سے لی گئی ہے۔

    اس ’کرسمس درخت‘ میں کچھ ستارے ہمارے سورج کے سائز کا صرف دسواں حصہ ہیں جبکہ دیگر کئی گنا بڑے ہیں ناسا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس جھرمٹ میں بہت سے ستارے صرف 1 سے 5 ملین سال پرانے ہیں جو اربوں سال زندہ رہنے والے دیگر ستاروں کے مقابلے میں انہیں ’شیرخوار‘ بنا دیتے ہیں-

  • ناسانے  یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    ناسانے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ اب تک کی طاقتور ترین ٹیلی اسکوپ ہے جس نے کائنات کے اب تک چھپے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظام شمسی کے سیارے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کی ہیں-

    باغی ٹی وی: ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کی سب سے خاص بات یورینس کے گرد نظر آنے والے رنگز ہیں جو عام طور پر نظر نہیں آتے ہمارے نظام شمسی کے 7 ویں سیارے یورینس کی پہلی تصویر وائجر 2 نے 1986 میں کھینچی تھی، جس میں یہ شوخ نیلے رنگ کا سیارہ نظر آتا تھا مگر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے نیئر انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے اس سیارے کے آنکھوں سے اوجھل عناصر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے۔

    ناسا کی جانب سے اپریل میں بھی جیمز ویب سے لی گئی یورینس کی تصویر جاری کی گئی تھی مگر نئی تصویر میں زیادہ تفصیلات موجود ہیں ستمبر میں کھینچی گئی اس نئی تصویر میں یورینس کے رنگز جگمگا رہے ہیں جبکہ اس سیارے کے 27 میں سے کچھ چاند (نیلے نقطے یا بلیو ڈاٹس) بھی دیکھے جا سکتے ہیں اس تصویر کی ایک خاص بات اس کے قطب شمالی کو دکھانا ہے تصویر میں سیارے کی آب و ہوا کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے اور قطبی حصے میں طوفان نظر آرہے ہیں۔

    اٹلی میں سیپیوں، مرجان اور سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا …

    واضح رہے کہ یہ سیارہ رقبے کے اعتبار سے ہمارے نظام شمسی کا تیسرا جبکہ وزن کے اعتبار سے چوتھا بڑا سیارہ ہے یورینس ایسا منفرد سیارہ ہے جو اپنے مدار کے گرد ترچھے انداز سے گردش کرتا ہے یورینس کا ایک سال زمین کے 84 سال کے برابر ہوتا ہے مگر وہاں کا ایک دن محض 17 گھنٹے کا ہوتا ہےناسا کی جانب سے مستقبل قریب میں ایک مشن یورینس کی جانب بھیجا جائے گا کیونکہ ابھی بھی اس سیارے کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں۔

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

  • ناسا نے خلا  میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی ویڈیو  زمین پر بھیج دی

    ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی ویڈیو زمین پر بھیج دی

    امریکی تحقیقاتی ادارے ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے ایک بلی کی ویڈیو زمین پر بھیجی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فاصلہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے 80 گنا ہے 15 سیکنڈ کی یہ وڈیو جدید ترین لیزر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین پر بھیجی گئی اس تجربے سے ثابت ہوگیا کہ مریخ پر انسانوں کو آباد کرنے جیسے پیچیدہ مشن کے لیے مطلوب مواصلاتی رابطہ ممکن ہے۔
    https://x.com/NASA/status/1736900843813605759?s=20
    ناسا ن ترجما ن نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے زمین سے 19 ملین میل (31 ملین کلومیٹر) دور ایک خلائی جہاز پر ایک بلی کی ہائی ڈیفینیشن (ایچ ڈی) ویڈیو زمین پر بھیجنے کے لیے جدید ترین لیزر مواصلاتی نظام کا استعمال کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹیٹرز (Taters) نامی ٹیبی نسل کی بلی کی 15 سیکنڈ دورانیے کی ویڈیو بیرونی خلا (Deep Space) سے نشر ہونے والی پہلی ویڈیو ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مریخ پر انسانوں کو بھیجنے جیسے پیچیدہ مشنز کے لیے درکار اعلیٰ ڈیٹا ریٹ مواصلات کو منتقل کرنا ممکن ہے۔

    "برطانوی خبررساں ادارے ” انڈیپنڈنٹ اردو” کے مطابق مریخ اور مشتری کے درمیان قیمتی دھاتوں کے حامل چند شہاب ہائے ثاقب کے بارے میں تحقیق کرنے والے خلائی جہاز ”سائیکی“ سے بھیجا جانے والا اینکوڈیڈ انفرا ریڈ سگنل سان ڈیاگو کائونٹی میں قائم رس گاہ میں موصول ہوا،لانچ سے پہلے اپ لوڈ کیے گئے ویڈیو کلپ میں اس بلی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو ایک صوفے پر لیزر لائٹ کا پیچھا کر رہی ہے اس ویڈیو میں ٹیسٹ گرافکس اوورلے بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جن میں خلائی جہاز سائکی کے مدار میں راستے، لیزر اور اس کے ڈیٹا کے بارے میں تکنیکی معلومات شامل ہیں۔

    جنوبی کیلیفورنیا کی جیٹ پروپلژن لیباریٹری کے ڈیمو پروجیکٹ مینیجر بل کلپسٹین کہتے ہیں کہ اس تجربے کا مقصد بہت بڑے فاصلوں تک ایچ ڈی وڈیوز بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا-

    ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ پر انسانوں کو آباد کرنے جیسے پیچیدہ خلائی مشنز کے لیے انتہائی فاصلوں سے رابطہ کرنے کا نظام تیز ترین اور خامیوں سے پاک ہونا چاہیےخلائی جہاز عام طور پر ریڈیو سگنلز استعمال کرتے ہیں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی مدد سے رابطے کی رفتار میں 10 تا 100 گنا اضافہ ممکن ہے،اس ہائی ڈیفینیشن ویڈیو کو 267 میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین پر بھیجنے میں 101 سیکنڈ لگے، جو گھریلو براڈ بینڈ کنکشنز کے مقابلے میں تیز ترین ہے۔

    جے پی ایل میں پروجیکٹ کے ریسیور الیکٹرانک لیڈ ریان روگالن نے بتایا کہ درحقیقت پالومار میں ویڈیو موصول ہونے کے بعد اسے انٹرنیٹ پر جے پی ایل کو بھیجا گیا اور یہ کنکشن بیرونی خلا سے آنے والے سگنل کے مقابلے میں سست تھا۔

    اس سوال کے جواب میں کہ آخر بلی کی ویڈیو ہی کیوں بھیجی گئی؟ جے پی ایل نے بتایا کہ اس کا ایک تاریخی تعلق ہے، جب 1920 کی دہائی میں ٹیلی ویژن میں امریکیوں کی دلچسپی بڑھنے لگی تو فیلکس دی کیٹ کے مجسمے کو آزمائشی تصویر کے طور پر نشر کیا گیا تھا۔

  • 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی:ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود کیسیوپیا اے (کیس اے) نامی ستارے کے اندر دھول کے خول کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ٹیلی اسکوپ میں نصب نیئر انفرا ریڈ کیمرا (این آئی آر کیم) نے کیس اے کے باقیات کو عکس بند کیا ہے،تصویر میں کیس اے کی باقیات میں موجود جامنی رنگ کی شے کو واضح دیکھا جا سکتا ہے جو دراصل آئیونائزڈ گیس کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
    https://x.com/NASAWebb/status/1734020677311639828?s=20
    ناسا کے مطابق ، ماہرین فلکیات اب کیس اے مطالعہ میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اپریل 2023 میں، Webb’s MIRI (Mid-Infrared Instrument) نے اس باب کا آغاز کیا، جس میں سپرنووا کے باقیات کے اندرونی خول کے اندر نئی اور غیر متوقع خصوصیات کا انکشاف ہوا۔ ان میں سے بہت سی خصوصیات نئی این آئی آر کیم تصویر میں پوشیدہ ہیں، اور ماہرین فلکیات اس کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
    nasa
    پرڈو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈینی مِلیوسیولجوک کا ناسا کی پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ کیس اے تقریباً 340 سال قبل دھماکے سے پھٹا جس کے بعد اس کی جگہ شیشے کی باریک کرچیوں جیسی دھاریاں رہ گئی اتنے برس تک کیس اے پر مطالعہ کرنے کے بعد اب معلومات کا حاصل ہونا ناقابلِ یقین ہے یہ معلومات سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ یہ ستارہ پھٹا کیسے۔
    nasa
    پرنسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹیمِ نے پریس ریلیز میں کہا کہ کیس اے کی پہلی تصاویر اپریل میں جاری کی گئی تھیں جن میں ایسی تفصیلات سامنے آئیں جن تک سائنس دانوں کو پہلے رسائی نہیں تھی تصویر میں موجود سفید رنگ سِنکروٹرون شعاعوں سے پیدا ہونے والی روشنی ہے، جو مقناطیسی فیلڈ لائنز کے گرد انتہائی تیزی سے گھومتے ہوئے سفر کرنے والے چارجڈ ذرات کے سبب خارج ہو رہی ہے۔