Baaghi TV

Tag: نریندر مودی

  • 26 جماعتی اتحاد نےمودی کےخلاف پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی

    26 جماعتی اتحاد نےمودی کےخلاف پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی

    بھارت میں اپوزیشن کے 26 جماعتی اتحاد نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف بھارتی پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لوک سبھا میں نئے اپوزیشن اتحاد انڈین نیشنل ڈویلپمنٹل انکلوسیو الائنس اور جماعت بھارت راشٹر سمیتی کی جانب سے بدھ کو مودی حکومت کے خلاف دو الگ الگ تحریک عدم اعتماد پیش کی گئیں، اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد قبول کر لی، بحث کے لیے ابھی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

    اپوزیشن کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا مقصد منی پور میں جاری نسلی تشدد پر وزیراعظم کی خاموشی تڑوانا ہے جبکہ543 رکنی لوک سبھا میں اپوزیشن انڈیا کی114نشستوں کے مقابلے میں حکومتی اتحاد کی 331 اکثریتی نشستوں کی وجہ سے حکومت کو تحریک عدم اعتماد سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    بھارت کے 26 جماعتی اتحاد کا مودی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ منی پور میں اکثریتی ہندو میتئی اور مسیحی قبائیلوں کے درمیان 3 مئی سے جاری تشدد میں اب تک ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک اور 50 ہزار سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیںھارتی اپوزیشن 2 ہفتے سے منی پور خانہ جنگی پر لوک سبھا میں بحث مطالبہ کر رہی تھی، تاہم مودی سرکار منی پور فسادات پر پارلیمنٹ میں بحث کروانے سے گریزاں رہی، اور منی پورخانہ جنگی کے خلاف قرارداد پیش کرنے پر اجلاس ہی برخاست کردیا گیا تھا۔

    اپوزیشن کو دباؤ میں لانے کیلئے مودی سرکار نے عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ کی پارلیمنٹ رکنیت بھی معطل کر دی۔ اپوزیشن رہنما ملیکارجن کھرگے کا کہنا ہے کہ مودی کا ذاتی انا سے بالاتر ہو کر ملک کا سوچنا چاہیے۔

    چینی وزیر خارجہ کوعہدے سے فارغ کر دیا گیا

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن کی 26 جماعتوں نے مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ٹکر دینے کے لیے اتحاد کا اعلان کیا ہے جس کا نام انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلیوسز الائنس (انڈیا) رکھا گیا ہے۔

  • بھارت کے 26 جماعتی اتحاد کا  مودی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ

    بھارت کے 26 جماعتی اتحاد کا مودی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ

    بھارت کے 26 جماعتی اتحاد (انڈین نیشنل ڈویلپمنٹل انکلوسیو الائنس) نے مودی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے خلاف بھارت کے 26 جماعتی اتحاد (انڈین نیشنل ڈویلپمنٹل انکلوسیو الائنس) نے عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے بھارتی اپوزیشن 2 ہفتے سے منی پور خانہ جنگی پر لوک سبھا میں بحث مطالبہ کر رہی تھی، تاہم مودی سرکار منی پور فسادات پر پارلیمنٹ میں بحث کروانے سے گریزاں رہی، اور منی پورخانہ جنگی کے خلاف قرارداد پیش کرنے پر اجلاس ہی برخاست کردیا گیا تھا۔

    دوسری جانب اجلاس کی غیر آئینی برخاستگی پر اپوزیشن رہنماؤں کا پارلیمنٹ کے باہر دھرنا گزشتہ روز سے جاری ہے، اور تحریک عدم اعتماد کا سن کر مودی بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اور مودی نے اپوزیشن اتحاد کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے تشبیہ دے دی ہے۔

    چینی وزیر خارجہ کوعہدے سے فارغ کر دیا گیا

    اپوزیشن کو دباؤ میں لانے کیلئے مودی سرکار نے عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ کی پارلیمنٹ رکنیت بھی معطل کر دی۔ اپوزیشن رہنما ملیکارجن کھرگے کا کہنا ہے کہ مودی کا ذاتی انا سے بالاتر ہو کر ملک کا سوچنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن کی 26 جماعتوں نے مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ٹکر دینے کے لیے اتحاد کا اعلان کیا ہے جس کا نام انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلیوسز الائنس (انڈیا) رکھا گیا ہے۔

    ویڈیو،بھارتی انجو فاطمہ بن گئی، اسلام قبول کر لیا،شادی بھی کر لی

    بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے اس اتحادکا نعرہ ’جیتے گا بھارت‘ ہے، اس حوالے سے ان تمام جماعتوں کی ایک بڑی میٹنگ منگل کے روز بنگلورو میں ہوئی جہاں اتحاد کا اعلان کیا گیا،بھارتی میڈیا کے مطابق ان 26 جماعتوں نے 2019 میں لوک سبھا کے الیکشن میں 134 نشستیں حاصل کی تھیں اور مجموعی طور پر 35 فیصد ووٹ لیے تھے۔

    اس اتحاد کے اعلان کے موقع پر مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کا کہنا تھا کہ آئیے ہمیں نیشنل ڈیولپمنٹ الاؤنس (این ڈی اے) کو چیلنج کرتے ہیں، کیا کوئی ہے جو ’انڈیا‘ کو چیلنج کرے؟اس موقع پر کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ 2024 کے انتخابات میں مودی بمقابلہ ‘انڈیا’ ہوگا جس میں ‘انڈیا’ میدان مار لےگا۔

    کوپن ہیگن؛ قرآن کی ایک بار پھر بے حرمتی، ڈنمارک کا سفارتی عملہ بغداد نکال …

  • بھارتی اخبار نے مگر مچھ کی تصاویر کے ساتھ نریندر مودی کی تصاویر شائع کر دی

    بھارتی اخبار نے مگر مچھ کی تصاویر کے ساتھ نریندر مودی کی تصاویر شائع کر دی

    منی پور: مگر مچھ کی تصاویر کے ساتھ نریندر مودی کی تصاویر شائع کر دیں-

    باغی ٹی وی :بھارتی اخبار ٹیلی گراف انڈیا نے بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور تشدد پر 79 دن کی خاموشی کے بعد مگرمچھ کے آنسو بہانے والے وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور اپنے پہلے صفحے پر ایک مگرمچھ کی آنسو بہانے کی تصویر شائع کی ہے-


    بھارتی اخبار نے تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ ’56 انچ کے سینے کے درد اور شرمندگی کو دور کرنے میں 79 دن لگے، اور بھارتی وزیر اعظم اپنے 56 انچ کے سینے پر فخر کرتے ہیں۔

    جنوبی افریقا میں سڑک دھماکے سے پھٹ گئی،ایک شخص جاں بحق متعدد زخمی

    Modi
    https://twitter.com/IndiaObservers/status/1682292579180716032?s=20
    دوسری جانب منی پور میں 2 خواتین کو برہنہ پریڈ کروانے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کے گھر کو آگ لگا دی گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ مقامی خواتین کی جانب سے منی پور اجتماعی زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کے گھر پر پتھراؤ کرتے ہوئے گھر کو آگ لگا دی گئی ہے۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ مئی کے مہینے میں کوکی قبیلے کے گھروں پر حملہ کرکے آگ لگانے سمیت 2 خواتین کو برہنہ کرکے سڑکوں پر پریڈ کروانے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کی ایک شکایت موصول ہوئی تھی، واقعے کے مبینہ مرکزی ملزم سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید 30 افراد کی تلاش جاری ہے۔

    کینیڈا:جنگلات کی آگ بجھانے والے ہیلی کاپٹر کو حادثہ ،پائلٹ ہلاک

    واضح رہے کہ منی پورمیں ہونے والے لسانی فسادات کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم سوشل میڈیا پر گاہے بگاہے اس حوالے سے دل دہلا دینے والی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں بھارتی ریاست منی پور میں 3 مئی کو ہندو عیسائی فسادات شروع ہوئے تھے، اور ان فسادات میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک اور 400 زخمی ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ کئی گرجا گھروں، سرکاری دفاتر اور گھروں کو بھی نذر آتش کیا جا چکا ہے جب کہ رواں ہفتے دو عیسائی خواتین سے اجتماعی زیادتی کے بعد ان خواتین کو برہنہ کرکے گلیوں میں گھمانے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، جس نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔

    ان تمام واقعات کے باوجود خاموش رہنے والے نریندر مودی نے 79 دنوں کے بعد گزشتہ روز اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا تھا کہ میرا دل ان واقعات پر غم اور غصے سے بھرا ہوا ہے۔ جس سے بھارت کی دنیا بھر میں تضحیک ہوئی۔

    واٹس ایپ کو اینڈرائیڈ اسمارٹ واچز میں متعارف کرا دیا گیا

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق خواتین سے زیادتی کی خبر کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ ویڈیو حکام کو معلوم تھی لیکن انہوں نے اسے جان بوجھ کر 2 ماہ تک خفیہ رکھا اور اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ بھارت کی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے رہنما این بائرن سنگھ 2017 سے ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں اور ریاست میں 53 فیصد آبادی ہندو میٹی قبیلے کی ہے جبکہ ریاست میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے کوکی اقلیتی قبیلے کی شرح 16 فیصد ہے۔

    ہندی اور اردو ادب کی معروف افسانہ اور ناول نگار

  • جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا،راہول گاندھی

    جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا،راہول گاندھی

    نئی دہلی: اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

    باغی ٹی وی:راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہےکہ وزیراعظم نریندر مودی کے کاروباری اتحادی کے خلاف تحقیقات کے مطالبے کی پاداش میں مجھے پارلیمنٹ سے نکالا گیا لیکن میں جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

    سعودی وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ،رمضان المبارک کی مبارکباد

    نریندر مودی کی حکومت پر سیاسی مخالفین اور سماجی تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر الزام لگایا گیا کہ وہ قانون کا استعمال ناقدین کو نشانہ بنانے اور خاموش کرنے کے لیے کرتی ہے،راہول گاندھی نے کہا کہ وہ دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

    انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ میں اس ملک کی جمہوری کے دفاع کے لیے جو بھی کرنا پڑے گا کروں گانریندر مودی کے اہم مخالف کی پارلیمنٹ سے برطرفی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہےجب بھارت کے سب سے طاقتور صنعت کاروں میں سے ایک گوتم اڈانی کے ساتھ وزیر اعظم کےتعلقات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے مجھے نااہل قرار دیا گیا ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی گوتم اڈانی پر آنے والی اگلی تقریر سے خوفزدہ ہیں، میں یہ سوال پوچھتا رہوں گا کہ مسٹر اڈانی کے ساتھ وزیر اعظم کا کیا تعلق ہے؟-

    شہزادہ ولیم کا یوکرین اورپولینڈ کی سرحد کے قریب اچانک دورہ

    خیال رہے کہ سورت کی عدالت نے جمعرات کو 12.30 بجے راہل کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ لیکن 27 منٹ بعد ضمانت مل گئی۔ سزا کے 26 گھنٹے بعد جمعہ کو ان کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ ہفتہ کو 23 گھنٹے بعد راہل پرینکا کےساتھ کانگریس دفتر پہنچے اور 28 منٹ تک میڈیا سے بات کی راہول گاندھی کو عدالتی فیصلے کےبعد 24 مارچ کو ان کی پارلیمانی نشست سے ہٹا دیا گیا تھا، 2019 میں مودی کی آبائی ریاست گجرات میں انتخابی مہم کےدوران کیےگئے تبصرے میں انہیں ہتک عزت کا مجرم قرار پایا گیا تھا جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی توہین کے طور پر دیکھا گیا –

    مودی برادری کی توہین، راہول کو دو برس قید کی سزا

  • دونوں ملکوں کے تعلقات کو بڑھنے دیں،شاہد آفریدی کی مودی سے درخواست

    دونوں ملکوں کے تعلقات کو بڑھنے دیں،شاہد آفریدی کی مودی سے درخواست

    سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو بڑھنے دیں- دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کو چلنے دیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان اور بھارت کے تعلقات بدستور خراب ہیں۔ خراب تعلقات نے ہر چیز کو متاثر کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سیریز نہیں ہو رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی کرکٹ ٹیمیں صرف آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتی ہیں۔ تاہم اس بار ایشیا کپ کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان تنازع جاری ہے۔

    ایشیا کپ2023 :اس بار بھارت سے 2011 کا بدلہ لینا ہے،شعیب اختر

    قطر میں کھیلی گئی لیجنڈز لیگ کے دوران بھارتی صحافی کی جانب سے شاہد آفریدی سے دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ سے متعلق سوال پوچھا گیاجس پرشاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ میں نریندر مودی سے درخواست کروں گا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو بڑھنے دیں، کرکٹ کو چلنے دیں تاکہ ہم انجوائے کرسکیں، میری ہمیشہ سے خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ہو، پاکستان اور بھارت ہمسایہ ملک ہیں لہٰذا دونوں کے درمیان رابطے اور تعلقات ہونے چاہیے۔

    ایشیا کپ: بھارتی ٹیم کے پاکستان آنےکےفیصلےسےمتعلق بھارتی وزیر کا موقف تبدیل

    آفریدی نے کہا کہ ابھی حال ہی میں کئی عالمی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی بھارت میں سیکیورٹی کا خطرہ تھا اس کے باوجود دونوں ممالک کی حکومتیں اجازت دیں تو ہن بھارت کا دورہ ضرور کریں گے-

    شاہد آفریدی نے پی سی بی کے موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ پی سی بی آگے کی طرف دیکھتا ہے اور پی سی بی کی خواہش ہے کہ بھارتی ٹیم پاکستان آئے یا پاکستانی ٹیم کو بھارت بلایا جائے، میں نے پی سی بی کا کبھی کوئی ایسا بیان نہیں دیکھا جس میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے خلاف کوئی بات کی گئی ہو لیکن بھارتی بورڈ فیصلے لینے سے پہلے کم ازکم پاکستان بورڈ سے تو بات کر ے، جب ان معاملات میں سیاست کو بیچ میں لایا جائے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

    پاکستان کے خلاف سیریز کے لیے افغان کرکٹ ٹیم کا اعلان

  • مودی نے عالمی اداروں کو دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل میں ناکام قرار دے دیا

    مودی نے عالمی اداروں کو دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل میں ناکام قرار دے دیا

    بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے عالمی اداروں کو دنیا کے بڑے چیلنجز کو حل کرنے میں ناکام قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی وزیراعظم کا جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں مودی نے عالمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں بڑے عالمی چیلنجز کے حل میں ناکام قرار دیا،مودی نے عالمی اداروں سے اس طرح کے مسائل پر باہمی پلیٹ فارم کی تلاش کا بھی مطالبہ کیا۔

    وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد تخلیق کردہ عالمی نظام اپنے مقاصد میں ناکام ہوگیا ہے اور اس کی ناکامی کے المناک نتائج سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے-

    مودی نے جی 20 وزرائے خارجہ کانفرنس کے آغاز کے موقع پر اپنے ویڈیو پیغام میں مہمان وزرائے خارجہ پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی تہذیبی اخلاقیات سے تحریک لیں اور ترقی پذیر ممالک کی آوازوں کو سنیں اور اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر دنیا کو معاشی بحران سے نجات دلانے اورجوڑنے میں تعاون کریں۔

    مودی نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے تمام جی20 رکن ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور خصوصی طور پر مدعو ممالک کے وزرائے خارجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے جی20 صدارت کے لیے ‘ایک کرہ ارض، ایک خاندان، ایک مستقبل’ کے تھیم کا انتخاب کیا ہے۔ یہ مقصد کے اتحاد اور عمل کے اتحاد کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ امید ہے کہ آپ کی آج کی ملاقات مشترکہ اور ٹھوس مقاصد کے حصول کے لیے اکٹھے ہونے کے جذبے کی عکاسی کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا، ہم سب کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ کثیرالجہتی آج بحران کا شکار ہے۔

    دوسری جنگ عظیم کے بعد تخلیق کردہ عالمی طرز حکمرانی کا ڈھانچہ دو کاموں کو انجام دینے کے لئے تھا۔ سب سے پہلے، مسابقتی مفادات کو متوازن کرکے مستقبل کی جنگوں کو روکنا۔ دوسرا، مشترکہ دلچسپی کے امور پر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کا تجربہ – مالیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض، دہشت گردی اور جنگ – صاف ظاہر کرتا ہے کہ عالمی گورننس اپنے دونوں مینڈیٹ میں ناکام رہی ہے۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ اس ناکامی کے المناک نتائج سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھارتی شہر بنگلورو میں وزرائے خزانہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں جنگ سے متعلق کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جاسکا تھا۔

  • چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا

    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا

    آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی چیٹ جی پی ٹی نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو دنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک ٹوئٹر صارف کی جانب سے اس اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی چیٹ بوٹ سے دنیا کی متنازع شخصیات کی فہرست مرتب کرنے کا کہا گیا تھا۔

    چیٹ جی پی ٹی کی تیار کردہ فہرست میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ساتھ ایلون مسک، ڈونلڈ ٹرمپ، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، شمالی کورین صدر کم جونگ اُن، سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور کم کارڈیشین سمیت دیگر نام شامل تھے۔

    چیٹ جی پی ٹی کا کہنا تھا کہ ان شخصیات کے ساتھ ‘خصوصی انداز’ سے سلوک کیا جانا چاہیے اس فہرست کو ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا تو ایلون مسک نے اپنا ردعمل !! لکھ کر دیا۔


    اس صارف نے ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ چیٹ جی پی ٹی نے ممکنہ طور پر متنازع شخصیات کی فہرست میڈیا کوریج کو مدنظر رکھ مرتب کی لہذا بہت سے معاملات میں، خیالات صرف مرکزی دھارے کے میڈیا کے خیالات کی عکاسی کر سکتے ہیں، ضروری نہیں کہ کوئی چیٹ جی پی ٹی پروگرامنگ ہو۔

    صارف نے کہا کہ وضاحت کے طور پر، میں نے کالم ہیڈر بنائے ہیں، لیکن میں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی وضاحت کیسے کی جائے، جیسا کہ اسکرین شاٹس میں سے ایک میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بشمول "چیٹ جی پی ٹی کو ایک خاص طریقے سے برتاؤ کرنا چاہیے” (متنازعہ کی نقل، کیونکہ تنازعہ کو ایک خاص انداز میں برتا جانا چاہیے)۔

    خیال رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو نومبر 2022 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے بعد سے یہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔یہ چیٹ بوٹ سوالات کے جوابات اور مختلف موضوعات پر تفصیلات فراہم کرتا ہےہر فرد اس اے آئی چیٹ بوٹ کو مفت استعمال کر کے ای میلز یا مضامین تحریر کروا سکتا ہے یا اپنے اسائنمنٹ مکمل کرنے کے لیے مدد حاصل کر سکتا ہے۔

  • مودی نا تو مرد لگ رہا ہے اور نا ہی عورت لگ رہی ہے، یہ صرف فیشن کا پجا ری ہے،سابق بھارتی کرکٹر کا تبصرہ

    مودی نا تو مرد لگ رہا ہے اور نا ہی عورت لگ رہی ہے، یہ صرف فیشن کا پجا ری ہے،سابق بھارتی کرکٹر کا تبصرہ

    سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان کرتی آزاد کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حلیے پر تبصرے نے نئے تنازع کو جنم دے دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ترینامول کانگریس کے رہنما اور سابق ممبر لوک سبھا کرتی آزاد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے میگھالیہ میں ایک تقریب کے دوران قبائلی انداز اپنانے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

    کرتی آزاد کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ایک خاتون ماڈل کی تصویر شیئر کی گئی جس میں دونوں کا لباس ایک جیسا تھا بعد ازاں سابق کرکٹر نے ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کر دیا-

    سابق بھارتی کرکٹر نے مودی کی تصویر شیئر کرنے کے ساتھ ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ نا تو مرد لگ رہا ہے اور نا ہی عورت لگ رہی ہے، یہ صرف فیشن کا پجا ری ہے۔


    کرتی آزاد کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا اور بھارتی ریاست آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا شرما کی جانب سے سابق بھارتی کرکٹر کو آڑتے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا گیا کہ کرتی آزاد نے صرف بھارتی وزیراعظم کی توہین نہیں کی بلکہ انہوں نے میگھالیہ کی ثقافت کی توہین کی ہے اور قبائلی لباس کی بے ادبی کی ہے۔


    بی جے پی اور بھارتی صارفین کی جانب سے تنقید پر کرتی آزاد نے آزاد نے فوری جواب دیا اور واضح کیا کہ وہ دراصل مودی کے لباس کو "پسند” کرتے ہیں اور اس کی بے عزتی نہیں کر رہے ہیں۔ "میں یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہمارے وزیر اعظم فیشن بیان کرنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی بھی موقع ضائع نہیں کرتے-

  • امیتابھ بچن کی سالگرہ کے موقع پر بالی وڈ سلیبرٹیز کی مبارکباد

    امیتابھ بچن کی سالگرہ کے موقع پر بالی وڈ سلیبرٹیز کی مبارکباد

    بالی وڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن آج اپنی 80 ویں سالگرہ منا رہے ہیں اس موقع پر انہیں بالی وڈ کی سیلبرٹیز مبارکباد دے رہی ہیں . ابھیشیک بچن نے اپنے والد کو سالگرہ کی مبارکباد دی. بی پاشا باسو ، شلپا شیٹی ، ٹائیگر شروف اکشے کمار نے بھی بگ بی کو سالگرہ کی مبارکباد دی. اکشے کمار نے امیتابھ بچن کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، اس شخص کو میں نیک تمنائیں بھیج رہا ہوں جو فلموں میں ہیرو بننے کی خواہش رکھنے والی پوری نسل کی واحد وجہ ہے. نیتو کپور نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں لکھا لیجنڈ کو سالگرہ مبارک. سونم کپور نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں

    امیتابھ بچن کو نیک خواہشات کا اظہار کیااور انہیں ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے چچا کہا. بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امیتابھ بچن کو ان کی 80ویں سالگرہ پر مبارکباد دی۔فلم ساز کرن جوہر نے امیتابھ بچن کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امیتابھ بچن ایک ہی ہے کوئی دوسرا پیدا ہو نہیں سکتا.اجے دیوگن نے امیتابھ بچن کے ساتھ اپنی ایک تصویر شئیر کرکے سالگرہ کی مبارکباد دی اور کہا کہ سر آپ ہم سے بہت آگے ہیں. اداکار سنجے دت نے بھی امیتابھ بچن کو سالگرہ کی مبارکبا دینے کے ساتھ دعائیں دیں. کترینہ کیف کے شوہر وکی کوشل اور اداکار کنال کھیمو جو کہ سوہا علی خان کے شوہر ہیں ان دونوں نے بھی امیتابھ بچن کو سالگرہ کی ڈھیروں مبارکباد دیں .

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-