Baaghi TV

Tag: نریندر مودی

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • مودی کی آمد سے قبل مقبوضہ کشمیر میں دھماکے کی اطلاع

    مودی کی آمد سے قبل مقبوضہ کشمیر میں دھماکے کی اطلاع

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی آج مقبوضہ وادی کا دورہ کر رہے ہیں،نریندر مودی کی آمد سے قبل مقبوضہ جموں میں دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی ہے ۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس ( کے ایم ایس) کے مطابق دھماکہ ضلع جموں کے علاقے للیانہ میں بھارتی وزیر اعظم کی ریلی کے مقام سے 12 کلو میٹر دورہوا ہے ، بھارت پولیس کی جانب سے دھماکے کی نوعیت جاننے کیلئے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم پولیس نے بتایاکہ یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں لگتا ہے۔

    مودی کے دورہ کشمیر سے قبل عسکریت پسندوں کے حملے

    خیال رہے کہ نریندر مودی آج مقبوضہ وادی کا دورہ کر رہے ہیں جس کے خلاف مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے عوام احتجاج کر رہے ہیں جبکہ مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ بینر آویزاں کئے گئے ہیں جن پر نریندر مودی کو انسانیت اور کشمیریوں کا قاتل قرار دیا گیا ہے ۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ سری نگر کے موقع پر کنٹرول لائن کے دونوں اطراف آج یوم سیاہ منایا جائے گا کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیراعظم مودی کے دورے کے موقع پر وادی میں مکمل ہڑتال ہو گی، ہڑتال کی کال کُل جماعتی حریت کانفرنس نے دی ہے۔

    حریت کانفرنس نے جاری بیان میں کہا کہ کشمیری مقبوضہ وادی پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کرتے ہیں جبکہ نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے موقع پر بھارتی جرائم کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوں گے۔

    ریاست کے دونوں اطراف آج کشمیری یوم سیاہ منائیں گے،وزیر اعظم آزاد کشمیر

    مشال ملک نے کہا کہ کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے، بھارت نے کشمیر میں ظلم و ستم کی تمام حدود پار کر دی ہیں۔کشمیری تحریک آزادی کو کامیاب کریں گے، آزادی یا موت،کشمیری کبھی سرنڈر نہیں کریں گے کشمیر کی آزادی تک جدو جہد جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے ویڈیو پیغام میں کہاکہ اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے تمام شہروں میں بھارت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا بھارتی قیادت نے پورے خطے کا امن داؤ پر لگایا ہوا ہے ہم پاکستانی ہیں،پاکستان ہمارا ہے، بھارتی سٹیبلشمنٹ اورلیڈرشپ کوہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ مودی پیکیج کے اعلان سے کشمیریوں کو ٹریپ کرنے کی کوشش کرے گا ۔

  • بھارتی ،اور ترک صدر کی شہباز شریف  کو وزیراعظم بننے پر مبارک باد

    بھارتی ،اور ترک صدر کی شہباز شریف کو وزیراعظم بننے پر مبارک باد

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا، وزیراعظم بننے پر مبارک باد کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ترک صدر نے شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارک دی اور کہا کہ آپ کے وزیراعظم منتخب ہونے کی خبر پر بے حد مسرور ہوں، یقین ہے کہ آپ کی قیادت میں پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات میں مزید مضبوطی آئے گی۔

    شہبازشریف کی رہائشگاہوں کو وزیراعظم ہاؤس کا درجہ دے دیا گیا


    وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیلی فون کرنے اور مبارک باد دینے پر صدر اردوان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور ترکی بااعتماد بھائی ہیں، دونوں کے تعلقات میں مزید قربت لانا چاہتے ہیں۔

    قبل ازیں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انتخاب کرتے ہوئے ترکی کےساتھ پاکستان کےعظیم رشتےہیں۔ لازوال رشتوں میں دونوں ممالک جڑےہیں۔ جناب طیب ایردوان کی سربراہی میں ترکی نےبےمثال ترقی کی۔ جب بھی کشمیر کی بات آئی، ترکی سب سے پہلے آگےتھا۔ پاکستان کےساتھ ہمیشہ کھڑا رہا۔ باہمی تعلقات آگےبڑھائیں گے-

    ا مید ہےپاکستان کی نئی حکومت چین کیساتھ دوستی کو یقینی بنائے گی،چین پاکستان تعلقات اور بھی بہتر…

    دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکبادی دی ہے اپنی ٹوئٹ میں نریندر مودی کا کہنا تھاکہ شہباز شریف کو وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔


    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی خواہش ہے کہ خطے میں امن اوراستحکام ہو تاکہ ہم ترقیاتی چیلنجزاور لوگوں کی فلاح وبہبود پرتوجہ مرکوزکرسکیں۔

    دریں اثنا چین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو اتوار کو ملکی پارلیمان میں عدم اعتماد کے ووٹ میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، لیکن امید ہے کہ اسلام آباد میں اتنی بڑی سیاسی ہلچل چین اور پاکستان کے درمیان ٹھوس دوستی کو متاثر نہیں کرے گی۔

    چین اور پاکستان دونوں کے ماہرین چین پاکستان تعلقات کے مستقبل پر پراعتماد ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ نئی حکومت چین کے ساتھ دوستی کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی دیرینہ روایت کو برقرار رکھے گی اور چین پاکستان تعاون کے تمام منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔

    امید ہے شہباز شریف ملک کو معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکال سکیں گے،شاہد آفریدی

    چینی اور پاکستانی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین پاکستان کے ٹھوس تعلقات پاکستان میں داخلی سیاسی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ دوطرفہ تعلقات کی حفاظت اور ترقی پاکستان کی تمام جماعتوں اور تمام گروہوں کا مشترکہ اتفاق ہے عمران خان کی جگہ نیا وزیر عظم شریف خاندان سے ہے جو ایک طویل عرصے سے چین پاکستان تعلقات کو فروغ دے رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون خان کے دور سے بھی بہتر ہو سکتا ہے۔

    صدر مملکت عارف علوی علیل ہو گئے،شہبازشریف سے وزیراعظم کا حلف نہیں لیں گے

  • ریاستی انتخابات :نریندرمودی کی جیت میں فیس بک کا کردار بے نقاب ہو گیا

    ریاستی انتخابات :نریندرمودی کی جیت میں فیس بک کا کردار بے نقاب ہو گیا

    نئی دہلی: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے بھارت میں ہونے والے حالیہ ریاستی انتخابات میں بھی مودی کی جماعت بی جے پی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

    باغی ٹی وی : قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپوٹ کے مطابق مقامی کمپنی "دی رپورٹر کلیکٹو” اور ” ایڈ واچ ” نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 22 ماہ کے دوران بھارت میں ہونے والے 10 انتخابات کے دوران فیس بک پر اشتہارات کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا –

    جس میں 10 میں سے 9 الیکشن کے دوران دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سب سے سستے اشتہارات دیئےبشمول 2019 کے قومی پارلیمانی انتخابات جن میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی، پارٹی کو اپنے مخالفین کے مقابلے میں اشتہارات کے لیے کم شرح وصول کی گئی۔

    حجاب معاملہ پر بھارتی سپریم کورٹ کا فوری سماعت سے انکار

    رپورٹرز کلیکٹو (TRC)، بھارت میں قائم ایک غیر منافع بخش میڈیا تنظیم، اور سوشل میڈیا پر سیاسی اشتہارات کا مطالعہ کرنے والے ایک تحقیقی پروجیکٹ ایڈ واچ (ad.watch) نے فروری 2019 اور نومبر 2020 کے درمیان فیس بک پر دیے گئے 5 لاکھ 36 ہزار 7 سیاسی اشتہارات کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

    ایڈ لائبریری ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) کے ذریعے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی،میٹا پلیٹ فارمز آئی این سی Meta Platformsc کے ‘شفافیت’ ٹول جو اس کے پلیٹ فارمز پر سیاسی اشتہارات کے ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دیتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق فیس بک نے بی جے پی کے امیدواروں کے اشتہارات دس لاکھ بار دکھانے کے 41 ہزار 844 روپے چارج کیے جب کہ کانگریس اور دیگر حزب مخالف کی جماعتوں سے اتنی ہی تعداد کے لیے 53 ہزار 7 سو 76 روپے چارج کئے-

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

    آج اسمبلی میں بھی اپوزیشن لیڈر سونیا گاندھی نے اپنی تقریر میں فیس بک کے اس دہرے معیار کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کو سیاست رہنے دیا جائے اور حکومت دیگر ہتھیکنڈوں کے بجائے پرفارمنس سے الیکشن جیتیں۔

    جبکہ ان نتائج سے سپریم کورٹ آف انڈیا کے اندیشوں (پی ڈی ایف) کو تقویت ملتی ہے کہ فیس بک کی پالیسیاں اور الگورتھم انتخابی سیاست اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔

    سپریم کورٹ نے گزشتہ سال جولائی میں فیس بک کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات اور ووٹنگ کے عمل، جو جمہوری حکومت کی بنیاد ہیں، سوشل میڈیا کی ہیرا پھیری سے خطرے میں ہیں یہ 240 ملین کے قریب صارفین کے ساتھ ایک غیر جانبدار اور اندھا پلیٹ فارم ہے۔

    اسرائیل سائبرحملے سے بہت متاثرہوگیا

    فیس بک نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ دہلی حکومت کی طرف سے شہر میں 2020 کے فسادات کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے سامنے حاضر ہونے سے استثنیٰ دیا جائے اور یہ شکایت کہ فیس بک کو نفرت پھیلانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

    عدالت کا حکم دیگر ممالک میں ہونے والے تنازعات اور بحث و مباحثے پر مبنی تھا، خاص طور پر امریکہ، جو کہ 2016 کے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے فیس بک کا استعمال کیے جانے والے انکشافات سے متاثر ہوا تھا۔

    گزشتہ برس اسرائیلی فوج نےفلسطینی صحافیوں پر260 سے زائد حملےکیے، رپورٹ

  • چھٹی کے دن اسکول کے بچوں کے ساتھ تصویر،مودی سوشل میڈیا پر مذاق بن گئے

    چھٹی کے دن اسکول کے بچوں کے ساتھ تصویر،مودی سوشل میڈیا پر مذاق بن گئے

    نئی دہلی: چھٹی کے دن اسکول کا یونیفارم پہنے بچوں کے ساتھ تصویرشیئرکرانے پربھارتی وزیراعظم نریندرمودی سوشل میڈیا پرمذاق بن گئے۔

    باغی ٹی وی :بھارتی وزیراعظم نریندرمودی جھوٹ بولنے اوربڑھکیں مارنے پراکثر سوشل میڈیا پرتنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں لیکن پھربھی بازنہیں آتے مودی نے تازہ ترین کارروائی میں اتواریعنی چھٹی والے دن اسکول کے بچوں کے ساتھ ٹرین میں سفرکرنے کی تصاویرشیئر کرادیں۔

    اللہ نے چاہا توجلد پاکستان میں موجود دوستوں سے ملاقات ہوگی،نصیرالدین شاہ

    بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی نے مہاراشٹر میں پونے میٹرو ریل پروجیکٹ کا افتتاح کیا -افتتاح کے بعد مودی میٹرو ریل پر سوار ہوئے۔ اس دوران انہوں نے میٹرو میں بیٹھے بچوں سے بات چیت کی پی ایم مودی نے گروارے کالج میٹرو اسٹیشن سے پونے میٹرو کے آنند نگر میٹرو اسٹیشن تک کا سفر کیا۔

    اس دوران پی ایم مودی نے گروارے کالج میٹرو اسٹیشن سے آنند نگر میٹرو اسٹیشن تک کے سفر کے دوران میٹرو ٹرین میں بیٹھے اسکولی طلباء سے بات چیت کی، جس کی تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے


    مودی نے ٹویٹ بھی کیا کہ اپنے ننھے دوستوں کے ساتھ میڑو میں سفر۔ تصویروں کودیکھ کرسوشل میڈیا صارفین نے مودی کا خوب مذاق اڑایا۔


    ایک صارف نے کہا بیچارے مودی۔۔ پونے میں کون سا اسکول طلبا کوبلاتا ہے؟ ایک اورصارف نے لکھا اتوار کوطلبا اسکول یونیفارم میں ۔ مودی کا ایک اورڈرامہ۔


    یہ اورسوشل میڈیا صارف نے کہا مودی کا ڈرامہ عروج پرہے چھٹی کے روز بھی بچوں کواسکول یونیفارم پہنوا دیا۔یہ پہلا موقع نہیں جب مودی کا جھوٹ پکڑا گیا ہے اس سے قبل لکھے ہوئے پیغام پرصرف قلم چلانے پربھی مودی کوخوب تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    https://twitter.com/atul_aga/status/1500365281839173635?s=20&t=uwOWgnGEONpNxYgnrUiWew


    https://twitter.com/Lonewollff/status/1500365798665519109?s=20&t=uwOWgnGEONpNxYgnrUiWew
    https://twitter.com/RaGa59634561/status/1500396091489284096?s=20&t=uwOWgnGEONpNxYgnrUiWew
    https://twitter.com/numan_bangash/status/1500379317142011907?s=20&t=uwOWgnGEONpNxYgnrUiWew

    یوکرین جنگ: روس کی خاموش حمایت پربورس جانسن سے بھارت کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ

  • بھارتی وزیراعظم کی طرح عالمی سطح پر بھارت کو کوئی بدنام نہیں کر سکتا،مودی کی ایسی حرکت ،بھارتی چلا اٹھے

    بھارتی وزیراعظم کی طرح عالمی سطح پر بھارت کو کوئی بدنام نہیں کر سکتا،مودی کی ایسی حرکت ،بھارتی چلا اٹھے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پرچی پڑھنے والے وزیراعظم نکلے، مودی نے بھارت کی ساکھ مٹی میں ملا دی جب لائیو شو میں جب ٹیلی پرامٹر پر کچھ نہ لکھا آیا تو مودی کی ہوائیاں اڑ گئیں منہ سے ایک لفظ نکالنا بھی محال ہو گیا-

    باغی ٹی وی : مودی یوں تو بھارت کو گاہے بگاہے بین الاقوامی سطح پر مذاق کا نشانہ بنواتے رہتے ہیں تاہم اب پھر انہوں نے بھارت اور انتہا پسند خوش فہم بھارتیوں کی عزت خاھ میں ملا دی ہوا کچھ یوں کہ نریندر مودی ورلڈ اکنامک فورم سے آن لائن خطاب کررہے تھے کہ اچانک ٹیلی پرامٹر بند ہو گیا اور وہیں بڑی بڑی باتیں کرنے والے مودی کی ساری اکڑ خاک میں مل گئی، ایک لفظ بھی منہ سے نکالنا مشکل ہو گیا۔

    ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن کی تقریرجس پر لندن سکول آف اکنامکس نے مودی کو اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ منسوخ…

    اپنی خفت چھپا نے کے لئے ہیڈ فونز لگا کر لڑکھڑاتی آواز میں پوچھتے رہے کہ کیا میری آواز آ رہی ہے؟کیا مجھے سب ٹھیک طرح سُن رہے ہیں؟ لیکن یہ آواز بھی منہ میں کہیں گم ہی ہو گئی مودی کے ایسے بین الاقوامی سطح پر ایک لفظ بھی نہ بول پانے سے پورے بھارت کو دنیا کے سامنے ہرزہ سرائی کا سامنا کرنا پڑا، اور سوشل میڈیا پر” ٹیلی پرامٹر پی ایم” کا ٹاپ ٹرینڈ بھی بن گیا-


    جبکہ اس سے پہلے کئی بار کانگریس رہنما راہول گاندھی، مودی کو ٹیلی پرامیٹر وزیراعظم کہہ چکے ہیںان کا کہنا تھا کہ مودی پرامٹر کے بغیر ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے تاہم آج ان کا یہ دعوٰی سچ ثابت ہو گیا ہے-


    اور اب انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے طنزکیا کہ ٹیلی پرامٹر بھی مودی کا جھوٹ برداشت نہیں کر سکا۔


    پراکاش نامی صارف نے مودی کو ”حقیقی پپو” قرار دے دیا۔


    ایک صارف نے کہا کہ مزاق اپنی جگہ لیکن بھارت کے سب سے اعلی عہدے پر نافذ شخص پرامٹر کے بغیر ایک لفظ بھی نہیں پڑھ سکتا، یہ پورے بھارت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔


    ہمانشو نارائن نامی صارف نے لکھا کہ ٹیلی پرامٹر بند کرنے کے بعد پی ایم ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے اسی طرح کے بی جے پی لوگ ٹول کٹ کے بغیر ٹویٹ نہیں کر سکتے۔
    https://twitter.com/saraf_pankaj/status/1483159418401619968?s=20
    جبکہ پنکج نامی صارف کا کہنا تھا کہ آج یہ ثابت ہوا کہ مودی سب سے بڑا لیڈر نہیں بلکہ سب سے بڑا اداکار ہے۔


    ایک صارف کا کہنا تھا کہ مودی کی طرح بین الاقوامی سطح پر بھارت کو کوئی بدنام نہیں کر سکتا۔


    مانو گپتا نامی صارف نے لکھا کہ وہ شخص جس نے ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر شرمندہ کیا۔


    https://twitter.com/SarcasticRofl/status/1483297300675895303?s=20
    https://twitter.com/Kishor_says/status/1483278322108801030?s=20
    https://twitter.com/RP_Vinothh/status/1483266581090430982?s=20

    بھارت میں انتہا پسند ہندو وکیلوں کا اذان پر پابندی کا مطالبہ

  • ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن کی تقریرجس پر لندن سکول آف اکنامکس نے مودی کو اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ منسوخ کیا

    ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن کی تقریرجس پر لندن سکول آف اکنامکس نے مودی کو اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ منسوخ کیا

    آکسفورڈ یونین سوسائٹی میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سینئر وکیل مسٹر پرشانت بھوشن نے تقریر کی جس کے بعد لندن سکول آف اکنامکس نے مودی کو اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ منسوخ کر دیا-

    باغی ٹی وی : مودی سرکار لندن سکول آف اکنامکس کی جانب سے اعزازی ڈگری کے حوالے سے تیاریاں زوروشور سے جاری تھیں کہ مودی سرکار پر غم کا پہاڑ اس وقت ٹوٹ پڑا جب نئی دہلی میں پردھان منتری ہاؤس کو انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع پہنچائی گئی کہ لندن سکول آف اکنامکس کی انتظامیہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازنے کی اپنی پیشکش واپس لیتے ہوئے معذرت کر لی ہے۔

    بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی…

    عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کے 8 ڈرونزتباہ کردئیے

    خیال تو یہ تھا کہ جیسے ہی لندن سکول آف اکنامکس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو یہ ڈگری دی جاتی تو کشمیر میں اپنی قابض افواج کے ذریعے ہزاروں کشمیریوں کو پیلٹ گنوں سے انہیں زندگی بھر کے لیے آنکھوں کی بینائی سے محروم بنانے والے کے خلاف لندن سکول آف اکنامکس کے سامنے برطانیہ میں مقیم ایک لاکھ سے زائد کشمیری سراپا احتجاج بنتے یوں اس سکول کے ہر طالب علم کو نریندر مودی کا کریہہ اعر سفاک چہرہ دکھایا جاتا لیکن پتہ نہیں کیوں ہمارے سفارت خانے اور کشمیری بھی اس معاملے پر چپ رہے لیکن بھارت کے معروف قانون دان اور انسانی حقوق سمیت شہری آزادیوں کے لیے اٹھنے والی آواز پرشانت بھوشن ایڈووکیٹ نے مودی اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے انتہا پسند ہندعمو کا چہرہ سب کے سامنے اصل شکل میں پیش کر دیا تاہم بھارتی پرنٹ اور بصری میڈیا نے اس تقریر کو مکمل طور پر بلیک آؤٹ کر دیا ہے۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندو وکیلوں کا اذان پر پابندی کا مطالبہ

    لیکن اس تقریر کے ذریعے جیسے ہی لندن سکول آف اکنامکس کے طالبعلموں اور پروفیسروں کو آنکھوں کے سامنے پرشانت بھوشن نے نریندر مودی کا اصل گھناؤنا اقلیت دشمن چہرہ دکھایا تو تمام طلباء سکول انتظامیہ کے پاس پہنچے اور نریندر مودی کو لندن سکول آف اکنامکس کی جانب سے ڈاکٹریت کی اعزازی ڈگری دینے کی پیشکش واپس لینے کا مطالبہ کر دیا سکول کے طلبا کا کہنا ہے کہ اگر مودی کو یہ ڈگری دے دی جاتی تو ہمارے ضمیر زندگی بھر ہمیں ملامت کرتے رہتے-

    بھارتی کرکٹرکوفکسنگ کیلئے 40 لاکھ روپے کی پیشکش کا انکشاف

    اقلیتوں کے ناروا سلوک اور مقبوضہ کشمیر پر ظلم کے علاوہ پرشانت بھوشن نے نریندر مودی کی بے رحمانہ معاشی پالیسیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے کئی راز افشا کیے اور ثابت کیا کہ نریندر مودی نے بھارتی میڈیا کو کس طرح کرپٹ کیا ہوا ہے اور بھارتی میڈیا کو انتخابات کے دوران کس طرح اور کیسے خریدا گیا اور انہیں کتنی رشوت دی گئی کہ وہ اپنی زبا نیں بند رکھیں انہوں نے اپنی لیکڈ دستاویز میں مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا بھیانک کردار بھی پیش کیا جس میں میڈیا کو دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں مسلمانوں سمیت بھارت میں بسنے والی دوسری اقلیتوں کے خلاف جھوٹے بغض اور ہندو دھرم کے خلاف ان کے اندرونی منصوبوں کی کہانیاں بیان کرنے پر آمادہ کیا-

    جنرل بپن راوت کے ہیلی کا حادثہ،تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پیش

    علاوہ ازیں ایک ایسی ویڈیو بھی سامنے لائے جس میں امیت شاہ مودی کی موجودگی میں کہہ رہا ہے کہ اب اگر کسی بھی مسلمان کے منہ سے مودی کے خلاگ کچھ غلط سنو تو اس کو مجمع کے اندر ادھیڑ کر رکھ دو سب جانتے ہیں کہ گودھرا گجرات میں بطور وزیر اعلی 2300 سے زائد مسلمان کو بچوں اورخواتین سمیت ذبح کیا گیا کہیں بیکری میں بند کر کے پٹرول چھڑک کر زندی جلادیا گیا جس پر دنیا بھر کے سفارت خانے چیخ اٹھے اور امریکہ سمیت دیگر ملکوں نے مودی کو فاشسٹ اور دہشتگرد وزیر اعلی قرار دیتے ہوئے اپنے ملکوں میں داخلہ بند کر دیا-

    بھارت میں مسلم نسل کُشی عروج پر:مودی سرکارکو مہلت دینے والے ذمہ دار:دنیا کوکچھ…

    اور اب پرشانت بھوشن نے لندن سکول آف اکنامکس کے طلبا اور انتظامیہ کے علاوہ میڈیا کے سامنے یہ کہا کہ بھارت اور اس کی جمہوریت کیلئے وہ تاریخ کا سیاہ دن تھا جب بھارتی سپریم کورٹ کے چار انتہائی سینئیر جج حضرات نے پریس کانفرنس کے ذریعے نریندر مودی پر الزام لگایا کہ وہ عدالت کے چیف جسٹس کو اپنی حاکمیت اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے تابع کرنے کے لیے انہیں دھمکیاں دے رہا ہے-

    بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول…

    مودی کے اس عمل سے بھارت کی جمہوریت اپنے آخری سانسوں پر آن کھڑی ہوئی ہے یعنی جس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چار سینئیر ترین جج حضرات میڈیا کے سامنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے ملک کے وزیراعظم کی عدلیہ میں مداخلت کا ثبوت پیش کر دیں جو وزیراعظم اپنے ملک کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اپنے انتہا پسند ہندو گروہ کے ذریعے سبق سکھانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دے ایسے شخص کو لندن سکول آف اکنامکس تو بہت دور کی بات ہے کسی پرائمری سکول کی سند بھی نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ پرائمری۔سکول اور اس کی سند کی توہین ہو گی-

    72 سالہ بوڑھے نے اپنی خادمہ کی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کرڈالی

    پرشانت بھوشن نے بھارتی سپریم کورٹ کے چار سینئیر جج حضرات کی پریس کانفرنس کا حوالہ ہوئے یہ بھی کہا کہ تیس برس بعد پہلی دفعہ الیکشن کمیشن 2019 میں ہوئے انتخابات میں وہ غیر قانونی اور من مانے اقدامات کئے کہ بھارتی جمہوریت اور اس کے انتخابی عمل فضول اور لایعنی ہو کر رہ گیا ہے الیکشن کمیشن نے انتخابی نظام کو اور اس دنیا بھر میں پھیلی ہوئی شہرت کو تباہ کرتےہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی کو بظاہر کامیاب تو کرادیا ہےلیکن انا نتخابات پر اٹھنے والے سوالیہ نشانات بھارت کی تاریخ پر لگے ہوئے ایک سیاہ دھبے کے طور پر کبھی بھی دھوئے نہیں جا سکیں گے۔

    بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا

    پرشانت بھوشن نے مزید کہا کہ لندن سکول آف اکنامکس کسی ایسے شخص کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دینا پسند کرے گا؟ جس پر رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن کا الزام ہو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ لمحہ بھر کیلیے فرض کر لیتے ہیں کہ رافیل طیاروں کی خریداری میں نریندر مودی کی کرپشن صرف الزام ہے تو اس سوال کا جواب کون دے گا جو بھارت اور فرانس کی اپوزیشن جماعتیں بھی ہوچھ رہی ہیں کہ سی بی آئی کا ڈائریکٹر جو رافیل طیاروں کے اسکینڈل کی تحقیقات کر رہا تھا اسے راتوں رات کیوں تبدیل کیا گیا اگر مودی کے ہاتھ صاف ہیں اگر اس نے ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی تو پھر اس تحقیقات کرنے والے ڈائریکٹر سی بی آئی کو کیوں تبدیل کیا گیا؟-

    بھارت نے امریکا سے خنزیر کا گوشت درآمد کرنے کی اجازت دے دی

    پرشانت بھوشن نے کہا کہ مودی کی انتہا پسندی یہاں تک ہے کہ اگر یہ کہے کہ دن میں رات ہے تو سب کو اس کی ہاں میں ہاں ملانی پڑے گی اگر یہ کہے کہ سب گنیش کی شکل اختیار کریں تو ان کو پلاسٹک سرجریز کراکر یا جیسے بھی اپنی شکل ویسی اختیار کرنی ہو گی-

    پرشانت بھوشن کی اس تقریر کے بعد لندن سکول آف اکنامکس انتظامیہ نے مودی کو اعزازی ڈگری دینے سے معذرت کر لی ہے جبکہ انڈین میڈیا میں اس تقریر کو مکمل طور پر بلیک آؤٹ کر دیا گیا ہے-

    امریکا میں برفانی طوفان،متعدد ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ

  • پلواما کا حملہ اقتدارکے بھوکے نریندرمودی نے کروایا،کانگریس رہنما

    پلواما کا حملہ اقتدارکے بھوکے نریندرمودی نے کروایا،کانگریس رہنما

    نئی دلی: کانگریس کے رہنما ادت راج کا کہنا ہے کہ پلواما کا حملہ اقتدارکے بھوکے نریندرمودی نے کروایا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے رہنما ادت راج کا کہنا تھا کہ پلواما میں بھارتی سیکورٹی اہلکاروں پرحملہ وزیراعظم نریندرمودی ہی کرواسکتے تھے کیونکہ وہ ہرحال میں 2019 کا الیکشن جیتنا چاہتے تھے۔

    مودی کو جان کے لالے پڑگئے، 20 منٹ بارش میں گزارنے پڑے

    ادت راج کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندرمودی اقتدارکے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں پلواما حملے میں زخمی سیکورٹی اہلکاروں کوائیرایمبولینس کے ذریعے منتقل کرنے کی درخواست کا وزیراعظم مودی نے کوئی جواب نہیں دیا مودی اجازت دیتے تو40 بھارتی سیکورٹی اہلکاروں کی جان بچ سکتی تھی۔

    کانگریس رہنما نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعظم مودی کے قافلے پرنہ کسی نے کوئی پتھرپھینکا نہ ہی کوئی حملہ ہوا لیکن یہ پھربھی واویلا مچا رہے اورشورکررہے ہیں یہ ڈرامے کرتے ہیں۔

    لداخ میں چینی فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ

    خیال رہے کہ حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم مودی پنجاب میں انتخابات کے سلسلے میں تین روزہ دورہ پر بھٹنڈہ پہنچے تو ہوائی اڈے سے وزیراعظم ہیلی کاپٹر کے ذریعے فیروز پورجانے والے تھے لیکن موسم خراب ہونے کی وجہ سے انہوں بذریعہ کار فیروزپور جانے کا فیصلہ کیا ان کا قافلہ جب بھٹنڈہ بائی پاس کے قریب فلائی اوور پر پہنچا تواسی روٹ پر سامنے سے کسانوں کاایک جلوس آنے کی اطلاعات پر مودی کے قافلہ کو فوری طور پر روک لیا گیا۔

    عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    مودی کے قافلے کے لئے تین روٹ بنائے گئے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مودی جس روٹ سے فیروزپور جارہے تھے اس کی اطلاع پنجاب کے وزیراعلی چرن جیت سنگھ چنی اور کانگریس کے مقامی رکن پنجاب اسمبلی کو تھی۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ روٹ کی اطلاع وزیراعلی کے ایما پررکن اسمبلی کوملی جس نے کسانوں کواسی روٹ پرجلوس نکالنے کےلئے اکسایا-

    مظاہرین نے وزیراعظم کے قافلے میں شامل بی جے پی کے ورکرزکی ایک بس کا گھیراو بھی کرلیا جو وزیراعظم کی گاڑی سے چند میٹر کے فاصلے پرتھی۔بھارتی وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم کے روٹ کو لیک ہونے کے واقعہ کو بھارتی تاریخ کا منفرد واقعہ قرار دیااور کہا کہ ایسے واقعہ کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ دریں اثنا وزیراعلی پنجاب چرن جیت سنگھ چنی نے کہا کہ وزیراعظم نے اصل روٹ سے ہٹ کر حسینی والا سے جانے کا فیصلہ کیا جو کہ پاکستان کے شہر قصور سے متصل ہے وزیراعظم کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کا پنجاب کا دورہ ایک فلاپ شو ہوگا اس لئے انہوں نے سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر واپس جانے میں عافیت سمجھی۔

    واضح رہے کہ 14 فروری 2019ء کو 78 گاڑیوں پر سوار 2،500 سینٹرل ریزرو پولیس فورس اہلکاروں کا قافلہ جموں سے سری نگر جانے کے لیے قومی شاہراہ 44 پر گزر رہا تھا۔ قافلہ بھارتی وقت کے مطابق لگ بھگ 3:30 پر جموں سے روانہ ہو چکا تھا اور اس میں کئی اہلکار شامل تھے۔

    اونتی پورہ کے نزدیک لیتھ پورہ میں بھارتی وقت کے مطابق تقریباً 15:15 جس بس میں سیکورٹی اہلکار موجود تھے اس سے ایک مہیندر اسکورپیو ایس یو وی ٹکرائی، اس کار میں دھماکا خیز مواد تھا۔ اس کی جہ سے دھماکا ہو گیا اور کم از کم 40 اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھےزخمیوں کو سری نگر میں آرمی بیس ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    بیٹی کو کیوں مارا،بھارتی فوجی نے ٹیچرکو گولی مار دی

    نیشنل انویسٹی گیشن ایجینسی نے جموں کشمیر پولیس کے ساتھ 12 رکنی ایک ٹیم حملہ کی جانچ کے لیے بنائی تھی ابتدائی مرحلہ کی جانچ میں پتہ چلا تھا کہ ایک کار 300 کلو دھماکا خیز مواد لے جارہی تھی جس میں 80 کلو آر ڈی ایکس (دھماکا خیز مواد) موجود تھا-

    نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ پلوامہ میں سی آر پی ایف پر حملہ ناجائز ہے، میں اس بد قسمت حملہ کی پرزور مخالفت کرتا ہوں ہمارے محافظین کی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی پورا ملک ہلاک ہونے والوں کے ساتھ کندھا سے کندھا ملائے کھڑا ہے-

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون…

  • نریندرمودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ایک مرتبہ پھرہیک ہو گیا

    نریندرمودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ایک مرتبہ پھرہیک ہو گیا

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ایک مرتبہ پھر ہیک ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم کے دفتر سے کیے جانے والے ٹویٹ کے مطابق یہ معاملہ ٹوئٹر انتظامیہ کے علم میں لایا گیا اور وزیراعظم کا ذاتی ٹوئٹر ہینڈل فوری طور پر محفوظ کر لیا گیا تاہم اکاونٹ کچھ دیر بعد بحال کردیا گیا۔


    ٹویٹ میں وزیراعظم کے دفتر نے ٹوئٹر صارفین سے درخواست کی ہے کہ اس دوران کیے جانے والے کسی بھی ٹویٹ کو نظرانداز کر دیا جائے تاہم اس دوران اس اکاونٹ سے کوئی ٹویٹ نہیں کیا گیا نہ ہی اب تک کسی اور متاثر اکاؤنٹ کی کوئی تفصیلات ملی ہیں۔

    یاد رہے کہ ستمبر2020میں بھی وزیراعظم نریندر مودی کا ذاتی ٹوئٹر ہینڈل ہیک ہوا تھا اس وقت کچھ ٹویٹس جاری کیے گئے تھے جس میں فالوورز سے کرپٹو کرنسی کے ذریعے امدادی فنڈ میں پیسے عطیہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

    ہیکرز نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ وزیر اعظم کے کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے خصوصی فنڈ میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے ’چندے‘ جمع کروائیں۔

  • 2021 میں بھارت کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیات میں آریان خان بھی شامل

    2021 میں بھارت کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیات میں آریان خان بھی شامل

    بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان یاہو سرچ انجن میں 2021 میں بھارت کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیات میں شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق یاہو کی جانب سے سال 2021 کا جائزہ لیتے ہوئے بھارت میں سال کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیات کی فہرست جاری کی گئی ہے یہ فہرست بھارت میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اعلیٰ شخصیات، خبر وں میں رہنے والی شخصیات اور ملک کے اہم واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔

    یاہو کی جانب سے جاری کی جانے والی فہرست کے مطابق بھارت میں 2021 کے دوران لوگوں نے سب سے زیادہ جس شخصیت کو آن لائن تلاش کیا وہ بھارتی وزیراعظم نریندر

    مودی ہیں۔

    پاکستان میں 2021 میں یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والے گانے


    دوسرے نمبر پر لوگ یاہو پر جسے سب سے زیادہ تلاش کرتے رہے وہ بھارتی کپتان ویرات کوہلی ہیں جب کہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے فہرست میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

    بھارتی ٹی وی کے نامور اداکار اور بگ باس سیزن 13 کے فاتح سدھارتھ شکلا رواں برس ستمبر میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے تھے۔ ان کی اچانک موت نے ان کے مداحوں سمیت پوری بالی ووڈ انڈسٹری کو صدمے میں مبتلا کردیا تھا یاہو کی جانب سے جاری کی جانے والی فہرست میںسدھارتھ شکلا کو لوگوں نے چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ سرچ کیا۔

    پاکستان میں 2021 میں یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیوز


    بھارتی سیاستدان راہول گاندھی نے فہرست میں پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے۔

    اداکارشاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان نے فہرست میں حیران کن انٹری دی ہے اور فہرست میں ساتویں پوزیشن پر ہیں اکتوبر میں این سی بی کے ہاتھوں منشیات کیس میں گرفتاری کے بعد آریان خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور لوگ بڑی تعداد میں انہیں آن لائن سرچ کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کوکچھ عرصہ قبل منشیات کیس میں کروز شپ سے گرفتار کیا گیا تھا 28 اکتوبر کو منشیات کیس میں بمبئی ہائی کورٹ سے ضمانت ملی تھی عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ابتدائی طو پر ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے۔