Baaghi TV

Tag: نگران حکومت

  • الیکشن جنوری فروری سے پہلی بھی ہوسکتے ہیں،نگران وزیراعظم

    الیکشن جنوری فروری سے پہلی بھی ہوسکتے ہیں،نگران وزیراعظم

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ہم 9 مئی کے واقعات میں کسی پاکستانی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ اُن لوگوں کے خلاف ہیں جو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث تھے-

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے کی سینئیر صحافی عاصمہ شیرازی کو دیئے گئے انٹرویو میں نگراں وزیر اعظم نے کہا کہ نیشنل انوسٹمنٹ فیسیلیٹشن کونسل (این آئی ایف سی) کے ذریعے ہونے والے معاشی اقدامات کے نتائج دسمبر کے آخرتک آنا شروع ہو جائیں گے-

    نگراں حکومت سے غیرمعمولی توقعات پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو بھی وقت ہمیں دیا گیا ہے ہم ایمانداری سے توقعات پر پورا اترنے اور اہداف پورے کرنے کی اپنی تئیں پوری کوشش کریں گے ہم نے اپنے پہلے ہی ہفتے میں اپنی ترجیحات کو درست کرلیا، ہمیں اپنے تجارتی خسارے کا اندازہ ہے اور اس کا حل بھی پتا ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے-

    اگر پیپلز پارٹی وعدے سے نہ پھرتی تو اب تک الیکشن ہو جاتے،مولانا فضل الرحمان

    انہوں نے کہا کہ ہمیں لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہوا تو ہم نے کہا کہ فوراً بجلی پیدا کرنی چاہیے، یہ جانے بغیر کہ اس بجلی کی کھپت کہاں ہوگی، انڈسٹریل سیکٹر میں کیسے ہوگی ڈومیسٹک سیکٹر میں کیسے ہوگی، اس کا اکنامک ماڈل قابل عامل ہے یا نہیں، میں آئی پی پیز سے کیے معاہدوں کی طرف اشارہ کر رہا ہوں مقامی آئی پی پی پیز کے ساتھ جو معاہدات ہوچکے ہیں، ان میں بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہاں کہاں مداخلت کرکے کیپیسیٹی چارج جو ہمیں دینا پڑ رہا ہے اس کی ارینجمنٹ درست کی جاسکے اس پر کام ہو رہا ہے۔

    وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ایک طرف مشکل فیصلوں کیلئےدباؤ ہے تو دوسری طرف دباؤ ہے کہ آپ الیکشن کرائیں اور جائیں، ہمیں ایک بیلنس قائم کرنا ہے، ہم یہاں نہ طویل مدت کیلئے آئے ہیں نہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے، کسی کے ذہن میں اس طرح کا خیال ہے تو وہ غلط فہمی دور ہوجائے تو بہتر ہے، الیکشن جنوری فروری سے پہلی بھی ہوسکتے ہیں، اگر سپریم کورٹ آف پاکستان 90 دن میں انتخابات کا فیصلہ دے گی تو اس پر بھی عمل کیا جائے گا۔

    کراچی اور پشاورمیں سیوریج کے پانی میں پولیو کے وائرس کی تصدیق

    انہوں نے کہا کہ ملک میں 90 فیصد لوگ ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے، لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، مشکل فیصلوں سےمستقبل میں بہتری آئے گی، ڈیجیٹلائزیشن سے کرپشن میں کمی آئے گی، اس معاملے میں جتنی ہم انسانی مداخلت کم رکھیں گے اتنی شفافیت اور کرپشن کم ہوگی، ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ٹیکس نیٹ بڑھائیں گے ہوسکتا ہے کہ ان فیصلوں پر احتجاج آئے، لیکن عمومی طور پاکستان کے عوام ان فیصلوں سے طویل مدت تک مستفید ہوں گے-

    ہم اس نہج پر اس لیے پہنچے ہیں کہ لوگ جو اپنے حصے کا بوجھ نہیں اٹھا رہے محکمے وہ بوجھ دوسروں پر ڈال کر ان سے ریکوریز کر رہے ہیں آئی پی پیز سے معاہدے ہیں، بجلی چوری روکنا مشکل ہے۔ بجلی کے مسئلہ کے حل کیلئے مڈٹرم پلان چاہئے ہم ڈسکوز کی نجکاری کا عمل شروع کر رہے ہیں، جس کے بعد ڈسکوز بجلی چوری رکنے کے اقدامات کریں گے۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

    ان کا کہنا تھا کہ قابل عمل پلان ہم دے چکے ہیں، حکومت کی مدت پوری ہونے تک کچھ بہتری آئے گی، بجلی پر ریلیف کیلئے آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے، توانائی کی بچت کیلئے بھی صوبوں سےمشاورت جاری ہے، مغرب تک کاروباری مراکز بند کرانے پر بات ہورہی ہے، شرعی طور پر مغرب کے بعد کسی کے گھر جانا منع ہے۔

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی یہ تاثر کیوں جارہا ہے کہ فوج اور نگراں حکومت الگ الگ کام کر رہے ہیں پاکستان ملٹری آئین کے تحت حکومت کا ایک جُز ہے، ہم نے جہاں جہاں فوج کو مدد کی درخواست کی ہے فوج نے فوراً اس پر عمل کیا ہے، دن میں کئی بار مختلف معاملات پر پاک فوج سے رابطہ ہوتا ہے، عسکری قیادت کی ملاقاتیں بھی اسی سلسلہ کاحصہ ہیں، پاک فوج بھی پالیسیز پرعملدرآمد کیلئے مدد کررہی ہے، میں اور وہ الگ مل رہے ہیں یہ تاثر دینا غلط ہے نگراں حکومت اور پاک فوج کا ہدف ایک ہی ہے، فیصلے کرنا حکومت کا کام ہے، فوج سے تعاون لیا جاتا ہے، میرٹ پر اداروں سے مدد لی جاتی ہے میں اُن کا آدمی ہوں یہ سیاست کا غیرضروری عنصر ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اُن کے رہیں، ہم اُن کے ہوتے ہیں، پھر اُن سے ناراض ہوجاتے ہیں، پھر سے اُن کے ہونا چاہتے ہیں، یہ معاملہ چلتا رہتا ہے۔

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن،چینی کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد بیگ برآمد

  • سرکاری کارپوشنز کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت

    سرکاری کارپوشنز کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت

    نقصان میں جا رہی سرکاری کارپوشنز کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے نقصان میں جا رہی سرکاری کارپوشنز کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے اور کہا ہے کہ تمام وفاقی وزارتیں نجکاری ڈویژن کے ساتھ مکمل تعاون کریں جبکہ نگراں وزیراعظم کی زیرِ صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا اعلیٰ اجلاس ہوا، جس میں ایف بی آر اور نجکاری ڈویژن کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر ٹیکس کلیکشن ٹارگٹ پورا کرنے کے بارے میں پرعزم ہے، ایف بی آر نے بتایا کہ جولائی کے 534 ارب کے ٹارگٹ کے مقابلے میں 538 ارب کے محصولات اکٹھے کیے گئے، اسی طرح اگست کے 648 ارب کے ٹارگٹ کے مقابلے میں 669 ارب کے محصولات اکٹھے ہوئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    سعودی مملکت اور ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائیں گے. عبداللہ بن سعود
    امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا
    ایشیا کپ،بنگلہ دیش نے پاکستان کو 194 کا ہدف دے دیا
    دورانِ اجلاس نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکومتی مشینری کا اہم حصہ ہے جبکہ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات کےلیے تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کریں، ٹیکس ڈاکومینٹیشن کے بارے میں وفاق اور صوبوں کے مابین روابط کی ضرورت ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ایسی سرکاری کارپوریشنز جو نقصان میں جا رہی ہیں ان کی نجکاری کاعمل تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے تیز تر کیا جائے۔

  • نگران حکومت کا بجلی صارفین کیلئے  ریلیف  پلان

    نگران حکومت کا بجلی صارفین کیلئے ریلیف پلان

    نگراں حکومت نے بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کیلئے تین سو یونٹ استعمال کرنے والوں کو تین ہزار روپے ریلیف دینے کا پلان تیار کرلیا ہے تاہم ذرائع کے مطابق ستمبرمیں تین سو یونٹ والے بل میں تین ہزار روپے تک کمی ہوگی جبکہ نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں بھی 300 یونٹ استعمال کرنے پر بل میں 3 ہزار روپے تک کمی ہوگی۔

    تاہم 60 سے 70 ہزار روپے کے بجلی بل پر 13 ہزار روپے تک کمی ہوگی اور نگراں حکومت کی عوامی ریلیف پر آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے، بجلی پر ریلیف دینے کا معاملہ آئی ایم ایف کی رضامندی سے مشروط ہے

    دوسری جانب بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ملک میں نگراں حکومت نے بلوں میں کسی بھی قسم کا ریلیف دینے سے انکار کردیا تھا.ایسے میں عوام معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر رہے ہیں اور روایتی ذرائع کے بجائے سولر انرجی کی جانب راغب ہو رہے ہیں، جو ناصرف آپ کا بجلی کا بل تقریباً ختم کرسکتی ہے بلکہ اضافی آمدنی کا باعث بھی بن جاتی ہے لہذا آپ کی چھت پر لگا ایک سولر سسٹم آپ کو مہنگی بجلی کے عذاب سے بچا سکتا ہے، لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ کو اس بارے میں کچھ معلومات ہو۔

    نجی ٹی وی کے مطابق سولر پینلز کی تین اہم اقسام ہیں: مونو کرسٹل لائن، پولی کرسٹل لائن اور تھِن فلم۔مونو کرسٹل لائن پینل سب سے زیادہ مؤثر ہیں۔ ان کا ہر فوٹوولٹک سیل پیور سلیکون کا ایک واحد کرسٹل ہے، جس کی پیداوار کا عمل نفیس ہے۔ پولی کرسٹل لائن پینلز کی کارکردگی درمیانی ہوتی ہے۔ ان کے سولر سیلز ایک سے زیادہ سلیکون کرسٹل سے بنے ہوتے ہیں۔ جس کا پینل کی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے، اس کی پیداواری صلاحیت بھی کم ہوتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چینی کی قیمت 200 تک پہنچ گئی
    شادی جلدی یا لیٹ کبھی بھی ہو سکتی ہے ایشو والی بات نہیں‌عثمان مختار
    میں آج تک اقربا پروری کا شکار نہیں‌ہوئی غنا علی
    انڈر 23 ایشین کپ 2024 کوالیفائرز کیلئے 23 رکنی سکواڈ کا اعلان
    حلیم عادل شیخ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
    جبکہ تھن فلم والے پینل سب سے کم مؤثر ہوتے ہیں۔ اس قسم کا سولر پینل فوٹو وولٹک مواد کی ایک تہہ کا استعمال کرتا ہے، بغیر کرسٹل لائن ڈھانچے کے، جو سخت یا لچکدار سبسٹریٹ پر لگایا جاتا ہے۔ تاہم، اب پولی کرسٹل لائن سیلز جیسی کارکردگی کے پتلے فلمی پینل موجود ہیں۔

  • پٹرول پمپس پرمقررہ نرخ سے زائد وصولی

    پٹرول پمپس پرمقررہ نرخ سے زائد وصولی

    نگران حکومت کی جانب سے 31 اگست کو ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے ۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق 15 اگست کو عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت 85.08 ڈالر تھی جو یکم ستمبر کو 87.01 ڈالر ہے یعنی عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتنا رد و بدل نہیں ہوا ہے، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس حالیہ اضافے کو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، روپے کی تسلسل سے جاری بےقدری اور حکومتی ٹیکسز سے جوڑا جا رہا ہے۔

    نگران حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑے اضافے کے باوجود پٹرول پمپس پر مقررہ نرخ سے زائد وصولی شروع کردی گئی ہے قیمت میں اضافہ کیے جانے کے بعد پٹرول کے مقررکردہ نرخ 305.36 روپے ہیں جب کہ پٹرول پمپس پر 306.15 روپے فی لٹر فروخت کیا جا رہا ہے، پٹرول پمپ کا عملہ اصل قیمت سے 79 پیسے زائد وصول کررہا ہے۔

    امریکا نے متحدہ عرب امارات میں اپنا سفیر مقرر کر دیا

    دوسری جانب ڈیزل کی قیمت اضافے کے بعد 311.84 روپے فی لٹر ہوئی ہے جب کہ پٹرول پمپس پر 312.63 روپے فی لٹر فروخت کیا جا رہا ہے، اس طرح ڈیزل پر بھی 79 پیسے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں پٹرول پمپس منیجرز کا مؤقف ہے کہ اضافی پیسے ٹرانسپورٹ چارجز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب نگراں وزیراعلیٰ سندھ مقبول باقر نے ہڑتال پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومتیں عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ عوام مہنگائی کےباعث شدید پریشان ہیں جس کا ہمیں احساس ہےمقبول باقر کا کہنا ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتیں مل کر عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کررہی ہیں،احتجاج سب کا جمہوری حق ہے احتجاج دوسروں کے لیے زحمت کا باعث نہیں بننا چاہیے انہوں نے احتجاج کرنے والوں کو عوام کی جان و مال کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی اور کہاانتظامیہ احتجاج کو پُرامن بنانے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کرے گی۔

    مالاکنڈ ،دریائے سوات میں تین دوست ڈوب کر جاں بحق

  • بجلی کی قیمتوں میں اضافہ،مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز

    بجلی کی قیمتوں میں اضافہ،مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا گیا ۔ جس میں حکومت پاکستان سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور غیر اعلانیہ ٹیکسز کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

    نگران حکومت کی جانب بجلی کی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے لاہور، گوجرانولہ، سیالکوٹ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت مخالف، بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کخلاف نعرے درج تھے ۔مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔ ملک بھر ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے مقررین نے حکومتی فیصلے کی پرزور مزمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور غیر اعلانیہ ٹیکسز کا فیصلہ واپس لے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے اقدام کو واپس نہیں لے لیتی ہے۔ ملک میں دن بدن بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے، حکومت آہستہ آہستہ عوام سے جینے کا حق چھین رہی ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ عوام کے ساتھ یہ ظلم نہیں ہونے دے گی۔ جو کل تک مہنگائی کے نام پر سیاست کررہے تھے آج اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ غریب عوام پر قیامت ڈھائی جارہی ہے اور حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں۔

    اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، محمد اعظم چوہدری، محمد تابش،مزمل اقبال ہاشمی، سیف اللہ خالد،چوہدری محمد سرور انجنئیر حارث ڈار،احسان اللہ منصور ودیگر نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں بجلی، گیس، آٹا اور چینی سمیت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اندھا دھند اضافے نے غریب عوام کو جیتے جی مار دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی نااہلی نے پاکستان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ ہم آج عالمی اداروں کے غلام بن چکے ہیں آج ملک میں بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں وہ مقرر کررہے ہیں۔ ملک و قوم کو آج غلامی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ پاکستان اور اس کے عوام کی نمائندہ جماعت ہے ہم عالمی اداروں کی غلامی کو قبول نہیں کرتے اور نہ غلامی کرنے دیں گے۔ آج ہمیں اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے باوجود بجلی کے بلوں میں غیر اعلانیہ ٹیکسز کی برمار کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ حکمران جواب دیں کہ واپڈ کے ذریعے ملک سے کھربوں روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے باوجود قومی خزانہ خالی کیوں ہے، موجودہ نگران حکومت نے عوام دوستی کا نہیں بلکہ عوام دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔حکمرانوں کے موجودہ حکومتی اقدامات سے مہنگائی کا سونامی عوام کیلئے ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔

    لاہور میں ملتان چونگی چوک،کارپوریشن چوک، بند روڈ پکی ٹھٹھی چوک، سمن آباد اورٹھوکر نیاز بیگ چوک سمیت مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے،لاہور کے جنرل سیکرٹری محمد حارث ڈار نے کہا کہ اگر حکومت نے یہ ظالمانہ اقدام واپس نہ لیا تو نتائج کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی، سیالکوٹ خواجہ انور چوک میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

  • اراکین اسمبلی کے 150 سے زائد لیٹر پیڈز پر ہزاروں اسلحہ لائسنس جاری

    اراکین اسمبلی کے 150 سے زائد لیٹر پیڈز پر ہزاروں اسلحہ لائسنس جاری

    سفارش پر اسلحہ لائسنس کے اجراء کا عمل نہ رک سکا ،ایم این ایز کے لیٹر ہیڈز پر سفارشات کے نتیجہ میں اسلحہ لائسنس کے اجراء کا سکینڈل بے نقاب ہو گیا،

    سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے نوٹس کے باوجود اسلحہ لائسنس جاری ہوتے رہے، حکومت جانے سے ایک ماہ قبل وزراء، اراکین اسمبلی کے 150 سے زائد لیٹر پیڈز پر ہزاروں اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ،سب سے زیادہ 59 ممنوعہ اسلحہ لائسنس وفاقی وزیر ناصر اقبال باسول کے لیٹر پیڈ پر جاری ہوئے ،وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر کے لیٹر پیڈ پر 37 ممنوعہ اسلحہ لائسنز کا اجراء کروایا گیا ،سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کے لیٹر پیڈ پر 12 ممنوعہ اسلحہ لاٸسنز بنائے گئے ،سینیٹر روبینہ خالد کے لیٹر پیڈ پر 24 ممنوعہ اسلحہ لائسنس جاری ہوئے

    سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے لیٹر پیڈ پر 5، کرن ڈار کے نام پر 6، ایم این اے نور الحسن تنویر کے لیٹر پیڈ پر 18 لائسنس جاری ہوئے ،سینیٹر ہدایت اللہ کے لیٹر پیڈ پر 12، ایم این اے اظہر قیوم کے لیٹر پیڈ پر 47 ممنوعہ اسلحہ لائسنس جاری کئے گئے

    اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد نگران حکومت آئی تو نگران وزیر داخہ نے چارج لیتے ہی نئے اسلحہ لائسنس کے اجرا پر پابندی عائد کر دی، اتحادی حکومت کی مدت ختم ہونے سے قبل اراکین قومی اسمبلی نے ایوان میں اسلحہ لائسنسوں کے اجراء میں تاخیر اور اس سلسلے میں بیوروکریسی کے عدم تعاون کے رویے پر شدید احتجاج کیا تھا ، پیپلز پارٹی کے غلام مصطفیٰ شاہ نے ایک پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھایا تھا جو اسلحہ لائسنس کے معاملے پر خصوصی کمیٹی کے سربراہ تھے، اتحادی حکومت کے اراکین نے احتجاج کر کے سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو مجبور کیا تھا کہ وہ سیکرٹری داخلہ کو ہدایت دیں کہ ایک ہفتے میں لائسنس جاری کئے جائیں،تاہم نگران حکومت آتے ہی نئے اسلحہ لائسنس پر پابندی عائد کر دی گئی

    صدر مملکت نے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس مانگ لئے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • 90 دن کے اندر عام انتخابات نہ کروانا آئین سے انحراف ہوگا، پلوشہ خان

    90 دن کے اندر عام انتخابات نہ کروانا آئین سے انحراف ہوگا، پلوشہ خان

    پیپلزپارٹی کے سینٹر وقار مہدی اور سینیٹر پلوشہ خان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ 90 دن کے اندر عام انتخابات آئینی ضرورت ہے

    سینیٹر وقار مہدی ‘سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ آئینی تقاضے پورے کرنے کے لیے 90 دن کے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے حلقہ بندیاں 90 دن کے اندر انتخابات میں آئینی رکاوٹ نہیں ہیں 90 دن کے اندر عام انتخابات نہ کروانا آئین سے انحراف ہوگا ہمیں صرف آئین پر عمل کرنا ہوگا

    پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کا الیکشن کمیشن سے مقرر وقت پر انتخابات کرانے کا مطالبہ
    سابق وفاقی وزیر پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے حالیہ اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں میں چار ماہ لگیں گے، یہ اعلان ہمارے لئے تشویش اور مایوسی کا باعث ہے،
    پاکستان پیپلز پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے اور جاری کردہ شیڈول پر سنجیدنگی سے نظر ثانی کرے،اسمبلیوں کی جلد تحلیل کرنے کا مقصد الیکشن کمیشن کو تیاریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت فراہم کرنا تھا، پیپلز پارٹی نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں نئی ​​مردم شماری کے تحت انتخابات کی توثیق کی تھی،اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ موجودہ نشستیں تبدیلی نہیں ہونگی،ڈیجیٹل مردم شماری پر جائز تحفظات کے باوجود، ہم نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر عام انتخابات کرانے پر رضامندی ظاہر کی، چونکہ موجودہ قومی اور صوبائی نشستوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی، اس لیے حلقہ بندیوں کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے،پیپلز پارٹی اور اس کے ووٹرز عام انتخابات کی تاریخ کے منتظر تھے، حلقہ بندیوں کے شیڈول کے نہیں،انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر ملک میں سیاسی غیر یقینی اور عدم استحکام کا باعث بنے گی، جس کا ملک متحمل نہیں، ہمارا آئین الیکشن کمیشن کو پابند کرتا ہے کہ وہ اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دنوں کے اندر عام انتخابات کرائے،ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے مطابق انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے،

    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت 90 دن کے اندر انتخابات کروائے جائیں۔
    حلقہ بندی انتخابات کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے
    ۔آئین پر عمل کرنا ہوگا 90 دن کے اندر عام انتخابات لازمی ہیں۔ملک کے سیاسی اور معاشی حالات کسی بحران کے متحمل نہیں ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی انتخابات کے لیئے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں نگران حکومت قائم ہو چکی ہے، قومی اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل کر دی گئی تھی ، آئین کے مطابق اب نوے دن میں الیکشن ہونے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نوے دن میں الیکشن بظاہر نظر نہیں آ رہے، پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ الیکشن نوے دن میں ہی ہو جائیں تا ہم ن لیگ کی خواہش ہے کہ الیکشن لیٹ ہوں اور نواز شریف کو واپس آنے اور الیکشن مہم چلانےکا کھلا موقع مل جائے

    عام انتخابات میں تاخیر کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں الیکشن نہ کرانا آئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کام ہی بروقت الیکشن اور شفاف الیکشن کرنا ہے انتخابات میں تاخیر کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں۔

     نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کو خط لکھ دیا،

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی،درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے خلاف دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ 90 روز میں عام انتخابات کرائے، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کی مشترکہ مفادات کونسل میٹنگ میں شرکت کو غیر قانونی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ حکم دے کہ الیکشن کمیشن ہر صورت 90 روز کے اندر انتخابات کرائے، قومی اسمبلی کی تحلیل سے ایک ہفتہ قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر نئی مردم شماری کے اجراء کی منظوری لینے کا مقصد انتخابات میں تاخیر کرنا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

    غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان

    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان

    نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان کردیا
    نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ آج پہلے ہی روز سے، میں نے رضاکارانہ طور پر قوم کی خدمت کرنے کا پختہ عہد کیا ہے, میں پورے دور میں کوئی تنخواہ، معاوضہ، سرکاری سہولت یا مراعات قبول نہیں کروں گا, میں ذاتی طور پر کسی بھی ایڈوائزری یا خدمت کے لیے اٹھنے والے اخراجات کو خود برداشت کرونگا,میرا مقصد بغیر کسی ذاتی مالی فائدے کے قوم کی ترقی اور خوشحالی ہے,

    معروف صنعتکار اور فلاحی خدمت گار، گوہر اعجاز نے نگران وفاقی وزیر تجارت کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔گوہر اعجاز کو کامرس ڈویژن اور صنعت کے اہم کاموں اور ذمہ داریوں کے بارے میں ایک جامع بریفنگ دی گئی، وزیر تجارت گوہر اعجاز نے ملکی ایکسپورٹ کو 80 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کیا،

    نگراں وفاقی وزیر ریلوے کپیٹین ریٹائر ڈ شاہداشرف تارڑ نے حلف لینے کے بعد وزارت ریلوے کا چارج سنبھال لیا ۔وزارت ریلوے کے سینئر افسران نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا۔ وفاقی سیکرٹری ریلویز سید مظہر علی شاہ نے ریلوے کے انتظامی اور آپر یشنل معاملات پر یفنگ دی۔

    معروف فنکار، فلم پروڈیوسر اور ہدایت کار، جمال شاہ نے عبوری حکومت میں حلف اٹھانے کے بعد عہدے کا چارج سنبھال لیا۔وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد قومی ورثہ و ثقافت کا دورہ کیا، وزارت میں سیکرٹری فارینہ مظہر اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے دیگر افسران سے ملاقات کی وفاقی سیکرٹری نے جمال شاہ کو بریفنگ دی اور انہیں ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے کام کے بارے میں آگاہ کیا۔

    احمد عرفان اسلم نے نگراں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف پاکستان کا چارج سنبھال لیا وزارت قانون کے حکام نے نئے تعینات ہونے والے وزیر قانون کا استقبال کیا۔

    نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے عہدہ کا چارج سنبھال لیا ،سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی سفارتکاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں نگران وزیر خارجہ امریکہ، یورپی یونین، بیلجئم، لگزمبرگ اور آسٹریلیا میں سفیر رہ چکے

    نگراں وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ نگراں وفاقی وزیر کو پاور ڈویژن میں بریفنگ دی گئی،نگراں وفاقی وزیر کے لیے بریفنگ میں سیکریٹری پاور اور دیگر اعلیٰ افسر شریک تھے

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    نگران وزیراعظم سے نامزد نگران وزیراعلی بلوچستان کی ملاقات
  • سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ مقررہ وقت پر انتخابات کروائیں ،دیانتدار ، محب وطن اور عوام کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے وزرا ءپر مشتمل مختصر کابینہ تشکیل دیں ، شاہانہ پروٹوکول پر پابندی عائد کریں ، مہنگائی کنٹرول کریں اور عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں ۔ اس وقت ملک نازک ترین حالات سے گزررہا ہے۔ یہ وقت سیاست نہیں ریاست بچانے آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کا ہے ۔ ان خیالات کااظہار سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا ۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستانی قوم پہلے ہی دکھوں، غموں اور مہنگائی کی ماری ہے ۔ ان حالات میں نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا قوم پر سب سے بڑا احسان یہ ہوگا کہ وہ مختصر مگر دیانتدار افراد پر مشتمل کابینہ تشکیل دیں ۔ منتخب حکومت کے قیام تک آئین اور قانون کے تحت ملک چلائیں ، میرٹ کی بالادستی قائم کرئیں اور ماورائے آئین اقدامات سے گریز کرئیں اس لیے کہ پہلے ہی ماوارئے آئین اقدامات کی وجہ سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ہر آنے والی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے وعدے کرتی ہے لیکن کچھ عرصہ بعد ہی اپنے سارے وعدے بھول کر عوام کا خون نچوڑنے لگ جاتی ہے اس وقت حالت یہ ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی کا فقدان ہے ، لوگوں کو انصاف میسر نہیں اور ہر حکمران کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا جائے ۔

    انھوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کی مدت میں توسیع کسی طرح بھی ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ہوگا اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں جلد از جلد عدل وانصاف ، اور آئین قانون کی بالادستی قائم کی جائے ۔ ہمارے حکمران اور سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں ۔ ہماری سیاست اور وزارت ملک کے دم قدم سے ہے ملک ہے تو سب کچھ ہے ۔ عوام کا باہمی اتحاد اور تمام سٹیک ہولڈرز کا ایک پیج پر ہونا اشد ضروری ہے ۔ نگران حکومت سے ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی بھر پور کوشش کرے گی ۔

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

  • الیکشن کمیشن کا سیاسی شخصیات کی ملازمت ختم کرنے کا حکم

    الیکشن کمیشن کا سیاسی شخصیات کی ملازمت ختم کرنے کا حکم

    نگران حکومت کے قیام کے بعد نوے روز میں الیکشن ہونے ہیں، نگران حکومت آنے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام تقرر و تبادلوں پر پابندی عائد کردی ہے اطلاق وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں پر ہوگا۔

    سیکریٹری الیکشن کمیشن نے نگراں حکومتوں کو مراسلہ جاری کردیا ،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وزراء، مشیروں اور معاونین سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا حکم دے دیا جبکہ اراکین اسمبلی سے بھی سرکاری گاڑیاں واپس لینے اور رہائش گاہیں خالی کرانے کا حکم دیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے اداروں میں بھرتی ہونیوالی سیاسی شخصیات کی ملازمت ختم کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ نگراں وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور کابینہ ارکان کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں ،الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ نگراں حکومتیں قانون کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر معاملات چلائیں جاری بین الاقوامی اور دو طرفہ معاہدوں پر عملدرآمد کروا سکتی ہیں یہ حکم اور ہدایت سیکرٹری الیکشن کمیشن نے نگراں وزیراعظم، نگراں وزرائے اعلیٰ سندھ و بلوچستان کو لکھے گئے مراسلہ میں کیا

    نوٹیفکیشن نے حکومتوں کو وفاقی اور صوبائی سطح پر کسی بھی قسم کی ترقیاتی سکیموں کے اعلان یا ان پر عملدرآمد سے روک دیا ہے سوائے ان کے جو اس نوٹیفکیشن کے اجراء سے قبل جاری اور منظور شدہ ہوں۔ مزید برآں، وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں عام انتخابات کے اختتام تک اور ای سی پی کی پیشگی منظوری کے بغیر ایسی سکیموں کے ٹینڈر جاری نہیں کریں گی۔ کمیشن نے کہا کہ ملک بھر میں نئی سکیموں کے لیے صوبوں اور کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی اداروں سے متعلق تمام ترقیاتی فنڈز فوری طور پر انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد منجمد کر دیے گئے اور انتخابی نتائج کے اعلان تک ان کی حیثیت برقرار رہے گی۔ تاہم، کسی بھی اہم اسکیم کی صورت میں، کیس کو منظوری کے لیے ای سی پی کو بھیجا جا سکتا ہے۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی، سندھ اور بلوچستان اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں۔ اسمبلی تحلیل کے بعد الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،صاف شفاف اور بروقت انتخابات کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کے انعقاد سے متعلق الیکشن کمیشن نے ائینی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے الیکشن کمیشن نے نگران سیٹ اپ کو اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے مزید کہا کہ الیکشن کے انعقاد کے لیے بہترین ماحول فراہم کیا جائے، ہر سیاسی پارٹی کو لیول پلینگ فیلڈ دی جائے، نگران حکومتیں صاف شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت یقینی بنائیں۔

    الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے، تحریری فیصلہ

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے