Baaghi TV

Tag: نگران حکومت

  • اسمبلیوں کی تحلیل،آئین کیا کہتا ہے؟

    اسمبلیوں کی تحلیل،آئین کیا کہتا ہے؟

    اسمبلیوں کی تحلیل۔۔۔ آئین کیا کہتا ہے؟

    آئین کا آرٹیکل 224 ،اسمبلیاں آئینی مدت پوری ہونے پر تحلیل ہوں گی تو 60 روزمیں نئے الیکشن کرائے جائیں گے،قبل از وقت اسمبلی تحلیل کی صور ت میں 90 روز کے اندر انتخابات ہوں گے ،آرٹیکل 112، اگر صدر وزیراعظم کی سمری پر دستخط نہیں کرتے تو 48 گھنٹے کے اندر اسمبلی خود بخود تحلیل ہو جائےگی ،وزیراعظم نگران حکومت کے لیے اپوزیشن لیڈر کو خط لکھےگا دونوں طرف سے نگران وزیراعظم کے لیے دو دو نام بھیجے جائیں گے تین دن کے اندرنگران وزیراعظم پراتفاق نہ ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائےگا،پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومت کی مساوی نمائندگی ہوگی ،پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھی تین دن کی مہلت ہوگی ،پارلیمانی کمیٹی نے نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہ کیا تومعاملہ چیف الیکشن کمشنر کو جائےگا ،چیف الیکشن کمشنر دو دن کے اندر کیئر ٹیکرز کا فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا

    اسمبلی کب تحلیل ہو گی؟ اس حوالہ سے دو دن قبل خبریں آئیں تھیں کہ آٹھ اگست کو اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی،تا ہم وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے تردید کی تھی کہ قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالہ سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا، گزشتہ روز ووفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ وزیراعظم کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم ،وزیراعظم کو اسمبلی تحلیل سے متعلق کسی سے مشاورت کی ضرورت نہیں ،

    قومی اسمبلی کی تحلیل اور نئے انتخابی قوانین کا معاملہ،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 20 جولائی کو آئینی کمیٹی کا اہم اجلاس بلا لیا،ذرائع اسپیکر آفس کے مطابق اجلاس میں حکمران اتحاد کے پارلیمانی رہنماؤں اور قانونی ماہرین کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ،ایاز صادق ،نوید قمر ،اٹارنی جنرل ،اسلم بھوتانی ،قادر مندوخیل بھی اجلاس میں شرکت کرینگے اجلاس میں اہم آئینی و قانونی امور کا جائزہ لیا جائے گا انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کے تیار کردہ مجوزہ مسودے پر بھی غور ہوگا

    قومی اسمبلی قبل از وقت تحلیل کرنے یا مدت پوری کرکے از خود تحلیل ہوجانے کے سیاسی فوائد و نقصانات پر بھی غور ہوگا قومی اسمبلی میں زیر التوا اہم قوانین کو اس کی مدت سے قبل پاس کروانے کی حکمت عملی بھی طے کی جائے گی

    اسمبلیوں کی تحلیل کا معاملہ،نگران سیٹ اپ کیلئے باضابطہ مشاورت شروع کر دی گئی ، وفاقی وزراء نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی،ترجمان جے یو آئی کے مطابق نگران سیٹ اپ کے لیے باضابطہ مشاورت شروع کردی گئی ہے، اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اسحاق ڈار، سعد رفیق اور ایاز صادق پر مشتمل وزارتی ٹیم نے ملکی سیاسی صورت حال، اسمبلی کی مدت اور نگران سیٹ اپ حوالے سے مشاورت کی،

    پہلے وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس میں ہوا تھا جس میں اسمبلیوں کی تحلیل سے متعلق پیپلز پارٹی کی تجویز پر غور کیا گیا ، اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ نگراں سیٹ اپ کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کی جائے۔

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    باغی ٹی وی کی ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • خیبر پختونخوا کابینہ میں ردوبدل کیا گیا

    خیبر پختونخوا کابینہ میں ردوبدل کیا گیا

    گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی کابینہ میں ردوبدل کی سمری کی منظوری دے دی اے این پی کی سفارش پر وزیر صنعت عدنان جلیل کو کابینہ سے ہٹاکر وزارت مشیر کھیل مطیع اللہ کو دے دی گئی زرائع کے مطابق سمری کی منظوری کے بعد وزیرصعنت عدنان جلیل کو کابینہ سے ہٹا دیا گیا ذرائع کے مطابق مشیر کھیل مطیع اللہ کو وزیر بنا کر صنعت کی وزارت دیدی گئی جبکہ اشرف داوڑکو معاون خصوصی برائے وزیراعلی بنا دیا گیا ذرائع کے مطابق کابینہ میں ردوبدل کا نوٹی فیکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے واضح رہے کہ اے این پی نے نگراں وزیراعلی کو عدنان جلیل پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے عہدے سے ہٹانے کا کہا تھا،

  • ترسیل کے ترقیاتی اور مرمتی کاموں کی وجہ سے پیسکو سوات سرکل میں بجلی کی فراہمی بند رہے گی

    ترسیل کے ترقیاتی اور مرمتی کاموں کی وجہ سے پیسکو سوات سرکل میں بجلی کی فراہمی بند رہے گی

    بجلی کی ترسیل کے ترقیاتی اور مرمتی کاموں کی وجہ سے سوات سرکل کے مختلف گرڈ سٹیشنز سے بجلی کی فراہمی 20 سے 31جولائی 2023 کے درمیان مختلف تاریخوں کو صبح سات بجے سے دوپہربارہ بجے تک معطل رہے گی۔ پیسکو کہ جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ٹرانسمیشن لائن کی سالانہ مرمت کی وجہ سے 132 کے وی جی ایس ایس امانکوٹ/مینگورہ، 132کے وی جی ایس ایس بریکوٹ، 132کے وی جی ایس ایس خوازہ خیلہ، 132کے وی جی ایس ایس مدین، 132کے وی جی ایس ایس بٹ خیلہ، 132کے وی جی ایس ایس چکدرہ،132کے وی جی ایس ایس تیمر گرہ/سادھو، 132 کے وی منڈہ،132 کے وی جی ایس ایس لال قلعہ، 66کے وی تیمر، 132 کے وی جی ایس ایس شانگلہ /بشام، 33کے وی تھا کوٹ اور 33کے وی پٹن سے بجلی کی فراہمی 20 سے 31جولائی 2023 کے درمیان مختلف تاریخوں کو صبح سات بجے سے دوپہربارہ تک معطل رہے گی۔

  • پشاور ،محرم الحرام کے دوران امن و امان کے لئے سیکیورٹی پلان تیار

    پشاور ،محرم الحرام کے دوران امن و امان کے لئے سیکیورٹی پلان تیار

    پشاور میں محرم الحرام کے دوران امن وامان کی صورتحال برقراررکھنے کیلئے سیکورٹی پلان کو حتمی شکل دیدی گئی ایس ایس پی آپریشنز ہارون الرشیدکے مطابق اس دوران 13500 پولیس اہلکار وافسران ڈیوٹی دینگے۔ پشاور میں مجموعی طور پر62امام بارگاہوں میں 116ماتمی جلوسوں اور 316 مجالس منعقد ہوں گی جن میں20امام بارگاہوں ، 26ماتمی جلوس اور 9مجالس کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔8،9اور 10محرم کو موبائل فون سروسز بند کرنے سمیت افغان مہاجرین کے داخلے پر بھی پابندی عائد کرنے فیصلہ کیاگیا ہے جبکہ جلوسوں کی مانیٹرنگ ڈرون کیمروں کے ذریعے کی جائے گی۔ شہر بھر میں مجموعی طور پر 200سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں
    سپریم کمانڈ پوسٹ کے علاوہ 7کمانڈ پوسٹیں بھی قائم کی جائیں گی،پولیس لائنز پشاور میں سیکورٹی پلان پر بریفنگ دیتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز ہارون الرشید نے بتایا کہ پشاور کی 10ایسی امام بارگاہیں ہیں جہاں زیادہ توجہ دی گئی ہے اور نفری بھی زیادہ تعینات کی جائے گی ۔اس کے علاوہ مجموعی طور پر 13ہزار سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دینگے، ساڑھے 3ہزار اہلکاروں کو داخلی و خارجی راستوں پر تعینات کیا جائے گا، اندرون شہر کی مانیٹرنگ کیلئے سنٹرل مانیٹرنگ سسٹم تھانہ خان رازق شہید میں قائم کیا جائے گا جبکہ پاک فوج اور ایف سی کو سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔
    محرم کے دوران شہر کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے بکتر بند گاڑیاں بھی حساس مقامات پر موجود رہیں گی جبکہ آرآر ایف، اے ٹی ایس، لیڈیز پولیس، بی ڈی یو، ابابیل سکواڈاور سٹی پٹرولنگ فورس بھی سکیورٹی کو موثر بنانے کیلئے اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران سٹریٹ کرائمز میں ملوث ملزمان کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے ۔

  • ایم کیو ایم وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

    ایم کیو ایم وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

    وزیراعظم نے اسمبلیوں کی تحلیل اور نگراں حکومت پر اہم مشاورت کیلئے ایم کیو ایم پاکستان کو بلا لیا

    ایم کیو ایم پاکستان کا وفد ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں وزیراعظم ہاؤس پہنچ گیا ،وزیراعظم نے اہم فیصلوں پر ایم کیو ایم سے مشاورت کیلئے کمیٹی بنا دی ،وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم کے وفد نے ملاقات کی جس میں سیاسی صورتحال سمیت حالیہ مردم شماری کے حوالے سے تفصیلی مشاورت ہوئی۔

    خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال پر مشتمل وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وفاقی وزیرِ اقتصادی امور ایاز صادق بھی ملاقات میں شریک تھے، اس دوران موجودہ ملکی سیاسی صورتحال سمیت حالیہ مردم شماری کے حوالے سے تفصیلی مشاورت ہوئی۔

    ایم کیو ایم وفد نے وزیر اعظم کو کراچی میں وفاقی حکومت کے جاری منصوبوں کی ذاتی نگرانی اور ترجیحی بنیادوں پر کام یقینی بنانے پر خراج تحسین پیش کیا جب کہ وفد نے وزیراعظم کی قیادت میں حکومتی معاشی ٹیم کی کوششوں سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ مکمل ہونے پر بھی وزیر اعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔

    ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق وزیراعظم نے تمام اہم فیصلوں پرایم کیو ایم پاکستان سے مشاورت کی یقین دہانی کرائی اور ایم کیو ایم سے مشاورت کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو نگراں حکومت سمیت تمام معاملات پر ایم کیو ایم سے مشاورت کرے گی ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق وزیراعظم نے بتایا کہ انتخابات پرانی مردم شماری پرکرانے کا فیصلہ نہیں ہوا ہے

     یونان کشتی حادثے میں 3 انکوائریاں اور 6 مقدمات درج

    کشتی حادثہ،میتوں کو جلد از جلد پاکستان لانے کے فوری انتظامات کئے جائیں ،نواز شریف

    کشتی حادثہ پر مریم نواز کا ردعمل

    کشتی ڈوبنے کے حادثے پرنسل پرستانہ تبصرہ،یونانی رکن پارلیمنٹ کی پارٹی رکنیت معطل

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا

    انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا ساتوں اجلاس ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں منعقد ہوا

    شہری ڈوب چکے، کئی کی لاشیں ملیں تو کئی ابھی تک لاپتہ ہیں،

  • کرپشن کا ایک بھی الزام ثابت ہوا تو سیاست چھوڑ دونگا،گورنر کے پی کے

    کرپشن کا ایک بھی الزام ثابت ہوا تو سیاست چھوڑ دونگا،گورنر کے پی کے

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر غلام علی نے کہا کہ میرا کسی سیاسی جماعت کے لیڈر کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے
    انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبر پختونخوا کا صدر ایمل ولی خان مجھ سے چھوٹا اور بھتیجے جیسا ہے۔
    غلام علی نے مزید کہا کہ الزامات لگتے رہتے ہیں، میں دعوے سے کہتا ہوں، ایک بھی الزام میں صداقت نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف ایک بھی سفارش سے پوسٹنگ ٹرانسفر ثابت کر دیں، میں سیاست چھوڑ دوں گا۔
    گورنر خیبر پختونخوا نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم کی طرح میں بھی ہر وقت عوام کی خدمت میں رہنا فرض سمجھتا ہوں، مجھ پر الزامات لگانے والے دراصل سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے بول رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ، اے این پی، پی پی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے کارکنوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا ہے۔واضح رہے کہ گورنر کے پی کے پر عوامی نیشنل پارٹی مسلسل عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے،

  • اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری

    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری

    پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے انتخابات سے متعلق اہم بیان دیا ہے جس میں نیئر بخاری نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری ہونے کی تجویز دے دی۔

    نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ میری رائے ہے کہ اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی بجائے انہیں مدت پوری کرنے دینی چاہئے، مدت پوری ہونے سے چند روز قبل اسمبلیاں تحلیل کرنے سے اچھا پیغام نہیں جائیگا،اراکین اسمبلی نے 13 اگست 2018 کو حلف لیا تھا،ملک میں عام انتخابات 12 اکتوبر تک ہوجانے چاہئے، تیس دن مزید حاصل کرنے کے لئے اسمبلیاں تحلیل کرنے سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا .الیکشن کمیشن سمیت سیاسی جماعتوں کے علم میں ہے کہ حکومت کی مدت کب ختم ہو رہی ہے۔آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کمیشن مدت پوری ہونے کے 60 روز کے اندر انتخابات کروانے کے لئے تیار ہوتا ہے،

    نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے سے چند روز زیادہ مل جائیں گے جس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا اور پیغام بھی اچھا نہیں جائیگا، نگران حکومت کا فیصلہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ملکر کریں گے، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائیگا،چیئرمین پیپلزپارٹی اور وزیر خارجہ بلال بھٹو زرداری کابینہ کا حصہ ہیں،وزیراعظم نگران حکومت کے حوالے سے قیادت سے مشاورت کریں گے

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    ایف اے ٹی ایف اجلاس ،سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا؟

    سعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کوووٹ دیا یا نہیں؟ طاہر اشرفی نے حقیقت بتا دی

  • خیبرپختونخوا، نگران مشیر خزانہ کا ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے پر زور

    خیبرپختونخوا، نگران مشیر خزانہ کا ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے پر زور

    نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ حمایت اللہ خان نے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے دفتر کا دورہ کیا جہاں پر ڈائریکٹر جنرل کے پی آر اے شاہ محمود خان نے انہیں کے پی آر اے کے کام کرنے کے طریقہ کار، انتظامی ڈھانچے اورگزشتہ کئی سالوں میں اکٹھے کئے گئے محاصل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور آگے کا لائحہ عمل واضح کیا۔ ان کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے سیکرٹری خزانہ محمد ایاز بھی بریفنگ میں موجود تھے۔
    اس موقع پر ڈی جی کے پی آر اے نے بتایا کہ انکے ادارے نے گزشتہ مالی سال میں خیبرپختونخوا کے اپنے ذرائع آمدن کے کل حصے کا 71 فیصد حصہ جمع کیا ہے اور 2017 سے اب تک ادارے کی آمدنی میں 180 فیصد اضافہ ہوا ہے جو خیبر پختونخوا ریونیو ٹیم کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    ڈائریکٹر جنرل کے پی آر اے نے مشیر خزانہ کو ایف بی آر، این ٹی ڈی سی اور پیسکو کے پاس کے پی آر اے کے ذمے واجب الادا رقوم کے بارے میں بتایا جس کے لیے حکومت کی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ اداروں کو بقایا رقم کے اجراء پر قائل کیا جا سکے۔
    ڈی جی کے پی آر اے نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کے پی آر اے کے درمیان کراس ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے ایک معاہدہ طے ہوا ہے اور اس معاہدے کے تحت ایف بی آر اب تک کے پی آر اے کو 8 ارب روپے ادا کر چکا ہے جبکہ اس کے ذمے 10 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ اس پر مشیر خزانہ کا کہنا تھا حکومت رقم حاصل کرنے کے لیے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھائے گی۔
    ڈی جی کے پی آر اے کا کہنا تھاکہ کے پی آر اے نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ٹیکس کی بنیاد کو مضبوط کیا ہے اور سروسز کے کاروبار سے وابستہ نئے شعبے ٹیکس نیٹ میں لائے گئے ہیں۔ جب کے پی آر اے قائم ہوا تو اسکے کل محاصل کا 93 فیصد حصہ ٹیلی کام سیکٹر سے وصول کیا جاتا تھا لیکن کے پی آر اے کی ٹیم نے اپنی کوششوں سے نئے شعبوں کوٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کیا اور تمام شعبہ جات پر محنت کی جس کے نیتجے میں اب ادارے کے کل سالانہ محاصل کا صرف 35 فیصد حصہ ٹیلی کام سیکٹر سے آتا ہے اور دیگر شعبہ جات سے حاصل ہونے والے محاصل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ حمایت اللہ خان نے کے پی آر اے کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور ٹیکس کی وصولی کے لیے نئے شعبوں کی تلاش کرنے پر زور دیا۔
    انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر ہم محصولات سے حاصل کی جانے والی آمدنی کو متاثر کیے بغیر ٹیکس کے ریٹ کو مزید کم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کے پی آر اے کا صوبے کے لئے ریونیو پیدا کرنے میں ایک اہم کردار ہے اور محاصل سے ملنے والی رقوم عوام کی بہتری اور خوشحالی کے منصوبوں میں استعمال ہوتی ہیں۔مشیر خزانہ نے کے پی آر اے ٹیم سے کہا کہ وہ ان شعبوں میں ترقی کے امکانات تلاش کرنے پر کام کریں جو صوبے کی غریب آبادی کو متاثر نہیں کرتے۔ انہوں نے تیل اور گیس کے شعبے، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس اور سیکیورٹی سروسز کی مثالیں پیش کیں جہاں سے محصولات کی وصولی میں اضافے کے امکانات ہوسکتے ہیں۔

  • لوگ صحت کارڈ پر ارب پتی بن گئے. ترجمان پنجاب حکومت

    لوگ صحت کارڈ پر ارب پتی بن گئے. ترجمان پنجاب حکومت

    نگران وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا صحت سہولت کارڈ کا نام بدلتا رہا، لوگ اس کارڈ پر ارب پتی بن گئے اور اتنے اسٹنٹ ڈالے گئے کہ ملک سے اسٹنٹ ختم ہوگئے۔ جبکہ لاہور میں نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر اور ڈاکٹر جاوید اکرم نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں عامر میر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ اسکیم نواز شریف کے دور 2015 میں غریبوں کے لیے تھی، اس دور میں ہیلتھ کارڈ پر آپریشن کیلئے 3 لاکھ حد رکھی گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے ہیلتھ کارڈ پر400 ارب روپے مختص کیے، ایک مافیہ بنا پرائیوٹ اسپتالوں کے ساتھ کمیشن طے ہوئے، دھڑا دھڑ مریضوں کو پرائیوٹ اسپتالوں میں آپریشن کیلئے بھیجا گیااور خوب پیسا کمایا گیا۔ جبکہ عامر میر کا کہنا تھاکہ سابق حکومت کے صحت کارڈ پرپرائیوٹ اسپتالوں کے 100، 100 ارب روپے کے بل بنے پڑے ہیں، صحت سہولت کارڈ سے متعلق خبروں سے غلط تاثر پیدا ہورہا ہے، اب یہ سہولت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو افورڈ نہیں کرسکتے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    نگران وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ ایک اچھا مثبت قدم تھا، اسے بند نہیں کیا جا رہا، اب صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور سوشل ویلفیئر سے رجسٹرڈ غریب افراد صحت کی سہولت حاصل کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحت سہولت کارڈ کا نام بدلتا رہا، لوگ اس کارڈ پر ارب پتی بن گئے، اتنے اسٹنٹ ڈالے گئے کہ ملک سے اسٹنٹ ختم ہوگئے، جونیئرز ڈاکٹرز نے پرائیوٹ اسپتالوں میں آپریشن کیے، 50 فیصد نارمل ڈلیوری کے سی سیکشن ہوئے۔ جبکہ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، پورے ملک میں الیکشن ایک ہی دن ہو گا۔

  • تحریک انصاف کے روپوش رہنما عید کہاں منا رہے ہیں؟

    تحریک انصاف کے روپوش رہنما عید کہاں منا رہے ہیں؟

    پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے بیشتر رہنما گرفتاری سے بچنے کے لیے عید بھی گھر سے دور منائیں گے۔9 مئی کے واقعات کے بعد پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے متعدد رہنما روپوش ہو چکے ہیں۔ ان میں سابق وزیراعلٰی محمود خان سمیت سابق وزرا شامل ہیں زیادہ تر رہنما اپنے آبائی علاقوں سے دور ہیں جبکہ بعض سابق وزرا کی دوسرے صوبوں میں روپوش ہونے کی متضاد اطلاعات بھی ہیں،خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے فرنٹ لائن رہنما اس وقت منظر عام سے غائب ہیں جن میں سرفہرست سابق وزیراعلٰی محمود خان، سابق وفاقی وزرا مراد سعید، علی امین گنڈاپور، سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، سابق صوبائی وزیر کامران بنگش، سپیکر مشتاق غنی اور سابق صوبائی وزرا عاطف خان اور شہرام ترکئی شامل ہیں۔ سابق گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان بھی چھپے ہوئے ہیں۔پی ٹی آئی کے قائدین کہاں روپوش ہیں اس بارے میں متضاد اطلاعات آ رہی ہیں نگران وزیر اطلاعات فیروز جمال کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں میں سے کچھ گلیات اور بعض پنجاب میں چھپے ہوئے ہیں۔
    انہوں نے اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ بعض رہنما افغانستان فرار ہو چکے ہیں۔