Baaghi TV

Tag: نگران حکومت

  • کچھ گندے انڈے اگر آجاتے ہیں تو پورا تالاب خراب کرتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    کچھ گندے انڈے اگر آجاتے ہیں تو پورا تالاب خراب کرتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے کرم سے ہماری اسمبلی نے اپنی مدت پوری کی ، 4 سال 11 ماہ بعد اسمبلی تحلیل ہو گئی، میری ایڈوائس پر گورنر سندھ نے کل رات اسمبلی تحلیل کردی

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی رات 9 بجے تحلیل ہوئی,آئین کے مطابق اسمبلی کو تحلیل کیا گیا،جب تک نگراں وزیر اعلی نہیں آ جاتا تب تک میں وزیر اعلی سندھ ہوں ، میری اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت ہوگی،اگر نہیں ہو پائی تو آئین میں پارلیمینٹ کمیٹی بنائے گی اسے تین دن دئیے جائیں گے، اگر پارلیمنٹری کمیٹی سے بھی بات نہ بنی تو الیکشن کمیشن دو دن میں فیصلہ سنائے گا،

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کچھ گندے انڈے اگر آجاتے ہیں تو پورا تالاب خراب کرتے ہیں،اس وقت کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ کراچی ہمارا ہے ہی نہیں، اس حالت کے پیش نظر ہمیں مشکل حالات سے گزرنا پڑا، چیئرمین بلاول بھٹو نے اسی حالات کو دیکھتے ہوئے بیان دیا کہ وزیراعلیٰ یہی رہے گا چاہے جیل میں سے ہی کیوں نہ حکومت چلانی پڑے،کورونا سے کئی قیمتی جانیں گئی، ڈاکٹر کی تجویز پر میں نے فیصلے لئے تو مجھے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جو میرے خلاف تنقید کررہے تھے بعد میں انھوں نے میرے فیصلوں کو تسلیم کیا، سندھ نے کورونا میں بہترین کام کیا، اور ہم کامیاب رہے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پھر سیلاب آ گیا، وزیراعظم شہباز جب بھی آئے وہ حیران ہوگئے اتنا پانی دیکھ کر کہ کیسے نکلے گا،وزیراعظم شہباز شریف بہت پریشان تھے کہ گندم کی فصل کیسے ہوگی، وزیراعظم شہباز شریف کو میں نے اعتماد میں لیا اور ہم نے کام کیا، گندم کی قیمت اگر نہیں بڑھاتے تو کسانوں کے خرچے پورے نہیں ہوتے، ہم نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے پورے سندھ سے سیلاب کا پانی نکالا اور گندم بھی اگائی ، گندم کی رکارڈ فصل ہوئی اور اس سال کپاس کی فصل آنے والی ہے، سیلاب نے سندھ کو شدید نقصان پہنچایا، تمام ایم پی ایز فیلڈ میں رہے اور کام کرتے رہے،اس وقت کے وزیراعظم کچھ منٹوں کیلئے صرف کراچی آتے اور چلے جاتے، سندھ کے کسی شہر میں انھوں نے دورہ نہیں کیا، سیلاب میں سندھ کے ہر شہر میں ہم پہنچے اور مدد کی،اس وقت کے تمام جماعتوں کا موقف تھا کہ اسمبلی سے استعفیٰ دینا چاہئے،
    ہمارے تمام اتحادی جماعتوں کے ذریعے ہم جمہوری طریقے سے ایک وزیراعظم کو گھر بھیجا،ملک کی تاریخ میں پہلی بار جمہوری طریقے سے وزیراعظم کو گھر بھیجا، وزیراعظم شہباز شریف کو نیا وزیراعظم منتخب کروایا، سیلاب میں ہر جگہ جہاں جاتا دیکھ کر میں ہمت ہار چکا تھا،تمام اہم شاہراہیں بند ہوچکی تھی، کھانے پینے کی اشیاء پہنچا نہیں پارہے تھے، ہماری کابینہ اور ٹیم نے چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر فیلڈ میں رہے، جو بھی سیلاب متاثرین تھے ہر ایک ایک شخص کے پاس پہنچے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش تھی لیکن ہم نے ہر متاثرین کی مدد کی،

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کےاعزاز میں وزیراعلیٰ ہائوس کے اسٹاف کی جانب سے ظہرانہ دیا گیا،ظہرانے میں چیف سیکریٹری ، سہیل راجپوت، سابق پرنسپل سیکریٹریز، تمام سابق اور موجودہ ڈپٹی سیکریٹریز ، گریڈ 2 سے لے کر 20 تک کے افسران و ملازمین نے شرکت کی،وزیراعلیٰ ہائوس کے 4 گریڈ کے ملازم ڈنل خان ، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت اور پرنسپل سیکریٹری فیاض جتوئی نے تقاریر کیں،تمام ملازمین نے وزیراعلیٰ سندھ کی شفقت ، مختلف شعبوں میں ان کی رہنمائی اور سندھ کے حقوق پر آواز بلند کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا،تمام ملازمین نے وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ تصویربنانے کی خواہش کا اظہار کیا،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعلی ہاوس کے ملازمین کے ساتھ یادگار سیلفی بھی بنائی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • خیبر پختونخواہ نگران کابینہ مستعفی

    خیبر پختونخواہ نگران کابینہ مستعفی

    خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ مستعفی ہوگئی، ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعلی نے چائے پر بلا کر سب سے استعفی طلب کرلیا،کے پی کے اسمبلی کے 25ممبران میں سے 23 ممبران نے استعفی دیدیا،ذرائع نے بتایا کہ دو ممبران نے استعفی دینے کیلئے مزید وقت مانگ لیا ہے ، نگران وزیر اعلی کے زرائع کے مطابق نگران وزیر اعلی نے ممبران کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کا خط آیا ہے کہ کابینہ میں سیاسی ممبران ہیں،کابینہ میں موجود سیاسی لوگوں کو استعفیٰ دینا ہوگا، الیکشن کمیشن کی خط کے تناظر میں خیبرپختونخوا نگراں کابینہ میں 20 ارکان نے استعفی نگراں وزیراعلی کو بھجوا دیے مستعفی اراکین میں مسعود شاہ، عبد الحلیم قصوریہ، ارشاد قیصر، محمد علی شاہ، ہدایت اللہ، سلمی بیگم اور ریاض انور شامل، پیر ہارون شاہ، شیراز اکرم، ملک مہر الہی، حامد شاہ اور بخت نواز نے بھی جمع کروا دےحاجی غفران، فضل الہی، تاج محمد ، حمایت اللہ، ظفر محمود اور رحمت سلام خٹک بھی مستعفی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو ای کے ارکان نے مہلت مانگ لی۔

  • آنے والی نگراں انتظامیہ کو درپیش کٹھن چیلنجز

    آنے والی نگراں انتظامیہ کو درپیش کٹھن چیلنجز

    قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی، نیا نگران سیٹ اپ آنیوالا ہے، نگران وزیراعظم کو عہدہ سنبھالنے کے بعد کافی چیلنجز انکے انتظار میں ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کرانے کی اہمیت پر زور دیا ہے، یہ عمل طویل ہونے کا امکان ہے۔ اس کام کی پیچیدگی کے پیش نظر، اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ انتخابات 2023 میں نہیں ہو سکتے۔ تاہم،پاکستان کے جو مسائل ہیں انکو حل کرنے کی ضرورت ہے، اور حل کرنا چاہئے، الیکشن کے انعقاد کا انتظار نہیں کرنا چاہئے،

    سیکشن 230(2) میں منظور شدہ ترمیم کے ذریعے کچھ معاملات کی عجلت کو تسلیم کیا گیا ہے: "سب سیکشنز (1) اور (2) کے باوجود، یہ دفعات ان صورتوں میں لاگو نہیں ہوں گی، جہاں نگران حکومت کی ضرورت ہے۔ موجودہ دوطرفہ یا کثیرالطرفہ معاہدوں، یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ایکٹ، 2017 (VIII of 2017)، انٹر گورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشنز ایکٹ، 2022 (XXX of 2022) کے تحت پہلے ہی شروع کیے گئے منصوبوں کے بارے میں اقدامات یا فیصلے کرنا۔ نجکاری کمیشن آرڈیننس، 2000 (LII of 2000)۔” نیز "فوری” معاملات سے نمٹنا۔

    مزید برآں، افغانستان سے بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات نے مشکلات کو مزید بڑھادیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں،حالیہ واقعات حالات کی نزاکت کو اجاگر کرتے ہیں۔ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر حملے میں چار فوجیوں کے شہادت اور تین حملہ آوروں کی ہلاکت سرحد پار سے آنے والے مسلسل سیکورٹی خطرات کی ایک واضح یاد دہانی کے طور پر کام دیتی ہے۔

    نگران حکومت کو سیلاب کا چیلنج بھی درپیش ہو سکتا ہے،روزانہ کی رپورٹیں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح پر زور دیتی ہیں، پچھلے سال بھی پاکستان میں سیلاب آیا تا، جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تھا، گزشتہ برس کا سیلاب ابھی تک بہت سے لوگوں کے ذہوں میں تازہ ہے اور ابھی تک متاثرین مشکلات سے دوچار ہیں ،سیلاب کی سالانہ متواتر آمد ملک بھر کی کمیونٹیز کو درپیش مشکلات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

    تیسرا اہم مسئلہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کے انعقاد میں لاجسٹک پیچیدگی ہے۔ یہ پیچیدہ عمل انتخابی نظام کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے وقت، درستگی اور محتاط منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کام کی پیچیدہ نوعیت کے لیے ایک ایسے نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو جامع اور تفصیلی ہو۔

    ان مشکلات کے درمیان، نگراں انتظامیہ کو آئی ایم ایف پروگرام کی نگرانی کی اہم ذمہ داری بھی اٹھانی ہوگی۔ مالی استحکام اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے سخت معیار کی پابندی ضروری ہے۔ خالی بیٹھنے اور الیکشن کا انتظار کرنے کی بجائے،نگران حکومت کو کچھ کرنا ہو گا، آنے والے نگران وزیر اعظم کو چیلنجوں کے ایک پیچیدہ جال کا سامنا ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے، پرعزم اقدامات کے ذریعے ہی ان مشکلات سے نمٹا جا سکتا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک مستحکم اور ترقی پسند مستقبل کو یقینی بناتا ہے۔

  • سب نے اپنی سیاست کو قربان کر کے ریاست کوبچایا،وزیراعظم

    سب نے اپنی سیاست کو قربان کر کے ریاست کوبچایا،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی نے ہم پر 11 اپریل 2022 کو اعتماد کیا تھا، مدت پوری ہونے پر اللہ تعالٰی کا شکرادا کرتے ہیں،یہ تاریخ کی مختصر ترین حکومت تھی،

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب نے پورے پاکستان میں تباہی مچائی، سیلاب بہت بڑا چیلنج تھا، سیلاب کے دوران چاروں صوبوں نے دن رات محنت کی،سیلاب متاثرین میں بی آئی ایس پی کے ذریعے 80 ارب تقسیم کیے گئے بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ نے سیلاب کے دوران دن رات کام کیا،سیلاب کے دوران کسی صوبے کے ساتھ تفریق نہیں کی گئی، مہنگائی کا طوفان ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا گزشتہ حکومت کی غفلت سے داخلی و خارجہ محاذ پر پاکستان کا نقصان ہوا، چاروں صوبوں کی نمائندگی مخلوط حکومت میں شامل تھی،

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام مشکلات کے باوجود ہم سب 16 ماہ یکجا رہے، سمجھتا ہوں کہ سب نے مل کر اس کشتی کوپار لگانے کی پوری کوشش کی ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہر جگہ بے پناہ محنت کی ،پاکستان بچانے میں سب نے اپنی سیاست کو قربان کر کے ریاست کوبچایا، تاریخ آپ لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی، ہماری قومی خزانے کو بھرنے کی سوچ تھی، آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ہم نے ہمت نہیں ہاری، اسحاق ڈار کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں،قرضوں کو رول اوور کرنے پر چین کے شکر گزار ہیں،چینی نائب صدر نے دورہ کر کے ثابت کیا کہ پاکستان بہترین دوست ہے،

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی پاکستان کے خلاف بد ترین سازش تھی،9 مئی پاکستان کے سپہ سالار کے خلاف سازش تھی، چیئرمین پی ٹی آئی نے جتھوں کو تیار کیا تھا،9 مئی پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش تھی ، اگر خدانخواستہ وہ کامیاب ہو جاتی تو پاکستان کا کیا حشر ہوتو اس کی تصویر کشی نہیں کر سکتا، نہ ہی اس کو بیان کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ ہیں، وہ صورتحال اتنی بھانک ہوتی جس کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا ، اللہ نے ہمیں اس بدترین ناپاک ساز ش سے بچایا، کس طرح سے شہداءکی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی ، آج ہماری حکومت کا آخری کابینہ کا اجلاس ہے ، شائد پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی کوئی اور مثال نہیں ہے ، جہاں چاروں صوبوں کی لیڈر شپ اس طرح حکومت میں شامل ہے ، اس سے بعض فیصلے کرنے میں بہت آسانی ہوئی ، چاروں صوبوں کی سپورٹ ملی، چاروں صوبوں نے اپنے صوبے کیلئے بھر پور کام کیا، یہ حسین امتزاج ہے ، یہ ایک گلدستہ تھا جس کے خوبصورت رنگ تھے ، اس طرح کی شراکت داری قائم ہوئی، تمام چیلنجز کے باوجود ، اپنے اپنے بیانیے ہونے کے باوجود یکجا ہوئے کہ ہم نے پاکستان کو بچانا ہے

    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیلا کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو ملک کے ساتھ زیادتی کی گئی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ،ملکی سرحدوں کے محافظوں نے اپنا خون دے کر ملک کی حفاظت کی ،16 ماہ کسی سیاسی مخالف کو جیل بھجوانا تو دور ناجائز تنگ بھی نہیں کیا ،موجودہ حکومت میں کسی کے خلاف نیب کیسز نہیں بنائے ،پی ٹی آئی کا دور ظلم اور زیادتی کا فاشٹ دور تھا ، آج رات ایوان کی اجازت سے صدر پاکستان کو اسمبلی تحلیل کیلئے ایڈوائز بھجوں گا ،قرارداد کے ذریعے اس بات کا اعادہ کریں کہ قیامت تک 9 مئی جیسے واقعات نہ ہوں ، میری زندگی کا سب سے زیادہ مشکل امتحان یہ 16 ماہ تھے ، میں نے اتنا بڑا امتحان 38 سالہ سیاسی کیرئیر میں نہیں دیکھا ، دھرنوں ، لانگ مارچ کی باتیں ہو رہی ہوں تو کون سرمایہ کاری کرے گا جو پاکستا ن کے ڈیفالٹ ہونے کی دعائیں کررہے تھے انکا مکروہ چہرہ قوم کے سامنے آگیا ، کیا کیا سانحات ہوئے لیکن کسی نے اپنے کارکن کو نہیں کہا کہ جا کر حملہ کردو،

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

     ہم عوام کے نمائندے ہیں، ان کی خدمت ہمارا فرض ہے

  • کے پی کے ،نگران کابینہ کے تبدیلی کا امکان

    کے پی کے ،نگران کابینہ کے تبدیلی کا امکان

    خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ میں ایک بار پھر ردوبدل کا امکان ظاہر کیا گیا ہے زرائع کے مطابق نئے وزراء کے لئے نیوٹرل افراد کا انتخاب کیا جائے گا تاکہ وہ بغیر کسی سیاسی وابستگی کے انتخابات کرانے کی اپنی آئینی ذمہ درای ادا کر سکیں۔اس سے قبل کہا جا رہا تھا کہ نگران کابینہ کے 4 وزراء کے علاوہ باقی سب تبدیل ہوں گے لیکن اب ذرائع سے اطلاعات آرہی ہیں کہ پوری کابینہ تبدیل کی جائے گی جس کے لئے نام فائنل ہو رہے ہیں۔دوسری جانب گورنر کے پی کے کو بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ گورنر کے پی کے کو انتہائی متنازعہ شخص سمجھا جا رہا ہے،

  • نگران وزیر اعظم  کون؟ اتحادی جماعتوں کا اجلاس، نام سامنے آ گئے

    نگران وزیر اعظم کون؟ اتحادی جماعتوں کا اجلاس، نام سامنے آ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں نگران سیٹ اپ کی تشکیل پراتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں پی ڈی ایم کے سربراہ،جے یو آئی کے قائد ،مولانا فضل الرحمان، پپی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، اختر مینگل، شاہ زین بگٹی، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، اسلم بھوتانی اور محسن داوڑ سمیت دیگر شریک ہوئے ،دوران اجلاس نگران حکومت اور نگران وزیراعظم کے لیے مختلف ناموں پرغورکیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں نگران وزیراعظم کے لیے شاہد خاقان عباسی، حفیظ شیخ،اسلم بھوتانی، فواد حسن فواد اور دیگر ناموں پرغورکیا گیا

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس حوالے سے مزید مشاورت جاری رکھی جائے گی، ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا،

    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ شب اتحادی جماعتوں کے اراکین کو عشائیہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ 9 اگست کو اسمبلی تحلیل کر دیں گے، 15 ماہ میں تمام تنقید کے باوجود ریاست کو بچایاآج ہمارا ضمیر مطمئن ہے کہ ہم نے سیاست کی قربانی دے کر ملک کو بھنور سے نکالا مشکل وقت میں حکومت سنبھالی، ہر طرف خطرات تھے آئندہ چند روز میں ہماری حکومت ختم ہو جائے گی کوشش ہے کہ سب کیلئے قابل قبول نگران سیٹ اپ تشکیل دیا جائے

    واضح رہے کہ اسحاق ڈار کا نام نگران وزیراعظم کے طور پر آیا تو پیپلز پارٹی نے اسکی مخالفت کی تھی، نگران وزیراعظم کا نام طے کرنے کے لئے قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کی بھی وزیراعظم سے رواں ہفتے ملاقات کا امکان ہے،راجہ ریاض نے نگران وزیراعظم کے لیے پہلے اسحاق ڈار کے نام کی مخالفت کی تھی تاہم بعد میں اس کی حمایت بھی کی، لاہور کے تاجروں کا بھی کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کو ہی نگران وزیراعظم بنایا جائے،

    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری

  • پشاور، پیشہ ور گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن،9 گرفتار

    پشاور، پیشہ ور گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن،9 گرفتار

    نگران معاون خصوصی سلمیٰ بیگم کی ہدایت پر انسداد گداگری ایکٹ کے تحت پیشہ ور گداگروں کے خلاف آپریشن جاری ہے ، پشاور اور گردونواح میں محکمہ سماجی بہبود دارلکفالہ کی انسداد گداگری سکواڈنے پیشہ ور گداگروں کے خلاف گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے مذید 9 پیشہ ور گداگروں کو گرفتار کرلیا ہے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی معاون خصوصی برائے زکوٰۃ،عشر، سماجی بہبود وترقی خواتین سلمیٰ بیگم کی ہدایت پر دارلکفالہ کی ٹیم نے پشاور کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور پیشہ ور گداگری میں ملوث مرد و خواتین کوانسداد گداگری ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے اپنی تحویل میں لے کر دارالکفالہ منتقل کر دیا گرفتار پیشہ ور گداگروں میں 4 مرد اور 5 خواتین شامل تھیں جنکو کوہاٹ روڈ، رینگ روڈ، نشتر آباد، گلبہار، انم صنم چوک اور صدر روڈ سے گرفتار کیا اور انکے خلاف انسداد گداگری ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے دارالکفالہ منتقل کیا مینیجر دارالکفالہ حناء کا پیشہ ور گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے کہنا تھا کہ پشاور اور گردونواح میں گداگری کے خلاف انسداد گداگری ٹیم کاآپریشن جاری رہے گا اور پشاور کو پیشہ ور گداگروں سے پاک کرکے دم لیں گے۔

  • پٹرول 19 روپے 95 پیسے فی لیٹر، ڈیزل  19 روپے 90 پیسے فی لیٹر مہنگا

    پٹرول 19 روپے 95 پیسے فی لیٹر، ڈیزل 19 روپے 90 پیسے فی لیٹر مہنگا

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا، پٹرول 19روپے 95 پیسے مہنگا کیا گیا، ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا گیا،نئی قیمتوں کا اطلاق فوری ہوگا،

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پچھلے 15 دن میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں قیمتوں میں چڑھاؤ ہوا، پچھلے 15 دن میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھیں، کل رات 12 بجے کے بعد قیمتوں کا تعین ہوا،وزیراعظم نے کہا جو کچھ بہتر ہوسکتا ہے عوام کیلئے کرنا چاہیے، ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا ہے،پیٹرول کی نئی قیمت272 روپے 95 پیسے مقرر کی گئی ہے ،

    سینیٹر ڈاکٹر عبدالکریم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ حكومت کا جاتے ہوئے عوام کیلئے آخری تحفہ ، بجلی کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ،پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 20 روپے اضافہ نامناسب اور زیادتی ہے یہ اضافہ پہلے ہی مہنگائی سے تنگ عوام کو مزید مارنے کا پروگرام ہے ان حالات میں الیکشن میں جانے کے انتہائی خطرناک نتائج ہونگے

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں ایک دفعہ پھر 20 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا۔ اس پٹرول بم سے پی ڈی ایم حکومت میں شامل جماعتوں کا عوام دشمن چہرہ مزید بے نقاب ہو گیا۔ یہ عوام کا معاشی قتل ہے،غریبوں کے جیب پر ڈاکہ ہے، یہ ناقابل برداشت بوجھ ہے، عوام کی کمر توڑ دی ہے، آئی ایم ایف کیلئے قانون سازی ،آئی ایم ایف کیلئے ٹیکسوں کا نظام، آئی ایم ایف کیلئے مہنگائی، ائیرپورٹس بندرگاہیں شاہراہیں اور قومی اثاثے بیچے جارہے ہیں.
    حکومت مفت پٹرول، مفت بجلی ، مفت گیس اور ججز، سیاستدانوں، اشرافیہ اور افسر شاہی کی مراعات کم کیوں نہیں کرتی؟ کب تک عوام بوچھ برداشت کرتے رہیں گے۔ کب تک عوام پر یہ ظلم برداشت کریں گے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی سیاست چمکائی جا رہی ہے، ملکی معیشت کو درست سمت میں ڈالنے کے لئے ہم نے مشکل فیصلے کئے،اتحادی حکومت نے سستی شہرت لینے کے لئے فیصلے نہیں کئے، 15 ماہ قبل مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نے ملک کو بچانے کا فیصلہ کیا، آج ہم سر اونچا کر کے کہہ سکتے ہیں کہ جو فیصلہ کیا ملک کی معیشت کے استحکام کے لئے کیا، جب ہم اقتدار میں آئے تھے ملک دیوالیہ کی نہج پر تھا، نااہلوں اور چوروں نے اپنی سیاست کو بچانے کے لئے ملک کو ڈیفالٹ کے دھانے پر پہنچایا، چیئرمین پی ٹی آئی نے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کئے، نواز شریف آئی ایم ایف کو خیر باد کہہ چکے تھے،پی ٹی آئی نے اپنے ہی دستخط کردہ آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی کی اور اسے معطل کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی ساکھ بچانے کے لئے آئی ایم ایف کے معطل پروگرام کو بحال کرنے کے لئے دوبارہ بات چیت شروع کی،ہم معیشت کے اندر ان کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا خاتمہ کریں گے، ہم ملک کو ترقی کی شاہراہ پر لے کر جائیں گے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں، ہم آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ میں ہیں، ہم اس انسٹرومنٹ کو استعمال نہیں کر سکتے، نگران سیٹ اپ کا فیصلہ وزیراعظم اور اتحادی جماعتیں کریں گی،

  • نگران حکومت کو اختیارات،ن لیگ اور پی پی میں اختلافات

    نگران حکومت کو اختیارات،ن لیگ اور پی پی میں اختلافات

    حکمران جماعتوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ایک بار پھر اختلافات سامنے آ گئے، نگران حکومت کو منتخب حکومت والے اختیارات دینے پر پیپلز پارٹی نے اعتراض کر دیا

    پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ نگران حکومت کو منتخب حکومت والے اختیارات دینے پر پیپلز پارٹی کو اعتراض ہے،خیبر پختونخوا کی نگران حکومت پربھی اعتراض ہے،خیبر پختونخوا میں جو حکومت ابھی چل رہی ہے، نہیں پتا چل رہا کہ نگران ہے یا منتخب؟ سیکشن 230 میں ترامیم پر پیپلز پارٹی نے تحفظات کا اظہار کیا تھا ہم الیکشن کی طرف جارہے ہیں نئے معاہدے منتخب حکومت کرے گی۔

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کا نام نہ (ن) لیگ نے دیا نہ اس پر کوئی ڈسکشن ہوئی نگران وزیر اعظم غیر جانب دار اور اتنا تگڑا ہونا چاہیے کہ اس بار آر ٹی ایس نہ بیٹھے نگران حکومت میں سیاسی لوگوں کو نہیں ہونا چاہیے

    واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور کروایا گیا تھا، اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 پیش کیا گیا تھا،ترمیم کے مطابق نگران حکومت کوئی نیا معاہدہ نہیں کرسکے گی، نگران حکومت کو دو فریقی اور کثیرفریقی جاری معاہدوں پر فیصلوں کا بھی اختیار نہیں ہوگا، نگران حکومت کو پہلے سے جاری منصوبوں پر اداروں سے بات کرنے کا اختیار ہوگا نگران حکومت پہلے سے جاری پروگرام اور منصوبوں سے متعلق اختیار استعمال کر سکے گی

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • خیبر پختونخوا نگران صوبائی وزیر شاہد خٹک کا استعفی منظور

    خیبر پختونخوا نگران صوبائی وزیر شاہد خٹک کا استعفی منظور

    گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے نگران وزیر شاہد خٹک کے استعفے کی سمری پر دستخط کر کے استعفی منطور کر لیا، محکمہ ایڈمنسٹریشن کی سمری کے مطابق نگران وزیراعلیٰ نے گورنر کو نگران وزیر شاہد خٹک کا استعفیٰ منظور کرنے کی سمری بھیجی تھی جس کے پیش نظر گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے نگران وزیر شاہد خٹک کے استعفی کی سمری پر دستخط کردیے۔ محکمہ ایڈمنسٹریشن کی سمری میں بتایا گیا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ اعظم خان نے الیکشن کمیشن کے حکم پر نگران وزیر شاہد خٹک کو کابینہ سے نہیں ہٹایا۔سیاسی جلسےمیں شرکت پر الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ کو 22 جولائی کو متعلقہ وزیر کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔نگراں وزیراعلیٰ اعظم خان نے شاہد خٹک کو کابینہ سے ہٹانے کی دو سمریاں گورنر کو بھیجی تھیں، ایک سمری الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق کابینہ سے ہٹانے کے حوالے سے تھی، دوسری سمری شاہد خٹک کے استعفی کو قبول کرنے سے متعلق تھی۔ گورنر نے وزیراعلیٰ کو ایک سمری بھیجنے کی درخواست کی ہے، وزیراعلیٰ نے الیکشن کمیشن کی سمری کی بجائے استعفے منظور کرنے کی سمری بھیج دی تھی،