Baaghi TV

Tag: نیتن یاہو

  • ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایران جنگ کے معاملے پر ایک کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی-

    امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں، جس کے باعث گفتگو میں تناؤ پیدا ہوا یہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی گفتگو نہیں تھی اتوار کو ہونے والی بات چیت میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ وہ ہفتے کے آغاز میں ایران پر نئے ہدفی حملوں کی منظوری دینے کا امکان رکھتے ہیں، بتایا گیا کہ اس مجوزہ کارروائی کو نیا نام آپریشن سلیج ہیمر دیے جانے کی تیاری بھی کی جارہی تھی۔

    تاہم ابتدائی گفتگو کے تقریباً 24 گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو متوقع حملے روک رہے ہیں ان کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا گیا امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دنوں خلیجی ممالک وا ئٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جاسکے۔

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم ایران کے معاملے کے آخری مراحل میں ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہےیا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو کافی سخت ہوں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ان جاری مذاکرات سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو طویل عرصے سے تہران کے خلاف زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ تاخیر صرف ایران کے مفاد میں جا رہی ہے۔

    امریکی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کی گفتگو میں صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ متوقع حملے موخر کرنا ایک غلطی ہے اور امریکا کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔

    ایک اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا اسرائیلی حکام کے مطابق اختلاف واضح تھا، کیونکہ ٹرمپ معاہدے کے امکانات دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کسی اور سمت میں پیش رفت کی توقع کررہے تھے۔

    سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس سے اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی جبکہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے اس کشیدہ فون کال کی خبر سب سے پہلے دی تھی اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو کے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اسرائیلی حکومت کی اعلیٰ سطح پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی خواہش موجود ہے اور اس بات پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کو سفارتی عمل کے ذریعے وقت دے رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کی امریکی حکمت عملی، خصوصاً ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اچانک توقف اختیار کرنے پر ناراضی کوئی نئی بات نہیں امریکی حکام ماضی میں بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر یکساں نہیں۔

    بدھ کو صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ انہوں نے گزشتہ شب نیتن یاہو سے کیا کہا تھا تو انہوں نے جواب دیا، میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا،ایران کے ساتھ معاملات انتہائی نازک مرحلے میں ہیں اور اگر چند روز کی سفارت کاری سے جانیں بچ سکتی ہیں تو اسے موقع دینا چاہیے۔

    ادھرایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ایران کے ابتدائی 14 نکاتی متن کی بنیاد پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے، امریکی مؤقف موصو ل ہوچکا ہے اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  • ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام  کا منصوبہ

    ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

    ایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ایران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے قتل پر 5 کروڑ یورو، یعنی تقریباً 5 کروڑ 82 لاکھ ڈالر انعام مقرر کرنے کا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ کمیٹی ایک بل تیار کر رہی ہے جس کا عنوان اسلامی جمہوریہ کی فوجی اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی رکھا گیا ہے۔

    دی ٹیلی گراف کے مطابق اس مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی فرد یا گروہ کو 5 کروڑ یورو ادا کیے جائیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جان سے مارے گاایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    ابراہیم عزیزی نے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کو آیت اللہ خامنہ ای کے قتل میں مبینہ کردار پر جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جانا چاہیے،ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ایک اور رکن محمود نباوین نے بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹ جلد ایسے انعام کی منظوری پر ووٹ کرے گی جو اُس شخص یا گروہ کو دیا جائے گا جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جہنم واصل کرے۔

    یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل ایران کے حامی میڈیا ادارے مساف نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے ”کِل ٹرمپ“ مہم کے لیے 5 کروڑ ڈالر کے مالی وسائل مختص کر دیے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے سرکاری حمایت یافتہ سائبر وارفیئر گروپ ہندالہ نے بھی ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ظلم اور کرپشن کے بنیادی معمارو ں، یعنی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خاتمے کے لیے 5 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، یہ رقم اُس فرد یا تنظیم کو دی جائے گی جو دونوں رہنماؤں کے خلاف عملی کارر وائی کرے گا، یہ اقدام امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ہندالہ گروپ کے ارکان کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام کے اعلان کے ردعمل میں کیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے مجوزہ انعامی قانون ماضی کی دھمکیوں، مذہبی فتوؤں اور پروپیگنڈا مہمات کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین پیش رفت ہے، جو امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے جبکہ گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکا انتہائی سخت احکامات جاری کرے گا اور ایران کو “زمین کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

  • یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ہوئی ، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی –

    اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر نے والوں سے حساب لیا جائے گا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرا ئیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوا لے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیرا علا نیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

    امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

  • نیتن یاہوکا افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار

    نیتن یاہوکا افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار کردیا ہے۔

    امریکی ٹی وی کو دیےگئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ایران جنگ میں بہت کچھ حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ ابھی ختم نہیں ہوئی، ایران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجود ہے جسے ایران سے نکالنا ضروری ہے، یورینیم افزودگی کے ایسے مراکز موجود ہیں جنہیں ختم کرنا ہوگا، اب بھی ایسے گروہ موجود ہیں جن کی ایران حمایت کرتا ہے اور ایسے بیلسٹک میزائل بھی ہیں جنہیں وہ مزید بنانا چاہتے ہیں، ابھی بہت کام باقی ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ بھی فوجی آپریشن کے ذریعے ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے پر آمادہ ہیں اسرائیل کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرےگا جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی تو ہو جائے لیکن لبنان میں حزب اللہ برقرار رہے ایران چاہتا ہےکہ اگر یہاں جنگ بندی ہو جائے تو وہاں بھی جنگ بندی ہوجائے،کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ حزب اللہ وہاں رہے اور لبنان کو مسلسل اذیت دیتی رہے اور اس کے عو ام کو ‘ یرغمال’ بنائے رکھے اس حوالے سے ٹرمپ میری بات سمجھتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی حکومت کمزور یا ختم ہو جاتی ہے تو اس کا پورا پراکسی نیٹ ورک بھی ختم ہو جائےگا، حزب اللہ، حماس اور شاید حوثیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے، ایران نے پراکسی گروپوں کا جو پورا ڈھانچہ کھڑا کیا ہے، وہ ایرانی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی گرجائےگا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ جنگ سے پہلے کی منصوبہ بندی میں آبنائے ہرمز کی بندش کے مسئلےکا مکمل اندازہ نہیں لگایا گیا تھا چین میزائل کی تیاری میں ایران کی مدد کررہا ہے چین نے میزائل سازی کے کچھ مخصوص پرزے فراہم کیے، لیکن میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا بعض عرب مما لک کی جانب سے ایسے پیغامات مل رہے ہیں جن میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آئندہ 10 برسوں میں اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار سے آزاد کرنا چاہتاہوں میں چاہتا ہوں کہ امریکا کی مالی مدد خاص طور پر فوجی تعاون کے مالی حصےکو صفر تک لایا جائے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم باقی ماندہ فوجی امداد پر انحصار ختم کریں اور امداد کے تعلق کو شراکت داری میں بدل دیں، اسرائیل کو ہر سال تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد ملتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا نے 2018 سے 2028 تک اسرائیل کو مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

  • کرپشن کیسز :نیتن یاہو کو عدالت سے ایک اور مہلت مل گئی

    کرپشن کیسز :نیتن یاہو کو عدالت سے ایک اور مہلت مل گئی

    اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کو کرپشن مقدمات میں سماعت اچانک ملتوی ہونے پر ایک بار پھر عبوری ریلیف مل گیا ہے-

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پیر کے روز عدالت میں نیتن یاہو کے خلاف مقدمات کی سماعت ہونا تھی جس میں انہیں اپنا بیان ریکارڈ کروانا تھا، تاہم عین وقت پر یہ عمل مؤخر کر دیا گیا،یہ فیصلہ نیتن یاہو کے وکیل کی جانب سے رات گئے عدالت کو فراہم کی گئی نئی معلومات کے بعد کیا گیا، لیکن ان تفصیلات کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا عدالت نے اچانک سماعت ملتوی کر دی، جس سے وزیر اعظم کو وقتی طور پر ریلیف مل گیا ہے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو اس وقت تین مختلف کرپشن کیسز کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ مقدمات 2019 سے زیر سماعت ہیں، اس سے قبل بھی کئی مواقع پر ان مقدمات کی سماعت موخر ہوتی رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں سیکیورٹی صورتحال اور جنگی حالات شامل رہے ہیں، حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث بھی عدالتی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔

    واضح رہے کہ نیتن یاہو 28 اپریل کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ان کی پہلی پیشی تھی، ماہرین کے مطابق بار بار سماعت ملتوی ہونے سے مقدمات کے حتمی فیصلے میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔

  • نیتن یاہو کا   چیف آف اسٹاف عہدے سے مستعفیٰ

    نیتن یاہو کا چیف آف اسٹاف عہدے سے مستعفیٰ

    اپنی ہی جماعت اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے ترجمان اور چیف آف اسٹاف زیو اگمون کو عہدے سے ہٹا دیا۔

    زیو اگمون نے مشرقِ وسطیٰ نژاد لیکود ارکانِ پارلیمنٹ کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس منظرِ عام پر آنے کے بعد استعفیٰ کی پیشکش کی تھی اس سے قبل اتوار کی شام نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اگمون معافی مانگ چکے ہیں اور وہ متبادل ملنے تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے، تاہم اس فیصلے پر پارٹی کے اندر سے ہی شدید ردعمل سامنے آیا۔

    دبئی ایئر پورٹ پر حملہ،ڈرون،میزائل پہنچ گئے، دھوئیں کے بادل

    نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا میں نے زیو اگمون کی معافی قبول کر لی ہے ان سے منسوب ریمارکس نہیں کہے جانے چاہیے تھے، اور یہ اچھا ہے کہ انہوں نے واضح طور پر معافی مانگ لی اسرائیل کو اس وقت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جس کے لیے استحکام اور کام کے تسلسل کی ضرورت ہے، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے کبھی اگمون سے نسل پرستانہ بات نہیں سنی۔

    سعودی عرب کا سیٹلائٹ”شمس”کامیابی سے لانچ

  • ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ پر خامنہ ای کو نشانہ بنایا، انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف

    ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ پر خامنہ ای کو نشانہ بنایا، انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف

    ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور آیت اللہ خامنہ ای کو ہدف بنانے کی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والے اہم ٹیلیفونک رابطے کے بعد دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    اس حوالے سے انکشاف برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے سے 48 گھنٹے قبل دونو ں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس کال میں انٹیلیجنس معلومات شیئر کی گئی تھیں، جن کے مطابق خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھی تہران میں ایک مقام پر جمع ہونے والے تھے، جسے ڈی کیپیٹیشن اسٹرائیک یعنی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں موقع قرار دیا گیا تھا۔

    بعد ازاں نئی معلومات سے پتا چلا کہ یہ ملاقات مقررہ وقت سے پہلے ہفتہ کی صبح منتقل کر دی گئی تھی نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا شاید اس سے بہتر موقع دوبارہ نہ ملے اس فون کال سے قبل ہی ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کی اصولی منظوری دے چکے تھے، تاہم وقت اور طریقہ کار کا فیصلہ باقی تھا، بالآخر 27 فروری کو امریکی صدر نے آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا حکم دیا، اور 28 فروری کی صبح ابتدائی حملے کیے گئے، اسی شام ٹرمپ نے خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کردیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اس کال پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، بحریہ اور پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا، جبکہ ٹرمپ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ حملے کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ کارروائی کے پیچھے انتقامی عنصر موجود تھا، ان کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی جس پر انہوں نے اس کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس جون میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات پر حملہ کیا تھا، جس میں کئی ایرانی رہنما مارے گئے تھے، بعد ازاں امریکا بھی اس کارروائی میں شامل ہوگیا تھا اور 12 دن بعد اسے کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد مزید حملوں کی منصوبہ بندی شروع ہوئی، جس کا مقصد ایران کی باقی ماندہ صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔

    دسمبر 2025 میں فلوریڈا میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جون کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد نئے حملے پر غور شروع ہوا تھا اگرچہ ٹرمپ سفارتی حل کے خواہاں تھے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد فوجی آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جانے لگا۔

    جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی امریکی کارروائی نے بھی بڑے فوجی آپریشن کے کم خطرات کا تاثر دیا اسی ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن نے بھی صورتحال کو مزید کشیدہ کردیا تھابعد ازاں امریکا اور اسرائیل کے درمیان خفیہ عسکری مشاورت میں تیزی آئی، جبکہ فروری میں واشنگٹن میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نےایران کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام کو امریکا کے لیے بھی خطرہ قرار دیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 24 فروری کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا اور ایران جوابی کارروائی میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے بعد میں یہ خدشات درست ثابت ہوئے۔

    اس دوران ٹرمپ کو یہ بھی بریف کیا گیا تھا کہ ایرانی قیادت کے خاتمے سے ممکن ہے کہ تہران میں کوئی نئی حکومت مذاکرات پر آمادہ ہو جائے، تاہم سینٹر ل انٹیلیجنس ایجنسی نے اندازہ لگایا تھا کہ خامنہ ای کے بعد سخت گیر قیادت سامنے آئے گی،خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنی ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا،ایرانی پاسداران انقلاب ملک بھر میں گشت کر رہے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد گھروں تک محدود ہے۔

  • نیتن یاہو  زندہ ہیں تو وہ ایران کے اہم اہداف میں شامل ہیں،پاسداران انقلاب

    نیتن یاہو زندہ ہیں تو وہ ایران کے اہم اہداف میں شامل ہیں،پاسداران انقلاب

    ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو زندہ ہیں تو وہ ایران کے اہم اہداف میں شامل ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے نیتن یاہو کو بچوں کا قاتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر حال میں نشانہ بنایا جائے گا اور وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ حالیہ میزائل حملوں کے دوران نیتن یاہو مارے گئے ہیں تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو محفوظ ہیں اور ان کی ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔

  • نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلیوں کے لیے سب سے بڑی آفت بن چکے ہیں،ترک صدر

    نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلیوں کے لیے سب سے بڑی آفت بن چکے ہیں،ترک صدر

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلیوں کے لیے سب سے بڑی آفت بن چکے ہیں۔

    ترک صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث اسرائیلی شہری اپنی راتیں پناہ گاہوں میں گزارنے پر مجبور ہیں،ان کے بقول اب خود اسرائیلی شہری بھی کہہ رہے ہیں کہ نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد سب سے بڑی مصیبت کی علامت بن چکے ہیں، ان کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ صورتحال مزید خراب ہونے سے پہلے خطے میں کشیدگی کو کم کیا جائے۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے،ترکیہ خطے میں امن کے لیے سرگرم ہے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ تنازع کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

    واٹس ایپ نے نیا کنٹرول سسٹم متعارف کرادیا

    سینئر اداکار عاصم بخاری انتقال کرگئے

    اینٹوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ،سرکاری ریٹ پر دستیابی کی استدعا

  • نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ کو بلیک میل کر رہے ہیں،سابق ٕاسرائیلی انٹیلی جنس افسر کا انکشاف

    نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ کو بلیک میل کر رہے ہیں،سابق ٕاسرائیلی انٹیلی جنس افسر کا انکشاف

    ٕاسرائیلی انٹیلی جنس افسر ایری بین میناشے نے تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ کو بلیک میل کر رہے ہیں،ایپسٹین نے موساد کے لیے کام کیا تھا –

    سابق اسرائیلی انٹیلی جنس افسر Ari Ben-Menashe نے الزام لگایا ہے کہ جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک ایک اسرائیلی انٹیلی جنس آپریشن تھا جو امریکی سیاست دانوں کو بلیک میل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملوث کرنا تھا،امریکی حکومت اسرائیلیوں کے جال میں پھنس چکی ہے جیفری ایپسٹین انہیں پھنسانے کے لیے ان کا ایک آلہ تھا۔

    ایری بین میناشے کا دعویٰ ہے کہ Epstein اور Ghislaine Maxwell نے امریکی حکام پر فائدہ اٹھانے کے لیے اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ کام کیا، تجویز پیش کی کہ نیتن یاہو کے پاس "Epstein Files” ہیں جو امریکی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

    اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے جاری، 52 افراد جاں بحق، 154 زخمی

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل ہونے سے روکنا دنیا کے امن کے لیے ضروری تھا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار اور انھیں لے جانے والے میزائل سسٹمز حاصل ہوگئے تو وہ پوری انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن جائے گااسرائیل اسی خطرے کو روکنے کے لیے ایران کے خلاف کارروائی کر رہا ہےہم اپنی حفاظت کے لیے میدان میں آئے ہیں لیکن اس عمل کے ذریعے ہم بہت سے دوسرے ممالک کی بھی حفاظت کر رہے ہیں۔

    خطےکی کشیدہ صورت حال: پاکستان سے مشرق وسطیٰ کی آج بھی سینکڑوں پروازیں منسوخ

    نیتن یاہو نے اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس مہم میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے میں اپنے بہترین دوست اور دنیا کے عظیم رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو دنیا کو محفوظ بنانے کی اس عظیم کوشش میں ہمارے ساتھ ہیں۔