Baaghi TV

Tag: نیٹو

  • نیٹو کا روسی سرحد سے متصل ممالک میں افواج بھیجنے کااعلان:روس کی طرف سے سخت جواب دینے کا پلان

    نیٹو کا روسی سرحد سے متصل ممالک میں افواج بھیجنے کااعلان:روس کی طرف سے سخت جواب دینے کا پلان

    برسلز:نیٹو رہنماؤں نے چار نئے فوجی گروپوں کو سلوواکیہ، ہنگری، رومانیہ اور بلغاریہ میں تعینات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان فوجیوں کی تعداد عام طور پر ایک ہزار سے 13 سو فوجیوں کے درمیان تک ہوتی ہے جبکہ چار دیگر گروپ بالٹک ریاستوں اور پولینڈ میں پہلے سے ہی تعینات ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ جمعرات کو سربراہی اجلاس میں نیٹو رہنماؤں نے یوکرین کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے بچانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے سامان بھیجنے پر رضا مندی بھی ظاہر کی۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ فوجی اتحاد کیمیائی اور جوہری ہتھیاروں کے خلاف اپنے دفاع کو تیز کر رہا ہے کیونکہ روس کے یوکرین میں ایسے ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

    انہوں نے برسلز میں میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اس میں شناخت کرنے کا سامان، تحفظ، اور طبی امداد کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک کرنے اور بحران سے نمٹنے کی تربیت شامل ہو سکتی ہے۔جینز سٹولٹن برگ کے مطابق نیٹو کے 30 اتحادی بھی اپنی تیاریاں بڑھا رہے ہیں۔

    نیٹو ممالک کو تشویش ہے کہ روس کی جانب سے ان پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں پر کام کرنے کا جھوٹا الزام لگانے کی کوشش ماسکو کی طرف سے خود اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کا بہانہ بنانے کی سازش کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ یوکرین پر روسی حملے کے خلاف مزید 65 کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں لگا رہا ہے۔پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں روس کا سب سے بڑا نجی بینک اور ایک خاتون شامل ہیں جس کے حوالے سے برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ روسی وزیر خارجہ کی سوتیلی بیٹی ہیں۔

  • یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    برسلز:یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،اطلاعات کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے ایک ماہ کے دوران روس کے 15 ہزار تک فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں یوکرین میں روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کا موازنہ افغانستان کے ساتھ کیا گیا ہے جہاں 10 سال میں تقریباً 15 ہزار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

     

    نیٹو کے ایک سینیئر فوجی افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ فوجیوں کی ہلاکتوں کا اندازہ یوکرین کے حکام کی جانب سے دی جانے والی اطلاعات پر مبنی ہے۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ ان کے تقریباً 13 سو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یوکرینی صدر روسی حملے کے بعد مسلسل متحرک ہیں اور دنیا کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آج یوکرین کی حمایت میں باہر نکلیں۔

    نیٹو کے فوجی افسر کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ روسی فوجیں اب دارالحکومت کیف میں آگے نہیں بڑھنا نہیں چاہتیں جبکہ کیف کے مشرقی علاقوں میں یوکرین کی فوجوں نے روسی فوج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی فوجوں کی ترجیح ڈونباس کے علاقے لوہانسک، ڈونیسک ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یوکرینی فوجوں کو ان کی طرف بڑھنے سے روکا جائے۔

     

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کو بحیرہ ازوف میں روس کے بحری جہاز بھی متحرک دکھائی دیے ہیں جن کے ذریعے مختلف سامانِ رسد فوجوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔

    نیٹو کے پراپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے روس کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں‌ ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ہزاروں میں نہیں سیکڑوں میں ہوئی ہیں ، مغربی میڈیا جان بوجھ کرحقائق توڑمروڑ کر پیش کررہا ہے

    دوسری جانب مغربی ممالک روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اور قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ برسلز میں آج پہلی بار ایک سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں نیٹو، جی سیون اور یورپی یونین کے رکن ممالک شریک ہوں گے جبکہ امریکی صدد جو بائیڈن بھی اس میں شرکت کریں گے۔

  • نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    کابل:نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان ،اطلاعات کے مطابق طالبان کے نائب ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روسی ماہرین نے روسی ہیلی کاپٹروں کی مرمت پر رضامندی ظاہر کی جو اب طالبان کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے مولوی عبدالکبیر کو اس بابت تجاویز دی تھیں۔

    روسی ماہرین کے ایک وفد نے کابل میں طالبان رہنماؤں سے عسکری ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے بارے میں بات کی ہے۔ 15 مارچ2022 کو طالبان کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ورٹیکل ٹی ایئر کمپنی کے سی ای او ولادی میر سکوریخن اور سمال ہیلی کاپٹر کی مرمت کرنے والی کمپنی کے چیئرمین الیگزینڈر کلاچوف نے ایک بیان جاری کیا کہ انہوں نے طالبان کے نائب وزیر اعظم برائے سیاسی امور مولوی عبدالکبیر سے ملاقات کی۔

    طالبان کے نائب ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روسی ماہرین نے روسی ہیلی کاپٹروں کی مرمت پر رضامندی ظاہر کی جو اب طالبان کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے مولوی عبدالکبیر کو اس بابت تجاویز دی تھیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مولوی عبدالکبیر نے روسی ماہرین کو یقین دلایا کہ افغانستان میں عالمی سلامتی کو یقینی بنایا گیا ہے اور غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ ورٹیکل ٹی ایک روسی فضائی کمپنی ہے جو ہیلی کاپٹر بناتی ہے۔

    یہ کمپنی کئی سالوں سے افغانستان میں سرگرم ہے، جو سابق افغان حکومت کی ملکیت والے روسی ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے متعدد ہیلی کاپٹر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں سمیت بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے چارٹر کیے ہیں اور افغانستان میں کام کرتے ہیں۔

    اگرچہ روسی ماہرین اور طالبان رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ طالبان نے سابق افغان حکومت کے چھوڑے گئے ہیلی کاپٹروں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے روسی حکومت اور اس کی ایئر لائنز کی مدد لی ہے۔

    قبل ازیں طالبان کے وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی نے ازبک حکومت سے مزار شریف میں مولانا جلال الدین ہوائی اڈے کی مرمت کرنے میں مدد کی درخواست کی تھی۔ طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے جنوری کے شروع میں کہا تھا کہ انہوں نے غیر ملکی حکومتوں کی امداد اچھی طرح سے لیس فضائیہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سابق افغان حکومت کے متعدد ماہرین کو بلایا جائے گا۔

    انہوں نے ازبکستان اور تاجکستان کو بھی خبردار کیا کہ وہ جلد از جلد افغان فوجی طیارے اور ہیلی کاپٹر طالبان کے حوالے کر دیں۔ گذشتہ سال 15 اگست کی دوپہر کو افغان فضائیہ کے متعدد پائلٹ اور عملہ 46 ہیلی کاپٹروں اور فوجی طیاروں میں تاجکستان اور ازبکستان کے لیے افغانستان سے روانہ ہوئے تھے۔

    ہیلی کاپٹر اور طیارے تاحال تاجکستان اور ازبکستان میں ہیں اور انہیں طالبان کے حوالے کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ طالبان نے پہلی بار مارچ کے شروع میں پنجشیر میں قومی مزاحمتی محاذ کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا تھا۔ طالبان رہنماؤں نے بارہا سابق افغان حکومت کے پائلٹوں اور فضائیہ کے ماہرین کو تعاون کے لیے مدعو کیا ہے۔

    سابق حکومت کے فوجیوں کی ہلاکتوں اور حالیہ برسوں میں اسلامی تحریک کے خلاف لڑنے والوں کے انتقام نے سابق ​​حکومتی افواج کو طالبان کی زیر قیادت ڈھانچے میں کام جاری رکھنے کی بجائے بیرونی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

    افغان فضائیہ کے کئی افسران اور پائلٹوں کو پچھلی انتظامیہ میں انخلا کے عمل کے دوران امریکہ اور یورپی ممالک میں منتقل کیا گیا تھا، لیکن کئی افغانستان چھوڑنے میں ناکام بھی رہے اور وہ ملک کے اندر خفیہ طور پر رہنے پر مجبور ہیں۔

  • جاپان بھی روس کے خلاف میدان میں‌ آگیا: یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کے سامان فراہمی

    جاپان بھی روس کے خلاف میدان میں‌ آگیا: یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کے سامان فراہمی

    ٹوکیو:جاپان بھی روس کے خلاف میدان میں‌ آگیا: یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کے سامان فراہمی .اطلاعات کے مطابق یوکرین کی مدد کا فیصلہ جاپان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ جاپانی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کو فراہم کی جانے والی اشیامیں ہیلمٹ، سخت سرد موسم کا لباس، خیمے، کیمرے، حفظان صحت کی مصنوعات، ہنگامی غذائی اشیا اورجنریٹر شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان پہلی بار اپنی بُلٹ پروف جیکٹس کسی ملک کو فراہم کرے گا۔حکومتی ترجمان کے مطابق جاپان یوکرین کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے۔

    دوسری طرف یوکرین کے صدر ولادیمر زیلینسکی نے کہا ہے کہ نیٹو نے 50 ٹن ڈیزل دینے کے علاوہ کچھ نہیں دیا، اموات کا ذمے دار نیٹو ہوگا۔

    یوکرین کے صدر کا اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ نیٹو کو معلوم ہے کہ روس ابھی حملے مزید تیز کرے گا ایسی صورت میں جب سب کو معلوم ہے کہ نئے حملے اور اموات ہونگی تو نیٹو کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

    انہوں نے نیٹو کے ارکان پر روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کےلیے ہری جھنڈی دکھانے کا الزام بھی عائد کیا اور یوکرین کو نو فلائی زون قرار دینے کی اپیل کو رد کرنے پر نیٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اس فیصلے کے بعد اب اگر لوگ مارے جائیں گے تو اس کا ذمے دار نیٹو ہوگا۔

    ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازع کے درمیان حال میں ختم ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کو کمزور قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک الجھا ہوا سربراہی اجلاس تھا ایسا سربراہی اجلاس جو ظٓاہر کرتا ہے کہ یورپ میں ہر کوئی جنگ آزادی کو ایک مقصد کے طور پر نہیں دیکھتا۔

    زیلنسکی کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو کے اس رخ سے روس کو یوکرین کے شہروں اور دیہات پر بم باری کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔انہوں نے پولینڈ جانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہیں نہیں گئے اور کیف میں ہی موجود ہیں اور کبھی یوکرین سے فرار نہیں ہونگے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے صدر نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ یوکرین کو نو فلائی زور یعنی ’’وہ علاقہ قرار دیں جہاں سے کسی بھی طیارے کے گزرنے پر پابندی ہوتی ہے‘‘ لیکن نیٹو نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے تیس ممالک پر مشتمل سیاسی و عسکری اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے یوکرین کی نوفلائی زون قرار دینے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

  • روسی پیش قدمی روکنے کے لیے یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے

    روسی پیش قدمی روکنے کے لیے یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے

    برلن :روسی پیش قدمی روکنے کے لیے یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج دسواں روز ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج میں شدید لڑائی جاری ہے۔ جرمنی کی وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یوکرین نے بھاری ہتھیار طلب کیے ہیں جن میں فوجی ٹینک ، آبدوزیں اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مذکورہ ہتھیاروں کا ایک حصہ یوکرین روانہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی گئی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ یورپی یونین کو اُن خامیوں کو دور کرنا ہو گا جن کے ذریعے ماسکو خود پر عائد پابندیوں سے بچ نکل سکتا ہے۔

    دوسری جانب روسی افواج نے مختلف محاذوں پر پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ یوکرین کے حکام نے خارکیف میں شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قریبی پناہ گاہوں کا رخ کریں۔شہر کے مختلف حصوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ہیں۔اور یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ روسی افواج بہت جلد یوکرین کے بڑے حصے پرقبضہ کرلیں گی

    یوکرینی میڈیا کی ویب سائٹوں پر نشر ہونے والے وڈیو کلپوں میں کیف کے زیر انتظام علاقے پوروڈینکا میں عمارتوں کی وسیع پیمانے پر تباہی ظاہر ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں کیف اور بیلا روس کے بیچ ہائی وے پر تباہ شدہ روسی ٹینکوں اور عسکری ساز و سامان کو بھی دیکھا گیا۔

    امریکی ذمے داران نے باور کرایا ہے کہ یوکرین کی فوج کے حملوں اور ناکام منصوبہ بندی نے کیف کی جانب دھیرے دھیرے بڑھنے والے ایک بڑے فوجی قافلے کا راستہ روک دیا۔ادھر روسی فوج میکولایف شہر پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس جگہ سے مستقبل میں اوڈیسا میں چھاتہ برداروں کو اتارے جانے کی کارروائیوں کو سپورٹ کیا جا سکے گا۔

  • روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

    روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

    برسلز:روس فی الفور یوکرین پر حملے روک دے:نیٹو کی گیدڑ بھپکیاں،اطلاعات کے مطابق برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں جنرل سیکریٹری نے یوکرین میں روس کو فوری حملے روکنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔دوسری طرف روس نے نیٹو کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں پرسخت جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے

    برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اجلاس میں تمام نیٹو اتحادی ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یوکرین کی زمینی اور فضائی حدود میں نیٹو افواج داخل نہیں ہوں گی۔

    سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کا کہنا ہےکہ یوکرین میں روسی حملے میں اس سے بھی بدتر گے اور ہم اسے اس کی قیمت ادا کرائیں گے۔اسٹولٹن برگ نے یہ بات بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں کہی۔

    روس کے صدر ولادیمیرپیوٹن سے یوکرین میں فی الفور جنگ فوری طور پر بند کرنے اور غیر مشروط طور پر یوکرین سے اپنی تمام افواج واپس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹولٹن برگ نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں یوکرین میں وسیع پیمانے کی ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ہے۔

    اسٹولٹن برگ نے کہا کہ اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوکرین کی سرزمین یا یوکرین کی فضائی حدود پر نیٹو کی کوئی فوج نہیں ہونی چاہیے۔یہ بتاتے ہوئے کہ نیٹو سفارتی راستے کھلے رکھنے کے لیے اپنا مؤقف برقرار رکھتا ہے، اسٹولٹن برگ نے یوکرین کے تنازع میں نیٹو کی مداخلت پر یورپ میں وسیع پیمانے پر جنگ کے امکان کی طرف توجہ مبذول کرائی۔

    یہ بتاتے ہوئے کہ آنے والے دنوں میں یوکرین کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، اسٹولٹن برگ نے پیوٹن سے سفارتی ذرائع کا سہارا لینے کا مطالبہ کیا۔
    اسٹولٹن برگ نے کہا کہ نیٹو اتحادیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جنگ کو یوکرین سے آگے بڑھنے سے روکیں۔

    اسٹولٹنبرگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یوکرین میں کوئی نو فلائی زون نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی فوجی بھیجے جائیں گے۔جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ یوکرین کو جنگی طیارے فراہم کریں گے؟ کے جواب میں کہا کہ”نیٹو یوکرین کو مختلف قسم کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔

    یہ علم ہے کہ اتحادی ممالک ٹینک شکن ہتھیار اور فضائی دفاعی میزائل فراہم کرتے ہیں، البتہ میں مزید تفصیل میں نہیں جا سکتا۔”

  • رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    کیف :جلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے روس کیخلاف لڑنےکیلئے آنیوالے غیرملکیوں پر سے ویزا پابندی اٹھالی،یوکرین نے روس کے خلاف لڑنےکے لیے یوکرین آنے والے جنگجوؤں پر سے ویزا پابندی ختم کردی۔

    خیال رہےکہ یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے غیر ملکی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے بنائی گئی رضاکاروں کی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شمولیت اختیار کرلیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے حکم نامے کے تحت عارضی طور پر ویزا پابندی اٹھالی ہے ، اس طرح روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کی جدوجہد میں عملی شرکت کے خواہشمند افراد باآسانی یوکرین داخل ہوسکیں گے۔

    یوکرین کی جانب سے یہ سہولت روسی شہریوں کے لیے نہیں ہے اور انہیں حکم نامے میں جارح ملک کے شہری قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کو یوکرین میں داخلے کے لیے اپنا عسکری پس منظر بتانا ہوگا، اس کے علاوہ انہیں اپنا دفاعی فوجی سازوسامان لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے اپنے شہریوں کو یوکرین میں روسی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے بننے والی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ڈنمارک کےشہری روس سے لڑنےکے لیے عالمی بریگیڈ کا حصہ بن سکتے ہیں، یہ آزادی کا معاملہ ہےکوئی بھی اپنی پسند سےفیصلہ کرسکتا ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ آزادی ڈنمارک میں رہنےوالے تمام یوکرینی شہریوں کے ساتھ ساتھ ایسے غیریوکرینی باشندوں کے لیے بھی ہےجو روس کےخلاف جنگ میں براہ راست حصہ لینا چاہتے ہیں۔

  • پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    واشنگٹن: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی نیوکلیئر فورسز کو تیار رہنے کی ہدایت پر نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں روسی نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا روس کے انرجی سیکٹر پر پابندی عائد کرنے پر غور کررہا ہے۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات کھل گئیں

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھومیس گرین فیلڈ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے ایک پروگرام میں کہا کہ پیوٹن کے اقدامات نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے یوکرین اور روس کے مابین مذاکرات کا امریکا خیر مقدم کرتا ہے تاہم روس کا اپنی نیک نیتی کو ثابت کرنا ابھی باقی ہے۔

    دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹنبرگ نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ روس کی جانب سے یہ اقدام خطرے کا حامل ہے اور پیوٹن کا یہ رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

    یوکرین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پیوٹن کا نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ کرنا دراصل مذاکرات سے قبل کیف کو پریشر میں لانا ہے لیکن کیف دباؤ میں آنے والا نہیں۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملک کی جوہری فورسز کو مغربی جارحانہ بیانات کے پیشِ نظر تیار رہنے کے حکم دے دیا ہےنیویارک پوسٹ کے مطابق پیوٹن کی جانب سے روسی نیوکلیئر فورسز کو دی گئی یہ ہدایت روس کے جوہری ہتھیاروں کی لانچنگ کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی مذکورہ بالا ہدایت سے خدشہ ہے کہ روس اور یوکرین کا تنازع ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
    اعلیٰ روسی حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران پوٹن نے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ جنرل اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ جوہری فورسز کا جنگی ذمہ داریوں کے مخصوص نظام میں اندراج کریں۔

    پیوٹن نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ریمارکس میں کہا کہ مغربی ممالک نہ صرف اقتصادی میدان میں ہمارے ملک کے خلاف غیر دوستانہ اقدامات کر رہے ہیں بلکہ نیٹو کے سرکردہ اراکین کے اعلیٰ حکام نے ہمارے ملک کے بارے میں جارحانہ بیانات دیے ہیں۔

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

  • امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    واشنگٹن :امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان،اطلاعات کے مطابق جوں جوں روسی افواج یوکرین کے اندراپنی فتوحات جاری رکھے ہوئےہیں ایسے ایسے امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادیوں کی نیندیں بھی حرام ہوگئی ہیں ، جہاں ایک طرف یوکرین کو جنگ میں جھونکنے والا امریکہ کئی دنوں سے زبانی مدد کا وعدہ کررہا تھا ، وہاں اب امریکہ نے عملی طور پرجنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ،

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ابھی تھوڑی دیر پہلے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے پریس اسٹاف کے ذریعے ایک میمو جاری کیا جس میں انہوں نے کانگریس سے 350 ملین ڈالر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ فوجی امداد بہت ضروری اور فی الفور ملنی چاہیے ۔امریکی صدر کی طرف سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پورے مشرقی یورپی ملک میں رات بھر جاری افراتفری کے درمیان وہ یوکرین کو فوری فوجی مدد فراہم کرنے کے خیال پر قائم ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے جمعہ کی رات کچھ اس سے پہلے کچھ ایسے بھی فیصلے کیئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیڈن نے تنازعہ میں مداخلت کا فیصلہ کیا لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ وہ یوکرین کے ملک کو کس قسم کی فوجی امداد فراہم کرے گا۔ یہ وائٹ ہاؤس کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع ہونے والا پورا میمو ہے: "آئین اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قوانین کے تحت صدر کے طور پر مجھے حاصل کردہ اختیار کی طرف سے،

    یاد رہے کہ پہلے تو جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ریاستہائے متحدہ کے فوجی دستے یوکرین کے ملک میں داخل نہیں ہوں گے۔ تاہم رات بھر کی صورتحال اس کے ہاتھ کو مختلف قسم کی فوجی امداد کی پیشکش پر مجبور کر رہی ہےاور یہ امکان ہے کہ امریکی فوج یوکرین کے صدر اور وزیراعظم کی زندگیوں کو بچانے کےلیے کوئی نہ کوئی آپریشن کریں‌، لیکن دوسری طرف امریکہ کو روس کی طرف سے سخت ردعمل کا بھی ڈر ہے،

    یاد رہے کہ کانگریس یوکرین کو فوجی سازوسامان، مواصلاتی آلات اور دوسری قسم کی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری رقم فراہم کر سکتی ہے جس کی یوکرین کو بطور ملک روس کے خلاف اپنے دفاع کے لیے ضرورت ہو سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ولادیمیر پوٹن اس حملے کے خلاف یہ واضح کارروائی کیسے کریں گے جو وہ مسلسل دو دن سے کر رہے ہیں۔

  • یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    میونخ:یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس نے امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادیوں کو جوہری جنگی مشقیں شروع کرکے ایک وارننگ دی ہے تو دوسری طرف امریکہ ، نیٹو اور دیگر اتحادی بھی مقابلے کے لیے تیار نظرآتےہیں ، ادھر اسی اثنا میں جرمنی میں جاری میونخ سکیورٹی کانفرنس میں امریکا اور نیٹو اتحادیوں نے روس کو اشتعال انگیزی کاذمہ دار قرار دے دیا، غیر معمولی پابندیوں کی دھمکی بھی دے ڈالی، چین نے روس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ماسکو کے خدشات کو دور کرنے پر زور دیا۔

    جرمنی میں میونخ سکیورٹی کانفرنس جاری، یوکرین کا معاملہ زیر بحث آیا تو یوکرین کے صدر کا کہنا تھا کہ کیف ماسکو کے خلاف یورپ کی ڈھال ہے،یوکرین نے8 سال سے دنیا کی بڑی فوج کو روک رکھا ہے، روس کے ہرقسم کے اقدام کے لئے بھرپور تیار ہیں۔

    نیٹو کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ روس مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کی کمی چاہتا ہے مگر اس اشتعال انگیزی سے نیٹو افواج کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے کہا کہ حملے کی صورت میں صرف معاشی پابندیاں ہی نہیں لگیں گی بلکہ نیٹو کے مشرقی دفاع کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

    چینی وزیر خارجہ نے امریکا اور یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا، میونخ کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب میں کہا کہ امریکا اور مغربی ممالک روس کے خدشات کا احترام کریں، کیا نیٹو کے مشرق کی جانب پھیلاؤ سے یورپ میں امن قائم ہو جائے گا۔

    یوکرین کو مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا کام کرنا چاہیے، محاذ کا نہیں میونخ سیکورٹی کانفرنس کی سائڈ لائنز میں جی سیون کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہوا۔

    یوکرین کی مشرقی چیک پوسٹ پر روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی شیلنگ کے بعدحالات مزید کشیدہ ہوگئے، درجنوں راکٹ یوکرینی وزیر داخلہ کے فرنٹ لائن کے دورے کے دوران سو میٹر کی حدود میں گرے۔ روس نے جوہری جنگی مشقوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا، روسی فضائیہ نے جنگی طیاروں سے ہائپر سانک کروز میزائل ہدف پر داغے، وزارت دفاع نے بیلسٹک میزائل بھی فائر کرنے کی ویڈیو جاری کردی۔

    جرمنی اور فرانس نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا کہہ دیا، جرمن ایئر لائن لفتھانسا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اوڈیسا کے لئے پروازیں منسوخ کر دیں۔