وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ہونے والی تقریب میں فائرنگ کے واقعے سے چند گھنٹے قبل دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس رات تقریب ‘تفریحی اور مزاحیہ’ ہوگی اور وہاں ‘شاٹس فائر ہوں گی’۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر کی تقریب سے عین قبل کہا تھا کہ آج رات ہال میں شاٹس فائر ہوں گی اگرچہ ان کا اشارہ صدر ٹرمپ کی کاٹ دار اور تیکھی تقریر کی طرف تھا، لیکن تقریب کے دوران ہونے والے اصل حملے نے ان کے ان الفاظ کو ایک عجیب رنگ دے دیا ہے۔
کیرولین لیوٹ نے امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ آج مقابلے کے لیے تیار ہیں اور ان کی تقریر روایتی ڈونلڈ ٹرمپ اسٹائل میں ہوگی، وہ مزاحیہ اور تفریح سے بھرپور ہوگی اور آج رات ہال میں کچھ گولیاں چلیں گی، اس لیے ہر کسی کو یہ دیکھنا چاہیے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ تقریر کس نے لکھی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس کا کریڈٹ نہیں لے سکتی، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص انداز میں خود قلم اٹھاتے ہیں اور کاغذ پر اپنے خیالات لکھتے ہیں، اس لیے یہ زیادہ تر ان کا اپنا کام ہےابھی تقریب جاری ہی تھی اور صدر ٹرمپ اسٹیج پر موجود تھے کہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے ہال کا سکون برباد کر دیا۔
تقریب سے قبل لارا ٹرمپ نے بھی ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ صدر نے اپنی تقریر کے لیے مزاحیہ لکھاریوں کی مدد لی ہے اور وہ صحافیوں کو طنز کا نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ صدر تقریب میں بھرپور مزاح پیش کریں گے۔
بعد ازاں ہوٹل کی لابی میں، جہاں وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر منعقد ہونا تھا، فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے تیزی اور بہادری سے کام کیا اور صورتحال پر قابو پا لیا۔ ابتدا میں انہوں نے تقریب جاری رکھنے کی تجویز دی تھی تاہم بعد میں سیکیورٹی خدشات کے باعث تقریب منسوخ کر دی گئی۔
واقعے کے بعد واشنگٹن میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام نے فائرنگ کے محرکات اور حملہ آور کے پس منظر کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تفتیشی ادارے مختلف زاویوں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
