Baaghi TV

Tag: وزارت خارجہ

  • اسحاق ڈار سے برطانوی  وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار سے برطانوی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ٹیلی فون پر اس اہم گفتگو کے دوران علاقائی امن و استحکام، سفارتی تعاون اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،برطانوی وزیر خارجہ نے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کی کھل کر تعریف کی۔

    اعلامیے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا،انہوں نے خاص طور پر پاکستان کی کامیاب ثالثی کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ممکن ہوئے،برطانیہ نے اسے عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

    اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک فریقین کے درمیان مذاکرات، سفارت کاری اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں اسی طرح جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے، دونوں رہنما ؤں نے عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور مستقبل میں بھی اعلیٰ سطح کی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا۔

  • ایرانی وزیرِ خارجہ کا کل پاکستان آنے کا امکان

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا کل پاکستان آنے کا امکان

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورۂ پاکستان متوقع ہے، جس کا مقصد پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی خلیجی کشیدگی کے خاتمے اور معاہدے کے حوالے سے یورپی ملک میں ایک تقریب منعقد ہونے کا عندیہ دیا جا چکا ہے اس ممکنہ معاہدے میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں اس یادداشت کو پاکستان کے کردار کی مناسبت سے "اسلام آباد ڈکلیریشن” کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنیوا میں امریکا ایران معاہدہ پاکستان کی موجودگی میں ہو گا امریکا اور ایران کے وفود کی جنیوا میں ملاقات ممکن ہے۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک "شان دار تصفیے” پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور توقع ہے کہ دستخط چند دنوں کے اندر ہو جائیں گے۔

    ٹرمپ نے جمعرات کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک شان دار تصفیے تک پہنچ چکے ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے نائب جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے، امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے معاہدے کے حوالے سے خطے کے رہنماؤں بشمول اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی ہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو با ضابطہ طور پر کھول دیا جائے گایہ معاہدہ ممکنہ طور پر بہت جلد، شاید یورپ میں اگلے ہفتے کے آغاز میں ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کی منظوری دے د ی ہےجس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم ہو جائے گا، جب وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے پو چھا کہ کیا خامنہ ای نے معاہدے کی منظوری دی ہے، تو ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں اس کا جواب ہاں میں ہے۔

    ٹرمپ نے معاہدے کو ایک "انتہائی مضبوط مفاہمت کی یاد داشت” قرار دیا اور کہا کہ یہ کچھ حد تک ابتدائی نوعیت کی ہے، لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مکمل کر لیا جائے گا۔

  • بیرون ممالک جیلوں سے رہا پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات جاری

    بیرون ممالک جیلوں سے رہا پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات جاری

    وزارتِ خارجہ نے بیرون ممالک جیلوں سے رہا پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات جاری کر دی.

    وزارت خارجہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بیرون ممالک کے جیلوں سے رہا ہونے والے شہریوں کی تفصیلات پیش کیں وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ1 سال کے دوران ساڑھے 12 ہزار سے زائد پاکستانی قیدی بیرون ملک جیلوں سے رہا ہوئے جبکہ 21 ہزار 480 تاحال قید ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق بغداد سے سب سے زیادہ 4863، جدہ 1947 پاکستانی قیدی رہا ہوئے اس کے بعد کوالالمپور سے 1650 ، دبئی سے 1899، ریاض سے 863، مسقط سے 371، ماسکو سے 93 پاکستانی رہائی ہوئے، استنبول سے 30، زمبابوےسے 67, نیویارک سے 18 پاکستانی قیدی رہا ہوئے جبکہ ہیرس سے 91، بنکاک سے 16، انقرہ سے 125 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

    وزارت خارجہ نے بتایا کہ 21480 پاکستانی قیدی تا حال بیرون ملک جیلوں میں قید ہیں جن میں سے متحدہ عرب امارات میں 5297 جبکہ سعودی عرب کی جیلوں میں 10 ہزار 745 پاکستانی قید ہیں ترکیہ میں 190، عمان 578، قطر میں 601، ملائیشیا میں 448، بھارت میں 738، یونان میں 516، چین میں 452، بحرین میں 218، جرمنی میں 105 ایران میں 169، امریکہ میں 131 جبکہ عراق میں 81 پاکستانی قید ہیں۔

  • وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ،  وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ، وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    وزارت خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے وزارت خارجہ کو ہدایات جاری کردی ہیں۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ کے سینئر حکام کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ کفایتی اقدا ما ت پر عملدرآمد کا جائزہ لیا، اجلاس میں سرکاری اخراجات میں کمی، مالی نظم و ضبط اور وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اس موقع پر مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، عوامی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور وزارت کے امور کو حکومت کی معاشی ذمہ داری کی پالیسی سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    ایرانی جارحیت سے نمٹنا اولین ترجیح ہے،قطر

    انہوں نے ہدایت کی کہ انتظامی امور کو مزید مؤثر بنایا جائے اور اخراجات کو صرف ناگزیر ضروریات تک محدود رکھا جائے، جبکہ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جائے جہاں سفارتی سرگرمیوں اور قونصلر خدمات کو متاثر کیے بغیر اخراجات میں کمی ممکن ہو۔

    اجلاس میں حکومت کی کفایت شعاری مہم کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے شفاف طرز حکمرانی، ذمہ دارانہ انتظام اور سرکاری فنڈز کے مؤثر استعمال کے عزم کو دہرایا، وزارت خارجہ قومی خارجہ پالیسی کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو بھی یقینی بنائے گی۔

    تیل کی قیمتیں آؤٹ آف کنٹرول !!! جنگ مزید پھیل گئی

  • ایرانی جارحیت سے نمٹنا اولین ترجیح ہے،قطر

    ایرانی جارحیت سے نمٹنا اولین ترجیح ہے،قطر

    قطر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور ایرانی جارحیت سے نمٹنا اس کی اولین ترجیح ہے۔

    قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ کشیدگی کے آغاز سے قطر اور ایران کے درمیان ایک ہی براہ راست رابطہ ہوا ہے جو کشیدگی کےشروع میں قطری وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہوا تھاقطر اور ایران کے درمیان رابطوں کے ذرائع ابھی تک منقطع نہیں ہوئے، موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے پرکوششیں مرکوز کر رکھی ہیں، ہمیں یقین ہےتنازعات کو مذاکرات کےذریعےحل کیا جاسکتا ہے۔

    ماجد الانصاری نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی معذرت سے امید کی کرن ملی تھی، تاہم اس کے بعد قطر یو اے ای اور بحرین پر مزید حملے شروع ہو ئےقطر دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان کی تیاری کر رہا تھا تاہم ایران نے معذرت پر ردعمل کا موقع نہیں دیا، قطر موجودہ جنگ کا فریق نہیں اور اپنا بھرپور دفاع کرنے میں دریغ نہیں کرئے گا، قطر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے مگر آئندہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔

    25 کروڑ لیٹر پیٹرول پاکستان پہنچ گیا،مزید جہاز 13 مارچ پہنچنے کی توقع

    مشرق وسطیٰ جنگ،مصنوعی ذہانت کے ذریعے غلط معلومات پھیلائی جانے لگیں

    افغان طالبان کے ساتھ کوئی امن مذاکرات نہیں،پاکستان کا مؤقف بدستور برقرار

  • ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے، افغان سرزمین پربی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد تنظیموں کےخلاف ٹھوس کارروائی کی جائے-

    سینیٹ اجلاس میں وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان سے متعلق تحریری جواب جمع کروایا گیا وزارت خارجہ کے مطابق بطور پڑوسی پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان نے افغان طالبان رجیم کے ساتھ مستحکم مصروفیت کی پالیسی اپنائی، افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے، افغان سرزمین پربی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد تنظیموں کےخلاف ٹھوس کارروائی کی جائے، افسوسناک ہےکہ افغان رجیم کی جانب سے ہماری کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

    جواب میں لکھا گیا کہ افغان رجیم کے اگست2021میں برسراقتدار آنے کے بعدافغان سرزمین سے کارروائیاں بڑھیں، گزشتہ برس افغانستان سے 5300 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 1200 جانیں ضائع ہوئیں، افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ ہیں، افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں علاقائی اورعالمی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں-

    آذربائیجان کے نخچیوان ائیرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، 2 افراد زخمی

    وزارت خارجہ کے تحریری جواب کے مطابق اکتوبر2025میں افغان رجیم نے ٹی ٹی پی ٹھکانوں سےپاکستان کے خلاف جارحیت کی، ہم اپنی کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں امن اور سفارتکاری کا حامی ہونے کی وجہ سےپاکستان مزیدکشیدگی نہیں چاہتا، ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں، مذاکرات درست راستہ ہے،تنہائی نہیں، پاکستان کی سلامتی اور مختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    سعودیہ اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنےکی بات بھول جائیں، سابق سربراہ سعودی انٹیلی جنس

  • وزیراعظم نے  وزارتِ خارجہ میں 24 اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی منظوری دیدی

    وزیراعظم نے وزارتِ خارجہ میں 24 اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی منظوری دیدی

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ خارجہ میں 24 اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں اقوامِ متحدہ، برطانیہ، افغانستان، یورپ اور دیگر اہم ممالک میں نئی تعیناتیاں شامل ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کو پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں مستقل نمائندہ (جنیوا) مقرر کر دیا گیا ہے ان کی تقرری کو ایک اہم سفارتی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے اس رد و بدل کے تحت کیپٹن (ر) عثمان ٹِیپو کو پاکستان کا نیا ہائی کمشنر برائے برطانیہ نامزد کیا گیا ہے وہ ڈاکٹر فیصل کی جگہ ذمہ داریاں سنبھا لیں گے، جو ستمبر میں متوقع طور پر موجودہ سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس عہدے کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔

    وزیراعظم کی منظوری سے بلال احمد کو جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے مشن سے سعودی عرب تعینات کر دیا گیا احمد فاروق کو واپس اسلام آباد طلب کر لیا گیا جبکہ مدثر ٹِیپو کو ایران سے ازبکستان منتقل کیا گیا جبکہ ڈاکٹر سید اسد علی گیلانی کو پاکستان کے سفیر برائے افغانستان،عبیدالرحمٰن نظامانی کو سفیر برائے سویڈن، سلمان (وز یراعظم آفس سے) کو سفیر برائے جرمنی اور ثانیہ افضل قاضی کو سفیر برائے تھائی لینڈ مقرر کیا گیا ہے،اسی طرح عاصم علی خان کو سفیر برائے نارو ے ،سرا ج احمد خان کو قونصل جنرل، لاس اینجلس ،اسد شہزاد کو سفیر برائے یوگنڈا اور محمد فیصل ابڑو کو قونصل جنرل، مونٹریال تعینات کیا گیا ہے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق خلیل ہاشمی (سفیر برائے چین)، علی جاوید (سفیر برائے اٹلی)، جبکہ عامر آفتاب قریشی (سفیر برائے یونان) کو مدت ملازمت میں توسیع دیدی گئی ہے۔

  • سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت

    سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز بلوچستان میں 31 جنوری کو مختلف مقامات پر ہونے والے ’بزدلانہ اور گھناؤنے دہشت گرد حملوں‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے-

    یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہی گئی، جسے وزارتِ خارجہ نے بھی شیئر کیا بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے ان حملوں کو ’انتہائی قابلِ مذمت‘ قرار دیتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    یہ بیان ہفتے کے اختتام پر بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے مربوط دہشت گرد حملوں کے بعد سامنے آیا منگل کے روز سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران کالعدم عسکری تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 197 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ ان کارروائیوں میں 22 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

    کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے، ار کا نِ سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے بیان میں تمام ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

    سلامتی کونسل نے اس امر کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے تمام اقدامات ناقابلِ جواز اور مجرمانہ ہیں، چاہے ان کا مقصد، وقت، مقام یا مرتکب کوئی بھی ہو، اور ان کے خلاف اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

  • پاکستان اور گھانا کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور گھانا کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور گھانا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے پہلے باضابطہ دوطرفہ سیاسی مشاورتی اجلاس میں 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

    دونوں ممالک کے مابین یہ سیاسی مشاورتی اجلاس 26 جنوری کو گھانا میں منعقد ہوا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے،پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ سفیر حمید اصغر خان نے کی، جبکہ گھانا کی جانب سے وفد کی سربراہی ان کی وزارتِ خارجہ کی چیف ڈائریکٹر سفیر خدیجہ ادریسو نے کی۔

    وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق اس مشاورتی اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، پہلی مفاہمتی یادداشت دوطرفہ سیاسی مشاورتی عمل سے متعلق تھی، جبکہ دوسری مفاہمتی یادداشت اسلام آباد میں قائم فارن سروس اکیڈمی اور گھانا فارن سروس انسٹی ٹیوٹ کے درمیان طے پائی، مذاکرات میں فریقین نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی، سیاحت، ثقافت، صحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دوطرفہ سیاسی مشاورتی مذاکرات کا اگلا دور آئندہ سال اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گابیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور گھانا کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات موجود ہیں،اس ادارہ جاتی مشاورتی عمل کے آغاز سے دونوں ممالک کے درمیان بامقصد اور منصوبہ جاتی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔

  • بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کے بیان پر پاکستان کا سخت ردِعمل

    بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کے بیان پر پاکستان کا سخت ردِعمل

    پاکستان نے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کے ’تاریخ سے بدلہ لینے‘ سے متعلق بیان پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر کے ریمارکس پر مبنی رپورٹس دیکھی گئی ہیں، تاہم اس قسم کی زبان کسی طور حیران کن نہیں،ایسے بیانات دراصل نفرت پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں فرضی تاریخی دشمنیوں کو ذمہ دارانہ سفارت کاری کا متبادل بنایا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بیان بازی نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتی ہے بلکہ امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے، بھارت کی جانب سے نفرت انگیز بیانات اور ماضی کے مبینہ حساب چکانے کی سوچ علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    اجیت ڈوول نے مسلم دشمنی کی انتہا کر دی

    ٹک ٹاک فیفا ورلڈ کپ 2026 کو شائقین کے مزید قریب لانے کیلیے ترجیحی پلیٹ فارم

    ٹک ٹاک فیفا ورلڈ کپ 2026 کو شائقین کے مزید قریب لانے کیلیے ترجیحی پلیٹ فارم