Baaghi TV

Tag: وزارت داخلہ

  • ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

    ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

    ملک میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں کارکردگی رپورٹ تیار کرنے اور پرفارمنس آڈٹ کے لیے 5رکنی اسپیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی گئی ہے،ڈائریکٹر جنرل نیشنل پولیس بیورو کو ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا کنوینیئر مقرر کیا گیا ہے جب کہ ڈائریکٹر پولیس بیورو، جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ،ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ٹی اوسی یونٹ این پی بی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی کارکردگی کیسی رہی اس حوالے سے کمیٹی اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوائے گی۔ کمیٹی ایف آئی اے کا پرفارمنس آڈٹ بھی کرے گی۔ ایف آئی اے نے کتنے مقدمات درج کیے اور کتنے ملزمان پکڑےگئے، کمیٹی تمام امور کا جائزہ لے گی۔کمیٹی میں انسداد انسانی اسمگلنگ ،اینٹی کرپشن، کارپوریٹ کرائم، سائبر کرائم سمیت تمام شعبہ جات کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس حوالے سے وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

    عظیم بلے باز حنیف محمد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

  • وزیر اعظم ہاوس کے بجلی چوروں کے خلاف احکامات کرپٹ افسران نے ہوا میں اڑا دیے

    وزیر اعظم ہاوس کے بجلی چوروں کے خلاف احکامات کرپٹ افسران نے ہوا میں اڑا دیے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، تین ماہ قبل وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے وزارت داخلہ کو ایک خط بھیجا گیا تھا جس میں بجلی چوری میں ملوث افراد اور ان کے سرکاری محکموں میں موجود سہولتکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس خط میں ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر سرفراز خان ورک کا نام بھی شامل تھا، جبکہ دیگر کرپٹ افسران اور بجلی چوروں کے نام بھی اس لسٹ میں شامل تھے۔


    یہ خط 13 ستمبر 2024 کو وزارت داخلہ کو ارسال کیا گیا تھا، تاہم تین ماہ گزرنے کے باوجود ان بجلی چوروں اور کرپٹ افسران کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی۔ رپورٹ کے مطابق، وزارت داخلہ کے افسران نے دانستہ طور پر لیسکو میں موجود بجلی چوروں کے خلاف کاروائی روک رکھی ہے۔


    یہ بات خاص طور پر تشویش کا باعث ہے کہ جب ملک بھر میں عوام اور مختلف محکموں کے خلاف بجلی چوری کے مقدمات درج ہو رہے ہیں اور ان کے خلاف گرفتاریوں اور جرمانوں کا عمل جاری ہے، لیکن سرکاری افسران اور بجلی چوروں کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف عوام کو بھاری بلز کا سامنا ہے بلکہ ملکی خزانے کو بھی مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔


    وزیر اعظم ہاؤس اور وزارت داخلہ کی بے بسی اس بات کا غماز ہے کہ سرکاری افسران کا گٹھ جوڑ عوامی مفاد کے خلاف کام کر رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو فوری طور پر ان کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے تاکہ بجلی چوری اور سرکاری افسران کی کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے۔

  • 5 سالوں کے دوران 71 ہزار 849 شناختی کارڈز بلاک

    5 سالوں کے دوران 71 ہزار 849 شناختی کارڈز بلاک

    گزشتہ 5 سالوں کے دوران بلاک کئے گئے شناختی کارڈز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہیں۔

    وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ 5 سالوں میں کل 71 ہزار 849 شناختی کارڈز بلاک کئے گئے، رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 25 ہزار 981 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔پنجاب میں 13 ہزار سے زائد،بلوچستان میں 20 ہزار 583 اورسندھ میں 9 ہزار 677 شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ہیں۔اسی طرح اسلام آباد 1370، گلگت بلتستان 228 اور آزاد کشمیر میں 446 شناختی کارڈز بلاک کئے گئے،گزشتہ 5 سال میں 44 ہزار 460 شناختی کارڈز ضروری تصدیق کے بعد ان بلاک کئے گئے۔وزارت داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ ابھی تک 13 ہزار 618 بلاک شناختی کارڈ زیر تفتیش ہیں۔واضح رہے کہ نادرا میں کچھ اہلکار غیر قانونی طور پر غیر ملکیوں کو پاکستانی کارڈ بنانے کے دھندے میں ملوث پائے جا چکے ہیں جن کو فوری ملازمت سے برخواست کرکے انکوائری کی جا رہی ہے.

    کراچی، زہریلا دودھ پلانے کے الزام میں 5 ملزمان گرفتار

    پی آئی اے خریدنے کا خواہشمند نیوز چینل مالی بحران کا شکار

  • کراچی میں دو نئے پاسپورٹ آفس قائم

    کراچی میں دو نئے پاسپورٹ آفس قائم

    وفاقی وزارت داخلہ نے کراچی میں پاسپورٹ کی سہولت کے لیے بڑا اقدام اٹھایا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ضلع وسطی اور غربی میں نئے پاسپورٹ آفس قائم کر دیے گئے، جس کا افتتاح آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے پاسپورٹ آفس نادرا میگا سینٹر ناظم آباد اور سیمنز چورنگی سائٹ میں قائم کیے گئے ہیں۔نادرا میگا سینٹرز ناظم آباد اور سائٹ میں ہی پاسپورٹ پراسیسنگ کاؤنٹرز بنائے گئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ناظم آباد اور سائٹ نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ کاؤنٹرز 24 گھنٹے سہولت فراہم کریں گے۔واضح رہے کہ سال 2024 میں بڑی تعداد میں پاسپورٹ بنوانے والوں کے رش سے شدید مشکلات کا سامنا تھا جس کے باعث پاسپورٹ حکام نئی مشنری کے ساتھ ساتھ دفاتر کی تعدادا کو بھی بڑھا رہے ہیں.

    کراچی کی پہلی میراتھون پشاور کے اسرار خٹک نے جیت لی

    کیپ ٹاؤن ٹیسٹ، پاکستانی ٹیم فالو آن کا شکار

    کراچی، 2024ء میں پکڑے گئے ہزاروں اسٹریٹ کرمنلز باعزت بری

  • فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    وزارتِ داخلہ کی جناب سے بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا، پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اورغیرملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پرآئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی۔ منتشرکرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔پولیس اور رینجرزنے اس پرتشدد ہجوم کو منتشرکرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا۔ مظاہرین کےعلاقے سے فرارکے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی۔ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے۔ پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے بڑے اسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی۔ من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے غیرملکی میڈیا کے بعض عناصربھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں .اعلامیے کے مطابق پولیس آفیشلز اورکمشنر اسلام آباد نے باربار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے۔وزارتِ داخلہ نے اعلامیے میں کہا کہ اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا۔ پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں۔جیل وینزکو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سیکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔ ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے۔پاکستان بشمول خیبر پختونخوا کے قابل فخرعوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں، پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے ساتھ یکجا کھڑی ہے۔

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں کارروائیاں، 8 خارجی دہشتگرد ہلاک

    چین کا تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر شدید ردعمل

    کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

  • اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اسلام آباد: وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو امن و امان ہر قیمت پر قائم رکھنے کی ہدایت کی،ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ امن و امان کے حوالے سے پی ٹی ائی قیادت سے رابطہ کریں بیلاروس کے صدر اور اعلی سطحی چینی وفد کے دورے کے پیش نظر پی ٹی آئی کومتعدد بار احتجاج موخر کرنے کا کہا گیا،پی ٹی آئی کے احتجاج جاری رکھنے کی ضد پر انہیں سنگجانی مقام کی تجویز دی گئی۔

    مظاہرین نے سنگجانی کے بجائے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہو کر قانون کی خلاف ورزی کی، پر تشدد مظاہرین نے پشاور تا ریڈ زون تک مارچ کے دوران ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا،مظاہرین نے اسلحہ بشمول سٹیل سلنگ شاٹس، سٹین گرنیڈ، آنسو گیس شیل اور کیل جڑی لاٹھیوں وغیرہ کا استعمال کیا۔پر تشدد احتجاج میں خیبر پختونخواہ حکومت کے وسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے پرتشدد احتجاج میں تربیت یافتہ شر پسند اور غیر قانونی افغان شہری بھی شامل تھےیہ سخت گیر 1500 شرپسند براہ راست مفرور اشتہاری مراد سعید کے ماتحت سرگرم تھےجو خود بھی ہمراہ تھااس گروہ نے عسکریت پسندانہ حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پر تشدد مظاہرین کے ساتھ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا۔

    اسلام آباد میں چیک پوسٹ پر ڈیوٹی پر متعین تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی چڑھا کر شہید کیا گیا پر تشدد مظاہرین نے ایک پولیس اہلکار کو بھی شہید کیا شر پسندوں کے ہاتھوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 232 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔پرتشدد مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور پولیس کی متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگائی، آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا

    پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اور غیر ملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پر آئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا پولیس اور رینجرز نے اس پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا –

    واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی منتشر کرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔

    مظاہرین کے علاقے سے فرار کے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی، پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے،پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنےکی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی، من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے بد قسمتی سے غیر ملکی میڈیا کے بعض عناصر بھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں۔

    وزراء، حکومتی اہلکار، پولیس آفیشلز اور کمشنر اسلام آباد نے بار بار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے، اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔

    وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا، پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں، پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں،جیل وینز کو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سینکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔

    ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے، پاکستان بشمول خیبر پختونخواہ کے قابل فخر عوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں، عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں۔۔۔پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے لئے اپنے اداروں کیساتھ یکجا کھڑی ہے۔

  • 24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ نےسخت ترین اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے

    وفاقی دارالحکومت میں ڈپٹی کمشنر نے احتجاج کے پیش نظر 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے متعلقہ سکیورٹی اداروں کو مکمل تیاری کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، شر پسندی میں ملوث افراد کیخلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں تمام سرکاری اور اہم عمارتوں کی سکیورٹی کیلئے سخت ترین حفاظتی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے وزارت داخلہ نے جڑواں شہروں میں سکیورٹی کیلئے بھاری نفری تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے

    وفاقی دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں افغان مہاجرین کیمپوں کی جیو فنسنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے احتجاج کے دوران شر پسندی کرنے والے طالب علموں کی تعلیمی اسناد اور داخلے منسوخ کرنے کے فیصلے پر غورکیاگیا،احتجاج میں شامل شر پسند افراد کے پاسپورٹ ، شناختی کارڈ منسوخ اور سم بلاک کرنے کا بھی فیصلہ زیر غورآیا، دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمنٹے کیلئے مشکوک مقامات کی نگرانی شروع کر دی گئی ہے،

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • وزارت داخلہ نے علی گنڈاپور کی گرفتاری کی خبریں بے بنیاد قرار دے دیں

    وزارت داخلہ نے علی گنڈاپور کی گرفتاری کی خبریں بے بنیاد قرار دے دیں

    وزارت داخلہ کے ذرائع نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے متعلق گرفتاری اور حراست میں لیے جانے کی خبروں کو بے بنیاد افواہیں قرار دیا ہے۔

    ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق علی امین گنڈاپور کو نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی حراست میں لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی اسلام آباد میں گرفتاری سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی طرف سے گولی چلانےکی خبریں بالکل بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کا پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، پشاور سے لے کر اسلام آباد تک کہیں بھی کسی قسم کی کوئی فائرنگ نہیں کی گئی۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ رینجرز کی طرف سے کے پی کے ہاؤس کو حصار میں لینے کی خبریں بے بنیاد ہیں، آرٹیکل 245 کے تحت کل رات سے سیکیورٹی فورسز اسلام آباد اور گرد و نواح میں تعینات ہیں۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل مستعدی سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، چند عناصر مذموم سیاسی مقاصد کیلئے سیکیورٹی فورسز سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو حراست میں لیے جانے کی متضاد اطلاعات سامنے آئیں تھیں، سرکاری ذرائع گرفتاری کی خبر کو غلط قرار دیتے رہے ہیں۔دوسری طرف پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے خیبر پختونخوا اسلام آباد پہنچی تو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا۔

    علی گنڈاپور سمیت شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی، محسن نقوی

    پی ٹی آئی کارکن ڈی چوک پہنچ گئے، منتشر کرنے کیلئے پولیس کی شیلنگ

  • وزارت داخلہ میں ڈپٹی سیکرٹری ویزہ کی تقرری کر دی گئی

    وزارت داخلہ میں ڈپٹی سیکرٹری ویزہ کی تقرری کر دی گئی

    وزارت داخلہ کے اندر ایک حالیہ پیشرفت میں محکمانہ ڈھانچے اور اہم تقرریوں میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سطح پر جاری چیلنجوں کی روشنی میں ویزا سے متعلق امور کے انتظام کو مضبوط بنانا ہے۔

    وزارت داخلہ نے مجاز اتھارٹی کی منظوری سے شیریں حنا اصغر کو کرنٹ چارج کی بنیاد پر ڈپٹی سیکرٹری (ویزا) کے طور پر باضابطہ طور پر تعینات کر دیا ہے۔ یہ تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہے اور تین ماہ کی مدت کے لیے یا اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ کسی باقاعدہ عہدے دار کی تقرری نہ ہو، وزارت کے سیکشن آفیسر (ایڈ ایم این-1) عمران اصغر کی طرف سے جاری کردہ آفس آرڈر نمبر F.4/3/2024-Admn-l کے ذریعے تقرری کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ یہ فیصلہ ویزا پروسیسنگ اور انتظام کو موثر اور محفوظ رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے،

    ایک متعلقہ اقدام میں، وزارت نے بارڈر مینجمنٹ ونگ کے تحت ڈپٹی سیکرٹری (پی ای) کا عہدہ بھی ڈپٹی سیکرٹری (ویزا) کو دوبارہ نامزد کیا ہے۔ یہ تبدیلی وزارت کی ابھرتی ہوئی ضروریات اور ویزا سے متعلق معاملات پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔ دوبارہ عہدہ آفس آرڈر نمبر 1/4/2017-Admn-l، عمران اصغر، سیکشن آفیسر (Admn-1) کے دستخط کے ذریعے باضابطہ کیا گیا۔ اس دوبارہ عہدہ کو بارڈر مینجمنٹ ونگ کے اندر کارروائیوں کو ہموار کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ویزا کے مسائل کو انتہائی ترجیح کے ساتھ حل کیا جائے۔ ڈپٹی سیکرٹری (ویزا) اب ویزا پالیسیوں کی نگرانی، غیر ملکی مشنوں کے ساتھ ہم آہنگی اور ویزا کے اجراء کے عمل کی دیانتداری کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    یہ تبدیلیاں وزارت داخلہ کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے داخلے اور اخراج کو منظم کرنے میں اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ وزارت نے ہموار منتقلی کی اہمیت اور قومی سلامتی اور انتظامی کارکردگی پر مسلسل توجہ مرکوز کرتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں اور حکام کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا کی متحرک قیادت میں، ان پیش رفتوں سے ویزا مینجمنٹ کے عمل میں مثبت تبدیلیاں آنے کی توقع ہے، ویزا سیکشن کی کارکردگی کو بہتر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا گیا ہے

    رپورٹ، زبیر قصوری، اسلام آباد

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • وزارت داخلہ نے اہم تقرریوں اور تبادلوں کا اعلان کر دیا

    وزارت داخلہ نے اہم تقرریوں اور تبادلوں کا اعلان کر دیا

    وزارت داخلہ نے اہم تقرریوں اور تبادلوں کا اعلان کر دیا،
    وزارت داخلہ نے درج ذیل تقرریوں اور تبادلوں کا اعلان کرتے ہوئے آفس آرڈر جاری کیا ہے۔ طاہر شہباز، سیکشن آفیسر (ایڈمن-III)، ایڈمن-II سیکشن کی اضافی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ساجد خان، سیکشن آفیسر (BS-18)، جو داخلی نااہلیوں، اور بدانتظامی کو بے نقاب کرنے اور ان سے نمٹنے میں ایک محرک رہے ہیں، اور انہوں نے بڑے پیمانے پر اصلاحات اور جوابدہی کے کلچر کی ضرورت کو آگے بڑھایا ہے، کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ انہیں سیکشن آفیسر (FATF) کے ڈپٹی سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے، آغا حشر، سیکشن آفیسر (BS-17) نے بطور ایس او (ویزا) جوائن کیا ہے۔ عاصم حسین قریشی، سیکشن آفیسر (BS-17) نے SO (IC) کے طور پر شمولیت اختیار کی ہے۔

    یہ تعیناتیاں اور تبادلے سیکرٹری وزارت داخلہ کی منظوری سے کیے گئے ہیں۔ آفس آرڈر متعلقہ حکام کو تقسیم کر دیا گیا ہے، اس پیش رفت سے وزارت کے انتظامی ڈھانچے اور کاموں میں اہم تبدیلیاں آنے کی امید ہے۔

    رپورٹ، زبیر قصوری،اسلام آباد