Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • ملکی ترقی میں نجی شعبے اور صنعت کا کردار انتہائی اہم ہے،وزیراعظم

    ملکی ترقی میں نجی شعبے اور صنعت کا کردار انتہائی اہم ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت تجارت کے شعبے سے متعلق اہم جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں شرکا کو بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ خلیجی ممالک سے آزادانہ تجارتی معاہدے سے متعلق بات چیت حتمی مراحل میں ہے، ازبکستان اور تاجکستان سے تجارت کے معاہدے فعال ہوچکے ہیں،حالیہ پاک سعودی بزنس کانفرنس میں 450 بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں ہوئیں جبکہ ای کامرس کے حجم میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، پاکستان ٹریڈ پورٹل پر 3 ہزار سے زائد کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے،افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں نگرانی کا عمل سخت کیا گیا ہے، پبلک سیکٹر انشورنس کمپنیز کے پریمئم گروتھ ڈبل ڈیجٹ میں ہیں، جیم ایکسپورٹ فریم ورک پر کام حتمی مراحل میں ہے ، ایران اور روس سے بارٹر ٹریڈ کی آپریشنلائیزین سے متعلق دونوں ممالک نے اصولی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملکی برآمدات کو مزید مسابقتی بنانے سے متعلق فوری اقدامات کیے جائیں، غیر روایتی اشیاء کی برآمدات سے متعلق اقدامات کیے جائیں، تجارت اور کاروبار میں نجی شعبے سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے، ملکی ترقی میں نجی شعبے اور صنعت کا کردار انتہائی اہم ہے

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

  • وزیراعظم سے قطری وزیر خارجہ کی ملاقات

    وزیراعظم سے قطری وزیر خارجہ کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عزت مآب ڈاکٹر محمد بن عبدالعزیز الخلیفی نے آج وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

    قطری وزیر مملکت برائے خارجہ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تاریخی، دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے بہترین تعلقات کو باہمی طور پر فائدہ مند اور مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھنا چاہیے۔ وزیراعظم نے قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی (کیو آئی اے) کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ قطر پاکستان میں ترجیحی شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو بڑھائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی اور تمام تر سہولیات فراہم کرے گی۔وزیر اعظم نے قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی اور وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    قطری وزیر مملکت نے اپنے استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں قطر کی قیادت کا خصوصی پیغام پہنچایا اور قطر اور پاکستان کے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

    قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے خصوصی ایلچی کے طور پر پاکستان کے ایک روزہ دورے پر ہیں۔ قبل ازیں قطر کے وزیر مملکت خارجہ امور ڈاکٹر محمد بن عبدالعزیز الخلیفی وزارت خارجہ پہنچ گئے۔ وزارت خارجہ پہنچنے پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور کا استقبال کیا۔

    9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

  • ازبکستان کے وزیرِ خارجہ کی شہباز شریف کو ازبکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت

    ازبکستان کے وزیرِ خارجہ کی شہباز شریف کو ازبکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے آج ازبکستان کے وزیرِ خارجہ عزت مآب بختیار سیدوف کی ملاقات ہوئی۔

    وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر دوسری مرتبہ منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے ازبک وزیر خارجہ نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کی طرف سے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو جلد از جلد ازبکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ملاقات میں دونوں رہنماوں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت، معیشت، سیکورٹی، دفاع، سماجی روابط اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں افغانستان میں دیر پا امن اور ترقی کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے ازبکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور دیگر منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ازبکستان کو پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے باہمی مشاورت سے ایک مؤثر لائحہ عمل تشکیل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ازبکستان – افغانستان – پاکستان ریلوے منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی جلد تکمیل کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    عمران خان سے ملنے اب اڈیالہ نہیں آؤنگا،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

  • وفاقی کابینہ اجلاس، ایئر سیال کو   برطانیہ سمیت کئی ممالک میں  آپریشنز   کی منظوری

    وفاقی کابینہ اجلاس، ایئر سیال کو برطانیہ سمیت کئی ممالک میں آپریشنز کی منظوری

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
    وزیراعظم نے اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی سرمایہ کار وفد کی پاکستان آمد سعودی عرب اور پاکستان کے معاشی تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے اس دورے کو کامیاب بنانے کے حوالے سے وفاقی وزراء، افسران اور اسٹاف کی کارکردگی کو سراہا۔وفاقی کابینہ نے وزارت ہوا بازی کی سفارش پر ائیر سیال کو چین، ملائشیا ، سری لنکا ، تھائی لینڈ، ترکیہ ، برطانیہ اور کویت میں فلائیٹ آپریشنز شروع کرنے کی منظوری دے دی. یہ منظور ی نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2023 اور ائیر سروسز ایگریمنٹ کے تحت دی گئی ہے.

    وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش پر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور کنگڈم آف کولمبیا کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر ڈائیریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن کو وفاقی وزارت انسانی حقوق سے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے چینی سرمایہ کاری منصوبہ جات کی 30 اپریل 2024 کو ہوئے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔

  • ایف بی آر کے قابل افسران پر مجھے نہیں پوری قوم کو فخر ہے،وزیراعظم

    ایف بی آر کے قابل افسران پر مجھے نہیں پوری قوم کو فخر ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس وصولی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران کے کام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اچھے افسران کو انعام دیں گے لیکن کرپٹ عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائےگا۔

    باغی ٹی وی : فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے افسران کو اعزازات دیئے جانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا عظم نے کہا کہ آج میرے لیے خوشی کا موقع ہے، آپ نے اپنے فرض کی ادائیگی کی، ایف بی آر کے قابل افسران پر مجھے نہیں پوری قوم کو فخر ہے،پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، ہمسایہ ممالک ہم سے بہت آگے ہیں، ان میں سے ایک سرمایے کی وصولی ہے، یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے، پاکستان کا واجب الادا حجم بہت زیادہ ہے، اسی طرح سالانہ واجبات کی وصولویوں کا ہدف ایک اندازے کے مطابق 3 یا 4 گنا زیادہ جو خزانے میں آنا چاہیے تھیں وہ کرپشن، فراڈ، لالچ اور حرص کے نذر ہو رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم قرضے لینے، آئی ایم ایف کے پروگرام کرنے پر مجبور ہیں۔

    اوچ شریف: محنت کش کے گھرکے باہر باندھی بکریوں پر آوارہ کتوں کاحملہ، 7 قیمتی …

    وزیراعظم نے ایف بی آر کے قابل افسران کیلئے 10، 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا اور کہا کہ جن کی کارکردگی خراب ہے انہیں اب کوئی موقع نہیں دیا جائے گا، انہیں اجازت نہیں دی جائے گی کہ ایسے عہدے سنبھالیں جن کے نیچے کرپشن کے سمندر بہہ رہے ہوں، انصاف یہ نہیں دیکھتا کہ یہ کالا ہے یا گورا، انصاف کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے، میں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ایف بی آر میں اور دیگر وفاقی محکموں میں میرٹ کی بنیاد پر عہدے دیئے جائیں گے، میں نے آج اپنا وعدہ پورا کردیا ہے، آج آپ کو میرٹ کی بنیاد پر شیلڈ دی گئی ہیں،ایسا نہ ہو حکومت اپنے دور مکمل کرے تو آپ پرانی چال پر واپس آجائیں۔

    گوجرانوالہ:محکمہ ماحولیات کی آلودگی پھیلانے والے بھٹوں کیخلاف کارروائی،دو بھٹے سیل

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 27 سو ارب روپے کے کلیمز ہیں، یہ پیسے پھنسے ہوئے ہیں، یہ کیسز ٹریبونلز میں زیرالتوا ہیں، ٹریبونلزممبرز کام کریں گے تو عزت دیں گے، ورنہ وہ گھر جائیں، کافی پئیں اور اپنے بچوں کے ساتھ گپ ماریں،پاکستان کے حصول کیلئے ماؤں بہنوں کے آنچل پھٹے، اب فیصلہ کن گھڑی آچکی ہے، ہم سب سیاستدانوں، اداروں اور بیوروکریٹس نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو سب مل کر اس کا کھویا ہوا مقام دلائیں گے مارکیٹ سے وکلا لیں اور اگر آدھے بھی پیسے مل جائیں تو بہتری آئے گی، لاکھوں بچوں کوتعلیم ملے گی، ہم سے چبھتے ہوئے سوالات پوچھے جاتے ہیں، ساڑھے 7 سو ارب کے سیلز ٹیکس ہڑپ کیے جاچکے ہیں، اگر غلطی ہوئی ہے تو اسے ٹھیک کرنا میرا فرض ہے۔

    گندم درآمدسیکنڈل،ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے، وزیراعظم

  • گندم درآمدسیکنڈل،ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے، وزیراعظم

    گندم درآمدسیکنڈل،ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے، وزیراعظم

    گندم درآمد سکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے، وزیراعظم نے سیکرٹری کابینہ کو نگران حکومت میں گندم کی درآمد کی ہر لحاظ سے مکمل شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا،وزیراعظم شہباز شریف نے دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات کو سامنے رکھ کر سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ،وزیراعظم نے سیکرٹری کابینہ کو پیر تک حتمی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت بھی کی ،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مجھے ذمہ داروں کا واضح تعین کرکے بتایا جائے کوئی لگی لپٹی مت رکھیں۔

    سیکرٹری کابینہ کی سربراہی میں دوسری انکوائری کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔ کمیٹی آج چھٹی کے باوجود بھی پہلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی۔

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    قبل ازیں گندم بحران کو لے کر مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی اور سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ایک دوسرےپر الزامات کی بھر مار کر دی،دونوں کے درمیان گندم اسکینڈل پر تلخ کلامی ہوئی۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ایک نجی ہوٹل میں ہوئی اور ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے۔انوارالحق کاکڑ نے حنیف عباسی سے کہا کہ گندم معاملے پر آپ نے ہم پر انگلی اٹھائی ہے کیا گرفتار کرنے آئے ہیں؟ جس پر حنیف عباسی نے کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں آپ چور ہو اور گندم اسکینڈل میں پیسےکھائےہیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ میں نے پروگرام میں جو بھی گفتگو کی وہ بالکل درست تھی۔ جواب میں انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ فارم 47 پر بات کی تو آپ اور ن لیگ کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملےگی۔

    دوسری جانب وزیراعظم آفس کو اعلی متعلقہ حکام نے گندم کے حوالہ سے بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ نگراں حکومت کے دور میں وزارت خزانہ کی سفارش پر نجی شعبے کو مقررہ حد کی بجائے کھلی چھوٹ دی گئی ،گندم کے ٹریڈرزنے اربوں روپے کا کھیل کھیلا،کسٹم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی چھوٹ بھی دی گئی، نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کی منظوری ملنے کے بعد وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے سمری ارسال کی ۔وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے وزارت تجارت اور ٹی سی پی کی اہم تجاویز کو نظرانداز کیا ،منظم منصوبے کے تحت اضافی گندم درآمد ہوئی جس سے 300 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا پاسکو اور صوبائی محکمے مطلوبہ ہدف 7.80 کی بجائے 5.87 ملین ٹن گندم خرید سکے 28.18 ملین ٹن گندم پیدا ہوئی،2.45 ملین ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

    تحریک انصاف کے رہنما عون عباسی کا کہنا ہے کہ جب نگران حکومت نے گندم امپورٹ کی اجازت دی تب حکومت کے پاس 48، پرائیوٹ سیکٹر کے پاس 65 لاکھ ٹن گندم موجود تھی، 22 اکتوبر 2023 کو گندم امپورٹ کی اجازت ملی، 1 نومبر کو پہلا، 5 نومبر کو دوسرا اور تیسرا جہاز کراچی پہنچ گیا جبکہ یوکرین سے گندم امپورٹ میں 25 دن لگتے ہیں۔ جب پرائیوٹ سیکٹر کی یوکرین سے گندم 2900 میں آئی تب پنجاب حکومت نے اپنی گندم 4600 سے کم میں بیچنے سے انکار کر دیا اور پھر کسی ایک شخص کی 2900 میں آئی گندم 4 ہزار سے 4200 میں مارکیٹ میں بکی، اسکے علاوہ مارچ، اپریل 2024 میں بھی 10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ ہوئی ہے۔ نگران اور پی ڈی ایم حکومتوں نے systematically کسان کو تباہ حال کیا ہے۔ ن لیگ کی حکومت سوائےاپنے منظور نظروں کے کسی کو باردانہ تک نہیں دے رہی۔ نگران سیٹ اپ اور بالخصوص موجودہ حکومت گندم کے بحران کے ذمےداران ہیں،

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور افواہوں کا تدارک ضروری ہے،وزیر اطلاعات

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور افواہوں کا تدارک ضروری ہے،وزیر اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور افواہوں کا تدارک ضروری ہے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لئے کام ضروری ہے.وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب انتہائی کامیاب دورہ رہا،سعودی کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد پاکستان آ رہا ہے، دہائیوں میں اتنا کامیاب دورہ سعودی عرب کا نہیں دیکھا گیا. سعودی وزراءکے ساتھ میٹنگز کا سلسلہ دو دن جاری رہا. دو دن میں سعودی عرب کے وزراءاور اہم شخصیات سے 12 اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے. تمام افراد نے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا. ایک ماہ کے اندر وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے دو ملاقاتیں ہوئیں. عید کے فوری بعد سعودی وزیر خزانہ اپنے متعلقہ وزراءکے ساتھ پاکستان آئے اور یہاں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت ہوئی. حالیہ دورہ سعودی عرب کے بعد اگلے چند روز میں سعودی کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد پاکستان آ رہا ہے. سعودی ولی عہد کی ہدایت پر سعودی وزراءنے پاکستان کے لئے جامع پروگرام مرتب کیا. پاک سعودی تعلقات کے اندر ایک نیا آغاز ہے. وزیراعظم کے تاریخی دورہ کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں. اگلے چند روز میں سعودی عرب کا اعلیٰ اختیاراتی وفد پاکستان آ رہا ہے. یہ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے. وفود کے تبادلوں کا سلسلہ جاری رہے گا.

    وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر آن لائن ہراسمنٹ اور فیک نیوز کے حوالے سے ایک مہم دیکھنے میں آئی. ایسی مہمات کے حوالے سے حکومت کو تجاویز دی جائیں. آن لائن سمیت ہر قسم کی ہراسمنٹ کا خاتمہ ضروری ہے. آن لائن ہراسمنٹ کے تدارک کے لئے عوام مخصوص اتھارٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں. ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لئے اس وقت کوئی قانون موجود نہیں. ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لئے کام ضروری ہے. سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور افواہوں کا تدارک ضروری ہے. سوشل میڈیا پر ٹرینڈز کی روک تھام کے لئے اقدامات ضروری ہیں. ڈیجیٹل رائٹس کو سمجھنے کے لئے عوام کو آگاہی دینا ہوگی،

    وزیراعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کا بیڑا اٹھایا ہے، وزیر قانون
    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں تبادلوں پر بہت شور مچا ہے، پوسٹنگ ٹرانسفر میرٹ پر کی جا رہی ہے،اس ساری کارروائی میں مقصد کسی کو کرپٹ ثابت کرنا نہیں،وزیراعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کا بیڑا اٹھایا، ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور انوائسنگ کے مسائل ہیں، 2700 ارب روپے سے زائد ٹیکس کیسز عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں، عدالتوں میں زیر التوا ٹیکس سے متعلق کیسوں کے فوری فیصلے ہونے چاہئیں ، پارلیمنٹ نے ٹیکس ٹربیونل سے متعلق پہلا قانون پاس کیا ہے، قانون کے تحت 2 کروڑ والے معاملے کمشنر کے پاس جائیں گے، دو کروڑ روپے سے اوپر کے معاملات ٹربیونل میں جائیں گے،آئی ایم ایف ٹیکس چوری روکنے کا کہتا ہے، آئی ایم ایف کہتا ہے محکموں کی گورننس بہتر کریں

    دوسری جانب حکومت نے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے،اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم نے دونوں وفاقی وزراء سے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ پر بل لانے سے متعلق مشاورت کی، ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون سازی کے لیے مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، بل جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ڈیجیٹل رائٹس کی خلاف ورزی روکنے کے لیے موزوں فورم نہیں ہے اسی لئے حکومت نے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے

  • قانون کے تحت وزیراعظم نے اپنے تمام اختیارات چھوڑے ہیں،وزیر قانون

    قانون کے تحت وزیراعظم نے اپنے تمام اختیارات چھوڑے ہیں،وزیر قانون

    اسلام آباد: وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑکا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے تمام اختیارات چھوڑتے ہوئے تعیناتیاں اب اوپن کمپیٹیشن کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، 2700 ارب روپے کے محصولات اسٹے آرڈرز کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اولڈ راوین ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ نےاپنا پہلا قانون پاس کیا جو کہ ٹیکس اصلاحات کے بارے میں ہے 2700 ارب روپے کے محصولات اسٹے آرڈرز کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں، وزیرا عظم نے ذمہ داری سونپی ہے کہ ٹربیونلز اور اپیل کا نظام اور اس کے بعد ریفرنس کے فیصلوں کے نظام میں اصلاحات کی جائیں۔

    اعظم نذیر کا کہنا تھاکہ وزیراعظم نے اپنے تمام اختیارات چھوڑتے ہوئے تعیناتیاں اب اوپن کمپیٹیشن کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، قانون کے تحت وزیراعظم نے اپنے تمام اختیارات چھوڑے ہیں، کمشنر ان لینڈ ریونیو (ایڈجوڈیکیشن)، جوڈیشل اوراکاؤنٹنگ ممبرز اب اوپن کمپیٹیشن کے ذریعے اپوائنٹ ہوں گے، ایک آزادانہ سلیکشن کمیٹی تعیناتی کرے گی تاکہ میرٹ کو برقرار رکھا جائے۔

    واضح رہے کہ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز میں پروفیشنلز کی تعیناتیوں کی تلاش میں ہیڈ ہنٹنگ فرمز کی خدمات حاصل کرنے کی پالیسی میں تر میم کردی ہے، جس کے بعد پروفیشنلز کی تلاش کیلئے ہیڈ ہنٹنگ فرمز کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار وزارتوں اور ڈویژنز کو ہو گا،ذرائع نے بتایا کہ تر میم کی منظوری وفاقی کابینہ سے سرکیولیشن کے ذریعے لی گئی جس کے بعد متعلقہ وزیر، مشیر یا وزیر مملکت کی منظوری سے فرم کی خدمات لی جاسکے گی ، ہیڈ ہنٹنگ فرم کی خدمات صرف مسابقتی عمل کے ذریعے حاصل کی جا سکیں گی۔

  • وزیراعظم  عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے بعد  واپس روانہ

    وزیراعظم عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے بعد واپس روانہ

    وزیراعظم محمد شہبازشریف عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے

    ریاض کے رائل ایئر پورٹ ٹرمینل پر سعودی عرب کے اعلیٰ حکام ، پاکستان میں تعینات سعودی سفیر ، سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کو رخصت کیا،عالمی اقتصادی فورم کی سائیڈ لائینز پر وزیراعظم نے سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود ، امیر کویت عزت مآب شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح ، ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم ، سعودی وزراء سے ملاقاتیں کیں،وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان -سعودی عرب معاشی تعلقات کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل تھا ۔

    سعودی عرب میں موجود وزیراعظم کی امیر کویت سے ملاقات

    سرمایہ کاری سےمتعلق پاکستان ہماری ترجیح ہے،سعودی وزیر کی وزیراعظم کو یقین دہانی

    وزیر اعظم شہباز شریف کادورہ سعودی عرب،صدر اسلامی ترقیاتی بینک ڈاکٹرمحمد سلیمان الجاسر سے ملاقات

    چاہتے ہیں کہ پاک ،سعودیہ معاشی تعلقات سعودی ویژن 2030 کے تناظر میں آگے بڑھیں، آل تویجری

    سعودی عرب نےہرمشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا،علامہ طاہر اشرفی

    خواجہ آصف کا سعودی عرب کے حوالے سے شیر افضل مروت کے بیان پر ردعمل

    سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا اگلے مہینے مئی میں پاکستان کا دورہ متوقع 

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا عام پرواز میں‌سفر،مسافروں کو ملی اذیت،پی آئی اے کو بھی نقصان

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، دونوں رہنماؤں نے مکہ ملاقات میں کیے گئے فیصلوں پر پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ،اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا،وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں وفد پاکستان بھیجنے پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا،انہوں نے سرمایہ کاری سے متعلق مزید وفود پاکستان بھیجنے سے متعلق سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا،شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کی ملاقات میں غزہ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم کی جانب سے سعودی ولی عہد کو دورۂ پاکستان کی دعوت کا اعادہ بھی کیا گیا۔

  • پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی میں کوئی کردار نہیں،وزیراعظم

    پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی میں کوئی کردار نہیں،وزیراعظم

    ریاض: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی میں کوئی کردار نہیں، اس کے باوجود ہم نے بڑی تباہی دیکھی-

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس کے اختتامی سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ یوکرین، روس جنگ کیوجہ سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہوا، غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا، فلسطین میں قیام امن بہت ضروری ہے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کے دوران بہت نقصان ہوا، پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کا تباہ کن اثر پڑا ہے، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جس کا موسمیاتی تبدیلی میں کوئی کردار نہیں، اس کے باوجود ہم نے ایسی تباہی دیکھی جو کبھی نہ آئی تھی، ہمیں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، ہمیں بھاری سود پر قرضے لینے پڑے، پاکستان کی ایسی صورتحال میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی، سال 2022 میں آنے والے سیلاب نے بڑی تباہی مچائی اور پاکستانی معیشت پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان بری طرح سے متاثر ہوا ہے،، سعودی عرب سمیت دوست ممالک نے پاکستان کی بھرپور مدد کی، مشکل وقت میں جو سعودی عرب نے کیا ہم اس کا حساب نہیں چکا سکتے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ میرے مرحوم والد ایک غریب کسان کی اولاد تھے، میرے والد نے فیکٹری لگائی، پھر وہ نیشنلائز ہوئی، میرے والد اور بھائی نے کبھی ہمت نہیں ہاری، 18 ماہ میں 6 نئی فیکٹریاں قائم کیں، ہمارا پاور سیکٹر چوری کے باعث شدید متاثر ہوا، ریونیو سیکٹر بھی تباہی کا شکار ہوا، نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر ٹیکنالوجیز فراہم کرنی ہیں، کسانوں کو جدید آلات فراہم کرنے ہیں، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، ہمیں اپنی برآمدات کو بڑھانا پڑے گا، ہمارے پاس تیل نہیں ہے، گیس کے ذخائر بھی کم ہورہے ہیں، ہم صنعت اور زراعت کے لیے خام مال درآمد نہیں کرسکتےہمیں بلیک شیپس اور وائٹ شیپس میں فرق کرنا ہے، میں نے کہا کہ کوئی دباؤ نہیں لوں گا اور پاکستان کو انتھک محنت سے اس کا مقام دلاؤں گا، ہم وسیع پیمانے پر اصلاحات کرنے جا رہے ہیں، قرضوں کا جال موت کا پھندا بن گیا۔