Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • لز ٹرس برطانیہ کی نئی وزیر اعظم منتخب:آج منصب سنبھال لیں‌گی

    لز ٹرس برطانیہ کی نئی وزیر اعظم منتخب:آج منصب سنبھال لیں‌گی

    لندن:برطانیہ میں لز ٹرس آج نئی وزیراعظم کا منصب سنبھال لیں گی۔اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی وزارت عظمی کے لیے کنزرویٹو پارٹی میں لز ٹرس اوررشی سونک کے درمیان مقابلہ تھا۔

    لز پہلی مرتبہ 2010 میں نارفوک سے رکن پارلیمٹ منتخب ہوئی تھیں۔اس سے قبل ڈیوڈ کیمرون، ٹریزا مے اور بورس جانسن کی کابینہ میں لز ٹرس مختلف ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں۔

    لز ٹرس نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ انرجی بلوں کے معاملے کو جلد نمٹادیں گے۔لز ٹرس نے چند ماہ میں ٹیکس میں کمی کا حکومتی منصوبہ پیش کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لز ٹرس انشورنس سمیت کئی معاملات طے کریں گی۔لز ٹرس متحدہ یورپ کی حامی تھیں اور موجودہ صورتحال میں سیاسی رہنما انھیں بہترین آپشن قرار دے رہے ہیں۔

    نومنتخب وزیراعظم لِز ٹرس کو 81 ہزار 326 ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف رشی سونک کو 60 ہزار 399 ووٹ ملے۔
    پیر کو برطانیہ کے اگلے وزیراعظم اور حکمران کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ کے نام کا اعلان ہوا۔ حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے سیکریٹری خارجہ لِز ٹرس کو نامزد کیا گیا تھا۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ لِز ٹرس ایسے وقت میں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہیں جب ملک کو معاشی بحران اور کساد بازاری کا سامنا ہے۔

    لز ٹرس کے وزیراعظم بنتے ہی ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ برطانوی کابینہ میں مزید تبدیلیوں کے امکانات ہیں۔

    مختلف اسکینڈلز سامنے آنے کے بعد بورس جانسن نے 7 جولائی کو وزارت عظمی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وزارت عظمی کی دوڈ کیلئے 11 امیدوار سامنے آئے تھے۔

    ٹوری اراکین پارلیمنٹ کے ووٹنگ کے مختلف مراحل کے بعد لز ٹرس اور رشی سونک میدان میں رہ گئے تھے۔ملک میں متوقع طور پر 23 جنوری 2025 کو انتخابات کے سبب وزیراعظم کو ڈاوئنگ اسٹریٹ میں 870 دن ملیں گے۔

  • آج قوم سرزمین کے بہادر بیٹوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کر رہی ہے،وزیراعظم

    آج قوم سرزمین کے بہادر بیٹوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کر رہی ہے،وزیراعظم

    6 ستمبر کے دن کو جرأت وبہادری کی علامت اور دھرتی کے بہادر بیٹوں کی عظیم قربانی کے جذبے کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آج سے 57 سال قبل اس دن ہماری بہادر افواج ِپاکستان نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ وہ مادرِ وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔اس دن پوری پاکستانی قوم بے مثال اتحاد اور پرعزم قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی مسلح افواج کی حمایت کے لیے آگے آئی۔ قوم کے بے مثال اتحاد اور یکجہتی کے مظاہرے نے ہمارے افسروں اور جوانوں، پائلٹوں اور سیلرز کو ہندوستانی جارحیت کے خلاف مادر ِوطن کی حفاظت کی لڑائی میں توانائی بخشی۔

    آج قوم اس سرزمین کے بہادر بیٹوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کر رہی ہے، خاص طور پر ہمارے ان قابل فخر شہداء کو جنہوں نے بے خوفی اور بہادری سے اس دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جو عددی طاقت میں بہت بڑا تھا۔ ہم شہدا کے والدین اور اہل خانہ کا بے حد احترام کرتے ہیں جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کی جدائی کے غم کو ہمت سے برداشت کیا۔ ان ہیروز، غازیوں، پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے محکموں اور انٹیلی جنس اداروں کے جوانوں کو بھی سلام، جو سخت موسموں اور مخالف ماحول میں مادرِ وطن کی سرحدوں کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے محفوظ رکھ رہے ہیں۔

    یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ بہادر مسلح افواج اور بہادر پاکستانی قوم نے اپنی دودہائیوں پرانی جدوجہد میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت کو کامیابی سے شکست دے کر 1965 کی جنگ کے قابل فخر ورثے کو آگے بڑھایا ہے۔

    آج اس موقع پر، میں آپریشن ردالفساد کو کامیابی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچانے پر عسکری قیادت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخواہ اور جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب کے دوران ہزاروں لوگوں کی جانیں بچانے میں مسلح افواج اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کے کردار کو بھی سراہتا ہوں۔

    اقوام متحدہ کے بینر تلے مختلف ممالک میں قیام امن میں ہماری مسلح افواج کے کردار کا بھی دنیا بھر میں اعتراف کیا جا رہا ہے۔ یہ خاص طور پر خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہمارے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عزم ہماری خارجہ پالیسی کا خاصہ ہے۔ تاہم، پائیدار امن کی خواہش کے ساتھ، پاکستان مشکل معاشی صورتحال کے باوجود اپنے دفاع کی مضبوطی اور جدید دور کے آلات و سامانِ حرب کی خریداری کی ضرورت سے غافل نہیں رہ سکتا۔

    بھارت کے غیر قانونی طور قبضہ کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک فلیش پوائنٹ ہے۔ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جتنی جلدی حل کیا جائے اتنا ہی علاقائی امن اور ترقی کے لیے بہتر ہے۔ میں بین الاقوامی برادری پر زور دیتا ہوں کہ وہ 5 اگست 2019 کو IIOJ&K کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو واپس لینے کے لیے نئی دہلی پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

    جب ہم اس سال پاکستان کی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہے ہیں، اِس دن میرا دھرتی کے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ 6 ستمبر کے جذبے کو اپنے دلوں میں زندہ رکھیں۔ میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر ایسے مذموم عناصر کو شکست دیں تو کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

    ہمارے شہداء کی قربانیوں کو بہترین خراج تحسین یہ ہے کہ ہم اپنے بانیوں کے وژن کے مطابق پاکستان کی تعمیر ِنو کریں۔ ایک ایسا ملک جو معاشی طور پر مضبوط، سیاسی طور پر مستحکم اور سماجی طور پر ہم آہنگ ہو وہ بہتر طریقے سے اپنا دفاع کر سکتا ہے اور اپنی خارجہ پالیسی کے اہم مقاصد کو فروغ اور تحفظ دے سکتا ہے۔ اتحادی حکومت کا وِژن اور ایجنڈا بھی یہی ہے۔
    ٭٭٭

  • نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، وزیراعظم

    نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ پوری مستعدی اور بین الاقوامی ماہرین سے مشاورت کے بعد ایک مضبوط نیشنل فلڈ کنٹرول پلان تیار کریں۔

    وزیراعظم نے ملک میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے ایک قابل عمل لائحہ عمل پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی تاکہ مستقبل میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صوبے ،وفاق اور متعلقہ ادارے سیلاب زدگان کی مشکلات کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں ،سیلاب زدہ علاقوں اور متاثرین کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے،مربوط کوششوں سے ہی حالیہ سیلاب جیسی آفت سےنمٹا جا سکتا ہے،سیلاب سے لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ،مال مویشی اور دیگراملاک کو نقصان پہنچا ،سیلاب زدگان کی فوری امداد کیلئے70ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،این ایف آر سی سی قومی سطح کے فیصلوں میں معاونت فراہم کرے گا،بطور قوم متحد ہو کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا،چیلنج بڑاہے تاہم مشکل وقت نے ہمیں مضبوط ہونے کا موقع دیا ہے.

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے یہ ہدایات زلزلہ بحالی اور تعمیر نو کے ادارے (ERRA) ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (NFRCC) کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

    وزیر اعظم نے صوبائی چیف سیکرٹریز سے کہا کہ وہ ریور بیڈ میں زمین کے استعمال سے متعلق زوننگ قوانین اور ضوابط پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی تباہی سے بچا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ "نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے)، پاکستان آرمی انجینئرنگ کور اور صوبائی محصولات کے محکموں کے نمائندوں کی طرف سے ایک مشترکہ سروے کیا جا رہا ہے تاکہ نقصانات سے متعلق معتبر اعداد و شمار اکٹھے کیے جا سکیں۔

    قبل ازیں وزیراعظم کو نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (NFRCC) کی ٹیم نے بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ این ایف آر سی سی بچاؤ، ریلیف اور بحالی کی تین جہتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ ملک میں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو مؤثر طریقے سے کم کیا جا سکے۔

    یہ بتانا ضروری ہے کہ نیشنل فلڈ ریسپانس اینڈ کورونیشن سنٹر (این ایف آر سی سی) وزیر اعظم کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا تاکہ ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی محکموں کی سیلاب سے نمٹنے کی کوششوں کو مربوط کیا جا سکے۔

  • وزیر اعظم  شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی بحالی کا کام  جاری

    وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی بحالی کا کام جاری

    وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے.

    سیلاب کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی کا مسئلہ ہے تاہم وزیر اعظم پاکستان نے تمام علاقوں میں بجلی بحالی کا کام جاری رکھنے اور تیز کرنے کے احکام دے دے دیئے.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف قمبر شہداد کوٹ، سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کیلئے سکھر پہنچ گئے.وزیرِ اعظم کا وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر ایئرپورٹ پر استقبال کیا. وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر سے قمبر شہداد کوٹ پرواز کے دوران وزیر اعظم کو سیلاب کی صورتحال پر بریفنگ دی،

    وزیر اعظم شہباز شریف قمبر بائی پاس کے مقام پر ریلیف کیمپ پہنچ گئے وزیر اعظم شہباز شریف نے ریلیف کیمپ میں سہولیات کا جائزہ لیا ،وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بارش کا پانی علاقوں سے گزرکر آباد ی کو متاثر کرتا ہے ،2010 میں بھی یہاں پانی آیا ،بلوچستان کا پانی بھی قمبر شہداد کوٹ سے گزرتا ہوا جاتا ہے ،قمبرشہداد کوٹ میں سیلابی پانی سے فصلیں مکمل تباہ ہوئیں شہداد کوٹ،بند میں کٹ لگا نے سے پانی نکل کرآبادی کی طرف آیا ،بند میں کٹ لگا کر پانی کو گزرنے کے لیے مناسب راستہ دینے کی ضرورت ہے منچھرجھیل میں پانی کی سطح کم کرنے کے لیے مناسب مقام پر بند کو توڑا، منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے

    شہداد کوٹ میں سیلابی پانی کے باعث کچے کا کوئی مکان نہیں بچ پایا ،وزیراعظم کو بریفنگ

    وزیراعظم شہباز شریف نے حکام سے سوال کیا کہ سیلابی پانی کو کب تک نکالا جاسکتا ہے ، جس پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ سیلابی پانی زیادہ ہے ،کام کررہے ہیں،حتمی وقت نہیں بتایا جا سکتا ،وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید شاہ سے بات کریں گے،وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ شہداد کوٹ میں سیلابی پانی کے باعث کچے کا کوئی مکان نہیں بچ پایا ،وزیراعظم نے حکام سے سوال کیا کہ وبائی امراض کا کیا حال ہے جس پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ میڈیکل کیمپوں میں علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،،سیلابی پانی کی وجہ سے بعض مقامات پر پہنچنا ممکن ہی نہیں زیادہ متاثرہ علاقوں میں بوٹس کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال میں کام کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت میں ٹیم اچھا کام کررہی ہے،وآپ لوگ محنت کررہے ہیں اچھا لگا، سیلاب کی حالیہ تباہ کاری 2010سے زیادہ ہے مشکلات اور مسائل بے پناہ ہیں ،وفاقی ،صوبائی حکومتیں اور ادارے سرگرم ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے 28ارب روپے پیکج کے تحت رقم تقسیم کی جارہی ہے،سیلاب متاثر ہ فی خاندان کو 25ہزار روپے دیئے جائیں گے،سیلاب متاثرین کے لیے 28ارب روپے پیکج کوبڑھا کر 78ارب روپے کردیا ہے سیلاب متاثرین کوخصوصی پیکج کے تحت رقم کی تقسیم کا عمل شفاف طریقے سے جاری ہے ابھی بھی فضائی جائزہ میں دیکھا سندھ ،بلوچستان کے کچے کے علاقوں میں کچھ نہیں بچا سیلاب نے ہر جگہ کو متاثر کیا،لوگ جاں بحق ہوئے،فصلیں تباہ ہوئیں اور گھر تباہ ہوئے خیموں کی بہت ضرورت ہے ، اس پر آج سے کام تیز کریں گے سیلاب متاثرین کے لیے 8لاکھ خیمے مزید آرڈر کیے جو ایک ماہ تک مل جائیں گی ،چین نے پاکستان کے لیے امداد میں اضافہ کیا،سعودی عر ب،قطر ،متحدہ عرب امارات ،فرانس ،ترکیہ اور بہت سے ممالک نےامداد کی ،آغاخان کے بیٹے سے بات ہوئی وہ بھی امداد میں معاونت کے خواہاں ہیں سب کو کہتا ہوں ،سیاست کے لیے وقت بہت ہے ،اب ہمیں ملکر کام کرنا ہوگا،مشکل کے اس وقت میں ہمیں سیلاب متاثرین کے ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے ہمیں آگے بڑھ کر امدادی عمل کو تیز کرنا ہوگا ،

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں میں کہا ہے کہ: بلوچستان دورے کے دوران میری گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر مچھ عائشہ زہری اور این ایچ اے کے ان حکام اور مزدوروں سے ملاقات ہوئی جو سیلابی ریلہ گزرنےکے بعد محنت اور لگن سے شاہراہوں، پبلک ورکس اور انفرسٹرکچر کی بحالی کیلئے کام کر رہے ہیں. آپ سب قوم کےہیروز ہیں اورمجھ سمیت پوری قوم کو آپ پر فخر ہے.

    جبکہ ایک دوسرے بیان میں وزیراعظم نے عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: عمران نیازی کی اداروں کوبدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کی انتہائی قابل مذمت مہم ہرروز نئی انتہا کو چھو رہی ہے۔ شہباز شریف نے کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اب فوجی قیادت کے بارے میں براہ راست کیچڑ اچھال رہے ہیں اور زہریلے الزامات لگا رہے ہیں۔عمران خان کا مذموم ایجنڈا واضح طورپر پاکستان کو نقصان پہنچانا اور کمزور کرنا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹرپربیان میں کہا کہ عمران نیازی کی اداروں کوبدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کی انتہائی قابل مذمت مہم ہرروز نئی انتہا کو چھو رہی ہے۔

    علاوہ ازیں: پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 1290 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے. جبکہ این ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر تین کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ آبادی اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے کا تخمینہ ہے.

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    پاکستانی حکام کے مطابق اس سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے عمل میں پانچ برس لگ سکتے ہیں. اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے تناظر میں 16 کروڑ ڈالر امداد کی ہنگامی اپیل جاری کی ہے. صوبہ سندھ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 23 اضلاع آفت زدہ ہیں جبکہ ایک کروڑ 45 لاکھ سے زیادہ آبادی متاثرین میں شامل ہے، صوبہ بلوچستان کے 34 اضلاع اور 91 لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد متاثرین میں شامل ہیں پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے کے کل آٹھ اضلاع اور وہاں کی 48 لاکھ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی ہے خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع میں سیلاب سے 43 لاکھ سے زیادہ لوگ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر(این ایف آر سی سی ) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رات گئے سیلاب سے مزید 25 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 12 بچے شامل ہیں یوں جون سے لے کر اب تک ہلاکتوں کی کُل تعداد ایک ہزار 290 ہوگئی ہے۔

  • متاثرین کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم بحالی کے کام کا جائزہ لینے بلوچستان پہنچ گئے

    متاثرین کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم بحالی کے کام کا جائزہ لینے بلوچستان پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کے نقصان اور جاری بحالی کے کام کے جائزے کیلئے کوئٹہ پہنچ گئے.وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، وزیراعظم کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کاموں پر بریفنگ دی گئی۔

    کوئٹہ پہنچنے پر وزیراعظم کا ایئرپورٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور دیگر حکام نے استقبال کیا، سیلاب سے متاثرہ ضلع کچھی دورہ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کو سیلاب کے نقصانات اور امدادی کاموں پر بریفنگ دی گئی اور سیلاب متاثرہ روڈ اور ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی بارے بھی آگاہ کیا گیا، وزیراعظم نے انفراسٹرکچر کی بحالی کے کام کو سراہا ہے۔


    وزیراعظم نے سیلاب میں بہہ جانے والے پنجرہ پل کی بحالی کے کام کا بھی جائزہ لیا، وزیراعظم نے بحالی کے کام میں مصروف مزدوروں کے لئے 50 لاکھ روپے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگوں نے محنت کی انہیں شاباش دیتا ہوں اور متاثرہ سڑکوں کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔

    اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچرکی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، سیلاب سے پورے ملک میں تباہی پھیلی ہوئی ہے، سیلاب میں لوگوں کے مال مویشی بہہ گئے، فصلیں اور لاکھوں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ امید ہے کہ تمام امور احسن انداز سے مکمل ہوں گے، چند روز بعد ایک بار پھر فضائی جائزہ لوں گا، متاثرین کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    بعدازاں وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ بی بی نانی پل کا دورہ کرتے ہوئے پل کی بحالی میں مصروف مزدوروں کیلئے 30 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے، اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پل کی بحالی کیلئے محنت کشوں اور مزدوروں نے دن رات کام کرتے ہوئے 8 گھنٹے میں پل کو بحال کیا ہے، ہم سب کو ملکر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔

    اس موقع پروزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی پل بحالی کیلئے کام کرنے والے مزدوروں کیلئے 20 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔قبل ازیں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین خرم آغا کی جانب سے وزیر اعظم کو فضائی دورہ کے موقع پر بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور جاری بحالی کے کام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے پرائم منسٹر ریلیف فنڈ کا آڈٹ کرانے کا اعلان کیا تھا .اسلام آباد سے جاری بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ وعدے کے مطابق یقینی بنانے کےلیے حکومت نے پی ایم ریلیف فنڈ کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ریلیف فنڈ کا آڈٹ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اور عالمی شہرت یافتہ کمپنی کرے گی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ کمپنیاں ریلیف فنڈ کی رقم کے خرچ سمیت فنڈ کی آڈٹنگ کریں گی اور آڈٹ رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی ،وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہر طرح سے آپ کی مدد کے لئے حاضر ہے تمام سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لئے سندھ حکومت اور وزیر اعلی کی کارکردگی اور جذبے کو سراہا ہے.

  • سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف کی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف نے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی ،وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہر طرح سے آپ کی مدد کے لئے حاضر ہے تمام سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لئے سندھ حکومت اور وزیر اعلی کی کارکردگی اور جذبے کو سراہا ہے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے بھرپور تعاون پر وزیراعظم اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا ،وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے آپ کی فکرمندی قابل تعریف اور قابل تحسین ہے، عوام کو مایوس نہیں کریں گے:

    دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں میں نکاسی آب کا سلسلہ جاری ہے سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں لوگ پھنسے ہیں انہیں ریسکیو کیا جا رہا ہے ،14 لاکھ سےزائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے ،نقصانات کا پتہ نکاسی آب کے بعد کیاجائے گا،سندھ حکومت ریسکیو اور ریلیف سے متعلق امور پر کام کررہی ہے سندھ میں سرکاری اسکولوں میں بھی متاثرین کو ٹھہرایا گیا ہے،بلاول بھٹو کی جانب سے عالمی سطح پر جو فنڈز ریزنگ ہوئی وہ تاریخ کا حصہ ہے،سیلاب سے جو نقصانات ہوئے ہیں ان کے بارے میں یہ ابتدائی معالومات ہیں ، 14لاکھ 65ہزار 941گھروں کو نقصان ہوا ہے،سندھ میں اب تک 559افراد جاں بحق، 21ہزار 891زخمی ہوئے سندھ میں 6لاکھ 58ہزار 354افراد کیمپوں میں قیام پذیر ہیں حکومت سندھ کی جانب سے اس وقت متاثرین کو 2وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے 44لاکھ 2ہزار 484ایکڑ زمین پر فصلوں کو نقصان پہنچا ،سیلاب سے کپاس کی فصل مکمل طور پرتباہ ہوچکی ہے ،سیلاب سے 100فیصد سبزیاں متاثر ہوئے ہیں سیلاب سے آم کے درختوں کو بھی شدید نقصان ہوا ہے، پاک نیوی،پاک آرمی ،سندھ پولیس اور دیگر ادارے ریسکیو کے عمل میں مصروف ہیں،سیلاب متاثرین کو امداد کی تصدیق کے لیے 03355557362 نمبرزپررابطہ کیا جا سکتا ہے، متاثرین کو امداد کی تصدیق کے لیے02135381810نمبرزپررابطہ کیا جا سکتا ہے،اگر پی ڈی ایم اے سے رابطہ کرکے تصدیق ہوگی تو امداد دہرانے سے بچ جائیں گے، سندھ حکومت نے راشن بیگز کے آرڈر دے دئیے ہیں ،سندھ حکومت راشن ،خوراک ،پانی اور ضروری اشیا کی فراہمی کررہی ہے،سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ تقسیم امداد شفاف طریقے سے جاری رہےمتاثرین سیلاب کی امدا د میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے

    عمران خان خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹرز ستعمال کر رہے ہیں ،

    پرویز الہیٰ نے عمران خان کو "خوش” کرنے کا ایک اور "پروگرام”

     ہیبت علی خان نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دریائے سندھ میں ڈوبتے شخص کی جان بچالی

    بشارت کی حدود میں پیش آنے والا انسانیت سوز واقعہ کے بعد پولیس حکام نے واقعہ کا نوٹس لے لیا

  • ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نےوزیراعظم کو خط لکھ دیا

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نےوزیراعظم کو خط لکھ دیا

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کو کے الیکٹرک کی جانب سے جانے والی اووبلنگ کے خلاف شکایتی خط لکھ دیا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم شہبازشریف کا خط لکھا ہے، جس میں کے الیکٹرک کی شکایات کی گئی ہیں۔

    ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے سوئی سدرن گیس کمپنی کا فرانزک آڈٹ کروائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کراچی کے بجلی صارفین کے تحفظ کے لیے وزیراعظم کو برائے راست خط لکھا دیا ہے

     

    سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے

    خط میں بتایا گیا ہے کہ ایس ایس جی سی سی کی جانب سے گیس اکلوکیشن کوٹے کے خلاف ورزی کرتے ہوئے نجی کاروباری اداروں کو سستی گیس فراہم کی جارہی ہے جس سے کراچی کے صارفین کو ایف سی اے کی مد میں کم ازکم 131 بلین سالانہ کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

    اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایس جی سی کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے۔خط میں یہ بھی شکایت کی گئی ہے کہ کے الیکٹرک اپنے صارفین سے 35 روپے فی یونٹ کے حساب سے بلنگ کررہا ہے۔

    خیال رہے کہ اکتوبر 2018 سے کے ای کو قدرتی گیس فراہم منقطع کرکے سی پی پی کے مالکان کے ساتھ مل کر ایس ایس جی سی، سی سی پی کے پاور پلانٹس کو لوکل گیس کی فراہمی برقرار رکھیں ہوئے ہے جن کی لاگت تقریبا ایک روپے اضافی ہے۔

  • شہباز شریف کا بھارتی وزیراعظم سے اظہار تشکر

    شہباز شریف کا بھارتی وزیراعظم سے اظہار تشکر

    وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی جانب سے سیلاب کے نقصانات پر اظہار افسوس کے جواب میں بھارتی وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا ہے۔

    وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس پر نریندر مودی کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام قدرتی آفت کے منفی اثرات پر جلد قابو پا لیں گے۔

    یاد رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 29 اگست کو لکھا کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی دیکھ کر دکھ ہوا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ ہم متاثرین کے خاندانوں، زخمیوں اور قدرتی آفت سے جاں بحق ہونے والے تمام افراد کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔نریندر مودی نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی جلد بحالی اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کی امید کا اظہار کیا۔

  • وزیراعظم نے اے پی سی بلا لی،پی ٹی آئی کو دعوت نہ دینے کا فیصلہ

    وزیراعظم نے اے پی سی بلا لی،پی ٹی آئی کو دعوت نہ دینے کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر کُل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) بلالی۔

    ذرائع کے مطابق کُل جماعتی کانفرنس پیر کی سہ پہر وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد کی جائے گی جس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور اتحادیوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے بلائی جانیوالی اے پی سی میں ملک میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق امور پر مشاورت ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق سیلاب کی صورتحال پربلائی گئی اے پی سی میں پی ٹی آئی کو دعوت نہیں دی گئی۔ یاد رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے عالمی لیڈروں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ سیلاب کی صورتحال میں پاکستان کی مدد کریں . وزیراعظم ملک کے سیلاب سے متاثر علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں اور حکومت سیلاب ذدگان کی بحالی کیلئے کوشاں ہے اور ایسی صورتحال میں بھی پی ٹی آئی کو ملک میں جلسے کرنے اور سیاست کرنے کی سوجی ہے، تاہم پی ٹی آئی کے رویہ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اے پی سی میں مدعو نہیں کیا گیا.

    خیال رہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور اب تک 900 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔سیلابی ریلوں نے لاکھوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔پاکستان نے بھی عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی ہے.

    اس سے قبل پاکستان میں بارشوں کے بعد سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں. ترک صدر رجب طیب اردوان ، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النیہان اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا ہے اور آفت کے باعث نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا۔ شہباز شریف نے پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال اور ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے حکومتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان جون 2022 کے وسط سے ریکارڈ بارشوں کے ساتھ مون سون کا غیر معمولی موسم برداشت کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں، ذریعہ معاش اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بارش سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، حکومت متاثرہ علاقوں تک پہنچنے اور لوگوں کو ان کی نقل مکانی اور امداد کی ترسیل میں مدد کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔

    پاکستان نے "اقوام متحدہ کی فلیش اپیل” تیار کی ہے جو 30 اگست کو شروع کی جائے گی اور امید ہے عالمی برادری فلیش اپیل کی فنڈنگ پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے میں کردار ادا کرے گی۔وزیراعظم نے انسانی بنیادوں پر امداد پر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔

    دوطرفہ تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے ترکوں کی غیر متزلزل حمایت پر صدر اردوان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    ترک صدر نے شہباز شریف سے شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر نقصان پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دینگے۔

    ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا ، وزیر اعظم شہباز شریف کو ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے ٹیلی فون کیا۔ وزیر اعظم نے سیلاب کی صورتحال پر ایرانی صدر کی ہمدردی پر شکریہ ادا کیا۔

    شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان مون سون کے شدید موسم کو برداشت کر رہا ہے، بہت سے علاقوں کو 4-5 گنا اور اس سے بھی زیادہ شدید موسم آیا ہے، بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے انسانی جانوں، ذریعہ معاش، مویشیوں، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔

    وزیراعظم نے زور دیتے ہوئ ےکہا کہ سڑکوں اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے پر شدید اثرات سے انسانی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے، جو لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور امداد کی ترسیل دونوں میں رکاوٹ ہے۔

    اس سلسلے میں حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ”اقوام متحدہ کی فلیش اپیل” تیار کی ہے جو 30 اگست 2022 کو شروع کی جائے گی۔ امید ہے عالمی برادری فلیش اپیل کی فنڈنگ کی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا حصہ ڈالے گی۔

    ٹیلفونک رابطے کے دوران دوطرفہ تناظر میں وزیراعظم نے تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے ایران کی مسلسل حمایت کو بھی سراہا۔ صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام شعبوں میں امدادی امداد میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا اور مون سون کی غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سے سے ملک گیر تباہی کے پر افسوس کا اظہار کیا۔ یو اے ای کے صدر نے سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، زخمی ہونے اور شدید نقصان کے بعد پاکستان کو فوری امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    صدر نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا تاکہ وہ درپیش چیلنجوں پر قابو پا سکیں۔ متحدہ عرب امارات کی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ٹن طبی اور دواسازی کا سامان بھی شامل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو یقینی بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔

  • وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) انجنیئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے، ملک میں تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی اور بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو حیدرآباد میں حیسکو پاور ونگ کالونی کے کانفرنس ہال میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں 200 یا اس سے کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے تصحیح شدہ نئے بل جاری کئے جائیں گے، گھریلو صارفین کے لئے بجلی کے بل جمع کرانے کی آخری تاریخ کی میعاد 06 ستمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ میری یہاں موجودگی کا مقصد حیسکو اور سیپکو ریجنز میں سیلاب زدگان کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں انتہائی غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں کہیں اوسط سے چار گنا اور بعض مقامات پر سات گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، اس کا اثر ہماری بجلی کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں پر بھی پڑا ہے، گرڈ اسٹیشنز ڈوبے ہوئے ہیں، کہیں کھمبے پانی میں گر گئے ہیں، کچھ مقامات پر حفاظتی اقدامات کے طور پر بھی بجلی کی سپلائی منقطع کی جاتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے حیسکو اور سیپکو کے چیفس کو ہدایات دیں کہ جہاں بھی نکاسی آب کے مسائل درپیش ہیں وہاں کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے اور 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے تاکہ نکاسی آب کا مسئلہ ترجیحی طور پر حل ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کردی گئی تھی کہ بارشوں کے دوران حتی الامکان بجلی کی فراہمی جاری رہنی چاہیئے اس حوالے سے حیسکو اور سیپکو نے محنت کی اور لوگوں نے بھی محسوس کیا ہوگا کیونکہ پہلے بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی بجلی غائب ہوجاتی تھی، لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی بھی چیلینجز درپیش ہیں، صوبے کے تمام اضلاع سے تفصیلی رپورٹ حاصل کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ حیسکو کے تین اہم گرڈ اسٹیشنز بارش کی وجہ سے بند ہوگئے تھے جن میں نوابشاہ ون، دوڑاور جھرک گرڈ اسٹیشن شامل ہیں، نوابشاہ کے چار فیڈرز کو متبادل گرڈ اسٹیشنز سے منسلک کرکے چلادیا گیا ہے، جھرک گرڈ اسٹیشن کو بھی لو لوڈ پر چلادیا گیا ہے، بحالی کا کام جاری ہے، جن گرڈ اسٹیشنز میں پانی جمع ہوا ہے وہاں سے پانی کی نکاسی کا کام بھی کیا جارہا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کارکنان ہمارے اور آپ کے لئے بارش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کام کرتے ہیں ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کا چیلنج ابھی ختم نہیں ہوا، شمال سے ایک نیا ریلا دریائے کابل اور کنہار سے آرہا ہے جو کے پی سے گذرتا ہوا ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی آئے گا، آنے والے چند ہفتے ایمرجنسی کے ہیں جس میں پوری کوشش کی جارہی ہے کہ بجلی کے محکمے کے سربراہان، سینئر افسران اور عملہ پوری ذمہ داری سے خدمات انجام دیں اور کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل مقصد ان کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے لیکن فی الحال سیلاب کی صورتحال اور بلوں کی تصحیح کے معاملے پر ہماری پوری توجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک پارٹی نہیں بلکہ وسیع البنیاد جمہوری حکومت میں شامل دس کی دس پارٹیاں ریلیف کے کام میں مصروف عمل ہیں، ہم سب اکٹھے ہیں اور بلا تفریق سیلاب متاثرین کو ریسکیو کریں گے، ان کو ریلیف بھی پہنچائیں گے اور بحالی کا کام بھی جاری رہے گا۔ صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف کے معاملے میں ملکی سطح پر غور و فکر کیا جارہا ہے، دس روز میں تفصیلی بحث کے بعد ریلیف کے سلسلے میں جو فیصلہ کیا جائے گا وزیراعظم اس کا اعلان کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ متاثرین کو دوسرے طریقے سے بھی ریلیف دیا جارہا ہے اور بی آئی ایس پی کے تحت ہر خاندان کو 25 ہزار روپے کی مالی امداد کی فراہمی کی جارہی ہے، سیلاب کے دوران جو افراد جاں بحق ہوئے ہیں ان کے ورثا کے لئے فی کس 10 لاکھ روپے امدادی چیکس دینے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔ حیسکو کی کارکردگی ایک علیحدہ سوال ہے، خراب ٹرانسفارمرز کی تبدیلی کا معاملہ بھی ایک چیلنج ہے ان مسائل کو بھی حل کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کے دور میں لوڈشیڈنگ کافی حد تک کم ہوگئی تھی۔ بجلی کے حوالے سے ملک میں دو قسم کی صورتحال ہے، ایک تو وہ فیڈرز ہیں جہاں بلوں کی ریکوری 80 فیصد سے زیادہ ہے اور لائن لاسز 20 فیصد سے کم ہیں ، جہاں ریکوری اچھی ہے وہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوتا ہے جبکہ زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے دوران ملک میں بجلی کی طلب 25 ہزار میگاواٹ کے قریب متوقع تھی لیکن یہ طلب 30 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہوگئی۔ پچھلے چار سال یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ملک میں بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہے مگر ملک کے اندر بجلی وافر مقدار میں موجود نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فرنیس آئل پر پرانی ٹیکنالوجی کے ذریعے جو بجلی تیار کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے جیسے حکومت اور عوام اپنا خون جلا رہی ہے، ہمارے پاس بجلی پیدا کرنے کی موثر صلاحیت 25 ہزار میگاواٹ تک کی ہے اس سے زائد بجلی بناتے ہیں تو ہمیں تیل سے بنانی پڑتی ہے جس سے پھر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ جیسے معاملات پیدا ہوتے ہیں۔

    ہماری کوشش ہے کہ اگلے موسم گرما سے قبل جو زیر تکمیل پلانٹس جن میں تھر میں 1320 میگاواٹ کا شنگھائی الیکٹرک اور 330 میگاواٹ کے دو منصوبے وہاں موجود ہیں، سے تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا بھی اعلان کریں گے، اگلے موسم گرما میں ہمارے پاس ان ذرائع سے ہزاروں میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ سولر سے سستی بجلی بنانے کے دوران دن کے وقت ہم ایندھن پر پلانٹس کو کم سے کم چلائیں تاکہ بجلی کی لاگت کم کرکے عوام کے بجلی کے بل بھی کم کئے جاسکیں۔

    انہوں نے کہا کہ بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی اور مستقبل میں جتنی بھی بجلی کی پیداواری صلاحیت ہوگی وہ تھر کول، ہائیڈل ذرائع، پن بجلی، شمسی اور نیوکلیئر ذرائع سے حاصل کی جائے گی جس سے ملک کے صارفین کو بجلی کی لگاتار اور سستی فراہمی یقینی ہوسکے گی۔

    حیسکو اور سیپکو کو حکومت سندھ کے حوالے کرنے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت سندھ سے بات چیت چل رہی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں بھی بجلی کی ڈسٹری بیوشن کے عمل میں شامل ہوسکتی ہیں۔ اس موقع پر چیف ایگزیکیوٹو آفیسر حیسکو نور احمد سومرو، مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما شاہ محمد شاہ، سابقہ سینیٹر نہال ہاشمی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے