Baaghi TV

Tag: وفاقی حکومت

  • وزیراعظم رمضان پیکج؛ 5 ہزار روپے فی خاندان دینے کا اعلان

    وزیراعظم رمضان پیکج؛ 5 ہزار روپے فی خاندان دینے کا اعلان

    وفاقی حکومت نے رمضان المبارک میں 40 لاکھ مستحق خاندانوں میں فی کس 5 ہزار روپے تقسیم کرنیکا اعلان کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بار رمضان میں مستحق خاندانوں کو نقد رقم فراہم کی جائیگی،وزیر اعظم کے رمضان ریلیف پیکیج کے تحت اس بار ہم 40 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی مستحق 5 ہزار روپے نقد دیے جائیں گے۔رانا تنویر حسین نے کے مطابق مستحق افراد کے زمرے میں آںے والے افراد کی تعداد 2 کروڑ کے قریب ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ برس کیا جانے والا یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے مستحقین کی امداد کا تجربہ اچھا نہیں رہا تھا۔ اسٹورز پر بد انتظامی اور ناقص معیار کے علاوہ وزیراعظم کو بھی اس حوالے سے بہت سی شکایات تھیں۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ یوٹیلٹی اسٹور نے کہا ہے کہ وہ سبسڈی کے بغیر اشیا پر 15 فیصد رعایت دیں گے، یوٹیلٹی اسٹور پر کوالٹی چیک کی ہے، بہتر معیار ہے،قیمت بھی بازار سے سستی ہے، رمضان میں یوٹیلٹی اسٹور کو زیادہ کام کرنا چاہیے، چینی کی قیمت کم کریں۔

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کا اعلان

    قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ

    شازیہ مری کی وزراء کی فوج بھرتی کرنے پرحکومت پر تنقید

    صدر اور وزیر اعظم کی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے کی مذمت

    کراچی پولیس چیف نے ارمغان کیس میں نااہلی تسلیم کرلی

  • ڈپٹی رجسڑار  کیس: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی

    ڈپٹی رجسڑار کیس: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی

    اسلام آباد: ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف توہین عدالت کیس میں وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کا 2 رکنی بنچ کا 27 جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے اپنی اپیل میں استدعا کی کہ سپریم کورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے خلاف توہین عدالت کیس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ کا 27 جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی رجسٹرار توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ میں دائر انٹرا کورٹ اپیل میں موقف اپنایا گیا کہ 2 رکنی بینچ نے توہین عدالت کے اختیار سماعت سے تجاوز کیا، ڈپٹی رجسٹرار کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے بعد عدالت ختم ہو گئی تھی۔

    پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کررہے ہیں،وزیراعظم

    اس میں موقف اختیار کیا گیا کہ 2 رکنی بینچ کو یہ حکم جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا، آئینی بینچ 13 اور 16 جنوری کے احکامات کو پہلے ہی واپس لے کر کالعدم قرار دے چکا ہے، مقدمہ اپنے ہی سامنے لگا کر 2 رکنی بینچ نے ججز آئینی کمیٹی کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد ریگولر بینچ آئینی و قانونی تشریح کے کیسز نہیں سن سکتا، 2 رکنی ریگولر بینچ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

    جاپان میں پولیس اہلکاروں کو میک اپ کا طریقہ سکھایا جانے لگا

  • حکومت کی چیئرمین اوگرا کی مدت ملازمت میں توسیع

    حکومت کی چیئرمین اوگرا کی مدت ملازمت میں توسیع

    وفاقی حکومت کی جانب سے چیئرمین اوگرا کی مدت ملازمت میں توسیع دیدی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کےمطابق موجودہ چیئرمین اوگرا مسرور خان کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی گئی جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ مسرور خان فروری 2025 سے فروری 2026 عہدے پر رہیں گے۔فروری 2021 میں وفاقی حکومت نے مسرور خان کو چار سال کیلیے چیئرمین اوگرا مقرر کیا تھا۔ یہ تقرری اسپیشل پے اسکیل ون میں کی گئی تھی۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مسرور خان کی تقرری کا نوٹیفکیشن طگی جاری کیا تھا۔

    واضح رہے کہ اوگرا بطور ادارہ وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے تحت کام کرتا ہے اور اس کا مقصد تیل و گیس کی صنعت کی نگرانی اور ریگولیشن کرنا ہے۔اس کا بنیادی کام تیل و گیس کی قیمتوں کا تعین اور ان کی نگرانی، ترسیل، ذخیرہ اور تقسیم کے عمل کی نگرانی کرنا ہے۔یہ ادارہ قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے معیار کو یقینی بناتا ہے جبکہ توانائی کے شعبے میں نئے منصوبوں کی اجازت اور ان کا جائزہ لیتا ہے۔

    عوام پاکستان سوچ اور فکر کی جماعت ہے،شاہد خاقان عباسی

    چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی، کھرا سچ میں لائیو کالر کرکٹ ٹیم پر برس پڑے

    کراچی: خونی ڈمپر و ٹینکر مافیا کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج کے نام پرانتشار پھیلا رہی ہے،بیرسٹرعقیل ملک

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی کےطلباء کے ساتھ نشست

    نرگس فخری کی بوائے فرینڈ کیساتھ خاموشی سے شادی ؟تصاویر وائرل

  • وزیراعلیٰ سندھ کا وفاق سے 33 ارب کی سبسڈی فوری دینے کا مطالبہ

    وزیراعلیٰ سندھ کا وفاق سے 33 ارب کی سبسڈی فوری دینے کا مطالبہ

    وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت سے صنعتوں کے لیے اعلان کردہ 33 ارب روپے کی سبسڈی فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کے زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں تاجروں اور کے الیکٹرک حکام نے شرکت کی۔مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ صنعتوں کو سبسڈی دینے سے ملکی معیشت مزید بہتر ہوگی، سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا) کو مکمل طور پر فعال کر رہے ہیں، سیپرا کے فعال ہونے سے صنعتکاروں کو بہت فائدہ ہوگا۔ سندھ میں 350 میگاواٹ رینیوئیبل انرجی اور 75 میگاواٹ کے سولر پلانٹس لگا رہے ہیں، رینیوئیبل انرجی کے پلانٹس سے صنعتی پیداوار کے لیے بجلی 18 تا 25 روپے فی یونٹ مہیا ہوگی۔

    صنعت کاروں نے وزیراعلیٰ سے شکایت کی ہے کہ اس وقت صنعتی بجلی کا فی یونٹ 60 روپے ہے جس سے صنعت کار پریشان ہیں، صنعتی علاقوں میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، ہم بجلی اور گیس کے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں، صنعتی علاقوں میں وقف پی ایم ٹیز سے مافیا بجلی چوری کرتی ہیں۔صنعت کاروں نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ صنعتی علاقوں کی پی ایم ٹیز سے بجلی چوری کے الیکٹرک کو روکنی چاہیے، کے الیکٹرک اپنی چوری کی وجہ سے لائن لاسز کم کرنے کے لیے صنعتی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کرتی ہے۔صنعت کاروں نے صنعتی علاقوں میں صنعتوں اور رہائشی علاقوں کی پی ایم ٹیز الگ کرنے کی تجویز دے دی۔

    کے الیکٹرک حکام نے کہا کہ چوری کی روک تھام کے لیے اقدامات کررہے ہیں، کے الیکٹرک نے اپنے لائن لاسز 40 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کیے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ کے الیکٹرک صنعتی علاقوں میں بجلی چوری کی روک تھام کے لیے تکنیکی حل نکالے۔صنعت کاروں نے وزیراعلیٰ سندھ سے گزارش کی کہ ریلوے لائن بچھا کر صنعتوں کو تھر کول مہیا کیا جائے، ہمیں گیس تو نہیں ملتی اس لیے ہم بوائلرز تھر کول پر چلا سکتے ہیں۔اس مطالبے پر وزیراعلیٰ نے وزیر توانائی کو ہدایت دی کہ وہ صنعت کاروں سے کوئلے کی طلب (ڈیمانڈ) حاصل کریں، سندھ حکومت ڈیمانڈ آنے سے کوئلے کی ٹرانسپوٹیشن کا بندوبست کرے گی۔

    کے فور منصوبے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوگئی

    کراچی ائیرپورٹ دھماکہ ،ملزمہ کی درخواست خصوصی عدالت منتقل

    شیر افضل مروت نے عمران ریاض کو کیا "بے نقاب”

    جماعت اسلامی وفد کی آئی جی سندھ سے ملاقات ،ٹریفک حادثات میں اموات پر اظہار تشویش

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    بارودی مواد کا سراغ لگانے والی جدید مشینیں اے ایس ایف کو دینے کا فیصلہ

    حکومت کا ججز کے خلاف ریفرنس لانے کا ارادہ نہیں، عرفان صدیقی

  • شہاب علی شاہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا تعینات

    شہاب علی شاہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا تعینات

    وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں چیف سیکرٹری کے عھدے پر شہاب علی شاہ کی تقرری کر دی، جبکہ سابق چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہسری کوسیکریٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ اسلام آباد تعینات کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شہاب علی حال ہی میں بلوجستان میں خدمات انجام دے رہے تھے، گریڈ 21 کے شہاب علی شاہ اس سے پہلے بھی خیبر پختونخوا میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی، کمشنر پشاور اور پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیر اعلی خیبر پختون خوا رہ چکے ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کا اقتدار حاصل کرتے ہی وفاقی حکومت سے چیف سیکرٹری کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا، اس دوران صوبائی حکومت کی طرف سے وفاقی حکومت کو ایک خط بھی لکھا گیا تھا جس میں چیف سیکرٹری کی فوری تبدیلی اور اسی خط میں شہاب علی شاہ کا بھی ذکر کیا گیا تھا جنہیں جن کی بطور چیف سیکرٹری تقرری کی سفارش کی گئی تھی۔

    اس کے بعد بھی آئے روز چیف سیکرٹری کی تبدیلی اور صوبائی حکومت کی طرف سے چیف سیکرٹری کے لیے مختلف ناموں کی سفارشات کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں۔ تاہم حال ہی میں اس حوالے سے وفاقی حکومت نے ایک طرح سے خیبر پختونخوا حکومت کا مطالبہ ان کی منشا کے مطابق ہی مانتے ہوئے شہاب علی شاہ کو ہی چیف سیکرٹری تعینات کر دیا ہے۔

    ترک صدر کا آصف زرداری اور شہباز شریف کو شاندار تحفہ

    پاک نیوزی لینڈ فائنل، ٹکٹوں کی مانگ بڑھ گئی

    مصطفی کمال کا آفاق احمد پر جرم ثابت ہونے تک ضمانت دینے کا مطالبہ

  • وفاقی حکومت کی آمدن 5887ارب، اخراجات 8200ارب سے زائد

    وفاقی حکومت کی آمدن 5887ارب، اخراجات 8200ارب سے زائد

    وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت کی خالص آمدن 5887 ارب روپے جبکہ اخراجات 8200 ارب سے تجاوز کرگئے۔موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے اخراجات و آمدن کی تفصیلات جاری کردی گئی۔

    وفاقی حکومت کی خالص آمدن 5887 ارب روپے جبکہ اخراجات 8200 ارب سے تجاوز کر گئے۔ پہلے 6 ماہ میں 2313 ارب روپے بجٹ خسارہ ہوا.رپورٹ کے مطابق قرضوں پر سود کی مد میں 5141 ارب روپے خرچ کیئے گئے، وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر صرف 164 ارب روپے خرچ کیئے گئے، 6 ماہ میں دفاع پر 466 ارب روپے خرچ کیئے گئے۔زیرجائزہ عرصے کے دوران ایف بی آر کو ٹیکس ریونیو میں 384 ارب شارٹ فال کا سامنا ہوا، 600 ارب ہدف کے مقابلے 5625 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا۔ تاجر دوست اسکیم کے تحت 23.4 ارب ٹیکس جمع کرنے کا ہدف بھی پورا نہ ہوا، جولائی تا دسمبر نان ٹیکس ریونیو 3602 ارب روپے رہا۔

    رپورٹ کے مطابق 6 ماہ میں مجموعی آمدن سے صوبوں کو 3339 ارب روپے حصہ دیا گیا، خسارہ پورا کرنے کیلئے 2313 ارب روپے کے قرضے لیئے گئے۔دوسری جانب پاکستان نے موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں آئی ایم ایف کی بڑی شرائط پوری کردیں۔ 2900 ارب روپے ہدف کے مقابلے پرائمری 3 ہزار 600 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ چاروں صوبوں نے 750 ارب ہدف کے مقابلے 776 ارب سرپلس بجٹ دیا، صوبوں نے 376 ارب ریونیو ہدف کے مقابلے 442 ارب ٹیکس جمع کیا، زرعی آمدن پر ٹیکس پر عمل درآمد سے ریونیو میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 549 ارب سے زیادہ وصول کیئے گئے۔ آئی ایم ایف وفد کا آئندہ ماہ دورہ پاکستان متوقع ہے، حکومت کی رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ 7 ارب ڈالر کے بیل آٹ پیکج کے تحت ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کیلئے مذاکرات ہوں گے۔

    ایم کیو ایم میں کوئی اختلاف نہیں،مصطفیٰ کمال

    نئی دہلی کی وزیراعلیٰ بھی مستعفی ہو گئیں

    سعودی عرب میں 21 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن گرفتار

    انجری ،حارث رؤف جنوبی افریقا کیخلاف اہم میچ سے باہر

  • رائٹ سائزنگ پالیسی،ریلوے سے 17 ہزار پوسٹیں ختم

    رائٹ سائزنگ پالیسی،ریلوے سے 17 ہزار پوسٹیں ختم

    وفاقی حکومت نے حکومتی اخراجات میں کمی کیلیے رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت وزارت ریلوے میں سے رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت 17 ہزار 101 پوسٹیں ختم کردی ہیں۔

    وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی رائٹ سائزنگ کا اجلاس ہوا جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں میں رائٹ سائزنگ میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 29 وزارتوں اور آئینی اداروں نے 11 ہزار 877 پوسٹوں کی منسوخی کی تصدیق کردی ہے جبکہ 4 ہزار 660 ڈائنگ پوسٹوں کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد اور متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی کاوشوں کو سراہا، دوران اجلاس وزارت ریلوے کے حکام نے اپنے رائٹ سائزنگ کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور بریفنگ دی کہ وزارت میں موجود 95 ہزار 859 پوسٹوں میں سے 17 ہزار 101 پوسٹیں ختم کی جاچکی ہیں جبکہ مزید 5 ہزار 695 پوسٹوں کے خاتمے کا عمل جاری ہے۔

    ریلوے حکام نے بتایا کہ مستقبل میں مزید 15000 پوسٹیں ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، اجلاس کے دوران پیش کردہ منصوبے میں آپریشنل کارکردگی اور وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرنے کیلئے اقدامات پر زور دیا گیا اور پاکستان ریلویز کو جدید بنانے اور اس کے آپریشنز کو موثر اور فعال رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

    کیٹی بندر پورٹ،سندھ حکومت کی وفاق سے این او سی کی درخواست

    کراچی : 26 دنوں میں چار افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بنے

    ٹرمپ اور ایلون مسک میں جھگڑا ہو گیا

    مصنوعی ذہانت کس طرح سفری صنعت میں انقلاب لا رہی ہے، رپورٹ

  • ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ

    ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیرخزانہ محمداورنگزیب کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں ترمیمی ٹیکس لا 2024 بارے اجلاس ہوا، وزیرخزانہ کو چیئرمین ایف بی آر نے بریفنگ دی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ 3 برسوں میں ٹیکس تناسب جی ڈی پی کا 14 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔محمداورنگزیب کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی کیلئے ماہرین و نجی شعبے کی خدمات لی جائیں گی، ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے آئندہ 6 ماہ کے دوران نکال دیا جائے گا۔تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ٹیکس ٹو جی فی پی نہیں بڑھ سکتا، اگر ترامیم اب نہیں لائی گئیں تو انفورسمنٹ کیلئے اقدامات آئندہ بجٹ میں متعارف کرائے جائیں گے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بہت زیادہ ہے اگر ان کا ٹیکس کم کرنا ہے تو تمام سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا ۔چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر میں 62 ہزار رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے صرف 42 ہزار کمپنیاں سیلز ٹیکس جمع کراتی ہیں، ایکٹیو ٹیکس گزار نہ ہونے کی صورت میں کاروبار کو سیل کیا جائے گا، منقولہ جائیداد قبضے میں لی جائیں گی اور وصول کنندہ کا تقرر کیا جائے گا۔راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر کے پاس اس وقت صرف 300 آڈیٹرز ہیں جن کی کارکردگی ناقص ہے، نئی تجاویز کے باعث ترامیم سے 95 فیصد لوگ متاثر نہیں ہوں گے، ٹیکس لا ترمیمی بل سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 5 برسوں میں 18 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں اور انفرادی سطح پر انکم ڈیکلیئریشن اور اخراجات میں فرق بہت زیادہ ہے، ٹیکس نیٹ سے باہر قابل ٹیکس آمدن افراد کیلئے پراپرٹی، بینک اکاؤنٹس اور بزنس سیل کیا جا سکے گا، ترامیم سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکس آڈٹ کیلئے 1600 سو آڈیٹر ہائر کئے جائیں گے۔چیئرمین ایف بی آرکا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کا 18 فیصد ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے صوبوں کو 3 فیصد ٹیکس جمع کر کے وفاق کو دینا ہو گا، صوبے صرف 0.8 فیصد اور پٹرولیم لیوی سے ایف بی آر کو 1 فیصد جی ڈی پی کی شرح کا ٹیکس ملتا ہے، سیلز ٹیکس میں 3 ہزار ارب روپے اور انکم ٹیکس میں 2 ہزار ارب روپے کا گیپ ہے۔راشد لنگڑیال نے اپنی بریفنگ میں مزید کہا کہ ٹیکس گزار سمجھتا ہے ٹیکس کا پیسہ ارکارن پارلیمنٹ، ججز کی تنخواہیں بڑھانے کیلئے استعمال ہوتا ہے، شبلی فراز یہاں تو سینیٹرز کی تنخواہیں ہی اتنی کم ہیں کہ گزارا بھی مشکل ہے۔

    کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

    کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

    یورپی بینک کی کراچی واٹر کارپوریشن کو تعاون فراہم کرنے کی منظوری

    یورپی بینک کی کراچی واٹر کارپوریشن کو تعاون فراہم کرنے کی منظوری

    انسانی اسمگلروں کو 33 ،33 سال قید کی سزا

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسپیکر ہاؤس میں ملاقات کی جس میں بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا اور وزیر قانون و پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا،مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرنے کی تجویز اسپیکر نے دی، ان کی تجویز کو پی ٹی آئی اور حکومت دونوں نے تسلیم کر لیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات بغیر کسی پیشگی شرائط کے ہوں گے، مذاکرات کا مقصد ملک میں سیاسی عدم استحکام اور جاری تناو میں کمی لانا ہو گا اور فریقین جلد مذاکراتی کمیٹیوں کے اراکین کے نام مشاورت سے دیں گے، اسپیکر ایاز صادق سے اس سے قبل سلمان اکرم راجا اور اسد قیصرنے بھی ملاقات کی تھی۔

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے سینیٹ میں کہا تھا کہ ہماری کمیٹی ہر کسی سے مذاکرات کے لیے تیار ہےہم نے سنجیدہ اور سینئر لوگوں پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے، ہماری مذاکراتی کمیٹی ہر ایک سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، یہ ملک ہم سب کا ہے۔

  • حکومت کا  تیز انٹرنیٹ کیلئے قومی فائبرآئزیشن پالیسی پر کام کا آغاز

    حکومت کا تیز انٹرنیٹ کیلئے قومی فائبرآئزیشن پالیسی پر کام کا آغاز

    وفاقی حکومت نے تیز رفتار انٹرنیٹ کو فروغ دینے کے لیے قومی فائبرآئزیشن پالیسی پر کام کا آغاز کردیا ہے، پالیسی ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کو سپورٹ کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

    سرکاری دستاویز کے مطابق وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے قومی فائبرآئزیشن پالیسی پر کام کا آغاز کردیا ہے، فائبرآئزیشن پالیسی شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرے گی۔اسی طرح فائبرآئزیشن پالیسی کا مقصد تیز رفتار انٹرنیٹ انفراسٹرکچر سے ملک کی ڈیجیٹل ڈیمانڈز پوری کرنا ہے، قومی فائبرآئزیشن سے براڈ بینڈ کوریج میں اضافہ ملے گا۔دستاویز کے مطابق فائبر آئزیشن پالیسی شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرے گی، پالیسی ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کو سپورٹ کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے، تعلیم، صحت اور ای گورننس کے شعبوں میں سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔آپٹیکل فائبر اور دیگر آلات سے میڈ ان پاکستان کو فروغ دیا جائے گا، ملک میں لانگ ہال آپٹیکل فائبر 75 ہزار 967 کلو میٹر ہے، ملک میں کل میٹرو آپٹیکل فائبر ایک لاکھ 35 ہزار 506 کلو میٹر ہے۔ قومی فائبرآئزیشن پالیسی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے لیے اہم کردار ادا کرے گی،پالیسی کے تحت مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

    سیالکوٹ کے بعد ساہیوال میں ظالم سسرالیوں نے بہو کو زندہ جلا دیا

    آئیڈیاز 2024 میں پہلی بار نادرا کی شرکت

    9 مئی: 4 افغان سمیت 10 ملزمان کو 6 سال قید، جرمانے