Baaghi TV

Tag: ٌاتازہ ترین

  • وزیر خارجہ اسحٰق ڈار برطانیہ کا دورہ کریں گے

    وزیر خارجہ اسحٰق ڈار برطانیہ کا دورہ کریں گے

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار 17 سے 19 اگست تک برطانیہ کا دورہ کریں گے-

    وزارتِ خارجہ (ایف او) کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ 2011 سے اینامنسڈ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں مصروف ہیں، جس نے دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کو گہرا اور وسیع کیا ہے، یہ مکالمہ تجارت، معاشی ترقی، ڈیولپمنٹ، ثقافتی تعاون، سیکیورٹی اور تعلیم جیسے شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اسحٰق ڈار لندن میں برطانیہ کی نائب وزیر اعظم اینجلا رینر، پاکستان کے لیے پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ ہی مش فالکنر کے ساتھ ملاقات کریں گے، اس کے علاوہ دولتِ مشترکہ کی سیکریٹری جنرل شرلی آیورکور بوچوے کے ساتھ ناشتے پر ملاقات بھی کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحٰق ڈار پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ایک منصوبے کا افتتاح بھی کریں گے، جو لندن میں پاکستان ہائی کمیشن میں پائلٹ کیا گیا تھا، یہ منصوبہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو زمین سے متعلق دستاویزاتی مسائل کو پاکستان میں دور سے حل کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ اسحٰق ڈار برطانوی پارلیمنٹیرینز، کشمیری رہنماؤں اور برطانوی نژاد پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔
    اس سے قبل اسی ماہ پاکستان اور برطانیہ نے اہم شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا، راولپنڈی میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران خاص طور پر دفاعی تعاون اور اسٹریٹیجک ڈائیلاگ پر زور دیا گیا تھا۔

    جولائی میں برطانیہ کی حکومت نے پاکستانی طلبہ اور کارکنوں کے لیے ای-ویزے کا اجرا کیا تھا، جو ایک جدید بارڈر اور امیگریشن سسٹم کا حصہ ہے۔

  • امیتابھ کے موزے اور لتا کی ساڑھی صرف مذاق تھا،جسےبلاوجہ اچھالا اور قومی مسئلہ بنا دیا،بُشریٰ انصاری

    امیتابھ کے موزے اور لتا کی ساڑھی صرف مذاق تھا،جسےبلاوجہ اچھالا اور قومی مسئلہ بنا دیا،بُشریٰ انصاری

    پاکستان شوبز کی ورسٹائل فنکارہ، گلوگارہ، میزبان اور مصنفہ بُشریٰ انصاری نے کہا ہے کہ،امیتابھ کے موزے اور لتا کی ساڑھی صرف مذاق تھا۔

    حال ہی میں معروف اداکارہ سوشل میڈیا پر اُس وقت شدید تنقید کی زد میں آئیں، جب ایک ٹی وی شو میں اُنہوں نے امیتابھ بچن کے موزوں اور لتا منگیشکر کی ساڑھی کی خواہش کا ہلکے پھلکے انداز میں ذکر کیا،بشریٰ انصاری نے کہا تھا کہ ان کے ایک دوست نما مداح نے ان سے شکوہ کیا تھا کہ انہوں نے ملکہ ترنم کی ساڑھی تو پہنی لیکن لتا منگیشکر کی نہیں پہنی.

    اداکارہ نے کہا کہ مداح نما دوست کے شکوہ پر انہوں نے انہیں کہا کہ وہ تو چاہتی ہیں کہ کوئی انہیں لتا منگیشکر کی ساڑھی لاکر دےانہوں نے مسکراتے بتایا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ انہیں بےشک لتا منگیشکر کی وہ ساڑھی لاکر دی جائے، جس سے ان کے اہل خانہ نے پونچھا مارا ہو، وہ اس ساڑھی کو بھی پہن لیں گی،انہوں نے مداح نما دوست کو کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ انہیں کوئی امیتابھ بچن کی دو نہیں بلکہ ایک ہی جراب بھی لاکر دے۔

    آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کپتان انتقال کرگئے

    ان کی مذکورہ بات کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان پر تنقید کی گئی تھی اور ان پر سستی شہرت حاصل کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے تھےاب انہوں نے خود پر ہونے والی تنقید پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اداکارہ ہیں، ان کا کام عوام کو تفریح فراہم کرنا ہے، اس لیے بعض اوقات وہ مذاق میں بھی بہت ساری باتیں کہ جاتی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہاکہ،میں ایک انٹرٹینر ہوں، مزاح میری شخصیت کا حصہ ہے، لیکن افسوس ہے کہ لوگ حسِ مزاح کو سمجھنے کے بجائے بات کو غلط رنگ دیتے ہیں، سستے یوٹیوبرز نے اس چھوٹی سی بات کو بلاوجہ اچھالا اور قومی مسئلہ بنا دیا۔ خدارا! مجھے اس پر جیل ہی نہ بھیج دیں-

    دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو نتائج بُھگتنا پڑیں گے، ترجمان پاک فوج

  • آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کپتان انتقال کرگئے

    آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کپتان انتقال کرگئے

    آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کپتان اور کوچ باب سمپسن 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے باب سمسن کے انتقال کی تصدیق کردی، باب سمپسن نے 1957 سے 1978 تک 62 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 4 ہزار 869 رنز بنائے جن میں 10 سنچریاں شامل ہیں وہ لیگ اسپن بولنگ بھی کرتے تھے اور 71 وکٹیں حاصل کیں۔ انہیں تاریخ کے عظیم سلپ فیلڈرز میں شمار کیا جاتا ہے۔

    سمپسن نے 1968 میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی تھی لیکن 1977 میں اس وقت دوبارہ کھیلنے کے لیے آئے جب کئی آسٹریلوی کھلاڑی ورلڈ سیریز کرکٹ میں شامل ہو گئے تھے وہ 41 برس کی عمر میں ٹیسٹ کپتان بنے اور ٹیم کی قیادت کی۔

    بطور کوچ بھی باب سمپسن کا دور یادگار رہا۔ انہوں نے ایلن بارڈر کی قیادت میں آسٹریلوی ٹیم میں نظم و ضبط پیدا کیا، جس کے بعد ٹیم نے 1987 ورلڈ کپ جیتا اور ایشز کے ساتھ فرینک وورل ٹرافی بھی اپنے نام کی۔ لیجنڈری اسپنر شین وارن نے انہیں اپنا بہترین کوچ قرار دیا تھا،انہوں نے آسٹریلیا کے علاوہ لنکاشائر، نیدرلینڈز اور بھارت کی ٹیم کے ساتھ بھی کوچ اور کنسلٹنٹ کے طور پر کام کیا۔

  • چیف الیکشن کمشنر اور 2 ارکان کیخلاف شکایات خارج

    چیف الیکشن کمشنر اور 2 ارکان کیخلاف شکایات خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا اور دیگر 2 ممبران نثار احمد اور شاہ محمد کے خلاف شکایات خارج کر دیں۔

    سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنا فیصلہ پبلک کردیا جس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا، رکن الیکشن کمیشن نثار احمد اور رکن الیکشن کمیشن شاہ محمد کے خلاف 3 الگ الگ شکایات خارج کی گئی ہیں،سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے 8 نومبر اور 13 دسمبر 2024 کو اجلاس ہوئے تھے، اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف شکایت کا جائزہ لیا گیا تھا۔

    اعلامیہ کے مطابق الیکشن کمیشن کے 2 اراکین نثار احمد اور شاہ محمد کے خلاف شکایات کا جائزہ بھی لیا گیا تھا،اعلامیے میں کہا گیا کہ دائرتین علیحدہ علیحدہ شکایات نمبرہائے 532/2021، 557/2022، 563/2022/ کا جائزہ لینے کے بعد شکایات کو خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو نتائج بُھگتنا پڑیں گے، ترجمان پاک فوج

    یاد رہے کہ 8 نومبر 2024 کو سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف دائر 10 شکایات ٹھوس ثبوت پیش نہ کیے جانے کی بنیاد پر خارج کر دی تھیں جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کے ایگزیکٹیو کی جانب سے عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے حوالے سے خط پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا تھااجلاس میں سینئر ترین جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے شرکت کی تھی، دوران اجلاس کونسل نے ایجنڈے میں شامل مختلف آئٹمز پر غور کیا گیا، کونسل نے رولز مرتب کرنے اور اس کے سیکرٹریٹ کے قیام کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔

    زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    اسی طرح 13 دسمبر 2024 کو سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کوڈ آف کنڈکٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری پروسیجر میں ترامیم کے لیے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی۔

  • زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران بڑا اضافہ ہو گیا۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہو گیا،اس اضافے کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14 ارب 24 کروڑ 32 لاکھ ڈالر ہو گئے ہیں،کمرشل بینکوں کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر 5 ارب 25 کروڑ 35 لاکھ ڈالر ہیں، 8 اگست کو ملک کے مجموعی زر مبادلہ کے ذخائر 19 ارب 49 کروڑ 67 لاکھ ڈالر تھے۔

    ادھرکریڈٹ ریٹنگ کی عالمی ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ مزید بہتر کردی ہےموڈیز نے پاکستان کے کریڈٹ آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم کردیا، عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کر کے سی ڈبل اے ون کردی ہےپاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی کریڈٹ ریٹنگ اس سے پہلے سی ڈبل اے ٹو تھی۔

    موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کرنے کی وجہ پاکستان کی بہتر بیرونی پوزیشن ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں جاری ریفارمز بھی اپ گریڈ کا سبب ہیں،توقعات ہیں کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھتے رہیں گے، پاکستان کو آفیشلز پارٹنرز کی ضرورت رہے گی۔

  • ایک ہفتے میں مہنگا ئی کی شرح میں 0.31 فیصد اضافہ

    ایک ہفتے میں مہنگا ئی کی شرح میں 0.31 فیصد اضافہ

    وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے،جس کے مطابق ایک ہفتے میں مہنگا ئی کی شرح میں 0.31 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پرمہنگائی کی شرح میں 2.21 فیصد اضافہ ہوا۔

    ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 17 اشیاء مہنگی، 9 اشیاء سستی جبکہ 25 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا،گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چینی فی کلو 52 پیسے تک مہنگی ہوئی، آٹا 21 روپے 18 پیسے فی تھیلا مہنگا ہوا، ٹماٹر، مرغی، انڈے، پیاز، لہسن، گندم کا آٹا، گڑ، دال ماش اور لکڑی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔

    ایک ہفتے کے دوران کیلے کی فی درجن قیمت میں تقریباً 4 روپے کمی ہوئی، آلو کی قیمت میں ایک روپے 37 پیسے، ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 10 روپے 39 پیسے تک کم ہوئی،دال چنا، مونگ، مسور، گھی، نمک، چاول، دال مسور، چنے، چاول اور نمک بھی سستی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں جبکہ تازہ دودھ، دہی، سگریٹ، بریڈ سمیت 25 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

    نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    ٹرمپ ،پیوٹن ملاقات،روس یوکرین جنگ بندی فیصلہ نہ ہو سکا

    ٹرمپ ،پیوٹن ملاقات،روس یوکرین جنگ بندی فیصلہ نہ ہو سکا

  • نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے.

    13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے نصرت فتح عل خان نے اپنے استاد مبارک علی خان سے موسیقی کی ابتدائی تعلیم حاصل کر کے قوالی کی دنیا میں اپنا نام بنایا،نصرت فتح علی خان کی دم مست قلندر علی علی جیسی قوالیاں دنیا بھر میں مقبول ہوئیں اور انہوں نے صوفیانہ کلام کو نئی نسل تک ایک نئے انداز میں پہنچایا۔

    1971 میں حق علی علی سے ملنے والی پہلی عوامی پذیرائی کے بعد انہوں نے ایک ہزار سے زائد قوالیاں، 125 البمز ریلیز کیے اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروا کر دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن کر ملک کا نام روشن کیا1995 میں کینیڈا کے گٹارسٹ مائیکل بروک کے ساتھ ان کے فیوژن پروجیکٹس اور پیٹر گیبریل کے ساتھ البم "مست مست” نے انہیں عالمی سطح پر موسیقی کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔

    پرائیڈ آف پرفارمنس، یونیسکو میوزک ایوارڈ سمیت دنیا کے کئی بڑے اعزازات استاد نصرت فتح علی خان کے نام ہوئے وہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی ان کے چرچے ہوئے اور انہوں نے بھارتی فلموں کیلئے بھی کئی گیت گائےاستاد نصرت فتح علی خان 16 اگست 1997 کو لندن میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے نصرت فتح علی خان کی قوالیاں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور آج بھی مداح ان کی آواز سُن کر جھوم اُٹھتے ہیں

  • دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، کئی مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب

    دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، کئی مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب

    مون سون بارشوں اور گلیشیئرز پگھلنے کے نتیجے میں پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ تربیلا اور تونسہ بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 68 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے اور وہاں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

    اسی طرح دریائے جہلم اور دریائے چناب کے اہم مقامات پر پانی کی صورتحال فی الحال معمول کے مطابق ہے، تاہم نالہ پلکھو کینٹ میں نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے اسی طرح دریائے راوی کے مقامات پر بہاؤ معمول کے مطابق ہے لیکن نالہ بسنتر میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جس سے نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

    ڈیمز کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تربیلا ڈیم 98 فیصد جب کہ منگلا ڈیم 68 فیصد بھر چکا ہے۔ تربیلا ڈیم کا لیول 1547.94 فٹ اور منگلا ڈیم کا لیول 1211.15 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ دریاؤں کے پاٹ میں موجود افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں،شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دریاؤں، نہروں، ندی نالوں اور تالابوں میں ہرگز نہ نہائیں اور سیلابی صورتحال میں دریاؤں کے کناروں پر سیر و تفریح سے گریز کریں۔

    حکام نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو کسی صورت دریاؤں یا ندی نالوں کے قریب نہ جانے دیں ایمرجنسی کی کسی بھی صورتحال میں شہری پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پی ڈی ایم اے پنجاب کی اولین ذمہ داری ہے۔

    ادھرمحکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا میں آج موسم مرطوب اور مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہے جبکہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارش متوقع ہے، پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، صوابی، چترال، دیر، سوات، بونیر اور مالاکنڈ سمیت مختلف علاقوں میں بارش ہوگی۔ اسی طرح باجوڑ، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ، ہری پور اور ایبٹ آباد میں بھی بارش کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ خیبر، مہمند، کرم، اورکزئی کے علاوہ جنوبی اضلاع بنوں، کوہاٹ، ہنگو، کرک اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں بھی بارش ہوگی،بارش کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے جبکہ چترال، سوات، بونیر، دیر، شانگلہ اور کوہستان سمیت بٹگرام، تورغر، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

    گزشتہ روز بھی صوبے کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی،سب سے زیادہ بارش تیمرگرہ میں 98 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، مالم جبہ میں 76 ملی میٹر، کاکول میں 64 ملی میٹر جبکہ بالاکوٹ اور سیدو شریف میں 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، پشاور میں کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ آج درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ مالم جبہ میں درجہ حرارت 16 ڈگری اور کالام میں 17 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • وزیراعظم نے "نشان پاکستان” لینے سے معذرت کر لی

    وزیراعظم نے "نشان پاکستان” لینے سے معذرت کر لی

    سول و ملٹری ایوارڈز کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کا نام”نشان پاکستان” کے لیے تجویز کیا تھا تاہم وزیراعظم نے اپنا نام اس فہرست سے نکال دیا۔

    آج ایوان صدر میں ہونے والی پروقار تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے سول و عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازت سے نوازا،اس حوالے سے ذرائع کا بتانا ہے کہ کمیٹی نے وزیراعظم شہبازشریف کا نام "نشان پاکستان” کے لیے تجویز کیا تھا تاہم کمیٹی کی بھیجی گئی سمری ملنے پر وزیراعظم نے اپنا نام فہرست سے نکال کر باقی تمام ناموں کی منظوری دیدی۔

    اس کے علاوہ سینئر صحافیانصار عباسی نے بھی معرکہ حق ایوارڈ لینے سے معذرت کی،انصار عباسی نے سیکرٹری کابینہ کو ایوارڈ نہ لینے کے فیصلے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم معرکہ حق ایوارڈ کی حق دار ہے ، انہوں نے کوئی ایسا غیر معمولی کام نہیں کیا اور جو کیا وہ ان کا فرض تھا۔

    26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    ہم نے آزادی کا تحفظ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنا دفاع کرنا جانتی ہے،عطا اللہ تارڑ

    26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

  • 26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس  نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کا جوابی خط،منظر عام پر آگیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے اپنا جوابی خط جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے 31 اکتوبر کے اجلاس پر لکھا تھادونوں ججز نے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کو 4 نومبر 2024 کو فل کورٹ کے سامنے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ ان جیسے تمام سوالات کے جوابات میٹنگ منٹس اور چیف جسٹس کے خط میں سامنے آگئے۔

    چیف جسٹس پاکستان کے خط کے متن کے مطابق آرٹیکل 191 اے کے تحت آرٹیکل 183/3 کی درخواست آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق 4 کے تحت ججز آئینی کمیٹی ہی کیس فکس کرنے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق تین اے کے تحت آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، آرٹیکل 191 اے کی شق چار کے تحت آئینی بینچ کے ججز پر مشتمل کمیٹی کو معاملہ سپرد کیا جاتا ہے نہ کہ ججز ریگولر کمیٹی کو۔

    خط میں کہا گیا کہ ججز کمیٹی 2023 ایکٹ کے تحت تشکیل دی گئی اور کمیٹی کے اپنے بھائی ججز اراکین کی اس تشویش کو سمجھتا ہوں جو چھبیسویں ترمیم کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حوالے سے ہے، میں نے ذاتی طور پر سپریم کورٹ کے 13 ججز سے رائے لی، جس میں اُن سے پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ کے دو ججز (جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر) نے کہا کہ آرٹیکل 184کی شق تین کے تحت دائر کی گئی 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، کیا ایسا 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہو سکتا ہے؟

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ سپریم کورٹ کے 13 ججز میں سے 9 جج صاحبان کا موقف تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو فل کورٹ کے بجائے آئینی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، جب ججز کی رائے آچکی تو یہ حقائق دونوں بھائی ججوں (جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر) کو بتا دیے گئے اور انھیں 13 ججز کے نقطہ نظر سے بھی آگاہ کر دیا گیا، بطور چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ اجلاس بلانے کو مناسب نہیں سمجھا، کیونکہ ایسا کرنے سے نہ صرف ججز کے درمیان انتہائی ضروری باہمی روابط کی روح مجروح ہوتی بلکہ اس سے سپریم کورٹ عوامی تنقید کا نشانہ بھی بن سکتی ہے، جیسا کہ افسوس کے ساتھ ماضی قریب میں ہوتا رہا ہے۔

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ اسی پس منظر میں، چیف جسٹس آف پاکستان کے دفتر کو دوپہر کے بعد کافی دیر سے، میرے دو بھائی ججز کے خطوط موصول ہوئے۔ کمیٹی نے سربمہر لفافوں میں اپنی رائے دی، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد اور سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر کردہ 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کا حکم دینے کی درخواست کر رہے ہیں،مجبوراً، میں نے یہ دو خطوط اور ان کے جوابات (سربمہربند لفافوں میں) سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کے حوالے کر دیے ہیں تاکہ وہ محفوظ طریقے سے رکھے جائیں، یہاں تک کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جو 5 نومبر 2024ء کو بلایا گیا، منعقد ہو۔

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ میں اس اجلاس میں جوڈیشل کمیشن سے درخواست کروں گا کہ وہ میرے علاوہ سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز کو آئینی بینچ کے اراکین کے طور پر نامزد کرے، تاکہ آئین کے آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق (3) کے کلاز (اے) کے تحت تشکیل دی گئی کمیٹی یا آئینی بینچ کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ آرٹیکل 184 کے تحت دائر کردہ 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو پاکستان کے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے سامنے پیش کر سکے۔

    چیف جسٹس نے خط میں واضح کیا کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے تحت بینچز کی تشکیل کے لیے کمیٹی کا اجلاس بلانا یا پاکستان کے سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دینا یقیناً آئین کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔