Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،ایرانی وزیر خارجہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ حالیہ رابطوں سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ان کا آخری رابطہ امریکی ایلچی سے اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا میرا آخری رابطہ مسٹر وٹکوف سے اُس وقت ہوا جب ان کے آجر نے ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملے کے ذریعے سفارتکاری کو ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا،اس کے برعکس تمام دعوے گمراہ کن ہیں اور ان کا مقصد صرف تیل کے تاجروں اور عوام کو غلط معلومات فراہم کرنا ہے۔

    اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ حالیہ دنوں میں وٹکوف اور عراقچی کے درمیان براہِ راست رابطے کا چینل دوبارہ فعال کیا گیا ہےرپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ عباس عراقچی نے اسٹیو وٹکوف کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجے۔

    سردی کی لہر واپس ،17 سے 20 مارچ تک بارشوں کی پیشگوئی

    دوسری جانب ”ڈراپ سائٹ نیوز“ نامی پلیٹ فارم نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ اسٹیو وٹکوف نے عباس عراقچی کو پیغامات بھیجے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق عراقچی ان پیغامات کو نظر انداز کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت متعدد افراد شہید ہوئے ایران نے بھی اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    کراچی: دبئی شاپنگ مال کے بیسمنٹ میں گودام میں آتشزدگی،2 فائر فائٹر بے ہوش

  • ایران کیخلاف جنگ : امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل،  ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی

    ایران کیخلاف جنگ : امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل، ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی

    ایران کیخلاف جنگ سے ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

    ایران کے خلاف جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں ایک جانب پارٹی کے کئی بااثر رہنما اور کارکن اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسری طرف متعدد قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضرو ری قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیل کی جنگ ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے،مبصرین کے مطابق اس اختلاف نے پارٹی کے اندر نظریاتی تقسیم کو واضح کر دیا ہے جو آئندہ انتخابات میں بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

    اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے،صدر مملکت

    امریکی میڈیا کی معروف شخصیت ٹکر کارلسن نے کھل کر کہا کہ امریکا کو اس تنازع سے جلد نکل جانا چاہیے،کارلسن، جو طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں، نے مبینہ طور پر گزشتہ ماہ صدر سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔

    ریپبلکن ووٹروں میں بھی اس جنگ پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا، اگرچہ کچھ حلقے اس اقدام کو ضروری قرار دیتے ہیں، تاہم بڑی تعداد اسے غیر ضروری خطرہ سمجھتی ہے،امریکا میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں صدور کی مقبولیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، مگر اس بار صورتحال مختلف ہے، ایران کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

    کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    ایک عوامی سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ جماعتی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو تقریباً 89 فیصد ڈیموکریٹس جنگ کے مخالف ہیں جبکہ تقریباً 77 فیصد ریپبلکن اس کی حمایت کرتے ہیں تاہم ریپبلکن ووٹروں کے اندر بھی واضح تقسیم موجود ہے۔ جو ووٹر خود کو “میگا” یعنی ٹرمپ کے سخت حامی قرار دیتے ہیں ان میں تقریباً دس میں سے نو افراد جنگ کے حامی ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن جو خود کو اس گروپ سے وابستہ نہیں سمجھتے ان میں حمایت کم اور مخالفت زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

    امریکی پوڈکاسٹر جو روگن نے اس جنگ کو “انتہائی پاگل پن” قرار دیا ہے، اسی طرح سابق رکنِ کانگریس میجوری ٹیلر گرین نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے مزید بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

    کانگریس کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ایک ایسے بل کی حمایت کی جس کے ذریعے کانگریس کو جنگ پر ویٹو کا اختیار دیا جا سکتا تھا، تاہم یہ تجویز کامیاب نہ ہو سکی، اب تک جنگ سے متعلق واقعات میں کم از کم 13 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عراق میں طیارہ حادثے میں مارے جانے والے چھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

  • امریکی فوجیوں کا خون ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہے،سپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    امریکی فوجیوں کا خون ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہے،سپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر، محمد باقر نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کا خون ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہے۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کر دیا،ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران جنگ میں آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول پر عمل کرے گا ایران ہر جارحانہ عمل کا متناسب اور فوری جواب دے گا، ایران بغیر کسی ہچکچاہٹ اور بغیر کسی استثنیٰ کے جوابی کارروائی کرے گا اور اگر انہوں نے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو ہم بھی اسی انداز میں جواب دیں گے۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر، محمد باقر نے تقریباً 12 مارچ 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید علاقائی تنازعے کے درمیان بیان بازی کو بڑھاتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔ ان کا یہ بیان خلیج فارس میں ایران کے زیر کنٹرول جزیروں کو نشانہ بنانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کے خلاف براہ راست انتباہ تھا، خاص طور پر جزیرہ خرگ (ایران کا مرکزی آئل ٹرمینل) یا ابو موسی، گریٹر تنب اور کم تنب کے متنازعہ جزیروں پر ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملوں کے جواب میں سامنے آیا-

    وزیراعظم شہباز شریف اہم دورے پر سعودی عرب روانہ

    "ایرانی جزیروں کی سرزمین کے خلاف کوئی بھی جارحیت تمام تحمل کو توڑ دے گی،ہم تمام تحمل کو ترک کر دیں گے اور خلیج فارس کو حملہ آوروں کے خون سے رنگ دیں گے،امریکی فوجیوں کا خون ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہے،یہ تبصرے 2026 کے اوائل میں ایک وسیع تر، انتہائی بڑھتی ہوئی صورتحال کا حصہ تھے جہاں ایران نے اپنی سرزمین پر حملوں کے بعد "بے قابو نتائج” سے خبردار کیا تھا۔

    گورنر سندھ کی تبدیلی: ایم کیو ایم کا سخت ردعمل، حکومت چھوڑنے کا عندیہ

  • ٹرمپ اور ایپسٹین کا مزاحیہ مجسمہ واشنگٹن میں نصب

    ٹرمپ اور ایپسٹین کا مزاحیہ مجسمہ واشنگٹن میں نصب

    امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کانگریس کی عمارت کے قریب ایک متنازع مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو ٹائٹینک فلم کے مشہور منظر کی طرح دکھایا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس مجسمے کا نام ’کنگ آف دی ورلڈ‘ رکھا گیا ہے اور اسے ایک گمنام فنکار یا فنکاروں کے گروپ نے نصب کیا ہے جو دی سیکرٹ ہینڈ شیک کے نام سے کام کرتا ہے اس مجسمے میں ٹرمپ کو ایپسٹین کو تھامے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ منظر ہالی ووڈ فلم ٹائٹینک کے مشہور سین سے متاثر ہے جس میں فلم کے کردار جہاز کے اگلے حصے پر کھڑے ہوتے ہیں۔

    مجسمے کے ساتھ لگے ایک تختی میں لکھا گیا ہے کہ یہ یادگار ٹرمپ اور ایپسٹین کے درمیان تعلقات پر طنز کے طور پر بنائی گئی ہے اس کے اطراف میں ایپسٹین اور ٹرمپ کی تصاویر والے بڑے بینرز بھی لگائے گئے ہیں۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی خبروں پر ایرانی صدر کے بیٹے کا بیان جاری

    رپورٹس کے مطابق یہ مجسمہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں ایپسٹین کیس سے متعلق کچھ خفیہ ایف بی آئی دستاویزات جاری کیں جن میں ٹرمپ کے خلاف بھی الزامات کا ذکر کیا گیا ہے-

    ایران کا خطے میں اسرائیل اور امریکا کے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کا اعلان

  • ایران جنگ :ٹرمپ نےحملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی

    ایران جنگ :ٹرمپ نےحملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے فیصلے سے متعلق بڑا یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اقدام کی جانب ان کے قریبی مشیروں نے مائل کیا تھا۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے متعلق صورتحال تیزی سے ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئی تھی جسے انہوں نے پوائنٹ آف نو ریٹرن قرار دیا مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، مشیر جیر ڈ کشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ مشاورت کے بعد انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ایران امریکا پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، اگر امریکا پیشگی کارروائی نہ کرتا تو ایران ایک ہفتے کے اندر حملہ کر سکتا تھا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ایران کی 51 بحری کشتیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ ڈرون بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایرانی ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آئی ہے،امریکا کے پاس ایسے کم لاگت دفاعی انٹرسیپٹر موجود ہیں جو ایرانی ڈرون خطرات کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔

    امریکا کا آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے عالمی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے یا آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا سخت فوجی ردعمل دے گا، عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے بعض تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہےایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم بھی ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے تہران کو مزید کشیدگی سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔

    انہوں نے ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر مبینہ حملے کی اطلاعات کی تحقیقات جاری ہونے کا بھی ذکر کیا اور ایران کی نئی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہوگا آیا وہ امن کی راہ اختیار کرتی ہے یا نہیں۔

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ

  • مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور ایرانی سپریم لیڈر نامزدگی پر ٹرمپ کا براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز

    مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور ایرانی سپریم لیڈر نامزدگی پر ٹرمپ کا براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ممکنہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

    اسرائیلی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے اس معاملے پر مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے حوالے سے فیصلہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اتفاقِ رائے سے کیا جائے گااس معاملے پر ان کی نیتن یاہو سے بات چیت ہو چکی ہے اور مناسب وقت پر فیصلہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انجام بھی وہی ہو سکتا ہے جو ان کے والد کا ہوا۔

    قطر میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزامات پر سینکڑوں افراد گرفتار

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا ہے ایران کی مجلس خبرگان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد برقرار رکھا جائے اور نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا جائے۔

    رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی وہ عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے، تاہم وہ کئی دہائیوں سے ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات بھی بتا ئے جاتے ہیں۔

    ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو عالمی امن اور سلامتی کی معمولی قیمت قرار دیا

  • ٹرمپ نے ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری کرسٹی نوم کو عہدے سے ہٹا دیا

    ٹرمپ نے ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری کرسٹی نوم کو عہدے سے ہٹا دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیکرٹری ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم کو عہدے سے ہٹادیا-

    خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا تھاکہ وہ شدید تنقید کا سامنا کرنے والی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ اوکلاہوما سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر مارک وین مولن کو تعینات کریں گے۔

    ٹرمپ کی جانب سے یہ فیصلہ کانگریس میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی سخت سماعتوں کے بعد کیا گیا، جن میں کرسٹی نوم کی قیادت اور محکمہ کی امیگریشن نفاذ سے متعلق کارکردگی پر شدید سوالات اٹھائے گئے تھے۔

    روس انٹیلیجنس شیئر کر بھی رہا ہو تو ایران کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا،ٹرمپ

    ٹرمپ نے اس تبدیلی کا اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا اور کہا کہ وین مولن 31 مارچ سے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکرٹری کا عہدہ سنبھالیں گے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کرسٹی نوم اب شیلڈ آف دی امیریکاز کی خصوصی ایلچی کے طور پر خدمات انجام دیں گی، جو ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی سے متعلق عہدہ ہے جسے ان کی انتظامیہ اس ہفتے کے آخر میں فلوریڈا میں پیش کرے گی۔

    بھارتیوں نے مودی اسٹیڈیم کو اپنی ٹیم کے لیے منحوس قرار دیا

    نوم کا دور، جو 2025 کے اوائل میں اس کی تصدیق کے ساتھ شروع ہوا، ٹیکس دہندگان کے فنڈز کے فضول اور بے جا استعمال کے الزامات سے دوچار تھا۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے نے، اس کی قیادت میں، دو گلف اسٹریم G700 لگژری جیٹ طیارے خریدے جن کی قیمت 172 ملین ڈالر سے 200 ملین ڈالر تھی، حکومتی شٹ ڈاؤن اور بجٹ کی رکاوٹوں کے دوران ایجنسی کے بجٹ کے ذریعے فنڈز فراہم کیے گئے۔ ان طیاروں کو لانگ رینج کمانڈ اینڈ کنٹرول، ملک بدری کی کارروائیوں، اور خود نویم سمیت سینئر حکام کے لیے محفوظ سفر کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا۔

    ناقدین، بشمول ڈیموکریٹک قانون ساز وں نے خریداریوں کو غیر اخلاقی اور ممکنہ طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی، یہ دلیل دی کہ انہوں نے تباہی سے نجات یا کوسٹ گارڈ کے فرسودہ آلات جیسی اہم ضروریات پر ذاتی عیش و آرام کو ترجیح دی اضافی ہوائی جہاز حاصل کرنے کے منصوبوں پر مزید جانچ پڑتال ہوئی، جس میں ایک بوئنگ 737 بھی شامل ہے جس کی قیمت تقریباً 70 ملین ڈالر ہے، جسے اکثر رپورٹس میں "بڑا خوبصورت جیٹ” کہا جاتا ہے جس میں پرائیویٹ بیڈروم سویٹس، شاورز، بائیڈٹس، ایک گیلے بار، اور وائن چلر جیسی شاندار خصوصیات ہیں۔

    ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں میں اضافے کی وجہ کیا؟سابق سی آئی اے افسر نےبتادیا

    نوم نے اخراجات کا دفاع لاگت کی بچت کے اقدامات کے طور پر کیا جس سے زیادہ مہنگی معاہدہ شدہ پروازوں پر انحصار کم ہو جائے گا اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ تاہم، سینیٹ کی سماعتوں میں سین۔ شیلڈن وائٹ ہاؤس جیسی شخصیات سے شدید سوالات کیے گئے، جنہوں نے ان پر جیٹ طیاروں کے ذاتی استعمال پر دباؤ ڈالا اور آیا کہ وہ واقعی آپریشنل مقاصد کی تکمیل کرتے تھے یا وفاقی وسائل کے غلط استعمال کے مترادف تھے۔

  • ٹرمپ نے پرائمری سکول پر بمباری میں  175 افراد کی شہادت کا الزام ایران پر عائد کر دیا

    ٹرمپ نے پرائمری سکول پر بمباری میں 175 افراد کی شہادت کا الزام ایران پر عائد کر دیا

    امریکا و اسرائیل حملے کی ایران میں سکول پر بمباری اور 175 افراد کی شہادتوں کا الزام ٹرمپ نے ایران پر عائدکر دیا-

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور صدر ٹرمپ نے ایران کے ایک اسکول پر ہونے والے ایک مہلک حملے کے بارے میں بی بی سی کے صحافی کے سوال پر روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 28 فروری کو ایران کے جنوبی شہر میں واقع ایک گرلز پرائمری اسکول پر فضائی حملے میں 168 طالبات کی شہادت کی تصدیق ہوئی تھی۔

    رپورٹر نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے اندر سکول پر بمباری کرکے 175 بچوں کو مار دیا ؟ جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ نہیں یہ ایران نے کیا تھا۔

    ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں میں اضافے کی وجہ کیا؟سابق سی آئی اے افسر نےبتادیا

    ٕٕٕٕٕٕ

    تاہم رپورٹر نے یقین نہ کرتے ہوئے ٹرمپ کو نظر انداز کرکے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ سے سوال ، کیا یہ درست بات ہے مسٹر ہیگستھ ؟جس پر ہیگیستھ نے مبہم جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کی تحقیقات کر رہے ،جبکہ اس دوران ٹرمپ نے ڈھٹائی برقرار رکھی اور بولے کہ میں کہہ رہا ہوں یہ ایران نے ہی کیا ہے-

    علاوہ ازیں گزشتہ روز جب پینٹاگون میں امریکی وزیر دفاع میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے تو اس دوران بی بی سی کے صحافی نے پوچھا کہ کیا امریکی فوج اس حملے کی ذمہ دار ہے؟ شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے الزامات پر آپ کیا کہیں گے؟

    امریکا نے جزیرہ قشم میں صاف پانی کے پلانٹ پر حملہ کرکے ایک نیا اور سنگین جرم کیا ہے، ایران

    اس سوال کے جواب میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے کے بارے میں صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ابھی اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    جب صحافی نے پوچھا کہ اتنی انٹیلی جنس کے باوجود بھی بچیوں کے اسکول پر بمباری کیسے ہوگئی؟ آپ کے پاس اس وقت کیا معلومات ہیں؟

    تو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صرف اتنا کہ کہ امریکی فوج عام طور پر شہری اہداف کو نشانہ نہیں بناتی تاہم اس خاص واقعے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فی الوقت میں یہی کہہ سکتا ہوں۔

    ناروے میں امریکی سفارت خانے کے باہر زور دار دھماکا

    یاد رہے کہ پرائمری اسکول پر حملے میں 160 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جن میں زیادہ تر کم عمر طالبات شامل تھیں حملے کے وقت بچے کلاسوں میں موجود تھےادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس حملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے،امریکا اور اسرائیل نے اب تک اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے جبکہ امر یکی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی تنصیبات اور میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنانا ہے۔

  • ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں میں اضافے کی وجہ کیا؟سابق سی آئی اے افسر نےبتادیا

    ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں میں اضافے کی وجہ کیا؟سابق سی آئی اے افسر نےبتادیا

    سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھ سے جتنی صورت حال باہر نکلتی جائے گی ، وہ اور زیادہ دھمکیوں پر اتر آئے گا۔

    ایران کے خلاف ٹرمپ کے تند و تیز موقف پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے کہا ہے کہ ایران کے غیر مشروط طور پر تسلیم ہونے کا منصوبہ بنیادی طور پر بے معنی بات ہے اس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ سمجھ گیا ہے کہ میدانی صورت حال بہت زیادہ خراب اور پیچیدہ ہوچکی ہے اور اس کے کنٹرول سے باہر نکلتی جارہی ہے۔

    امریکا نے جزیرہ قشم میں صاف پانی کے پلانٹ پر حملہ کرکے ایک نیا اور سنگین جرم کیا ہے، ایران

    امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ نے کہا کہ ٹرمپ جیسے جیسے یہ محسوس کرے گا کہ علاقے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اس کی توقع کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی تو اس کا لب و لہجہ تند و تیز اور لفظوں کی ادائیگی بے ربط ہو جائے گی، حقیقت یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم امریکہ ایران میں اپنی من پسند حکو مت کیسے لائے گا ، جبکہ یہ ایسے میں ہے کہ ایران کے عوام اپنے نظام کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں اور اپنی ارضی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھر پور استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اگر امریکی فوج ایران کی سرزمین میں داخل ہوئی تو امریکہ کو منہ کی کھانی پڑے گی اور اسی دلدل میں پھنس جائے گا جس سے نکلنا ممکن نہ ہوگا۔

    کویت میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچا دی گئیں

  • ٹرمپ کے قتل کی سازش :امریکا میں پاکستانی شہری کو  قصوروار قرار دیا گیا

    ٹرمپ کے قتل کی سازش :امریکا میں پاکستانی شہری کو قصوروار قرار دیا گیا

    امریکا میں پاکستانی شہری کو ٹرمپ کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے پر سزا سنا دی گئی-

    امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ کو بتایا کہ عاصف مرچنٹ نامی پاکستانی شہری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی رہنماؤں کو قتل کرنے کی سازش کرنے کے جرم میں قصوروار قرار دیا گیا ہے،ملزم پر الزام تھا کہ وہ 2020 میں ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں ایران کے احکامات پر ٹرمپ، صدر جو بائیڈن اور نکی ہیلی سمیت دیگر سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    محکمہ انصاف کے مطابق مرچنٹ پر ‘قتل کے لیے بھرتی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی کوشش’ کا الزام ہے، جس کی نگرانی ایران کی طرف سے کی گئی تھی،مرچنٹ نے اعتراف کیا کہ اس نے ایرانی اسلامی انقلابی گارڈز کور کے ساتھ سازش میں شامل ہوا، مگر الزام ہے کہ وہ یہ سب اپنی فیملی کے تحفظ کے لیے کر رہا تھا، سیکیورٹی فورسز نے حملے کو بروقت ناکام بنا دیا، جب ایک شخص نے اپریل 2024 میں مرچنٹ کے منصوبے کی اطلاع دی اور خفیہ اطلاع دہندہ بن گیا۔

    افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، این آر ایف

    ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک کیخلاف حملے روکنے کا اعلان

    دبئی ایئر پورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا