Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کا عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان

    ٹرمپ کا عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان کر دیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی کے وائٹ ہاؤس پہنچنے پر ان کا استقبال کیا اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا عراق کے ساتھ متعدد بڑے معاہدے کرے گا جن میں تیل کے شعبے میں تعاون کو وسعت دی جائے گی امریکی کمپنیوں کے ذریعے عراق سے تیل نکالنے اور دونوں ممالک میں روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں گے عراق اپنے تیل کے وسیع ذخائر کے باعث بے پناہ معا شی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکا دونوں ممالک کے درمیان ایسے معاہدے کرے گا جن سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ عراق سے بہت زیادہ تیل نکالا جائے گا اور یہ کام زیادہ تر امریکی کمپنیاں انجام دے رہی ہیں معاہدوں سے امریکا اور عراق دونوں کو اقتصا دی فوائد حاصل ہوں گے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 فیصد فیس واپس لے رہے ہیں اور اس 20 فیصد فیس کو تجارتی اور سرمایہ کا ری کے معاہدوں سے بدلنے کا فیصلہ کیا ہے خلیجی ممالک بدلے میں امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے مشرق وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کے بعد فیس واپس لینے کا فیصلہ کیا امریکا دوبارہ جیت رہا ہے اور ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہو گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی دوبارہ بحری ناکہ بندی کرنے کا بھی اعلان کر دیا انہوں نے کہا کہ مجھے مختلف ممالک کے رہنماؤں کی فون کالز موصول ہوئیں، اور سعودی عرب، قطر، بحرین اور یو اے ای کے رہنماوں سے گفتگو ہوئی رہنماؤ ں نے کہا آبنائے ہرمز سے گزرنے کی فیس کے بجائے امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے خلیجی ریاستیں امریکا میں سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہیں تو یہ ز یادہ بہتر ہے کسی کو بھی آبنائے ہرمز سے فیس وصول کر نے کا حق نہیں ہونا چاہیئے۔ اور مجھے بھی آبنائے ہرمز کے استعمال پر فیس وصول کرنے کا تصور پسند نہیں ہے عراق کو مدد کی ضرورت ہوئی تو امریکا موجود ہو گا جبکہ میں نے ایران کو معاہدہ کر کے ایک موقع دیا۔

  • ٹرمپ کا یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

    ٹرمپ کا یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور خطے کے تحفظ پر آنے والے اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔

    ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکا کو ان اخراجات کی ادائیگی کی جائے، کیونکہ امریکا دنیا کے امیر ترین خطوں میں سے ایک کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھا رہا ہے،میں چاہتا ہوں کہ یہ اخراجات ہمیں واپس ملیں، کیونکہ ہم ایک ایسے خطے کی حفاظت کر رہے ہیں جو دنیا کے امیر ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، ہم اس پر بہت زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں، اس لیے اس تحفظ کی قیمت وصول کریں گے۔

    صدر ٹرمپ نے اس موقع پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک خطے کے استحکام اور امریکی سکیورٹی انتظامات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے انہیں بھی ان اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔

    دوسری جانب تاحال سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر یا بحرین کے ٹرمپ کے اس مطالبے کو قبول کر نے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی-

  • ٹرمپ نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے

    ٹرمپ نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں-

    مریکی صدر کو لے جانے والا خصوصی طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جہاں اجلاس کے دوران نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے حالانکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ملکوں پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے تاہم امریکی صدر نے ایک بار پھر اس اجلاس سے قبل نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس سے قبل نیٹو کے رکن ممالک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں مناسب تعاون نہیں کر رہے نیٹو کے کئی ارکان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    اُدھر یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بڑی حد تک اپنی ذمہ داریاں پوری کیں انہوں نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ انہیں ایران کے خلاف کارروائی سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی نیٹو پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں رواں سال اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نیٹو سے نکلنے پر بالکل غور کر رہا ہوں، کیونکہ مجھے اس اتحاد سے شدید ناگواری ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے علیحدگی کی بات کی ہو اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دیگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہیں کرتے تو امریکا اتحاد چھوڑ سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے زیر غور آ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 ممالک کے بڑے رہنما شریک ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو ایسے ملکوں کے صدر بھی آئے ہیں جو نیٹو کا حصہ نہیں ہیں، جن میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے لی جے میونگ شامل ہیں اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے بھی اپنے وزیرِ دفاع یا وزرائے خارجہ بھیجے ہیں، اور خلیجی ممالک جیسے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی اپنے وزیر بھیج رہے ہیں جو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    الجزیرہ کے مطابق دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹو امریکا کے بغیر بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے اور یورپی ممالک ایک الگ دفاعی اتحاد بھی قائم کر سکتے ہیں، تاہم امریکا کی علیحدگی سے یورپ کو شدید دفاعی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ماہرین کے مطابق یورپ کئی اہم دفاعی شعبوں میں امریکا پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے ان میں انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی، سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات کا حصول، فوجی رسد کی فراہمی، فضائی اور میزائل دفاعی نظام جیسی اہم صلاحیتیں شامل ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نیٹو سے الگ ہو جاتا ہے تو یورپی ممالک کو ان صلاحیتوں کا متبادل تیار کرنے میں کم از کم ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے تقریباً ایک کھرب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مرضی سے فوری طور پر امریکا کو نیٹو سے نہیں نکال سکتے امریکی قانون کے تحت نیٹو سے باضابطہ علیحدگی کے لیے امریکی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یا پھر کانگریس سے قانون کی منظوری درکار ہوگی فی الحال ایسا ہونا آسان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے متعدد قانون ساز اب بھی نیٹو کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اسی وجہ سے مستقبل قریب میں امریکا کے نیٹو سے باضابطہ انخلا کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔

  • امریکا ایران مذاکرات رواں ماہ پاکستان میں ہوں گے،صدر ٹرمپ کی بھی  پاکستان آمد کا امکان ہے،سابق مشیر

    امریکا ایران مذاکرات رواں ماہ پاکستان میں ہوں گے،صدر ٹرمپ کی بھی پاکستان آمد کا امکان ہے،سابق مشیر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر ساجد تارڑ نے کہا ہے کہ 11 جولائی کو ایران امریکا مذاکرات اِسلام آباد میں ہونے کے حوالے سے خبر محض افواہ نہیں ہے۔

    نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ساجد تارڑ نے کہاکہ میں اس ویک اینڈ پر ریپبلیکن پارٹی کے لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتا رہا ہوں تو وہاں باتیں ہو رہی تھیں کہ پاکستان کون کون جائے گا اور کسی اہم شخصیت کے پاکستان جانے کا ذکر بھی ہو رہا تھا، 11 جولائی کو تو نہیں لیکن آنے والے دنوں میں ممکنہ طور پر نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے پاکستان جانے کا مضبوط امکان موجود ہے جبکہ چند مہینوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان آمد کا بھی امکا ن ہےاس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہےکہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف دونوں یہودی ہیں اور ایرانی ان کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس نہیں کرتے جبکہ جے ڈی وینس کے ساتھ وہ بہتر محسوس کرتے ہیں، اس لیے زیادہ امکان ہے کہ جے ڈی وینس پاکستان جائیں۔

    ساجد تارڑ نے کہاکہ دراصل صدر ٹرمپ آنے والے مڈٹرم انتخابات میں ’اسلام آباد اکارڈ‘ کو اپنی ایک فتح کے طور پر پیش کرنا چاہ رہے ہیں اور ایسا ہو بھی رہا ہے،یہ جنگ امریکا کی نہیں دراصل اسرائیل کی تھی اور پاکستان نے اسرائیل کے چاروں مقاصد کو جس طرح سے ناکام کیا ہے اس کا کریڈٹ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو جاتا ہے ان کے ساتھ ساتھ سیاسی ٹیم جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ہیں، لیکن جس طرح سے فیلڈ مارشل دفاع کے شعبے کو لے کر آگے بڑھے ہیں پاکستان کا تابناک مستقبل بالکل قریب ہے۔

    انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کی ری برینڈنگ یا پاکستان کے بدلتے ہوئے تاثر کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں آپریشن ’بنیان مرصوص‘ سے نکل کر تیسر ی عالمی جنگ کو روکنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے، انہیں صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے اور قریب سے ان کی حکمتِ عملی کو دیکھنے کا موقع ملا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ساتھ ملاقاتیں کرنے اور وقت گزارنے کا موقع ملا امریکی ریاست فلوریڈا کے دارالحکومت ٹیمپا میں عاصم منیر نے پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ امپورٹ ایکسپورٹ اور تجارت کے حوالے گفتگو کی اور ان کی ایک بات مجھے اہم لگی،وہ یہ کہ ’اب ہم نے ترقی کرنی ہی کرنی ہےبس یہ طے کرنا ہے کہ کس رفتار سے کرنی ہےمئی 2025 کی جنگ کے دوران بھارت کے سارے ڈیم پاکستان کے نشانے پر تھے۔

    انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کی پالیسی رہی ہے کہ پاکستان کو تنہا کرکے اس پر دہشتگردی کے حوالے سے دباؤ بڑھایا جائے، لیکن پاکستان نے اس پا لیسی کو ناکام بنایااس وقت دنیا کے 190 ملکوں میں پاکستان ایک واحد ملک ہے جس کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ واشنگٹن، ریاض، بیجنگ، تہران سب کے لیے قابلِ قبول ہے بھارت جانتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہوتے ہوئے اُن کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو پائے گااس لیے وہ طالبان اور اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ بنا کے رکھتے ہیں، پاکستان نے نہ صرف تیسری عالمی جنگ کو روکا بلکہ اقوامِ متحدہ کا کردار ادا کیا، نیٹو کا کردار ادا کیا، عرب لیگ اور او آئی سی کا کردار ادا کیا۔

    ساجد تارڑ نے کہاکہ لندن جلسہ کشمیریوں کا نہیں پی ٹی آئی والوں کا تھا اور اس طرح اپنے گھر کے گندے کپڑے چوکوں چوراہوں میں دھونا شرمناک بات ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں جو تحریک چل رہی ہے اُس کے پیچھے بھارت اور اسرائیل ہےلندن اور بیرون ملک کرپٹ لوگوں کے جو بگڑے ہوئے بچے بیٹھے ہیں ان کو مشورہ دوں گا کہ انقلاب کا زیادہ شوق ہے تو پاکستان جائیں یہاں واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے سامنے کھڑا ہونا، ورلڈ بینک کے سامنے کھڑا ہونا ایک فیشن بن گیا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) میں ایک بھارتی کی تعیّناتی ہوئی ہے جس کے بعد بھارتی مسلسل یہ کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کو دہشتگردی سے جوڑ کر اس پر اقتصادی پابندیاں لگوائی جائیں 2024 کے انتخابات میں امریکا اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے پیک) نے 127 ملین ڈالر خرچ کیےصدر ٹرمپ گزشتہ دنوں جب جنیوا سے واپس آئے تو اسرائیل کےحامی سینیٹرز نے لابنگ شروع کردی کہ ایران کیساتھ معاہدہ ٹھیک نہیں۔

    انہوں نے کہاکہ اگر دیکھا جائے تو اسرائیلی لابی کے خلاف عوامی ردعمل شروع ہو چکا ہے اور زہران ممدانی کا نیویارک سے انتخاب جیتنا اس بات کی واضح نشانی ہے اور 30 فیصد یہودیوں نے ان کو ووٹ دیا ہے اگلے ہفتے نیتن یاہو دفاعی معاہدہ کرنے امریکا آ رہے ہیں لیکن اپنی پسند کا معاہدہ نہیں کر پائیں گے جس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خلیجی ممالک کے دورے سے واپس آئے اور خلیجی ممالک کے تحفظات سے وہ آگاہ ہیں۔

  • امریکا چاہتا تو آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا ،ٹرمپ

    امریکا چاہتا تو آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا ،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اگر چاہتا تو آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا –

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ ہفتے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر ملاقات متوقع ہے امریکی اخبار ایکسیوئس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار قرار دیا تاہم اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے،دوسری جانب نیتن یاہو کے دفتر نے بھی جمعہ کے روز ہونے والی اس ٹیلی فونک گفتگو اور جلد ملاقات پر اتفاق کی تصدیق کی ہے۔

    ’ایکسیوئس‘ کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے انتہائی اہم بیانات دیے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکا اگر چاہتا تو آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا اور ہم ایک ہی حملے میں سب کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، مگر ہم نے ایسا نہیں کیا-

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ انہوں نے حملہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ پھر مذاکرات کے لیے کوئی نہ بچتا انہوں نے جوہری مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے صبر کا مظاہرہ کیا کیونکہ ایران اس وقت معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے واشنگٹن اور تہران نے قطر میں جاری جوہری مذاکرات کو ایک ہفتے کے لیے عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کے بعد سفارتی عمل دوبارہ شروع ہو سکے اس وقفے کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

    ایکسیوئس کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان یہ متوقع ملاقات رواں سال فروری میں وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی آخری ملاقات کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی فروری کی ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم نے مبینہ طور پر ایران کے خلاف مشترکہ امریکی،اسرائیلی فوجی کارروائی کا ایک خفیہ منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے معاملات پر دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

    ایکسیوئس کی رپورٹ میں ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے کئی قریبی مشیر سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو نے خطے کی صورتحال اور اہم پیش رفت کے بارے میں غلط اندازے لگائے عہدیدار کے بقول ٹرمپ کے مشیروں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو تقریباً ہر معاملے میں غلط ثابت ہوئے ہیں۔

  • عوام  کا ٹرمپ سے خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ،حکومت کا بیان جاری

    عوام کا ٹرمپ سے خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ،حکومت کا بیان جاری

    شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے آغاز کے پہلے روز لاکھوں سوگواروں نے ہاتھوں میں بدلے کی علامت سرخ پرچم تھامے ٹرمپ اور امریکا سے سپریم لیڈر کے قتل کا انتقام لینے کا مطالبہ کردیا،جس کے بعد حکومت نے بھی بیان جاری کیا-

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران ہر صور ت قانونی، سفارتی اور سیاسی محاذ پر انصاف کے حصول کی کوششیں جاری رکھے گا اور یہ معاملہ ایرانی قوم کی مستقل قومی ترجیح رہے گا، شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے تمام ممکنہ بین الاقوامی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں خطے اور دنیا بھر سے اعلیٰ سطح کے سرکاری اور مذہبی وفود کی شرکت ان کی بین الاقوامی حیثیت، اثر و رسوخ اور ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا واضح ثبوت ہے۔

    ایران نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا نتیجہ تھی جو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے ایران اس معاملے کو تمام ضروری عالمی فورمز پر اٹھاتا رہے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے امکانات پر بھی کام جاری ہے۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی موجودگی ایران کے لیے عالمی سطح پر حمایت اور احترام کی علامت ہے، تہران میں لاکھوں افراد کی شہید آیت اللہ خامنہ ای کو الوداع کہنے کے لیے جمع ہوئے جو اس بات کی عکاس ہے کہ ایرانی عوام اپنے سابق سپریم لیڈر کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری کو مشترکہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہل خانہ اور عسکری قیادت کے ہمراہ شہید ہوگئے تھے جن کی تجہیز و تکفین کا آغاز ہوگیا ہے۔

  • صدر ٹرمپ کی تصویر والے پاسپورٹ  کا ڈیزائن جاری

    صدر ٹرمپ کی تصویر والے پاسپورٹ کا ڈیزائن جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک انتہائی منفرد اور محدود تعداد میں جاری کیے جانے والے خصوصی امریکی پاسپورٹ کا ڈیزائن جاری کر دیا ہے، جس میں ان کی اپنی تصویر نمایاں طور پر شامل کی گئی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اس نئے پاسپورٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا کا نیا پاسپورٹ، جس پر لکھا ہے، خوش آمدید، مگر اچھا رویہ اختیار کریں ۔

    جاری کردہ ڈیزائن کے مطابق پاسپورٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سنجیدہ انداز میں اپنی میز کے ساتھ کھڑا دکھایا گیا ہے اور اس پر ان کے دستخط بھی موجود ہیں،اس تصویر کے پس منظر میں امریکا کے تاریخی ’اعلانِ آزادی‘ کا متن شامل کیا گیا ہے پاسپورٹ کے دوسرے صفحے پر 1776 میں اعلانِ آزادی پر دستخط کی تاریخی منظرکشی کی گئی ہے، جہاں واضح طور پر ’یونائٹڈ اسٹیٹ آف امریکا‘ درج ہے،اگر یہ خصوصی پاسپورٹ منصوبے کے مطابق جولائی میں جاری کر دیا جاتا ہے، تو ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی ڈھائی سو سالہ تاریخ میں وہ پہلے حاضر سروس صدر بن جائیں گے جن کی تصویر امریکی شہریوں کی باقاعدہ سفری دستاویزات (پاسپورٹ) کا حصہ بنے گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاسپورٹ پر موجود یہ تصویر وائٹ ہاؤس کے آفیشل فوٹوگرافر ڈینیئل ٹوروک کی لی گئی ایک سرکاری تصویر پر مبنی ہے وائٹ ہاؤس نے بھی اس ڈیزائن کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے باقاعدہ طور پر ‘پیٹریاٹ پاسپورٹ’ کا نام دیا ہے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ تھیم پر مبنی یہ خصوصی یادگاری پاسپورٹ 6 جولائی سے دستیاب ہوں گے تاہم یہ پاسپورٹ ہر شہری کو نہیں ملیں گے بلکہ یہ صرف واشنگٹن میں بالمشافہ اپائنٹمنٹ کے ذریعے، انتہائی محدود تعداد میں فراہم کیے جائیں گے۔

    صدر ٹرمپ حالیہ عرصے میں مختلف امریکی سرکاری اداروں اور اشیا پر اپنی ذاتی شناخت نمایاں کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں واشنگٹن میں متعدد سرکاری عمارتوں پر پہلے ہی ان کے بینرز آویزاں کیے جا چکے ہیں، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ جلد ہی ایک ڈالر کے نوٹ پر صدر ٹرمپ کے دستخط شامل کیے جائیں گے۔

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ،سروے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ،سروے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ہے، جبکہ امریکا کو ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار سمجھنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

    یہ انکشاف امریکی تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ عالمی سروے میں ہوا ہے سروے فروری سے مئی 2026 کے درمیان دنیا کے 36 ممالک میں 42 ہزار 151 بالغ افراد سے کیا گیا یہ وہ عرصہ تھا جب ایک جانب چین اور امریکا کے درمیان جغرافیائی سیاسی رقابت شدت اختیار کر رہی تھی، جبکہ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلا ف فوجی کارروائی بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔

    سروے کے نتائج کے مطابق اوسطاً صرف 23 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں عالمی معاملات میں درست فیصلے کرنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد ہے، جبکہ تقریباً دو تہائی شرکاء نے ان پر کم یا بالکل اعتماد نہ ہونے کا اظہار کیا جبکہ 24 ممالک میں سے 16 میں ٹرمپ پر اعتماد میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کسی بھی ملک میں اس حوالے سے بہتری نہیں دیکھی گئی۔

    امریکا کے بارے میں عالمی رائے بھی زیادہ مثبت نہیں رہی سروے میں شامل 36 ممالک میں صرف 37 فیصد افراد نے امریکا کے بارے میں موافق رائے دی، جبکہ 57 فیصد نے منفی تاثر کا اظہار کیا۔ انڈونیشیا، اٹلی، نائجیریا، جنوبی افریقا، جنوبی کوریا اور ترکی سمیت کئی ممالک میں امریکا کی مقبولیت میں دوہرے ہندسوں کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امریکا کے کردار کے بارے میں بھی اعتماد کمزور پڑ رہا ہے صرف 35 فیصد افراد کا خیال تھا کہ امریکا دنیا میں امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ صرف 32 فیصد نے کہا کہ واشنگٹن اپنی خارجہ پالیسی بناتے وقت دیگر ممالک کے مفادات کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔

    امریکی جمہوریت کے حوالے سے بھی عالمی تاثر منفی ہوا ہے سروے میں 39 فیصد افراد نے کہا کہ امریکی حکومت اپنے شہریوں کی شخصی آزادیوں کا احترام کرتی ہے، جبکہ 56 فیصد اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ جن 13 ممالک میں یہ سوال 2021 میں بھی پوچھا گیا تھا، ان میں سے 12 میں امریکا کے بارے میں مثبت رائے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

    امریکا کے قریبی اتحادی ممالک میں بھی اس پر اعتماد کم ہوا ہے کینیڈا میں 2022 میں 83 فیصد افراد امریکا کو قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتے تھے، لیکن 2026 میں یہ شرح کم ہو کر 35 فیصد رہ گئی آسٹریلیا، جاپان اور سنگاپور سمیت ایشیا پیسیفک خطے کے اہم اتحادی ممالک میں بھی اسی نوعیت کی کمی سامنے آئی آسٹریلیا میں 2023 کے بعد سے امریکا کو عالمی امن و استحکام میں مثبت کردار ادا کرنے والا ملک سمجھنے والوں کی تعداد میں 30 پوائنٹس سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی فلپائن اس رجحان سے نمایاں طور پر مختلف رہا وہاں 77 فیصد افراد نے امریکا کو عالمی امن و استحکام میں معاون قرار دیا، جبکہ یہی وہ ملک تھا جہاں ٹرمپ کو سب سے زیادہ حمایت بھی حاصل رہی۔

    سروے کے مطابق ٹرمپ پر سب سے زیادہ اعتماد فلپائن، اسرائیل، نائجیریا، کینیا اور گھانا میں دیکھا گیا نائجیریا میں مذہبی بنیادوں پر واضح فرق سامنے آیا، جہاں 87 فیصد مسیحیوں نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ مسلمانوں میں یہ شرح صرف 33 فیصد رہی اس کے برعکس ترکی اور مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں مقیم فلسطینیوں کے درمیان ٹرمپ پر اعتماد انتہائی کم، یعنی سنگل ڈیجٹ سطح تک محدود رہا۔

    سیاسی نظریات کے لحاظ سے بھی ٹرمپ کے بارے میں آراء مختلف رہیں 27 ممالک میں سے 18 میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے افراد نے بائیں بازو کے افراد کے مقابلے میں ٹرمپ پر زیادہ اعتماد ظاہر کیا یورپ کی دائیں بازو کی مقبول جماعتوں کے حامی بھی ان کے حامیوں میں شامل تھے، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں ان حلقوں میں بھی حمایت میں کمی دیکھی گئی۔

    سروے میں بین الاقوامی معاملات پر ٹرمپ کی کارکردگی کو بھی وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا رہا 74 فیصد شرکاء نے ایران کے حوالے سے ان کی پالیسی کو ناپسند کیا اسی طرح تجارتی محصولات (ٹیرف)، روس یوکرین جنگ، غزہ کی صورتحال اور دیگر اہم خارجہ پالیسی معاملات پر بھی اکثریت نے ان کی حکمت عملی کو مسترد کیا۔

    البتہ اسرائیل اس معاملے میں ایک استثنا رہا، جہاں ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی کو 73 فیصد افراد کی حمایت حاصل تھی انسانی امداد اور امیگریشن کے معاملات میں بعض ممالک میں ٹرمپ کو نسبتاً بہتر درجہ بندی ملی، تاہم مجموعی طور پر اکثریت نے ان کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔

    سابق امریکی صدور کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو فرانس، جرمنی، اسپین اور برطانیہ میں ٹرمپ کی مقبولیت اب بھی کم سطح پر ہے، اگرچہ یہ ان کے پہلے دورِ صدارت کے اختتام کے مقابلے میں قدرے بہتر رہی، ان کی درجہ بندی سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے آخری دورِ حکومت کے برابر یا اس سے کچھ بہتر رہی، تاہم سابق صدر باراک اوباما کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی، جنہیں عالمی سطح پر مسلسل زیادہ پذیرائی حاصل رہی تھی۔

  • امریکی انٹیلیجنس ادارے میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں

    امریکی انٹیلیجنس ادارے میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں

    امریکی انٹیلیجنس کے اعلیٰ ترین ادارے آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے-

    سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کے روز اس ادارے میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا آغاز کیا، اور اطلاعات ہیں کہ ممکنہ طور پر سینکڑوں ملازمین کو برطرفی کے نوٹس دیے جا رہے ہیں،یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزد کیے گئے قائم مقام ڈائریکٹر بل پلٹ کی نگرانی میں کی جا رہی ہے، جن کی تقرری پر کانگریس میں پہلے ہی تنازع موجود رہا ہے کیونکہ ان کا انٹیلیجنس کے شعبے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔

    ایک اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ڈیپ اسٹیٹ کی برطرفیاں شروع ہو گئی ہیں”، تاہم ابھی تک برطرف کیے جانے والے افراد کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی، بل پلٹ نے گزشتہ ہفتے اپنی نئی ذمہ داریاں ایک دن پہلے ہی سنبھال لیں اور مبینہ طور پر دفتر کے تمام ملازمین کی فہرست طلب کی، جس سے سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ بھی حیران رہ گئیں،ایک اور ذریعے کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں تقریباً 400 ملازمین کی برطرفی کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے-

    ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ادارے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر اور نیشنل کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی سینٹر ہوں گے، سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹیوں کے ڈیموکریٹ ارکان نے سخت خدشات ظاہر کیے تھے۔ سینیٹر مارک وارنر اور رکن کانگریس جم ہائمز نے خط میں خبردار کیا تھا کہ بڑے پیمانے پر کٹوتیاں قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں اگرچہ ادارے میں محدود اصلاحات کی گنجائش موجود ہے، لیکن پہلے ہی 2025 میں بڑی کمی کے بعد مزید بڑے پیمانے پر برطرفیاں 9/11 کے بعد قائم کیے گئے اس ادارے کے بنیادی مشن یعنی دہشتگردی کی روک تھام کو متاثر کر سکتی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سوشل میڈیا بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے بل پلٹ کو دفتر کی فوری تنظیم نو اور عملے میں کمی کی ہدایت دی تھی جبکہ سابق انٹیلیجنس حکام اور قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی بڑی کٹوتیاں حکومت کی دہشتگردی کے خطرات کو بروقت شناخت کرنے اور روکنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

  • جرمنی نے  آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار  ٹرمپ کو ٹھہرادیا

    جرمنی نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرادیا

    جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہراتے ہوئے عالمی توانائی کی سیکیورٹی کے پیش نظر اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    جرمن نشریاتی ادارے ‘اے آر ڈی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے بورس پسٹوریئس کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، نہ کہ ہم، لیکن اس بندش کو ختم کروانا اب ہمارے مفاد میں ہے،اس اہم گزرگاہ کو کھولنا اور وہاں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا یورپ کے اقتصادی استحکام اور توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے غیر معاندانہ ممالک کو جہاز رانی کی آزادی دینے کی لچک کے باوجود امریکا نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور دنیا کو توانائی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔۔

    جرمن وزیر دفاع نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور عمان کے ساتھ سفارتی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی،جرمنی نے ممکنہ فوجی مشن کی تیاری کے طور پر دو بحری جہاز بحیرہ احمر کی طرف روانہ کر دیے ہیں، تاہم مائنز صاف کرنے کے کسی بھی آپریشن کے لیے ایران اور عمان کی منظوری لازمی ہوگی۔

    دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے بھی اس موقف کو دہرایا ہے کہ جرمنی اس جنگ کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس براہِ راست تصادم میں شامل ہونا چاہتا ہے۔