Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • صدر ٹرمپ نے پاکستان میں موجود امریکی صحافی کو بھی واپس بلالیا

    صدر ٹرمپ نے پاکستان میں موجود امریکی صحافی کو بھی واپس بلالیا

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دورہ فی الحال منسوخ ہونے کے باعث صدر ٹرمپ نے امریکی صحافی کو بھی امریکا واپس آنے کا کہہ دیا۔

    نیو یارک پوسٹ سے منسلک صحافی کیٹلن ڈورن بوس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیکسٹ پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کردیا، جس میں انہیں مختصر طور پر کہا گیا کہ گھر واپس آ جاؤ۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیجے جانے والے امریکی وفد کا دورہ منسوخ کر دیا ہے،انہوں نے کہاکہ یہ دورہ ان کے مطابق وقت کے ضیاع کے مترادف تھا، کیونکہ بہت زیادہ وقت سفر میں صرف ہو رہا تھا اور کام کا بوجھ بھی زیادہ ہے۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد جانے کا دورہ منسوخ کر دیا ہے جو ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے طے تھا ایرانی قیادت کے اندر شدید اختلافات اور کنفیوژن پائی جاتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ اصل میں قیادت کون کر رہا ہے ہ اگر ایرانی فریق بات کرنا چاہتا ہے تو براہ راست رابطہ کرے۔

  • ایپسٹین اسکینڈل:ٹرمپ سے متعلق ویڈیوزواشنگٹن کی عمارت پر نشر

    ایپسٹین اسکینڈل:ٹرمپ سے متعلق ویڈیوزواشنگٹن کی عمارت پر نشر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ویڈیوز واشنگٹن ڈی سی کی ایک عمارت پر پروجیکٹ کر دی گئیں۔

    مناظر میں ایپسٹین سے منسلک تصاویر اور دستاویزات شامل تھیں، جبکہ پس منظر میں اس کی ای میلز کے اقتباسات پر مبنی آڈیو بھی سنائی گئی سڑک کے دوسری جانب ایک ہجوم جمع ہو گیا جو عمارت کی بیرونی دیوار پر چلنے والی ان پروجیکشنز کو دیکھتا رہا –

    مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے درمیان روابط کی نشاندہی کرتی تصاویر اور دستاویزات واشنگٹن ہلٹن کی عمارت پر دکھائیں، یہ احتجاج 24 اپریل کو پروجیکٹ کیا گیا جو سالانہ وائٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ڈنر سے عین پہلے کا وقت تھا،یہ ایک اہم تقریب ہے جس میں صحافی، سیاسی رہنما اور وہ شخصیات شریک ہوتی ہیں جو امریکی صدارت کا احاطہ کرتی ہیں۔

    اس سال کی تقریب اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ صدر ٹرمپ اس میں شرکت کرنے والے ہیں، جو بطور صدر ان کی پہلی حاضری ہوگی میڈیا کے ساتھ ان کے کشیدہ تعلقات اور فیک نیوز کے خلاف ان کے بیانات کے باعث ان کی شرکت نے واشنگٹن میں حیرت اور دلچسپی پیدا کر دی ہے یہ تقریب وا ئٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد ہوتی ہے، اور روایتاً اس میں موجودہ صدر کی شرکت کو آزادیٔ صحافت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران اس تقریب میں شرکت نہیں کی تھی اور 2025 میں بھی اسے نظر انداز کردیا تھا اس سال انہیں مدعو کرنے کے فیصلے پر کئی نیوز رومز میں تنقید سامنے آئی ہے سینکڑوں صحافیوں نے ایک کھلا خط بھی جاری کیا ہےجس میں شرکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صدر سے میڈیا پر عائد پابندیوں کے حوالے سے براہِ راست سوال کریں۔

    صدر ٹرمپ اور میڈیا کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، وہ متعدد خبر رساں اداروں کے خلاف مقدمات دائر کر چکے ہیں، اور تنقیدی رپورٹنگ کو فیک نیوز قرار دیتے رہے ہیں صدرٹرمپ صحافیوں کو ذاتی طور پر نشانہ بھی بناتے رہے ہیں، ان کی انتظامیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو وائٹ ہاؤس پریس پول سے خارج کرنے جیسے میڈیا کی رسائی محدود کرنے کے اقدامات بھی کیے۔

  • ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    امریکا میں ایک نئے عوامی جائزے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت اکثریت کر رہی ہے-

    امریکی میگزین ’نیوز ویک‘ کے مطابق امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں اس کے عملی امکانات اب بھی محدود ہیں ایک حالیہ عوامی جائزے کے مطابق 55 فی صد افراد صدر کے مواخذے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 37 فی صد اس کی مخالفت کرتے ہیں آزاد حیثیت کے ووٹرز میں بھی 50 فیصد نے مواخذے کی حمایت کی، جبکہ 28 فیصد اس کے خلاف رہے۔

    جائزے میں شامل حکمران جماعت کے حامیوں میں سے 21 فی صد نے مواخذے کی حمایت کی، تاہم 72 فی صد نے اس کی مخالفت کی یہ سروے اپریل 2026 کے وسط میں 1514 افراد سے کیا گیا جس میں آزاد حیثیت رکھنے والے ووٹرز کی بڑی تعداد نے بھی مواخذے کی حمایت کی۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق عوامی سطح پر عدم اطمینان کے باوجود مواخذہ ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کو اکثریت حاصل ہے اور اس جماعت کے کسی رکن نے مواخذے کی حمایت کا عندیہ نہیں دیا عوام سیاسی کشمکش سے تھک چکے ہیں اور مواخذے کا عمل ایوان نمائندگان سے آگے بڑھنا مشکل ہو سکتا ہے سینیٹ میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتی۔

    پیشگوئی کرنے والے مالیاتی اندازوں کے مطابق 2027 سے پہلے صدر کے مواخذے کا امکان تقریباً 13 فی صد ہے، جب کہ 2028 سے پہلے اس امکان میں اضافہ ہو کر تقریباً دو تہائی تک جا سکتا ہے تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں یہ معاملہ اہم سیاسی موضوع بن سکتا ہے، خصوصاً اگر ڈیموکریٹک جماعت کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اگرچہ ڈیموکریٹک جماعت کے اندر مواخذے کے لیے دباؤ موجود ہے، تاہم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کیے بغیر صدر کو عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں، جس سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخالف جماعت طویل عرصے سے مواخذے کی بات کر رہی ہے، تاہم اس کے لیے درکار سیاسی حمایت موجود نہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ مواخذے کی مسلسل بحث آئندہ انتخابات میں سیاسی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے اور جماعتوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

  • ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ماہرین اور سابق سفارتکاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر بات چیت کامیاب رہی تو یہ پیش رفت ایک بڑے معاہدے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

    چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو ڈونلڈ ٹرمپ خود معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان آئیں گے، امریکی صدر یہ ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپیں گے،اس ممکنہ پیش رفت کی صورت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد بھی متوقع ہو سکتی ہے-

    سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھی مذاکرات کے اگلے مرحلے کے بارے میں پُرامید مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ سے مثبت نتائج برآمد ہونے کا امکان ہے، جس سے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ مذاکرات بھی پاکستان ہی میں ہونے کو ترجیح قرار دیا ہے،انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کاوشوں کو بھی سراہا ہے،ایک امریکی اخبار سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے ، مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ موزوں دکھائی دیتا ہے-

  • ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جیمز ڈیوڈ (جے ڈی) وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی چھوٹے موٹے سمجھوتے کے بجائے ایک بڑا اور جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    جے ڈی وینس نے بدھ کو جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو چھ سات دن ہو چکے ہیں اور یہ اب بھی برقرار ہے،اگر ایران ایک نارمل ملک کی طرح رویہ اپنانے پر راضی ہو جائے تو امریکا اس کے ساتھ معاشی تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن واشنگٹن کی بنیادی پالیسی تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔

    جے ڈی وینس نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی، تاہم جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا گزشتہ 49 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس قدر اعلیٰ سطح پر براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔

    وینس نے اعتراف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں کا عدم اعتماد ایک رات میں دور نہیں ہو سکتا، لیکن انہیں یقین ہے کہ مذاکرات کی میز پر دوسری طرف بیٹھے ایرانی حکام بھی ڈیل چاہتے تھے اگر ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا عہد کرے تو امریکا اسے معاشی طور پر ترقی دینے میں مدد کرے گا، تاہم وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کو اپنی پراکسیوں کی مالی معاونت سے بھی روک دے۔

    تقریب کے دوران نائب صدر کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب مظاہرین نے ان کی تقریر میں خلل ڈالا ایک شخص نے نعرہ لگایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے، جس پر وینس نے جواب دیا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی نسل کشی کی حمایت نہیں کریں گے۔

    انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کیے اور ان کی انتظامیہ نے یہ مسئلہ حل کیا ہے وینس نے نوجوان ووٹرز کی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ناراضی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر وہ کسی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں تو انہیں الگ تھلگ ہونے کے بجائے عمل میں مزید شامل ہونا چاہیے تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔

    جے ڈی وینس نے پوپ لیو کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ سیا سی رہنماؤں کو کبھی تلوار یا طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نازیوں سے فرانس کو آزاد کروانے والے امریکیوں کے ساتھ خدا نہیں تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کا جواب یقیناً ہاں میں ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو کے درمیان ایران کے خلاف جنگی دھمکیوں پر لفظی جنگ جاری ہے،اس تمام صورتحال میں امریکی کیمپ سے مثبت اشارے مل رہے ہیں اور صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ آنے والے دنو ں میں اسلام آباد میں مزید مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

  • ایران  امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح انہیں ایران کی جانب سے درست اور مناسب لوگوں کی کال موصول ہوئی ہے، جو امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی نمائندے اس ڈیل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں ایران کی جانب سے رابطہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےفاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے اور اس حوالے سے پیش رفت بھی ہوئی ہےرپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو یورینیم افزودگی پر 20 سالہ پابندی (moratorium) کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں ایران نے پیر کے روز جوابی پیشکش کرتے ہوئے اس مدت کو 20 سال کے بجائے 5 سال کرنے کی بات کی، تاہم اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکراتی عمل جاری ہے، جس میں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک صورتحال یہ تھی کہ امریکا کی جانب سے سخت مطالبات کیے جا رہے تھے جبکہ ایران ان مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کر رہا تھا، تاہم اب حالات میں کچھ نرمی دکھائی دے رہی ہے ا مریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ان کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی فیصلہ کن قدم ایران کو ہی اٹھانا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری مواد کی منتقلی اور مستقبل میں یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے ایک مؤثر نظام پر امریکی مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے وہ ہماری سمت میں آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایرانی مذاکرات کار غالباً کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ انہیں تہران میں دیگر حکام کی منظوری درکار تھی۔

    جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو پسند کریں گے کہ ایران کو ایک عام ملک کی طرح برتا جائے اور اس کی معیشت بھی ایک نارمل اقتصادی نظام کے تحت کام کرے، تاہم انہوں نے اس بات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس معاملے پر ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔

  • مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات میں ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود فضائی حملوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

    امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیران اس حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا جائزہ لے رہے ہیں امریکی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ مذاکرات میں تعطل کے بعد ایران کے خلاف محدود نوعیت کے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جائیں، جبکہ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھا جائے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ اقدام کو ایران پر دباؤ بڑھانے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کے طریقہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے صدر ٹرمپ کے پاس مکمل فضائی بمباری کی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، تاہم اس آپشن کو کم ترجیح دی جا رہی ہے،ایک اور زیر غور آپشن یہ ہے کہ امریکا وقتی نوعیت کی ناکہ بندی برقرار رکھے اور اپنے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالے کہ وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے طویل المد تی فوجی حفاظتی مشن کی ذمہ داری سنبھالیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بڑے پیمانے پر حملے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ ماضی میں طویل فوجی تنازعات سے گریز کی پالیسی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

  • ٹرمپ کا ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ

    ٹرمپ کا ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت وینزویلا کے خلاف استعمال ہونے والی حکمت عملی کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی نافذ کی جا سکتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر غور ایک مبینہ منصوبے میں وینزویلا کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی سامنے آئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز سمیت اہم تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے وینزویلا کے خلاف بحری ناکہ بندی ماضی میں اس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی، اور اسی ماڈل کو ایران پر بھی لاگو کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔

    منصوبے کے مطابق اگر اسے نافذ کیا گیا تو یہ ناکہ بندی صرف تیل کی برآمدات ہی نہیں بلکہ ایران کی تمام تجارتی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گی، اور بحری راستوں کے ذریعے ہونے والی ہر قسم کی ترسیل روک دی جائے گی تین کیریئر اسٹرائیک گروپس کی مدد سے اس ممکنہ بحری ناکہ بندی کو عملی شکل دی جا سکتی ہے، جس کے ذریعے خطے میں بحری نگرانی اور دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور سمندری حدود کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا ایرانی موقف کے مطابق آبنائے ہرمز پر اس کی موجودگی اور کنٹرول برقرار ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی بڑی کشیدگی یا بندش کی صورت میں عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی توانائی تجارت کا ایک انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ ہے۔

  • میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے،آبنائے ہرمز جلد ہی کھل جائے گا، اور خالی بحری جہاز "لوڈ اپ” کے لیے امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن ‘فیک نیوز’ میڈیا حقائق کے برعکس تصویر کشی کررہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں مبتلا ہو کر ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں، ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور دفاعی نظام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے،ڈرونز اور میزائل بنانے والی فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ایرانی قیادت اب منظر نامے سے غائب ہو چکی ہے۔

    امریکی صدر نے الحمدللہ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ اب ایران کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا اس وقت سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں جہاز کے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا جانا ہے جس سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام 28 کشتیاں سمندر برد ہو چکی ہیں، امریکا اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہتا رہا ہے اور یہ دنیا پر ہمارا بڑا احسان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا اب دنیا بھر کے ممالک بشمول چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک کے مفاد میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام شروع کر رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

    امریکی صدر نے ایک دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر سے تیل کے خالی بحری جہاز اب امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے تیل بھر سکیںانہوں نے اسے امریکی معیشت اور توانائی کی طاقت کی فتح قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا اب توانائی کے لیے امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔

    امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔

    امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے۔ جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں۔

  • آئل ٹینکرز تیل اور گیس  کے لیے امریکا کا رخ کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

    آئل ٹینکرز تیل اور گیس کے لیے امریکا کا رخ کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر سے خالی آئل ٹینکرز بڑی تعداد میں امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ یہاں سے عالمی معیار کا تیل اور گیس حاصل کر سکیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے ٹینکرز (بحری جہاز) اعلیٰ معیار کے تیل اور گیس کے حصول کے لیے امریکا کی طرف رواں دواں ہیں جن کا مقصد یہاں سے بہترین کوالٹی کی پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی لوڈنگ کرنا ہے۔

    امریکی صدر نے کہاکہ امریکا کے پاس موجود تیل کے ذخائر حجم اور معیار کے لحاظ سے دنیا کی اگلی دو بڑی معیشتوں کے مجموعی ذخائر سے بھی زیادہ ہیں،ا مر یکی توانائی نہ صرف وافر مقدار میں دستیاب ہے بلکہ یہ معیار کے اعتبار سے بھی دنیا میں سب سے برتر ہے،’ہم آپ کے منتظر ہیں، یہ لوڈنگ تیز رفتار ہوگی-