Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرار داد منظور

    ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرار داد منظور

    امریکی ایوان نے جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کرلی، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ میں اختیارات کم کرنے کی قرارداد منظور کرلی، قرار داد کے حق میں 215 نمائندگان نے ووٹ ڈالے،208ووٹ خلاف پڑے،4رپبلکن اراکین نے بھی قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالا، صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی فوجی واپس بلانے ہوں گے، جب تک کہ کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے۔

    ووٹنگ کے دوران چار ریپبلکن ارکان نے اپنی جماعت کی قیادت کے برخلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جبکہ کسی بھی ڈیموکریٹ نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی، سات ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان میں مشی گن سے ٹام بیریٹ، اوہائیو سے وارن ڈیوڈسن، پنسلوانیا سے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی سے تھامس میسی شامل ہیں اگرچہ اس قرارداد کی فوری قانونی حیثیت محدود ہے کیونکہ اسے مؤثر ہونے کے لیے سینیٹ سے بھی منظور ہونا ضروری ہے، تاہم یہ ووٹنگ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے تحفظات کی عکاسی کرتی ہے۔

    ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین سابقہ قراردادیں ناکام ہو چکی تھیں، تاہم ان کی ناکامی کا فرق مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے اس قرارداد پر ووٹنگ بھی مؤخر کر دی تھی کیونکہ اس کے منظور ہونے کے امکانات بڑھ گئے تھے۔

    دوسری جانب سینیٹ گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک الگ قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھا چکی ہے، حالانکہ اس سے قبل ایسی سات کوششیں ناکام رہی تھیں، تاہم اس قرارداد پر مزید ووٹنگ کا شیڈول تاحال جاری نہیں کیا گیا۔

    حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالانکہ اس سے پہلے بہت کم ریپبلکن ارکان ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے نظر آئے تھے اسی روز ایوانِ نمائندگان نے یوکرین سپورٹ ایکٹ پر ووٹنگ کی راہ بھی ہموار کر دی، جس کے تحت روسی حملے کے خلاف جنگ میں یوکرین کو مزید سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی اس اقدام کی حمایت میں چھ ریپبلکن اور ایک آزاد رکن نے بھی وو ٹ دیا۔

    ادھر بعض ریپبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ کی جانب سے بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مقرر کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ بل پلٹے رہن قرضوں کے شعبے سے وابستہ ریگولیٹر ہیں اور انہیں قومی سلامتی کے معاملات کا کوئی تجربہ حاصل نہیں۔

    ڈیموکریٹک ارکان کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے صدر ٹرمپ کو کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف مقننہ کے پاس ہے ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ملک کو ایک طویل جنگ میں دھکیل سکتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق 28 فروری کو ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد پٹرول، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  • مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہیں-

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ’پوڈ فورس ون‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کررہی ہے،امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پوڈ کاسٹ میں امریکی صدر نے لبنان کے معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا بھی اعتراف کیا انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں پر وہ خوش نہیں تھے اور اس حوالے سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو بھی ہوئی یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وز یر اعظم کے تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

  • ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے روک دیے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو ”غلط اور بے بنیاد“ قرار دیا ہے-

    ایران کی خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے معطل کر دیے ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی پڑ رہے ہیں۔

    ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے منگل کے روز ثالثوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں ”غلط اور گمراہ کن“ ہیں ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے، چار روز پہلے بھی رابطہ تھا، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، ایک روز پہلے بھی اور آج بھی رابطہ موجود ہے،یہ مذاکرات کہاں پہنچتے ہیں، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک نہ ایک طریقے سے۔“

    ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران رابطوں کے تعطل سے متعلق رپورٹس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم انہوں نے جوہری مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، اگرچہ اس بات کی کوئی ضما نت نہیں کہ فریقین ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مذاکرات جاری ہیں، لیکن کسی حتمی اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    ٹرمپ انتظامیہ نے سرکردہ AI ڈویلپرز سے کہا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری سائبرسیکیوریٹی ٹیسٹوں کے لیے اپنے انتہائی قابل ماڈلز کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلےوفاقی حکومت کو پیش کریں، ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، کیونکہ واشنگٹن میں طاقتور نئے AI سسٹمز جیسے کہ Anthropic’s Mythos پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سےپہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

    اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا،اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

    اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

    یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے جبکہ اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

    دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو سکتی ہے اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہےسرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والےتھےیہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

    کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

    ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا، اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

  • اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔

    امریکی چینل اے بی سی نیوزکو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے مذاکراتی عمل روکنے کے حوالے سے واشنگٹن کو ابھی تک باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تاہم اگر ایران خاموشی اختیار کرنا چاہتا ہے تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ انتظار کر سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ہم بہت زیادہ بات کر چکے ہیں، اگر سچ پوچھیں تو خاموش رہنا بہتر ہوگا انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا دوبارہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے جارہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم وہاں جا کر ہر طرف بمباری شروع کر دیں گے، ہم صرف خاموش رہیں گے اور ناکہ بندی برقرار رکھیں گے تاہم فوری طور پر کسی نئی فوجی مہم کا ارادہ نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے ذرائع موجود ہیں اور وہ کسی معاہدے کے لیے جلد بازی میں نہیں ہیں،میرے خیال میں میں اتنا انتظار کر سکتا ہوں جتنا وہ کرنا چاہیں۔

    امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکراتی رابطوں کا تبادلہ روک دیا ہے جب کہ ایران نے اس فیصلے کی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان اور غزہ میں جاری کارروائیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو قرار دیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ واشنگٹن فی الحال سفارتی اور اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی پر قائم رہے گا جب کہ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے حتمی فیصلہ مستقبل کی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر محاذوں کو فعال کرنے جیسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کی معطلی کے حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ لبنان میں مکمل جنگ بندی امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کسی ایک محاذ پر ہوتی ہے تو اسے تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • بیروت پٔر حملے،ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو،پاگل اور ناشکرا قرار دیا

    بیروت پٔر حملے،ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو،پاگل اور ناشکرا قرار دیا

    مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا،میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے.

    اس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے،میں نے اپنے نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بہت اچھی گفتگو کی، حزب اللہ بھی تمام تر فائر بندی پر راضی ہے، اب نہ اسرائیل ان پر حملہ کرے گا، نہ وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے.

  • ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق سی این این کی رپورٹ فیک قرار دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ مسترد کردی-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہےمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں، معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہےآیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں؟

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

  • ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق تنقید کرنے والے سیاستدانوں اور مخالفین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو وہ ایک بہترین معاہدہ ہوگا ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی وہ ان لوگوں پر ہنستے ہیں جو بغیر حقائق جانے رائے دے رہے ہیں۔

    پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کو ناکام سیاستدان غلط انداز میں پیش کررہے ہیں، ڈیموکریٹ سینیٹر بار بار غلط پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے جیسا نہیں ہوگاٹرمپ کے مطابق اوباما انتظامیہ کا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ ایسے معاہدے نہیں کرتے اور ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں امریکی مفادات کو ترجیح دی جائے گی،ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

    اس سے قبل گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن دوسرا راستہ اختیار کرے گا امریکا سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دے گا تاہم اگر ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ نہ ہوسکا تو متبادل آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے ساتھ ایسے نکات زیر غور ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر محدود مدت کے بامعنی مذاکرات شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 2015 میں ایران کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد تہران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے مختلف راستوں کو محدود کرنا تھا معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کی سخت نگرانی اور تصدیقی نظام بھی شامل تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکا کو اس معاہدے سے الگ کرتے ہوئے اسے ناقص معاہدہ قرار دیا تھا۔ امریکی انخلا کے بعد ایران نے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافہ کردیا تھا۔

  • ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان کے درمیان ایک تاریخی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان میں اسحاق ڈار نے اسے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کی جانب ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس حساس عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مرکزی سفارتی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کے ساتھ کیا جانے والا آج کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کے ہمارے مشترکہ ہدف کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم ہے، ان شاء اللہ۔

    اسحاق ڈار نے صدارتی سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو دل سے تسلیم کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری امریکی ٹیم (بشمول اسٹو وٹکوف اور جیرڈ کشنر) کی کوششوں کی بھی تعریف کی، جن کے مسلسل رابطوں نے جاری مذاکرات میں بامعنی پیش رفت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔

    نائب وزیر اعظم نے ان امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں ایرانی قیادت کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مثبت رویے کو دل سے سراہتے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ وہ خود 28 فروری سے اس پورے سفارتی عمل کے دوران عالمی قیادت کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں رہے انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور برادر علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا، جن میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی شامل ہیں، جن کے تعمیری تعاون اور حمایت نے اس حتمی نتیجے کے حصول میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خاص طور پر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دور اندیش وژن اور امن کے لیے ان کے پختہ عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتا ہوں جنہوں نے اس انتہائی حساس اور دور رس عمل کے دوران ایک مرکزی کردار ادا کیا اور آج کی اس اہم ترین عالمی بات چیت میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی انہوں نے اس طویل کاوش میں مسلسل اور مستقل سفارتی تعاون فراہم کرنے پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ (دفتر خارجہ) کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پائیدار امن، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے ان مذاکرات کے کامیاب نتائج اس امید کو تقویت دیتے ہیں کہ ایک مثبت اور پائیدار حل اب ہماری پہنچ میں ہے، ان شاء اللہ۔ ہمارے خطے اور اس سے آگے کے ممالک کی مشترکہ خوشحالی اور سلامتی کے لیے جنگ و تصادم کے مقابلے میں ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی فتح ملنی چاہیے۔

  • ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایران جنگ کے معاملے پر ایک کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی-

    امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں، جس کے باعث گفتگو میں تناؤ پیدا ہوا یہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی گفتگو نہیں تھی اتوار کو ہونے والی بات چیت میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ وہ ہفتے کے آغاز میں ایران پر نئے ہدفی حملوں کی منظوری دینے کا امکان رکھتے ہیں، بتایا گیا کہ اس مجوزہ کارروائی کو نیا نام آپریشن سلیج ہیمر دیے جانے کی تیاری بھی کی جارہی تھی۔

    تاہم ابتدائی گفتگو کے تقریباً 24 گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو متوقع حملے روک رہے ہیں ان کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا گیا امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دنوں خلیجی ممالک وا ئٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جاسکے۔

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم ایران کے معاملے کے آخری مراحل میں ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہےیا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو کافی سخت ہوں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ان جاری مذاکرات سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو طویل عرصے سے تہران کے خلاف زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ تاخیر صرف ایران کے مفاد میں جا رہی ہے۔

    امریکی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کی گفتگو میں صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ متوقع حملے موخر کرنا ایک غلطی ہے اور امریکا کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔

    ایک اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا اسرائیلی حکام کے مطابق اختلاف واضح تھا، کیونکہ ٹرمپ معاہدے کے امکانات دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کسی اور سمت میں پیش رفت کی توقع کررہے تھے۔

    سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس سے اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی جبکہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے اس کشیدہ فون کال کی خبر سب سے پہلے دی تھی اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو کے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اسرائیلی حکومت کی اعلیٰ سطح پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی خواہش موجود ہے اور اس بات پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کو سفارتی عمل کے ذریعے وقت دے رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کی امریکی حکمت عملی، خصوصاً ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اچانک توقف اختیار کرنے پر ناراضی کوئی نئی بات نہیں امریکی حکام ماضی میں بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر یکساں نہیں۔

    بدھ کو صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ انہوں نے گزشتہ شب نیتن یاہو سے کیا کہا تھا تو انہوں نے جواب دیا، میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا،ایران کے ساتھ معاملات انتہائی نازک مرحلے میں ہیں اور اگر چند روز کی سفارت کاری سے جانیں بچ سکتی ہیں تو اسے موقع دینا چاہیے۔

    ادھرایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ایران کے ابتدائی 14 نکاتی متن کی بنیاد پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے، امریکی مؤقف موصو ل ہوچکا ہے اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔