Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • بنگلہ دیش میں ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہو سے مشابہ دو بھینسے سوشل میڈیا پر وائرل

    بنگلہ دیش میں ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہو سے مشابہ دو بھینسے سوشل میڈیا پر وائرل

    بنگلہ دیش میں 700 کلو گرام وزنی اس نایاب گلابی البینو (Albino) بھینسے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غیر معمولی مشابہت کی وجہ سے انہی کا نام دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نگلادیش سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشابہت رکھنے والے 2 بھینسے سوشل میڈیا پر خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں منفرد گلابی بھینسا، جسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، عیدالاضحیٰ سے قبل عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے 700 کلو وزنی اس بھینسے کے سنہری اور گھنے بالوں کی وجہ سے اسے “ٹرمپ” کا نام دیا گیا، جو ڈھاکہ کے قریب نارائن گنج میں ایک فارم پر موجود ہے۔

    مالک ضیاء الدین مردھا کے مطابق بھینسے کا یہ نام اس کے غیر معمولی بالوں کی وجہ سے رکھا گیا بڑی تعداد میں لوگ، خصوصاً بچے اور سوشل میڈیا صارفین، اس بھینسے کو دیکھنے اور تصاویر بنانے کے لیے فارم کا رخ کر رہے ہیں مالک کیمطابق بھینسے کو دن میں چار مرتبہ نہلایا جاتا ہے، جو اس کی واحد “آسائش” ہے، میرے چھوٹے بھائی نے اس کے سر پر سنہرے رنگ کے بال دیکھ کر مذاق میں اس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ رکھ دیا، بھینسا بہت پرسکون طبیعت کا حامل ہے، تاہم مسلسل رش اور توجہ کے باعث اس کے وزن میں کمی واقع ہوئی ہے جس پر اب عوام کے آنے پر کچھ پابندیاں لگائی گئی-

    اس فارم پر موجود دیگر بھینسوں کو بھی دلچسپ نام دیے گئے ہیں، جن میں “طوفان”، “فیٹ بوائے” اور “سویٹ بوائے” شامل ہیں، جبکہ ایک سنہری بالوں والے بھینسے کو برازیلین فٹبالر نیمار کے نام سے موسوم کیا گیا ہےضیاء الدین مردھا نے کہا کہ وہ اس بھینسے کو یاد کریں گے، تاہم عیدالاضحیٰ کا اصل مقصد قربانی ہی ہے۔

    سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جانور کی کوئی حتمی یا سرکاری قیمت طے نہیں کی گئی، تاہم یہ اس وقت دنیا کا سب سے مقبول بھینسا ہونے کا اعزاز پا چکا ہے،محکمہ لائیوسٹاک حکام کا کہنا ہے کہ البینو بھینسے انتہائی نایاب ہوتے ہیں اور ان میں میلانین کی کمی کے باعث ان کا رنگ سفید یا گلابی دکھائی دیتا ہے۔

    بنگلہ دیش میں عیدالاضحیٰ کی تیاریوں کے سلسلے میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد جانوروں کی قربانی متوقع ہے، جس دوران کم آمدن والے افراد کو بھی گوشت کھانے کا موقع ملتا ہے۔

    دوسری جانب نارائن گنج میں ایک اور البینوبھینسا جس کا وزن 750 کلوگرام سے زیادہ ہے،اس کے بال اور آنکھیں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے مشا بہت رکھتی ہیں اور یہ مبینہ طور پر جارحانہ رویے کا مالک ہے۔ایس ایس کیٹل فارم کے ایک مینیجر نے کہا کہ نیتن یاہو بہت شرارتی اور اس کی ذہانت مکار ہے یہاں تک کہ جب ہم اسے کھانا کھلانے جاتے ہیں، تو یہ ہمیں گھورنے کی کوشش کرتا ہے۔

  • گوتم اڈانی کو بڑا ریلیف،امریکی حکومت ٹرمپ کے حکم پر  تمام مقدمات ختم کرنے پر متفق

    گوتم اڈانی کو بڑا ریلیف،امریکی حکومت ٹرمپ کے حکم پر تمام مقدمات ختم کرنے پر متفق

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارتی ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کے خلاف دائر فوجداری دھوکہ دہی کے مقدمات ختم کرنے کی کارروائی شروع کردی، جنہوں نے امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر رکھا ہے،جبکہ ان کی ایک کمپنی سے متعلق ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی طے کرلیا گیا ہےیہ ٹرمپ کے محکمہ انصاف کی جانب سے ان ہائی پروفائل فوجداری مقدمات کو ترک کرنے کی تازہ ترین مثال ہے جو ان کے ڈیموکریٹ پیشرو جو بائیڈن کے دور میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے شروع کیے تھے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے گوتم اڈانی کے خلاف زیر التوا مقدمات کے خاتمے کا یہ فیصلہ پیر کے روز کیا گیا جو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے وکیل، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں، نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ اڈانی امریکا میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تاہم مقدمات جاری رہنے کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    فوربز میگزین کے مطابق 63 سالہ گوتم اڈانی کی مجموعی دولت کا تخمینہ 82 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو انہیں دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک بناتا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق گوتم اڈانی پر الزام تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکاری حکام کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رشوت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ اڈانی گروپ کی ذیلی کمپنی اڈانی گرین انرجی کو بھارت کے سب سے بڑے سولر پاور پلانٹ کی تعمیر کی منظوری مل سکے۔

    استغاثہ کا مؤقف تھا کہ بعد ازاں امریکی سرمایہ کاروں کو کمپنی کی انسداد بدعنوانی پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کن اور تسلی بخش معلومات فراہم کی گئیں،

    نومبر 2024 میں، بروکلی کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے اڈانی پر ایک مبینہ اسکیم کے تحت فردِ جرم عائد کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکار ی حکام کو تقریباً 265 ملین ڈالر رشوت دینے پر اتفاق کیا، تاکہ ان کی کمپنی کو بھارت کا سب سے بڑا سولر پاور پلانٹ تیار کرنے کی منظوری مل سکے، اڈانی اور ان کے مبینہ ساتھیوں نے قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے اپنی کرپشن چھپا کر 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے اور بانڈز حاصل کیے اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

    اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز بتایا کہ اڈانی گروپ کی کمپنی ادانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تصفیے کے لیے 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کرلیا ہے الزام تھا کہ اڈانی انٹرپرائزز نے دبئی میں قائم ایک تاجر سے مائع پیٹرولیم گیس (LPG) کی کھیپیں خریدیں، جنہیں عمانی اور عراقی گیس ظاہر کیا گیا، لیکن وہ دراصل ایران سے آئی تھیں، اڈانی انٹرپرائزز نے بھارت میں ایل پی جی کی درآمد بھی روک دی ہے اور حکومتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہیڈ آف کمپلائنس کا عہدہ بھی قائم کردیا ہے-

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق گوتم اڈانی کو ایس ای سی کے ایک متعلقہ سول فراڈ کیس کا بھی سامنا تھا، جسے سیکیورٹیز ریگولیٹر نے جمعرات کو عدالتی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے طے کر لیا تھا گوتم اڈانی کے بھتیجے ساگر اڈانی کو بھی ایس ای سی کے سول کلیمز کا سامنا تھا۔

    ریکارڈ کے مطابق اڈانی اور ان کے بھتیجے 18 ملین ڈالر کے سول جرمانے ادا کریں گے، اگرچہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی غلط کام کا اعتراف یا تردید نہیں کرے گا۔ اڈانی گرین انرجی نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں افراد اور ایس ای سی نے نیویارک کی ایک عدالت میں حتمی فیصلے کے اندراج کے لیے درخواست دائر کر دی ہے، جس کا اب انتظار کیا جا رہا ہے۔

    ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

    گوتم اڈانی کے وکلاء نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے موکلین اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں کہ ایس ای سی کی جانب سے مبینہ رشوت ستانی کی اسکیم کی حمایت میں کوئی معتبر ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانڈز کی پیشکش میں اڈانی کی عدم شمولیت اور دھوکہ دہی کی نیت یا غفلت کی عدم موجودگی کیس کی برخاستگی کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے ایس ای سی کے دعوؤں کو غیر قانونی طور پر ماورائے علاقہ بھی قرار دیا، جس سے مراد یہ ہے کہ اڈانی اور تمام مبینہ غلط طرز عمل بھارت میں تھا اور وہ بانڈز کبھی بھی امریکی ایکسچینج پر ٹریڈ نہیں ہوئے تھے۔

    پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت

  • ٹرمپ نے آخری لمحے میں  ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ روکنے کی وجہ اسرائیلی صحافی نے بے نقاب کر دی-

    اسرائیلی صحافی براک راویڈ نے امریکی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے امریکا کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج اور نقصان خلیجی ممالک کو برداشت کرنا پڑیں گے، صدر ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطر کے امیر تمیم بن حماد اور یو اے ای کے صدر زائد النیہان سے رابطے کیے۔

    اسرائیلی صحافی کے مطابق دوحہ، ریاض اور ابوظبی نے مشترکہ طور پر امریکی صدر پر زور دیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کو موقع دیا جائے کیونکہ جنگ کی صورت میں خلیجی ممالک کی آئل اور انرجی تنصیبات شدید خطرے میں پڑ سکتی ہیں صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں اور ایران پر حملے کے حامی ساتھیوں کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی اتحادی خطے میں مزید تباہی اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے بچنا چاہتے ہیں۔

    پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا،بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا،فیلڈ مارشل

    امریکی نشریاتی ادارے Axios کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے حامی سیاستدانوں اور مشیروں کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر وہ فی الحال سفارتی مذاکرات کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں تاہم، معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں امریکی افواج کو کسی بھی بڑے حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران پر طے شدہ فوجی حملہ مؤخر کیا جا رہا ہے ان رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو امریکا، مشرق وسطیٰ اور عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہو امریکی صدر نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، انہوں نے سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کردی ہے کہ ایران پر طے شدہ حملہ فی الحال نہ کیا جائے۔

    پیٹ ہیگستھ کی انتخابی مہم میں شرکت سے سیاسی حلقوں میں ہلچل

  • ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام  کا منصوبہ

    ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

    ایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ایران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے قتل پر 5 کروڑ یورو، یعنی تقریباً 5 کروڑ 82 لاکھ ڈالر انعام مقرر کرنے کا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ کمیٹی ایک بل تیار کر رہی ہے جس کا عنوان اسلامی جمہوریہ کی فوجی اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی رکھا گیا ہے۔

    دی ٹیلی گراف کے مطابق اس مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی فرد یا گروہ کو 5 کروڑ یورو ادا کیے جائیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جان سے مارے گاایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    ابراہیم عزیزی نے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کو آیت اللہ خامنہ ای کے قتل میں مبینہ کردار پر جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جانا چاہیے،ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ایک اور رکن محمود نباوین نے بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹ جلد ایسے انعام کی منظوری پر ووٹ کرے گی جو اُس شخص یا گروہ کو دیا جائے گا جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جہنم واصل کرے۔

    یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل ایران کے حامی میڈیا ادارے مساف نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے ”کِل ٹرمپ“ مہم کے لیے 5 کروڑ ڈالر کے مالی وسائل مختص کر دیے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے سرکاری حمایت یافتہ سائبر وارفیئر گروپ ہندالہ نے بھی ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ظلم اور کرپشن کے بنیادی معمارو ں، یعنی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خاتمے کے لیے 5 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، یہ رقم اُس فرد یا تنظیم کو دی جائے گی جو دونوں رہنماؤں کے خلاف عملی کارر وائی کرے گا، یہ اقدام امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ہندالہ گروپ کے ارکان کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام کے اعلان کے ردعمل میں کیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے مجوزہ انعامی قانون ماضی کی دھمکیوں، مذہبی فتوؤں اور پروپیگنڈا مہمات کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین پیش رفت ہے، جو امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے جبکہ گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکا انتہائی سخت احکامات جاری کرے گا اور ایران کو “زمین کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

  • ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ثابت ہو گا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر لکھا کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔

    اس بیان کے بعد انہوں نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلی فون پر ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اپنے مفاد میں یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائے، ایرانیوں کے ساتھ کچھ مسائل ہیں اور وہ پاگل ہیں۔

    اس سے قبل ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر ایک بہت بڑا اور فیصلہ کن فوجی حملہ کرنے والے تھے لیکن انہوں نے یہ حملہ پاکستان کی وجہ سے روک دیا، میں نے ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بہت اچھے لوگوں کی درخواست پر روکا ہے۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی شخصیات ایران کے بہت زیادہ قریب ہیں اور ان شخصیات نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر آپ ابھی اس حملے سے رک سکتے ہیں تو ہم آپ کی ایران کے ساتھ ڈیل یعنی معاہدہ کرا دیں گے۔

    امریکی صدر کے ان بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خطے میں پسِ پردہ انتہائی اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں جہاں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ کو روکنے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے-

  • ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر  شئیر کردی

    ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر شئیر کردی

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےایران میں موجود ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

    مسعود پزشکیان نے درخت کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "سرو” کا یہ درخت ساڑھے 4 ہزار سال پرانا ہے اور ایشیا کا قدیم ترین جاندار ہے یہ اس دھرتی پر ہے جب ساڑھے 4 ہزار سال پہلے بھی ایران کے نام سے جانی جاتی تھی۔

    واضح رہے امریکی صدر کے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چین کے انتہائی خفیہ اور نایاب حکومتی باغ کا دورہ کروایا تھا اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے باغ کے 490 سال پرانے درخت بھی دکھائے تھے اور بتایا تھا کہ یہاں بعض درخت 1000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے جگہ کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے یہ ماحول بہت پسند آیا ہے۔’

    دوسری جانب ایرانی صدر کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا سلسلہ کیا جارہا ہےسوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہےکہ صدر پزشکیان نے ساڑھے چارہزار سال پرانے درخت کی تصویر اس لیے بھی شئیرکی کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کی تہذیب اجاڑنے کی دھمکی دی تھی۔

  • ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کا اعلان

    ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کے دورے کا اعلان کردیا، یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے فوراً بعد ہورہا ہے۔

    کریملن نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 19 مئی کو 2 روزہ دورے پر چین جائیں گے پیوٹن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات میں ماسکو اور بیجنگ کے درمیان جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے دونوں رہنما اہم بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر بھی گفتگو کریں گے جبکہ مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جائیں گے۔

    دورے کے دوران روسی صدر کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات شیڈول ہے، جس میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے مختلف پہلو زیر بحث آئیں گے پیوٹن کے دورے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کو اپنا دورۂ چین مکمل کرکے واپس روانہ ہوئے ہیں۔ قریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین تھا۔

    اگرچہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان یوکرین روس تنازع اور ایران کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، تاہم امریکی صدر کسی بڑی پیشرفت کے بغیر واپس لوٹے۔

  • چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورۂ چین سے قبل امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنی 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں، جن میں تائیوان کا مسئلہ، سمندری حدود (جنوبی چین کا سمندر)، انسانی حقوق اور چین کی سیاسی نظام کو چیلنج نہ کرنا شامل ہیں-

    رشیا ٹو ڈے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات متوقع ہے، جس میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ملاقات میں ایران سے متعلق جنگ پر بھی بات کریں گے، جس پر امریکا اور اسرائیل چین پر ایران کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    چینی سفارت خانے نے امریکا میں اپنے بیان میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے 4 ’ریڈ لائنز‘ کا ذکر کیا ہے، جن میں تائیوان، جمہوریت اور انسانی حقوق، سیاسی نظام اور ترقی کے راستے، اور چین کے ترقیاتی حقوق شامل ہیں، چین اپنی سمندر ی حدود میں امریکی فوجی موجودگی اور نیویگیشن آپریشنز کو اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکا کو تائیوان میں علیحدگی پسند حکومت کی حمایت سے گریز کرنا چاہیے اور چین کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،چین کے ترقیاتی اہداف کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی یا دیگر تجارتی پابندیوں کا نفاذ، جسے چین اپنی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے-

    صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کی دوسری مدتِ صدارت میں چین کا پہلا دورہ ہے، جس میں وہ ایران کے معاملے، عالمی تجارت، اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات پر بات چیت کریں گے یہ دورہ ایران جنگ اور تجارتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست بات چیت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کے بعد چین اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں امریکا کی جانب سے ایک چینی آئل ریفائنری پر ایرانی تیل کی خریداری کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے جواب میں چین نے اپنی نجی ریفائنریوں کو امریکی پابندیوں کی پابندی سے روک دیا ہے اور انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا اور امریکا کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مفادِ مشترکہ کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

  • ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کو عسکری طور پر مضبوط ظاہر کرنا ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقا بلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے، یہ وہ امریکی بزدل ہیں جو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کے تمام 159 جہاز تباہ ہو چکے ہیں اور اب سمندر کی تہہ میں پڑے ہیں، جبکہ ایران کی فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے ایرانی قیادت بھی اب باقی نہیں رہی اور ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے، صرف ناکام، ناشکرے اور احمق لوگ ہی امریکا کے خلاف مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی خارجہ پالیسی پر شدید بحث جاری ہے۔

  • امریکیوں نے وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیدیا

    امریکیوں نے وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیدیا

    ہر چار میں سے ایک امریکی سمجھتا ہے کہ وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی تھا،امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اس شک میں مبتلا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حالیہ قاتلانہ حملے واقعی حقیقت تھے یا انہیں محض سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایک ڈرامے کے طور پر پیش کیا گیا۔

    امریکا میں خبروں اور معلوماتی ویب سائٹس کی ریٹنگ جاری کرنے والے ادارے نیوز گارڈ نے 28 اپریل سے 4 مئی تک سروے جاری کردیا سروے میں ایک تہائی ڈیموکریٹس نے حصہ لیا سروے میں 18 سے 29 سال کی عمر کے امریکیوں نے قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیا ، جبکہ عمر رسیدہ امریکی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ پر حملہ اصلی تھا۔

    ‘نیوز گارڈز ریئلٹی چیک‘ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اس سروے کے مطابق 30 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں ٹرمپ پر ہونے والے تین حملوں میں سے کم از کم ایک واقعہ پہلے سے طے شدہ یا ’اسٹیجڈ‘ تھا یہ سروے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہفتے قبل ہی وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے عشایئے کے دوران ایک مسلح شخص نے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔

    نیوز گارڈ کی سینئر ایڈیٹر صوفیہ روبنسن کے مطابق، اس حملے کے ایک ہفتے کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایسی پوسٹس کی گئیں جنہیں 9 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا، حالانکہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھےسروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 18 سے 29 سال کے نوجوان اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ان حملوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں میں سب سے آگے ہیں۔

    ڈیموکریٹس میں سے 42 فیصد کا خیال ہے کہ جولائی 2024 میں پنسلوانیا میں ہونے والا ’بٹلر حملہ‘ ایک ڈرامہ تھا، جبکہ 34 فیصد نے وائٹ ہاؤس کے ڈنر والے واقعے کو جعلی قرار دیا جبکہ اب ٹرمپ کی اپنی پارٹی یعنی ریپبلکنز کے اندر بھی شک پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے، جہاں 13 فیصد ووٹرز نے حالیہ حملے کو اسٹیجڈ قرار دیا۔

    صوفیہ روبنسن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تحریک کے اندر کچھ دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس کی وجہ ایران کے ساتھ جنگ یا ایپسٹین فائلوں جیسے معاملات ہو سکتے ہیں، جس سے ان کے اپنے حامی بھی اب ان سازشی نظریات پر یقین کرنے لگے ہیں“۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے ان لوگوں کو ”بیمار“ قرار دیا جو ان حملوں کو ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جیسے کہ بٹلر حملے میں حملہ آور مارا گیا اور وفاقی اداروں نے ملزمان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کی۔

    میامی یونیورسٹی کے پروفیسر جوزف اسکنکسی کے مطابق جن لوگوں کا عالمی نقطہ نظر سازشی ہوتا ہے، انہیں ہر کونے میں سائے نظر آتے ہیں،ان کا ماننا ہے کہ چاہے حکومت کتنے ہی ثبوت پیش کر دے، ایسے نظریات کا مکمل خاتمہ مشکل ہے، جیسے کہ جان ایف کینیڈی کے قتل یا ویکسین کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا تھا بعد ازاں ملزم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔