Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ  کا اعلان

    ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کا اعلان

    ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ ایران کے خلاف امریکی صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کرے گی تاکہ ایران میں جاری جنگ کو روکا جا سکے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید حملوں کے لیے کانگریس کی منظوری لینا لازم ہو۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینیٹر چک شومر کا کہنا ہے کہ خاص طور پر اس خطرناک لمحے میں کانگریس کو اپنی اتھارٹی دوبارہ واضح کرنی ہوگی، انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ایران کی حکومت کو کمزور کرنے یا اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کا اعلان بدھ کی رات صدر ٹرمپ نے کیا تھایہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض دو گھنٹے باقی تھے، اس ڈیڈ لائن میں ایران کو وارننگ دی گئی تھی کہ اگر اس نے بند کی گئی آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایران نے کہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہےٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کو فیصلہ کن فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، حالانکہ امریکا کے اعلیٰ جنرل نے کہا کہ امریکی فوج لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ ٹرمپ کے اقدامات قانونی ہیں اور بطور کمانڈر ان چیف ملک کے تحفظ کے لیے محدود فوجی کارروائی کرنے کے ان کے حقوق میں شامل ہیں۔

    سینیٹ اور ہاؤس میں ڈیموکریٹس نے گزشتہ مہینوں میں کئی بار کوشش کی کہ جنگی اختیارات کی قرارداد پاس ہو تاکہ ٹرمپ کو فوجی کارروائی سے پہلے قانون سازوں کی اجازت لینا لازم ہو، مگر وہ ناکام رہے۔

  • ٹرمپ آج اعلیٰ فوجی قیادت کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے

    ٹرمپ آج اعلیٰ فوجی قیادت کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں ایران سے جاری کشیدگی کے معاملے پر اہم گفتگو ہو گی۔

    ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے میڈیا سے خطاب کریں گے،پریس کانفرنس وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں ہوگی اور اس میں اعلیٰ فوجی قیادت بھی صدر کے ہمراہ موجود ہوگی، یہ پریس کانفرنس امریکی میڈیا کے مسلسل اصرار پر منعقد کی جا رہی ہے جس میں صدر ٹرمپ ایران سے متعلق جاری صورتحال اور ممکنہ اقدامات پر سوالات کے جوابات دیں گے سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس پریس کانفرنس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں خطے کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بڑے اعلانات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے-

    ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں،قالیباف

    کھیل معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مثبت ماحول فراہم کرتے ہیں،شہباز شریف

  • ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات  امریکا کو  ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں،قالیباف

    ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں،قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں اور اس سے پورا خطہ جل جائےگا –

    قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ٹرمپ کو کہا کہ آپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں اور اس سے پورا خطہ جل جائےگا کیونکہ آپ نیتن یاہو کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں، اس صورتحال کا واحد حقیقی حل ایرانی عوام کے حقوق کا احترام اور اس خطرناک کھیل کا خاتمہ ہے۔

    انہوں نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ ’’خطرناک کھیل‘‘ فوری طور پر بند کیا جائے، بصورتِ دیگر نتائج سنگین ہوں گےقالیباف نے ایک تباہ شدہ طیارے کی تصویر بھی شیئر کی، جسے انہوں نے حالیہ کشیدگی کی علامت قرار دیا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا امریکی حکام کی جانب سے شہری ڈھانچے پر حملہ ایک مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ایک جنگی جرم ہے،امریکا نے جھوٹ کی بنیاد پر جنگ مسلط کی ہے اور ایران اس کا جواب اپنے دفاعی اقدامات کے ذریعے دے گا۔

    کھیل معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مثبت ماحول فراہم کرتے ہیں،شہباز شریف

    ایران جوابی کارروائی میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنائے گا، اور جو ممالک یا گروہ ایران کے خلاف اس جارحانہ اقدام میں شامل ہوں گے، انہیں بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، ٹرمپ کی مسلط کردہ جنگ امریکی عوام کے جذبات کی ترجمان نہیں ہےامریکی عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ یہ جنگ ان کی نہیں بلکہ اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی ہے، جو خطے میں نسل کشی کے اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے امریکا کو استعمال کر رہا ہے۔

    اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ امریکا میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکی عوام اس جنگ کے مخالف ہیں ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کا ردعمل نہ صرف مؤثر بلکہ خوفناک ہوگا، اور ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا تاکہ امریکی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے-

    امریکا ایران کو الٹی میٹم دینا بند کرے،روس

  • ایپسٹن نے خود کو ٹرمپ کا خاص بندہ بتاتے ہوئے امبانی کی دفاعی اور سفارتی معاملات پر رہنمائی کی،امریکی میڈیا

    ایپسٹن نے خود کو ٹرمپ کا خاص بندہ بتاتے ہوئے امبانی کی دفاعی اور سفارتی معاملات پر رہنمائی کی،امریکی میڈیا

    امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سزا یافتہ جنسی اسمگلر جیفری ایپسٹین نے خود کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بااثر اندرونی فرد کے طور پر پیش کرتے ہوئے بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کو دفاعی اور سفارتی معاملات پر مشورے دیے۔

    امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انیل امبانی، بھارت کے سب سے بڑے تاجروں میں سے ایک، ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی دنوں میں یہ جاننے کے لیے بے چین تھے کہ بھارت نئے صدر کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کہاں فٹ ہو سکتا ہے، سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے خود کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب بااثر شخصیت ظاہر کرتے ہوئے 2017 میں بھارتی صنعتکار انیل امبانی کو بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں رہنمائی فراہم کی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں مالی مشکلات کا شکار ہونے والے امبانی نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے ایپسٹین سے اندرونی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے ٹرمپ انتظامیہ میں تقرریوں اور خارجہ پالیسی سے متعلق معلومات امبانی کے ساتھ شیئر کیں۔

    ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا

    مارچ 2017 میں امبانی نے استفسار کیا کہ آیا ڈیوڈ پیٹریاس کو بھارت میں امریکی سفیر مقرر کیا جائے گا، جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہ معلومات حاصل کرے گا بعد ازاں اس نے بتایا کہ پیٹریاس اس عہدے کے لیے زیر غور نہیں بالآخر نومبر 2017 میں کینتھ آئی جسٹر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

    اسی طرح جولائی 2017 میں ایپسٹین نے امبانی کو بتایا کہ جان بولٹن جلد ہی ایچ آر مک ماسٹر کی جگہ قومی سلامتی کے مشیر بن جائیں گے، یہ خبر تقریباً 8 ماہ بعد درست ثابت ہوئی ایپسٹین نے امبانی کو ٹرمپ کے قریبی افراد سے ملاقات کروانے کی پیشکش بھی کی، جن میں سٹیفن کے بینن اور تھامس باراک جونیئر شامل تھے۔

    دوسری جانب امبانی نے خود کو نریندر مودی کی حکومت سے قریبی تعلق رکھنے والا ظاہر کیا اور ایک موقع پر کہا کہ ’قیادت‘ نے ایپسٹین سے جیرڈ کشنر اور بینن سے ملاقاتوں کے انتظام میں مدد مانگی ہے پیغامات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے امبانی کو مشورہ دیا کہ بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

    ایران امریکا جنگ بندی:پاکستان اور سعودی عرب کا خطے کی صورتحال کا جائزہ،دو مرحلوں پر مبنی ممکنہ معاہدے پر غور

    اس دوران مودی کے شیڈول میں اسرائیل سے متعلق امور کو خاص اہمیت حاصل رہی، جو ان کے تاریخی دورۂ اسرائیل اور اسی سال تقریباً 2 ارب ڈالر کے دفاعی سودوں سے مطابقت رکھتا ہے انیل امبانی، جو مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی ہیں، کاروباری مشکلات کے باعث 2007 میں تقریباً 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2019 میں محض 1.7 ارب ڈالر کی ملکیت تک آ گئے۔

    رپورٹ کے مطابق 2019 میں بھی دونوں کے درمیان رابطہ برقرار رہا، جہاں ایپسٹین نے بطور ’دوست‘ امبانی کو مشورے اور ہمدردی کا اظہار کیا، بغیر کسی مالی مطالبے کے دونوں کی ملاقات 23 مئی 2019 کو نیویارک میں ہوئی، جو بھارت کے عام انتخابات کے نتائج کا دن بھی تھا پیغامات میں سیاست اور مالی معاملات کے ساتھ ساتھ ’ڈیزرٹ‘ اور ’تفریح‘ جیسے مبہم حوالوں کا بھی ذکر ملتا ہے، تاہم ان کا مکمل سیاق و سباق واضح نہیں۔

  • ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا

    ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کا حتمی وقت واضح کرتے ہوئے سوشل میڈیا ٹروتھ پر بتایا کہ ڈیڈ لائن منگل کو رات 8 بجے (ایسٹرن ٹائم) ختم ہوگی،عرب میڈیا کے مطابق یہی وقت ایران میں رات قریباً ساڑھے تین بجے جبکہ پاکستان میں بدھ کی صبح 5 بجے کے برابر بنتا ہے۔

    ایران امریکا جنگ بندی:پاکستان اور سعودی عرب کا خطے کی صورتحال کا جائزہ،دو مرحلوں پر مبنی ممکنہ معاہدے پر غور

    اس اعلان سے قبل ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی واضح ٹائم لائن کا تعین نہیں کر سکتے، تاہم خبردار کیا کہ اگر ایران نے منگل کی شام تک آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے انہوں نے ایران کو تنبیہ کی کہ مقررہ وقت تک پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف پاور پلانٹس بلکہ دیگر اہم انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہیں گے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع ہفتوں نہیں بلکہ چند دنوں میں ختم ہونا چاہیے جبکہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا

  • ایران کو دھمکی دینے پر  امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا

    ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ روز ایران کے خلاف نازیبا اور دھمکی آمیز بیان پر امریکی سیاستدانوں نے انہیں نااہل قرار دے دیا-

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ روز ایران کے خلاف نازیبا اور دھمکی آمیز بیان نے نہ صرف عالمی سطح پر ہلچل مچا دی بلکہ خود امریکا کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دے دیا ہے جہاں اہم سیاستدانوں نے صدر کے ذہنی توازن پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور انہیں عہدے سے ہٹا نے کا مطالبہ کر دیا ہے، سیاسی قیادت نے امریکی آئین کی پچیسویں ترمیم نافذ کرنے پر زور دیا ہے تاکہ صدر کی معذوری یا غیر مستحکم ذہنی حالت کی صور ت میں اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    امریکی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چک شومر نے ٹرمپ کے بیان کو ایک بے قابو پاگل شخص کی بڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر سوشل میڈیا پر جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اتحادیوں کو دور کر رہے ہیں جو امریکا کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے۔

    عظیم صوفی بزرگ کا شہر مضر صحت پانی کے باعث بیماریوں کا شکار

    اسی طرح سینیٹر بیرنی سینڈرز نے ٹرمپ کے بیان کو خطرناک اور ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کانگریس سے فوری مداخلت اور جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا،ایک ماہ قبل شروع کی گئی جنگ نے پہلے ہی ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور مزید تباہی کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

    امریکی سینیٹر کرس مرفی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کابینہ میں ہوتے تو آئین کی 25ویں ترمیم پر غور شروع کر دیتے جو صدر کو عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کا راستہ فراہم کرتی ہے، صدر کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے کابینہ کے ارکان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر قانونی ماہرین سے رابطہ کریں تاکہ امریکی آئین کی پچیسویں ترمیم کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹانے کے امکانات پر غور کیا جا سکے، کیونکہ ان کے بقول صدر کا طرزِ عمل مکمل طور پر ناقابلِ فہم ہو چکا ہے۔

    
ملتان میں رکشے میں سلنڈر دھماکہ، 3 افراد جاں بحق، 14 زخمی

    ریپبلکن رہنما مرجوری ٹیلر گرین جو کبھی ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں اب کھل کر مخالفت میں آ گئی ہیں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں اور ان کی پالیسیاں نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا بھر کے معصوم لوگوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، امریکا اور اسرائیل نے بغیر جواز جنگ شروع کی اور اب اس کے نتائج بھگت رہے ہیں،صدر ٹرمپ ان بے گناہ ایرانی شہریوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جن کی آزادی کا وہ خود دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ کے دیگر ارکان پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔

    دوسری جانب ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز اسی صورت کھولے گا جب جنگی نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا جبکہ ٹرمپ کی دھمکیوں اور غیر مہذب الفاظ کو انہوں نے مایوسی اور غصے کا اظہار قرار دیا۔

    فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے آبنائے ہرمز بند ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں ریکارڈ حد تک بڑھ چکی ہیں۔

    
سندھ میں کرایوں میں اضافہ نہیں ہوگا، اضافی خرچ حکومت اٹھائے گی

  • کیا ٹرمپ کاپاگل پن روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاجاسکتا؟سابق سربراہ آئی اے ای اے کا عالمی برادری سے سوال

    کیا ٹرمپ کاپاگل پن روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاجاسکتا؟سابق سربراہ آئی اے ای اے کا عالمی برادری سے سوال

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 48گھنٹے کی ڈیڈلائن پربین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے بین الاقوامی برادری سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں محمد البرادعی نے کہا کہ مہربانی کریں، خلیجی ممالک کی حکومتیں جو کچھ ہو سکتا ہےکریں محمد البرادی نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، انتونیو گوتیریس ، یورپی کونسل، فرانس، چین اور روس سے بھی اپیل کی کہ کچھ کریں قبل اس کے کہ ٹرمپ خطے کو آگ کے گولے میں بدل دے کیا ٹرمپ کاپاگل پن روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاجاسکتا؟

    اسرائیل میں سیکڑوں افراد کا ایران جنگ کے خلاف احتجاج

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ یاد رکھیں جب میں نے ایران کو 10 دن دیے تھے کہ معاہدہ کرے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ایران کے پاس 48 گھنٹے ہیں کہ وہ کوئی معاہدہ کر لے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑے گی-

    معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا ایک اور الٹی میٹم

  • صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے،کملا ہیرس

    صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے،کملا ہیرس

    امریکی سینیٹر اور سابق نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جاری جنگ پر دیے گئے حالیہ خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے-

    اپنے ایک ویڈیو بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ جنگ امریکی عوام کی مرضی کے خلاف ہے، فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور عوامی مسائل جیسے مہنگائی کو نظرانداز کر رہی ہے صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے اور جس سے امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، ٹرمپ کی ایران جنگ کی پالیسی نے روزمرہ کی زندگی میں قیمتوں کے بڑھنے جیسے مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان معاملات پر توجہ دینے میں ناکام رہا ہے، جن سے امریکی عوام حقیقی طور پر متاثر ہو رہے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ شاید اپنی تقریر میں ’فتح‘ کا دعویٰ کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، نہ کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، عوام کی نگاہیں اس جنگ کے حقیقی اثرات پر ہیں، خاص طور پر جب تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ ہے اور اقتصادی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

    ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ملکی وقت میں ایک خصوصی خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں مزید سخت کارروائیاں جاری رکھے گا۔

  • ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ  فرانسیسی صدر کو  بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ’فرانس کے میکرون کو فون کیا، جن کے ساتھ ان کی اہلیہ بہت برا سلوک کرتی ہیں اور وہ ابھی تک جبڑے پر لگنے والے وار (تھپڑ) سے سنبھل رہے ہیں‘۔

    ٹرمپ نے کہا کہ فرانس کاصدر میکرون جسکی بیوی اسے بہت زلیل کرتی ہے اورابھی تک اسکا دایاں جبڑہ( بیوی سے مار کھا کر) زخمی ہےمیں نےاسے کیخلاف جنگ میں مدد کیلئے فون کیا لیکن اس نےصاف انکارکر دیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب صدر ٹرمپ نے میکرون کا مذاق اُڑایا ہے۔ اس سے قبل ڈیووس میں میکرون کی تقریر کے دوران ان کے ہوا بازوں جیسے سن گلاسز پہننے پر بھی ٹرمپ نے طنز کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس فرانسیسی صدر سرکاری دورے پر ویتنام پہنچے تھے جہاں ایئرپورٹ پر حکام اور صحافی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اے پی کے کیمرہ مین نے چند سیکنڈز کی ویڈیو کلپ ریکارڈ کی جو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئی ویڈیو میں صدر میکرون کو جہاز کے گیٹ پر نمودار ہوتے اور اپنی اہلیہ بریگِٹ میکرون کو دونوں ہاتھوں سے دھکیلتے دیکھا گیا، اس دوران صدر میکرون کچھ پریشان نظر آئے مگر پھر رپورٹرز کی طرف دیکھ کر مسکرا کر ہاتھ ہلایا بعد ازاں انہوں نے بریگِٹ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی لیکن بریگِٹ میکرون نے سیڑھیوں کا جنگلہ پکڑ کر اترنے کو ترجیح دی صدر میکرو ن نے صحافیوں کو وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ یہ صرف ہنسی مذاق تھا۔

    فرانسیسی خاتون اول بریگِٹ میکرون 72 سالہ ہیں اور صدر میکرون سے 24 سال بڑی ہیں، دونوں کی پہلی ملاقات ہائی اسکول میں ہوئی تھی جب صدر میکرون کی عمر 15 سال اور بریگِٹ کی عمر 39 سال تھی۔ بعد ازاں 2007 میں دونوں نے شادی کی۔

  • یورینیم نکالنے کیلئے  ٹرمپ کی  اپنے قریبی مشیروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ہدایت،وال اسٹریٹ جرنل

    یورینیم نکالنے کیلئے ٹرمپ کی اپنے قریبی مشیروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ہدایت،وال اسٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔

    اخبار کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کا یہ مشن نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے، جس کے لیے امریکی فوج کو کئی دن تک ایران کے اندر موجود رہنا پڑ سکتا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس آپریشن کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن اسے ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور رکھا گیا ہےصدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھائیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرط کے طور پر یورینیم حوالے کرے ،اگر ایران مذاکرات کے دوران یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو طاقت کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے،یورینیم پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے محدود اور ہدفی فوجی کارروائی جنگ کے دورانیے کو زیادہ طویل نہیں کرے گی، تاہم اس کے خطرات اور نتائج انتہائی حساس ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ امریکا ماضی میں بھی ایسے حساس مشنز کر چکا ہے، جن میں 1994 میں قزاقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم منتقل کرنے کے آپریشنز شامل ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس نوعیت کا کوئی آپریشن کیا گیا تو اس کے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا کام صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے اور مختلف آپشنز کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے اس معاملے پر پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے ترجمانوں نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔