Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی،صدر ٹرمپ

    ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی۔

    صدرٹرمپ نے پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر خطے کے دیگر ممالک جیسے سعودی عرب اور قطر کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں تو ایران کے پاس بھی یہ میزائل مناسب تعداد میں ہونے چاہئیں اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ”متناسب سطح پر“ ایران کے پاس بھی ایسی صلاحیت ہونا قابل قبول ہے امریکہ اپنی فوجی موجودگی خلیجی خطے میں فوری طور پر ختم نہیں کرے گا بلکہ امریکی افواج ”کچھ عرصے“ تک وہاں تعینات رہیں گی، انہوں نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کے باوجود خطے کی صورتحال اور سکیورٹی معاملات کے پیش نظر امریکی فوج کی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہےجبکہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے-

    اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے ، امر یکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی،تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں،اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدا مات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیشرفت ہو سکتی ہے ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرے گا جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہد ے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔

  • افغانستان میں انخلا کے دوران  چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    افغانستان میں انخلا کے دوران چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران چھوڑا گیا فوجی سازوسامان اب کچھ پرانا ہو چکا ہے، تاہم امریکا اسے واپس حاصل کرسکتا ہے۔

    فاکس نیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، جی 7 اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی انخلا کو انتہائی افسوسناک قرار دیا صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس تمام امریکی سازوسامان کی واپسی چاہتے ہیں، جس کی مالیت کا تخمینہ اربوں ڈالرز لگایا گیا ہے کہا کہ سابق امریکی انتظامیہ نے اربوں ڈالر مالیت کا فوجی سامان افغانستان میں چھوڑ دیا تھا –

    ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ انخلا کرتے تو اسے وقار اور منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیتے اور تمام فوجی سازوسامان واپس لے جاتے ان کی حکومت افغانستان سے انخلا کے دوران ایک ایک چیز واپس لانے کا ارادہ رکھتی تھی اور فوجی کیمپوں کے خیمے تک اتارنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مستقبل میں افغانستان کو دی جا نے والی کسی بھی مالی امداد کو وہاں موجود امریکی فوجی سازوسامان کی واپسی سے مشروط کیا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ سامان قدرے پرانا ہو چکا ہے، لیکن اس کی واپسی اب بھی علامتی اور عملی طور پر اہمیت رکھتی ہے-

    امریکی صدر کے حالیہ بیان کو پاکستان کے اس مؤقف کی تائید بھی قرار دیا جا رہا ہے جس میں اسلام آباد بارہا کہہ چکا ہے کہ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے جدید ہتھیار دہشتگرد تنظیموں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے ہاتھ لگے اور پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوئے ،پاکستانی دفتر خارجہ اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ افغانستان میں موجود جدید امریکی اسلحہ اور فوجی سازوسامان پاکستان اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو  کے درمیان  فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والی فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو کے دوران نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائیاں کم کریں اور بمباری کا سلسلہ روکنے پر غور کریں،امریکی صدر نے اپنے قریبی مشیروں کے سامنے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ہر مسئلے کا حل فوجی کارروائی اور بمباری میں تلاش کرتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی قیادت کی جانب سے مسلسل نئی فوجی کارروائیوں کے مطالبات سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک اور فون کال کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگ کے باعث امریکی معیشت کو نقصان پہنچا تو ان کا موازنہ سابق امریکی صدر ہربرٹ ہوور سے کیا جا سکتا ہے، جنہیں 1930 کی دہائی کے عظیم معاشی بحران کے دوران شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تم میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی ناراضی کی جھلک ملتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اہم علاقائی معاملات پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر ایران، لبنان اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اختلاف واضح ہیں۔

  • ایران مثبت رویہ اختیارکرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، ٹرمپ

    ایران مثبت رویہ اختیارکرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہےجبکہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے-

    اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے ، امر یکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی،تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں،اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدا مات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیش رفت ہو سکتی ہے ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرے گا جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔

    صدر ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور فریقین کے درمیان رابطے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے پاکستان اور قطر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔

  • صدر ٹرمپ کی سالگرہ تقریب  پر ڈرون حملے کے منصوبے کا انکشاف، 5 افراد گرفتار،مزید گرفتاریاں متوقع

    صدر ٹرمپ کی سالگرہ تقریب پر ڈرون حملے کے منصوبے کا انکشاف، 5 افراد گرفتار،مزید گرفتاریاں متوقع

    امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے ایک اور بڑا حملہ ناکام بنا دیا-

    امریکی خبررساں ادارے ’این بی سی نیوز‘ کے مطابق اتوار 14 جون کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ‘یو ایف سی فریڈم 250’ کی تقریب پر بارود سے بھرے ڈرونز کے ذریعے حملے کی ایک انتہائی ہولناک سازش کو ناکام بنا دیا گیا یہ تقریب امریکہ کے 250 سال مکمل ہونے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقد کی جا رہی تھی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سازش میں شامل افراد تقریب کے اوپر دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرونز اڑانے اور اس کے بعد بھاگتے ہوئے لوگوں پر فائرنگ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

    ایف بی آئی نے مختلف ریاستوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر قتل کی سازش سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں ، عدالتی ریکارڈ کے مطابق تحقیقات کےدوران اسلحہ، گولہ بارود اور خفیہ پیغامات برآمد ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 19 افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو کا جائزہ لیا جا رہا ہے،مشتبہ افراد نے حملے سے قبل علاقے کے نقشے اور تصاویر بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیں اور کارروائی کے بعد فرار کے راستوں پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

    ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق ادارے کو اس ممکنہ خطرے کی اطلاع ایونٹ سے چار روز قبل موصول ہوئی تھی، جس کے بعد متعدد ریاستوں میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مبینہ حملے کو ناکام بنایا گیا،امریکی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر شان کرن نے کہا کہ ان کی ایجنسی نے اس تحقیقات کے دوران ایف بی آئی کے ساتھ قریبی تعاون کیا، مشتبہ افراد کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں نے کئی روز تک مسلسل کام کیا۔

    یہ تقریب وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں منعقد ہوئی تھی، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80ویں سالگرہ اور امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں یو ایف سی مقابلوں کا اہتمام کیا گیا تھا تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے گرفتار ہونے والوں میں اوہائیو سے تعلق رکھنے والا 19 سالہ ٹائسن پراپر بھی شامل ہے عدالتی دستاویزات کے مطابق اس کی والدہ نے مقامی پولیس کو اپنے بیٹے کے رویے، اسلحہ خریدنے اور نامعلوم افراد سے آن لائن رابطوں پر تشویش سے آگاہ کیا تھا۔

    حکام کے مطابق پراپر کے گھر سے ہزاروں گولیاں، متعدد ہتھیار اور ایک اسالٹ طرز کی رائفل برآمد ہوئی اہل خانہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ حالیہ مہینوں میں انتہا پسندانہ خیالات کا اظہار کر رہا تھا اور سوشل میڈیا پر یہودی مخالف تبصرے بھی پوسٹ کر چکا تھا ایک اور ملزم، 32 سالہ ڈینیئل ایسکرج، پر الزام ہے کہ وہ گروپ کے ارکان کے لیے ایک ”محفوظ پناہ گاہ “ تیار کر رہا تھا اور اپنے شیڈ کے نیچے بنکر تعمیر کر رہا تھا۔

    تفتیشی حکام کے مطابق ایک اور مشتبہ شخص ابراہم ہرموسیلو الواریز نے ممکنہ اہداف کی ایک فہرست بھی شیئر کی تھی، جس میں صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور کاروباری شخصیت ایلون مسک کے نام مبینہ طور پر شامل تھے،مزید دو افراد، برائن عمر روا اور مائیکل ایلن تھامس، کو ریاست کیلیفورنیا سے گرفتار کیا گیا ان کے گھروں کی تلاشی کے دوران ایسے شواہد ملے جن سے ان کی مبینہ شمولیت ظاہر ہوتی ہے۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں حکام کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو یہ حالیہ برسوں میں امریکی دارالحکو مت میں ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں شمار ہو سکتا تھا۔

  • صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد  ایران پربڑا حملہ ایک گھنٹہ پہلے منسوخ کیا،سربراہ اسرائیلی فضائیہ

    صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد ایران پربڑا حملہ ایک گھنٹہ پہلے منسوخ کیا،سربراہ اسرائیلی فضائیہ

    اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اوہمر ٹشلر نے انکشاف کیا ہے کہ 8 جون کو ایران کے خلاف ایک بڑے فضائی آپریشن کی تمام تیاریاں مکمل تھیں، تاہم حملہ روانگی سے محض ایک گھنٹہ قبل روک دیا گیا۔

    ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق فضائیہ کے اہلکاروں کے نام اپنے پیغام میں جنرل اوہمر ٹشلر نے بتایا کہ 8 جون کی دوپہر پوری اسرائیلی فضائیہ ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کے لیے تیار تھی اس آپریشن کے دوران ایران کے اندر سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا جانا تھا، تاہم اسکواڈرنز میں بریفنگ کے دوران آخری لمحے میں کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا،دفاعی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف تقریباً 1500 کلومیٹر دور حملے بھی کیے تھے، جن میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچا اور دیگر سرکاری تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق پہلے مرحلے میں جنگی طیاروں نے مغربی اور وسطی ایران میں فضائی دفاع کے 9 نظاموں کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرے مرحلے میں جنوب مغربی ایران کے ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں قائم 3 فیکٹریوں پر حملے کیے گئے اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان تنصیبات کو میزائلوں کی تیاری کے لیے خام مال فراہم کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو مزید حملوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے جنگ میں مزید شدت پیدا کی تو اسے اس محاذ پر تنہا رہنا پڑ سکتا ہے گزشتہ ہفتے جاری کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان متعدد بار رابطے ہوئے نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید کارروائی کے حق میں تھے، جبکہ ٹرمپ جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل پر زور دیتے رہے نیتن یاہو نے ایران کے خلاف ایک بڑ ے آپریشن کی منظوری بھی دے دی تھی، تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد اس کارروائی کو روک دیا گیا اور طیاروں کی روانگی سے قبل ہی حملہ منسوخ کر دیا گیا-

  • اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا،ٹرمپ

    اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کو صرف کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، جسے کسی بھی صورت فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور یہ پابندی مستقل نوعیت کی ہوگی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد افزودگی کے برابر ہوگی تو انہوں نے واضح شرح بتانے کے بجائے کہا کہ ایران صرف پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کر سکے گا اگر ایرانی حکومت مستقبل میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلا ف سخت کارروائی کرتی ہے یا انہیں قتل کرتی ہے تو ایسی صورت میں ایران کو مکمل پابندیوں میں نرمی حاصل نہیں ہو سکے گی تاہم ذرائع کے مطا بق یہ شرط مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ حصہ نہیں ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر بھی سخت تنقید کی، انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ایک بہت مشکل آدمی ہیں اور انہیں امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور معاہدے کے حتمی مراحل میں رکاوٹیں پیدا کیں ایران کے خلاف امریکی میزائل اور فضائی حملوں نے تہران پر دباؤ بڑھایا اور اسی وجہ سے ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا۔

    ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے ایرا ن مزید حملوں سے بچنا چاہتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہوئی۔

  • آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں،ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

    آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں،ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

    ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے پر دستخط کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار واضح کر چکے ہیں کہ اتوار کے روز کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں ٹرمپ کے بیانات زمینی حقائق کے برعکس ہیں اس نوعیت کے دعوے سنجیدہ سفارتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی تقریب 14 جون کو رکھنے کا ذکر محض علامتی سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد ذاتی تشہیر اور میڈیا توجہ حاصل کرنا ہے۔

    واضح رہے صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ اتوار کو طے پا جائے گا اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو تمام فریقین کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکہ کے ساتھ دشمنی کے خاتمے کے لیے متوقع مفاہمتی یادداشت پر اتوار کو دستخط نہیں کیے جائیں گے۔

    ارنا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہمیں دستخط کے صحیح وقت کے بارے میں انتظار کرنا ہوگا؛ اگرچہ یہ کل نہیں ہوگا،ثالث پاکستان کی جانب سے اس بیان کے بعد کہ ایران اور امریکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ”آئندہ دنوں میں ایسا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔“

  • کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا

    کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جان ایف کینیڈی سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس کی عمارت سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا۔

    یہ اقدام ایک وفاقی جج کے اس فیصلے کے بعد کیا گیا جس میں قرار دیا گیا تھا کہ ادارے کا نام تبدیل کرنا غیر قانونی تھا عدالتی دستاویزات میں کینیڈی سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ ادارے نے کینیڈی سینٹر کی عمارت اور اس کے احاطے میں موجود تمام جسمانی سائن بورڈز سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا ہے۔

    واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب عمارت کے بیرونی حصے پر نصب سائن بورڈ اب بھی ایک سفید ترپال سے ڈھکا ہوا تھا، جبکہ کارکن ٹرمپ کا نام ہٹانے کے لیے کام میں مصروف تھے،یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب جج نے کینیڈی سینٹر کے بورڈ کی جانب سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا عمل روکنے کی آخری لمحے کی درخواست مسترد کردی۔

    یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی اس وسیع تر کوشش کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت وہ وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سرکاری مقامات پر اپنا نام اور تصویر نمایاں کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جو امریکی سیاسی روایت سے ایک غیر معمولی انحراف سمجھا جا رہا ہے جمعہ کی رات آرٹس سینٹر کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی، جو کارکنوں کی جانب سے سائن بورڈ اتارنے کے لیے نصب کیے جانے والے ڈھانچوں کو دیکھ کر وقتاً فوقتاً خوشی کا اظہار کررہی تھی،ہزاروں افراد نے لائیو اسٹریم کے ذریعے بھی اس منظر کو دیکھا اور اس لمحے کے منتظر رہے جب ٹرمپ کا نام دیوار سے ہٹا دیا جائے گا۔

    امریکی ضلعی جج نے گزشتہ ماہ اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ واشنگٹن میں واقع اس تاریخی عمارت سے جمعے تک ٹرمپ کا نام ہٹا دیا جائےم29 مئی کو جاری اپنے فیصلے میں جج نے کہا تھا کہ جان ایف کینیڈی سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس کا نام ٹرمپ کے نام پر رکھنا غیر قانونی تھا اور ادارے کا نام تبدیل کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے انہوں نے انتظامیہ کو 14 روز کی مہلت دی تھی تاکہ سنگ مرمر سے بنی عمارت کے بیرونی حصے اور ادارے سے متعلق تمام مواد سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا جائے کینیڈی سینٹر نے اسی ہفتے اپنے ادارے کی ویب سائٹ سے بھی ٹرمپ کا نام حذف کر دیا تھا۔

    جمعے کے روز جج نے کینیڈی سینٹر کے بورڈ کی جانب سے فیصلے پر عملدرآمد روکنے کی آخری اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد ادارے نے سائن بورڈ ہٹانے کی مقررہ مدت میں 12 گھنٹے کی توسیع کی درخواست کی تاہم جج نے یہ درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ عوامی مفاد شاذ و نادر ہی غیر قانونی حکومتی اقدامات کو برقرار رکھنے میں ہوتا ہے۔

    جج نے ٹرمپ کی اس ہدایت پر بھی عارضی پابندی عائد کر رکھی ہے جس کے تحت وہ جولائی سے کینیڈی سینٹر کو 2 سال کے لیے تزئین و آرائش کے نام پر بند کرنا چاہتے تھےاس فیصلے پر برہم صدر ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس مقام کا کنٹرول چھوڑ رہے ہیں، جس پر انہوں نے گزشتہ سال اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز پر خود کو چیئرمین مقرر کر کے قبضہ حاصل کیا تھا۔

    کینیڈی سینٹر کے گورننگ بورڈ، جس میں ٹرمپ نے اپنے وفادار افراد کو شامل کیا تھا، نے دسمبر میں ادارے کا نام تبدیل کرکے ٹرمپ کینیڈی سینٹر رکھنے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس کے بعد کینیڈی کے نام کے اوپر بڑے حروف میں ریپبلکن صدر کا مکمل نام عمارت کے بیرونی حصے پر نصب کر دیا گیا تھا اس اقدام کے بعد متعدد فنکاروں نے اپنے طے شدہ پروگرام منسوخ کر دیے تھے۔

    اب بند ہو چکے یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کا نام بھی ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا گیا، جبکہ محکمہ انصاف اور محکمہ زراعت کی عمارتوں کے باہر نصب بڑے بینرز پر بھی ان کی تصاویر نمایاں کی گئیں ٹرمپ انتظامیہ ملک کی برطانیہ سے آزادی کے اعلان کی 250ویں سالگرہ کی مناسبت سے 250 ڈالر کے نوٹ پر بھی ٹرمپ کی تصویر شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

  • ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کی صبح صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کو روکنے پر اتفاق کے بعد بھی امریکا اور ایران کی بات چیت جاری رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک باضابطہ معاہدے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے امید ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے اور معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات فوری طور پر معمول پر آ جائیں گے، تاہم ان کے مطابق ایران معا ہدے میں دلچسپی رکھتا ہے اور سفارتی حل کی طرف پیش رفت ممکن ہے اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایک باضابطہ اور دستخط شدہ دستاویز موجود ہوگی جو ان کے بقول فوجی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔

    امریکی صدر نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر امریکا چاہے تو بمباری کرنا بہت آسان ہے اور چند ہفتوں کی کارروائی میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، تاہم وہ ایسا نہیں چاہتے اگر چند ہفتے بمباری کی جائے تو مخالف فریق کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا، جبکہ اس کے برعکس آبنائے ہرمز مہینوں تک بند رہ سکتی ہےایسی صورتحال میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہو سکتا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا کا اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ ایسا معاہدہ ہے جو خطے میں استحکام اور دیرپا حل فراہم کرے-