Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کا   امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری کرنے کا فیصلہ

    ٹرمپ کا امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری کرنے کا فیصلہ

    واشنگٹن: امریکا کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو منصب سنبھالنے کے بعد امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے ملک بدری کے لیے تقریباً 15 لاکھ افراد کی فہرست تیار کرلی ہےخاص بات یہ کہ اس فہرست میں تقریباً 18 ہزار ہندوستانی شہریوں کے نام بھی شامل ہیں جنھیں ممکنہ طور پر امریکا سے ملک بدر کردیا جائے گا۔

    آئی اسی ای کے مطابق امریکا میں بغیر مناسب دستاویزات کے رہنے والے تارکین وطن کو ملک سے باہر نکالنا ٹرمپ کا بارڈر سیکیورٹی ایجنڈا ہے۔

    دوسری جانب نیویارک کے 112ویں سالانہ نیو یارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جب ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ایلکس بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کرتے ہوئے اچانک گر پڑے۔ بروسوِٹز 27 سالہ سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر ہیں، جو ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کے دوران اہم کردار ادا کر چکے ہیں-

    ان کی حالت بگڑتے ہوئے دیکھ کر حاضرین میں ہلچل مچ گئی، اور فوراً لوگوں نے ان کی مدد کے لیے دوڑ لگا دی۔واقعے کے فوراً بعد بروسوِٹز کو اسٹیج سے ہٹا کر بیک اسٹیج منتقل کیا گیا، جہاں انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس دوران، کنزرویٹو انفلوانسر جیک پوزوبیک نے ٹویٹ کیا کہ اس نے بروسوِٹز سے بیک اسٹیج بات کی تھی اور اس نے بتایا کہ یہ ایک "غشی کا حملہ” تھا۔ تاہم، ابھی تک بروسوِٹز کی حالت اور اس کے باعث ہونے والے طبی مسئلے کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔

  • نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

    نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

    نیویارک کے 112ویں سالانہ نیو یارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جب ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ایلکس بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کرتے ہوئے اچانک گر پڑے۔ بروسوِٹز 27 سالہ سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر ہیں، جو ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کے دوران اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

    اتوار کی شام نیو یارک سٹی میں ہونے والی اس تقریب میں بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کر رہے تھے، اور ان کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیم کے دیگر اہم ارکان جیسے اسٹیو بینن اور ڈین اسکیوینو بھی موجود تھے۔ جب بروسوِٹز خطاب کر رہے تھے، تو اچانک ان کی آواز لڑکھڑانے لگی اور وہ واضح طور پر بے چینی کا شکار نظر آئے۔ انہوں نے کہا، "میرے الفاظ یاد نہیں آ رہے”، جس کے بعد وہ اسٹیج پر گر گئے۔ ان کی حالت بگڑتے ہوئے دیکھ کر حاضرین میں ہلچل مچ گئی، اور فوراً لوگوں نے ان کی مدد کے لیے دوڑ لگا دی۔واقعے کے فوراً بعد بروسوِٹز کو اسٹیج سے ہٹا کر بیک اسٹیج منتقل کیا گیا، جہاں انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس دوران، کنزرویٹو انفلوانسر جیک پوزوبیک نے ٹویٹ کیا کہ اس نے بروسوِٹز سے بیک اسٹیج بات کی تھی اور اس نے بتایا کہ یہ ایک "غشی کا حملہ” تھا۔ تاہم، ابھی تک بروسوِٹز کی حالت اور اس کے باعث ہونے والے طبی مسئلے کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔

    ایلکس بروسوِٹز، جو "ایکس اسٹریٹیجیز” کے سی ای او ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ ٹرمپ کے نوجوانوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے اور ان کے پیغامات کو بہتر طریقے سے پہنچانے میں مصروف تھے۔ بروسوِٹز کی حکمتِ عملی نے ٹرمپ کو نوجوان ووٹرز کے درمیان ایک نئی مقبولیت دلائی، اور انہوں نے ٹرمپ کو "کول” بنانے کی کوشش کی، خاص طور پر اس نئے میڈیا پلیٹ فارم کی مدد سے جو نوجوانوں میں مقبول تھا۔
    alex

    بروسوِٹز نے ٹرمپ کی مہم کے دوران "نئے میڈیا” کو اپنا ہتھیار بنایا، جس میں پوڈکاسٹروں اور انٹرٹینرز کے ساتھ کام کرنے کی حکمتِ عملی شامل تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کو ان غیر روایتی میڈیا پلیٹ فارمز پر لانے کی کوشش کی جہاں نوجوان نسل کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بروسوِٹز نے بارون ٹرمپ، ٹرمپ کے 18 سالہ بیٹے، کے ساتھ مل کر مختلف انٹرویوز کے منصوبے تیار کیے اور اس کے ذریعے ٹرمپ کو ایک "عام انسان” کے طور پر پیش کیا جو عوام کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرتا ہے اور زندگی اور سیاست پر کھل کر بات کرتا ہے۔

    بروسوِٹز نے ٹرمپ کے پیغام کو نوجوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ "امریکہ فرسٹ” تحریک کے ایک سرگرم حمایتی رہے ہیں۔ اپنے پروفائل میں بروسوِٹز نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ امریکی شہریوں کے مفادات کو ترجیح دینے والی پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے کام کرتے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کے حامیوں کی مدد سے مخالف ریپبلکن سیاستدانوں کو شکست دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کی حکمتِ عملی میں یہ بات شامل تھی کہ انہیں سیاسی پوڈکاسٹروں اور کامیڈینوں کے ساتھ مل کر کام کرنا تھا تاکہ وہ اپنی سیاسی پیغامات کو مؤثر طریقے سے پھیلانے میں کامیاب ہو سکیں۔

    اس وقت تک بروسوِٹز کی طبی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ان کی طبی امداد کے حوالے سے روزنامہ "ڈیلی میل” نے ٹرمپ اور "ایکس اسٹریٹیجیز” سے رابطہ کیا ہے، لیکن کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ بروسوِٹز کی صحت کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور ان کے حامی اور سوشل میڈیا پر موجود افراد ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

  • عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    امریکا کے نو منتخب صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی ،ہم جنس پرست اور نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر، رچرڈ گرینل کو "ایلچی برائے خصوصی مشنز” مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل، جو کہ ایک معروف ہم جنس پرست شخصیت ہیں، کچھ دن پہلے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ 26 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے بلوم برگ کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے رچرڈ گرینل نے لکھا کہ "عمران خان کو رہا کیا جائے”۔ ان کے اس مطالبے پر پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

    رچرڈ گرینل ماضی میں کئی تنازعات کا شکار رہے ہیں جن میں خواتین کے حوالے سے بے ہودہ ٹوئٹس، ان کی ہم جنس پرستی اور بعض سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے شامل ہیں۔ ان کا سیاسی سفر خاصا متنازعہ رہا ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران جرمنی میں امریکا کے سفیر رہے، اور اس دوران ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے کو یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

    امریکی اخبار کے مطابق، رچرڈ گرینل وزیر خارجہ بننے کی امید رکھتے تھے اور انہیں ٹرمپ کی طرف سے وزارت خارجہ میں بڑی پوزیشن دینے کی توقع تھی۔ وہ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں، جہاں ان کے بیانات اور ٹوئٹس نے انہیں متعدد بار تنازعات میں گھیر لیا۔

    ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ رچرڈ گرینل وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے عالمی سطح پر اہم مقامات پر کام کریں گے۔ گرینل نے 2018 سے 2020 تک جرمنی میں امریکا کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور انہیں خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ میں امریکا کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔یاد رہے کہ گرینل کو وینزویلا کے لیے بطور ایلچی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، خاص طور پر 2023 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں، جنہیں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی پر مبنی سمجھا گیا تھا۔

    رچرڈ گرینل کے حوالے سے کئی تنازعات نے سر اٹھایا ہے، جن میں ان کی خواتین کے بارے میں کی جانے والی بے ہودہ ٹوئٹس شامل ہیں۔ 2012 میں جب وہ خارجہ پالیسی کے مشیر بنے، تو ان کی ٹوئٹس کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ٹوئٹس میں خواتین خصوصاً ڈیموکریٹس اور لبرلز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر ان کو بعد میں یہ ٹوئٹس ڈیلیٹ کرنا پڑے۔ان کے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے قدامت پسند حلقوں میں شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا، اور ان کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ تاہم، گرینل نے ہمیشہ اپنی جنسیت کو کھل کر تسلیم کیا ہے اور اپنے موقف کا دفاع کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل کی نئی ذمہ داریوں پر امریکی سیاست میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے ان کی تقرری کو ٹرمپ کی جانب سے ایک اور متنازعہ قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کو سراہ رہے ہیں۔ڈیموکریٹک نیشنل سکیورٹی لیڈر سوزن ای رائس نے گرینل کو سب سے زیادہ "خراب بے ایمان” افراد میں سے ایک قرار دیا ہے، جو کہ ان کے سیاسی مخالفین کی نظر میں گرینل کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

  • ٹرمپ پر ریپ کا الزام ،نیوز چینل کو  15 ملین ڈالر ہرجانہ

    ٹرمپ پر ریپ کا الزام ،نیوز چینل کو 15 ملین ڈالر ہرجانہ

    نیویارک: ڈونلڈ ٹرمپ پر ریپ کا الزام امریکی نیوز چینل کو مہنگا پڑ گیا ہے، 15 ملین ڈالر ہرجانہ دینا پڑے گا۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ مقدمہ اینکر جارج سٹیفانوپولس کے آن ایئر تبصروں سے شروع ہوا، جنھوں نے مارچ میں امریکی نمائندے نینسی میس کے ساتھ نشر ہونے والے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’ریپ کے ذمہ دار‘ ہیں۔ اے بی سی نیوز نے اینکر جارج سٹیفانوپولوس کے غلط آن ایئر دعوے پر ہتک عزت کا مقدمہ طے کرنے کے لیے ٹرمپ کی صدارتی لائبریری کو 15 ملین ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔تصفیے کے طور پر اے بی سی نیوز کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ’صدارتی فاؤنڈیشن اور میوزیم‘ کے لیے وقف فنڈ میں پندرہ ملین ڈالر کا عطیہ دینا ہوگا۔ نیوز آرگنائزیشن اور سٹیفانوپولوس عوامی سطح پر یہ کہتے ہوئے معافی بھی مانگیں گے کہ اس نے مذکورہ انٹرویو کے دوران ٹرمپ کے بارے میں ’افسوس ناک بیانات‘ دیے ہیں۔ یہ نیٹ ورک ٹرمپ کے وکیل کی قانونی فرم کو 1 ملین ڈالر کی قانونی فیس بھی ادا کرے گا۔اینکر جارج سٹیفانوپولس نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مصنفہ ای جین کیرول کی عصمت دری کے لیے شہری طور پر ذمہ دار پائے گئے ہیں اور وہ متاثرہ خاتون کو بدنام کر رہے ہیں، حالاں کہ نیویارک کے قانون کے مطابق اس کیس میں ایسا کوئی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اے بی سی نیوز کی ترجمان جینی کیڈاس نے کہا ہمیں خوشی ہے کہ فریقین عدالت میں دائر مقدمہ خارج کرنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔

    کراچی میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

    شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

    فرانس میں فائرنگ سے5 افراد ہلاک

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر کو حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت

    ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر کو حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت

    امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کو اپنی حلف برداری تقریب میں مدعو کیا ہے جو 20 جنوری کو منعقد ہو گی۔

    سی بی ایس نیوز نے اس خبر کی تصدیق ذرائع کے حوالے سے کی ہے۔ ٹرمپ نے نومبر کی شروعات میں چینی صدر کو دعوت دی تھی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ شی جن پنگ نے دعوت قبول کی ہے یا نہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ "شی جن پنگ کے ساتھ میرا بہت اچھا تال میل ہے اور اس ہفتے ہی ہم دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی ہے”۔ ٹرمپ نے اپنی ٹیم میں چین کے حامی افراد کو اہم عہدوں پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں سینیٹر مارکو روبیو شامل ہیں، جنہیں وزیر خارجہ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
    ٹرمپ نے اس موقع پر چین کے حوالے سے اپنی پالیسی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چین نے فینٹینائل (ایک نشہ آور منشیات) کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مزید اقدامات نہ کیے تو وہ چینی مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کریں گے۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر 60 فیصد سے زیادہ ٹیرف لگانے کی دھمکی بھی دی تھی۔

    نومبر کے آخر میں چین کی سرکاری میڈیا نے ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ فینٹینائل کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے چینی اشیاء پر اضافی ٹیرف لگانے کی کوشش سے دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان تباہ کن تجارتی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔

    امریکہ میں چین کے سفیر جھی فینگ نے واشنگٹن میں یو ایس-چین بزنس کونسل کی تقریب میں چینی صدر شی جن پنگ کا ایک خط پڑھا، جس میں شی نے کہا کہ چین امریکہ کے ساتھ بات چیت اور تعاون کے لیے تیار ہے۔ چین کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے سپلائی چین کو علیحدہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے۔ اس کے جواب میں، بیجنگ میں امریکی سفیر نکولس برنس نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو خطاب میں کہا کہ چین نے کئی مرتبہ چین امریکہ تعلقات کو نرم بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں چیلنجز اور مسابقتی صورتحال برقرار ہے۔

    ریڈ بال کوچ ٹم نیلسن کا پاکستانی ٹیم کے ساتھ سفر اختتام پذیر

    اسرائیل کے شامی فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

  • روس اور ایران دونوں  اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    روس اور ایران دونوں اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ "بشار الاسد اپنے ملک سے بھاگ گئے ہیں اور اس موقع پر روس کی قیادت میں ولادی میر پوتن نے ان کی حفاظت کی تھی۔” ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "بشار الاسد نے شامی صدر کے طور پر استعفیٰ دینے کے بعد شام چھوڑا۔” ان کا یہ بیان روسی حکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد آیا کہ بشار الاسد صدارت سے مستعفی ہو کر ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے روسی فوج کی طاقت کمزور ہوئی ہے اور اب وہ شام میں بشار الاسد کی حفاظت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔” ان کا کہنا تھا کہ "روس اور ایران دونوں ہی اس وقت اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ہیں، اور ان دونوں ممالک کی شام میں موجودگی کی اہمیت بھی ختم ہو گئی ہے۔”ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "یوکرین کی جنگ نے روس کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ اب اپنے پڑوسی ملک کی جنگ میں شامل ہو کر اپنا اثر و رسوخ شام میں برقرار نہیں رکھ سکتا۔” روسی فوجیوں کی ہلاکتوں یا زخمی ہونے کی تعداد کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ "یوکرین میں جنگ کے دوران چھ لاکھ روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جس کا اثر روس کی شام میں موجودگی پر بھی پڑا ہے۔”

    ٹرمپ نے اس موقع پر یوکرین کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ "روس کی موجودہ کمزوری کے پیش نظر فوری طور پر یوکرین میں جنگ بندی اور مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پوتن کو میں اچھی طرح جانتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ چین بھی اس معاملے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔”

    دوسری جانب پاکستان کی سینئر سفارتکار سفیر ملیحہ لودھی نے باغیوں کے دمشق پر قبضے کو "سیاسی زلزلہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "دمشق پر باغیوں کا قبضہ شام کے اندرونی حالات میں ایک تاریخی تبدیلی ہے، اور اس سے پورے خطے میں سیاسی عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔”

  • پی ٹی آئی کی ٹرمپ سے امیدیں ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

    پی ٹی آئی کی ٹرمپ سے امیدیں ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ اس کا عمران خان کی سیاسی راہ پر کیا اثر پڑے گا۔ اگرچہ یہ عمران خان کے حامیوں میں کچھ امید پیدا کر سکتا ہے، لیکن ٹرمپ کی صدارت کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی جغرافیائی سیاست کی پیچیدگیاں کسی بھی پیش گوئی کو مشکوک بناتی ہیں۔ حکمت عملی کے مفادات، سفارتی چالاکیاں، اور ذاتی اتحاد غیر متوقع طور پر حالات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

    جب دنیا اس بدلتے ہوئے ڈرامے کا مشاہدہ کر رہی ہے، تو امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اور عمران خان کی سیاسی تقدیر کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ یہ کہانی اتنی ہی متحرک اور غیر متوقع ہو سکتی ہے جتنی وہ واقعات جو اب تک اس کی تشکیل کا سبب بنے ہیں۔آنے والی انتظامیہ کے لیے پاکستان کو ترجیحات میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم،عمران خان کی جماعت، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، اس امید میں ہے کہ ٹرمپ کی فتح سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے لیے درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کو کم کر سکتی ہے۔ یہ امید اس کے باوجود ہے کہ عمران خان نے 2022 میں یہ الزامات لگائے تھے کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کی داخلی سیاست میں مداخلت کی تاکہ انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطرف کیا جا سکے،یہ ایک دعویٰ جسے واشنگٹن اور اسلام آباد دونوں نے مسترد کر دیا تھا۔

    عمران خان کی برطرفی کے بعد اور پی ٹی آئی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن، جس میں عمران خان کی گرفتاری اگست 2023 سے ہو چکی ہے، کے دوران امریکہ نے زیادہ تر خاموشی اختیار رکھی ہے، اور اس معاملے کو پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

    ٹرمپ کی پچھلی مدت میں پاکستان نے امریکہ سے بنیادی طور پر افغانستان کے تنازعے کی وجہ سے تعلقات استوار کیے تھے۔ تاہم، ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں، تو پاکستان کو نظرانداز کرنے کا امکان ہے کیونکہ انتظامیہ عالمی سطح پر درپیش زیادہ اہم مسائل جیسے غزہ، یوکرین اور امریکہ،چین کی کشیدگی پر توجہ مرکوز کرے گی۔ پاکستان کی داخلی سیاسی صورت حال آئندہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکمت عملی کے مفادات سے ہم آہنگ ہونے کا امکان نہیں رکھتی۔

    ٹرمپ عمران خان کے لیے چمکتے ہوئے زرہ پوش سپہ سالار بننے کے امکانات بہت کم ہیں

  • ٹرمپ نے ایلون مسک کو بھی اہم ذمہ داری دے دی

    ٹرمپ نے ایلون مسک کو بھی اہم ذمہ داری دے دی

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم میں اہم کردار ادا کرنے والے دنیا کے سب سے امیر ترین شخص ایلون مسک کو ایک اہم ذمہ داری سونپ دی ہے۔

    نو منتخب امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ایلون مسک اور سابق ری پبلکن صدارتی امیدوار ویوک رام سوامی "ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شنسی” (DOGE) کی سربراہی کریں گے۔ ٹرمپ نے ایلون مسک، جو کہ ری پبلکن کی صدارتی مہم کے دوران 119 ملین ڈالر خرچ کر چکے ہیں، کو وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صدارتی الیکشن جیتے تو مسک کو ایک اہم عہدہ دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا کہ ایلون مسک اور رام سوامی حکومتی بیوروکریسی کے تسلط کو ختم کرنے، غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے اور وفاقی ایجنسیوں کی ساخت کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے کام کریں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، "DOGE” ایک حکومتی ایجنسی نہیں ہے بلکہ یہ ایک آزاد ادارہ ہوگا جو حکومت سے باہر رہ کر ٹرمپ انتظامیہ کو مشورے اور مدد فراہم کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایلون مسک اور بائیو ٹیک انٹرپرینیئر رام سوامی دونوں اس عہدے پر رہتے ہوئے نجی شعبے کے لیے بھی کام کر سکیں گے۔ ایلون مسک نے اس عہدے کے لیے اپنی نامزدگی کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ان کا محکمہ امریکی نظام اور فضول اخراجات میں ملوث حکومتی اداروں کو "جھٹکے” فراہم کرے گا۔ وہ ماضی میں امریکی بجٹ سے 2 کھرب ڈالر کم کرنا چاہتے تھے لیکن اس حوالے سے انہیں بہت کم معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

    یاد رہے کہ ایلون مسک نے ستمبر 2024 میں الیکشن سے دو ماہ قبل سوشل میڈیا پر DOGE کے عہدے کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی تھی۔

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

  • ٹرمپ نے سی آئی اے سربراہ،اسرائیل میں سفیر کی نامزدگی کر دی

    ٹرمپ نے سی آئی اے سربراہ،اسرائیل میں سفیر کی نامزدگی کر دی

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ سمیت مشرق وسطیٰ کیلئے ایلچی اور اسرائیل میں اپنے سفیر کے کیلئے نامزدگیاں کردی ہیں

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتخابی مہم کے ڈونر اور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اسٹیووٹکوف کو مشرق وسطیٰ کیلئے خصوصی ایلچی نامزد کیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسٹیو وٹکوف امن کیلئے ایک ان تھک آواز ہوں گے اور ہم سب کیلئے فخر کا باعث بنیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کیلئے ایلچی نامزد ہونے والے 67 سالہ اسٹیووٹکوف کو اس سے قبل باضابطہ سفارت کاری یا خارجہ پالیسی کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مغربی کنارے کے وجود سے انکاری اور حماس سے جنگ بندی کے مخالف اسرائیل نواز سابق گورنر مائیک ہکابی جان کو اسرائیل کیلئے امریکی سفیرنامزد کیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مائیک ہکابی بہترین پبلک سرونٹ اور گورنر رہ چکے ہیں، وہ اسرائیل سے محبت کرتے ہیں اور اسرائیل کے لوگ انہیں چاہتے ہیں،مائیک ہکابی کی بیٹی سارہ ہکابی سینڈرز اس وقت امریکی ریاست ارکنساس کی گورنر ہیں، وہ 2017 سے 2019 تک ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری بھی رہ چکی ہیں۔

    ٹرمپ کی جانب سے سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جان ریٹکلیف کو امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2020 سے 2021 کے دوران جان ریٹکلیف کو نیشنل انٹیلی جنس کا ڈائریکٹر مقرر کیے جانے کے بعد ان پر تنقید کی جا رہی تھی کہ صدر ٹرمپ انٹیلی جنس ایجنسی کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کر رہے ہیں،ڈونلڈ کی نئی انتظامیہ میں جیوئش امریکن لی زیلڈین انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے سربراہ ہوں گے، زیلڈین نے بائیڈن کے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق قانون کی مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا۔

    واضح رہے کہ 5 نومبر 2024 کو امریکا میں ہونے والے عام انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کو شکست دیکر دوسری مرتبہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تھے،ٹرمپ 20 جنوری کو امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

  • ٹرمپ کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے  حکمت عملی کی ضرورت

    ٹرمپ کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے حکمت عملی کی ضرورت

    ذرائع کے مطابق،نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے یوکرین کے تنازعے پر بات کی ہے اور پیوٹن سے اس صورتحال کے مزید بڑھنے سے بچنے کی درخواست کی ہے۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ میں امریکہ کی فوجی موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ امریکی اثرورسوخ اس خطے میں موجود ہے۔

    میدان جنگ میں روس کی افواج یوکرین کے مغربی "کرسک” علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہیں، جہاں تقریباً 50,000 روسی فوجی اُس علاقے کو دوبارہ قبضے میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو اگست سے روس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق روس کی سست مگر مسلسل پیش قدمی مشرقی یوکرین میں جاری ہے، جہاں اُس کی فوجیں ڈونباس کے صنعتی علاقے پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے گاؤں گاؤں فتح حاصل کر رہی ہیں۔

    اس جنگ کے اقتصادی اثرات یوکرین اور روس تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کا عالمی تجارت اور خوراک کی سکیورٹی پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ وہ ممالک جو روس اور یوکرین پر انحصار کرتے ہیں، جیسا کہ ایندھن اور اناج کی فراہمی کے لیے، انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ حالانکہ امریکہ ان ممالک پر کم انحصار کرتا ہے، لیکن دوسرے ممالک پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہیٹی میں جنگ کے آغاز کے بعد ایندھن کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئیں، اور پہلے سے ہی معاشی طور پر کمزور ممالک جیسے یمن، ایتھوپیا اور صومالیہ خوراک کی کمی کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

    امریکہ میں، جنگ کی وجہ سے مہنگائی میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کا اثر ان صنعتوں پر پڑا ہے جو سیمی کنڈکٹرز جیسے اہم مواد پر انحصار کرتی ہیں۔ موڈی اینالٹکس کے چیف اکنامسٹ مارک زانڈی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یوکرین کی جنگ کی وجہ سے امریکہ کی افراط زر میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا ہے (مئی 2021 سے مئی 2022 تک)۔ اس صورتحال کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا دی، جو اب بھی بلند سطح پر ہے اور امریکی کاروباروں اور صارفین پر اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    یوکرین کی جنگ کا عالمی سطح پر اثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید معیشتیں آپس میں کس قدر جڑی ہوئی ہیں اور عالمی سپلائی چینز کی نزاکت کتنی اہم ہے۔ آج کے دور میں مقامی جنگوں کے بھی عالمی سطح پر دور رس نتائج ہو سکتے ہیں، جو کئی ممالک کی استحکام کے لیے ضروری وسائل جیسے بنیادی اشیاء اور ہائی ٹیک اجزاء کو متاثر کرتے ہیں۔ امریکہ کے لیے، مہنگائی، سیمی کنڈکٹر کی کمی اور عالمی سطح پر خوراک کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنا ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔ٹرمپ کی ممکنہ حکمت عملی، خصوصاً روس پر سفارتی دباؤ ڈالنے اور متاثرہ علاقوں کو اقتصادی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے، دنیا بھر میں اس بحران کے طویل مدتی اثرات کے حوالے سے بہت دھیان سے دیکھی جائے گی،ٹرمپ کے دوسری بار انتخابات جیتنے کے بعد اس وقت پوری دنیا کی نظریں امریکہ اور اس کے عالمی کردار پر مرکوز ہیں۔