Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • بل کلنٹن کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات

    بل کلنٹن کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات

    سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

    امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں سابق صدر بل کلنٹن اور سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کے بند کمرے میں ریکارڈ کیے گئے بیانات کی ویڈیوز جاری کر دیں۔

    ایوانِ نمائندگان کی اوورسائٹ کمیٹی کو دیے گئے ویڈیو بیان میں بل کلنٹن نے حلف کے تحت قانون سازوں کو بتایا کہ ٹرمپ نے 2002 یا 2003 میں ایک گالف ٹورنامنٹ کے دوران ایپسٹین کا ذکر کیا تھا بل کلنٹن نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ کسی طرح ٹرمپ کو معلوم تھا کہ میں نے جیفری ایپسٹین کے طیارے میں سفر کیا ہے ٹرمپ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں، گزشتہ برسوں میں ہم (ٹرمپ اور جیفری) نے ایک ساتھ کچھ بہترین وقت گزارا، لیکن پھر رئیل اسٹیٹ کے ایک سودے کی وجہ سے ہمارے تعلقات خراب ہو گئے۔

    ایران پر حملے سے قبل دورہ اسرائیل:مودی کو کڑی تنقید کا سامنا

    گزشتہ ہفتے کی گواہی میں کلنٹن نے کہا کہ ان کا ایپسٹین سے تعارف سابق وزیرِ خزانہ لیری سمرز نے کرایا تھا سمرز نے ایپسٹین کو ایک ایسے عطیہ دہندہ کے طور پر پیش کیا تھا جو کلنٹن کی فلاحی تنظیم ‘ایڈز فاؤنڈیشن’ کے قیام کے دوران انہیں اور ان کے عملے کو دنیا بھر کے دورے کرانے کے لیے تیار تھا۔

    کلنٹن نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے دوروں کے لیے ایپسٹین کے جیٹ طیارے کا استعمال کیا، لیکن 2003 کے بعد انہوں نے دوسرے عطیہ دہندگان کے ساتھ کام شروع کر دیا تھا،بل کلنٹن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیاانہوں نے 2008 میں ایپسٹین کے خلاف جنسی جرائم کے الزامات سامنے آنے سے پہلے ہی اس سے تعلقات ختم کر لیے تھے۔

    ایران پر آئندہ چند روز میں مزید تباہ کن حملے ہوسکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے تحت محکمہ انصاف نے ایپسٹین کی تحقیقات سے متعلق لاکھوں ریکارڈز جاری کیے ہیں، جن میں کلنٹن کی ایسی خواتین کے ساتھ تصاویر بھی شامل ہیں جن کے چہرے چھپائے گئے ہیں تاہم کلنٹن کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے ہیں اور ایپسٹین کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلق پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔

    دوسری جانب ہیلری کلنٹن نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ جیفری ایپسٹین کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تھیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کو بھی حلف کے تحت طلب کیا جانا چاہیے ٹرمپ سے براہِ راست ان ہزاروں حوالوں کے بارے میں پوچھا جانا چاہیے جو ایپسٹین فائلز میں ان کے نام سے متعلق سامنے آئے ہیں۔

    سعودی عرب کی متبادل سپلائی روٹ سے پاکستان کو تیل فراہمی کی یقین دہانی

  • 25 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے حامی،ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی گرگیا

    25 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے حامی،ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی گرگیا

    امریکا میں ہر چار میں سے صرف ایک شہری ایران پر امریکی حملوں کا حامی ہے۔

    ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکا میں ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی حملوں کی حمایت محدود دکھائی دیتی ہے حتیٰ کہ حکمران پارٹی ’ ریپبلیکن‘ بھی تقسیم کی شکار ہے، رائٹرز اور سروے ادارے اپسوس کی جانب سے کیے گئے مشترکہ جائزے میں معلوم ہوا ہے کہ صرف ہر 4 میں سے ایک امریکی ایران پر حملوں کی حمایت کرتا ہے۔

    ایپسوس سروے کے مطابق ایران پر حملوں سے صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی ایک فیصد گرگیا،27 فیصد افراد نے امریکی حملوں کی حمایت کی اور43 فیصد نے مخالفت کی جب کہ 29 فیصد افراد اس بارے میں یقینی طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرسکے۔

    امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے سیکیورٹی چیف کا اعلان

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے حوالے سے ریپبلکن ووٹرز میں حمایت نسبتاً زیادہ ہے، تاہم وہ بھی مکمل طور پر متفق نہیں۔ تقریباً 55 فیصد ریپبلکنز نے امریکی اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کی، 13 فیصد نے مخالفت کی جبکہ 32 فیصد نے غیر یقینی کا اظہار کیا، تقریباً 42 فیصد ریپبلکن جواب دہندگان نے کہا کہ اگر اس کارروائی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں تو وہ اس آپریشن کی حمایت کم کر دیں گے۔

    پاکستان میں امریکی سفارت اور قونصل خانوں کی سروسز معطل

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی کے معاملے پر امریکی عوام کی رائے منقسم ہے اور جانی نقصان کی صورت میں حمایت مزید کم ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی جاری ہے جب کہ امریکا اور اسرائیل بھی ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلیٰ فوجی حکام شہید ہوگئے ہیں۔

    بیروت اور جنوبی لبنان پر شدید اسرائیلی بمباری، 31 جاں بحق، درجنوں زخمی

  • امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملے اب تک ‘ہماری توقع سے کم’ رہے،صدر ٹرمپ

    امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملے اب تک ‘ہماری توقع سے کم’ رہے،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اب ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں امریکا اب ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہےاب یہ معاملہ ایک دن پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے، ظاہر ہے’ اور انہوں نے مزید کہا کہ ‘کیونکہ وہ بری طرح دباؤ میں ہیں، ایران کی جانب سے ردعمل کے طور پر ملک بھر میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے حملے اب تک ‘ہماری توقع سے کم’ رہے ہیں،ہم سمجھ رہے تھے کہ حملے اس سے دوگنے ہوں گے۔’

    دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے ،انتونیو گوتریس

    واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں شہید ہوگئے ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح ان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے بعد ان کی شہادت کی تصدیق کی گئی، وہ 86 برس کے تھے خامنہ ای کی شہادت کے بعد حکومت نے 40 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کر دیا ہے جبکہ 7 روزہ عام تعطیلات کا بھی اعلان کیا گیا ہے حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، بہو ،داماد اور پوتا بھی شہید ہوگئے ہیں۔

    ایران نے خامنہ ای کے سینیئر سیاسی مشیر علی شمخانی اور انقلابی گارڈ کے کمانڈر ان چیف محمد پاکپور کی شہادت کی بھی تصدیق کی ہے۔

    ایران پر حملے کے خلاف کراچی میں احتجاج، امریکا اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش

  • میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تاریخ کا طویل ترین اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا، جو تقریباً ایک گھنٹہ 48 منٹ جاری رہا اپنے دوسرے دور صدارت کے پہلا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا ک ہمیں پاکستان اور انڈیا جنگ سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان اور انڈیا ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں نے 35 ملین انسانوں کی جانیں بچائیں۔

    ٹرمپ نے اپنی تقریر کا بڑا حصہ امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے پر مرکوز رکھا۔انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال 4جولائی کی تقریبات غیر معمولی ہوں گی، ‘ٹیکساس کے سرحدی قصبوں سے لے کر مشی گن کے دیہات تک اور فلوریڈا کے ساحلوں سے ڈکوٹا کے کھلے میدانوں تک، امریکا کا سنہری دور آ چکا ہے،صدر نے اپنی دوسری حلف برداری کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ‘گولڈن ایج’ کا وعدہ پورا کر دکھایا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران سے ڈیل کی کوشش کررہے ہیں، میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو ایران میں حکومت نے 32 ہزار مظاہرین کو قتل کیا، ہم نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں رکوائیں، ہم امن بزور طاقت پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے گزشتہ برس کی کارروائی ‘آپریشن مڈنائٹ ہیمر’ کا ذکر کیا جس میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں نے ملک کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا،ہم سننا چاہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنارہا، تہران نے یہ واضح یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو ‘آمرانہ دور کا خاتمہ’ قرار دیا انہوں نے میکسیکو میں بدنام زمانہ منشیات فروش ایل مینچو کی ہلاکت اور جنوبی امریکا کے ساحلی پانیوں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو بھی سراہا ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے امریکا میں منشیات کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    صدر نے کہا کہ ان کی ‘امن بذریعہ طاقت’ حکمت عملی کے تحت امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج بنایا جا رہا ہے انہوں نے ریپبلکن ارکان کو دفاعی بجٹ میں اضافے پر سراہا اور نیٹو اتحادیوں پر بھی دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ذکر کیا۔

    صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکاغیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں، فینٹانائل کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے اور غیر قانونی سرحدی عبور کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

    معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے اسٹاک مارکیٹ نے درجنوں ریکارڈ قائم کیےانہوں نے کہا کہ ‘امریکی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک ایک سال میں ‘تاریخی تبدیلی’ سے گزرا ہے۔

    ٹرمپ نے ‘جرائم کے حامی سیاست دانوں’ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کانگریس سے سخت قوانین منظور کرنے کا مطالبہ کیا خطاب کے دوران متعدد ڈیمو کریٹ ارکان نے احتجاج کیاٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن ایل گرین کو احتجاجی پلے کارڈ اٹھانے پر ایوان سے باہر لے جایا گیا مینیسوٹا سے کانگریس کی رکن الہان عمر نے بھی نعرے بازی کی،صدر نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ‘دھوکہ دہی کے خلاف جنگ’ کی قیادت سونپنے کا اعلان کیا۔

    خطاب کے دوران صدر نے واشنگٹن میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والی نیشنل گارڈ رکن کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور زخمی اہلکار کو ‘پرپل ہارٹ’ تمغہ دینے کا اعلان کیاانہوں نے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی امریکی مردوں کی ہاکی ٹیم کو بھی متعارف کرایا اور گول کیپر کو صدارتی تمغۂ آزادی دینے کا اعلان کیا۔

    خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘ریاستِ متحدہ مضبوط ہے، دشمن خوفزدہ ہیں اور امریکا دوبارہ جیت رہا ہےملک ایک نئے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے،صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

  • امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 روز کی واضح ڈیڈ لائن دے دی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے مہلت دیئے جانے تک مذاکرات نہ کیے تو بڑا فوجی حملہ کیا جائے گا صدر ٹرمپ کی ایران کو کی دئی گئی ڈیڈ لائن کے بعد یورپ میں موجود امریکی فضائیہ نےایران کیجانب اپنی عسکری پوزیشنز سنبھالنا شروع کر دیں، پرتگال کے ایک جزیرے پر قائم امریکی ایئربیس پر جنگی طیاروں اور معاون فضائی اثاثوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکی طیاروں نے ممکنہ آپریشنز کے لیے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

    دوسری جانب معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کے امریکی حملے کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

    ایک روز قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں ایران پر محدود حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے انھی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی فوج کا ہدف صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھا کر نظام کی تبدیلی کی کوشش ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فضائی حملوں اور فوجی دباؤ میں اضافے کے اشاروں کے بعد تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر واشنگٹن سے ’ثبوت‘ پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی ایران میں حالیہ کریک ڈاؤن پر شدید تشویش ظاہر کی ہے، جب کہ خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حکومت نے حالیہ احتجاجی واقعات میں 3,117 افراد کی فہرست جاری کی ہے، جنہیں انہوں نے دہشتگرد کارروائیوں کا شکار‘ قرار دیا، جن میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں اگر کوئی فریق سرکاری اعدادوشمار کو چیلنج کرتا ہے تو وہ اپنے شوا ہد پیش کرے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ایرانی عوام جہنم جیسی زندگی گزار رہے ہیں،اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق مائی ساتو سمیت 30 ماہرین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اصل تعداد کا تعین ممکن نہیں کیونکہ ایران میں انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد ہیں امریکی تنظیم HRANA نے 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق اور مزید ہزاروں کیسز کی تحقیقات کا دعویٰ کیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کئی ہفتوں پر مشتمل ممکنہ فضائی حملے کی تیاری جاری ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح جواز عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا-

    وائٹ ہاؤس کے بعض عہدیداروں کے مطابق انتظامیہ کے اندر بھی ایران پر حملے کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں دوسری جانب ٹرمپ کے مشیروں کو خدشہ ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگی ماحول ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوامی رائے عامہ میں مہنگائی اور معاشی مسائل اولین ترجیح ہیں۔

    ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ سخت جواب دے گا ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کو یورینیم افزودگی روکنا ہوگی اور ’منصفانہ معاہدہ‘ کرنا ہوگا، بصورت دیگر فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • امریکی صدر ٹرمپ کی مسلمانوں کورمضان المبارک کی مبارکباد

    امریکی صدر ٹرمپ کی مسلمانوں کورمضان المبارک کی مبارکباد

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہونے پر امریکی مسلمانوں کو مبارک باد دی ہے اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ ٹروتھ‘ پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا آج میں رمضان منانے والے تمام لوگوں کو مبارک باد اور نیک تمنائیں بھیجتا ہوں،ہر رمضان روحانی تجدید، فکر و تدبر اور خدا کی بے شمار نعمتوں پر شکرگزاری کا ایک مقدس موقع فراہم کرتا ہے، بہت سے امریکیوں کے لیے یہ مقدس وقت عبادت اور روزے پر زور دیتا ہے، خاندانی اور سماجی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے اور ہمدردی، خیرات، رحمدلی اور عاجزی کی ہماری مشترکہ اقدار کی توثیق کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عبادت کی آزادی کا خداداد حق ہماری قوم کی پہچان اور ہماری خوشحالی اور طاقت کا ستون ہے یہی وجہ ہے کہ ہر روز میری انتظامیہ اس امر کو یقینی بنانے میں مصروفِ عمل ہے کہ تمام شہری اپنے عقیدے پر عمل، اپنے ضمیر کی پیروی اور آزادی سے عبادت کر سکیں، کیونکہ مذہبی آزادی کا مطلب ہے کہ آپ کو فخر کے ساتھ اور کسی بھی ظلم و ستم کے خوف کے بغیر مذہبی رسومات کی ادائیگی کا حق حاصل ہو، فضل اور خیر سگالی کے اس موسم میں، میں گھر میں خوشی اور تشفی، دنیا بھر میں اتحاد و امن اور آنے والے سالوں میں برکتوں کے نزول کی دعا کرتا ہوں۔

  • غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ،بورڈ  اراکین کو دعوت نامے ارسال

    غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ،بورڈ اراکین کو دعوت نامے ارسال

    غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ 19 فروری کو امریکا میں منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں، جس کے لیے بورڈ کے اراکین کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں واقع یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی میزبانی کریں گے غزہ بورڈ آف پیس میں اب تک 25 ممالک شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہیں۔

    دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت کئی اہم یورپی ممالک نے اس بورڈ کو اقوام متحدہ کے کردار کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے ابتدا میں اس منصوبے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نے بعد ازاں غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔

    میٹنگ کا باضابطہ ایجنڈا تاحال جاری نہیں کیا گیا، تاہم امریکی میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا قیام صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ ڈیل کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کا حصہ ہے، جس میں غزہ کی تعمیر نو اور حماس کو غیر مسلح کرنا شامل ہے

  • ایران سے مذاکرات : نیتن یاہو اور ٹرمپ کی واشنگٹن میں بدھ کو اہم ملاقات

    ایران سے مذاکرات : نیتن یاہو اور ٹرمپ کی واشنگٹن میں بدھ کو اہم ملاقات

    ایران سے متعلق صورتحال پر مشاورت کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات آئندہ بدھ کو واشنگٹن میں متوقع ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نیتن یاہو بدھ کے روز امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچیں گے جہاں وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے ملاقات کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا نیتن یاہو کی رائے ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ خطے کی سلامتی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے یورینیم افزودگی روکنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ علاقائی سفارتکاروں کے مطابق مسقط میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی میزائل صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، ایران، امر یکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • ٹرمپ کی اوباما جوڑے سے متعلق تضحیک آمیز ویڈیو شیئر، امریکا میں شدید ردِعمل

    ٹرمپ کی اوباما جوڑے سے متعلق تضحیک آمیز ویڈیو شیئر، امریکا میں شدید ردِعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر بارک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشعل اوباما سے متعلق ایک تضحیک آمیز ویڈیو شیئر کیے جانے پر امریکا میں شدید ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔

    ویڈیو کو نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس کی سخت مذمت کی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ مختصر ویڈیو شیئرکی، جس میں بارک اوباما اورمشعل اوباما کو جنگل میں بندروں کے روپ میں دکھایا گیا ہےویڈیو کے اختتام پر اوباما جوڑے کی اصل تصاویر کو بندروں کے جسموں پر فِٹ کیا گیا، جسے سیاہ فام افراد کے خلاف توہین آمیز اور نسل پرستانہ تصور قرار دیا جا رہا ہے۔

    ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق بے بنیاد الزامات بھی شامل ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابی نتائج چرائے گئے پس منظر میں چند لمحوں کے لیے گانا ’’دی لائن سلیپس ٹونائٹ‘‘ بھی سنائی دیتا ہے۔

    ری پبلکن سینیٹر ٹِم اسکاٹ، جو امریکی سینیٹ میں واحد سیاہ فام ری پبلکن ہیں نے ویڈیو کو کھلے الفاظ میں نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے صدرٹرمپ سے فوری طور پر پوسٹ ہٹانے کا مطالبہ کیا انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وائٹ ہاؤس سے اس سے زیادہ توہین آمیز مواد انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس تنقید کو ’’جعلی غصہ‘‘ قرار دیتے ہوئے صدر کے اقدام کا دفاع کیا ہے،لیکن ویڈیو کے وائرل ہونے کے 12 گھنٹے بعد اسے حذف کر دیا۔

    جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’’میں نے کوئی غلطی نہیں کی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے عملے کے کسی رکن کی طرف سے پوسٹ کرنے سے پہلے ویڈیو کا آغاز ہی دیکھا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس میں اوباما کی تصویر کشی ہے۔

    متعدد ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے شدید تنقید کے بعد ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ سے پوسٹ ہٹا دی گئی۔

    جیسے ہی تنقید بڑھ رہی تھی، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ پوسٹ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اوباما کے کلپ کو ایک منٹ طویل ویڈیو کے آخر میں شامل کیا گیا تھا جس میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے دوران مشی گن میں ووٹنگ کی سازش کے دعوے شامل تھے۔

    ٹرمپ کی اوبامہ پر تنقید کرنے کی ایک تاریخ ہے جو صدر کے طور پر ان کی پہلی مدت سے پہلے کی ہے۔ اس نے باقاعدگی سے یہ جھوٹ پھیلایا کہ ہوائی میں پیدا ہونے والا اوباما دراصل کینیا میں پیدا ہوا تھا اور اس لیے وہ صدر بننے کے لیے نااہل تھا۔

    این اے اے سی پی کے قومی صدر ڈیرک جانسن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیو "صاف نسل پرست، نفرت انگیز اور سراسر حقیر ہے۔”

  • ٹرمپ امریکا کو ایک آمرانہ ریاست کی طرف دھکیل رہے ہیں،ہیومن رائٹس

    ٹرمپ امریکا کو ایک آمرانہ ریاست کی طرف دھکیل رہے ہیں،ہیومن رائٹس

    ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے خبردار کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو ایک آمرانہ ریاست کی طرف دھکیل رہے ہیں-

    نیو یارک میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی واپسی نے انسانی حقوق کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید شدید کر دیا ہے جو پہلے ہی روس اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث دباؤ کا شکار تھی،قواعد پر مبنی عالمی نظام کو کچلا جا رہا ہے جبکہ دنیا بھر میں جمہوریت گزشتہ 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

    ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ امریکا میں صدر ٹرمپ نے انسانی حقوق کے لیے کھلی بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا ہے، جن میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے نقاب پوش اور مسلح اہلکاروں کے ذریعے ’سینکڑوں غیر ضروری طور پر پرتشدد اور توہین آمیز چھاپے‘ شامل ہیں۔

    رپورٹ میں انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیا کہ نسلی اور لسانی بنیادوں پر الزام تراشی، نیشنل گارڈ کی اندرونِ ملک تعیناتی، سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں، اور ایگزیکٹو اختیارات میں اضافے کی کوششیں امریکا کو آمریت کی جانب لے جا رہی ہیں۔

    تنظیم نے یہ بھی دہرایا کہ امریکا نے 252 وینزویلا کے تارکینِ وطن کو ایل سلواڈور کی ایک سخت سکیورٹی جیل میں منتقل کر کے ’جبری گمشدگی‘ جیسے بین الاقوامی جرم کا ارتکاب کیا بعد ازاں ان افراد نے تشدد اور جنسی زیادتی کے الزامات بھی عائد کیے جمہوریت کی عالمی صورتحال 1985 کی سطح پر آ چکی ہے، جب کہ روس، چین اور اب امریکا بھی پہلے کے مقابلے میں کم آزاد ہو چکے ہیں۔

    رپورٹ میں اسرائیل پر بھی غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزامات دہرائے گئے ہیں، جنہیں اسرائیل اور امریکا نے مسترد کر دیا ہے۔