سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں سابق صدر بل کلنٹن اور سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کے بند کمرے میں ریکارڈ کیے گئے بیانات کی ویڈیوز جاری کر دیں۔
ایوانِ نمائندگان کی اوورسائٹ کمیٹی کو دیے گئے ویڈیو بیان میں بل کلنٹن نے حلف کے تحت قانون سازوں کو بتایا کہ ٹرمپ نے 2002 یا 2003 میں ایک گالف ٹورنامنٹ کے دوران ایپسٹین کا ذکر کیا تھا بل کلنٹن نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ کسی طرح ٹرمپ کو معلوم تھا کہ میں نے جیفری ایپسٹین کے طیارے میں سفر کیا ہے ٹرمپ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں، گزشتہ برسوں میں ہم (ٹرمپ اور جیفری) نے ایک ساتھ کچھ بہترین وقت گزارا، لیکن پھر رئیل اسٹیٹ کے ایک سودے کی وجہ سے ہمارے تعلقات خراب ہو گئے۔
ایران پر حملے سے قبل دورہ اسرائیل:مودی کو کڑی تنقید کا سامنا
گزشتہ ہفتے کی گواہی میں کلنٹن نے کہا کہ ان کا ایپسٹین سے تعارف سابق وزیرِ خزانہ لیری سمرز نے کرایا تھا سمرز نے ایپسٹین کو ایک ایسے عطیہ دہندہ کے طور پر پیش کیا تھا جو کلنٹن کی فلاحی تنظیم ‘ایڈز فاؤنڈیشن’ کے قیام کے دوران انہیں اور ان کے عملے کو دنیا بھر کے دورے کرانے کے لیے تیار تھا۔
کلنٹن نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے دوروں کے لیے ایپسٹین کے جیٹ طیارے کا استعمال کیا، لیکن 2003 کے بعد انہوں نے دوسرے عطیہ دہندگان کے ساتھ کام شروع کر دیا تھا،بل کلنٹن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیاانہوں نے 2008 میں ایپسٹین کے خلاف جنسی جرائم کے الزامات سامنے آنے سے پہلے ہی اس سے تعلقات ختم کر لیے تھے۔
ایران پر آئندہ چند روز میں مزید تباہ کن حملے ہوسکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے تحت محکمہ انصاف نے ایپسٹین کی تحقیقات سے متعلق لاکھوں ریکارڈز جاری کیے ہیں، جن میں کلنٹن کی ایسی خواتین کے ساتھ تصاویر بھی شامل ہیں جن کے چہرے چھپائے گئے ہیں تاہم کلنٹن کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے ہیں اور ایپسٹین کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلق پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب ہیلری کلنٹن نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ جیفری ایپسٹین کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تھیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کو بھی حلف کے تحت طلب کیا جانا چاہیے ٹرمپ سے براہِ راست ان ہزاروں حوالوں کے بارے میں پوچھا جانا چاہیے جو ایپسٹین فائلز میں ان کے نام سے متعلق سامنے آئے ہیں۔
سعودی عرب کی متبادل سپلائی روٹ سے پاکستان کو تیل فراہمی کی یقین دہانی






