Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک لاکھ ڈالر ’ایچ ون بی‘ ویزا فیس فیصلہ غیر قانونی قراردیا

    امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک لاکھ ڈالر ’ایچ ون بی‘ ویزا فیس فیصلہ غیر قانونی قراردیا

    امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔

    بوسٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج نے پیر کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ فیس درحقیقت ایک ٹیکس تھی، جس کے نفاذ کی اجازت امریکی کانگریس نے صدر کو نہیں دی تھی یہ مقدمہ 20 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے ستمبر میں صدر ٹرمپ کے اعلان کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اس اعلان کے تحت نئے ایچ ون بی ویزوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا تھا۔

    ایچ ون بی پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کو ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہوتے ہیں ٹرمپ کے فیصلے سے قبل آجر حضرات مختلف عوامل کے مطابق عموماً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک فیس ادا کرتے تھے۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کی فیس نافذ ہونے کے بعد ایچ ون بی ویزا درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی انتظامیہ کے مطابق 15 فرور ی تک صرف 85 درخواست گزاروں نے یہ فیس ادا کی تھی۔

    حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ رقم ایک مالیاتی جرمانہ ہے جسے صدر کو وفاقی امیگریشن قوانین کے تحت بعض غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو محدود کرنے کے لیے عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے تاہم جج لیو سوروکن، جنہیں سابق صدر اوباما نے تعینات کیا تھا، نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس ادائیگی کی نوعیت اور عملی اطلاق واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ٹیکس ہے، خواہ اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے۔

    عدالت کے فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • نیتن یاہو پر واضح کردیا تھا کہ کشیدگی میں اضافہ کیا تو ایران کیخلاف  خود کو اکیلا پائےگا،ٹرمپ

    نیتن یاہو پر واضح کردیا تھا کہ کشیدگی میں اضافہ کیا تو ایران کیخلاف خود کو اکیلا پائےگا،ٹرمپ

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ کیا گیا تو ممکن ہے اسرائیل ایران کے خلاف تنہا رہ جائے۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا کو ایران پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں آخری لمحے میں اطلاع دی گئی تھی اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ رات فون پر نیتن یاہو سے کہا تھا کہ اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب نہ دے-

    اس گفتگو کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا تاہم ٹرمپ کے معاونین کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تاثر ملا کہ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے اسرائیلی ردعمل کو چند دن کے لیے مؤخر کروانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اسی رات نیتن یاہو نے اعلیٰ سکیورٹی حکام سے مشاورت کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو آگاہ کیا کہ انہوں نے ایران پر حملے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے حملوں سے متعلق امریکا کو اس وقت اطلاع دی جب میزائل ایران کی جانب داغے جاچکے تھے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ حملوں کی شدت کو محدود کروانے میں کامیاب رہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں شامل خطے کے پانچ ممالک نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں تاکہ حملے روکے جائیں اور معاہدے کی جانب پیش رفت ہو سکےاسی روز ایرانی حکام نے بھی امریکا سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ مزید حملے نہیں کریں گے اور اسرائیل سے بھی کارروائی روکنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ نیتن یاہو سے بات کی اور انہیں مزید حملے روکنے پر آمادہ کیا ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے اور ایران اس پر دستخط کرنا چاہتا ہے۔

  • ٹرمپ حکومت کی  27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز

    ٹرمپ حکومت کی 27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز

    امریکا میں ٹرمپ حکومت کی جانب سے 27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز سامنے آگئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سینیٹ کمیٹیوں میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا میں مہاجرین کو نکالنے کیلئے شہریوں کو مردہ ظاہر کرنےکا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے یہ مبینہ منصوبہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کے تحت تیار کیا گیا تھا جس کی قیادت ایلون مسک کر رہے تھے۔

    دوسری جانب سوشل سکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے یہ دعوے رد کردیے ہیں جب کہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے معلومات کے تبادلے کو قومی سلامتی سے جوڑ دیا ہے۔

  • ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں اور بالآخر اس کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

    وسکونسن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کے حل میں وقت لگتا ہے اور ایسے معاملات فوری طور پر طے نہیں ہوتے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مستقبل میں ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

    امریکی صدر کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے ایسا اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ خود کو طاقتور اور غیور سمجھتا ہے ایران کے ساتھ معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایران کی موجودہ صورتحال بھی مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔

    اپنی تقریر میں انہوں نے امریکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئی فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

  • ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرار داد منظور

    ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرار داد منظور

    امریکی ایوان نے جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کرلی، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ میں اختیارات کم کرنے کی قرارداد منظور کرلی، قرار داد کے حق میں 215 نمائندگان نے ووٹ ڈالے،208ووٹ خلاف پڑے،4رپبلکن اراکین نے بھی قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالا، صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی فوجی واپس بلانے ہوں گے، جب تک کہ کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے۔

    ووٹنگ کے دوران چار ریپبلکن ارکان نے اپنی جماعت کی قیادت کے برخلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جبکہ کسی بھی ڈیموکریٹ نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی، سات ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان میں مشی گن سے ٹام بیریٹ، اوہائیو سے وارن ڈیوڈسن، پنسلوانیا سے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی سے تھامس میسی شامل ہیں اگرچہ اس قرارداد کی فوری قانونی حیثیت محدود ہے کیونکہ اسے مؤثر ہونے کے لیے سینیٹ سے بھی منظور ہونا ضروری ہے، تاہم یہ ووٹنگ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے تحفظات کی عکاسی کرتی ہے۔

    ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین سابقہ قراردادیں ناکام ہو چکی تھیں، تاہم ان کی ناکامی کا فرق مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے اس قرارداد پر ووٹنگ بھی مؤخر کر دی تھی کیونکہ اس کے منظور ہونے کے امکانات بڑھ گئے تھے۔

    دوسری جانب سینیٹ گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک الگ قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھا چکی ہے، حالانکہ اس سے قبل ایسی سات کوششیں ناکام رہی تھیں، تاہم اس قرارداد پر مزید ووٹنگ کا شیڈول تاحال جاری نہیں کیا گیا۔

    حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالانکہ اس سے پہلے بہت کم ریپبلکن ارکان ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے نظر آئے تھے اسی روز ایوانِ نمائندگان نے یوکرین سپورٹ ایکٹ پر ووٹنگ کی راہ بھی ہموار کر دی، جس کے تحت روسی حملے کے خلاف جنگ میں یوکرین کو مزید سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی اس اقدام کی حمایت میں چھ ریپبلکن اور ایک آزاد رکن نے بھی وو ٹ دیا۔

    ادھر بعض ریپبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ کی جانب سے بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مقرر کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ بل پلٹے رہن قرضوں کے شعبے سے وابستہ ریگولیٹر ہیں اور انہیں قومی سلامتی کے معاملات کا کوئی تجربہ حاصل نہیں۔

    ڈیموکریٹک ارکان کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے صدر ٹرمپ کو کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف مقننہ کے پاس ہے ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ملک کو ایک طویل جنگ میں دھکیل سکتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق 28 فروری کو ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد پٹرول، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  • مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہیں-

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ’پوڈ فورس ون‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کررہی ہے،امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پوڈ کاسٹ میں امریکی صدر نے لبنان کے معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا بھی اعتراف کیا انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں پر وہ خوش نہیں تھے اور اس حوالے سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو بھی ہوئی یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وز یر اعظم کے تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

  • ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے روک دیے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو ”غلط اور بے بنیاد“ قرار دیا ہے-

    ایران کی خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے معطل کر دیے ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی پڑ رہے ہیں۔

    ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے منگل کے روز ثالثوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں ”غلط اور گمراہ کن“ ہیں ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے، چار روز پہلے بھی رابطہ تھا، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، ایک روز پہلے بھی اور آج بھی رابطہ موجود ہے،یہ مذاکرات کہاں پہنچتے ہیں، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک نہ ایک طریقے سے۔“

    ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران رابطوں کے تعطل سے متعلق رپورٹس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم انہوں نے جوہری مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، اگرچہ اس بات کی کوئی ضما نت نہیں کہ فریقین ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مذاکرات جاری ہیں، لیکن کسی حتمی اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    ٹرمپ انتظامیہ نے سرکردہ AI ڈویلپرز سے کہا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری سائبرسیکیوریٹی ٹیسٹوں کے لیے اپنے انتہائی قابل ماڈلز کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلےوفاقی حکومت کو پیش کریں، ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، کیونکہ واشنگٹن میں طاقتور نئے AI سسٹمز جیسے کہ Anthropic’s Mythos پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سےپہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

    اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا،اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

    اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

    یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے جبکہ اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

    دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو سکتی ہے اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہےسرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والےتھےیہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

    کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

    ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا، اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

  • اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔

    امریکی چینل اے بی سی نیوزکو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے مذاکراتی عمل روکنے کے حوالے سے واشنگٹن کو ابھی تک باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تاہم اگر ایران خاموشی اختیار کرنا چاہتا ہے تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ انتظار کر سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ہم بہت زیادہ بات کر چکے ہیں، اگر سچ پوچھیں تو خاموش رہنا بہتر ہوگا انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا دوبارہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے جارہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم وہاں جا کر ہر طرف بمباری شروع کر دیں گے، ہم صرف خاموش رہیں گے اور ناکہ بندی برقرار رکھیں گے تاہم فوری طور پر کسی نئی فوجی مہم کا ارادہ نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے ذرائع موجود ہیں اور وہ کسی معاہدے کے لیے جلد بازی میں نہیں ہیں،میرے خیال میں میں اتنا انتظار کر سکتا ہوں جتنا وہ کرنا چاہیں۔

    امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکراتی رابطوں کا تبادلہ روک دیا ہے جب کہ ایران نے اس فیصلے کی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان اور غزہ میں جاری کارروائیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو قرار دیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ واشنگٹن فی الحال سفارتی اور اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی پر قائم رہے گا جب کہ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے حتمی فیصلہ مستقبل کی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر محاذوں کو فعال کرنے جیسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کی معطلی کے حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ لبنان میں مکمل جنگ بندی امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کسی ایک محاذ پر ہوتی ہے تو اسے تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • بیروت پٔر حملے،ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو،پاگل اور ناشکرا قرار دیا

    بیروت پٔر حملے،ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو،پاگل اور ناشکرا قرار دیا

    مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا،میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے.

    اس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے،میں نے اپنے نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بہت اچھی گفتگو کی، حزب اللہ بھی تمام تر فائر بندی پر راضی ہے، اب نہ اسرائیل ان پر حملہ کرے گا، نہ وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے.