Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان،قیدیوں کا تبادلہ

    ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان،قیدیوں کا تبادلہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ روس میں یوم فتح کی تقریبات منائی جا رہی ہیں جبکہ یوکرین نے بھی دوسری جنگ عظیم میں اہم کردار ادا کیا تھا اسی مناسبت سے یہ جنگ بندی عمل میں لائی جا رہی ہے اس جنگ بندی کے دوران ہر قسم کی عسکری کارروائیاں معطل رہیں گی جبکہ دونوں ممالک ایک، ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے،9، 10 اور 11 مئی کو دونوں ممالک کے درمیان عارضی سیز فائر نافذ رہے گا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ یہ درخواست انہوں نے براہ راست کی تھی جس پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتفاق کیا،امید ہے کہیہ پیشرفت ایک طویل، خونریز اور سخت جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی اس بڑے تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور فریقین ہر گزرتے دن کے ساتھ کسی حل کے قریب پہنچ رہے ہیں،وس یوکرین جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا تنازع بن چکی ہے تاہم اب امن کی جانب پیشرفت ممکن دکھائی دے رہی ہے۔

  • ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ امن معاہدہ آئندہ ہفتے طے پا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

    فوکس نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں تاہم اگر تہران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے،دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنا جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے گا۔

    رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران ایک محدود اور عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کا مقصد جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں استحکام اور مزید مذا کرا ت کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہو سکتا ہے جن میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان، آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے اقدامات اور30 روزہ مذاکراتی دور (جس میں بڑے تنازعات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی) شامل ہیں۔

    سی این این نے رپورٹ کیا کہ ایران اپنا باضابطہ ردعمل جمعرات کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھیج سکتا ہے۔

    پاکستان حالیہ سفارتی کوششوں میں اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد معاہدہ طے پا جائے گا،اگر معاہدہ پاکستان میں طے پاتا ہے تو یہ ملک کے لیے اعزاز ہوگانائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت مختلف علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے رکھے، ایران نے پاکستان کے “تعمیر ی اور ثالثی کردار” کو سراہا ہے، جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے ساتھ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔

  • پراجیکٹ فریڈم کیلئے ٹرمپ کی سعودی ولی عہد  کو منانے کی کوشش ناکام رہی ،امریکی اخبار

    پراجیکٹ فریڈم کیلئے ٹرمپ کی سعودی ولی عہد کو منانے کی کوشش ناکام رہی ،امریکی اخبار

    امریکی اخبار نے انکشاف کیا کہ پراجیکٹ فریڈم کیلئے فضائی حدود دینے سے سعودی انکار نے ٹرمپ کو آپریشن روکنے پر مجبور کیا۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی فون پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو منانے کی کوشش ناکام رہی پراجیکٹ فریڈم کی بروقت اطلاع نہ ملنے پر ناراض سعودی عرب نے ریاض کے فوجی اڈے پر امریکی فوجیوں کی رسائی روک دی تھی، امریکا کو منع کردیا تھا کہ اس کے جہاز ریاض کے اڈے سے نہیں اڑ سکتے، ٹرمپ کو امریکی فوجیوں کی امریکی فوجی اڈے تک رسائی جاری رکھوانے کے لیے پراجیکٹ فریڈم روکنا پڑا۔

    سعودی عرب میں امریکی اڈے پر امریکی لڑاکا طیارے، ری فیولنگ ٹینکرز اور ائیر ڈیفنس سسٹمز تعینات ہیں پراجیکٹ فریڈم کے لیے امریکی بحری جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے یہاں سے لڑاکا طیارے اڑانا ضروری تھا۔

  • ایران نے شرائط نہ مانیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے،ٹرمپ

    ایران نے شرائط نہ مانیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کی جانب سے شرائط نہ مانی گئیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ اگر ایران نے معاہدے پر رضامندی ظاہر کردی تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہو جائےگا، اور آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائےگا، اگر ایران معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو دوبارہ ہونے والے حملے پہلے سے مزید شدید اور طاقتور ہوں گے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں پیشرفت کی خوشخبری سناتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ روکنے کا اعلان کیا تھا،کہا تھا کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیشرفت کے بعد بحیرۂ ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف مہم کے دوران امریکا کو ’بڑی فوجی کامیابی‘ حاصل ہوئی ہے،ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔

  • جنوبی کوریا کا ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم میں شمولیت پر غور

    جنوبی کوریا کا ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم میں شمولیت پر غور

    جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں نئے مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں شرکت کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق جنوبی کوریا کا صدارتی دفتر اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ملک آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے امریکی قیادت میں شروع کیے جانے والے اس فوجی آپریشن کا حصہ بن سکتا ہے یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اس مہم کا اعلان کیا تھا صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ان لوگوں، کمپنیوں اور ممالک کو آزاد کرانا ہے جنہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور وہ صرف حالات کے شکار ہوئے ہیں یہ مہم ان ممالک کی درخواست پر شروع کی جا رہی ہے جن کے جہاز اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں اگر اس آپریشن میں کسی قسم کی مداخلت کی گئی تو اس کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا انتظام صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے نہیں چلایا جائے گا ایرانی پارلیمنٹ کے عہدیدار ابراہیم عزیزی نے انتباہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی یہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ٹول ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور پاسداران انقلاب کے منظور شدہ راستوں پر چلنا ہوگا۔

    اس وقت صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق تقریباً دو ہزار بحری جہازوں پر بیس ہزار کے قریب ملاح پھنسے ہوئے ہیں ان جہازوں پر خوراک، ایندھن اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہےتنظیم کے ڈائریکٹر ڈیمین شیولیئر کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اتنی بڑی تعداد میں ملاحوں کے پھنس جانے کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

  • ٹرمپ کی کرپٹو کمپنی نے جسٹن سن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا

    ٹرمپ کی کرپٹو کمپنی نے جسٹن سن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا

    ٹرمپ اور اس کے بیٹوں کی کرپٹو کمپنی نے جسٹن سن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے بیٹوں کی مشترکہ قائم کردہ کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فائنانشل نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے ہانگ کانگ میں مقیم کرپٹو کاروباری شخصیت جسٹن سن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    ورلڈ لبرٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مقدمے کی کاپی شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جسٹن سن نے کمپنی کے خلاف عوامی سطح پر بدنامی کر نے کی غرض سے مہم چلائی اور ایسے دعوے کیے جو کمپنی کے مطابق بے بنیاد ہیں،سن نے اپنے ٹوکنز کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جن کی اسے اجاز ت نہیں تھی، جن میں انہیں کرپٹو ایکسچینج بائنانس کو منتقل کرنا بھی شامل ہے، ٹوکنز کو منجمد کرنے کا اختیار فروخت کی شرائط میں واضح طور پر درج تھا۔

    اس سے قبل اپریل میں جسٹن سن نے خود ورلڈ لبرٹی فنانشل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کمپنی نے غیرقانونی طور پر ان کے خریدے گئے ٹوکنز منجمد کر دیے ہیں، کمپنی نے خفیہ طور پر ایسے ٹولز نصب کیے جن کے ذریعے ستمبر 2025 میں ٹوکنز کے قابلِ تجارت ہونے کے بعد بھی ان کی فروخت کو روکا گیا۔

    جسٹن سن نے خبر رساں ادارے رائٹرزسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ورلڈ لبرٹی کی جانب سے ایکس پر اعلان کردہ یہ مبینہ ہتکِ عزت کا مقدمہ محض ایک بے بنیاد تشہیری حربہ ہےمیں اپنے اقدامات پر قائم ہوں اور عدالت میں اس کیس کو شکست دینے کا منتظر ہوں۔

    امریکی صدر کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ورلڈ لبرٹی کی پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سچ جاننے کے لیے اس پوری تھریڈ کو پڑھیں جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی زیک وٹکوف کا کہنا تھا کہ وہ عدالت میں حقیقت سامنے آنے کے منتظر ہیں۔

  • ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور ان کے خلاف عدم پسندیدگی کی شرح 62 سے 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے حالیہ پول کے مطابق، 62 فیصد امریکی ٹرمپ کی صدارت سے غیر مطمئن ہیں، جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں سب سے بلند ترین سطح ہے دیگر رپورٹس میں یہ شرح 67 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی اور معاشی مسائل کے بعد، 66 فیصد امریکیوں نے ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی کو ناپسند کیا ہے۔

    رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق، معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں صرف 23 فیصد امریکی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ان کے اقدامات سے خوش ہیں، جبکہ 76 فیصد نے ان کی معاشی پالیسیوں پر ناگواری کا اظہار کیا ہے سروے میں شامل دو تہائی (تقریباً 66 فیصد) امریکیوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے-

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے سروے کے مطابق، 59 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد نے جسمانی صحت کو قیادت کے تقاضوں کے مطابق نامناسب قرار دیا اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔

    انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔

    سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہےیہ صورتحال نومبر 2026ء میں ہونے والے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے شدید سیاسی مشکلات کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے-

  • امریکی صدر کی کابینہ کے ہمراہ اے آئی سے تیار تصویر کے انٹرنیٹ پر چرچے

    امریکی صدر کی کابینہ کے ہمراہ اے آئی سے تیار تصویر کے انٹرنیٹ پر چرچے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ کئی تصاویر شیئر کیں، جن میں سے ایک تصویر انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں 79 سالہ صدر ٹرمپ اپنے کابینہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ واشنگٹن ڈی سی کے تاریخی لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول میں بغیر شرٹ کے آرام کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    یہ تصویر ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر 2 دن قبل مقامی وقت کے مطابق 11 بج کر 3 منٹ پر بغیر کسی کیپشن کے پوسٹ کی گئی، وائرل ہونے والی اس مصنوعی تصویر میں صدر ٹرمپ کو سنہری رنگ کے ہوا سے بھرے صوفے پر لیٹے، مسکراتے اور انگوٹھے کا اشارہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے،ٹرمپ کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر داخلہ ڈوگ برگم بھی تالاب میں موجود ہیں، تصویر کے دائیں جانب ایک نامعلوم خاتون بھی نظر آ رہی ہیں-

    یہ پوسٹ صدر ٹرمپ کی 42 منٹ تک جاری رہنے والی تصاویر کی سیریز کا حصہ تھی، اس دوران انہوں نے رات 11:03 سے 11:45 کے درمیان کل 11 اے آئی تصاویر شیئر کیں، جن میں ایک تصویر ماؤنٹ رشمور پر ان کے چہرے کی بھی تھی،یہ تصویر دیکھنے میں عجیب لگ سکتی ہے، لیکن اس کا پس منظر اہم ہے، لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول اس وقت صدر ٹرمپ کے حکم پر 1.5 ملین ڈالر کی تزئین و آرائش کے عمل سے گزر رہا ہے، جس کی نگرانی وزیر داخلہ ڈوگ برگم کر رہے ہیں۔

    اس منصوبے کا مقصد تالاب کی گرینائٹ فاؤنڈیشن میں رساؤ کو ٹھیک کرنا اور 4 جولائی کو امریکا کی 250 ویں سالگرہ سے پہلے اسے امریکی پرچم جیسے نیلے رنگ کی نئی کوٹنگ دینا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وزیر داخلہ ڈوگ برگم اور میں لنکن میموریل اور واشنگٹن مونیومنٹ کے درمیان واقع اس انتہائی گندے ریفلیکٹنگ پول کو ٹھیک کرنے پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے تالاب کی موجودہ خراب حالت کا ذمہ دار پچھلی انتظامیہ کو ٹھہرایا ہے۔

  • ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں،ٹرمپ

    ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں، ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی۔

    ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے، آبنائے ہرمز کی ناکا بندی انتہائی دوستانہ ہے مجھے ایران سے ڈیل کی تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے، مجھے اس تجویز کے اصل الفاظ سے جلد آگاہ کیا جائے گا، جلد ہی جائزہ لوں گا، یہ سوچ نہیں سکتا کہ ایران کی تجاویز قابل قبول ہوں گی، کہ انہوں نے گزشتہ 47 سالوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی کوئی بڑی قیمت ادا نہیں کی ہے۔ جرمنی سے 5 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال رہے ہیں۔

    دوسری جانب عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے بعد اپنے نئے ہدف کے طور پر کیوبا کا نام لیا ہے اور امریکی جنگی پالیسی پر کھل کر گفتگو کی ہے فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد واپسی پر امریکی بحریہ کا ایک بڑا طیارہ بردار جہاز کیوبا کے ساحل کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے، جنگی بحری بیڑے کی تعیناتی کی وجہ سے کیوبا خود ہی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے گا اور امریکا اس ملک کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ یہ سب بہت جلد ممکن ہے۔

  • ٹرمپ نے  ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے  متعلق سی این این کی رپورٹ  فیک قرار دی

    ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق سی این این کی رپورٹ فیک قرار دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ مسترد کردی-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہےمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں، معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہےآیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں؟

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔