Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ نے حاملہ خواتین کو قبل از وقت زچگیوں پر مجبور کردیا

    ٹرمپ نے حاملہ خواتین کو قبل از وقت زچگیوں پر مجبور کردیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برتھ رائٹ ایگزیکٹو آرڈر جاری ہونے بعد خواتین نے وقت سے پہلے ہی ماں بننے کے لئے اسپتالوں کا رخ کرلیا۔

    یادرہے برتھ رائٹ امریکا میں پیدائش کی بنیاد پر نومولود کی فوری شہریت کا ہے تاہم صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے اجرا کے بعد اب 20 فروری کے بعد امریکا میں پیدا ہونے والے کسی بھی بچے کو امریکی شہریت نہیں ملے گی ۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس قدم نے خصوصا تارکین وطن میں حاملہ خواتین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔ اور حاملہ خواتین جوق درجوق اسپتالوں اور کلینکس کا رخ کررہی ہیں ان کا اصرار ہے کہ ان کی قبل از وقت زچگی کرادی جائے حتی کہ ساتویں مہینے کے حمل والی خواتین میں ڈاکٹرز سے اصرار کررہی ہیں کہ سیزرین کے ذریعے بچے کی پیدائش ممکن بنائی جائے ۔

    20 فروری کے بعد ایسے والدین کے بچوں کو اپنے آپ شہریت نہیں ملے گی جو امریکہ کے شہری نہیں ہیں یا گرین کارڈ ہولڈر نہیں ہیں۔ ایک سروے کے مطابق کئی امریکی نوجوان بھی اس فیصلے کے خلاف ہیں۔میڈیا سے بات چیت میں نیو جرسی کے ڈاکٹر ڈی راما نے بتایا ہے کہ ان کے پاس وقت سے پہلے زچگی کرانے کی درخواستوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ کئی خواتین اپنے حمل کے 8ویں یا 9ویں مہینے میں ہیں۔ یہ سبھی 20 فروری سے پہلے سی-سیکشن کرانا چاہتی ہیں۔

    ڈاکٹرز کی جانب سے اس وارننگ کے باوجود کہ پری ٹرم ڈیلیوری سے بچے اور ماں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں جوڑوں کا اصرارہے کہ انہیں 20 فروری سے پہلے بچہ کی پیدائش چاہئیے۔ ڈاکٹرز کے مطابق پری ٹرم ڈیلیوری کی پیچیدگیوں میں اَنڈیولپڈ پھیپھڑے، کم وزن، نیورولاجیکل مسائل سمیت کئی مرض شامل ہیں۔ یادرہے کئی تارکین وطن اور سیاح والدین خصوصی طور پر بچہ کی امریکا میں پیدائش کے لئے برسوں کی پلاننگ کرتے ہیں کیونکہ اس طرح انہیں اور ان کے ہونے والے بچے کو امریکا کی شہریت مل سکتی ہے۔

    جرمنی میں بچوں کو قتل اور زخمی کرنے والا افغان شہری نکلا

    سنگین جرائم میں مطلوب سینکڑوں مفرورملزمان مختلف ممالک سے گرفتار

    نیشنل اسٹیڈیم کے 2 اسٹینڈز سابق کپتانوں کے نام سے منسوب

    بابر اعظم پر مبینہ زیادتی کا مقدمہ،خاتون عدالت میں طلب

  • بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن دور کے ایک اہم حکم کو منسوخ کرتے ہوئے امریکی فوج میں ٹرانس جینڈرز کی بھرتی پر پابندی لگا دی ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام ملک کی فوجی حکمت عملی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 9 ہزار سے 14 ہزار ٹرانس جینڈرز امریکی فوج کا حصہ ہیں۔بدھ کے روز، ٹرمپ نے بائیڈن کے دور میں جاری کردہ حکمنامہ کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت ٹرانس جینڈرز کو امریکی فوج میں بھرتی کی اجازت دی گئی تھی۔ اس پابندی کے نتیجے میں ٹرانس جینڈرز افراد کی فوج میں ملازمت کرنے کی راہ بند ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ میں صرف دو جنسوں کو تسلیم کیا جائے گا، یعنی مرد اور عورت۔

    اسی دوران، ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ خارجہ کے ذریعے امریکی سفارتخانوں میں پرائیڈ اور بلیک لائیوز میٹر پرچم لہرانے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ اب صرف امریکی پرچم لہرایا جا سکے گا، جبکہ دیگر کسی بھی نوعیت کے پرچم کی اجازت نہیں ہو گی۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کوسٹ گارڈ کی پہلی خاتون کمانڈنٹ، ایڈمرل لنڈا فیگن کو بھی برطرف کر دیا۔ ایڈمرل فیگن کوسٹ گارڈ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں اور ان کی برطرفی پر مختلف حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کا آغاز کرتے ہوئے میکسیکو بارڈر پر اضافی فوجی اور ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق 1500 اضافی فوجیوں کو میکسیکو بارڈر پر تعینات کیا جائے گا، اور ان کے ساتھ ہیلی کاپٹرز اور انٹیلی جنس تجزیہ کار بھی روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنا ہے۔مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے بارڈر پر گراؤنڈ فورسز کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، اور پینٹاگون نے کیلی فورنیا اور ٹیکساس سے 5 ہزار غیر قانونی تارکین کو بے دخل کرنے کے لیے طیارے فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، میکسیکو بارڈر پر باڑ لگانے کے لیے بھی پینٹاگون معاونت فراہم کرے گا۔

    یہ تمام اقدامات اس بات کا غماز ہیں کہ ٹرمپ نے امریکی سیاست میں اپنے جارحانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے، اور ان کے فیصلے ان کے سیاسی نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ٹک ٹاک سے پابندی ہٹاؤ نہیں تو پاکستان چلی جاؤں گی،راکھی ساونت کا مودی کو پیغام

  • سعودی ولی عہد کا ٹرمپ سے رابطہ،600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

    سعودی ولی عہد کا ٹرمپ سے رابطہ،600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ اس ملاقات میں سعودی ولی عہد نے امریکی صدر کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد اور امریکی صدر نے باہمی سرمایہ کاری، دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور سلامتی پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز سعودی ولی عہد کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آئینی حلف اٹھانے اور ریاستہائے متحدہ کی صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دی گئی۔ سعودی کابینہ نے امید ظاہر کی کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ اسرائیلی جنگ کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔کابینہ نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق، خاص طور پر مشرقی یروشلم اور 1967 کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد ریاست کے قیام کا حق ملنا ضروری ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں مستقل امن قائم کیا جا سکے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بات کا اظہار کیا کہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اگلے چار سالوں میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق، ولی عہد نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی متوقع اقتصادی اصلاحات سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان بے مثال اقتصادی خوشحالی کا باعث بن سکتی ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مزید مواقع پیدا ہوئے تو یہ سرمایہ کاری مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مزید استحکام آئے گا۔ یہ قدم سعودی عرب کی ترقیاتی پالیسی اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ ٹیلی فونک رابطہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کر سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام اور عالمی اقتصادی تعلقات میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

  • محسن نقوی کی واشنگٹن میں خصوصی عشائیہ میں شرکت

    محسن نقوی کی واشنگٹن میں خصوصی عشائیہ میں شرکت

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے واشنگٹن میں منعقد ہونے والے لنکن لبرٹی بال میں ایک خصوصی عشائیہ کی تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا واشنگٹن میں لنکن لبرٹی بال میں منعقدہ عشائیہ میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا،وزیر داخلہ محسن نقوی نے عشائیہ میں امریکی سینیٹرز، ممبرز کانگریس اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں،محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ "آج امریکی عوام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو زبردست طریقے سے منایا ہے اور یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”امریکی عوام ٹرمپ سے محبت کرتے ہیں، میں شاہد ہوں امریکی عوام نے ٹرمپ کی صدارت کو زبردست طریقے سے منایا، محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا نیا باب شروع ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری اور مضبوطی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مختلف اہم اقدامات کیے جائیں گے۔

    اس موقع پر محسن نقوی نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قوموں کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان عالمی امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں استحکام کی کوششیں تیز کرے گا۔

    ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

  • تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار بطور امریکی صدر عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے،

    ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں فوٹوگرافروں کے کیمرے ایک ایک سیکنڈ میں اس تاریخی لمحے کو محفوظ کر رہے تھے، اور اسی دوران ایک دلچسپ اور غیر متوقع منظر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے،ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے درمیان یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ نو منتخب صدر امریکا، ڈونلڈ ٹرمپ، جب کیپیٹل کی عمارت میں حاضرین کے سامنے اپنی اہلیہ میلانیا کو بوسہ دینے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایک ہنسی مذاق کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کے لیے جب ان کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، تو میلانیا کے سر پر موجود ہیٹ نے انہیں بوسہ دینے میں رکاوٹ ڈالی۔ اس وقت ان کے ارد گرد ان کے بچے بھی موجود تھے، جنہوں نے کامیابی اور فتح کی خوشی میں ٹرمپ کا ساتھ دیا تھا۔

    لیکن جب ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کی کوشش کی، تو ہیٹ کی موجودگی کی وجہ سے وہ یہ نہ کر پائے۔ اس پر ٹرمپ نے فوراً صورتحال کو سنبھالا اور خود کو شرمندگی سے بچاتے ہوئے اپنی اہلیہ کو ہوا میں بوسہ (Flying Kiss) دے کر مطمئن ہو گئے۔یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور صارفین نے اس "ادھورے بوسے” پر دلچسپ تبصرے کیے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس منظر پر قہقہے لگائے اور اس کو ایک منفرد اور غیر متوقع واقعہ قرار دیا۔

    یہ لمحہ نہ صرف ہال میں موجود افراد کے لیے یادگار بن گیا، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس نے اپنی جگہ بنا لی، جہاں پر صارفین نے اس کو مختلف انداز میں شیئر کیا۔ ٹرمپ کی شخصیت اور اس منفرد لمحے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنی دھاک بٹھا لی۔

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • ٹرمپ کی سعودی  اسرائیل  تعلقات میں بہتری  کی امید

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ابراہام معاہدے میں شمولیت کے امکان کا اظہار کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدرات سنبھالنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب بالآخر ابراہام معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنے کی امید ہے، جس سے مشرق وسطی میں امن اور استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی۔

    پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اب امریکا ترقی کرے گا اور وہ اپنے دور میں امریکا کو "پہلے رکھوں گا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا بہت جلد ایک مضبوط، عظیم، اور پہلے سے زیادہ کامیاب ملک بنے گا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایک ایسا ملک قائم کرنا ہے جو آزاد اور مضبوط ہو۔ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران درپیش مشکلات کا ذکر کیا اور کہا کہ انھیں جن مشکلات کا سامنا ہوا وہ امریکی تاریخ میں کسی اور کو نہیں ہوئیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکا کو پھر سے عظیم بنانے کے لیے کام کریں گے اور یہ دن امریکی شہریوں کی آزادی کا دن ہے۔ انہوں نے سیاہ فام اور لاطینی امریکی کمیونٹیز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کے مسائل کو سن کر ان کے لیے کام کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے مارٹن لوتھر کنگ ڈے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اس دن کے موقع پر سیاہ فام کمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • ٹرمپ نے  حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی صدارت کا حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن گئے۔ اس موقع پر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے عہدہ صدارت کا حلف لیا۔

    حلف برداری کی تقریب میں ایک حیران کن بات یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔ جہاں ایک طرف ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ دو بائبلز تھامے کھڑی تھیں، وہیں صدر ٹرمپ نے اپنا سیدھا ہاتھ بلند کیا لیکن کسی بھی بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔اگرچہ امریکی دستور کے تحت صدر کے لیے بائبل پر ہاتھ رکھنا قانونی طور پر ضروری نہیں ہے، مگر یہ ایک قدیم روایت ہے کہ امریکی صدر اپنے عہدے کا حلف ایک ہاتھ بائبل پر رکھ کر لیتا ہے۔ یہ روایت امریکا کی صدارت کی تاریخ میں صدیوں سے جاری ہے، تاہم ٹرمپ کا یہ غیر متوقع اقدام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث بن گیا۔

    یاد رہے کہ 20 جنوری 2017 کو اپنے پہلے دور صدارت کی حلف برداری کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو دو بائبلز پر رکھا تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال نے ملکی اور عالمی سطح پر بحث و مباحثہ کو جنم دیا ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

  • ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے ذاتی طور پر یہ کہا ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ تین مختلف ذرائع نے سی این این کو بتایا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ کے ساتھ کھلے ڈائیلاگ کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ چین کے بارے میں سخت موقف اپنانا بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد کئی ممالک کے دورے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں بھارت بھی شامل ہے، جہاں وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا تھا کہ وہ چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے جمعہ کو فون پر بات کی تھی، ٹرمپ نے شی کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی دعوت بھی دی تھی، مگر چین نے اس کی بجائے نائب صدر ہان ژینگ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ٹرمپ نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ امریکی صدور کو غیر ملکی حریفوں سے براہِ راست بات کرنی چاہیے، اور وہ اپنے انتخابی مہم کے دوران اکثر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کی شی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن جیسے رہنماؤں سے بہترین تعلقات ہیں۔

    ٹرمپ کے مشیر جیسن ملر نے سی این این کو بتایا، "ٹرمپ نے اپنے پہلے چار سالوں میں یہ بات بہت مؤثر طریقے سے کی کہ اگر آپ کسی ملک کے ساتھ کچھ بدلنا چاہتے ہیں، چاہے وہ دشمن ہو یا حریف ہو، یا چین کے معاملے میں، تو آپ کو ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور کہنا ہوگا، ‘یہ وہ چیز ہے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔’” ملر نے مزید کہا، "کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوست بن جائیں گے؟ نہیں، بالکل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ صدر ان کے ساتھ براہِ راست سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں۔”ایک مشیر نے سی این این کو بتایا کہ "ٹرمپ کا مقصد شی کے ساتھ سودے کرنا ہے”۔

    انہوں نے کہا، "ٹرمپ اپنے تعلقات کو چینی صدر کے ساتھ امریکی تعلقات کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔” اس مشیر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں شی کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی تھی ،”ٹرمپ نے اس بات کو اس طرح سمجھا کہ شی یہ دکھانا چاہتے تھے کہ وہ ان کی کتنی عزت کرتے ہیں”، مشیر نے کہا، جو اس دورے میں شامل تھا۔ "وہ اس تعلقات کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔”

    شی جن پنگ نے بھی ٹرمپ کے ساتھ ایک زیادہ کھلے رویے کا اشارہ دیا ہے، جس میں نومبر میں ٹرمپ کی فتح کے بعد انہیں مبارکباد دینا شامل ہے اور کہنا تھا کہ امریکہ اور چین کو "نئے دور میں ایک دوسرے کے ساتھ مناسب طریقے سے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں ممالک اور دنیا بھر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو”۔

    چیمپئنز ٹرافی:ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے،روہت شرما

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل واشنگٹن میں خطاب کےاہم نکات

  • بائیڈن انتظامیہ کے "تباہ کن” آرڈرز کو واپس لوں گا،ٹرمپ

    بائیڈن انتظامیہ کے "تباہ کن” آرڈرز کو واپس لوں گا،ٹرمپ

    امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دن کی تقریب حلف برداری کے بعد فوری طور پر کئی ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اپنی انتخابی مہم کی متعدد پالیسی ترجیحات کو مکمل کریں۔ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ اپنے پہلے دن کے دوران "تقریباً 100” ایگزیکٹو آرڈرز جاری کریں گے، جن میں سے بیشتر بائیڈن انتظامیہ کے جاری کردہ آرڈرز کو واپس لینے یا ختم کرنے کے لیے ہوں گے۔

    ٹرمپ کے نائب چیف آف اسٹاف برائے پالیسی، اسٹیفن ملر، نے اتوار کی دوپہر سینئر کانگریسی ریپبلکنز کے ساتھ ایک فون کال میں ان آرڈرز کی تفصیل پیش کی۔ ذرائع کے مطابق اس کال میں پالیسی کی تفصیلی وضاحت کے بجائے، ٹرمپ کی ٹیم نے اس بات کا تعارف کرایا کہ قانون سازوں کو کیا توقع رکھنی چاہیے۔ مزید تفصیلات بعد میں کیپٹل ہل کے اتحادیوں تک پہنچائی جائیں گی۔ملر نے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت اہم امیگریشن اقدامات کی تفصیلات شیئر کیں، جن میں سرحد پر نیشنل ایمرجنسی کا اعلان شامل ہے، تاکہ دفاعی محکمے سے فنڈنگ حاصل کی جا سکے۔ ٹرمپ اپنے پہلے دور حکومت کی "مائگرینٹ پروٹیکشن پروٹوکول” پالیسی کو دوبارہ فعال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جسے جو بائیڈن نے اپنے پہلے دن ہی منسوخ کر دیا تھا۔

    ٹرمپ کی ٹیم نے ان پالیسی اقدامات کو ایک طویل عرصے سے تیار کی گئی حکمت عملی کے طور پر بیان کیا، جس کا مقصد امیگریشن کے مسائل پر قابو پانا اور سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں بعض منشیات کی اسمگلنگ کرنے والی تنظیموں کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ٹرمپ کی ٹیم نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ اپنے دوسرے دور حکومت میں توانائی کے شعبے میں اہم اقدامات اٹھائیں گے۔ ان میں سے ایک ایگزیکٹو آرڈر "شیڈول ایف” ہو گا جس کے تحت وفاقی ملازمین کے لیے کام کے تحفظات کو محدود یا ختم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے وفاقی حکومت کے تنوع، مساوات اور شمولیت کے پالیسیوں کو منسوخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جنہیں بائیڈن نے اپنے پہلے دن نافذ کیا تھا۔ٹرمپ توانائی کے شعبے میں بھی ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے تحت مقامی توانائی پیداوار، صنعتوں، اجازت ناموں کے قواعد اور توانائی کے شعبے کے ساتھ متعلقہ زمینوں کو ہدف بنایا جائے گا۔

    ان تمام ایگزیکٹو آرڈرز کے ممکنہ قانونی چیلنجز کا سامنا بھی متوقع ہے، کیونکہ یہ اقدامات بڑے پیمانے پر بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں کو رد کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قلم کی ایک لکیر سے ان اقدامات کو نافذ کریں گے اور بائیڈن انتظامیہ کے "تباہ کن” آرڈرز کو واپس لے لیں گے۔ٹرمپ کا کہنا تھا، "میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد سینکڑوں ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کروں گا، جن میں سے بیشتر کل میری تقریر میں وضاحت سے بیان ہوں گے۔”

    ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرز کے اس سیٹ کا مقصد اس کے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ہے اور بائیڈن کے نفاذ کردہ اقدامات کو بدلنا ہے۔ ان اقدامات کے خلاف قانونی چیلنجز متوقع ہیں لیکن ٹرمپ کی ٹیم ان تبدیلیوں کو جلدی اور تیز رفتاری سے نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    طالبان کے اہم رہنما کی افغان خواتین ،لڑکیوں پر تعلیمی پابندیاں اٹھانے کی اپیل

    حج 2025 کی تیاری میں کسی قسم کی لاپرواہی قبول نہیں،وزیراعظم

  • ٹرمپ کی حلف برداری،چین سے کون ہو گا شریک

    ٹرمپ کی حلف برداری،چین سے کون ہو گا شریک

    چینی صدر شی جن پنگ نے اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی دعوت خود قبول نہیں کی، لیکن بیجنگ نے ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کو واشنگٹن میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے اتوار کو امریکی نائب صدر جے ڈی ونسے سے ملاقات کی، اور پیر کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام بیجنگ کے لیے ایک اہم، خیرسگالی کا اظہار ہے کیونکہ چین ٹرمپ اور ان کی نئی کابینہ کے ساتھ بڑے تناؤ سے بچنا چاہتا ہے۔

    ہان ژینگ چین کے سب سے سینئر حکومتی اہلکار ہیں جو امریکی حلف برداری میں شرکت کر رہے ہیں، تاہم چین کے سیاسی نظام میں نائب صدر کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے۔ اصل اقتدار چینی کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور پولیٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس ہے، جس سے ہان نے 2022 میں ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔اس کے باوجود، ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کو امریکہ بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ بیجنگ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے دلچسپی رکھتا ہے۔ ہان نے مختلف بین الاقوامی ایونٹس میں شی جن پنگ کی نمائندگی کی ہے، جن میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کا تاجپوشی بھی شامل ہے۔

    ہان نے اس دورے کے دوران امریکی کاروباری برادری کے افراد سے ملاقات کی، جن میں ٹیسلا کے سی ای او اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی ایلون مسک بھی شامل ہیں۔ چینی خبر ایجنسی کے مطابق، ہان نے مسک کے ساتھ ملاقات میں امریکی کمپنیوں سے کہا کہ وہ چین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کو فروغ دیں۔ ٹیسلا کا سب سے بڑا پیداواری پلانٹ امریکہ کے باہر چین کے شہر شنگھائی میں واقع ہے۔

    ہان کا امریکہ پہنچنا چینی صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ایک ٹیلیفونک بات چیت کے بعد ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق شی نے ٹرمپ کو دوبارہ انتخاب پر مبارکباد دی اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔

    ماہرین کے مطابق ہان کا ٹرمپ کی حلف برداری میں شرکت کرنا بیجنگ کی جانب سے اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ٹرمپ کی دعوت کو سنجیدہ لے رہا ہے اور ایک نئے تعلقات کی طرف قدم بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، یہ بھی خطرات کا سامنا کرسکتا ہے کیونکہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں چین پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، جو چین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔اگرچہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں اقتصادی، تجارتی، اور سیکیورٹی مسائل کی بنا پر تناؤ رہا ہے، لیکن چین کو ٹرمپ کے دور میں ان تعلقات کو بہتر کرنے کا ایک موقع نظر آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اقتصادی مقابلہ بازی کو اہمیت دیں گے، نہ کہ چین کی جانب سے امریکی عالمی حکم کے لیے خطرے کو۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ نے شی جن پنگ کو "کامیاب” اور "طاقتور” رہنما قرار دیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات میں نرمی کی کوشش کرسکتے ہیں۔

    بیجنگ کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ٹرمپ کی حکومت کے ساتھ نئے تعلقات کا آغاز کرے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی پالیسی کا فوکس اقتصادی تعلقات پر ہوگا۔

    حج 2025 کی تیاری میں کسی قسم کی لاپرواہی قبول نہیں،وزیراعظم

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی