Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کا اعلان

    ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کے دورے کا اعلان کردیا، یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے فوراً بعد ہورہا ہے۔

    کریملن نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 19 مئی کو 2 روزہ دورے پر چین جائیں گے پیوٹن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات میں ماسکو اور بیجنگ کے درمیان جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے دونوں رہنما اہم بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر بھی گفتگو کریں گے جبکہ مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جائیں گے۔

    دورے کے دوران روسی صدر کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات شیڈول ہے، جس میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے مختلف پہلو زیر بحث آئیں گے پیوٹن کے دورے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کو اپنا دورۂ چین مکمل کرکے واپس روانہ ہوئے ہیں۔ قریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین تھا۔

    اگرچہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان یوکرین روس تنازع اور ایران کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، تاہم امریکی صدر کسی بڑی پیشرفت کے بغیر واپس لوٹے۔

  • چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورۂ چین سے قبل امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنی 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں، جن میں تائیوان کا مسئلہ، سمندری حدود (جنوبی چین کا سمندر)، انسانی حقوق اور چین کی سیاسی نظام کو چیلنج نہ کرنا شامل ہیں-

    رشیا ٹو ڈے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات متوقع ہے، جس میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ملاقات میں ایران سے متعلق جنگ پر بھی بات کریں گے، جس پر امریکا اور اسرائیل چین پر ایران کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    چینی سفارت خانے نے امریکا میں اپنے بیان میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے 4 ’ریڈ لائنز‘ کا ذکر کیا ہے، جن میں تائیوان، جمہوریت اور انسانی حقوق، سیاسی نظام اور ترقی کے راستے، اور چین کے ترقیاتی حقوق شامل ہیں، چین اپنی سمندر ی حدود میں امریکی فوجی موجودگی اور نیویگیشن آپریشنز کو اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکا کو تائیوان میں علیحدگی پسند حکومت کی حمایت سے گریز کرنا چاہیے اور چین کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،چین کے ترقیاتی اہداف کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی یا دیگر تجارتی پابندیوں کا نفاذ، جسے چین اپنی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے-

    صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کی دوسری مدتِ صدارت میں چین کا پہلا دورہ ہے، جس میں وہ ایران کے معاملے، عالمی تجارت، اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات پر بات چیت کریں گے یہ دورہ ایران جنگ اور تجارتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست بات چیت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کے بعد چین اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں امریکا کی جانب سے ایک چینی آئل ریفائنری پر ایرانی تیل کی خریداری کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے جواب میں چین نے اپنی نجی ریفائنریوں کو امریکی پابندیوں کی پابندی سے روک دیا ہے اور انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا اور امریکا کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مفادِ مشترکہ کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

  • ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کو عسکری طور پر مضبوط ظاہر کرنا ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقا بلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے، یہ وہ امریکی بزدل ہیں جو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کے تمام 159 جہاز تباہ ہو چکے ہیں اور اب سمندر کی تہہ میں پڑے ہیں، جبکہ ایران کی فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے ایرانی قیادت بھی اب باقی نہیں رہی اور ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے، صرف ناکام، ناشکرے اور احمق لوگ ہی امریکا کے خلاف مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی خارجہ پالیسی پر شدید بحث جاری ہے۔

  • امریکیوں نے وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیدیا

    امریکیوں نے وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیدیا

    ہر چار میں سے ایک امریکی سمجھتا ہے کہ وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی تھا،امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اس شک میں مبتلا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حالیہ قاتلانہ حملے واقعی حقیقت تھے یا انہیں محض سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایک ڈرامے کے طور پر پیش کیا گیا۔

    امریکا میں خبروں اور معلوماتی ویب سائٹس کی ریٹنگ جاری کرنے والے ادارے نیوز گارڈ نے 28 اپریل سے 4 مئی تک سروے جاری کردیا سروے میں ایک تہائی ڈیموکریٹس نے حصہ لیا سروے میں 18 سے 29 سال کی عمر کے امریکیوں نے قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیا ، جبکہ عمر رسیدہ امریکی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ پر حملہ اصلی تھا۔

    ‘نیوز گارڈز ریئلٹی چیک‘ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اس سروے کے مطابق 30 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں ٹرمپ پر ہونے والے تین حملوں میں سے کم از کم ایک واقعہ پہلے سے طے شدہ یا ’اسٹیجڈ‘ تھا یہ سروے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہفتے قبل ہی وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے عشایئے کے دوران ایک مسلح شخص نے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔

    نیوز گارڈ کی سینئر ایڈیٹر صوفیہ روبنسن کے مطابق، اس حملے کے ایک ہفتے کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایسی پوسٹس کی گئیں جنہیں 9 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا، حالانکہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھےسروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 18 سے 29 سال کے نوجوان اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ان حملوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں میں سب سے آگے ہیں۔

    ڈیموکریٹس میں سے 42 فیصد کا خیال ہے کہ جولائی 2024 میں پنسلوانیا میں ہونے والا ’بٹلر حملہ‘ ایک ڈرامہ تھا، جبکہ 34 فیصد نے وائٹ ہاؤس کے ڈنر والے واقعے کو جعلی قرار دیا جبکہ اب ٹرمپ کی اپنی پارٹی یعنی ریپبلکنز کے اندر بھی شک پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے، جہاں 13 فیصد ووٹرز نے حالیہ حملے کو اسٹیجڈ قرار دیا۔

    صوفیہ روبنسن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تحریک کے اندر کچھ دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس کی وجہ ایران کے ساتھ جنگ یا ایپسٹین فائلوں جیسے معاملات ہو سکتے ہیں، جس سے ان کے اپنے حامی بھی اب ان سازشی نظریات پر یقین کرنے لگے ہیں“۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے ان لوگوں کو ”بیمار“ قرار دیا جو ان حملوں کو ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جیسے کہ بٹلر حملے میں حملہ آور مارا گیا اور وفاقی اداروں نے ملزمان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کی۔

    میامی یونیورسٹی کے پروفیسر جوزف اسکنکسی کے مطابق جن لوگوں کا عالمی نقطہ نظر سازشی ہوتا ہے، انہیں ہر کونے میں سائے نظر آتے ہیں،ان کا ماننا ہے کہ چاہے حکومت کتنے ہی ثبوت پیش کر دے، ایسے نظریات کا مکمل خاتمہ مشکل ہے، جیسے کہ جان ایف کینیڈی کے قتل یا ویکسین کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا تھا بعد ازاں ملزم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔

  • ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان،قیدیوں کا تبادلہ

    ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان،قیدیوں کا تبادلہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ روس میں یوم فتح کی تقریبات منائی جا رہی ہیں جبکہ یوکرین نے بھی دوسری جنگ عظیم میں اہم کردار ادا کیا تھا اسی مناسبت سے یہ جنگ بندی عمل میں لائی جا رہی ہے اس جنگ بندی کے دوران ہر قسم کی عسکری کارروائیاں معطل رہیں گی جبکہ دونوں ممالک ایک، ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے،9، 10 اور 11 مئی کو دونوں ممالک کے درمیان عارضی سیز فائر نافذ رہے گا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ یہ درخواست انہوں نے براہ راست کی تھی جس پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتفاق کیا،امید ہے کہیہ پیشرفت ایک طویل، خونریز اور سخت جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی اس بڑے تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور فریقین ہر گزرتے دن کے ساتھ کسی حل کے قریب پہنچ رہے ہیں،وس یوکرین جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا تنازع بن چکی ہے تاہم اب امن کی جانب پیشرفت ممکن دکھائی دے رہی ہے۔

  • ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ امن معاہدہ آئندہ ہفتے طے پا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

    فوکس نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں تاہم اگر تہران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے،دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنا جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے گا۔

    رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران ایک محدود اور عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کا مقصد جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں استحکام اور مزید مذا کرا ت کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہو سکتا ہے جن میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان، آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے اقدامات اور30 روزہ مذاکراتی دور (جس میں بڑے تنازعات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی) شامل ہیں۔

    سی این این نے رپورٹ کیا کہ ایران اپنا باضابطہ ردعمل جمعرات کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھیج سکتا ہے۔

    پاکستان حالیہ سفارتی کوششوں میں اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد معاہدہ طے پا جائے گا،اگر معاہدہ پاکستان میں طے پاتا ہے تو یہ ملک کے لیے اعزاز ہوگانائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت مختلف علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے رکھے، ایران نے پاکستان کے “تعمیر ی اور ثالثی کردار” کو سراہا ہے، جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے ساتھ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔

  • پراجیکٹ فریڈم کیلئے ٹرمپ کی سعودی ولی عہد  کو منانے کی کوشش ناکام رہی ،امریکی اخبار

    پراجیکٹ فریڈم کیلئے ٹرمپ کی سعودی ولی عہد کو منانے کی کوشش ناکام رہی ،امریکی اخبار

    امریکی اخبار نے انکشاف کیا کہ پراجیکٹ فریڈم کیلئے فضائی حدود دینے سے سعودی انکار نے ٹرمپ کو آپریشن روکنے پر مجبور کیا۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی فون پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو منانے کی کوشش ناکام رہی پراجیکٹ فریڈم کی بروقت اطلاع نہ ملنے پر ناراض سعودی عرب نے ریاض کے فوجی اڈے پر امریکی فوجیوں کی رسائی روک دی تھی، امریکا کو منع کردیا تھا کہ اس کے جہاز ریاض کے اڈے سے نہیں اڑ سکتے، ٹرمپ کو امریکی فوجیوں کی امریکی فوجی اڈے تک رسائی جاری رکھوانے کے لیے پراجیکٹ فریڈم روکنا پڑا۔

    سعودی عرب میں امریکی اڈے پر امریکی لڑاکا طیارے، ری فیولنگ ٹینکرز اور ائیر ڈیفنس سسٹمز تعینات ہیں پراجیکٹ فریڈم کے لیے امریکی بحری جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے یہاں سے لڑاکا طیارے اڑانا ضروری تھا۔

  • ایران نے شرائط نہ مانیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے،ٹرمپ

    ایران نے شرائط نہ مانیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کی جانب سے شرائط نہ مانی گئیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ اگر ایران نے معاہدے پر رضامندی ظاہر کردی تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہو جائےگا، اور آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائےگا، اگر ایران معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو دوبارہ ہونے والے حملے پہلے سے مزید شدید اور طاقتور ہوں گے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں پیشرفت کی خوشخبری سناتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ روکنے کا اعلان کیا تھا،کہا تھا کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیشرفت کے بعد بحیرۂ ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف مہم کے دوران امریکا کو ’بڑی فوجی کامیابی‘ حاصل ہوئی ہے،ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔

  • جنوبی کوریا کا ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم میں شمولیت پر غور

    جنوبی کوریا کا ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم میں شمولیت پر غور

    جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں نئے مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں شرکت کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق جنوبی کوریا کا صدارتی دفتر اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ملک آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے امریکی قیادت میں شروع کیے جانے والے اس فوجی آپریشن کا حصہ بن سکتا ہے یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اس مہم کا اعلان کیا تھا صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ان لوگوں، کمپنیوں اور ممالک کو آزاد کرانا ہے جنہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور وہ صرف حالات کے شکار ہوئے ہیں یہ مہم ان ممالک کی درخواست پر شروع کی جا رہی ہے جن کے جہاز اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں اگر اس آپریشن میں کسی قسم کی مداخلت کی گئی تو اس کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا انتظام صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے نہیں چلایا جائے گا ایرانی پارلیمنٹ کے عہدیدار ابراہیم عزیزی نے انتباہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی یہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ٹول ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور پاسداران انقلاب کے منظور شدہ راستوں پر چلنا ہوگا۔

    اس وقت صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق تقریباً دو ہزار بحری جہازوں پر بیس ہزار کے قریب ملاح پھنسے ہوئے ہیں ان جہازوں پر خوراک، ایندھن اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہےتنظیم کے ڈائریکٹر ڈیمین شیولیئر کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اتنی بڑی تعداد میں ملاحوں کے پھنس جانے کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

  • ٹرمپ کی کرپٹو کمپنی نے جسٹن سن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا

    ٹرمپ کی کرپٹو کمپنی نے جسٹن سن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا

    ٹرمپ اور اس کے بیٹوں کی کرپٹو کمپنی نے جسٹن سن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے بیٹوں کی مشترکہ قائم کردہ کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فائنانشل نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے ہانگ کانگ میں مقیم کرپٹو کاروباری شخصیت جسٹن سن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    ورلڈ لبرٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مقدمے کی کاپی شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جسٹن سن نے کمپنی کے خلاف عوامی سطح پر بدنامی کر نے کی غرض سے مہم چلائی اور ایسے دعوے کیے جو کمپنی کے مطابق بے بنیاد ہیں،سن نے اپنے ٹوکنز کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جن کی اسے اجاز ت نہیں تھی، جن میں انہیں کرپٹو ایکسچینج بائنانس کو منتقل کرنا بھی شامل ہے، ٹوکنز کو منجمد کرنے کا اختیار فروخت کی شرائط میں واضح طور پر درج تھا۔

    اس سے قبل اپریل میں جسٹن سن نے خود ورلڈ لبرٹی فنانشل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کمپنی نے غیرقانونی طور پر ان کے خریدے گئے ٹوکنز منجمد کر دیے ہیں، کمپنی نے خفیہ طور پر ایسے ٹولز نصب کیے جن کے ذریعے ستمبر 2025 میں ٹوکنز کے قابلِ تجارت ہونے کے بعد بھی ان کی فروخت کو روکا گیا۔

    جسٹن سن نے خبر رساں ادارے رائٹرزسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ورلڈ لبرٹی کی جانب سے ایکس پر اعلان کردہ یہ مبینہ ہتکِ عزت کا مقدمہ محض ایک بے بنیاد تشہیری حربہ ہےمیں اپنے اقدامات پر قائم ہوں اور عدالت میں اس کیس کو شکست دینے کا منتظر ہوں۔

    امریکی صدر کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ورلڈ لبرٹی کی پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سچ جاننے کے لیے اس پوری تھریڈ کو پڑھیں جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی زیک وٹکوف کا کہنا تھا کہ وہ عدالت میں حقیقت سامنے آنے کے منتظر ہیں۔