Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کا ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ

    ٹرمپ کا ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت وینزویلا کے خلاف استعمال ہونے والی حکمت عملی کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی نافذ کی جا سکتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر غور ایک مبینہ منصوبے میں وینزویلا کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی سامنے آئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز سمیت اہم تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے وینزویلا کے خلاف بحری ناکہ بندی ماضی میں اس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی، اور اسی ماڈل کو ایران پر بھی لاگو کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔

    منصوبے کے مطابق اگر اسے نافذ کیا گیا تو یہ ناکہ بندی صرف تیل کی برآمدات ہی نہیں بلکہ ایران کی تمام تجارتی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گی، اور بحری راستوں کے ذریعے ہونے والی ہر قسم کی ترسیل روک دی جائے گی تین کیریئر اسٹرائیک گروپس کی مدد سے اس ممکنہ بحری ناکہ بندی کو عملی شکل دی جا سکتی ہے، جس کے ذریعے خطے میں بحری نگرانی اور دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور سمندری حدود کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا ایرانی موقف کے مطابق آبنائے ہرمز پر اس کی موجودگی اور کنٹرول برقرار ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی بڑی کشیدگی یا بندش کی صورت میں عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی توانائی تجارت کا ایک انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ ہے۔

  • میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے،آبنائے ہرمز جلد ہی کھل جائے گا، اور خالی بحری جہاز "لوڈ اپ” کے لیے امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن ‘فیک نیوز’ میڈیا حقائق کے برعکس تصویر کشی کررہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں مبتلا ہو کر ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں، ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور دفاعی نظام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے،ڈرونز اور میزائل بنانے والی فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ایرانی قیادت اب منظر نامے سے غائب ہو چکی ہے۔

    امریکی صدر نے الحمدللہ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ اب ایران کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا اس وقت سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں جہاز کے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا جانا ہے جس سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام 28 کشتیاں سمندر برد ہو چکی ہیں، امریکا اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہتا رہا ہے اور یہ دنیا پر ہمارا بڑا احسان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا اب دنیا بھر کے ممالک بشمول چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک کے مفاد میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام شروع کر رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

    امریکی صدر نے ایک دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر سے تیل کے خالی بحری جہاز اب امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے تیل بھر سکیںانہوں نے اسے امریکی معیشت اور توانائی کی طاقت کی فتح قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا اب توانائی کے لیے امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔

    امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔

    امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے۔ جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں۔

  • آئل ٹینکرز تیل اور گیس  کے لیے امریکا کا رخ کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

    آئل ٹینکرز تیل اور گیس کے لیے امریکا کا رخ کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر سے خالی آئل ٹینکرز بڑی تعداد میں امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ یہاں سے عالمی معیار کا تیل اور گیس حاصل کر سکیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے ٹینکرز (بحری جہاز) اعلیٰ معیار کے تیل اور گیس کے حصول کے لیے امریکا کی طرف رواں دواں ہیں جن کا مقصد یہاں سے بہترین کوالٹی کی پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی لوڈنگ کرنا ہے۔

    امریکی صدر نے کہاکہ امریکا کے پاس موجود تیل کے ذخائر حجم اور معیار کے لحاظ سے دنیا کی اگلی دو بڑی معیشتوں کے مجموعی ذخائر سے بھی زیادہ ہیں،ا مر یکی توانائی نہ صرف وافر مقدار میں دستیاب ہے بلکہ یہ معیار کے اعتبار سے بھی دنیا میں سب سے برتر ہے،’ہم آپ کے منتظر ہیں، یہ لوڈنگ تیز رفتار ہوگی-

  • ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ  کا اعلان

    ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کا اعلان

    ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ ایران کے خلاف امریکی صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کرے گی تاکہ ایران میں جاری جنگ کو روکا جا سکے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید حملوں کے لیے کانگریس کی منظوری لینا لازم ہو۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینیٹر چک شومر کا کہنا ہے کہ خاص طور پر اس خطرناک لمحے میں کانگریس کو اپنی اتھارٹی دوبارہ واضح کرنی ہوگی، انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ایران کی حکومت کو کمزور کرنے یا اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کا اعلان بدھ کی رات صدر ٹرمپ نے کیا تھایہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض دو گھنٹے باقی تھے، اس ڈیڈ لائن میں ایران کو وارننگ دی گئی تھی کہ اگر اس نے بند کی گئی آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایران نے کہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہےٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کو فیصلہ کن فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، حالانکہ امریکا کے اعلیٰ جنرل نے کہا کہ امریکی فوج لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ ٹرمپ کے اقدامات قانونی ہیں اور بطور کمانڈر ان چیف ملک کے تحفظ کے لیے محدود فوجی کارروائی کرنے کے ان کے حقوق میں شامل ہیں۔

    سینیٹ اور ہاؤس میں ڈیموکریٹس نے گزشتہ مہینوں میں کئی بار کوشش کی کہ جنگی اختیارات کی قرارداد پاس ہو تاکہ ٹرمپ کو فوجی کارروائی سے پہلے قانون سازوں کی اجازت لینا لازم ہو، مگر وہ ناکام رہے۔

  • ٹرمپ آج اعلیٰ فوجی قیادت کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے

    ٹرمپ آج اعلیٰ فوجی قیادت کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں ایران سے جاری کشیدگی کے معاملے پر اہم گفتگو ہو گی۔

    ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے میڈیا سے خطاب کریں گے،پریس کانفرنس وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں ہوگی اور اس میں اعلیٰ فوجی قیادت بھی صدر کے ہمراہ موجود ہوگی، یہ پریس کانفرنس امریکی میڈیا کے مسلسل اصرار پر منعقد کی جا رہی ہے جس میں صدر ٹرمپ ایران سے متعلق جاری صورتحال اور ممکنہ اقدامات پر سوالات کے جوابات دیں گے سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس پریس کانفرنس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں خطے کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بڑے اعلانات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے-

    ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں،قالیباف

    کھیل معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مثبت ماحول فراہم کرتے ہیں،شہباز شریف

  • ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات  امریکا کو  ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں،قالیباف

    ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں،قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں اور اس سے پورا خطہ جل جائےگا –

    قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ٹرمپ کو کہا کہ آپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں اور اس سے پورا خطہ جل جائےگا کیونکہ آپ نیتن یاہو کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں، اس صورتحال کا واحد حقیقی حل ایرانی عوام کے حقوق کا احترام اور اس خطرناک کھیل کا خاتمہ ہے۔

    انہوں نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ ’’خطرناک کھیل‘‘ فوری طور پر بند کیا جائے، بصورتِ دیگر نتائج سنگین ہوں گےقالیباف نے ایک تباہ شدہ طیارے کی تصویر بھی شیئر کی، جسے انہوں نے حالیہ کشیدگی کی علامت قرار دیا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا امریکی حکام کی جانب سے شہری ڈھانچے پر حملہ ایک مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ایک جنگی جرم ہے،امریکا نے جھوٹ کی بنیاد پر جنگ مسلط کی ہے اور ایران اس کا جواب اپنے دفاعی اقدامات کے ذریعے دے گا۔

    کھیل معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مثبت ماحول فراہم کرتے ہیں،شہباز شریف

    ایران جوابی کارروائی میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنائے گا، اور جو ممالک یا گروہ ایران کے خلاف اس جارحانہ اقدام میں شامل ہوں گے، انہیں بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، ٹرمپ کی مسلط کردہ جنگ امریکی عوام کے جذبات کی ترجمان نہیں ہےامریکی عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ یہ جنگ ان کی نہیں بلکہ اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی ہے، جو خطے میں نسل کشی کے اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے امریکا کو استعمال کر رہا ہے۔

    اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ امریکا میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکی عوام اس جنگ کے مخالف ہیں ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کا ردعمل نہ صرف مؤثر بلکہ خوفناک ہوگا، اور ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا تاکہ امریکی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے-

    امریکا ایران کو الٹی میٹم دینا بند کرے،روس

  • ایپسٹن نے خود کو ٹرمپ کا خاص بندہ بتاتے ہوئے امبانی کی دفاعی اور سفارتی معاملات پر رہنمائی کی،امریکی میڈیا

    ایپسٹن نے خود کو ٹرمپ کا خاص بندہ بتاتے ہوئے امبانی کی دفاعی اور سفارتی معاملات پر رہنمائی کی،امریکی میڈیا

    امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سزا یافتہ جنسی اسمگلر جیفری ایپسٹین نے خود کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بااثر اندرونی فرد کے طور پر پیش کرتے ہوئے بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کو دفاعی اور سفارتی معاملات پر مشورے دیے۔

    امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انیل امبانی، بھارت کے سب سے بڑے تاجروں میں سے ایک، ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی دنوں میں یہ جاننے کے لیے بے چین تھے کہ بھارت نئے صدر کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کہاں فٹ ہو سکتا ہے، سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے خود کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب بااثر شخصیت ظاہر کرتے ہوئے 2017 میں بھارتی صنعتکار انیل امبانی کو بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں رہنمائی فراہم کی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں مالی مشکلات کا شکار ہونے والے امبانی نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے ایپسٹین سے اندرونی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے ٹرمپ انتظامیہ میں تقرریوں اور خارجہ پالیسی سے متعلق معلومات امبانی کے ساتھ شیئر کیں۔

    ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا

    مارچ 2017 میں امبانی نے استفسار کیا کہ آیا ڈیوڈ پیٹریاس کو بھارت میں امریکی سفیر مقرر کیا جائے گا، جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہ معلومات حاصل کرے گا بعد ازاں اس نے بتایا کہ پیٹریاس اس عہدے کے لیے زیر غور نہیں بالآخر نومبر 2017 میں کینتھ آئی جسٹر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

    اسی طرح جولائی 2017 میں ایپسٹین نے امبانی کو بتایا کہ جان بولٹن جلد ہی ایچ آر مک ماسٹر کی جگہ قومی سلامتی کے مشیر بن جائیں گے، یہ خبر تقریباً 8 ماہ بعد درست ثابت ہوئی ایپسٹین نے امبانی کو ٹرمپ کے قریبی افراد سے ملاقات کروانے کی پیشکش بھی کی، جن میں سٹیفن کے بینن اور تھامس باراک جونیئر شامل تھے۔

    دوسری جانب امبانی نے خود کو نریندر مودی کی حکومت سے قریبی تعلق رکھنے والا ظاہر کیا اور ایک موقع پر کہا کہ ’قیادت‘ نے ایپسٹین سے جیرڈ کشنر اور بینن سے ملاقاتوں کے انتظام میں مدد مانگی ہے پیغامات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے امبانی کو مشورہ دیا کہ بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

    ایران امریکا جنگ بندی:پاکستان اور سعودی عرب کا خطے کی صورتحال کا جائزہ،دو مرحلوں پر مبنی ممکنہ معاہدے پر غور

    اس دوران مودی کے شیڈول میں اسرائیل سے متعلق امور کو خاص اہمیت حاصل رہی، جو ان کے تاریخی دورۂ اسرائیل اور اسی سال تقریباً 2 ارب ڈالر کے دفاعی سودوں سے مطابقت رکھتا ہے انیل امبانی، جو مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی ہیں، کاروباری مشکلات کے باعث 2007 میں تقریباً 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2019 میں محض 1.7 ارب ڈالر کی ملکیت تک آ گئے۔

    رپورٹ کے مطابق 2019 میں بھی دونوں کے درمیان رابطہ برقرار رہا، جہاں ایپسٹین نے بطور ’دوست‘ امبانی کو مشورے اور ہمدردی کا اظہار کیا، بغیر کسی مالی مطالبے کے دونوں کی ملاقات 23 مئی 2019 کو نیویارک میں ہوئی، جو بھارت کے عام انتخابات کے نتائج کا دن بھی تھا پیغامات میں سیاست اور مالی معاملات کے ساتھ ساتھ ’ڈیزرٹ‘ اور ’تفریح‘ جیسے مبہم حوالوں کا بھی ذکر ملتا ہے، تاہم ان کا مکمل سیاق و سباق واضح نہیں۔

  • ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا

    ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کا حتمی وقت واضح کرتے ہوئے سوشل میڈیا ٹروتھ پر بتایا کہ ڈیڈ لائن منگل کو رات 8 بجے (ایسٹرن ٹائم) ختم ہوگی،عرب میڈیا کے مطابق یہی وقت ایران میں رات قریباً ساڑھے تین بجے جبکہ پاکستان میں بدھ کی صبح 5 بجے کے برابر بنتا ہے۔

    ایران امریکا جنگ بندی:پاکستان اور سعودی عرب کا خطے کی صورتحال کا جائزہ،دو مرحلوں پر مبنی ممکنہ معاہدے پر غور

    اس اعلان سے قبل ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی واضح ٹائم لائن کا تعین نہیں کر سکتے، تاہم خبردار کیا کہ اگر ایران نے منگل کی شام تک آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے انہوں نے ایران کو تنبیہ کی کہ مقررہ وقت تک پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف پاور پلانٹس بلکہ دیگر اہم انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہیں گے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع ہفتوں نہیں بلکہ چند دنوں میں ختم ہونا چاہیے جبکہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا

  • ایران کو دھمکی دینے پر  امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا

    ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ روز ایران کے خلاف نازیبا اور دھمکی آمیز بیان پر امریکی سیاستدانوں نے انہیں نااہل قرار دے دیا-

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ روز ایران کے خلاف نازیبا اور دھمکی آمیز بیان نے نہ صرف عالمی سطح پر ہلچل مچا دی بلکہ خود امریکا کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دے دیا ہے جہاں اہم سیاستدانوں نے صدر کے ذہنی توازن پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور انہیں عہدے سے ہٹا نے کا مطالبہ کر دیا ہے، سیاسی قیادت نے امریکی آئین کی پچیسویں ترمیم نافذ کرنے پر زور دیا ہے تاکہ صدر کی معذوری یا غیر مستحکم ذہنی حالت کی صور ت میں اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    امریکی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چک شومر نے ٹرمپ کے بیان کو ایک بے قابو پاگل شخص کی بڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر سوشل میڈیا پر جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اتحادیوں کو دور کر رہے ہیں جو امریکا کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے۔

    عظیم صوفی بزرگ کا شہر مضر صحت پانی کے باعث بیماریوں کا شکار

    اسی طرح سینیٹر بیرنی سینڈرز نے ٹرمپ کے بیان کو خطرناک اور ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کانگریس سے فوری مداخلت اور جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا،ایک ماہ قبل شروع کی گئی جنگ نے پہلے ہی ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور مزید تباہی کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

    امریکی سینیٹر کرس مرفی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کابینہ میں ہوتے تو آئین کی 25ویں ترمیم پر غور شروع کر دیتے جو صدر کو عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کا راستہ فراہم کرتی ہے، صدر کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے کابینہ کے ارکان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر قانونی ماہرین سے رابطہ کریں تاکہ امریکی آئین کی پچیسویں ترمیم کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹانے کے امکانات پر غور کیا جا سکے، کیونکہ ان کے بقول صدر کا طرزِ عمل مکمل طور پر ناقابلِ فہم ہو چکا ہے۔

    
ملتان میں رکشے میں سلنڈر دھماکہ، 3 افراد جاں بحق، 14 زخمی

    ریپبلکن رہنما مرجوری ٹیلر گرین جو کبھی ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں اب کھل کر مخالفت میں آ گئی ہیں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں اور ان کی پالیسیاں نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا بھر کے معصوم لوگوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، امریکا اور اسرائیل نے بغیر جواز جنگ شروع کی اور اب اس کے نتائج بھگت رہے ہیں،صدر ٹرمپ ان بے گناہ ایرانی شہریوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جن کی آزادی کا وہ خود دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ کے دیگر ارکان پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔

    دوسری جانب ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز اسی صورت کھولے گا جب جنگی نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا جبکہ ٹرمپ کی دھمکیوں اور غیر مہذب الفاظ کو انہوں نے مایوسی اور غصے کا اظہار قرار دیا۔

    فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے آبنائے ہرمز بند ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں ریکارڈ حد تک بڑھ چکی ہیں۔

    
سندھ میں کرایوں میں اضافہ نہیں ہوگا، اضافی خرچ حکومت اٹھائے گی

  • کیا ٹرمپ کاپاگل پن روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاجاسکتا؟سابق سربراہ آئی اے ای اے کا عالمی برادری سے سوال

    کیا ٹرمپ کاپاگل پن روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاجاسکتا؟سابق سربراہ آئی اے ای اے کا عالمی برادری سے سوال

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 48گھنٹے کی ڈیڈلائن پربین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے بین الاقوامی برادری سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں محمد البرادعی نے کہا کہ مہربانی کریں، خلیجی ممالک کی حکومتیں جو کچھ ہو سکتا ہےکریں محمد البرادی نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، انتونیو گوتیریس ، یورپی کونسل، فرانس، چین اور روس سے بھی اپیل کی کہ کچھ کریں قبل اس کے کہ ٹرمپ خطے کو آگ کے گولے میں بدل دے کیا ٹرمپ کاپاگل پن روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاجاسکتا؟

    اسرائیل میں سیکڑوں افراد کا ایران جنگ کے خلاف احتجاج

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ یاد رکھیں جب میں نے ایران کو 10 دن دیے تھے کہ معاہدہ کرے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ایران کے پاس 48 گھنٹے ہیں کہ وہ کوئی معاہدہ کر لے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑے گی-

    معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا ایک اور الٹی میٹم