Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے،کملا ہیرس

    صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے،کملا ہیرس

    امریکی سینیٹر اور سابق نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جاری جنگ پر دیے گئے حالیہ خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے-

    اپنے ایک ویڈیو بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ جنگ امریکی عوام کی مرضی کے خلاف ہے، فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور عوامی مسائل جیسے مہنگائی کو نظرانداز کر رہی ہے صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے اور جس سے امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، ٹرمپ کی ایران جنگ کی پالیسی نے روزمرہ کی زندگی میں قیمتوں کے بڑھنے جیسے مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان معاملات پر توجہ دینے میں ناکام رہا ہے، جن سے امریکی عوام حقیقی طور پر متاثر ہو رہے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ شاید اپنی تقریر میں ’فتح‘ کا دعویٰ کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، نہ کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، عوام کی نگاہیں اس جنگ کے حقیقی اثرات پر ہیں، خاص طور پر جب تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ ہے اور اقتصادی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

    ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ملکی وقت میں ایک خصوصی خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں مزید سخت کارروائیاں جاری رکھے گا۔

  • ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ  فرانسیسی صدر کو  بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ’فرانس کے میکرون کو فون کیا، جن کے ساتھ ان کی اہلیہ بہت برا سلوک کرتی ہیں اور وہ ابھی تک جبڑے پر لگنے والے وار (تھپڑ) سے سنبھل رہے ہیں‘۔

    ٹرمپ نے کہا کہ فرانس کاصدر میکرون جسکی بیوی اسے بہت زلیل کرتی ہے اورابھی تک اسکا دایاں جبڑہ( بیوی سے مار کھا کر) زخمی ہےمیں نےاسے کیخلاف جنگ میں مدد کیلئے فون کیا لیکن اس نےصاف انکارکر دیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب صدر ٹرمپ نے میکرون کا مذاق اُڑایا ہے۔ اس سے قبل ڈیووس میں میکرون کی تقریر کے دوران ان کے ہوا بازوں جیسے سن گلاسز پہننے پر بھی ٹرمپ نے طنز کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس فرانسیسی صدر سرکاری دورے پر ویتنام پہنچے تھے جہاں ایئرپورٹ پر حکام اور صحافی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اے پی کے کیمرہ مین نے چند سیکنڈز کی ویڈیو کلپ ریکارڈ کی جو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئی ویڈیو میں صدر میکرون کو جہاز کے گیٹ پر نمودار ہوتے اور اپنی اہلیہ بریگِٹ میکرون کو دونوں ہاتھوں سے دھکیلتے دیکھا گیا، اس دوران صدر میکرون کچھ پریشان نظر آئے مگر پھر رپورٹرز کی طرف دیکھ کر مسکرا کر ہاتھ ہلایا بعد ازاں انہوں نے بریگِٹ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی لیکن بریگِٹ میکرون نے سیڑھیوں کا جنگلہ پکڑ کر اترنے کو ترجیح دی صدر میکرو ن نے صحافیوں کو وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ یہ صرف ہنسی مذاق تھا۔

    فرانسیسی خاتون اول بریگِٹ میکرون 72 سالہ ہیں اور صدر میکرون سے 24 سال بڑی ہیں، دونوں کی پہلی ملاقات ہائی اسکول میں ہوئی تھی جب صدر میکرون کی عمر 15 سال اور بریگِٹ کی عمر 39 سال تھی۔ بعد ازاں 2007 میں دونوں نے شادی کی۔

  • یورینیم نکالنے کیلئے  ٹرمپ کی  اپنے قریبی مشیروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ہدایت،وال اسٹریٹ جرنل

    یورینیم نکالنے کیلئے ٹرمپ کی اپنے قریبی مشیروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ہدایت،وال اسٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔

    اخبار کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کا یہ مشن نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے، جس کے لیے امریکی فوج کو کئی دن تک ایران کے اندر موجود رہنا پڑ سکتا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس آپریشن کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن اسے ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور رکھا گیا ہےصدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھائیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرط کے طور پر یورینیم حوالے کرے ،اگر ایران مذاکرات کے دوران یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو طاقت کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے،یورینیم پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے محدود اور ہدفی فوجی کارروائی جنگ کے دورانیے کو زیادہ طویل نہیں کرے گی، تاہم اس کے خطرات اور نتائج انتہائی حساس ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ امریکا ماضی میں بھی ایسے حساس مشنز کر چکا ہے، جن میں 1994 میں قزاقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم منتقل کرنے کے آپریشنز شامل ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس نوعیت کا کوئی آپریشن کیا گیا تو اس کے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا کام صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے اور مختلف آپشنز کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے اس معاملے پر پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے ترجمانوں نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  • سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    میامی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں دیے گئے ریمارکس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق میامی میں منعقدہ سعودی انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ولی عہد کے حوالے سے سخت اور نازیبا انداز میں گفتگو کی،انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں میری چاپلوسی کرنی پڑے گی، محمد بن سلمان سمجھتے تھےکہ ٹرمپ بھی دوسرے امریکی صدور کی طرح کوئی ناکام آدمی ہو گا جن کے دور میں ملک زوال کا شکار تھا ، اب سعودی ولی عہد کو ان کے ساتھ احترام سے بات کرنا پڑتی ہے اور انہیں ایسا کرنا ہی ہوگا، ان کے اس بیان کو سفارتی آداب کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر ٹرمپ کے ان ریمارکس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے،بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایسے بیانات امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک خطے میں اہم اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

    ادھر چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ افسوسناک ہیں، ولی عہد بہادر ہیں، فیصلہ اور صبر کی صلاحیت رکھتے اور عالمی شازشوں کو سمجھتے ہیں، سعودی ولی عہد ایران پرحملہ کرنےکےحامی نہیں اور امن کےلیےکوشاں ہیں، امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پورا عالم اسلام غم کی کیفیت میں ہے۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان اور ترکیے خطے میں امن کے لیے کوشاں ہیں، امریکا اور صہیونی لابی اس لیے پروپگینڈا کر رہی ہےکہ وہ ان کے ہاتھوں استعمال نہیں ہو رہے صہیونی میڈیا اور عالمی رہنما جتنا بھی چاہیں عرب دنیا اس جنگ میں نہیں آئےگی۔

  • صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر  عائد کر دیا

    صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر عائد کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔

    ریاست ٹینیسی کے شہر ممفیس میں عوامی تحفظ کے حوالے سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیٹ ہیگسیتھ ان ابتدائی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن اختیار کرنے کی حمایت کی، تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران ایک بڑا مسئلہ ہے، جو ان کے بقول کئی دہائیوں سے دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور اب ایٹمی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے، وزیر دفاع نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ایران میں 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 140 سے زیادہ بحری جہاز تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ان کارروائیوں میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

  • ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب زمینی حقا ئق مختلف ہیں طنزیہ انداز میں کہا کہ ”کیا آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں؟ امریکا جس اسٹریٹجک طاقت کا دعویٰ کرتا تھا، وہ اب اسٹریٹجک ناکامی میں بدل چکی ہے، اور ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے۔

    اس سے قبل بھی ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹرمپ کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہائے ٹرمپ، آپ کو برطرف کیا جاتا ہے، آپ اس جملے سے واقف ہیں“، جو ٹرمپ کے مشہور جملے کی طرف اشارہ تھا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضا مند ہے، ایران میں نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اس نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا۔

  • صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر  یقین کرتاہوں،سابق سربراہ سی آئی اے

    صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتاہوں،سابق سربراہ سی آئی اے

    واشنگٹن: سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتاہوں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جان برینن کا کہنا تھا کہ حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور وہ اپنی تخلیق کردہ شکست سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں ٹرمپ کا یہ مؤقف بھی درست نہیں کہ ایران مذاکرات کے لیے سگنل دے رہا ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، میں صدر ٹرمپ سےزیادہ ایران کی باتوں پریقین کرتاہوں۔ایرانی حکومت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔

    قبل ازیں امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔

    جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو، صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

  • ٹرمپ ایران سے مذاکرات عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے: سابق امریکی عہدیدار

    ٹرمپ ایران سے مذاکرات عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے: سابق امریکی عہدیدار

    امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔

    جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو، صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

    سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی مشیر جیسمین ایل جمال نے کہا ہے کہ ایران کو اس وقت امریکا پر زیادہ برتری حاصل ہو چکی ہے کیونکہ وہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے باعث وہ کسی بھی نئے مذاکرات میں زیادہ مضبوط حیثیت کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، ایرا ن ممکنہ طور پر مذاکرات میں سیکیورٹی ضمانتوں جیسے مطالبات سامنے رکھ سکتا ہے اور یہ بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کا نظام ایران کی سرزمین سے جڑا رہے، ایران کے پاس یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ اگر اسے اشتعال دلایا جائے تو وہ پورے خطے میں افراتفری پھیلا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی دی تھی جس کے فوراً بعد تہران کے ساتھ نئی بات چیت کے آغاز کا دعویٰ کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔

  • ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ پر خامنہ ای کو نشانہ بنایا، انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف

    ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ پر خامنہ ای کو نشانہ بنایا، انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف

    ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور آیت اللہ خامنہ ای کو ہدف بنانے کی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والے اہم ٹیلیفونک رابطے کے بعد دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    اس حوالے سے انکشاف برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے سے 48 گھنٹے قبل دونو ں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس کال میں انٹیلیجنس معلومات شیئر کی گئی تھیں، جن کے مطابق خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھی تہران میں ایک مقام پر جمع ہونے والے تھے، جسے ڈی کیپیٹیشن اسٹرائیک یعنی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں موقع قرار دیا گیا تھا۔

    بعد ازاں نئی معلومات سے پتا چلا کہ یہ ملاقات مقررہ وقت سے پہلے ہفتہ کی صبح منتقل کر دی گئی تھی نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا شاید اس سے بہتر موقع دوبارہ نہ ملے اس فون کال سے قبل ہی ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کی اصولی منظوری دے چکے تھے، تاہم وقت اور طریقہ کار کا فیصلہ باقی تھا، بالآخر 27 فروری کو امریکی صدر نے آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا حکم دیا، اور 28 فروری کی صبح ابتدائی حملے کیے گئے، اسی شام ٹرمپ نے خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کردیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اس کال پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، بحریہ اور پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا، جبکہ ٹرمپ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ حملے کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ کارروائی کے پیچھے انتقامی عنصر موجود تھا، ان کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی جس پر انہوں نے اس کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس جون میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات پر حملہ کیا تھا، جس میں کئی ایرانی رہنما مارے گئے تھے، بعد ازاں امریکا بھی اس کارروائی میں شامل ہوگیا تھا اور 12 دن بعد اسے کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد مزید حملوں کی منصوبہ بندی شروع ہوئی، جس کا مقصد ایران کی باقی ماندہ صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔

    دسمبر 2025 میں فلوریڈا میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جون کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد نئے حملے پر غور شروع ہوا تھا اگرچہ ٹرمپ سفارتی حل کے خواہاں تھے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد فوجی آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جانے لگا۔

    جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی امریکی کارروائی نے بھی بڑے فوجی آپریشن کے کم خطرات کا تاثر دیا اسی ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن نے بھی صورتحال کو مزید کشیدہ کردیا تھابعد ازاں امریکا اور اسرائیل کے درمیان خفیہ عسکری مشاورت میں تیزی آئی، جبکہ فروری میں واشنگٹن میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نےایران کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام کو امریکا کے لیے بھی خطرہ قرار دیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 24 فروری کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا اور ایران جوابی کارروائی میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے بعد میں یہ خدشات درست ثابت ہوئے۔

    اس دوران ٹرمپ کو یہ بھی بریف کیا گیا تھا کہ ایرانی قیادت کے خاتمے سے ممکن ہے کہ تہران میں کوئی نئی حکومت مذاکرات پر آمادہ ہو جائے، تاہم سینٹر ل انٹیلیجنس ایجنسی نے اندازہ لگایا تھا کہ خامنہ ای کے بعد سخت گیر قیادت سامنے آئے گی،خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنی ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا،ایرانی پاسداران انقلاب ملک بھر میں گشت کر رہے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد گھروں تک محدود ہے۔

  • نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات

    نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات کردیے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات کردیے جو گرفتاریاں بھی کریں گےائیرپورٹس پرتعینات آئس اہلکار ہجوم کو کنٹرول کرنے میں مدد دیں گے۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے امریکی ائیرپورٹس پر آئس اہلکاروں کی تعیناتی امریکی صدر کا خوفناک آئیڈیا قراردیا،انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ائیرپورٹس کو زیادہ محفوظ نہیں بنائے گا کیونکہ جہاں آئس اہلکار جاتے ہیں وہاں پریشانی آتی ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز،انڈیکس بلندیوں پر

    انہوں نے اپنے بیان میں خاص طور پر صومالیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ایئرپورٹس کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی تقریباً 5 ہفتوں سے نئی فنڈنگ سے محروم ہے، جس کے باعث جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن جاری ہے اس صورت حال میں ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے اہلکار بغیر تنخواہ کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے عملے کی کمی اور ایئرپورٹس پر طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، ریپبلکنز نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی فنڈنگ بحال کرنے پر زور دیا ہے جب کہ ڈیموکریٹس ٹی ایس اے جیسے اداروں کے لیے علیحدہ فنڈنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جس میں امیگریشن آپریشنز شامل نہ ہوں۔

    مودی سرکار کی ترجیحات میں بھارتی عوام کے مفاد کی بجائے ’اسرا ئیل نوازی‘شامل

    دریں اثنا ایلون مسلک نے پیشکش کی ہے کہ وہ اس تعطل کے دوران ٹی ایس اے اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، رپورٹس کے مطابق امریکا کے بڑے ایئرپورٹس، جن میں ہیوسٹن، اٹلانٹا، نیو اورلینز اور فلاڈیلفیا شامل ہیں، شدید تاخیر کا شکار ہیں، جہاں بعض مقامات پر سیکیورٹی چیک کے لیے انتظار کا دورانیہ تین گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔