Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے تحریک انصاف کے اس خیال کو محض خوش گمانی قرار دیا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کی رہائی میں کسی قسم کا کردار ادا کریں گے۔

    حسین حقانی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ ٹرمپ اور عمران خان دونوں ہی پاپولسٹ لیڈر ہیں اور اس لئے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ٹرمپ کے دل میں عمران خان کے لیے ہمدردی ہو گی، لیکن حقیقت میں ایسا کوئی اشارہ ابھی تک نہیں ملا کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کوئی اثر انداز ہو گی۔بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسین حقانی نے کہا کہ تحریک انصاف کا یہ خیال بھی ہے کہ انہوں نے امریکہ میں مضبوط لابنگ کی ہے اور اس کا اثر عمران خان کی رہائی کے معاملے پر پڑے گا۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کا تیسرا گمان یہ ہے کہ امریکہ پاکستان پر عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے اور چوتھا یہ کہ صدر ٹرمپ کے دل میں عمران خان کے لیے ہمدردی موجود ہے۔

    حسین حقانی نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کچھ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پاکستان کے معاملات پر امریکہ کی مداخلت یا دباؤ کی کوئی مثال نہیں ملتی، جیسے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے وقت امریکہ نے مخالفت کی تھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح نواز شریف کی قید کے دوران بھی امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت کے باوجود انہیں رہائی نہ مل سکی تھی، بلکہ سعودی عرب کی مداخلت پر نواز شریف کو سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    حسین حقانی نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ واقعی پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالنا چاہیں تو ان کے پاس کوئی خاص طریقہ نہیں ہے۔ جمی کارٹر کے دور میں بھی جب انہوں نے بھٹو کی پھانسی کی مخالفت کی تھی، امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی امدادی پیکیج یا پابندیاں نہیں تھیں جن کو وہ منسوخ کر سکتے۔ ان کے مطابق 2007 میں بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کے دوران امریکہ کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی قوت اس لئے تھی کہ پاکستان کو امریکہ سے سالانہ امداد ملتی تھی جو پاکستان کی معیشت اور مشرف حکومت کے لیے ضروری تھی۔

    حسین حقانی نے کہا کہ اس وقت امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کوئی آلہ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ آئی ایم ایف میں امریکہ کے ووٹ کے ذریعے پاکستان کے خلاف کچھ موقف اختیار کریں، لیکن وہ بھی بعید لگتا ہے کیونکہ ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایسا کوئی عنصر نہیں ہے جو عمران خان کی رہائی کے حوالے سے امریکہ کے کردار کو مؤثر بنائے۔

    طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے ،ٹرمپ

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

  • طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے  ،ٹرمپ

    طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے ،ٹرمپ

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ "ہم طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے جب تک وہ ہمارا فوجی سامان واپس نہیں کرتے۔” ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے افغانستان سے انخلاء کے دوران طالبان کو ” اربوں ڈالر” مالیت کا فوجی سامان دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "انہوں نے طالبان کو یہ سامان دیا، اور ہمارے فوجی سامان کا ایک بڑا حصہ دشمن کو دے دیا۔”ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ایک غیر منظم اور بے ترتیب عمل تھا جس نے امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس انخلاء کی وجہ سے طالبان کو جدید ترین فوجی سامان مل گیا، جو کہ ایک سنگین غلطی تھی۔

    ٹرمپ کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد امریکی فوجی سامان کی بڑی مقدار طالبان کے ہاتھوں میں آئی۔ یہ سامان جدید ہتھیاروں، گاڑیوں اور دیگر فوجی آلات پر مشتمل تھا، جو افغان فورسز کے ہاتھوں سے چھن کر طالبان کے قبضے میں آیا۔اس بیانیے کے ذریعے ٹرمپ نے ایک بار پھر بائیڈن انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے افغانستان سے غیر محفوظ طریقے سے انخلاء کیا اور اپنے فوجی وسائل دشمن کے حوالے کر دیے۔

    کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    پالپا کا پائلٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

  • بل گیٹس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ

    بل گیٹس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی حلف برداری سے چند دن قبل، مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے انکشاف کیا کہ انہوں نے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ کیا، جسے انہوں نے "دلچسپ” اور "اثرانداز” قرار دیا۔

    بل گیٹس نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا، "میرے پاس تقریباً دو ہفتے پہلے ٹرمپ کے ساتھ ایک طویل اور حقیقتاً دلچسپ عشائیہ کرنے کا موقع آیا تھا۔” ان کی بات چیت، جسے گیٹس نے "وسیع پیمانے پر” قرار دیا، مختلف موضوعات پر مرکوز تھی جن میں ایچ آئی وی، پولیو اور کووڈ-19 وبا شامل تھے۔بل گیٹس نے کہا کہ ، "میں نے ایچ آئی وی کے بارے میں بہت بات کی اور گیٹس فاؤنڈیشن اس کا علاج تلاش کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ہم ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔”بل گیٹس نے خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی توانائی اور جدیدیت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان سے متاثر ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ۔ "مجھے لگا کہ وہ پرجوش ہیں ،میں حقیقت میں اس بات سے متاثر ہوا کہ انہوں نے ان مسائل میں گہری دلچسپی دکھائی جو میں نے اٹھائے تھے۔”

    بل گیٹس نے مزید کہا کہ کووڈ-19 کی وبا کے دوران تیز رفتار ویکسین کی ترقی اور ایچ آئی وی کی تحقیق میں ممکنہ ترقی کے بارے میں بات چیت کی۔ دونوں نے پولیو کے خلاف جاری جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔گیٹس نے کہا کہ "ہم اس کام کو مکمل کرنے کے قریب ہیں، لیکن اگر آپ رکے تو یہ پھر پھیل سکتا ہے،” منتخب صدر نے اس بات میں دلچسپی ظاہر کی کہ وہ کیا کر سکتے ہیں تاکہ اگلے چار سالوں میں اس سنگ میل کو حاصل کیا جا سکے۔

    اس عشائیے میں آئندہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور بل گیٹس کے ایک اسٹاف ممبر بھی شریک تھے۔ بل گیٹس حالیہ دنوں میں ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے آخر ی ارب پتی ہیں، اس سے پہلے دیگر کاروباری رہنماؤں جیسے میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس بھی مارا-لاگو میں ٹرمپ سے ملاقات کر چکے ہیں۔

    بل گیٹس نے 2016 میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، جب وہ پہلی بار صدارت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

    سیف علی خان چاقو حملہ کیس،مشتبہ شخص چھتیس گڑھ میں گرفتار

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ

  • ٹرمپ کی حلف برداری،بلاول کو ٹرمپ کےناشتے میں بھی دعوت مل گئی

    ٹرمپ کی حلف برداری،بلاول کو ٹرمپ کےناشتے میں بھی دعوت مل گئی

    پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور ممبر قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے صاحبزادے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ناشتے میں شرکت کریں گے۔ بلاول بھٹو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

    شہلا رضا کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لیے سب سے اہم پاکستان کی سلامتی اور وقار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سیاسی اور سفارتی آداب سے بخوبی واقف ہیں اور وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر ملکی اور عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔موجودہ پارلیمنٹ میں بلاول بھٹو زرداری ان سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سیاسی اور اقتصادی حالات کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو پاکستان کے معاشی اور اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا عالمی سطح پر اثرورسوخ اور ان کی سفارتی مہارت پاکستان کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹو زرداری کو نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب اور دیگر متعلقہ تقریبات میں شرکت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو ذاتی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب 20 جنوری کو ہوگی،

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے نئے کوچ کا تقرر کردیا

  • پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر ،وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کوشش ہے کہ کوئی ٹرمپ کارڈ کام آجائے لیکن پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف کا نظام کسی کے ذاتی مفادات کے تابع نہیں ہوتا اور وہ اس پر اثرانداز ہونے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ شرجیل میمن نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ جو شخص عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا تھا، وہ خود اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ وہ شخص جو دوسروں کے لیے گڑھے کھود رہا تھا، اب خود رسوائی کا شکار ہو رہا ہے۔ہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے سہولت کار بین الاقوامی فورمز پر سرگرم ہیں اور ان کی کوششیں ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک فرد نے ریاست کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور اس کی جانب سے کیے گئے اقدامات ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

    شرجیل میمن نے واضح کیا کہ پاکستانی عدالتیں آزاد اور خودمختار ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی سیاست سے بالا تر ہو کر انصاف فراہم کرنے کی پابند ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا اور قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

    موریطانیہ کشتی حادثہ ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن خاتون گرفتار

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    جامعہ نعیمیہ کا ڈنکی لگا کر بیرون ملک جانے والوں کیلیے فتویٰ جاری

  • دنیا کو  پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اور چینی صدر شی جن پنگ دنیا کو پہلے سے زیادہ محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات کی امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کا آغاز اچھا ہوگا اور دونوں ممالک کی قیادت مستقبل میں مزید مثبت تعاون کے لیے مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں عالمی طاقتیں ہیں اور ان کے تعلقات دنیا کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

    بعد ازاں، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ اور شی جن پنگ مل کر مختلف مسائل جیسے تجارت، فینٹانل، ٹک ٹاک اور دیگر عالمی امور پر بات چیت کریں گے اور ان کا حل نکالیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کا یہ عزم ہے کہ وہ اس کام کا آغاز فوری طور پر کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے مفادات کے لیے بہترین حل تلاش کیا جا سکے۔

    دریں اثناء، نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکہ کے 46ویں صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔ تاہم، شدید سردی کی پیشگوئی کی وجہ سے اس بار ان کی حلف برداری کی تقریب انڈور یعنی اندرونِ عمارت منعقد ہونے کا امکان ہے۔ حکام سرد موسم کے باعث مہمانوں کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔یہ تقریب حلف برداری کا انڈور ہونا اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے قبل، 1985 میں صدر رونلڈ ریگن کی حلف برداری کے دوران بھی شدید سردی کے باعث یہی فیصلہ کیا گیا تھا۔

    طلاق کی افواہیں، اوباما کی اہلیہ کے ساتھ مسکراہٹ بھری تصویرجاری

    کراچی کے تین نوجوانوں کا گھوٹکی سے اغوا، سندھ حکومت کی فوری کارروائی کی یقین دہانی

  • ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے دعوت نامے موصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کے 20 افراد کو دعوت نامے ملے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ان کے پارٹی کے لوگ اس اہم موقع پر موجود ہوں گے، تاہم جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا عمران خان یا پی ٹی آئی کے کسی دیگر عہدیدار کو دعوت نامہ آیا ہے؟ تو انہوں نے واضح طور پر جواب دیا کہ عمران خان یا پی ٹی آئی کے مرکزی عہدیدار اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہے، لیکن پارٹی کے کچھ اراکین اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

    اسی دوران، مذاکرات کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دو کمیشن تشکیل دیے جائیں تاکہ ہمارے افراد کی ضمانت کی جائے اور تمام کارروائی قانون کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل پر حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل درآمد کر سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پی ٹی آئی پھر آگے کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کسی بھی ممکنہ حل کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر عمل قانون کے مطابق اور شفاف ہونا چاہیے۔

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا صحافی ثاقب بشیر کو اڈیالہ جیل میں کوریج کی اجازت کا حکم

  • میشل اوباما ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں شریک نہیں ہوں گی

    میشل اوباما ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں شریک نہیں ہوں گی

    امریکی سابق خاتون اول، میشل اوباما، آئندہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی، ان کے دفتر نے منگل کے روز اس بات کی تصدیق کی، لیکن اس فیصلے کی کوئی وضاحت فراہم نہیں کی۔

    باراک اوباما کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا: "سابق صدر باراک اوباما 60 ویں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ سابق پہلی خاتون میشل اوباما آئندہ حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔”ٹرمپ کی حلف برداری میں شرکت نہ کرنا ایک روایت سے انحراف ہے، کیونکہ اس تقریب میں عموماً سابق صدور اور ان کی بیویاں حصہ لیتی ہیں۔ سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور لورا بش حلف برداری میں شرکت کریں گے، جب کہ ذرائع کے مطابق سابق صدر بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن بھی اس تقریب میں موجود ہوں گے۔

    میشل اوباما گزشتہ ہفتے سابق صدر جمی کارٹر کے لیے منعقدہ یادگاری تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئیں اور وہ ہوائی میں موجود رہیں۔ تاہم، سابق صدر باراک اوباما اس تقریب میں شریک ہوئے اور واشنگٹن کی نیشنل کیتھیڈرل میں ٹرمپ کے ساتھ بیٹھ کر پروگرام کے آغاز کے دوران ان سے بات چیت کی۔دیگر سابق پہلی خواتین، بشمول ہیلری کلنٹن اور لورا بش، اس تقریب میں شریک ہوئیں۔

    میشل اوباما نے ماضی میں کھل کر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جنہیں انہوں نے اپنے خاندان کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے والا قرار دیا تھا۔2017 میں، میشل اوباما نے ذاتی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، ٹرمپ کے پہلے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد، ان اور ملانیا ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں چائے کی دعوت دی تھی۔بعد ازاں، میشل اوباما نے ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر اس تجربے پر بات کرتے ہوئے کہا: "وہ لمحے آنسوؤں سے بھرے ہوئے تھے، لیکن پھر اس اسٹیج پر بیٹھ کر میں نے جو کچھ دیکھا، وہ ہمارے نمائندہ نظریات کے برعکس تھا۔ اس اسٹیج پر کوئی تنوع نہیں تھا، کوئی رنگ نہیں تھا، اور امریکہ کے وسیع تر احساس کی عکاسی نہیں ہو رہی تھی۔”

    یہ بھی یاد رہے کہ 2021 میں، ٹرمپ اور ان کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ نے صدر جو بائیڈن کی حلف برداری میں شرکت نہیں کی تھی، کیونکہ ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات میں جیتنے کے اپنے جھوٹے دعوے کیے تھے۔

    بھارت میں روسی خاتون کو ہراسانی کا سامنا

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

  • لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر   تباہ

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    امریکی شہر لاس اینجلس میں لگی تاریخ کی بدترین آگ نے پورے علاقے میں تباہی مچادی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، اس آگ نے 6 ہزار سے زائد گھروں اور عمارتوں کو مکمل طور پر جل کر راکھ میں تبدیل کر دیا ہے اور 32 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات اور وادیاں اجڑ چکی ہیں۔

    یہ آتشزدگی منگل سے شروع ہوئی تھی اور اب تک اس پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس سانحے میں ہلاک افراد کی اصل تعداد کتنی ہوگی، لیکن آگ کی شدت کے پیش نظر بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ اس آتشزدگی کے باعث ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، شہر کے خالی گھروں میں ڈکیتوں کی جانب سے لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پولیس نے اب تک 20 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جو گھروں میں لوٹ مار میں ملوث تھے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ خشک اور تیز ہوائیں آگ کی شدت میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہیں، اور اگر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو یہ سانحہ امریکی تاریخ کے بدترین قدرتی آفات میں شامل ہو سکتا ہے۔

    صدر جو بائیڈن کا امدادی اعلان
    امریکی صدر جو بائیڈن نے لاس اینجلس میں آگ سے ہونے والی تباہی کے بعد متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 6 ماہ تک وفاقی حکومت 100 فیصد اخراجات اٹھائے گی، جن میں متاثرہ علاقوں سے ملبہ ہٹانا، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، اور ریسکیو ورکرز کی تنخواہوں کا انتظام شامل ہوگا۔ مزید یہ کہ، صدر بائیڈن نے تعمیراتی کام کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت کا بھی ذکر کیا ہے، جس کے لیے وہ کانگریس سے اپیل کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا گورنر کیلیفورنیا سے استعفیٰ کا مطالبہ
    اس دوران، امریکی سیاستدان اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنر کیلیفورنیا گیون نیوسم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاس اینجلس کا خوبصورت ترین علاقے جل کر راکھ ہو گئے ہیں اور اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹ گورنر نیوسم پر عائد ہوتی ہے۔

    ہالی وڈ کی مشہور شخصیات کے گھروں کو نقصان
    لاس اینجلس میں لگی آگ کا اثر صرف مقامی رہائشیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس سے ہالی وڈ کی معروف شخصیات کے گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ مشہور اداکارہ اور گلوکارہ پیرس ہلٹن نے انسٹاگرام پر اطلاع دی کہ ان کا مالیبو میں واقع گھر آگ کی زد میں آ کر تباہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح، اداکار اسپینسر پراٹ اور ہیڈی مونٹگ نے بھی اپنے گھروں کے جلنے کی خبر دی۔اس کے علاوہ، اداکارہ اینا فیرس کا گھر مکمل طور پر راکھ میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ گیت نگار ڈیان وارن نے بھی اپنے تقریباً 30 سال پرانے بیچ ہاؤس کے جلنے کی تصدیق کی۔ فلم "ٹاپ گن میورک” کے اسٹار مائلز ٹیلر اور ان کی اہلیہ کا 75 لاکھ ڈالر مالیت کا گھر بھی اس آگ کی نذر ہو چکا ہے۔

    لاس اینجلس کی اس آگ کی وجہ سے نہ صرف گھروں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ شوبز انڈسٹری کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ متعدد تقریبات منسوخ کر دی گئیں اور شہر کے شمالی علاقوں میں تیز ہواؤں کی وجہ سے پھیلنے والی آگ نے مشہور پیسیفک پیلیسیڈز جیسے علاقے میں مہنگے گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس آتشزدگی کی وجہ سے آسکر کی نامزدگیوں کی تاریخ کو بھی آگے بڑھا کر 19 جنوری کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی فلموں کے پریمیئرز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    لاس اینجلس میں لگی اس تاریخ کی بدترین آگ نے نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے وسیع اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکام اور امدادی ادارے اس آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کی مرکزی حکومت نے فوری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

  • ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم کو عظیم خاتون قرار دے دیا

    ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم کو عظیم خاتون قرار دے دیا

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی کو "عظیم خاتون” قرار دیا جب وہ فلوریڈا کے مار اےلاگو رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کرنے آئیں۔ٹرمپ نے وہاں موجود ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "یہ بہت دلچسپ لمحہ ہے۔ میں یہاں ایک شاندار خاتون کے ساتھ ہوں، اٹلی کی وزیراعظم۔ وہ واقعی یورپ میں طوفان کی طرح آئی ہیں۔”

    جورجیا میلونی، جو کہ اٹلی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت "برادرز آف اٹلی” کی رکن ہیں، اکتوبر 2022 میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے تعلقات ٹرمپ کے متوقع انتظامیہ کے ساتھ خاص طور پر ایلون مسک کے ساتھ مضبوط ہیں۔جہاں فرانس اور جرمنی جیسے یورپی طاقتور ممالک اس وقت سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں، وہیں میلونی کی حکومت کی استحکام اور قدامت پسند پالیسیوں کی بنا پر وہ امریکہ کے آئندہ صدر کے لئے ایک قدرتی اتحادی ثابت ہوئی ہیں۔

    ٹرمپ اور میلونی کے ہمراہ سابقہ امریکی وزیر خارجہ کے امیدوار سینیٹر مارکو روبیو (رپبلکن، فلوریڈا) اور قومی سلامتی کے مشیر کے امیدوار نمائندہ مائیک والٹس (رپبلکن، فلوریڈا) بھی موجود تھے۔میلونی نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی ایک تصویر "ایکس” (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کی، جس کے ساتھ لکھا تھا: "اچھی شام @realDonaldTrump کے ساتھ، جن کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے خوش آمدید کہا – ہم ایک ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔” تاہم، یہ نہیں بتایا گیا کہ اس ملاقات میں کون سی بات چیت ہوئی، حالانکہ اٹلی کی وزیراعظم، جیسے دیگر عالمی رہنما، ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    ایک ممکنہ موضوع جو ایجنڈے میں ہو سکتا ہے وہ ہے اٹلی کی صحافی سیسیلیا سالا کی گرفتاری، جو گزشتہ ماہ ایران میں گرفتار ہو گئی تھیں۔اٹلی کی وزارت خارجہ نے گزشتہ جمعہ کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ سیسیلیا سالا، جو اٹلی کے روزنامہ "ایل فوگلیو” کی رپورٹر ہیں، کو تہران میں گرفتار کیا گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے پیر کو بتایا کہ سیسیلیا سالا کو 19 دسمبر کو "اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین کی خلاف ورزی” پر گرفتار کیا گیا۔سالہ کی گرفتاری نے اٹلی کے لیے ایک سفارتی مسئلہ پیدا کر دیا ہے، اور اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اسے واپس لانے کے لیے "انتھک محنت” کر رہی ہے۔

    ٹرمپ اور میلونی کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک مثال اس بات سے بھی ملتی ہے کہ روم میں ایلون مسک کے اتحادی، سائبر سیکیورٹی کے ماہر اینڈریا اسٹرپپا نے "ایکس” پر ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کی، جس میں میلونی ٹرمپ اور مسک کے ساتھ رومن سلطنت کے لباس میں دکھائی دے رہی ہیں۔میلونی اس ہفتے روم میں امریکی صدر جو بائیڈن سے بھی ملاقات کریں گی، جہاں بائیڈن ان کا شکریہ ادا کریں گے کہ انہوں نے پچھلے سال جی7 کی قیادت کی، اور عالمی چیلنجز پر بات چیت کریں گے۔

    میلونی کا فلوریڈا کا دورہ اس وقت ہوا ہے جب وہ پچھلے ماہ پیرس میں نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل کی دوبارہ افتتاحی تقریب کے دوران ٹرمپ اور مسک کے ساتھ عشائیہ کر چکی ہیں، جس کے بارے میں ٹرمپ نے بعد میں نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ یہ ایک مثبت تجربہ تھا۔ٹرمپ اور میلونی کے سیاسی نظریات میں کافی مماثلت ہے، تاہم دونوں کے عالمی مسائل پر ہر بات پر ایک جیسی رائے نہیں ہے۔ میلونی نے یوکرین کی جنگ میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ 12 مرتبہ ملاقات کی ہے اور وہ یوکرین کے حق میں مضبوط حمایت فراہم کرتی رہی ہیں۔

    اسی دوران ایلون مسک اور میلونی کے درمیان 2023 کی گرمیوں میں ایک مضبوط دوستی قائم ہوئی تھی، اور ایلون مسک نے میلونی کی سیاسی جماعت "برادرز آف اٹلی” کے کنونشن "اٹریجو” میں بطور ہیڈ لائنر شرکت کی تھی۔

    ارجنٹائن کے لبرل صدر جاویر میلے نے مار-اےلاگو میں ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے پہلے عالمی رہنما تھے۔ اس کے بعد ہنگری کے وکٹر اوربان اور کینیڈا کے جسٹن ٹروڈو بھی ٹرمپ سے ملنے والے عالمی رہنماؤں میں شامل ہو چکے ہیں۔

    شرجیل میمن کاصحافیوں کو پلاٹس کی فراہمی کا مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایات

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان