Baaghi TV

Tag: ٹیکنالوجی

  • معروف امریکی کمپنی نے اڑنے والی کار تیار کر لی

    معروف امریکی کمپنی نے اڑنے والی کار تیار کر لی

    واشنگٹن: معروف امریکی کمپنی نے اڑنے والی کار تیار کر لی، امریکی ساختہ اڑنے والی کار کی پروڈکشن 2025 کے آخرمیں متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی : اکنامکس ٹائمز کے مطابق Alef Aeronautics نامی ریاست کیلی فورنیا کی کمپنی کی تیار کردہ اس کار کے ماڈل کا نام ’Alef Model A‘ رکھا گیا ہے، جس کا وزن 850 پاؤنڈز ہے، جبکہ اس گاڑی کی ہوا میں کروز رفتار 110 میل فی گھنٹہ ہے، زمین پر یہ 25 سے 30 میل فی گھنٹہ تک جا سکتی ہے۔

    کمپنی کے سی ای او جم دخونی کا کہنا تھا کہ اب تک ہمارے پاس اس گاڑی کے لیے قبل از پروڈکشن 2 ہزار 850 آرڈرز آ چکے ہیں، جو کہ اس ماڈل کو تاریخ کی بہترین سیلنگ ائیر کرافٹ بنا دے گا، جبکہ بوئینگ، ائیر بس، جوبی ایوی ایشن اور ایلیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اور لینڈنگ وہیکل کوسب کو ملا کر بھی زیاہ بنا دے گا۔

    بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی

    گاڑی کے آگے اور پیچھے آٹھ پروپیلرز آزادانہ طور پر مختلف رفتار سے چلتے ہیں جس کی وجہ سے گاڑی کو کسی بھی سمت میں اڑایا جا سکتا ہے،گاڑی کے بونیٹ اور بوٹ میں پنکھے اسے کسی بھی مقام سے اوپر اٹھا سکتے ہیں جبکہ چاروں پہیوں میں نصب چھوٹے انجن گاڑی کو سڑک پر دوڑاتے ہیں اور یہ بالکل عام برقی گاڑی کی طرح چلتی ہے اس گاڑی کی قیمت 300,000 ڈالرز ہے، جو کہ پاکستانی تقریبا 83 کروڑ سے بھی زائد کی رقم بنتی ہےتاہم پری آرڈر کے لیے 150 ڈالرز یعنی تقریبا 42 ہزار پاکستانی روپے جمع کرانے ہوں گے۔

    چین میں تین دہائیوں سے جاری وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کی روایت ختم

    ہمارے پاس کوئی ایسا سسٹم نہیں کہ انٹرنیٹ بند کرسکیں،پی ٹی اے کا عدالت میں …

  • سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کی ویڈیو جاری کردی

    سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کی ویڈیو جاری کردی

    جاپانی سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا-

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق میں جاپان کی Saitama یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا کہ پودے اپنے اردگرد مادے کے ذرات خارج کرکے ایک دوسرے سے ‘بات چیت’ کرتے ہیں، یہ پودے اپنے قریب خطرے کو محسوس کرکے اس طرح آپس میں رابطہ کرتے ہیں،انہوں نے کیمرے میں ایک بائیو سنسر کا اضافہ کیا تھا جو سبز چمک خارج کرتا تھا تاکہ پودوں کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والے calcium ions کو دیکھا جاسکے۔

    جاپانی سائنسدانوں نے ایک ویڈیو میں دکھایا کہ کس طرح پودے فضا کے ذریعے دئیے جانے والے خطرے کے سگنلز پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں مادے کی بو پر صحت مند پودوں کی جانب سے ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے پودے اپنے قریب موجود ایسے پودوں سے خارج مادے کی بو کو محسوس کرتے ہیں جن کو کیڑوں یا دیگر وجوہات کے باعث نقصان پہنچا ہوتا ہے، جس کے بعد مختلف دفاعی نظام متحرک ہوتے ہیں –

    گزشتہ 3 دہائیون میں مسلم لیگ ن نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے میں …

    او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح …

    اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط …

    پودوں کے باہمی رابطے کو ریکارڈ کرنے کے لیے سائنسدانوں نے پتوں اور کیڑوں سے بھرے ایک کنٹینر پر ایک پمپ لگایا اس کے ساتھ دوسرے ڈبے میں Arabidopsis thaliana نامی پودا تھا جس کے پتوں کو ان کیڑوں کو کھانے دیا گیا پھر یہ مشاہدہ کیا گیا کہ قریب موجود اسی قسم کے صحت مند پودے نے خطرے کے سگنلز پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔

    https://youtu.be/wJ0SgwWG1q4

  • واٹس ایپ کا ایک منفرد فیچرمتعارف کرانے کا اعلان

    سلیکان ویلی: واٹس ایپ ایک بالکل منفرد فیچرمتعارف کرائے گا-

    باغی ٹی وی : WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کے اس نئے فیچر کے ذریعے قریب موجود افراد سے فائلز شیئر کرنا بہت آسان ہو جائے گا، یہ نیا فائل شیئرنگ فیچر اس وقت اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کے بیٹا (beta) ورژن میں دستیاب ہے یہ فیچر اسی وقت کام کرے گا جب دیگر افراد کی جانب سے شیئر کی درخواست کو منظوری دی جائے گی۔

    اس فیچر کے تحت صرف ان افراد سے فائلز شیئر کرنا ممکن ہوگی جو صارف کی کانٹیکٹ لسٹ میں موجود ہوں گے اسی طرح واٹس ایپ میسجز اور کالز کی طرح فائل شیئرنگ کے فیچر کو بھی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل ہوگا جس سے آپ کا فون ان افراد کو نظر نہیں آئے گا جو آپ کی کانٹیکٹ لسٹ میں موجود نہیں ہوں گے۔

    یہ نیا فیچر عوامی مقامات پر کسی فرد کے ساتھ فوٹوز یا ویڈیوز شیئرنگ کے لیے کارآمد ثابت ہوگا ابھی اس فیچر کی آزمائش بیٹا ورژن میں ہو رہی ہے تو ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کب تک اسے تمام افراد کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

  • انسانی باقیات و دیگر اشیاء لے کر  چاند پر جانے والا مشن ناکام

    انسانی باقیات و دیگر اشیاء لے کر چاند پر جانے والا مشن ناکام

    چاند کے لیے روانہ ہونے والا خلائی جہاز پریریگرن لینڈر ناکام ہوگیا ہے اور کسی بھی وقت زمین پر گرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیریگرین خلائی جہاز جو 50 سال سے زائد عرصے میں چاند پر اترنے کے مقصد کے لیے پہلے امریکی مشن پر گزشتہ ہفتے شروع کیا گیا تھا – واپس زمین کی طرف گامزن ہے چاند پر اترنے کی ناکام کوشش ناسا کے کمرشل لونر پے لوڈ سروسز، یا CLPS، پروگرام کے لیے ایک دھچکا ہے، جو خلائی ایجنسی کو چاند کی سطح کی تحقیقات میں مدد کے لیے بھرتی کرتی ہے کیونکہ اس کا مقصد اس دہائی کے آخر میں انسانوں کو چاند پر واپس لانا ہے۔

    ایسٹروبولک ٹیکنالوجی کمپنی جس نے ناسا کے ساتھ 108 ملین ڈالر کے معاہدے کے تحت پیریگرین لینڈر تیار کیا تھا، نے اتوار کو انکشاف کیا کہ اس نے خلائی جہاز کو زمین کی طرف واپس آتے ہوئےدرمیانی ہوا کو اسے ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیاہے-

    بھارتی فضائی کمپنی اکاسا ایئر نے 150 بوئنگ 737 میکس طیاروں کا آرڈر دے …

    اس خلائی جہاز کو چاند کے مشن پر روانہ کرنے والے ادارے ایسٹروبوٹک نے بتایا کہ وہ جہاز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے کمپنی نے خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا سے بھی رابطہ رکھا ہے مشن ناکام ہو جانے کے بعد یہ خلائی جہاز جمعہ کو کسی وقت زمین پر گر سکتا ہے ایسٹرو بوٹک نے پیریگرن کی زمین پر واپسی کو عمدگی سے کنٹرول کیا ہے اور اسے جنوبی بحرالکاہل میں کہیں گرالیا جائے گا۔

    عراق نے بھی ایران سے اپنا سفیر واپس بلالیا

    انسانوں کی باقیات، بٹ کوئن اور چند دوسری غیر روایتی اشیا لے کر چاند کے لئے روانہ ہوا تھا،یہ خلائی جہاز 20 پے لوڈز لے کر چاند کی سمت روانہ کیا گیا تھا پے لوڈز کا مجموعی وزن 90 کلو گرام تھا ان میں دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ایوریسٹ کے ایک ٹکڑے کے علاوہ وکی پیڈیا کی ایک کاپی بھی شامل تھی سائنس فکشن ٹی وی سیریز اسٹار ٹریک کے خالق جینی راڈنبیری کی باقیات بھی اس جہاز کے پے لوڈز کا حصہ ہیں۔

    برطانیہ میں خالصتان کے حامیوں کی جان کو خطرات،برطانوی پولیس نے وارننگ جاری …

  • ایمازون جنگل میں  گمشدہ شہر دریافت

    ایمازون جنگل میں گمشدہ شہر دریافت

    ماہرین نے ایمازون کے جنگل میں صدیوں سے گمشدہ شہروں کو دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اسٹیفن روسٹین نامی ماہر آثار قدیمہ نے جنوبی امریکی ملک ایکواڈور میں 2 دہائی قبل زمین میں دبی سڑکوں اور مٹی کے ٹیلوں کو دریافت کیا تھا، مگر اس وقت انہیں اپنی دریافت پر یقین نہیں تھا اب جرنل سائنس میں شائع تحقیق میں اسٹیفن روسٹین اور دیگر ماہرین نے لیزر سنسر ٹیکنالوجی کی مدد سے اس خطے کا نقشہ تیار کیا ہے،اس نقشے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کسی زمانے میں پرہجوم بستیاں اور سڑکیں موجود تھیں جو کوہ انڈیز کے دامن تک جاتی تھیں۔

    اسٹیفن روسٹین کے مطابق یہ شہروں کی ایک گمشدہ وادی ہے اور یہ دریافت حیران کن ہےاس خطے پر 500 قبل مسیح میں Upano قبیلے نے قبضہ کرلیا تھا اور وہ وہاں 300 سے 600 صدی عیسوی تک موجود رہے تحقیق کے دوران اس خطے میں رہائشی اور مذہبی عمارات کو مٹی کے ٹیلوں سے باہر نکالا گیا ان عمارات کے گرد کھیت اور نہروں کا نظام بھی موجود تھا جبکہ وہاں کی طویل ترین سڑکیں 33 فٹ چوڑی اور 6 سے 12 میل لمبی تھیں ویسے تو اس خطے کی آبادی کا تخمینہ لگانا مشکل ہے مگر ماہرین کے خیال میں وہاں کم از کم 10 ہزار افراد مقیم تھے۔

    نواز شریف 8 فروری کو پھر اقتدار میں آئے گا اور ترقی کا سفر وہیں …

    ماہرین کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بہت پرہجوم شہر تھے اور یہاں کے معاشرے کافی پیچیدہ تھے، ایمازون میں رہنے والے افراد کے پاس عمارات تعمیر کرنے کے لیے پتھر نہیں تھے تو وہ مٹی سے عمارتیں تعمیر کرتے تھے عرصے سے خیال کیا جا رہا تھا کہ ایمازون جنگل میں بہت کم افراد مقیم رہے ہیں مگر حالیہ تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ اس خطے کا ماضی اندازوں سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

    8 فروری کے انتخابات میں بلا نہیں ہوگا اب تیر اور شیر کا مقابلہ ہوگا،بلاول …

    انتخابی نشان کے معلومات حاصل کرنے کے لئے پی ٹی آئی کا ویب پورٹل تیار

  • اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی  کرسکتا ہے؟

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

    آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی نے لوگوں کی زندگیوں میں مستقبل کے واقعات کی پیشین گوئی کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی:DTU، یونیورسٹی آف کوپن ہیگن، ITU، اور امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے ایک باہمی تحقیقی منصوبے نے لوگوں کے بارے میں ڈیٹا کی وسیع مقدار کا تجزیہ کرنے کے لیے ChatGPT کی طرح ٹرانسفارمر ماڈلز کی طاقت کا استعمال کیا ہےنتیجے میں آنے والا ماڈل، جسے Life2vec کا نام دیا گیا ہے

    جرنل Nature Computational Science میں شائع تحقیق کےمطابق سائنسدانوں کےخیال میں ایساممکن ہے ،اسی مقصد کے لیے ڈنمارک میں چیٹ جی پی ٹی سے ملتا جلا ایک نیا اے آئی ماڈل تیار کیا گیا ہے،ٹیکنیکل یونیورسٹی کے تیار کردہ life2vec نامی اے آئی ماڈل کو ڈنمارک کی آبادی کے ذاتی ڈیٹا سے تربیت دی گئی، اسے تیار کرنے والی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ یہ اے آئی ماڈل کسی فرد کی موت کے امکانات کی پیشگوئی دیگر سسٹمز کے مقابلے میں زیادہ درست کرسکتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت، خاص طور پر تحریری زبان کے نمونے کے لیے ڈیزائن کی گئی، نے زندگی کے واقعات کی پیشین گوئی کرنے میں وعدہ دکھایا ہے تحقیق، جس کا خاکہ "انسانی زندگیوں کی پیشین گوئی کرنے کے لیے زندگی کے واقعات کے سلسلے کا استعمال کرتے ہوئے” میں بیان کیا گیا ہےٹرانسفارمر ماڈلز کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتی ہےیہ ماڈل، جیسے ChatGPT، ڈیٹا کو منظم طریقے سے ترتیب دینے اور کسی شخص کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی پیش گوئی کرنے کے لیے زبان پر کارروائی کرتے ہیں۔

    محققین نے 2008 سے 2020 کے دوران جمع کیے گئے 60 لاکھ افراد کے ڈیٹا کو جمع کرکے ان کی صحت سمیت تعلیم، ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے وزٹ، آمدنی، پیشے اور دیگر پہلوؤں کا تجزیہ کیا 35 سے 65 سال کی عمر کے افراد کے ڈیٹا کے ذریعے اے آئی ماڈل کی موت کی پیشگوئیوں کی صلاحیت کا تجزیہ کیا گیا،50 فیصد ڈیٹا ایسے افراد کا تھا جن کا انتقال 2016 سے 2020 کے دوران ہوا، نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ اے آئی ماڈل کسی بھی موجودہ سسٹم کے مقابلے میں ایک فرد کی موت کی پیشگوئی11 فیصد زیادہ درست کرسکتا ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے اس ماڈل کو یہ جاننے کے لیے استعمال کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی ماضی کے واقعات اور حالات کو مدنظر رکھ کر کس حد تک مستقبل کے واقعات کی پیشگوئی کرسکتی ہے، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اے آئی ماڈل نے زیادہ تر پیشگوئیاں اپنے طور پر نہیں کیں بلکہ ڈیٹا کو مدنظر رکھ کر جوابات دئیے یہ اے آئی ماڈل کسی شخصی ٹیسٹ کے نتائج، آئندہ 4 سال میں موت کے امکانات اور متعدد دیگر چیزوں کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔

  • سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    ریاض: سعودی عرب میں روبوٹ کا استعمال کرتے ہوئے مرگی کے مریض کے دماغ میں ای ای جی چپ لگا دی گئی۔

    باغی ٹی وی:عرب میڈیا کے مطابق جدہ میں مریض کو لاحق مرگی کا مرض روایتی علاج سے ختم نہیں ہو رہا تھا کہ کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال اور ریسرچ سینٹر روبوٹ کا استعمال کرتے ہوئے مریض کے دماغ میں چپس لگانے میں کامیاب ہو گیا۔

    مریض کو لاحق مرگی کا مرض روایتی علاج سے ختم نہیں ہو رہا تھا ڈاکٹروں نے مریض کے دماغ میں مرگی کی نشاندہی کرنے کے مقصد کے لیے ای ای جی چپ لگائی جسے بعد میں ہٹا دیا جائے گا یہ ایک جدید طبی طریقہ کار ہے جس کا استعمال مشرق وسطیٰ میں پہلی مرتبہ کیا گیا۔

    شمالی کوریا کا ایک اور کروز میزائل کا تجربہ

    اس ٹیکنالوجی کے ذریعہ کھوپڑی میں 2 ملی میٹر سے زیادہ نہ بڑھنے والے متعدد سوراخ بنا کر الیکٹرو اینسفالوگرافی چپس دماغ میں لگائی جاتی ہیں جس کا مقصد سر کے اندر سے برقی سرگرمی کی پیمائش کرنا اور مرگی کے پیدا ہونے کے مقامات کی تشخیص کرنا ہوتا ہے۔

    روبوٹ ٹیکنالوجی ضروری پیمائشوں کا حساب لگانے اور سوراخ کرنے کے لیے صحیح جگہوں کا تعین کرنے میں روایتی “لیکسیل فریم” طریقہ سے بہتر ثابت ہوئی ہے روایتی طریقہ میں وقت بھی زیادہ لگتا اور محنت بھی دوگنا ہوجاتی ہے۔

    واضح رہے کہ روبوٹ کا استعمال صرف دماغ میں سلائسس لگانےتک ہی محدود نہیں بلکہ اعصابی امراض سےمتعلق متعدد دیگر سرجریوں میں بھی روبوٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے،روبوٹک سرجری دنیا کے معروف طبی مراکز میں ایک حالیہ طبی رجحان ہے اس سے ڈاکٹروں کو زیادہ درستی، لچک اور کنٹرول کے ساتھ بہت سے پیچیدہ آپریشن کرنے کی سہولت مل گئی ہے۔

    ٹک ٹاک اور ٹیلی گرام پر پابندی لگانے کا فیصلہ

    یہ کامیابی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی خصوصی کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے اسی طرح یہ کامیابی مریض کے تجربے اور آپریٹنگ کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز کو استعماال کرنے کی کوششوں کے مرہون منت ہے۔

  • بھارت کا ڈرون ٹیکنالوجی میں مہارت کا خواب چکنا چور ہوگیا

    بھارت کا ڈرون ٹیکنالوجی میں مہارت کا خواب چکنا چور ہوگیا

    بھارتی ریاست کرناٹک میں جنگی استعمال کے لیے تیار کردہ بغیر پائلٹ والا ڈرون ٹرائل کے دوران ایک کھیت میں گر کر تباہ ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ڈیفنس ریسرچ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کی طرف سے تیار کردہ بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑی (UAV) اتوار کو ضلع کے ایک گاؤں کے زرعی کھیتوں میں گر کر تباہ ہو گئی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے مقامی سطح پر تیار کیا تھا بھارتی فوج نے ڈرون ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کے بلند و بانگ دعوے بھی کیے تھے تاہم بھارت کا ڈرون ٹیکنالوجی میں مہارت کا خواب چکنا چور ہوگیا۔


    ڈرون گرنے کے بعد وزارت دفاع اور ڈرون ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ حادثے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔

    2 بچوں کے باپ کوآشنا کے ساتھ بجلی کے کھمبے سے باندھ کر سرعام تشدد

    کریش ہونے والے UAV کا پروٹوٹائپ سیریل نمبر 017A-14 تھا اور یہ UAV کے چھ پروٹوٹائپز میں سے ایک تھا جو زیر جانچ تھا اس سے قبل، ستمبر 2019 میں، UAV کا ایک اور پروٹو ٹائپ چتردرگا میں بھی گر کر تباہ ہو گیا تھا فضائی گاڑی 28,000 فٹ کی بلندی پر 18 گھنٹے سے زیادہ پرواز کرنےاور مختلف الیکٹرونک انٹیلی جنس، کمیونیکیشن انٹیلی جنس، اور انٹیلی جنس، نگرانی، اور جاسوسی پے لوڈ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے-

    لداخ: بھارتی فوج کا ٹرک کھائی میں جاگرا،9 فوجی ہلاک، 2 زخمی

  • گوگل کا ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ

    گوگل کا ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ

    کیلیفورنیا: ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔

    باغی ٹی وی: ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ورک اسپیس کے لیے ڈاکس اور ڈرائیو میں ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ کیا الیکٹرانک دستخط دستاویزات کے ذخیرہ اور انتظام میں شامل کمپنیوں کے لیے ٹیبل سٹیک بن گئے ہیں۔

    یہ حیرت کی بات نہیں ہونی چاہئے کہ گوگل نے آج گوگل ورک اسپیس میں اپنی نئی ای دستخط کی صلاحیت کے کھلے بیٹا کا اعلان کیا۔ نیا فیچر خاص طور پر Google Docs اور Google Drive کے لیے انفرادی اور مختلف گروپ اکاؤنٹس کے لیے دستیاب ہوگا یہ ای دستخط فیچر صارفین کو کسی بھی آفیشل معاہدے پر ٹیب بدلے بغیر گوگل ڈرائیو میں رہتے ہوئے ہی دستخط کرنے کی سہولت دے گا۔

    پانی کی سطح سے اڑان بھرنے والا روسی طیارہ

    نئی خصوصیت، جو اب تک محدود الفا ریلیز میں تھی، اس کا مقصد سولو پرینیورز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے ہے تاکہ دستخط حاصل کرنے کے لیے پرنٹنگ، دستخط، اسکیننگ اور ای میل کیے بغیر دستاویز میں ڈیجیٹل دستخطوں کو آسانی سے جمع اور ٹریک کریں۔

    کمپنی نے نئی خصوصیت کا اعلان کرتے ہوئے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ صارفین کے لیے ایک لاک پی ڈی ایف فائل بنائی جائے گی اور دستخط کے مطلوبہ فیلڈ کو پر کر کے درخواست جمع کرا دی جائے گی جو مخصوص وصول کنندہ کو بھیجی جائے گی۔ صارف کو یہ سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ ای دستخط کی درخواست کے اسٹیٹس کی نگرانی کر سکے۔ اس دستخط میں نام، نام کے مخفف اور تاریخ شامل ہوں گی۔

    سعودی عرب نے فلسطین کے لیےغیر مقیم سفیرنامزد کر دیا

    تمام مراحل مکمل کرنے کے بعد دستخط شدہ پی ڈی ایف علیحدہ سے دستخط بنانے والے کی ڈرائیو میں شامل ہوجائے گی اور بطور ای میل درخواست گزار اور دستخط کنندہ کو بھیج دی جائے گی۔

  • بائیڈن کا چین میں امریکی ٹیکنالوجی کی سرمایہ کاری پر پابندی کا حکم

    بائیڈن کا چین میں امریکی ٹیکنالوجی کی سرمایہ کاری پر پابندی کا حکم

    نیویارک: امریکی صدر نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت چین میں حساس ٹیکنالوجی میں امریکی سرمایہ کاری پر پابندی ہوگی، ساتھ ہی دیگر ٹیک سیکٹرز میں فنڈنگ ​کے لیے حکومت کی اجازت کی ضرورت ہوگی۔

    باغی ٹی وی: برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جو کمپیوٹر چپس جیسی حساس ٹیکنالوجیز میں چین میں کچھ نئی امریکی سرمایہ کاری پر پابندی لگائے گا اور دیگر ٹیک سیکٹرز میں حکومتی اطلاع کی ضرورت ہے۔

    طویل انتظار کا حکم امریکی وزیر خزانہ کو تین شعبوں میں چینی اداروں میں امریکی سرمایہ کاری کو روکنے یا محدود کرنے کا اختیار دیتا ہے امریکا کی جانب سے چین میں ٹیکنالوجی کے جن سیکٹرز میں پابندی عائد کی ہے، ان میں سیمی کنڈ کٹرز اور مائیکرو الیکٹرانکس، کوانٹم انفارمیشن ٹیکنالوجیز اور کچھ مصنوعی ذہانت کے نظام شامل ہیں-

    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    انتظامیہ نے کہا کہ پابندیاں تینوں علاقوں کے "تنگ سب سیٹ” پر لاگو ہوں گی لیکن تفصیلات نہیں بتائیں۔ تجویز عوامی ان پٹ کے لیے کھلا ہےاس آرڈر کا مقصد امریکی سرمائے اور مہارت کو چین کو ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنے میں مدد کرنے سے روکنا ہے جو اس کی فوجی جدید کاری میں مدد دے سکتی ہیں اور امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس اقدام کا ہدف پرائیویٹ ایکویٹی، وینچر کیپیٹل، جوائنٹ وینچرز اور گرین فیلڈ سرمایہ کاری ہے۔

    بائیڈن نے کانگریس کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ وہ چین جیسے ممالک کی جانب سے حساس ٹیکنالوجیز اور مصنوعات میں فوج، انٹیلی جنس، نگرانی، یا سائبر سے چلنے والی صلاحیتوں کے لیے اہم خطرے سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر ایمرجنسی کا اعلان کر رہے ہیں۔

    خط کے مطابق چینی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کو ہدف بنایا گیا ہے، جو سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے چپس اور اوزار تیار کرتی ہیں۔ امریکا، جاپان اور نیدرلینڈز ان شعبوں پر برتری رکھتے ہیں لیکن دو بڑی معیشتوں کے درمیان تناؤ کو ہوا دے سکتا ہے۔ امریکی حکام نے اصرار کیا کہ ان پابندیوں کا مقصد ”انتہائی شدید“ قومی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تھا۔

    پاکستان میں عام انتخابات پر ہنگاموں پرتشویش ہے،امریکا

    سینیٹ کے ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے بائیڈن کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہت عرصے سے امریکی پیسے نے چینی فوج کے عروج کو ہوا دی ہے۔ امریکی سرمایہ کاری چینی فوجی پیشرفت کے لیے فنڈز میں نہ جائے۔ریپبلکن نے کہا کہ بائیڈن کا حکم کافی حد تک نہیں گیا۔

    دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ چین اس اقدام سے ”بہت مایوس“ ہے۔ بیان میں لیو پینگیو نے کہا کہ یہ پابندیاں چینی اور امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے مفادات کو سنجیدگی سے مجروح کریں گی لیکن چین صورتحال کو قریب سے دیکھے گا۔

    اس کے اگلے سال لاگو ہونے کی توقع ہے۔ ریگولیٹرز پروگرام کے دائرہ کار کی مزید وضاحت کے لیے مجوزہ قاعدہ سازی کا پیشگی نوٹس جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور باضابطہ تجویز پیش کرنے سے پہلے عوامی رائے طلب بھی کی جائے گی۔

    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ