Baaghi TV

Tag: ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ نے 36 لاکھ اکاؤنٹس بند کر دیئے

    واٹس ایپ نے 36 لاکھ اکاؤنٹس بند کر دیئے

    واٹس ایپ نے بھارت میں 36 لاکھ موبائل کنکشن بند کرتے ہوئے ان کے واٹس ایپ اکاؤںٹس بند کردیئے ۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق واٹس ایپ نےیہ اقدام جعلی کالز کے سلسلے میں کیےفراڈ کالزروکنے سے متعلق حکومتی اقدامات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھارتی وزیر کا کہنا تھا کہ میٹا کی ملکیتی کمپنی واٹس ایپ نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ کسی بھی فون نمبر کو دھوکہ دہی میں ملوث پایا گیاتو اس کی سروسز معطل کردی جائیں گی۔

    اسنیپ چیٹ نے بھی اے آئی ٹیکنالوجی ٹول کو ایپ کا حصہ بنا …

    یونین ٹیلی کام وزیراشونی ویشناؤ کا کہنا تھا کہ ہم واٹس ایپ کےساتھ مسلسل رابطےمیں ہیں اورانہوں نےاتفاق کیا ہے کہ صارفین کی حفاظت انتہائی اہم ہےتمام او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اس بات پر تعاون کر رہے ہیں کہ دھوکہ دہی میں ملوث صارفین کے اکاؤنٹس کو معطل کر دیا جائے گا۔ 36 لاکھ موبائل کنکشنز دھوکہ دہی کے باعث معطل کر تے ہوئے اُن کے واٹس ایپ اکاؤںٹس کو بلاک کر دیا گیا ہے۔

    ٹک ٹاک پر پابندی عائد

    بھارتی صارفین کی بڑی تعداد نے انٹرنیشنل سپیم کالز میں غیرمعمولی اضافہ کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پرکئی صارفین نے انڈونیشیا، ویت نام، ملائیشیا، کینیا اورایتھوپیا سے فراڈ کالز کی شکایت کی ہے۔

    واٹس ایپ نے بھارتی ٹیلی کام منسٹر کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ مل کر صارفین کیلئے محفوظ ماحول تشکیل دے رہے ہیں۔

    اب واٹس صارفین ا نتہائی نوعیت کی ذاتی چیٹس محفوظ کر سکیں گے

  • ٹوئٹر میں انکرپٹڈ میسجز فیچر اب ویریفائیڈ صارفین کیلئے دستیاب

    ٹوئٹر میں انکرپٹڈ میسجز فیچر اب ویریفائیڈ صارفین کیلئے دستیاب

    ٹوئٹر میں انکرپٹڈ میسجز فیچر اب ویریفائیڈ صارفین کیلئے دستیاب

    ٹوئٹر نے ڈائریکٹ میسجز کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے فیچر کا ابتدائی ورژن متعارف کرا دیا ہے۔ مگر یہ فیچر تمام صارفین کو دستیاب نہیں ہوگا بلکہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ویریفائیڈ اکاؤنٹس (یعنی ٹوئٹر بلیو کے صارفین) ہی اسے استعمال کر سکیں گے۔ یعنی ایلون مسک کے زیر ملکیت پلیٹ فارم کو ماہانہ فیس ادا کیے بغیر انکرپٹڈ پیغامات کو بھیجنا ممکن نہیں ہوگا۔

    اسی طرح یہ فیچر گروپ میسجز پر کام نہیں کرے گا۔ ٹوئٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ فیچر اسی وقت کام کرے گا جب آپ میسج بھیجنے والے کو فالو کریں گے یا اس وقت بھی میسجز انکرپٹڈ ہوں گے، جب آپ پہلے ہی کسی صارف سے چیٹ کر چکے ہوں یا اس کی ڈائریکٹ میسج کی درخواست قبول کریں۔

    اگر صارفین اس فیچر کو استعمال کرنے اہل ہوئے (یعنی ٹوئٹر بلیو کے صارف ہوئے) تو میسج بھیجنے والے کو انکرپشن ٹرن آن کرنے کا آپشن نئی چیٹ اسکرین پر نظر آئے گا۔ اگر ماضی میں کسی فرد سے ٹوئٹر ڈائریکٹ میسجز پر چیٹ کر چکے ہیں تو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے آپشن پر کلک کرنا ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    انکرپٹڈ چیٹ دیکھنے میں معمول کی چیٹس سے مختلف نظر آئے گی اور صارف کی پروفائل فوٹو پر تالا بنا نظر آئے گا۔ جبکہ کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ میڈیا فائلز جیسے تصاویر کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ کمپنی کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس فیچر کے لیے کونسا اسٹینڈرڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔ جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ اس فیچر کا ابتدائی ورژن ہے تو ممکنہ طور پر وقت گزرنے کے ساتھ اسے مزید بہتر بنایا جائے گا اور خامیوں کو دور کیا جائے گا۔

  • میٹا کی واٹس ایپ میں گوگل ڈرائیو کی متبادل ٹرانسفر کی آزمائش

    میٹا کی واٹس ایپ میں گوگل ڈرائیو کی متبادل ٹرانسفر کی آزمائش

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ واٹس ایپ میں جلد ہی جیٹ ہسٹری محفوظ کرنے کے لیے متبادل طریقہ پیش کرے گی۔

    باغی ٹی وی: واٹس ایپ کی خبر دینے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ ایک ایسے طریقے کی آزمائش کررہا ہے جس کے لیےگوگل ڈرائیو کی ضرورت یکسر ختم ہوجائے گی بعض صارفین نے بتایا ہے کہ واٹس ایپ نےانہیں نئے فیچر کی آزمائش کے لیے منتخب کیا ہےیہ صارفین اسے استعمال کرکے اس کی خوبیوں اور خامیوں سے واٹس ایپ کو آگاہ کریں گے اس معلومات کی روشنی میں واٹس ایپ اس فیچر کو حتمی طور پرلانے سے قبل ضروری تبدیلیاں کرے گا۔

    اے آئی چیٹ بوٹس کسی انسان جتنے ہی اچھے استاد ثابت ہو سکتے ہیں،بل گیٹس

    ویب بیٹا انفو کےمطابق یہ سہولت نئے تجرباتی ورژن v2.23.9.19 میں رکھی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گوگل ڈرائیو کے بغیر ایک سے دوسرے اینڈروئڈ فون میں چیٹ ہسٹری بہت آسانی اور سہولت کے ساتھ منتقل کرنا ممکن ہوگا ڈیٹا منتقلی کے لیے بس آپ کو ایک نئے کیو آر کوڈ کو اسکین کرنا ہوگا تاہم واٹس ایپ نے دیگر تفصیلات جاری نہیں کی ہے۔

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار …

    واضح رہے کہ اس سے قبل بالخصوص اینڈروئڈ صارفین کے پاس چیٹ ہسٹری محفوظ کرنے کے لیے ’گوگل ڈرائیو‘ کے سوا کوئی اور راستہ نہ تھا۔

    اینڈرائیڈ فون جن میں واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا

  • اسنیپ چیٹ نے بھی  اے آئی ٹیکنالوجی ٹول  کو ایپ کا حصہ بنا دیا

    اسنیپ چیٹ نے بھی اے آئی ٹیکنالوجی ٹول کو ایپ کا حصہ بنا دیا

    اسنیپ چیٹ نے چیٹ جی پی ٹی پر مبنی آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی ٹول کو ایپ کا حصہ بنا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مائی اے آئی نامی چیٹ بوٹ کچھ عرصے پہلے اسنیپ چیٹ پلس میں متعارف کرایا گیا تھا جو ماہانہ فیس ادا کرنے والوں کے لیے دستیاب سروس ہے اسنیپ چیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایوان اسپیگل کے مطابق مگر آئندہ چند ہفتوں کے اندر یہ نیا ٹول اسنیپ چیٹ کے تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

    واٹس ایپ صارفین کیلئے ایک اور شاندار فیچر متعارف

    یہ اعلان سنیپ کے سالانہ پارٹنر سمٹ میں سامنے آیا۔ کمپنی کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہے تاکہ اس کی بڑھتی ہوئی حقیقت (AR) خصوصیات یا حقیقی دنیا کی تصاویر اور ویڈیوز کے اوپر چھپی کمپیوٹرائزڈ تصاویر کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔

    کمپنی نے بدھ کو کہا کہ مائی اے آئی اب تمام اسنیپ چیٹ صارفین کے لیے مفت دستیاب ہے اوراسنیپ چیٹ پر دوستوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سوالات کے جوابات دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چیٹ بوٹ سب سے پہلے ان صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا جو کمپنی کی پریمیم سبسکرپشن کے لیے ماہانہ $3.99 ادا کرتے ہیں۔

    اسنیپ کے چیف ایگزیکٹیو ایون اسپیگل نے کہا کہ مائی اے آئی صارفین کو لینز کی تجویز دے کر اسنیپ چیٹ ایپ کے مزید حصوں کو دریافت کرنے میں مدد کر سکتی ہے، جو تصاویر اور ویڈیوز میں اثرات ڈال سکتے ہیں، یا ایپ کے نقشے کی خصوصیت کا استعمال کر کے حقیقی دنیا کے مقامات کی سفارش کر سکتے ہیں۔

    واٹس ایپ میں انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف

    انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ہم AI کو مواصلات میں لا رہے ہیں، جو ہماری سروس کا بنیادی مرکز ہے۔ "لوگ واقعی My AI کو تخلیقی ٹول کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔”

    اسنیپ نے کہا کہ My AI کی اپنی AI سے تیار کردہ تصاویر کے ساتھ صارفین کو جواب دینے کی صلاحیت سب سے پہلے Snapchat+ پر دستیاب ہوگی، جس کے 3 ملین سبسکرائبرز تک پہنچ چکے ہیں۔

    جیسا کہ AI چیٹ بوٹس میں اضافہ ہوا ہے، لہذا اس بارے میں خدشات ہیں کہ آیا AI شائع شدہ کاموں کو چوری کر سکتا ہے، غلط معلومات فراہم کر سکتا ہے یا سوالات کے نقصان دہ جوابات واپس کر سکتا ہے۔

    اسنیپ نے کہا کہ اس نے My AI میں نئے سیفٹی گارڈ ریل شامل کیے ہیں، جس میں چیٹ بوٹ تک صارف کی رسائی کو عارضی طور پر محدود کرنا بھی شامل ہے اگر وہ بار بار نامناسب یا نقصان دہ سوالات پوچھتے ہیں۔

    گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    اسپیگل نے کہا کہ اسنیپ مائی اے آئی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا تجزیہ کرتا ہے اور اس نے پایا ہے کہ چیٹ بوٹ کے 99.5 فیصد جوابات اسنیپ چیٹ کی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل پیرا ہیں۔

    اس سے قبل مائیکرو سافٹ، گوگل اور دیگر متعدد کمپنیاں بھی اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنی سروسز کا حصہ بنا چکی ہیں،یہ نیا اے آئی ٹول اسنیپ چیٹ بنیادی طور پر باتیں کرنے والا ساتھی ہے جو صارفین کو اے آر لینسز تجویز کرے گا اور مختلف تصاویر پر ردعمل ظاہر کرے گا۔

    یہ ٹول ایک بٹ موجی اواتار کی شکل میں صارفین کو نظر آئے گا اور کسی انسان کی طرح بات چیت کرے گا مائی اے آئی اسنیپ چیٹ کے میپ فیچر کے مقامات کے لیے بھی تجاویز فراہم کرے گااسنیپ چیٹ کی جانب سے پہلا جنریٹیو اے آئی فلٹر بھی متعارف کرایا ہے جسے کاسمک لینس کا نام دیا گیا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

  • ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    نیویارک: ٹیسلا کمپنی کے بانی اور ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں اپنا اے آئی چیٹ بوٹ "ٹروتھ جی پی ٹی” متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جو سچ کی تلاش کرنے والا چیٹ بوٹ ہوگا۔

    لانچ سے چند منٹ قبل انسانی تاریخ کے سب سےطاقتورراکٹ کی پروازملتوی

    ایلون مسک کے مطابق یہ ایسا چیٹ بوٹ ہوگا جو کائنات کی فطرت اور انسانیت کو سمجھ سکے گا، اس طرح وہ انسانوں کی تباہی کا باعث نہیں بنے گا انہوں نے اے آئی ٹیکنالوجی کو گاڑیوں یا راکٹ سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کو تباہ کر سکتی ہے چیٹ جی پی ٹی متعصب ہے جس کے مقابلے پر وہ اپنا چیٹ بوٹ لا رہے ہیں۔

    دریں اثناء اطلاعات تھیں کہ ایلون مسک کسی بھی وقت آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایجنسی بنانے کا اعلان کر سکتے ہیں تاکہ چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کا مقابلہ کیا جاسکے جبکہ انہوں نے اس حوالے سے 2 افراد کو ملازمت پر بھی رکھ لیا ہے کمپنی کے بارے میں تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے –

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    اس مقصد کے لیے ایلون مسک نے مارچ میں ایک کمپنی X.AI کو ریاست نویڈا میں رجسٹر بھی کرایا جس کے وہ اکیلے ڈائریکٹر ہیں ایلون مسک ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنے اس نئے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے بات چیت بھی کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو دنیا بھر میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور اسے متعدد ایپس کا حصہ بنایا جارہا ہے جبکہ مائیکرو سافٹ نے اپنے بنگ سرچ انجن اور دیگر پراڈکٹس کو بھی اس ٹیکنالوجی سے لیس کیا ہے چیٹ جی پی ٹی 4 کو مارچ میں متعارف کرایا گیا جو اب تک کا سب سے جدید ترین اے آئی سسٹم قرار دیا جا رہا ہے۔

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

  • جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی گئی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کی تفصیلی تصویر جاری کردی تصویر میں برف کے سیارے کے گرد موجود 13 چھلوں میں سے 11 کو اور اس کے 27 چاندوں کو دیکھا جاسکتا ہے یہ چھلے اتنے چمکدار ہیں کہ ان روشن دائرے کی صورت دِکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے ایک بیان کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے سیارے کے دو دھندلے ترین غبار پر مشتمل چھلوں کو بھی عکس بند کیا ہے جن کو 1986 میں وائجر 2 نے قریب سے گزرتے وقت دریافت کیا تھا یورینس کے گرد یہ چھلےدیگر سیاروں کے گرد موجود چھلوں کی نسبت پتلے، تنگ اور تاریک ہیں ۔


    ٹیلی اسکوپ نے یورینس کے 27 معلوم چاندوں کو بھی عکس بند کیا۔ ان چاندوں میں اکثر اتنے چھوٹے ہیں کہ تصویر میں واضح نہیں دیکھے جاسکتے جبکہ چھ روشن چاندوں کی نشاندہی صرف 12 منٹ کے ایکسپوژر میں کی گئی۔

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    تصویر کے لیے استعمال کیے گئے نیئر انفرا ریڈ کیمرا(الیکٹرومیگنیٹک اسپیکٹرم میں قابلِ دید روشنی سے زیادہ فریکوئنسی والی روشنی کو عکس بند کرتا ہے) نے نئی تصویر میں دور دراز موجود کہکشاؤں کو بھی واضح عکس بند کیا ہے۔

    انگلینڈ کی ناٹنگھم یونیورسٹی کے ماہر فلکیات مائیکل میری فیلڈ نے کہا کہ یورینس کو اس قسم کی تفصیل سے دیکھنا کتنا حیرت انگیز ہے جو اس سے پہلے صرف وائجر 2 کے اصل میں اس کا دورہ کرنے کے ذریعہ ممکن ہوا تھا-

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ویب ایک دن سیارے کے باقی دو بیرونی حلقوں کی بھی تصویر بنانے میں کامیاب ہو جائے گا جو اس پہلی تصویر میں نہیں دکھائے گئے ہیں۔ دوربین فی الحال سیارے کی فالو اپ تصاویر لے رہی ہے۔

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    یورینس سورج کا ساتواں سیارہ ہے، اور ہمارے نظام شمسی میں اس کا قطر تیسرا سب سے بڑا ہے یہ ٹیلی سکوپ کی مدد سے پایا جانے والا پہلا سیارہ تھا، یورینس کو 1781 میں ماہر فلکیات ولیم ہرشل نے دریافت کیا تھا یورینس کی سطح ٹھوس نہیں ہے۔ اس کا ماحول بنیادی طور پر کچھ میتھین کے ساتھ ہائیڈروجن اور ہیلیم ہے، جو سورج کی روشنی کی سرخ طول موج کو جذب کرتا ہے جس کی وجہ سے یورینس نیلے رنگ کا دکھائی دیتا ہےسیارہ زمین سے تقریباً چار گنا چوڑا ہے اور ناسا کے مطابق ایک چھوٹے، چٹانی حصے پر مشتمل ہے جس کے ارد گرد گرم، گھنے مادے ہیں جس میں پانی، میتھین اور امونیا شامل ہیں۔

    چونکہ دور دراز کا سیارہ ہر 84 سال میں ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہےیہ ایک منفرد زاویہ پر اپنا سفر مکمل کرتا ہے سیارے ایک چپٹی سطح کے ساتھ حرکت کرتے ہیں جب وہ گردش کرتے ہیں۔ عطارد تصوراتی سطح پر کھڑے محور کے گرد گھومتا ہے، جبکہ زیادہ تر دوسرے سیارے اس محور پر گھومتے ہیں جو تھوڑا سا جھکا ہوا ہے –

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    زمین کا جھکاؤ 23.4 ڈگری ہے۔ دوسری طرف، یورینس، بنیادی طور پر اس کے کنارے پر ہے، 98 ڈگری کے زاویہ پر گھومتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، اس کے ایک حصے پر طویل موسموں تک مسلسل سورج کی روشنی پڑتی ہے، جب کہ دوسرے کو گہری خلا کی تاریکی کا سامنا ہے۔

  • مصر کا روس کو 40 ہزار راکٹس خفیہ طور پر دینے کا منصوبہ

    مصر کا روس کو 40 ہزار راکٹس خفیہ طور پر دینے کا منصوبہ

    امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہےکہ مصری صدر نے روس کو 40 ہزار راکٹس خفیہ طور پر دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہےکہ مصر نے روس یوکرین جنگ کے دوران روس کی اسلحہ سپلائی میں مدد کے لیےاسے خفیہ طور پر 40 ہزار راکٹس دینےکامنصوبہ بنایا ہےجس کی تفصیلات امریکی انٹیلی جنس کی لیک دستاویزات سے حاصل کی گئی ہیں۔

    ڈالر ملک کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر

    رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے اعلیٰ عسکری حکام سے ایک اہم میٹنگ بھی کی ہے جس میں روس کو فوجی بنیادوں پر اسلحے کی فراہمی پر بات چیت کی گئی جب کہ اس دوران مصری صدر نے حکام کو یہ منصوبہ بندی خفیہ رکھنے کی ہدایت کی امریکی انٹیلی جنس کی لیک دستاویزات پر 17 فروری کی تاریخ درج ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ نے یہ دستاویز ڈسکارڈ پر فروری اور مارچ میں پوسٹ کی گئی کلاسیفائیڈ فائلوں کی تصاویر کے مجموعے سے حاصل کی، جو گیمرز میں مقبول ایک چیٹ ایپ ہے۔ دستاویز کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر کی جانب سے روس کو راکٹس کی فراہمی کی خبروں پر امریکی حکام نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مصری صدر کی جانب سے روس کو خفیہ طور پر راکٹس فراہمی کی خبریں درست ہیں تو پھر ہمیں دونوں ممالک کے تعلقات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    عمران خان نے 25 سال میں اپنا اینٹی امریکا امیج بنایا،حسین حقانی

    دوسری جانب فاکس نیوز نے کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے خفیہ دستاویزات پر کسی بھی تبصرے سے گریز کیا ہے لیکن خبردار کیا ہے کہ یہ مواد عوامی استعمال کے لیے نہیں ہے۔

    یہ مصر کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے، جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اس کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جنوری کے آخر میں قاہرہ میں السیسی سے ملاقات کی، جس کے بعد محکمہ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ مسٹر بلنکن نےمصر کے ساتھ امریکہ کی یکجہتی کا اظہار کیا کیونکہ یہ روس کی وحشیانہ جنگ کے اقتصادی اثرات کا مقابلہ کرتا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی گزشتہ سال نومبر میں مصر کا دورہ کیا تھا اور السیسی سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے مصری صدر کی جنگ کے بارے میں اپنے ملک کے موقف کو سراہا۔

    فوجی پیداوار کے وزیر مملکت محمد صلاح الدین نامی ایک اہلکار کے مطابق مصر نے ماسکو کی "پہلے غیر متعینہ مدد” کی ادائیگی کے لیے روس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اس مدد کی نوعیت واضح نہیں ہے۔ تاہم، خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق، یوکرین میں روس کی جنگ کے نتیجے میں عالمی منڈی میں آنے والی رکاوٹوں کے درمیان مصر نے گزشتہ سال روسی گندم پر اپنا انحصار بڑھا دیا۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

  • میری ایجاد کردہ ڈیوائس اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہے،موبائل فون کے موجد کا اعتراف

    میری ایجاد کردہ ڈیوائس اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہے،موبائل فون کے موجد کا اعتراف

    پچاس سال قبل موبائل فون ایجاد کرنے والے امریکی انجینئر مارٹن کوپر نے اعتراف کیا کہ ان کی ایجاد کردہ یہ ڈیوائسز اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : اے ایف پی کے مطابق موبائل فون کے موجد اور 94 سالہ امریکی انجینئر مارٹن کوپرنےکہا کہ ہم سب کی جیبوں میں جو صاف ستھرا آلہ ہے اس میں تقریباً لامحدود صلاحیت موجود ہے مجھے لگتا ہے یہ ایک دن بیماریوں پر قابو پانے کے لیے بھی مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی ایجاد کردہ یہ ڈیوائسز اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اس ڈیوائس کے استعمال میں بہت زیادہ وقت صرف کر رہے ہیں لیکن لوگ اسے ایک جنون کی طرح استعمال کررہےانہوں نے مزید کہا کہ اپنی ایجاد میں لوگوں کا جنون دیکھ کر دھچکا لگتا ہے مسئلہ یہ ہے کہ لوگ موبائل فون کی اسکرین کو بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ حیران رہ گئے جب انہوں نے ایک شخص کو سڑک پار کرتے ہوئے اپنے سیل فون کو دیکھتے ہوئے دیکھا یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لوگوں کے دماغ موبائل فون کی وجہ سےماؤف ہو چکے ہیں مارٹن کوپر نےطنزیہ انداز میں مزید کہا کہ کچھ لوگوں کے اوپر کاریں چڑھ جانے کے بعد انہیں سمجھ آ جائے گا۔

    خیال رہے مارٹن کوپر خود ایپل کا جدید ترین آئی فون ماڈل استعمال کرتے ہیں اور ایپل واچ اور ہیڈ فون بھی پہنتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لاکھوں موبائل ایپس کا ہونا بہت زیادہ ہوسکتا ہے میں کبھی نہیں سمجھوں گا کہ سیل فون کا استعمال ایسے کیا جائے جس طرح میرے پوتے اور پڑپوتے کرتے ہیں۔

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    واضح رہے کہ دنیا کا پہلا موبائل فون موٹرولا کا ڈینا ٹیک 8000 ایکس تھا جسے 1983 میں اس کمپنی کے ایک سنیئر عہدیدار مارٹن کوپر نے تیار کیا تھا کوپر نے تاریخ میں سیل فون کا استعمال کرتے ہوئے پہلی کامیاب موبائل فون کال 3 اپریل 1973 کو اس وقت کی تھی جب وہ "Motorola” کمپنی میں کام کررہےتھےموٹرولا کمپنی نے اپنی حریف کمپنیوں کے قابلے میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

    1970 کی دہائی کے اوائل میں مارٹن کوپر نے سیمی کنڈکٹرز، ٹرانزسٹرز، فلٹرز اور اینٹینا کے ماہرین کی ایک ٹیم کو اکٹھا کیا جو پہلا سیل فون دنیا کے سامنے لانے کے لیے تین ماہ تک چوبیس گھنٹے کام کرتے رہے تھے۔ اس فون میں صرف 30 نمبروں کو اسٹور کیا جاسکتا تھا جب کہ اس کا وزن 1.1 کلو گرام جس سے 30 منٹ تک بات کی جاسکتی ہے کوپر نے اپنی نئی ایجاد کا جشن اپنے حریف بیل سسٹم کے ڈائریکٹر جوئیل اینجل کو فون کر کے منایا تھا موٹرولا موبائل فونز کے پہلے تجارتی ورژن کی قیمت 5 ہزار ڈالر تھی۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

  • دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 3 اپریل 1973 کو 50 سال قبل نیویارک کے شہریوں نے ایک درمیانی عمر کے شخص کو سڑک پر ایک اینٹ جیسے بڑے پلاسٹک فون ہر بات کرتے ہوئے دیکھا تھا یہ موٹرولا کے ملازم مارٹن کوپر تھے اور انہوں نےایک پروٹوٹائپ موبائل ڈیوائس سے پہلی کال کی تھی مارٹن کوپر نے مین ہیٹن کے وسط میں کھڑے ہو کر نیو جرسی میں بیل لیبز کے ہیڈ کوارٹر کو کال کی-

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    کوپر نیویارک شہر میں 53 اور 54 ویں اسٹریٹ کے درمیان سکستھ ایونیو پر 900 میگا ہرٹز بیس اسٹیشن کے قریب کھڑے ہوئے اور بیل کے ہیڈ کوارٹر کو کال کی قطع نظر، یہ کال موبائل ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک بڑا قدم تھا،اب مارٹن کوپر 94 سال کے ہوچکے ہیں اور انہیں پہلی فون کال کے بارے میں زیادہ تفصیلات یاد نہیں۔

    مارٹن کوپر کو موبائل فون کا بانی تصور کیا جاتا ہے اور 2 اپریل 1973 کو کال کے لیے پروٹوٹائپ موبائل ڈیوائس کو استعمال کیا گیا تھا مارٹن کوپر نے موبائل فون کو اس لیے تیار کیا تھا تاکہ ڈاکٹروں اور اسپتال کےعملے کے درمیان رابطوں کو بہتر بنایا جاسکےاس وقت انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ ڈیوائس کس حد تک دنیا کو بدل کر رکھ دے گی۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    ڈینا ٹیک 8000 ایکس نامی اس ڈیوائس کی تیاری پر 10 کروڑ ڈالرز خرچ ہوئے تھے اور وہ اگلے 10 برسوں تک مارکیٹ میں پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکی تھی جب اس فون کو 1983 میں پیش کیا گیا تواسےدنیا کا پہلا موبائل فون قراردیا گیا تھا جس کا وزن ایک کلوگرام سے زیادہ تھا۔

    اسے چارج کرنے کے لیے 10 گھنٹے لگتے تھے اور محض 30 منٹ تک بات کرنا ہی ممکن تھا جس کے بعد دوبارہ چارج کرنا پڑتا تھااس کی قیمت 4 ہزار ڈالرزرکھی گئی تھی جو موجودہ عہدکے 11 ہزار 500 ڈالرز(32 لاکھ پاکستانی روپے سےزائد) کے برابر ہےبیشتر کمپنیوں نے ہی اس فون کو خریدا تھا تاکہ عملے سے دفتر سے باہر بھی رابطہ کرنا ممکن ہو جائے۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    دنیا کا پہلا اسمارٹ فون 16 اگست 1994 کو معروف کمپنی آئی بی ایم نے متعارف کرایا تھا جس کا نام پہلے انیگلر رکھا گیا مگر بعد میں اسے سائمن پرسنل کمیونیکٹر کہا جانے لگا یہ مارکیٹ میں دستیاب پہلا ٹچ اسکرین فون تھا جسے اسٹائلوس یا انگلی کی مدد سے آسانی سے استعمال کیا جا سکتا تھا جبکہ اس میں کیلنڈر، کیلکولیٹر، ایڈریس بک اور نوٹ پیڈ جیسے فنکشن انسٹال تھے۔

  • کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے ارضی مشاہداتی سیٹلائٹ اور زمینی ڈیٹا کی مدد سے 60 کے قریب سائنسدانوں نے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں –

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق مطالعے میں زمین کے گرد زیرِ گردش، ناسا کاربن آبزرویٹری (رصدگاہ) یعنی او سی او ٹو اور زمین پر نصب آلات سے بھی مدد لی گئی ہے۔ یہ سروے 2015 سے 2020 تک جاری رہا تھا۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور انجذاب دونوں کے فرق کو بھی معلوم کیاگیا ہے۔

    اس فہرست میں مجموعی طور پر 100 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے جو صنعتی عمل، سواریوں اور دیگر ٹیکنالوجی کی بدولت فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی غیرمعمولی مقدار خارج کررہے ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک گرین ہاؤس گیس ہے جو کرہِ ارض پر عالمی تپش یعنی گلوبل وارمنگ کی وجہ بھی بن رہی ہے۔ نقشے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے خطے سرخ رنگ میں نمایاں ہیں جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں کو سبز رنگ میں دکھایا گیا ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست چین اور امریکہ شامل ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں میں جنگلات، سبزے کے مقامات اور دیگر مقامات شامل ہیں ناسا نے کہا ہے کہ وہ حکومتوں کو زور دیں گے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں کیونکہ ہم بہت تیزی سے مشکل ترین صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    تاہم سائنسدانوں نے بھی کہا ہے کہ قریباً 50 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ 10 برس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے لیے اپنا ڈیٹا نہیں دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسا نے سیٹلائٹ سے اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے-