Baaghi TV

Tag: ٹیکنالوجی

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹوئٹر کی سروس متاثر

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹوئٹر کی سروس متاثر

    پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں صارفین کو ٹوئٹر ٹائم لائن تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی: صارفین جب ویب ورژن یا موبائل ایپ پر ٹوئٹر کو اوپن کرتے ہیں تو ان کے سامنے ویلکم ٹو ٹوئٹر کا میسج آتا ہے مگر دیگر افراد کے ٹوئٹس نظر نہیں آتےصارفین ٹوئٹس تو کر سکتے ہیں مگر ویلکم ٹو ٹوئٹر کے نیچے لیٹس گو بٹن پر کلک کرنے کے بعد ان کے سامنے فالوورز سجیشن لسٹ آجاتی ہے۔

    ڈاؤن ڈیٹکٹر کے مطابق مختلف ممالک کے ہزاروں صارفین کی جانب سے ٹوئٹر ڈاؤن ہونے کی رپورٹ کی گئی 3 بجے سہ پہر کے بعد سے صارفین کی جانب سے ٹوئٹر میں مسائل کی نشاندہی کی گئی اور بظاہر دنیا بھر کے صارفین اس مسئلے سے متاثر ہوئے ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں کہ ٹوئٹر کی سروس کیوں متاثر ہوئی مگر اس کمپنی کے ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا جاچکا ہے جس کے باعث مختلف شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل دسمبر 2022 میں بھی ٹوئٹر کی سروس بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی تھی اس موقع پر کمپنی کی جانب سے نہیں بتایا گیا تھا کہ سروس کیوں متاثر ہوئی۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں ایلون مسک کی کمپنی ٹوئٹر کی جانب سے اپنے مزید ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے 70 فیصد سے زائد ملازمین کو نکالنے کے بعد ٹوئٹر انتظامیہ نے ہفتے کو مزید 50 ملازمین کو نوکری سے برطرف کر دیا۔

    برطرف کیے جانے والے ملازمین ٹوئٹر کی انجینئرنگ ، ایڈورٹائزنگ اور ٹوئٹر ایپ کی ٹیم کا حصہ تھے ٹوئٹر کو حالیہ برسوں میں نمایاں چیلنجز کا سامنا ہےجس میں صارفین کی کم ہوتی تعداد اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سے مقابلہ ہے۔ کمپنی کی آمدنی میں بھی کافی کمی آئی ہے۔

    گزشتہ سال نومبر میں ایلون مسک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے انتباہ جاری کی تھی کہ کمپنی مالی نقصان میں جارہی ہے،ہوسکتا ہے کہ ٹوئٹر دیوالیہ ہوجائے اخراجات کم کرنے کے لیے ایلون مسک نے ٹوئٹر کے سان فرانسسکو کے دفتر کی 100 سے زائد نایاب اشیا کی آن لائن نیلامی کی تھی۔

  • جانوروں کے گوبر سے تیار کردہ بائیو میتھین سے چلنے والا دنیا کا پہلا ٹریکٹر

    جانوروں کے گوبر سے تیار کردہ بائیو میتھین سے چلنے والا دنیا کا پہلا ٹریکٹر

    ہالینڈ کی ایک کمپنی نے جانوروں کے گوبر سے تیار کردہ بائیو میتھین سے چلنے والا دنیا کا پہلا ٹریکٹر تیار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: اغیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں گائے بھینسوں کے گوبر سے بائیو ایندھن بنایا جا رہا ہے لیکن اب ہالینڈ کی ایک کمپنی نے بائیو ایندھن سے چلنے والا ٹریکٹر بھی متعارف کرا دیا۔

    992 سال بعد نیا چاند زمین کے قریب ترین ہو گا

    میتھین گیس سے چلنے والے ٹریکٹر کو “ٹی سیون” کا نام دیا گیا ہے اور اسے “نیو ہالینڈ ایگریکلچر” اوربرطانوی کمپنی بینامان نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے تاہم اس میں براہِ راست گوبر نہیں ڈالا جاتا گوبر سے بننے والی گیس کو صاف کر کے ایل این جی کی شکل دی جاتی ہے-

    گوبر جمع کرکے اسے پتلا کرکے بڑے ٹینکوں میں ڈالا جاتا ہے جس کا درجہ حرارت منفی 162 درجے سینٹی گریڈ ہوتا ہےاس سے گیس بنتی ہے جس میں غالب حصہ میتھین کا ہوتا ہے اور پھر اسے خاص انجن والے ٹریکٹروں اور گاڑیوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے-

    مائیکرو سافٹ کا اپنے 10 ہزار ملازمین کو نکالنے کا اعلان

    خاص بات یہ کہ کسان اپنے ٹریکٹر کا ایندھن خود بنا سکیں گے اور دوسری جانب ماحول دوست زراعت کا فروغ بھی ہو سکے گا۔ اس طرح کسانوں کے اخراجات میں کمی اور بچت میں اضافہ ہو گا۔

    تاہم گوبر سے مائع ایل این جی بنانے کا عمل قدرے مہنگا ہوتا ہے۔ اس کے لیے برطانوی کمپنی نے ایک حل پیش کیا ہے۔ اس نے ایک موبائل کنورٹر بنایا ہے جو گوبر کی مناسب مقدار جمع ہونے پر وہاں پہنچ جاتا ہے اور گوبر کو بایوگیس میں بدل کر وہاں سے دوسرے کھیت تک روانہ ہوتا ہے۔ اسی کمپنی نے سستا کرایوجینک (ٹھنڈا) ٹینک بھی بنایا ہے۔

    دونوں کیمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کسان اضافی رقم بنا سکیں گے یا بچاسکیں گے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے سے چھوٹا کھیت یا فارم بھی اس عمل کو اپنے لیے ممکن اور منافع بخش بناسکتا ہے۔

    پیرو کے نیشنل پارک سے چھپکلی کی نئی قسم دریافت

  • وائر اور بجلی کے بغیر چلنے والے ٹی وی تیار

    وائر اور بجلی کے بغیر چلنے والے ٹی وی تیار

    اب ٹیلی ویژن جسے چلانے کیلئے آپ کو کسی وائر اور بجلی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    باغی ٹی وی: امریکا میں بنا تار والا یعنی وائرلیس ٹی وی تیار کر لیا گیا جسے لاس ویگاس میں کنزیومر الیکٹرونکس شو کے موقع پر متعارف کرایا گیا ہے۔

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    امریکا کی اسٹارٹ اپ ڈس کمپنی کے اس ٹی وی میں بیٹری سے پاور فراہم کی گئی ہے، 4 بیٹریوں والا یہ ٹی وی سنگل چارج پر ایک ماہ چل سکتا ہے اگر اسے میں میں 6 گھنٹے چلایا جائے، ایک ماہ بعد اسے دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت ہو گی۔

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین…

    ٹی وی میں ایکٹیو لوپ ویکیوم ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا ہے جس کی مدد سے ٹی وی کو کسی بھی سطح پر رکھ کر چلایا جاسکتا ہے۔ اس ٹی وی کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کیلئے ریموٹ کنٹرول کی بھی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ ہاتھوں کے اشاروں سے چینل چینج ہو سکے گا۔

    جس کے ٹی وی کے اوپری حصے میں ایک کیمرا نصب کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹی وی 2023 کے آخر تک فروخت کے لیے پیش کر دیا جائے گا جس کی قیمت 3 ہزار ڈالرز ہوگی۔

    آئی فون نے خاتون کی جان بچا لی

  • آئی فون نے خاتون کی جان بچا لی

    کیلیفورنیا: سمارٹ فونز کے فیچر نے ایک خاتون کی جان بچا لی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک خاتون کی گاڑی رات کے وقت سڑک سے 200 فٹ نیچے تنگ کھائی میں گر گئی اور کئی گھنٹے تک کسی کو علم بھی نہیں تھا خوش قسمتی سے ان کے پاس ایپل کا فون تھا جس میں فائنڈ مائی آئی فون فیچر تھا اور اسی کی بدولت ہی خاتون کا پتہ لگانے میں مدد ملی۔

    اینڈرائیڈ صارفین مصروفیات شیڈول کرنے والی خطرناک ایپ ٹو ڈو: ڈے مینیجر‘ کو فورا…

    رپورٹ کے مطابق فائر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں انٹرسٹیٹ پر ٹریفک حادثے کی اطلاع ملی اور ٹیم مدد کے لیے روانہ ہوئی۔ ایک شخص نے اطلاع دی تھی کہ حادثہ ہو گیا ہے اور یہ علی الصبح کا وقت تھا۔ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار بھاری ریسکیو ٹرک کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ اس میں سوار خاتون بری طرح زخمی ہو چکی تھیں۔ اہلکار ان کو تلاش کرتے رہے اور اس کے لیے سلنگ سسٹم کا استعمال کیا۔

    بعدازاں پتہ چلا کہ خاتون کی گاڑی اس سے بھی 24 گھنٹے قبل حادثے کا شکار ہوئی تھی اور جب وہ گھر نہیں پہنچیں تو ان کے گھروالوں کو تشویش ہوئی اور ان کی تلاش کے لیے ایپل فائنڈ مائی آئی فون فیچر کا استعمال کیا۔ اس پر ملنے والے سگنل پر جب پہنچے تو گاڑی نیچے کھائی میں پھنسی دکھائی دی، جس کے بعد انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ بہرحال خاتون کو گاڑی سے نکال کر ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں کچھ دیر تشویشناک حالت میں رہنے کے بعد ان کی طبعیت سنبھل گئی-

    کابل میں فوجی ہوائی اڈے کے باہر دھماکہ ، متعدد افراد جاں بحق

    فائنڈ مائی آئی فون ایک ایسا فیچر ہے جس میں فائنڈ مائی فرینڈ ایپلی کیشن کی سروسز بھی یکجا کی جا سکتی ہیں اس سے صارف کو خاندان کے افراد اور دوستوں کا پتہ لگانے میں مدد ملتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے لوکیشن بھی شیئر کی جا سکتی ہے۔

    اس کو استعمال کرنے کیلئے اپنی ڈیوائس پر ’فائنڈ مائی ایپلی کیشن‘ چلائیں، پھر مقام کے اشتراک پر کلک کریں۔ اس کے بعد اپنے نام پر کلک کریں جس کے ساتھ آپ لوکیشن شیئر کرنا چاہتے ہیں اور ان کا فون نمبر یا ای میل ایڈریس درج کریں۔

    اس میں یہ آپشن بھی ہے کہ لوکیشن کا اشتراک ایک گھنٹہ، دن کے اختتام یا غیرمعینہ مدت کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے شخص کو پیغام بھیجا جاتا ہے کہ وہ بھی لوکیشن شیئر کرے جس کے بعد نقشے کی مدد سے صحیح مقام تک پہنچا جا سکتا ہے۔

    قطرنےچین سےآنیوالےمسافروں پرمنفی پی سی آر ٹیسٹ پیش کرنے کی پابندی عائد کردی

  • واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    دنیا بھر میں مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ صارفین اب اپنے تھری ڈی اواتار بناسکیں گے یہ فیچر پہلے ہی میٹا کی دیگر ایپس فیس بک، انسٹاگرام اور میسنجر میں دستیاب تھا اور اب اسے واٹس ایپ میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    واٹس ایپ نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ ان تھری ڈی اواتار کو پروفائل فوٹو کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے گا اسی طرح صارفین کے اواتار کے مطابق 36 کاسٹیوم اسٹیکرز بھی دستیاب ہوں گے جن کو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔

    فیچر کو صارفین کے لیے متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہےآئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کو بتدریج یہ فیچر دستیاب ہوگا۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر سرچ کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلیں

    اس فیچر کے استعمال کیلئے فون میں واٹس ایپ کو اوپن کرکے تھری ڈاٹ مینیو سے سیٹنگز میں جائیں تو وہاں Avatars کا سیکشن آپ کو نظر آئے گا (اگر فیچر آپ تک پہنچ گیا ہو تو) اس سیکشن پر کلک کرے آپ اپنی پسند کے تھری ڈی اواتار کو تیار کرسکتے ہیں۔

    اسی طرح آئی او ایس یا اینڈرائیڈ پر کسی چیٹ باکس میں اسٹیکر کے آپشن پر جاکر اس اواتار کے اسٹیکرز دوستوں کو بھیج سکتے ہیں۔

    گوگل نے رواں سال سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیا کی فہرست جاری کردی

  • ایس ایم ایس  کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    ٹیکسٹ میسج بھیجنے کی سہولت کو 30 برس مکمل ہوگئے ہیں،پہلا پیغام 3 دسمبر 1992 کو برطانیہ کے برکشائر میں ووڈافون کے ایک انجینئر نے موبائل فون پر بھیجا تھا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق شارٹ میسج سروس (ایس ایم ایس) کی گزشتہ روز 30 ویں سالگرہ منائی گئی ہے 3 دسمبر 1992 کو دنیا کا پہلا ایس ایم ایس برطانیہ میں ایک بھیجا گیا تھا جس میں میری کرسمس ٹائپ کیا گیا تھا جو ایک ٹیلی کام کمپنی کے ملازم نے یہ ایس ایم ایس اپنے ڈائریکٹر کو بھیجا تھا۔

    یہ میسج کمپیوٹر کے ذریعے ٹائپ کر کے ارسال کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت تک ٹیلی فون میں کی بورڈ کی سہولت نہیں تھی جبکہ نیل پاپورتھ کو اپنے اوربیٹل 901 فون پر یہ پیغام موصول ہوا تھا جس کا وزن 2.1 کلوگرام ہے تقریباً 12 معیاری آئی فون 14s کے برابر تھا –

    بتدریج 160 حروف پر مشتمل ایس ایم ایس کا استعمال عام ہوگیا تھا اپنے عروج پر، فون صارفین نے ہر سال اربوں ایس ایم ایس – یا شارٹ میسیج سروس – پیغامات کا تبادلہ کیا، اور 2010 میں لفظ "ٹیکسٹنگ” لغت میں شامل ہوا۔

    سروس اب بھی استعمال کی جاتی ہے، حالانکہ انٹرنیٹ پر مبنی، انکرپٹڈ میسجنگ پلیٹ فارم جیسے واٹس ایپ اور آئی میسیج کہیں زیادہ مقبول ہیں۔

    Statista کے مطابق، برطانیہ میں 2021 میں 40 بلین ایس ایم ایس پیغامات بھیجے گئے، جو 2012 میں 150 بلین سے کم ہیں۔ اس کے برعکس، دنیا بھر میں روزانہ 100 بلین واٹس ایپ پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔

    چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ،امریکہ نے ایٹمی ہتھیارسے لیس جدید جنگی جہازفوج کےحوالے کردیا

    پہلا ایس ایم ایس 1992 میں ارسال کیا گیا مگر اس کا تصور 1980 کی دہائی کے شروع میں سامنے آیا تھا مگر موبائل فون پر اسے بھیجنے میں کئی سال لگے1994 میں نوکیا 2010 نامی ماڈل کے متعارف ہونے کے بعد ایس ایم ایس کا استعمال زیادہ ہونے لگا کیونکہ اس میں آسانی سے پیغام تحریر کرنا ممکن تھا۔

    90 کی دہائی کے موبائل فونز میں نمبروں والے کی بورڈ ہوتے تھے اور ہر نمبر کے ساتھ 2 یا 3 انگلش حروف منسلک ہوتے تھے مثال کے طور پر C لکھنے کے لیے 1 کے ہندسے کو 3 بار ٹائپ کرنا پڑتا تھا۔

    ایس ایم ایس کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر گوگل کی جانب سے میسجز ایپ میں گروپ چیٹس کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فیچر کے اضافے کا اعلان کیا گیا یہ فیچر انفرادی چیٹس کے لیے تو پہلے سے دستیاب تھا مگر اب گروپ چیٹس کے لیے اسے متعارف کرایا جارہا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ گوگل نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ میسجز ایپ میں صارفین بہت جلد پیغامات پر کسی ایموجی کے ذریعے ری ایکشن کا اظہار کرسکیں گے۔

    یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی…

  • روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    سائبرسیکیوریٹی کمپنی گروپ۔ آئی بی نامی ایک کمپنی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ روسی زبان بولنے والوں کو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں سب سے زیادہ کمپیوٹر ہیکنگ، پاس ورڈ چوری اور دوسروں کے کریڈٹ کارڈز کے استعمال میں قرار دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گروپ-آئی بی نے ایمیزون اور پے پال سمیت اکاؤنٹس کے پاس ورڈ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ادائیگی کے ریکارڈ اور کرپٹو بٹوے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے میلویئر استعمال کرنے والے گروپوں کی نشاندہی کی-

    ایلون مسک کی دولت میں 100 ارب ڈالرز کی کمی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ روسی زبان بولنے والے لوگوں نے رواں سال کے دوران پہلے سات ماہ میں 6300 الیکٹرنکس آلات یا مشینیوں کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے جبکہ سات لاکھ کمپیوٹرز یا دوسری چیزوں کے ‘ پاس ورڈز ‘ چوری کیے ہیں۔ اس طرح 1300 سے زیادہ افراد کےکریڈٹ کارڈز کی تفصیلات کا حصول ممکن بنایا۔ تاہم سعودی عرب میں یہ وارداتیں مقابلتاً کم ہوئی ہیں جہاں صرف 1,400 سے کم لوگوں سے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات اکٹھی کیں۔

    اسی عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات میں ہزاروں آلات بھی ہیک کیے گئے اور کریڈٹ کارڈ اور دوسرے الیکٹرانک آلات کی تفصیلات چوری کی گئیں۔

    یہ گروپ غلط آلات کے استعمال سے انفارمیشن چوری کرتے اور اس کو اپنی مرضی کے مطابق چھانٹتے ہیں۔ پھر اس انفامیشن کو سوشل میڈیا اکاونٹس کے زریعے اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔

    ‘ گروپ ۔ آئی بی ‘ اس سے پہلے بھی اسی نومبر میں بتایا تھا کہ سائبر جرائم میں ملوث عناصر نے ایک بڑی ریکروٹمنٹ کمپنی کو بھی سعودیہ میں ہیک کر لیا تاکہ اس سے متعلق افراد اور بنکوں تک رسائی ممکن بنا سکے ، یہ کام بنکوں سے رقم چوری کرنے کے لیے کیا گیا۔

    فرانس میں تاجر کے گھر پرانسپکشن کے لیے آیا ٹیکس انسپکٹر قتل

    ایک رپورٹ کے مطابق سائبر سکیورٹی فرم نے پتہ چلایا ہے کہ کمپیوٹرز سے متعلق جرائم میں ملوث افراد نے سعودی کمپنیوں کے 1000 سے زائد جعلی ورژنز بنائے۔ تاکہ لوگوں اشتہارات بذریعہ سوشل میڈیا متاثر کر سکے۔ ان عناصر نے جولائی میں سائبر کرائمز کی مہم کو زیادہ وسعت دے دی ہے۔

    گروپ-آئی بی نے جولائی میں یہ بھی انکشاف کیا کہ سائبر کرائمینلز نے مشرق وسطیٰ میں صارفین کو نشانہ بناتے ہوئے ایک وسیع پیمانے پر فشنگ مہم شروع کی تھی، جس میں 270 سے زیادہ ڈومینز کی نشاندہی کی گئی تھی جو مشہور پوسٹل سروس برانڈز کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔

    ٹرمپ کا اکاؤنٹ دوبارہ بحال کرنےکا اقدام حیران کن اورخطرناک ہے،ٹوئٹرکے اہم شراکت دار کا علیحدگی کا…

    ماضی میں دس سال قبل 2012 میں سعودی عرب کی معرف کمپنی ‘ آرامکو’ کی ہیکنگ ایک بڑا ایشو بنی تھی۔ یہ ایک بڑی ہیکنگ کا واقعہ تھا کٹنگ سورڈ آف جسٹس نامی ایک گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں تیل اور گیس کی پیداوار کو روکنے کے مقصد سے تقریباً 30,000 کمپیوٹرز کو نقصان پہنچا۔

    گروپوں نے میلویئر کا استعمال کیا جو لوگوں کےانٹرنیٹ براؤزرز، جیسےای میل سروسز اورسوشل میڈیا اکاؤنٹس میں محفوظ کردہ معلومات کو جمع کرنے کے قابل تھا۔ جب ہیکرز بینک کی تفصیلات جیسی معلومات حاصل کرتے ہیں، تو وہ اسےپیسہ اور ڈیٹا چوری کرنے یا چوری شدہ معلومات کو "سائبر کرائمینل انڈر گراؤنڈ” پر فروخت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    سعودی عرب سے اپ سیٹ شکست کے بعد لیونل میسی کا بیان سامنے آ گیا

  • زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    بوسٹن: امریکا کی کلائمیٹ ٹاسک فورس کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زمین کی سطح سے نیچے گہرائی میں موجود گرم چٹانوں کا استعمال توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کی جانے والی موجودہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر منافع بخش ادارے کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’سُپر ہاٹ راک انرجی‘ 2030 کی دہائی کے ابتداء میں کمرشل استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

    شہد کی مکھیاں اور دیگر اڑنےو الے کیڑے برساتی بادل سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتی ہیں،ماہرین

    زمین کا مرکز بہت گرم ہے کہیں مرکز میں 7,952 ڈگری اور 10,800 ڈگری فارن ہائیٹ کے درمیان۔ اگر ہم سطح سے نیچے کی کھدائی کر سکتے ہیں جسے سپر ہاٹ چٹان کہا جاتا ہے، تو ہم زمین کی حرارت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور اسے صفر کاربن کے ایک بڑے ذریعہ میں تبدیل کر سکتے ہیں

    کلین ایئر ٹاسک فورس، جو کہ ایک غیر منافع بخش آب و ہوا کی تنظیم ہے، کی جمعہ کو سامنے آنے والی ایک نئی رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ کلین، بیس لوڈ سپر ہاٹ راک انرجی کے اس زمرے میں دیگر زیرو کاربن ٹیکنالوجیز کے ساتھ لاگت سے مسابقتی ہونے کی صلاحیت ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی کی جدت کی حوصلہ افزائی کے لیے جیو تھرمل توانائی کی فنڈنگ اور پبلک پرائیوٹ شراکت داری عالمی توانائی کے نظاموں کے لیے کم لاگت والی صفر کاربن ٹیکنالوجی ثابت ہوسکتی ہے۔ جبکہ اس کے استعمال کے لیے دیگر وسائل کی نسبت کم زمین درکار ہوگی۔

    زلزلے میں ملبے تلے افراد کو بچانے کیلئے چوہے مدد کریں گے

    اس سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے زمین کی گہرائیوں میں اتنا پانی بھرا جائے گا کہ وہ ان چٹانوں تک پہنچے جن کا درجہ حرارت تقریباً 400 ڈگری سیلسیئس تک ہے۔ ان گرم چٹانوں پر پانی پہنچنے کے بعد جو بھانپ واپس آئے گی وہ جنریٹر چلائی گی۔

    جیوتھرمل توانائی کی جو قسم زیر استعمال ہے اس کا انحصار ایسی سطح کے قریب ہے جہاں درجہ حرارت اتنا گرم ہو تاکہ بھانپ بنائی جاسکے۔ اتنی گرم چٹانیں ڈھونڈنے کے لیے زمین میں 19.31 کلومیٹر تک کھدائی کرنی ہوگی۔

    کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک غیر منافع بخش جیوتھرمل تنظیم، ہاٹ راک انرجی ریسرچ آرگنائزیشن، اور ایک بین الاقوامی کلین انرجی کنسلٹنسی، LucidCatalyst، کو تجارتی پیمانے پر سپر ہاٹ راک بجلی کی سطحی لاگت کا تخمینہ لگانے کے لیے کمیشن بنایا۔

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

    انہوں نے طے کیا کہ آخر کار اس کی لاگت 20 ڈالر سے 35 ڈالر فی میگا واٹ گھنٹہ کےدرمیان ہوسکتی ہےجو آج قدرتی گیس کے پلانٹس سے حاصل ہونے والی توانائی کے مقابلے میں ہے۔

    یہ ابھی تک حقیقت نہیں ہے کلین ایئر ٹاسک فورس کے چیف جیو سائنس دان اور رپورٹ کے مصنف، بروس ہل نے سی این بی سی کو بتایا کہ فی الحال، کوئی سپر ہاٹ راک جیوتھرمل انرجی سسٹم کام اور توانائی فراہم کرنے والا نہیں ہے۔ لیکن پیسہ تحقیقی منصوبوں اور کمپنیوں میں بہہ رہا ہے جو ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں-

    عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام…

  • زلزلے میں ملبے تلے افراد کو بچانے کیلئے چوہے مدد کریں گے

    زلزلے میں ملبے تلے افراد کو بچانے کیلئے چوہے مدد کریں گے

    عمارتیں اکثر نہیں گرتی ہیں – لیکن جب وہ گرتی ہیں، تو یہ اندر پھنسے لوگوں کے لیے تباہ کن ہے۔ قدرتی آفات جیسے زلزلے اور سمندری طوفان پورے شہرکو برابر کرسکتے ہیں،عمارتیں گرنے کے نتیجے میں بیشتر افراد ملبے تلے دب کر جان سے چلے جاتے ہیں لیکن اب ماہرین زلزلے میں ریسکیو آپریشن میں آسانی کے لیے نیا تجربہ کررہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کی جانب سے قدرتی آفات میں زندگیوں کو بچانے کی خاطر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو آسان بنانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی کی مدد لی جارہی ہے جس میں چوہوں کا اہم کردار ہوگا۔

    بیلجیئم کے غیر منافع بخش APOPO کی طرف سے تصور کردہ یہ پروجیکٹ، چھوٹے، ہائی ٹیک بیگ کے ساتھ چوہوں کو نکال رہا ہے تاکہ پہلے تباہی والے علاقوں میں ملبے کے درمیان زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مدد ملے۔

    یہ پروگرام شروع کرنے والے سائنس دان ڈونا کین کا کہنا ہے کہ چوہوں میں قدرتی طور پر تجسس اور تلاش کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ان میں چھوٹی اور تنگ جگہوں میں گھسنےکی بھی صلاحیت ہوتی ہے اس لیے چوہوں کی یہ صلاحیت ان کے پروگرام کا اہم جز ہے۔

    سائنسدان کا کہنا تھا کہ یہ پراجیکٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں جس میں چوہوں کو ایک مصنوعی تباہی والے علاقے میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے کی تربیت دی جارہی ہے انہیں سب سے پہلے ایک خالی کمرے میں ہدف والے شخص کا پتہ لگانا ہے-

    APOPO Eindhoven یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک بیگ تیار کرنے کے لیے تعاون کررہا ہےڈونا کین نے کہا کہ اس پراجیکٹ کےتحت چوہوں پرایک چھوٹی بیگ پیک جیسی کٹ لگائی جائےگی اورانہیں تباہ حال علاقوں میں بھیج دیاجائےگا، کٹ میں ایک چھوٹا کیمرہ ، مائیکرو فون اور لوکیشن ٹرانسمیٹر لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے تمام تر صورتحال سے آگاہی ملتی رہے گی۔

    APOPO تنزانیہ میں اپنے اڈے پر کتوں اور چوہوں کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بارودی سرنگوں اور تپ دق کی خوشبو کا پتہ لگانے کی تربیت دے رہا ہے۔ اس کے پروگرام افریقی جائنٹ پاؤچڈ چوہوں کا استعمال کرتے ہیں، جو عام بھورے چوہے کے چار سالوں کے مقابلے میں تقریباً آٹھ سال کی قید میں رہتے ہیں۔

    جب کہ سرچ اینڈ ریسکیو پروجیکٹ صرف باضابطہ طور پر اپریل 2021 میں شروع ہوا، جب کین نے ٹیم میں شمولیت اختیار کی، APOPO برسوں سےاس خیال کوآزمانے کی کوشش کررہا تھا لیکن اس کےلیے فنڈنگ ​ کی کمی تھی۔ لیکن جب تنظیم GEA نے 2017 میں APOPO سے اپنے مشنوں میں چوہوں کے استعمال کے امکان کے بارے میں رابطہ کیا تو ٹیم نے اس خیال کو تلاش کرنا شروع کیا۔

    تلاش اور بچاؤ مشن کا ایک اہم جزو ٹیکنالوجی تھی جو پہلے جواب دہندگان کو چوہوں کے ذریعے متاثرین کے ساتھ بات چیت کرنے کی اجازت دیتی تھی۔ APOPO کے پاس یہ نہیں تھا جب تک کہ الیکٹریکل انجینئر Sander Verdiesen ملوث نہ ہو جائے۔

    Eindhoven یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں اپنے ماسٹرز کی تعلیم کے دوران "زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا اطلاق” کرنے کی تلاش میں، 2019 میں APOPO کے ساتھ انٹرن کیا اور اسے چوہے کے بیگ کا پہلا پروٹو ٹائپ بنانے کا کام سونپا گیا-

    پروٹوٹائپ ایک 3D پرنٹ شدہ پلاسٹک کنٹینر پر مشتمل تھا جس میں ایک ویڈیو کیمرہ تھا جو ایک لیپ ٹاپ پر ایک ریسیور ماڈیول کو لائیو فوٹیج بھیجتا تھا، جبکہ SD کارڈ پر ایک اعلی معیار کا ورژن بھی محفوظ کرتا تھا۔ یہ ایک نیوپرین بنیان کے ساتھ چوہوں سے منسلک ہوتا ہے، وہی مواد جو سکوبا سوٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

  • ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ٹوئٹر نے ستمبر 2022 میں ٹوئٹس ایڈٹ کرنے کے بٹن کی آزمائش شروع کی تھی اور اب یہ فیچر صارفین کو دستیاب ہے۔

    باغی ٹی وی : کمپنی کی پیڈ سروس ٹوئٹر بلیو کے سبسکرائبرزکو اس تک رسائی دی گئی ہے،کمپنی کےمطابق ٹوئٹر بلیو کے کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے صارفین اب اس فیچر کو استعمال کرسکتے ہیں، البتہ ابھی اسے امریکا میں متعارف نہیں کرایا گیا۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980429814759424?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    کمپنی نے یہ نہیں بتایا گیا کہ عام صارفین کے لیے یہ فیچر بھی مستقبل قریب میں اس فیچر کو متعارف کرایا جاسکتا ہے یا نہیں-

    کمپنی کے مطابق ٹوئٹ پوسٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اسے ایڈٹ کیا جاسکے گا ،ایڈٹ کیے جانے والے ٹوئٹس ٹائم اسٹیمپ اور لیبل کے ساتھ نظر آئیں گے جس سے پڑھنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ اوریجنل ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا گیا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980459002609674?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    ایڈٹ بٹن متعارف کرائے جانے کے بعد سب سے پہلے یہ سہولت ٹوئٹر بلیو کے صارفین کو دستیاب ہوئی کمپنی کا 4.99 ڈالر پریمیئم پلیٹ فارم ہے جہاں ٹوئٹس کا واپس لیا جانا، اشتہارات کے بغیر آرٹیکل جیسے دیگر تازہ ترین فیچر تک رسائی ہوتی ہے۔

    پہلی ترمیم شدہ ٹویٹ ٹویٹر کی پریمیم سروس ٹویٹر بلیو کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ، جو نیا فیچر حاصل کرنے والا بھی پہلا اکاؤنٹ ہے اگرچہ ابھی تک اس بارے میں واضح نہیں ہے کہ ترمیم کا بٹن کب آ رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹر عوامی طور پر اس کی جانچ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ جلد ہی ہو گا۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980495552114688?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    کمپنی کی جانب سے رواں سال کے ابتداء میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایڈٹ بٹن اس سال ستمبر میں جاری کردیا جائے گا، خیال رہے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور متعدد دیگر پلیٹ فارمز میں اس طرح کا فیچر کافی عرصے سے موجود ہے۔