Baaghi TV

Tag: پانی

  • دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے،اقوام متحدہ

    دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے،اقوام متحدہ

    دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اور 2.7 ارب انسان ایسے ہیں جنھیں سال کے کم از کم ایک مہینے میں پانی کی کم یابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں دنیا کے پانچ سو بڑے شہروں کا سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ہر چار میں سے ایک شہر ’ پانی کے دباؤ‘ سے دوچار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ وہ صورتِ حال ہے جب پانی کی سالانہ مقدار1700 مکعب میٹر (17 لاکھ لیٹر) فی کس سے کم ہو جائے۔بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ لندن میں بھی پانی کی فراہمی دباؤ کا شکار ہے۔

    ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہاں بہت بارش ہوتی ہے، لیکن لندن میں بارش کی مقدار پیرس اور نیویارک کے مقابلے میں کم ہے اور یہاں کا 80 فیصد پانی دریاؤں سے آتا ہے۔

    گریٹر لنڈن اتھارٹی کے مطابق 2025 تک شہر میں پانی کم پڑنا شروع ہو جائے گا اور یہ مسئلہ 2040 تک ’سنگین شکل‘ اختیار کر لے گا۔عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) اور اقوامِ متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے ’یونیسف‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 36 فی صد آبادی پینے کا صاف پانی استعمال کر رہی ہے۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی گزشتہ سال جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گندے پانی کا استعمال ملک میں30 فی صد بیماریوں کا سبب ہے اور 40 فی صد اموات بھی اسی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    تعلیم کے ساتھ ساتھ پانی کے ماحول کے تحفظ میں حصہ لینے کے لیے عملی سرگرمیاں بھی ہونی چاہئیں جیسے جھیل کے اطراف کوڑا کرکٹ اٹھانا، کچرا سمندر میں نہ پھینکنا۔ ان لوگوں کے لیے جو ماحولیات کے شعبے میں کام کرتے ہیں، وسیع اطلاق کے لیے گندے پانی کے علاج کے نئے طریقوں کو تلاش کرنا اور جانچنا ہمیشہ ضروری ہوتا ہے۔

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    گھروں میں پانی کی صفائی کا خیال رکھنے کے لیے شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔کوڑا کرکٹ کو وقت پر ٹھکانے لگائیں۔اسے تالابوں، جھیلوں یا ندیوں میں نہ پھینکیں۔ یونائیٹیڈ نیشن انوائرمنٹ پروگرام ( UNEP ) اقوام متحدہ کا ایک اہم ادارہ ہے۔

    اس کی ایک رپورٹ کے مطابق صنعتیں بہت زیادہ فضلہ پیدا کرتی ہیں اور ویسٹ مینجمنٹ کا مناسب نظام نہ ہونے کے باعث وہ کچرے کو میٹھے پانی میں پھینک دیتے ہیں، جو نہروں، دریاؤں اور بعد میں سمندر میں پہنچ جاتا ہے۔

    یہ فضلہ جو آبی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہے اس میں نقصان دہ کیمیکلز ہوتے ہیں جن میں لیڈ، مرکری، سلفر، نائٹریٹ، ایسبیسٹس اور بہت سے دیگر کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جو پانی اور ہمارے ماحوال کو آلودہ کرتے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں۔

    اگلی نسل کو نقصان پہنچائے بغیر زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے رہنما خطوط اور عالمی ایکشن پلان فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر شہری ترقی آبی آلودگی کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔ جب بھی ایک گنجان آبادعلاقے میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں تو زمین کی جسمانی خرابی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔

    جیسے جیسے آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اسی طرح رہائش، خوراک اور کپڑے کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ جیسے جیسے زیادہ شہر اور قصبے ترقی کر رہے ہیں، اس کے نتیجے میں زیادہ خوراک پیدا کرنے کے لیے کھادوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔

    نئی سڑکوں، مکانات اور صنعتوں کی تعمیر ڈٹرجنٹ، کیمیکلز اور اخراج کے ذریعے پانی کی صفائی کو متاثر کرتی ہے۔

    روسی سائبر حملے: درجن سے زائد امریکی ایئر پورٹس کی ویب سائٹس متاثر

    سیوریج لائنوں کے لیک ہونے سے زمینی پانی میںکلوروفارم کے ساتھ ساتھ دیگر آلودگیاں شامل ہو سکتی ہیں اور جب بروقت مرمت نہ کی جائے تو، رسنے والا پانی سطح پر آ سکتا ہے اور کیڑوں اور مچھروں کی افزائش گاہ بن سکتا ہے۔ ڈرائی کلینرز سے سیوریج لائنوں تک کلورین شدہ سالوینٹس کا اخراج بھی ان مستقل اور نقصان دہ سالوینٹس کے ساتھ آبی آلودگی کا ایک تسلیم شدہ ذریعہ ہے۔

    جب بارش ہوتی ہے تو کھادوں، کیڑے مار ادویات ،جڑی بوٹی مار ادویات لے جانے والے کھیتوں سے بہنے والا پانی بارش کے پانی میں گھل مل جاتا ہے اور ندیوں اور نہروں میں بہہ جاتا ہے، جو آبی جانوروں کے لیے شدید نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اور دیگر آلودگی والے آبی ذخائر جیسے جھیلوں، ندیوں، تالابوں ) میں پانی کی آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔

    کیمیائی کھادیں اور کیڑے مار دوائیں آبی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہیں کیونکہ یہ کیمیائی کھادیں اور کیڑے مار ادویات کاشتکار فصلوں کو کیڑوں اور بیکٹیریا سے بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    بہت سے ممالک میں، گاڑیوں کے اخراج میں عام طور پر Pb ہوتا ہے اور یہ ہوا کو مختلف ٹیل پائپ مرکبات (بشمول سلفر اور نائٹروجن مرکبات، نیز کاربن آکسائیڈز) کے ساتھ آلودہ کرتا ہے جو پانی کے ذخائر میں بارش کے پانی کے ساتھ جمع ہو کر آبی آلودگی کا باعث بن سکتے ہیں-

    میکسیکو:اسکول میں درجنوں طالب علموں کو پرسرار طور پر زہردیدیا گیا

  • بچوں کو پانی کی جگہ کیمیکل دینے کا معاملہ،ہوٹل مالک گرفتار نہ ہو سکا

    بچوں کو پانی کی جگہ کیمیکل دینے کا معاملہ،ہوٹل مالک گرفتار نہ ہو سکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے

    لاہور کے نجی ہوٹل میں بچوں کو پانی کی جگہ کیمیکل دے دیا گیا، کیمیکل کی وجہ سے ایک بچے کا ہاتھ جھلس گیا ،بچے کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، ہوٹل میں فیملی سالگرہ کی پارٹی کرنے آئی تھی تا ہم ہوٹل انتظامیہ نے سالگرہ کی خوشیوں کو ماند کر دیا، واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی گئی تو پولیس نے بچوں کے چچا کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے

    نجی ہوٹل میں بچوں کو پانی کی جگہ کیمیکل دینے کا معاملہ ، ریسٹورنٹ کے مینجر کو گرفتار کیا گیا ،ریسٹورنٹ مالک کو تاحال گرفتارنہ کیا جا سکا واقعہ میں ایک بچی کی حالت تاحال تشویشناک ہے، پولیس کے مطابق بوتل ویٹر نے دی یا بچہ سایئڈ سے خود اٹھا کر لایا تفتیش کی جا رہی ہے واقعہ تھانہ لاری اڈہ کی حدود میں واقع نجی ریسٹورنٹ میں 27 اکتوبر کو پیش آیا تھا،پولیس کا کہنا ہے کہ جلد مالک کو بھی گرفتار کر لیں گے، متاثرہ بچوں کے چچا کا کہنا ہے کہ پولیس کو فوری ایکشن لینا چاہئے اور جو بھی ذمہ دار ہے اسکے خلاف کاروائی کرنی چاہئے

    واقعہ پر شہریوں نے بھی ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے بے حسی دکھانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے کیمیکل سامنے کیوں رکھا ہوا تھا، اور کس مقصد کے لئے تھا، اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے ،پولیس کو چاہئے کہ اس ہوٹل کو سیل کرے اور جب تک تحقیقات مکمل نہ ہوں ہوٹل کو بند رکھا جائے،

    خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

  • خواجہ سعد رفیق کی پاکستان کے چھوٹے ایئرپورٹس کو فعال کرنے کی پیشکش

    خواجہ سعد رفیق کی پاکستان کے چھوٹے ایئرپورٹس کو فعال کرنے کی پیشکش

    اسلام آباد۔:وفاقی وزیر ہوابازی و ریلویز خواجہ سعد رفیق نے پاکستان کے چھوٹے ایئرپورٹس کو فعال کرنے اور مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے چینی سفیر کو بجٹ ایئرلائینز کی پی آئی اے کے ساتھ اشتراک پر غور کرنیکی پیشکش کی ہے۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کان کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق یہ پیشکش انہوں نے گزشتہ روز پاکستان میں چین کے سفیر کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کی۔

    چیئرمین ریلوے ،ایڈیشنل سیکرٹری ریلوے، سیکرٹری ایوی ایشن ، پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر بھی وفاقی وزیر کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر ایم ایل۔1 منصوبے کے جلد آغاز پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے چھوٹے ایئرپورٹس کو فعال کرنے اور مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے چینی سفیر کو بجٹ ایئرلائینز کی پی آئی اے کے ساتھ اشتراک پر غور کرنیکی پیشکش کی۔ چینی سفیر نے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا اور چینی نجی ائیر لائنز سے بات کرنے کی یقین دہانی کروائی۔چینی سفیر نے پاکستانی ائیرلائینز کے لئے پاکستان سے براہ راست بیجنگ اور گوانگ ژو پروازوں کی جلد اجازت دینے کیلئے اقدامات کی بھی یقین دہانی کرائی۔

  • سرکاری واٹر فلٹریشن پلانٹ بند،لوگ پریشان

    سرکاری واٹر فلٹریشن پلانٹ بند،لوگ پریشان

    قصور
    الہ آباد گلشن اقبال کالونی میں لگے سرکاری واٹر فلٹریشن پلانٹ سے لوگ پانی سے محروم ،ڈی سی قصور سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے قصبہ الہ آباد کی کالونی گلشن اقبال میں سرکاری واٹر سپلائی کیساتھ گورنمنٹ کی طرف سے واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی لگایا گیا ہے تاکہ لوگ پینے کا صاف پانی حاصل کر سکیں اور بیماریوں سے محفوظ رہیں تاہم عملہ نے واٹر فلٹریشن پلانٹ کو ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے
    جب جی چاہتا ہے کبھی کبھار فلٹریشن پلانٹ چلا دیا جاتا ہے ورنہ زیادہ تر بند ہی رکھا جاتا ہے
    اس بابت اہلیان علاقہ نے متعلقہ شحض کو کئی بار کہا بھی ہے تاہم کوئی فائدہ حاصل نا ہوا
    اہلیان علاقہ کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث ہمیں سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہت دور سے پانی لانا پڑتا ہے حالانکہ گورنمنٹ نے ہمیں ہمارے علاقے میں سہولت دی ہوئی ہے مگر عملہ کی نااہلی سے ہم اس سہولت سے محروم ہیں
    اہلیان علاقہ نے ڈپٹی کمشنر قصور سے فوری نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • بارشوں اورسیلابوں کے باوجود پانی پینے پرپابندی کیوں؟ریاست مسی سیپی سے اہم خبرآگئی

    بارشوں اورسیلابوں کے باوجود پانی پینے پرپابندی کیوں؟ریاست مسی سیپی سے اہم خبرآگئی

    جیکسن :پانی کی کمی بھی نہیں مگرپھر بھی پانی نہیں پینا،یہ گزارش ایک امریکی ریاست کی انتظامیہ کی ہے ،اس ریاست کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے بعد موسلا دھار بارشوں اور سیلابوں نے متعدد بڑے بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

    کچھ ایسی ہی صورتحال امریکہ میں بھی پائی جارہی ہے جہاں مستقبل قریب میں ریاست مسی سیپی کا شہر جیکسن میں جہاں سیلاب کے بعد غیر معینہ مدت تک پینے کے قابل پانی کا حصول ناممکن ہوجائے گا۔

    اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ مین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پمپ میں خرابی کے بعد ایک لاکھ 80 ہزار لوگوں کو پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آئیں اور شہریوں کو بوتلوں اور ٹینکروں کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کیا گیا۔

    مسی سیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز نے موجودہ صورتحال سے متعلق شہر میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں چلنے والے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو گزشتہ کئی سال سے خراب طریقے سے چلایا جارہا تھا اور اس کی بڑی وجہ عملہ کی کمی بھی تھی۔

    امریکی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست مسی سیپی کے دارالحکومت جیکسن میں 80 فیصد سے زیادہ آبادی سیاہ فام یا افریقی امریکیوں کی ہے۔

    پانی کی قلت کے حوالے سے مسی سیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز نے نیوزکانفرنس میں بتایا کہ دریائے پرل میں آنے والے حالیہ سیلاب کی وجہ سے بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پمپوں کو چلانے والی موٹریں حال ہی میں خراب ہوئیں جس کے بعد بیک اپ پمپس سے کام چلایا جاتا رہا تاہم اب وہ بھی خراب ہوگئے۔

    مریم نواز کا سیلاب متاثرین سے خطاب،سٹیج گر گیا، مریم بھی گر گئیں

    گورنر ٹیٹ ریوز نے خبر دار کیا کہ جب تک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا نظام ٹھیک نہیں ہوجاتا جب تک ہمارے پاس بڑے پیمانے پر بہتا ہوا پانی قابل بھروسہ نہیں ہے اور یہ کہ شہر میں آگ بجھانے کیلئے، بیت الخلاء کے استعمال کیلئے اور دیگر اہم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی کی مطلوبہ مقدار موجود نہیں۔

  • فرانسیسی قانون سازوں کی برطانوی حکومت پرشدید تنقید

    فرانسیسی قانون سازوں کی برطانوی حکومت پرشدید تنقید

    پیرس :فرانسیسی قانون سازوں کی برطانوی حکومت پرشدید تنقید ،اطلاعات کے مطابق تین فرانسیسی قانون سازوں نے شمالی سمندر میں کچے سیوریج کو پھینکنے کی اجازت دے کر ماحولیات، ماہی گیروں کی زندگی اور صحت عامہ کو زیادہ خطرے میں ڈالنے پر برطانیہ پر تنقید کی ہے۔

    اس حوالے سے ایک مشترکہ بیان میں یورپی پارلیمنٹ کے فرانسیسی اراکین نے یورپی کمیشن پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر برطانیہ کے خلاف "سیاسی اور قانونی” اقدامات کرے۔

     

    وزیراعظم شہبازشریف کا سندھ حکومت کے لیے 15 ارب رو پے گرانٹ کا اعلان

     

    انہوں نے ماحولیات کے کمشنر ورجینیجس سنکیویسیئس کو ایک خط میں لکھا ہے کہ "ہم سمندری پانی کے معیار پر منفی نتائج سے خوفزدہ ہیں جو ہم اس ملک کے ساتھ بانٹتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے ساتھ ساتھ ماہی گیری اور شیلفش فارموں پر بھی پڑتے ہیں،”

    یہ احتجاج اس وقت ہوا جب حال ہی میں انگلینڈ اور ویلز کے متعدد ساحلوں کو نہانے والوں کے لیے آلودگی کا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

    برطانیہ اب یورپی یونین کے قوانین کا پابند نہیں ہے، لیکن یہ ملک مشترکہ پانیوں کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے متعلقہ کنونشنز پر دستخط کرنے کے بعد بین الاقوامی صحت کے اصولوں کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں ،فرانسیسی قانون سازوں نے دلیل دی کہ بلاک چھوڑنے کے بعد سے اپنے ماحولیاتی وعدوں کو نظر انداز کرنے پر برطانیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

     

    مریم نواز،رانا ثنا،مولانا فضل الرحمان اور دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست ناقابل سماعت قرار

    تینوں ایم ای پیز کا تعلق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی این مارچے پارٹی سے ہے۔ ان میں سے ایک، پیری کارلیسکنڈ، یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی ماہی گیری کمیٹی کے سربراہ ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ قلیل مدت میں سیوریج کے رساؤ سے فرانسیسی ساحل پر نہانے والے پانی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس سے سمندری حیاتیاتی تنوع، ماہی گیری اور شیلفش فارمنگ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    برطانیہ میں گندے پانی کے انتظام کے نظام کو پرائیویٹائز کر دیا گیا ہے، اس لیے بیت الخلاء سے گندے پانی کو سیوریج ٹریٹمنٹ کے لیے انہی پائپوں کے ذریعے لے جایا جاتا ہے جو بارش کے پانی کی طرح بالآخر دریاؤں اور انگلش چینل میں ختم ہو جاتا ہے۔

    ” قانون سازوں نے یہ بھی کہا ہے کہ شدید بارشوں کے بعد گھروں اور عوامی مقامات کو سیلاب سے بچانے کے لیے، نظام کو ایسا ڈیزائن کیا گیا ہے کہ بغیر ٹریٹمنٹ شدہ سیوریج کو دریاؤں اور سمندر میں خارج کیا جائے۔”یہ حکومت اور ریگولیٹرز کے لیے صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ واضح ہے کہ پانی کی کمپنیاں کافی کام نہیں کر رہی ہیں۔ صحت عامہ کے خطرات ماحولیاتی اور ماحولیاتی اثرات کے علاوہ ہیں جو بہت زیادہ ضابطے کی بنیاد بناتے ہیں،

    بریکسٹ کے بعد سے انگلینڈ اور فرانس کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں، برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے گزشتہ سال اکتوبر میں پیرس کے ساتھ تلخ ماہی گیری کے تنازعہ میں تجارتی تنازعہ کی کارروائی کو متحرک کرنے کی دھمکی دی تھی، جب کہ میکرون نے جانسن سے کہا کہ "قواعد کا احترام کریں۔”

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش:19 اگست تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش:19 اگست تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    کراچی :شہر قائد میں ایک بار پھر طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 19 اگست تک جاری رہے گا،ادھر کراچی میں منگل کو بارش کا آغاز گلشن معمار، پورٹ قاسم، گلشن حدید اور اطراف کے علاقوں سے ہوا جس کے بعد شہر کے دیگر علاقوں کو بھی بتدریج بارش شروع ہوگئی۔

     

    کراچی بارشیں: پاک فوج کے جوان خدمت میں‌مصروف : شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں دن بھر وقفے وقفے سے کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ رواں برس موسم برسات میں غیر معمولی بارشوں کے باوجود انتظامیہ بدستور صرف دعوے ہی کرتی نظر آرہی ہے۔ شہر کی تمام اہم سڑکیں دور افتادہ علاقوں کے کچے راستوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔ جگہ جگہ گڑھوں اور کھلے مین ہولز کی بدولت عوام کو شدید مشکلاتے کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بھارتی ریاست راجستھان میں موجود ہوا کے کم دباؤ کی بدولت منگل کی شام سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کے نئے اسپیل سے کراچی سمیت سندھ کے بیشتر اضلاع میں 19 اگست جب کہ بلوچستان کے شمال مشرقی اور ساحلی اضلاع میں 20 اگست موسلادھار بارشوں کا امکان ہے، جس سے نشیبی علاقے زیر آب اور مقامی برساتی ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے۔

    کراچی بارشیں:عروہ حسین حکومت کے خلاف بولنے والوں برہم

    ادھرکراچی میں سرجانی ٹاؤن گرین بس سٹاپ کے قریب چار منزلہ بلڈنگ گر گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    کراچی بارشیں، شہری برقی آلات کے استعمال میں احتیاط کریں اور کھمبوں سے دور رہیں، کے…

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں گرین بس سٹاپ کے قریب واقع چار منزلہ عمارت اچانک منہدم ہوگئی جس کے ملبے تلے متعدد افراد دب گئے۔

    ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر 11 افراد کو زخمی حالت میں ملبے سے نکالا، زخمیوں کو بعد ازاں ہسپتال منتقل کر دیا گیا جن میں سے ایک شخص ہسپتال میں دم توڑ گیا، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید عمارت گرنے والے ملبے تلے دبے بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے جائے وقوعہ پر آپریشن جاری ہے۔

  • بھارت نے دریائے راوی میں پانی چھوڑ دیا، سیلاب کا خطرہ

    بھارت نے دریائے راوی میں پانی چھوڑ دیا، سیلاب کا خطرہ

    بھارت اپنی جابرانہ حرکتوں سے باز نا آیا.بھارت نے آبی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریائے راوی میں ایک لاکھ ستر ہزار کیوسک سے ذائد پانی چھوڑ دیا.جس کے نتیجے میں لاہور ،گوجرانوالہ اور ملتان کی ندی نالوں مین سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے،خطرے کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا ہے.

    انڈس حکام کا کہنا ہے کہ بھارت نے دریائے راوی میں پانی چھوڑنے کے حوالے سے پیشگی آگاہ کردیا۔انڈس حکام کے مطابق بھارت کے انڈس واٹر کمیشن کے حکام نے پاکستان کو اطلاع کردی ہے۔ بھارت نے اوجھ بیراج کے اسپل وے کھول دیے جس کے بعد ایک لاکھ 70 ہزارکیوسک کا ریلا بھارت سے پاکستان داخل ہوگا۔ حکام کے مطابق پی ڈی ایم اے نے متعلقہ محکموں کو الرٹ جاری کر دیا۔

    کوہ سلیمان تمن قیصرانی چتر وٹہ بستی سیلابی ریلے کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹ گئی

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات نے دریائے راوی میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بھارت نے اُجھ بیراج سے 1530 PST پر 1,71,797 کیوسک پانی چھوڑا ہے۔ دریائے راوی میں درمیانے سے اونچی سطح کے سیلاب کا امکان ہے۔بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کی وجہ سے دریا میں پانی کا بہاؤ اونچا ہے.

     

    حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

     

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق راوی میں اونچے بہاؤ سے گوجرانوالہ، لاہوراور ملتان ڈویژن کے ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے۔دریائے راوی سےمنسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے جس سے علاقے میں سیلاب آ سکتا ہے۔تمام اضلاع پیشگی انتظامات مکمل کریں،مشینری اور عملے کو الرٹ رکھا جائے۔تمام ادارے ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار رہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جن علاقوں میں سیلاب کا امکان ہے وہاں کے مکینوں کوجب نھی ضرورت ہو ریلیف کیمپوں یا محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے.سیلاب میں پھنسے ہوئے خاندانوں کئلئے خوراک کے بیکز کی فراہمی یقینی بنائی جائے.پی ڈی ایم اے نے مویشیوں کے انخلاء اور ان کے چارے سمیت ویکسینیشن کو بھی پقینی بنانے کی ہدایت کی.

    انڈس حکام کا کہنا ہے کہ بھارت نے دریائے راوی میں پانی چھوڑنے کے حوالے سے پیشگی آگاہ کردیا۔انڈس حکام کے مطابق بھارت کے انڈس واٹر کمیشن کے حکام نے پاکستان کو اطلاع کردی ہے۔ بھارت نے اوجھ بیراج کے اسپل وے کھول دیے جس کے بعد ایک لاکھ 70 ہزارکیوسک کا ریلا بھارت سے پاکستان داخل ہوگا۔ حکام کے مطابق پی ڈی ایم اے نے متعلقہ محکموں کو الرٹ جاری کر دیا۔

  • برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی:سوئیڈن کی اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے دنیا بھر میں موجود برساتی پانی پر لیبارٹری تجربات اور فیلڈ ورک کی تحقیق کی گئی جسے انوائرمینٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نامی تحقیقی جریدے میں شائع کیا گیا-

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زمین پر موجود برساتی پانی انسانی ساختہ خطرناک کیمیکلز کے باعث کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن رہا ہےکبھی زائل نہ ہونے والے انسانی ساختہ کیمیکلز (Forever Chemicals) برساتی پانی کو گدلا کر دیتے ہیں اور یہ کیمیکلز انسانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف انڈسٹریل علاقے ہی نہیں بلکہ یہ کیمیکلز انٹارکٹیکا اور تبت جیسے دور دراز اور ویران علاقوں میں بھی بارش کے پانی اور برف میں پائے گئے ہیں یہ انسانی ساختہ کیمیکل پر فلورواکائیل اور پولی فلورواکائیل سبسٹینسز (Perfluoroalkyl and polyfluoroalkyl substances (PFAS)) فائر فائٹنگ فوم، کھانا بنانے کے برتنوں کی نان اسٹک کوٹنگ، اور ٹیکسٹائل میں استعمال ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایف اے ایس کیمیکلز کو خودکار طریقے سے زائل ہونے میں ہزار سال لگ سکتے ہیں اور ان کیمیکلز پر ہونے والی سالوں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے انسانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ ماحولیات میں موجود مضر صحت پی ایف اے ایس کیمکلز زائل نہیں ہو رہے، اس کا سبب ان کیمیکلز کے زائل ہونے کی طویل مدت اور وہ قدرتی سائیکل ہے جو انہیں بارشوں کے ذریعے واپس ماحولیات میں لے آتا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    ماہرین کے مطابق برسات کا پانی دنیا کے کافی حصوں میں پینے کے لائق صاف پانی تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ پانی انسانی ساختہ کیمیکلز کی وجہ سے آلودہ ہو کر مضر صحت بن جاتا ہے اور انسانوں میں کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن جاتا ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب ہم دھرتی کے فطری ماحولیات کی حدود کو کراس کر چکے ہیں اور دھرتی پر کوئی ایک ایسا مقام موجود نہیں جہاں ایک انسان ان کیمیکلز کے مضر صحت اثرات سے محفوظ رہ سکے۔

    اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، تبدیلیوں کا مطلب ہے کہ بارش کے پانی میں ان کیمیکلز کی سطح "اب ہر جگہ گائیڈ لائن کی سطح سے اوپر ہے”۔

    "پچھلے 20 سالوں میں پینے کے پانی میں پی ایف اے ایس کے رہنما اصولوں میں حیران کن کمی آئی ہے،” ایان کزنز، مطالعہ کے سرکردہ مصنف اور اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر نے کہا مثال کے طور پر، پی ایف اے ایس کلاس میں ایک معروف مادے کے لیے پینے کے پانی کی گائیڈ لائن ویلیو، یعنی کینسر کا باعث بننے والا پرفلووروکٹانوک ایسڈ (PFOA)، امریکہ میں 37.5 ملین گنا کم ہوا ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ پینے کے پانی میں PFOA کے لئے تازہ ترین امریکی رہنما خطوط کی بنیاد پر، ہر جگہ بارش کے پانی کو پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا جائے گا۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

  • حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    کراچی :حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف پڑگیا اور متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب بہنے لگا ہے۔جس کی وجہ سے حکام نے اس علاقے میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے ،

    واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب حب نہرکا حصہ ٹوٹا ہے، اس نہر سےکراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب جا رہا ہے، شدید بارش کی وجہ سے یہ حصہ ٹوٹا ہے، پانی عیسٰی اور خمیسو گوٹھ میں داخل ہوسکتا ہے، ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ نہیں پہنچ سکی، ذرائع کے مطابق کراچی میں پانی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہےکہ پانی منگھوپیرکے غیر آباد علاقے میں جا رہا ہے، شگاف کو پرکرنے کے لیے مشینری لائی جارہی ہے، حب کینال کی مرمت تک پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق تاحال منگھوپیر کی کسی رہائشی آبادی کے متاثر ہونےکی اطلاع نہیں ہے۔

    اتوار کی علی الصبح سے کراچی اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔کراچی میں اس قدر بارش ہورہی ہے کہ کراچی بارش سے پانی پانی ہوگیا ہے

    کراچی میں مون سون بارشوں کا تیسرا اسپیل اپنے اثرات دکھا رہا ہے، اتوار کی علی الصبح سے شہر کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں وقفے وقفے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کے تیسرے اسپیل کے دوران اب تک سب سے زیادہ بارش آج سب سے زيادہ بارش قائد آباد ميں 86.5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔رات سے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں درمیانی بارش کا سلسلہ جاری ہے ،یوں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے ذیادہ بارش قائدآباد میں 21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی

    گڈاپ ٹاؤن20، گلشنِ حدید10، صدر9، کیماڑی8، نارتھ کراچی6.2، سعدی ٹاؤن6 ملی میٹر، جناح ٹرمینل، گلشنِ معمار، کورنگی میں 5.2، پی اے ایف فیصل بیس 4.5 ملی میٹر ایئرپورٹ اولڈ ایریا، یونیورسٹی روڈ3.6، ڈی ایچ اے فیزٹو3.4 ملی میٹر،گلشن حديد62، پی اے ايف مسرور بيس پر 54.5 ، کيماڑی ميں 54 ملی ميٹر بارش کی گئی ۔

    بارش کے پانی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے سرجانی ٹان ، نارتھ کراچی اور نیو کراچی میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔ کئی سڑکوں پر پانی جمع ہے جب کہ گڑھے جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    دوسری جانب شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو دُہری اذیت کا سامنا ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی سميت اندرون سندھ ميں بارشوں کا موجودہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہنے کی پيشگوئی کی ہے۔

    مون سون بارشوں سے متعلق محکمہ موسمیات کا تازہ الرٹ جاری

    شہر کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰٓ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بارش رحمت والی ہو زحمت نہ ہو، لوگوں سے گزارش ہے کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب بارش تیز ہوتی ہے تو سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ حکومت سندھ کے وزرا اور انتظامیہ کے لوگ سڑکوں پر ہیں، کوئی بھی صورتحال ہو انتظامیہ کو ہر جگہ موجود پائیں گے۔

    بارش برسانے والا ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم سندھ میں داخل ،محکمہ موسمیات

    شادمان نالے میں خاتون کے ڈوبنے کے واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعےکا مجھے بہت افسوس ہے، نالوں کی صفائی کا کام پورا سال چلتا رہتا ہے، شادمان نالے پر کام پہلے بھی چل رہا تھا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کی صورتحال قابو میں ہے، کراچی شہرکی سڑکیں اور انڈر پاسز کلیئر ہیں، بلدیاتی عملہ میدان میں موجود ہے، سڑکوں کے اطراف جمع پانی کی نکاسی کی جاری