Baaghi TV

Tag: پانی

  • عالمی یوم آب اور پاکستان:سچ ::سچ (علی عمران شاھین)

    عالمی یوم آب اور پاکستان:سچ ::سچ (علی عمران شاھین)

    22 مارچ دنیا بھر میں ہر سال پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پانی جو حیات و نظام حیات کی بنیاد اور بقا ہے،اس وقت دنیا کا ایک سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
    کرہ ارض پر اگرچہ کہنے لکھنے کو ٪76 پانی اور ٪24 خشکی ہے لیکن اس میں سے پینے اور استعمال کے قابل پانی بمشکل ٪3 اور باقی ماندہ سمندروں کا ناقابل استعمال کھارا زہریلا پانی ہے۔

    دنیا میں انسانی ترقی سے جیسے جیسے ماحول میں حرارت بڑھ رہی ہے ویسے ویسے پانی کی بھی تیزی سے کمی جاری ہے اور قدرتی آبی ذرائع تیزی سے خشک ہو کر سمٹ رہے اور باقی ماندہ پانی زہریلے ہورہےہیں۔

    پاکستان اس وقت دنیا میں پانی کی کمی والے ملکوں میں تیسرے نمبر پر آچکا ہے جہاں قدرتی ذرائع آب دریا،چشمے اور آبشاریں وغیرہ تیزی سے خشک ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے زیر زمین پانی کا استعمال ہر روز تیز ہورہاتو یوں اس زیر زمین پانی کی سطح بھی تیزی سے گر رہی ہے۔

    تاریخ شاہد ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہمارا بھارت کے ساتھ ایک بڑا تنازع دریائی پانی کی بندش تھا جس نے تقسیم کے چند ہی ہفتے بعد دریا روک لیے تھے، بھارت کو پاکستان پر یہ آبی سبقت یوں ملی کہ پاکستانی دریاؤں کے ہیڈ ورکس مطلب ان کی چابیاں بھارت کے حوالے کرکے اسے اپاہج بنا دیا گیا تھا۔ یوں چاروناچار پاکستان 10سال تک بھارت سے پانی خریدتا رہا تاآنکہ1960 میں جنرل ایوب خان نے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ کراچی میں سندھ طاس معاہدہ کیا۔یوں بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے 6 میں سے 3 دریا راوی،بیاس اور ستلج بھارت کو ملے تو اس نے انہیں مکمل ہی بند کر دیا جب کہ باقی ماندہ تین دریا سندھ،جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے لیکن ان سے بھی بھارت کو (بظاہر پانی روکے بغیر) زراعت و بجلی کی پیداوار وغیرہ کے لئے یہ پانی بھی استعمال کرنےکی اجازت دے دی گئی ۔ تمام ماہرین اس اس سندھ طاس معاہدہ کو اسی وجہ سے پاکستانی دریاؤں کی فروخت قرار دیتے ہیں جس نے پاکستان کے ہاتھ پاؤں مستقل ہی باندھ دئیے تھے۔

    اس معاہدے کا گارنٹر عالمی بینک تھا جب کہ معاہدے کے بدلے دس ملکی کنسورشیم نے پاکستان کو 1ارب 84 کروڑ ڈالر مہیا کرنے کا اعلان کیا جس سے پاکستان نے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا تعمیر کرنے اور وہاں سے نہریں نکال کر اپنے دیگر تین خشک دریاؤں میں پانی ڈالنا تھا ۔اس معاہدے سے ہم تین دریاؤں سے پکے پکے محروم ہوئے تو آج باقی ماندہ تینوں دریا بھی بھارتی رحم و کرم پر ہیں جہاں بڑے پیمانے پر ڈیم نہریں اور سرنگیں بنا بنا کر پانی روکا اور اس کا رخ بھی موڑا جا رہا ہے۔

    کمال حیرت کی بات یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر بھی بھارت نے اول دن سے عمل درآمد نہیں اور عالمی بینک سارے قضیے سے لاتعلق ہے البتہ پاکستان کے ساتھ بھارت کے آبی مذاکراتی شغل تماشے تب سے اب تک جاری ہیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر حالیہ مارچ کے پہلے عشرے میں بھارت کا ایک دس رکنی وفد پاکستان آکر تین دن ہمارا مفت میں وقت اور سرمایہ ضائع کرکے اور اپنی ہٹ دھرمی دکھا کر واپس جا چکا ہے۔۔۔۔۔

    ہمارے دریاؤں میں پانی کی مسلسل کمی سے ہمارے سمندر میں میٹھا پانی کم جا رہا تو سمندر ہمارے ساحلی علاقے تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے کر ہڑپ رہا ہے، زرعی علاقے اجڑ رہے اور حال تک گندم برآمد کرنے والا ملک اناج منگوانے پر مجبور ہے۔

    پانی کاعالمی دن ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور تو کررہا ہے لیکن کون سوچے کون کچھ کرے؟ اور اگر کچھ کرنا ہے تو وہ ک ش میر کی آزادی ہے جو ہمارے پانیوں کو منبع اور اسی وجہ سے شہ رگ ہے۔

  • پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    اسلام آباد:پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف،اطلاعات کے مطابق بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہندوتوا طاقتوں کی طرف سے ہمسایہ ملک پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لیے پانی کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبی وسائل کو کنٹرول کر کے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور پاکستان کے لیے دانستہ طورپر پانی کی قلت پیدا کرنے کی مذموم سازشوں میں ملوث ہے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اوراس سے پیچھے ہٹنے اور بین الاقوامی معاہدوں کو توڑنے کی کوششیں بھارت کی قومی پالیسی کاحصہ ہیں۔

    سندھ طاس معاہدے پر 1960میں دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت تین مغربی دریائوں ، سندھ ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریائوں ، راوی ، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نے کہا تھا کہ مودی حکومت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے ان تینوں دریائوں کے پانی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    بھارت پہلے ہی ان دریائوں کا تقریبا 94 فیصد پانی استعمال کر رہا ہے اور ان دریائوںکاباقی ماندہ پانی بھی پاکستان کی طرف جانے سے روکنے کیلئے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی واضح خواہش رکھتی ہے۔ ماضی میں،

    بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نتن گڈکری بھی کہہ چکے ہیں کہ ہندوانتہاپسندوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ بھارت پانی کاایک قطرہ بھی پاکستان نہ جانے دے اوریہ فیصلے حکومت کواعلی سطح پر لینے ہوں گے۔پانی روکنے کی دھمکیاں کسی بھی ملک خاص طورپر پاکستان کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہیں ۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حصے میں آنے والے دریائوں پر بھارت کی طرف سے متعددڈیم بنائے جانے کی وجہ سے آبی قلت کے دہانے پر کھڑا ہے ۔یہ ڈیم دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔

  • دریائے نیل کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل ہونے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا

    دریائے نیل کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل ہونے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا

    مصر : دریائے نیل کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل ہونے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر میں منگل کے روز دریائے نیل کے پانی کی رنگت میں اچانک تبدیلی دیکھی گئی اس بات نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

    مصریوں نے دریائے نیل کے پانی میں گدلا پن ظاہر ہوتے دیکھا جس سے ان کے دلوں میں پانی کے آلودہ ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا دریائے نیل کو ملک میں پینے کے پانی کا مرکزی ذریعہ شمار کیا جاتا ہے۔

    روس کا یو کرین پر حملہ:اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں

    مصر میں آبی وسائل کے وزیر محمد عبدالعاطی کے مطابق گدلے پن کا تعلق سیلابی پانی کی نکاسی کے نیٹ ورک سے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کا گدلا پن دو یا اس سے زیادہ دنوں میں ختم ہو جائے گا مصری وزیر کے مطابق اس گدلے پن کا پینے کے پانی کے معیار اور زرعی اراضی پر کوئی منفی اثر نہیں ہو گا۔

    روس کا حملہ یورپ میں بڑی جنگ کا آغاز بن سکتا ہے،یوکرینی صدر

    انہوں نے منگل کو وزارت کے رہنماؤں کے ساتھ منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران، جو کہ موسلا دھار بارش اور طوفانی بارشوں کی لہروں سے نمٹنے کے لیے وزارت کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہے سے کہا کہ طوفانی پانی باریک ریت سے لدے ہوتے ہیں جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر گرنے اور پہاڑوں میں اترنے کے دوران جھاڑ دیتے ہیں سیلابی نالے جو دریائے نیل پر ختم ہوتے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس گندگی کا پینے کے پانی اور زرعی زمینوں کے معیار پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

    مصر کے کئی صوبوں میں ہفتے اور اتوار کے روز موسلادھار بارشیں ہوئیں اور سیلابی ریلوں کی صورت حال دیکھی گئی اس کے نتیجے میں کئی مرکزی شاہراہیں اور بندر گاہیں بند ہو گئیں۔

    ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین…

  • چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چین کے خلائی مشن چینگ نے چاند کی سطح پر پانی کے شواہد کو دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ان مالیکیولز کی زیادہ تر تعداد سولر ونڈ امپلانٹیشن کے دوران جمع ہوئی چینی خلائی مشن نے چاند پر پانی کے مالیکیولز یا ہائیڈروآکسل کو دریافت کیا ہے جو ایچ 2 او جیسا کیمیکل ہےماہرین نے تجزیہ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی فی ملین 120 حصوں سے کم ہے، جس کے مطابق چاند کی سطح زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ خشک ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    دہائیوں تک سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے، اس وجہ سے سورج کی سخت ریڈی ایشن کے باعث پانی کے مالیکیولز کو کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا-

    ناسا نے اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ چاند کی سطح پر دریافت کیے جانے والےپانی کی مقدار کا موازنہ صحرائےاعظم صحارا سے کیا جائے تو اس صحرا میں سو گنا زیادہ مقدار میں پانی موجود ہے تاہم کم مقدار کے باوجود اس دریافت سے یہ سوال پیدا ہوتا کہ چاند کی مشکل اور ہوا سے محروم سطح پر پانی کیسے بنا اور برقرار رہا۔

    1969 میں جب پہلی بار خلا باز چاند پر پہنچے تھے تو یہ مانا جاتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خشک ہے مگر گزشتہ 20 برسوں کے دوران مختلف مشنز میں چاند کے قطبی علاقوں میں تاریکی میں چھپے گڑھوں میں برف کی تصدیق ہوئی تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ قبل ازیں گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہےعالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

  • گوادر میں بنیادی سہولیات کی جلد فراہمی:ڈی سی گوادر نے اہم فیصلے کرلیے

    گوادر میں بنیادی سہولیات کی جلد فراہمی:ڈی سی گوادر نے اہم فیصلے کرلیے

    گوادر :گوادر میں بنیادی سہولیات کی جلد فراہمی:ڈی سی گوادر نے اہم فیصلے کرلیے ،اطلاعات کے مطابق ضلع گوادر میں غیر قانونی فشنگ ٹرالنگ،باڈر ٹریڈ، چیک پوسٹوں کے خاتمہ پانی بجلی گیس کی فراہمی سمیت دیگر امور سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد بلوچ ڈی ائی جی مکران جاوید جسکانی ڈاٹریکٹر جنرل ماہی گیری طارق الرحمٰن ضلعی افسر پولیس طارق الہیٰ ،ایکسن پلبک ہیلتھ انجینئرنگ شکیل احمد بلوچ ایکسن واپڈا اور سوئی گیس کے محمد عارف بلوچ اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان اور حسین وڈایلیہ سمیت دیگر افسران اور حق دو تحریک کے کارکنوں نے شرکت کی

    اجلاس میں کہا ہے کہ ماہی گیری کے شعبہ سے ہزاروں لوگوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہے بلوچستان کے سمندر میں غیر قانونی فشنگ کی کس کو اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ اس پر مکمل طور پابندی عائد کردی گئی مقامی ماہی گیروں کے روز گار اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خاص طور پر غیر قانونی ماہی گیری کا تدارک کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے تحت محکمہ فشزیز نے ایک مختصر مدت میں ابھی تک 8 کشتیاں پکڑلیے جو غیر قانونی طور پر فشنگ کررہے تھے

    اجلاس میں بتایا گیا ہے ساحلی علاقوں میں لوگوں اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں کی ترقی ، ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور ان کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے غیر قانونی ماہی گیری سے مقامی ماہی گیروں کا روز گار بھی متاثر ہورہا ہے جلاس میں بتایا گیا ہے کہ غیرقانونی قشنگ کی روک تھام کے لئے موثر حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے ۔ اور اس کی روک تھام کیلیے اقدامات اُٹھائیں جارے ہیں اجلاس میں بتایا گیا ھے غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کیلیے حکومت بلوچستان عنقریب اپنا ایک فورس بنائے گی

    ادھر ڈاٹریکٹر جنرل ماہی گیری بلوچستان طارق الرحمٰن بلوچ نے اپنے ایک پریس بریف میں بتایا ھے کہ صوبائی حکومت غیر قانونی فشنگ کے خلاف اقدامات کررہے اور حکومت غیر قانونی فشنگ پر سنجیدہ ہے صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں وفاق اور سندھ حکومت کو بھی غیر قانونی ٹرالرنگ کے معاملے پر آن بورڈ لیا ہوا ہے ضلعی انتظامیہ فشریز اور دوسرے سکورٹی ادرے ٹرالرنگ کے خلاف بھرپور اقدامات کررہے ہیں اچھی پیش رفت ہورہی ہے مستقبل میں مزید بہتری آئیگی اب تک محکمہ فشزیز نے 8 غیرقانونی ٹرالرز کو پکڑا ھے جو محکمہ بڑی حد تک ٹرالرنگ کو روکنے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو ستر سالوں میں نہیں ہوا ہم نے کردیکھا ہے انشاءاللہ مستقبل میں غیر قانونی ٹرالرنگ کو زیرو پرسنٹ لائیں گے

  • بہترین اوقات جن میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے

    بہترین اوقات جن میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے

    پانی جتنا زیادہ پیا جائے اتنا صحت کیلئے مفید ہے انیسویں صدی کے آغاز تک زیادہ پانی پینا بری بات سمجھا جاتا تھا اونچے طبقے کے افراد زیادہ پانی پینا اپنی توہین سمجھتے تھے انہیں لگتا تھا کہ پیٹ کو پانی سے بھرنا تو غریبوں کا کام ہے۔ وہ ایسا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔

    تاہم آج کل دنیا بھر میں خوب پانی پیا جاتا ہے۔ امریکہ میں بوتل بند پانی کی مانگ سوڈے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے ایسا اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ دن رات لوگوں کو خوب پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے زیادہ پانی پینے کو اچھی صحت کا راز اور خوبصورت جلد کی وجہ بتایا جا رہا ہے اس کے علاوہ زیادہ پانی پی کر کینسر اور وزن سے چھٹکارے کے نسخے بھی عام ہیں۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    سنہ 1945 میں امریکہ میں فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ آف نیشنل ریسرچ کونسل نے بڑوں کو مشورہ دیا کہ انہیں ہر کیلوری کو ہضم کرنے کے لیے ایک ملی لیٹر پانی پینا چاہیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ دن میں دو ہزار کیلوری لینے والی خاتون ہیں تو آپ کو دو لیٹر پانی پینا چاہیے۔ ڈھائی ہزار کیلوری لینے والے مردوں کو دو لیٹر سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔

    اس میں صرف سادہ پانی شامل نہیں ہے بلکہ پھلوں، سبزیوں اور دوسری پینے کی چیزوں سے ملنے والا پانی بھی شامل ہے۔ پھلوں اور سبزیوں میں 98 فیصد تک پانی ہو سکتا ہے اس کے علاوہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پانی جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہمارے جسم کے کل وزن کا دو تہائی حصہ پانی ہی ہوتا ہے۔ پانی جسم سے خراب عناصر کو باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

    ہمارے جسم کا درجہ حرارت درست رکھنے کے لیے، جوڑوں کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے علاوہ بھی پانی کئی اہم کام کرتا ہے۔ جسم کے اندر ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں ہم پسینے، پیشاب اور سانسوں کے ذریعہ پانی جسم سے خارج کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں بے حد ضروری ہے کہ ہم جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔

    معروف میڈیکل نیوز ویب سائٹ WebMD کے مطابق 24 گھنٹوں میں کچھ اوقات ایسے ہیں جس میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے دن و رات کے ان اوقات میں پانی پینے کا فائدہ دوچند ہوجاتا ہے-

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    جب آپ کو بھوک لگ رہی ہو تو کھانا کھانے سے پہلے پانی پیئں ، جب آپ سو کر اٹھیں: کیونکہ طویل نیند کی وجہ سے آپ کا جسم ایک طرح سے روزے کی حالت میں ہوتا ہے، نہ کچھ کھایا گیا ہوتا ہے اور نہ پیا؛ جب بھی پسینے آنا شروع ہوں تو ایسی حالت میں زیادہ دیر بغیر پانی کے رہنا طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    ورزش سے پہلے، ورزش کے دوران اور ورزش کے بعد پانی پیئں طبیعت خراب ہونے کے دوران جسم میں پانی کی سطح کو برقرار رکھنا ہی بیماری سے افاقے کی کنجی ہے۔ اسہال، اُلٹی، بخار وغیرہ جسم سے پانی کی سطح کو کم کردیتے ہیں، جب آپ ہوائی جہاز میں ہوں جی ہاں! جتنی زیادہ اونچائی ہوگی ہوا میں نمی کا تناسب اتنا ہی کم ہوگا جسکی وجہ سے جہاز کی اندرونی ہوا خشک رہتی ہے کوشش کریں پانی کی بوتل اپنے ساتھ رکھیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    خواتین کیلئے مخصوص ایام کے آغاز میں جو درد کی لہریں اٹھتی ہیں یہ dehydration کا ہی نتیجہ ہوتا ہے اگر حیض سے پہلے ہی زیادہ مقدار میں پانی پینا شروع کردیا جائے تو اس تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔

    بعد دوپہر کے ہم میں سے اکثریت اپنی توانائی کسی نہ کسی کام یا سرگرمی میں صرف کرچکی ہوتی ہے تھکاوٹ محسوس ہورہی ہوتی ہے۔ ایسے میں کافی یا چائے پینے کے بجائے پانی پی لیا جائے تو وہ زیادہ فائدہ مند ہے ،سر میں درد ہونے کی سب سے عام وجہ پانی کی کمی ہی ہے دماغ کا تین چوتھائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔

    وزن گھٹانے کی پلاننگ میں پانی صرف پیٹ بھرنے والی کیلوری فری شے ہی نہیں بلکہ یہ ہاضمہ بھی اچھا کرتی ہے پانی جسم میں موجود چربی کو گُھلانے کے عمل کو تیز بھی کرتا ہے۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

  • پاکستان میں‌ پانی کی کمی : برطانوی ہائی کمشنر نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    پاکستان میں‌ پانی کی کمی : برطانوی ہائی کمشنر نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    اسلام آباد:پاکستان میں‌ پانی کی کمی : برطانوی ہائی کمشنر نے خطرے کی گھنٹی بجادی ،اطلاعات کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے خبردار نے کیا ہے کہ آئندہ دس برس میں سندھ طاس کوپانی میں 20 فیصد کمی کا سامنا ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے مارگلہ ڈائیلاگزسے خطاب کرتے ہوئے کہا مسائل کے حل میں ناکامی کے بعد ہم مسائل کو عالمی بنا دیتے ہیں، پاکستان کو اپنی تیزی سے بڑھتی آبادی کی جانب توجہ دینی ہو گی۔

    مارگلہ ڈائلاگز سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ آئندہ 10 برس میں سندھ طاس کوپانی میں 20 فیصد کمی کا سامنا ہوگا، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سیزیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے۔

    افغانستان کے حوالے سے کرسچن ٹرنر نے کہا کہ شاہ محمود کی جیو پالیٹکس سے جیواکنامکس پالیسی کی شفٹ سے اختلاف نہیں ، افغانستان پر ہمارے اہداف مشترکہ ہیں، شراکت داروں کیساتھ افغانستان میں اہداف کے حصول کی کوشش ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک مستحکم اور کثیر الجہتی افغانستان ہی ہمارا ہدف ہے، افغانستان میں کیش اور بینکوں کے کام نہ کرنے سے مسائل کاسامنا ہے، افغانستان کے امریکاکی جانب سے منجمداثاثہ جات بڑا چیلنج ہے۔

    برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاک بھارت تنا ؤمیں کمی بیحدضروری ہے، دونوں ممالک میں تناکسی کے حق میں نہیں ہو گا، کشمیر کا مسئلہ بات چیت اورعوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنا بہتر ہے۔

    فل
    CP

     

     

     

  • کوارٹرز کا پانی قبرستان میں،درجنوں قبریں مسمار

    کوارٹرز کا پانی قبرستان میں،درجنوں قبریں مسمار

    قصور
    پھولنگر کے نواح میں رہائشی کوارٹرز کا استعمال شدہ پانی قبریں مسمار کرنے لگا،اہل علاقہ کے بار بار منع کرنے کے باوجود نکاسی أب کا انتظام نا کیا گیا،درجنوں قبریں زیر آب آنے سے بیٹھ گئیں،لوگوں کی کوارٹرز مالک کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کے شہر پھول نگر کے نواح میں زندوں نے مردوں کو اذیت دینا شروع کر دی
    پھول نگر شہر کے قریبی گاؤں اڈہ سرائے چھینبہ ڈھلواں روڈ حاجی پارک میں ولی خان نے رہائشی کوارٹرز بنا رکھے ہیں جو کہ فیکٹری ملازمین کو کرایہ پر بطور رہائش دیتا ہے
    کوارٹرز کے سیوریج کا پانی ملحقہ قبرستان میں جاتا ہے اور کوارٹرز میں بارش کا کھڑا ہونے والا پانی بھی قبرسان میں نکالا جاتا ہے جس کے باعث کئی قبریں مسمار ہو گئی ہیں
    اہل علاقہ نے اس بابت خوف الہی دلاتے ہوئے ولی خان کو متعدد بار اپنے سیوریج کے پانی کی درست نکاسی کا کہا ہے تاہم ولی خان نے ہر بار ٹال مٹول سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ جو ہوتا ہے کر لو پانی نہیں بند ہو گا
    لوگ اپنے پیاروں کی قبروں کی حالت دیکھ کر سخت پریشان ہیں اور ڈپٹی کمشنر قصور آسیہ گل اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے فریاد کناں ہیں کہ اس ظالم شحض کو قبروں کی بے حرمتی سے روکا جائے

  • کالونی مالکان کا بے رحمانہ رویہ،اہل دیہہ پریشان

    کالونی مالکان کا بے رحمانہ رویہ،اہل دیہہ پریشان

    قصور
    قصور کے نواحی علاقہ اوراڑہ میں غیر قانونی بننے والی سوسائٹی سفاری گارڈن نے اہل علاقہ کا پانی بند کر دیا
    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی علاقے اوراڑہ میں بننے والی غیر قانونی سوسائٹی سفاری گارڈن نے اہل علاقہ کی سیوریج لائن بند کر دی جس سے پورے گاوں کا گندا پانی گلیوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا
    پانی جمع ہونے سے سکول جانے والے بچے، نمازی، اور عام عوام شدید پریشانی کے عالم میں ہیں۔
    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ گندگی کی وجہ سے ہمارے بچے ہیضہ، ملریا، ڈینگی جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
    اہل علاقہ نے ڈی سی قصور اور وزیر اعلی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینابند کیا جائے: پاسبان
    کینجھر جھیل کی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے: عبدالحاکم قائد

    پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے،حفاظت کی جائے، واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے-

    کراچی میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینا بند کیا جائے۔ کینجھر جھیل میں بڑھتی ہوئی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے۔ نوری آباد اور کوٹری کی فیکٹریوں سے خارج ہونے والے صنعتی فضلہ کی پانی میں آمیزش اسے زہریلا بنا رہی ہے، فوری سد باب کیا جائے۔ چیف منسٹر، گورنر ہاؤس، سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ میں منرل واٹر پر مکمل پابندی عائد کر کے کھینجر جھیل سے پانی سپلائی کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو پینے کے پانی کی آلودگی کے مسئلہ کا احساس ہو سکے۔ پانی کی صفائی کا خیال رکھا جائے، پانی کی صفائی کے نام پر مختص بجٹ کو ہڑپ ہونے سے محفوظ بنایا جائے۔ پاکستان میں واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے۔پانی کے ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ قیمتی عطیہ خداوندی ہے، اس کی حفاظت کی جائے۔

    پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں ملک پانی کی کمی اور آلودگی پر گفتگو کرتے ہوئے عبدالحاکم قائد نے مزید کہا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جسے اگلے بیس سال میں پانی کی بد ترین قلت کا سامنا ہوگا۔ پاکستان کی پچاس فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ ستر فیصد آبادی کو گھر تک پانی نہیں پہنچتا۔ پانی کی قلت اور فراہمی ایک بہت اہم ایشو ہے۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش دو سو پچیس آب گاہیں موجود ہیں جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ کراچی، ٹھٹھہ اور نوری آباد کے لاکھوں لوگوں کو پانی کی فراہمی اسی جھیل سے کی جاتی ہے۔ اس جھیل کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور اس میں آلودگی شامل ہونے کی وجہ سے اس کا پانی مضر صحت ہوتا جا رہا ہے۔ کینجھر جھیل میں فیکٹریوں کا صنعتی فضلہ پھینکا جاتا ہے اور یہی پانی کراچی اور ٹھٹھہ میں عوام کو سپلائی کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے صحت کے سنگین خطرات پیدا ہورہے ہیں جس میں جگر کی خرابی، آنکھوں کی بیماریاں، ہیپا ٹائٹس اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں۔ سندھ حکومت بے حسی اور لاپرواہی ترک کر کے خواب غفلت سے جاگ جائے۔عوام کی صحت اور جان سے کھیلنا بند کرے۔

    ہر سال لاکھوں، کروڑوں روہے پانی کی صفائی کے نام پر مختص کئے جاتے ہیں اس کے باوجود عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت پانی کیوں فراہم کیا رہا ہے؟ کینجھر جھیل کی آلودگی پر عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ محض روایتی بیانات سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ صحت مند شہری ہی اپنی صلاحیتوں سے ملک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ کمزور مومن تو خدا کو بھی پسند نہیں ہے۔اس وقت صوبے میں کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں، کتنے ناکارہ پڑے ہیں اور مزید کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کی ضرورت ہے؟ کیا صوبے اور ملک میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو اس اہم مسئلہ کا نوٹس لے، رپورٹ بنائے اور صوبائی حکومت کا احتساب کر سکے؟ گر اس اہم مسئلہ کا نوٹس نہیں لیا گیا تو حکمرانوں اور ارکان اسمبلی کو آلودہ پانی کے انجکشن لگانے کی عوامی مہم کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے#