افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے، اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔
تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟ یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔
پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے، سیکریٹری نجکاری کمیشن
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے،مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جو متعدد بار کیے جانے والے فیکٹ چیکس کے سخت دباؤ اور جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کر سکی، اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنے ہی سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی گئی ہیرا پھیری والی ویڈیو کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے کابل میں امید ایڈکشن اسپتال پر فضائی کارروائی کے الزامات حقیقت سے بعید ہیں طالبان کے دعوے 400 ہلاک اور 250 زخمی ہونے کے ہیں، تاہم حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مکمل طور پر انٹیلی جنس پر مبنی، درست اور محدود تھیں، جو دہشت گردوں کے ٹھکانے، لاجسٹک نیٹ ورک اور سرحدی حملوں میں ملوث بنیادی ڈھانچے تک محدود تھیں۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی پروپیگنڈا واضح نمونہ اختیار کر چکی ہے: دہشت گرد موجودگی سے انکار، ہدف کو اسپتال یا پناہ گاہ کے طور پر پیش کرنا، ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا،امید ایڈکشن اسپتال جیسی کہانیاں اب معمول بن چکی ہیں، ہر دہشت گرد سے منسلک مقام کو انسانی سہولت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ دعوے صرف ان مقامات پر حملوں کے بعد سامنے آتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری سے جڑے ہوتے ہیں طالبان نے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کو چھپنے کی اجازت دے رکھی ہے اور بعد میں اس کا فائدہ پروپیگنڈا اور مظلومیت کے بیانیے کے لیے اٹھا تے ہیں۔
سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تحت دہشت گرد گروپس، بشمول ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر علاقائی تنظیمیں آزادانہ ماحول میں کام کر رہی ہیں۔ 2025 میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے افغان علاقے سے انجام دیے گئے، جس سے پاکستان کو براہ راست نقصان پہنچا جن میں 1957 ہلاکتیں اور 3603 زخمی شامل ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور سفارتی راستے استعمال کیے، تاہم دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائی قانونی اور ضروری دفاع کے طور پر کی گئی۔ طالبان کی بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہلاکتوں کی رپورٹیں حقیقت میں انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں بلکہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کو بچانے اور اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی اسپتال یا شہریوں کے بارے میں نہیں، بلکہ دہشت گردی اور اس کے خلاف کارروائی میں طالبان کی عدم تعاون اور ان کے پروپیگنڈا بیانیے پر مرکوز ہے۔
بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے