Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    14 ستمبر2019 کی رات ر شمالی وزیرستان کی تحصیل سپن وام میں افواج پاکستان کے ایک پٹرولنگ دستے پر مغربی سرحد سے آنے والے دہشتگردوں نے فائرنگ کی اور دھرتی کے چار سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا ، یہ واقع بظاہر افغان انٹیلی جینس ایجنسی این ڈی ایس اور را کی سرحد پار سے کی جانے والی کاروائی لگتی ہے لیکن حقیقت میں اس کی کی کڑیاں اندرون پاکستان موجود غداروں سے بھی جا ملتی ہیں، اور ان اندرون ملک پائے جانے والے خطرات کا نام پی ٹی ایم ہے ،

    کچھ عرصہ پہلے پاکستانی عوام اس نظریے سے بے خبر اور شش و پنج میں مبتلا نظر آتے تھے کہ پاکستان کی قومی سالمیت میں پاکستان کے اندر سے بھی کوئی بڑا خطرہ ہو سکتا ہے لیکن آج پاکستان اور خاص طور پر پشتون عوام یہ جان چکے ہیں کہ پاکستان دشمنی کے بیج پی ٹی ایم اور اس جیسی دوسری جماعتیں بو رہی ہیں ، جن کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرکے پاکستان کو اندرونی انتشار میں مبتلا کر دیا جائے اور پاکستان بغیر کسی دشمن سے لڑے فنا ہو جائے، لیکن پاکستان کا نوجوان طبقہ اور پاکستان کے سائبر سپائڈرز اس بات سے کلی طور پر وقف ہیں کہ دشمن کیا چالیں چل رہا ہے،
    اس کی عکاسی ہمیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیکھنے کو مل سکتی ہے کہ کس طرح پاکستان کے نوجوان دشمن کے عزائم کو خاکستر کر رہے ہیں
    محمد قاسم صدیقی لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی یم را کہ ایجنڈا پر کام کر رہی ہے


    آر کے خٹک لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی ایم کو افواج پاکستان نے مکمل طور پر کھول کر عوام کے سامنےرکھ دیا ہے ، اور اب عوام کو چاہیے کہ وہ ان غداروں کو اپنی صفوں سے پہچانیں اور ان کا صفایا کریں
    https://twitter.com/PrinceKhyber2/status/1173593529010008066
    علی حسن نے ایک گرافک شیر کی اور کہا کہ پی ٹی ایم قبائلی عوام کی تعمیرو ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،
    https://twitter.com/alihassanirb/status/1173586904413036545
    ہنس مسرور بادوی کہتے ہیں کہ میجر جنرل آصف غفور نے کئی بار پریس کانفرنسیں کی اور ٹھوس شواہد کے سساتھ پی ٹی ایم کی انٹرنیشنل فنڈنگ کو عوام کے سامنے رکھا ،
    https://twitter.com/hansbadvi/status/1173553119416000512

  • پانی کی قلت اور ہم : علی چاند

    پانی کی قلت اور ہم : علی چاند

    انسانی زندگی کا انتہاٸی لازمی جزو پانی جس کے بغیر کوٸی بھی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا ۔ انسانی زندگی میں پانی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کھانا بنانے سے لے کر اپنے نہانے ، کپڑے دھونے ، برتن دھونے ، گھر کی صفاٸی ، اپنی ذات کی جسمانی صفاٸی کے لیے بھی پانی کا طلب گار ہے ۔ پانی کی اس اہمیت کے باوجود انسان اس قدرتی نعمت کی بے قدری کر کے اپنے لیے مختلف مساٸل پیدا کر رہا ہے ۔ پاکستان میں قدرتی آبی وساٸل کثیر تعداد میں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پانی کے ذخاٸر میں دن بدن کمی آرہی ہے ۔ اگر پانی کی قلت میں اس طرح اضافہ ہوتا رہا تو خدشہ ہے کہ ایک دن انسان کو پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہوگا اور اس قلت کی وجہ سے انسانوں اور دیگر جانداروں کا وجود خطرے میں پڑ جاٸے گا ۔پانی کی مسلسل کمی کی کچھ وجوہات درج ذیل ہیں ۔

    پانی کا غیر ضروری استعمال بڑھ رہا ہے ۔ جن علاقوں میں پانی کی صورتحال ٹھیک ہے وہاں لوگوں کی بڑی تعداد پانی کا بے دریغ استعمال کرتی ہے ۔ پانی کا نل کھلا چھوڑ دینا ، آٸے دن کپڑوں اور گھروں کا دھونا اور اس معاملے میں پانی کا ضیاع عام سی بات ہے ۔

    آبادی میں اضافہ کی وجہ سے بھی پانی کی ضرورت میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ آبادی تو مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن پانی کے ذیادہ استعمال کی وجہ سے پانی مسلسل کم ہوتا جارہا ہے ۔

    پاکستان میں ڈیمز اور پانی کے دیگر ذخاٸر کا خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومتیں اس طرف توجہ دے رہی ہیں ۔ جب کہ ہمارے دو ہمساٸیہ ممالک بھارت اور چین پانی کے ذخاٸر کے لیے آٸے دن ڈیمز تعمیر کر رہے ہیں ۔ تاکہ انہیں پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ جب کہ پاکستان میں جو بھی پارٹی برسر اقتدار آتی ہے وہ عوامی مساٸل کی بجاٸے اپنے اقتدار کو قاٸم رکھنے کی طرف توجہ دیتی ہے ۔

    پانی کے مساٸل کے حل کے لیے بناٸی گٸی ناقص پالیسیوں اور پھر ان پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھی پانی کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

    پانی کی ٹوٹی پھوٹی پاٸپ لاٸنیں بھی پانی کے ضیاع کا اہم سبب ہیں

    موسمیاتی تبدیلیاں بھی پانی کی قلت کی وجہ بن رہی ہیں ۔گرمی میں دن بدن اضافہ کی وجہ سے پانی کا استعمال ذیادہ بڑھ رہا ہے ۔

    پاکستان دنیا میں پانی کے استعمال کی وجہ سے چوتھے نمبر پر ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان گورنمنٹ سے لے کر عام آدمی تک سب کے سب اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پانی کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کریں ۔ جو پانی کثیر تعداد میں سیلاب کی صورت ہمارا جانی و مالی نقصان کرتا ہے اسے محفوظ کرنے کے منصوبے بناٸیں جاٸیں ۔ ذیادہ سے ذیادہ درخت لگاٸیں جاٸیں تاکہ گرمی کی شدت میں کمی لاٸی جاسکے ۔ پانی کے ذخاٸر کے لیے ڈیمز بناٸے جاٸیں ۔ پانی کا استعمال اسلامی تعلیمات کے مطابق کیا جاٸے ۔ حکومت کوچاہیے کہ پانی کے ذخاٸر کے حوالے سے اعلی سطحی پالیسیاں بناٸے اور ان پالیسیوں پر عمل در آمد کرواٸے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھ کر پالیسیاں بناٸے نہ کہ صرف اقتدار کی ہوس پوری کرے ۔ ٹوٹی پھوٹی پاٸپ لاٸنوں کی مرمت کی جاٸے تاکہ پانی ضاٸع ہونے سے بچ سکے ۔ فیکٹریوں کا گندہ پانی دریاٶں اور ندی نالوں میں داخل ہونے سے روکا جاٸے تاکہ جو پانی دستیاب ہے وہ تو قابل استعمال ہی رہے ۔

    ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم لوگوں نے شاید کبھی اپنے وطن کو اپنا گھر ہی نہیں سمجھا ۔ جو قوم اپنی موٹر ساٸیکل سے پیٹرول ختم ہونے کے بعد موٹر ساٸیکل کو بیچ سڑک لٹا کر چلانے کے قابل بنا لیتی ہے ، جو قوم اپنے پرانے کپڑے ضاٸع کرنے کی بجاٸے انہیں سلیپنگ ڈریس بنا لیتی ہے وہ قوم اپنے پیارے وطن کے قدرتی وساٸل کا اس طرح بے دریغ استعمال کرتی ہے جیسے لوٹ سیل لگی ہوٸی ہو ، یا پھر ہم کسی دشمن ملک پر حملہ آور ہیں کہ اسے تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران ۔ پھر ایسی عوام پر حکمران بھی ایسے مسلط کر دٸیے جاتے ہیں جیسے عذاب الہی کا نزول ہوں ۔ پھر یہی حکمران کبھی ڈیمز کے نام پر بھاری بجٹ مختص کر کے ہڑپ جاتے ہیں تو کبھی قوم سے ڈیمز کے نام پر چندہ اکٹھا کر کے ساری دنیا کے سامنے کشکول پھیلا کر پھر وہی پیسہ صرف اشتہارات پر لگا کر ختم کر دیتے ہیں ۔ اللہ پاک ہمیں عقل سلیم عطا فرماٸے تاکہ ہم اپنے وطن کو اپنا گھر سمجھ کر اس کا خیال رکھیں ، اس کے وساٸل کو تحفظ دیں اور ہم ایسے حکمران منتخب کر سکیں جو وطن پاکستان کے ساتھ مخلص ہوں ۔ آمین

  • عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    پندرہ ستمبر بروز اتوار دنیا بھر میں عالمی یوم جمہوریہ منایا گیا، جمہوریت کا انسانی حقوق سے گہرا تعلق ہے جسے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر UDHR کے آرٹیکل 21 میں واضح کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق "Democracy is fundamental building block for peace, sustainable development & human rights”. انسانی معاشرے کی فلاح کے لیے اقوام متحدہ نے ایجنڈہ 2030 تک sustainable development کے لیے سترہ اہم نکات پر کام کرنے کی ٹھان رکھی ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم و تعلیم یافتہ طبقے کی کلیدی حیثیت ہے اور بچے اس معاشرے میں Sustainable Development کا چہرہ ثابت ہوتے ہیں،
    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ "Education is the matter of life & death for nation” اور آئین پاکستان میں تعلیم کی سہولت دینا حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے آج بہتر سال گزرنے کے بعد بھی حقائق انتہائی المناک اور مایوس کن ہیں UNESCO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکول کا منہ نہیں دیکھتے جس سے روز روشن کی طرح حقیقت سب پہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ملک و قوم کی تنزلی کی اصل وجہ کیا ہے، تعلیم کی زبوں حالی کی فہرست والے ممالک کے حساب سے پاکستان افریقہ کے پسماندہ ترین و جنگ زدہ ممالک سے بھی پیچھے ہے، پاکستان کے تمام یونٹس میں صوبہ سندھ ایک ایسا یونٹ ہے جو تعلیم میں سب سے پیچھے ہے اگر سندھ کی تعلیم کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں تعلیمی پسماندگی و معذوری کے حساب سے سندھ نیچے سے ٹاپ پر ہے،
    پچھلے دنوں سیکریٹری تعلیم کو ایک نجی ٹیلیویژن چینل پر انٹرویو دیتے سنا جس میں ایسے ایسے انکشافات سامنے آئے کہ حیرانگی خود حیران ہوکر رہ گئی مگر ایک سیکریٹری تعلیم تھے کہ ان کی ڈھٹائی کو سلام ہے، سیکریٹری تعلیم نے انکشاف کیا کہ 2019 تک محکمہ تعلیم سندھ کے پاس محکمہ کا ڈیٹا ہی جعلی تھا، انہیں کچھ نہیں معلوم تھا کہ کتنے اسکول بند ہیں، کتنے کھلے ہیں، کتنے اسکولوں میں فرنیچر ہے اور کتنے اسکول بجلی پانی وغیرہ کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، کون کون سے اسکول صرف ریکارڈ میں ہیں جنکا گراونڈ پر کوئی وجود نہیں ہے، کتنی انرولمنٹ ہے، قاضی شاہد پرویز سیکریٹری تعلیم ڈھٹائی کیساتھ ہنستے ہوے بتاتے رہے کہ آفس میں بیٹھ کر افسران و سپرنٹنڈنٹ صاحبان ڈیٹا بناکر بھیج دیتے تھے، تعلیم کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوے محکمہ تعلیم سندھ نے SPSC پر عوام و دنیا کا عدم اعتماد دیکھتے ہوے ورلڈ بینک کی شراکت سے ملک کے مستند ترین اچھی ساکھ والے ادارے IBA کے زریعے ٹیسٹ کے زریعے 2000 ہیڈماسٹرز بھرتی کرنے کا اشتہار دیا جس کے لیے تقریباً بیس ہزار افراد نے درخواستیں جمع کروائیں مگر بمشکل ایک ہزار امیدوار ہی کامیاب ہوپائے،
    ان ہیڈماسٹرز سے پہلے سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مجبور سے مجبور والدین بھی اپنے بچوں کو داخل کروانا پسند نہیں کرتے تھے، سندھ کے اسکول بالخصوص پرائمری اسکول اوطاقوں، شادی ہالز، پارٹی دفاتر، گودام و مویشی کے باڑوں کے طور پہ استعمال ہوتے تھے، اساتذہ کی اکثریت کو پڑھانے سے زیادہ گپ شپ میں دلچسپی تھی، نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ تاریخی اسکولوں میں جن میں ہزاروں میں انرولمنٹ ہوا کرتی تھی کہ ڈبل ڈبل شفٹ لگانا پڑتی تھی وہاں تیس اساتذہ پینتیس طلبہ، چوبیس اساتذہ سولہ طلبہ، پچاس پچاس اساتذہ چالیس سے پچاس طلبہ کی تعداد تک آ پہنچے تھے، اساتذہ پرائیویٹ اسکولوں میں تو پڑھالیتے مگر سرکار سے بھاری تنخواہیں وصول کرکے بھی پڑھانا پسند نہ کرتے تھے، بقول سیکریٹری قاضی شاہد پرویز و منسٹر محکمہ تعلیم کے کلرک بادشاہ اور پیراشوٹی افسران آفسز میں بیٹھ کر رپورٹیں بناکر کاغذوں کا پیٹ بھرتے رہتے، جو فنڈز سرکار سے آتے وہ ہوا میں اڑ یا اڑا دئیے جاتے جبکہ اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی بینچز تک نہ ہوتیں، رہی بات پانی بجلی، لیٹرین یا دیگر سہولیات کی وہ تو سوچنا ہی محال ہے، کھیل و تفریح کے لیے فنڈز تو باقاعدگی سے جاری ہوتے رہے مگر کسی اسکول میں ایک پلاسٹک انڈہ بال تک کا وجود نہیں، اساتذہ کی بڑی تعداد ویزا سسٹم پر رہتی جنہیں منتھلی لیکر ڈیوٹی فری سہولت دے دی جاتی، ان حالات کی وجہ سے سرکاری اسکول و اساتذہ سندھ کی عوام میں اپنا اعتماد مکمل کھوچکے تھے،
    IBA کے زریعے بھرتی کردہ ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز نے اسکولوں میں آکر انتھک محنت و لگن سے کام کیا، اپنے ہاتھوں سے رنگ روغن چونا وغیرہ کیا، کچروں کے ڈھیروں کو اسکول سے یا آس پاس سے اٹھایا، کمیونٹی کے مخیّر حضرات سے مل کر اسکول میں بنیادی سہولیات کو بحال کرکے بہتر ماحول بنایا، تعلیم پر خصوصی توجہ دی جن سے کمیونٹی کا اعتماد سرکاری اسکولوں پر بحال ہونا شروع ہوا، اساتذہ کی اپنے ذاتی رسورسز پر ٹریننگز و موٹیویشنز کیں تاکہ وہ بہتر تعلیم مہیا کرسکیں، تاریخ میں پہلی بار SMC کمیٹیوں کو ایکٹیو کرکے پوری دیانتداری سے SMC فنڈز کو اسکولوں میں یوٹیلائز کیا، پرائیویٹ اسکولوں کی طرز پر اپنی مدد آپ کے تحت نرسری کلاسز کو قائم کیا، پہلی بار پرائمری سطح پر نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کو متعارف کروایا، اس کے علاوہ حقیقیططور پر گلی گلی گھر گھر پھر کر انرولمنٹ ڈرائیو مہم چلائیں جن سے ہزاروں آوٹ آف اسکول چلڈرن اسکولوں میں داخل ہوے الغرض کہ جن اسکولوں میں آئی بی اے ہیڈماسٹرز کو تعینات کیا گیا وہ کھنڈر اسکول سے ماڈل اسکول میں تبدیل ہوگئے جن کی بدولت سندھ کے سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا،
    یہ آئی بی اے ہیڈماسٹرز ہی تھے جنہوں دور دراز تک اپنے خرچ پر جا جا کر اسکول پروفائیلنگ کی جس کی بنیاد پہ محکمہ تعلیم کو پہلی بار حقیقی ڈیٹا دستیاب ہوا اور اب وہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پہ کوئی بھی پالیسی بناکر کامیاب بناسکتے ہیں، ان کی دیانتداری و شاندار کارکردگی کو نہ صرف محکمہ کے افسران بلکہ سیکریٹری و وزیر تعلیم تک سراہتے رہے ہیں اور انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرواتے رہے لیکن پھر مافیا مائنڈسیٹ کو جب کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کا ڈر ہوا تو "اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا” کے مصداق سندھ حکومت کے کرپٹ افسران و وڈیرہ شاہی حکومت نے میرٹ پہ بھرتی اور دیانتدار ہیڈماسٹروں کو ہی محکمے سے فارغ کرنے کی ٹھان لی اور ان کی نوکریوں کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جسکے خلاف ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز احتجاج کرنے کے لیے کراچی پہنچ گئے،
    پندرہ ستمبر کو کراچی پریس کلب پر کئی گھنٹے احتجاج کے بعد جب کسی حکومتی نمائندے نے ان کی ذات تک نہ پوچھی تو انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کرکے پریس کلب سے کوچ کیا، آئی بی اے ہیدماسٹرز و ہیڈمسٹریسز کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری آڑے آگئی اور ان پر تاریخ کا بدترین تشدد شروع کردیا جسکے نتیجے میں متعدد ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز زخمی ہوگئے اور بہت سارے گرفتار کرکے جیل منتقل کردئیے گئے، زخمی ہیڈماسٹرز میں دو کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے متعدد خواتین بھی شدید زخمی ہوئیں جن میں سے ایک کے بازو میں فریکچر بھی ہوگیا، عالمی یوم جمہوریہ پر سندھ حکومت نے نہتے ہیڈماسٹروں پہ تشدد کرکے دنیا میں یہ پیغام دیدیا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں، یہ وڈیرے تھے اور وڈیرے ہیں جو بات انہیں ناگوار گزریگی تو وہ یہ کسی طور پہ برداشت نہیں کرینگے،
    آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے اس کے علاوہ عالمی انسانی حقوق چارٹر میں پرامن احتجاج، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور قانونی چارہ جوئی کا حق ہر انسان کے لیے یکساں موقع ہے جبکہ سندھ حکومت کے نزدیک نہ آئین پاکستان کا احترام ہے نہ ہی کسی عالمی قانون کا، پندرہ ستمبر کے دن سندھ کی حکمران جماعت نے محض ایک شخص کی ذاتی رائے پہ مبنی بیان کو بنیاد بناکر پورے سندھ میں احتجاجی جلسے و ریلیاں نکالیں لیکن وہی حق عوام کو دینے کے لیے تیار نہیں، یہ میڈیا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کس بیدردی سے سندھ پولیس نے آئی بی اے ہیڈماسٹروں پر بہیمانہ تشدد کیا،
    میڈیا نمائندگان جوکہ کسی بھی معاشرے کی کان آنکھ اور زبان کا کردار ادا کرتے ہیں زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے جب میڈیا نے سندھ حکومت کے آئی بی اے ہیڈماسٹروں سے غیرانسانی و غیراخلاقی سلوک پر احتجاج کیا اور سوالات کیے تو ترجمان وزیراعلیٰ سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ڈھٹائی کیساتھ اس مذموم حرکت کو جائز قرار دے دیا اور انہیں مستقل نہ کیے جانے کے سوال پہ موقف دیا کہ گریڈ 17 میں کسی کو بغیر کمیشن کے بھرتی نہیں کیا جاسکتا اس لیے قانونی رکاوٹوں کے باعث انہیں مستقل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ یہی سندھ حکومت ہے جس نے وٹرنری ڈاکٹرز کو بغیر کسی تحریری امتحان کے گریڈ سترہ میں بھرتی کرکے اسمبلی بل کے زریعے مستقل کردیا، ریونیو اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے میں گریڈ سترہ میں اپنے پیاروں کو بغیر کسی کمیشن یا کسی تحریری ٹیسٹ کے بھرتی کرکے انہیں اسمبلی بل پاس کرکے مستقل کرتے ہوے نہ تو کوئی قانونی رکاوٹ پیش آئی نہ ہی کسی میرٹ کا احترام یاد آیا،
    میڈیکل کالجز یونیورسٹی اور بورڈز میں اپنے من پسند افراد و عزیز و اقارب کی بھرتی بغیر ٹیسٹ کے کرلی جائے تو بھی عین جائز و آئینی ہے، ڈاکٹرز جن سے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کی جان و صحت کا معاملہ وابستہ ہے انہیں بغیر کسی انٹرویو یا ٹیسٹ کے بس گھر بیٹھے اپائنٹمنٹ آرڈرز دئیے گئے ان سب کا قانونی جواز پیدا ہوجانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے، ان سب سے بڑھ کر تعجب و حیرانکن بات یہ کہ محکمہ قانون سندھ میں گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے اٹارنیز کو گھر بیٹھے آرڈر دیکر حال ہی میں مستقل کردیا گیا تو کوئی قانونی رکاوٹ آڑے نہیں آئی، یہ پاکستانیوں کیساتھ ساتھ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وڈیرہ شاہی کا تسلط ہے ان کے نزدیک قانونی رکاوٹیں تمام تر خرابیاں صرف میرٹ پہ بھرتی افراد کے معاملے میں ہی پیدا ہوجاتی ہیں اس کی دو اہم وجوہات ہیں ایک یہ کہ ان میں نہ انکے سیاسی غلام ہوتے ہیں نہ ہی ان کو کروڑوں روپے دیکر آئے ہوے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی جگہ نہیں جبکہ جو لوگ ان کے اپنے ہوں یا بھاری رشوت دیکر ان کرپٹ بیوروکریٹس و وڈیروں کی جیبیں گرم کرکے آئیں تو وہ عین جائز ہیں،

    آئین پاکستان کا آرٹیکل 27 تعصبانہ قانون کی مخالفت کرتا ہے ایک ہی ملک یا صوبے میں ایک طبقے کے لیے قانون کچھ اور جبکہ غریبوں و مڈل کلاس طبقے کے لیے کچھ اور، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صاحب ایک ہی صوبے میں دو قانون کیا آرٹیکل 27 کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ بیرسٹر صاحب آپکے نزدیک قانونی جوکہ اصل میں نااہل ہیں وہ تو بغیر کسی ٹیسٹ کے بھرتی ہوے جبکہ یہ ہیڈماسٹر صاحبان و ہیڈمسٹریسز تو ملک کے سب سے مستند ادارے IBA کے زریعے بھرتی ہوے ہیں اور رہی بات کمیشن SPSC کی تو اس کی ساکھ کا یہ حال ہے کہ سندھ کی عوام اسے ہاوس آف کرپشن اور سفارش کہتی ہے جسے ملک کی اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ تک نے نااہل اور کرپٹ ترین ادارے کی سند سے نوازا ہے،
    پنجاب حکومت نے ہزاروں ہیڈماسٹرز و تعلقہ ایجوکیشن افسران کو NTS کے زریعے بھرتی کیا اور مستقل کردیا، بالکل اسی طرح وفاق میں بہت سارے محکموں میں NTS و دیگر اچھی ساکھ کے اداروں کے زریعے گریڈ 17 اور 18 کی بھرتیان کنٹریکٹ پر کی گئیں جن کی مستقلی کے لیے موجودہ وفاقی حکومت نے پچھلے ماہ ہی کمیٹی تشکیل دی ہے، سندھ حکومت کو آئی بی اے ہیڈماسٹرز کی مستقلی میں قانون کی پابندی کا کوئی احترام نہیں معاملہ صرف بدنیتی پر مشتمل ہے کہ ان کے اپنے پیارے اور ان کے سیاسی غلام کوئی نہیں جس کی بنا پر سندھ حکومت اور اسکی کرپٹ بیروکریسی کو یہ لوگ برداشت نہیں،
    معلوم نہیں سندھ میں کب تک یوں ہی میرٹ کا جنازہ نکالا جاتا رہیگا؟ نجانے کب تک اندھیرنگری چوپٹ راج ایک ہی صوبے میں دو دو چار چار قانون رہینگے؟ پتہ نہیں وہ کونسا خوش نصیب دن ہوگا جب سندھ میں بھی میرٹ کی بحالی و قدر ہوگی؟ ہوگی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کریگا مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سندھ حکومت و سندھ کی بیوروکریسی میرٹ کی ازلی دشمن ہے، اخلاقی طور پر پاکستانی عوام و پاکستان کے باضمیر اشرافیہ کو سندھ میں میرٹ کی بحالی کے لیے کردار ضرور ادا کرنا چاہئے۔
    تحریر انشال راؤ

  • آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو سترہ ستمبر کو پاکستان آئیں گے

    آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو سترہ ستمبر کو پاکستان آئیں گے

    آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے چيف ايگزيکٹو اور سيکورٹي کے سربراہ ايک روزہ دورہ پر سترہ ستمبر کو پاکستان آئيں گے۔
    کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو کیون رابرٹس اور بورڈ کے سیکیورٹی کے سربراہ شان کیرول ایک روزہ دورے پر لاہور آئیں گے ۔ ايک روزہ دورے کے دوران انہیں سیکیورٹی کے حوالے سے بریفنگ بھي دی جائے گی۔
    آسٹریلیا کا وفد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمين احسان مانی اور ايم ڈي وسیم خان سے ملاقات کرے گا ۔ پی سی بی کے ذمہ دارحلقوں کا کہنا ہے کہ پی سی بی 2022 ميں پاک آسٹريليا کرکٹ سيريز کي میزبانی کا خواہش مند ہے ۔ آسٹريلين ٹيم نے آخري مرتبہ اکيس سال قبل 1998 ميں پاکستان کا دورہ کيا تھا ۔ وفد کےارکان اسلام آباد بھي جاہيں گے جہاں ان کی اعلی حکومتی عہدے داروں سے بھي ملاقات متوقع ہے۔

  • ایشین والی بال چیمپئن شپ: پاکستان نے کواٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

    ایشین والی بال چیمپئن شپ: پاکستان نے کواٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

    پاکستان ایشین والی بال چیمپئن شپ کے آخری گروپ میچ میں کویت کو شکست دے کر کواٹر فائنل میں پہنچ گیا ، پاکستان نے کویت کو 1-3 کے بڑے مارجن سے شکست دے دی ، اور کواٹر فائنل میں اپنی جگہ پکی کر لی ،
    پاکستان نے تہران میں جاری ایشین والی بال چیمپئن شپ میں کویت کو 1 کے مقابلے میں تین سیٹس سے شکست دے دی ، پاکستان کی جیت کا مارجن 19-25، 25-20 ،22-25، 16-25 رہا ،

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کا زید حامد کو برادرانہ مشورہ

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا زید حامد کو برادرانہ مشورہ

    زید حامد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ” مجھے یقین ہے کہ پاکستان ایئر فورس کو اس وقت شدید غم و غصہ تھا جب وزیراعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کیا، اس کے یقیننا پاک فضائیہ کا مورال کم ہوا ہو گا ، اور یہ سب ایک ایسی حکومت نے کیا جس کے پاس نہ کوئی ویژن ہے اور نہ جنگ لڑنے کا حوصلہ ، اور یہ فیصلہ انتہائی ایک ڈری ہوئی حکومت کا فیصلہ تھا”

    اس ٹویٹ کے جواب میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے لکھا "برائے مہربانی پاکستان کی افواج کے متعلق غلط معلومات نہ پھیلائیے، قومی دفاع کے فیصلے انتہائی سوچ بچار اور ملک کے عظیم ترین مفاد میں کیے جاتے ہیں ، آپ اس قدر باوثوق ہو کر جھوٹ پھیلا رہے ہیں خالانکہ آپ حقیقت سے ناواقف ہیں”
    https://twitter.com/peaceforchange/status/1172929178183843840

  • اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں کمی

    اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں کمی

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جولائی اور اگست کے مہینے میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ،
    موجودہ مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں اوورسیز پاکستانیوں نے کل 1.69 ارب ڈالر کی رقوم پاکستان بھجوائی ہیں جبکہ پچھلے مالی سال کے اسی دورانیے میں اوورسیز پاکستانیوں نے 2.03 ارب ڈالر کی رقم بھجوائی تھیں ، اور پچھلے مالی سال کے اسی دورانیے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی رقوم میں 33 فیصد کا کل اضافہ دیکھا گیا تھا جس کا گراف اس مالی سال میں کافی نیچے آگیا ہے ،
    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشنز کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ عید کی بعد ہونے والی چھٹیاں بھی ہو سکتی ہیں لیکن بنیادی وجہ روپے کی گراوٹ ہے ، جس کے سبب اوورسیز پاکستانیوں کے کم رقوم بھیجنے پر بھی زیادہ لوکل کرنسی ملتی ہے اس لیے اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ،

  • قائد اعظم ٹرافی: سندھ کی اوپننگ جوڑی کے درمیان 212 رنز کی شراکت

    قائد اعظم ٹرافی: سندھ کی اوپننگ جوڑی کے درمیان 212 رنز کی شراکت

    یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس کراچی میں کھیلے جانے والے میچ میں نو ٹاس قانون کا استعمال کیا گیا۔ بلوچستان کرکٹ ٹیم کے کپتان حارث سہیل نے ٹاس کیے بغیر بطور مہمان ٹیم پہلے فیلڈنگ کا انتخاب کیا۔ سندھ کی اوپننگ جوڑی نے سست رفتار بیٹنگ سے اننگ کا آغاز کیا تاہم خرم منظور 105رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے جبکہ عابد علی 120رنز بنا کر ناٹ آؤٹ ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 212رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ سعد علی 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اسد شفیق اور عابد علی سندھ کی جانب سے کل اننگ کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ بلوچستان کی جانب سے یاسر شاہ نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پہلے روز کے اختتام پر سندھ کا اسکور237 رنز رہا اور اس کے 2 کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔

  • قائداعظم ٹرافی: سدرن پنجاب کی طرف سے سمیع اسلم اورعدنان اکمل کی سینچریاں

    قائداعظم ٹرافی: سدرن پنجاب کی طرف سے سمیع اسلم اورعدنان اکمل کی سینچریاں

    قائداعظم ٹرافی کے ابتدائی راؤنڈ میں قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے میچ میں سدرن پنجاب نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ کپتان شان مسعود 26 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوگئے۔ سدرن پنجاب کی دوسری وکٹ 50، تیسری 70 اور چوتھی 74 رنز پر گری۔ تاہم اوپنر سمیع اسلم کی دوسرے اینڈ سے مزاحمت جاری رہی۔ سمیع اسلم نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں عدنان اکمل کے ساتھ مل کر 217 رنز جوڑے۔ دن کے اختتام پر سمیع اسلم نے 19 چوکوں کی مدد سے 151اور عدنان اکمل نے 14 چوکوں کی مدد سے 106 رنز بنائے ۔ دونوں کھلاڑی میچ کے دوسرے روز سدرن پنجاب کی جانب سے 291 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے کھیل کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ شان مسعود 12، عمران رفیق 5، صہیب مقصود 6 اور عمر صدیق 4 اسکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سنٹرل پنجاب کی جانب سے وقاص مقصود نے 3 اور حسن علی نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

  • فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی

    فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی

    دنیا کے سب سے پہلے فضائی میزبان ہونے کا اعزاز جرمنی سے تعلق رکھنے والے "Heinrich Kubis” کو حاصل ہے۔ ہینرچ کو یہ اعزاز مارچ 1912 میں حاصل ہوا جب اس نے جرمن ایئرلائن میں سفر کرنے والے مسافروں کی پہلی بار میزبانی کی۔
    دنیا کی پہلی ایئرہوسٹس ہونے کا اعزاز "Ellen church” کو 25 سال کی عمر میں 1930 میں حاصل ہوا جب “United Airlines” نے ان کی خدمات حاصل کیں۔ انٹرنیشنل رولز کے مطابق ائیر ہوسٹس بننے کے لئے اُن لڑکیوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو اچھی شکل و صورت کی حامل ہوں، جن کا وزن 100 سے 116 پونڈ ہو، جن کا قد 5 فٹ 4 انچ سے کم نہ ہو، ذہنی جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوں اور مقامی زبان کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں خصوصا انگریزی پر عبور حاصل ہو۔
    1936 میں ایئرہوسٹس نے باقاعدہ طور پر فضائی میزبان کی اہمیت حاصل کی اور فضائی کمپنیوں نے مرد سٹیورڈز کی نسبت ائیر ہوسٹس کو ہائر کرنے پر ترجیح دینا شروع کردی۔ انتہائی پرکشش تنخواہ و سہولیات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مفت کی سیر کی وجہ سے اس پروفیشن نے جلد ہی لڑکیوں میں مقبولیت حاصل کر لی اور کو اپنی جانب راغب کیا اور ائیر ہوسٹس کی نوکری لڑکیوں کے لئے کشش کا باعث بن گئی۔ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کی زیادہ تر لڑکیوں/خواتین کی خواہش ہوتی/رہی ہے کہ وہ ائیر ہوسٹس بن جائیں۔
    ائیر ہوسٹس اور سٹیورڈز کا شمار جہاز کے عملے میں ہوتا ہے اور ان کا براہ راست تعلق مسافروں کو دی جانے والی سہولیات سے ہے۔ ائیر ہوسٹس کا اہم کردار جہاز میں سفر کرنے والے مسافروں کو حفاظتی امور سے آگاہ کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ ائیر ہوسٹس اور فضائی عملے کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں وہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں رکھیں گے۔ اس کے علاوہ مسافروں کی صحت اور خوارک سے متعلق خیال رکھنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔
    موجودہ ہوائی/فضائی قوانین کے مطابق ہر پرواز سے پہلے ائیر ہوسٹس مسافروں کو حفاظتی بریفنگ دیتی ہیں۔ اس بریفنگ میں حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی کی صورت میں جہاز سے نکلنے کے طریقہ کار اور راستوں کی بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ہر پرواز سے قبل مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور مسافروں کو حفاظتی بیلٹ لگانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرہوسٹس اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ جہاز کے ایمرجنسی راستوں کے قریب سیٹوں پر بیٹھے مسافر کی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں عملے کے ساتھ مدد کریں گے۔ پرواز کے دوران فضائی کمپنی کی جانب سے مسافروں کو دی جانے والی سہولیات مثلاً آئی پیڈ، کمبل، کشن، فوڈ وغیرہ کا خیال رکھنا بھی ایئرہوسٹس کی ذمہ داری میں شامل ہے لیکن ائیر ہوسٹس کی سب سے اہم ذمہ داری مسافروں کی حفاظت کو بہر صورت یقینی بنانا ہے۔
    دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں فضائی میزبانوں میں لڑکیوں کی تعداد مردوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ ہر ملک کے اپنے قوانین کے تحت میں جہاز میں ایئرہوسٹس کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔ابتدا میں 50 سیٹوں سے کم تعداد کے جہاز میں ایئرہوسٹس کا ہونا لازم نہی تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ موجودہ دور میں جدید سہولیات اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تقریباً ہر جہاز میں ائیر ہوسٹس کا ہونا لازم ہے۔ بلکہ اب تو پرائیوٹ جہاز کے لئے بھی ائیر ہوسٹس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور انہیں جہاز کے عملے میں لازم وملزوم سمجھا جاتا ہے۔
    ائیر ہوسٹس کو دوران پرواز ہونے والی کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کے لئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جن میں ابتدائی طبی امداد، دوران پرواز بچے کی پیدائش، ہائی جیکنگ، کیبن میں دھواں بھر جانا، پانی پر لینڈنگ اور ہنگامی انخلا وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسافروں کو ائیر ہوسٹس و فضائی عملے کی ہدایات کے مطابق ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے تاکہ ایمرجنسی کے صورتحال پر آسانی سے قابو پایا جا سکے۔