Baaghi TV

Tag: پاکستانی فلمز

  • میرے جس بیٹے کا انتقال ہوا ہے وہ میرے سب بچوں میں لائق اور ذہین تھا ببرک شاہ

    میرے جس بیٹے کا انتقال ہوا ہے وہ میرے سب بچوں میں لائق اور ذہین تھا ببرک شاہ

    اداکار ببرک شاہ نے باغی ٹی وی سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا جو بیٹا پانی میں ڈوب کر اللہ کے حضور پیش ہوا ہے وہ میرے تمام بچوں میں لائق اور بے حد ذہین تھا.مجھے تو ایسا لگتا تھا کہ یہ بڑا ہو کر ضرور کچھ بنے گا کہ جس پہ میں فخر محسوس کروں گا. ببرک شاہ نے کہا کہ میں تو گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہوا تھا میرا بیٹا گھر کے باہر گیا سڑک کراس کرکے سامنے مچھلیاں دیکھنے چلا گیا وہاں پانی کی ٹینکی تھی جس میں ڈوب کر وہ انتقال کرگیا. صرف پندراں منٹ کے اندر اندر یہ سب ہوا. میں ڈھونڈتا ہوا بچے کو گھر سے باہر نکلا اور اسی

    جگہ پر گیا جہاں وہ اکثر جایا کرتا تھا مچھلیاں دیکھنے تو میرا بیٹا پانی میں ڈوبا ہوا تھا میں نے اسکو باہر نکالاتو میں بھانپ گیا کہ اسکے دل کی دھڑکن رک چکی ہے لیکن پھربھی آس امید لیکر ہسپتال چلاگیا تاہم ہسپتال والوں نے بھی بچے کی موت کی تصدیق کر دی. میری بد نصیبی کے اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرنے جا رہاہوں. میری اہلیہ تو بچے کی چارپائی کو چھوڑ ہی نہیں رہی تھی. ہم بے حد صدمے میں ہیں اور کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیاکیا جائے. شاید اللہ کو یہی اور ایسے ہی منظور تھا.

  • ندیم بیگ کو آج کا میوزک کیسا لگتا ہے؟

    ندیم بیگ کو آج کا میوزک کیسا لگتا ہے؟

    سینئر اداکار ندیم بیگ جن کی رواں برس فلم دم مستم ریلیز ہوئی اس میں ان کا کردار مختصر تھا لیکن شائقین نے پسند کیا وہ فلم تو بڑ ی سکرین پر جادو نہ چلا سکی. اب ندیم بیگ کی فلم ضرار ریلیز ہوئی ہے اس میں ان کا کردار بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے. ندیم بیگ نے فلم ضرار کی جم کر پروموشنز کیں .انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ میں میوزک بہت شوق سے سنتا ہوں لیکن اب لگتا ہے کہ جیسے کوئی گانا نہیں‌ گا رہا بلکہ شور ہو رہا ہے یا کوئی لڑ رہا ہے. انہوں نے کہا کہ پہلے بہت اچھا میوز ک بنتا تھا اور شاعری لکھی جاتی تھی لیکن

    اب ایسا نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ ہمارے دور کے گلوکار کمال کے تھے اگر ان کا گایا ہوا گیت کسی ہلکے ہیرو پر بھی پکچرائز ہوتا تھا تو آرٹسٹ چل جاتا تھا .انہوں نے کہا کہ میں حال میں جینے والوں میں سے ہوں ماضی میں جینے والوں میں میرا شمار نہیں ہوتا . انہوں نے کہاتاہم ماضی کی یادیں‌میرے دل میں بسی ہوئی ہیں. آج جیسے میوزک میں شور محسوس ہوتا ہمارے دور کا میوزک سمُود تھا سنے کو دل کرتا تھا اور بار بار سننے کو دل کرتا تھا .

  • حریم فاروق نے بتا دیا کہ فنکاروں  کو ٹارگٹ کیوں کیا جاتا ہے؟‌

    حریم فاروق نے بتا دیا کہ فنکاروں کو ٹارگٹ کیوں کیا جاتا ہے؟‌

    اداکارہ حریم فاروق نے حال ہی میں کہا ہے کہ فنکار سب سے زیادہ آسان ہدف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر تنقید کی جاتی ہے. جس کو بھی دیکھو وہ کسی بھی فنکار کے حوالے سے کچھ بھی کہہ دیتا ہے اور سوشل میڈیا پر بحث چل نکلتی ہے. اگر ہر کوئی فنکار پر تنقید کرتا ہے تو اسکی وجہ ہی یہ ہے کہ فنکار آسان ہدف ہوتے ہیں . انہوں نے کہا کہ ہم جتنا مرضی اچھا کام کر لیں جتنا مرضی اچھا بول لیں لیکن غلطی سے بھی ایک لفظ ادھر سے ادھر ہوجائے تو ہمیں‌نہیں‌بخشا جاتا کئی کئی دن اور مہینے ہمارا مذاق بنایا جاتا ہے جو کہ بہت ہی غلط ہے. کبھی کسی نے فنکاروں کی خوبیاں نہیں دیکھیں بس تنقید کرنےکے لئے وہ کسی ہلکی سی بھی بات کی تلاش میں رہتے ہیں . انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے میرے

    مداحوں نے ہمیشہ بہت پیار محبت دی ہے جس کی وجہ سے میں ان کی مشکور ہوں . میں کم کم اس لئے نظر آتی ہوں کیونکہ میں صرف اچھے سکرپٹس پر کام کرنے کو ترجیح دیتی ہوں چاہے اس کےلئے مجھے کتنا بھی انتظار کیوں نہ کرناپڑے. حریم فاروق نے کہا کہ بڑی سکرین ہو یا چھوٹی دونوں پر کام کرنے کےلئے بہت محنت لگتی ہے اور میرا فلم اور ڈرامے میں کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے.

  • حقیقت سے کب تک آنکھیں چرا کر سلگھتے موضوعات پر بننے والی فلموں‌پر پابندی لگاتے رہیں گے؟‌فصیح باری خنا

    حقیقت سے کب تک آنکھیں چرا کر سلگھتے موضوعات پر بننے والی فلموں‌پر پابندی لگاتے رہیں گے؟‌فصیح باری خنا

    معروف مصنف فصیح باری خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے ہاں بننے والی فلموں‌کو سپورٹ کئے جانے کی ضرورت ہے . ہم کب تک انہی معاملات میں پڑے رہیں گے کہ فلاں موضوع ٹھیک نہیں فلاں پہ بات ہو اور فلاں پہ نہ ہو. کب تک ہم نے کبوتر کی طرح‌آنکھیں بند کرکے رکھنی ہیں؟ کیا ٹرانسجینڈر ہماری سوسائٹی کا حصہ نہیں ہیں؟ کیسے انکار کر سکتے ہیں ہم ؟ فصیح باری خان نے کہا کہ ایک منٹ سے پہلے یہ فتوی لگا دینا کہ فلاں

    مواد فحش ہے فلاں دین سے متصادم ہے اس سوچ اور رویے کو تبدیل کیاجانا چاہیے . انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ جوائے لینڈ سمجھدار لوگوں نے بنائی ہے یہ فلم کسی قسم کی ذہنی عیاشی کے لئے نہیں بنائی گئی. میں نے اس فلم کو اپنے سوشل میڈیا پر مکمل سپورٹ کیا . ہمارے سنسر سے ایسے ایسے ڈانس پاس ہو چکے ہیں جو شاید فیملیوں‌کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے نہیں جا سکتے . میرا جس قسم کا سکول آف تھاٹ ہے میں بھی سمجھتا ہوں کہ کل کو میں بھی کسی سلگھتے موضوپر فلم بنائوں گا تو میرے سامنے بھی ایسی ہی مشکلات ہوں گی. ہمارے ہاں چند ایک لوگ ایسے ہیں جو صرف گھستے پٹے موضوعات دیکھنا چاہتے ہیں. انہیں سنجیدہ موضوعات پر ننے والی فلمز نہیں دیکھنی شاید .

  • ایک بہت  بڑے بجٹ کے بڑے ڈرامے پر کام کررہی ہوں سنگیتا

    ایک بہت بڑے بجٹ کے بڑے ڈرامے پر کام کررہی ہوں سنگیتا

    سینئر اداکارہ و ہدایتکارہ سنگیتا بہت کم کم تقریبات میں دکھائی دیتی ہیں حال ہی میں وہ لکس سٹائل ایوارڈز میں دکھائی دیں .سنگیتا نہایت ہی دلکش لگ رہیں تھیں. اس موقع پرانہوں‌نے کہا کہ میں تو کم کم جاتی ہوں کہیں بھی سب جانتے ہیں لیکن آج میں‌اپنی انجو (انجمن) کے لئے اس تقریب میں آئی ہوں. انجمن کو ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے . ہمارا آپس میں ہہت گہرا تعلق اور دوستی ہے. ہم دونوں کا کئی برسوں کا تعلق ہے ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برا وقت دیکھا ہے. اس موقع پر سنگیتا بیگم نے یہ بھی کہا کہ میں کسی بھی فلمی پراجیکٹ پر کام نہیں کررہی لیکن ایک ڈرامے پر کام کررہی ہوں یہ ایک بڑا ڈرامہ ہے جس کی سٹار کاسٹ‌ بھی ہیوی ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرٹ فلم

    بنانے کی خواہش ہے. جوائے لینڈ کی پابندی پر انہوں‌نے کہا کہ جو فلمیں پاکستان کا نام فخر سے بلند کررہی ہیں انہی کی نمائش پاکستان میں روک جانا افسوسناک ہے. پاکستان میں بے شک آرٹ‌مووی نہ بہت دیکھی جاتی ہے نہ بنائی جاتی ہے لیکن میں ضرور بنائوں گی اور دنیا کے بڑے فلمی میلوں‌میں پیش کروں گی. یاد رہے کہ سنگیتا کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی بہترین ہیروئنز اور ڈائریکٹرز میں ہوتا ہے.

  • وحید مرار مغرور نہیں تھے نغمہ بیگم

    وحید مرار مغرور نہیں تھے نغمہ بیگم

    چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی برسی کے موقع پر نغمہ بیگم نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ وحید مراد کے ساتھ میں نے فلم مستانہ ماہی میں بطور ہیروئین کام کیا ، وہ نہایت ہی پروفیشنل تھے ، مغرور وہ بالکل نہیں تھے جن کے ساتھ فرینکنس نہیں ہوتی تھی ان کے ساتھ بس زیادہ گھلتے ملتے نہیں تھے . وہ اپنے آپ میں رہتے تھے اگر تو اسکی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ گھر میں زرا لاڈلے تھے .نغمہ بیگم نے کہا کہ وحید مراد تو ہاتھ بھی ہلاتے تھے تو ان کا ہاتھ ہلانا بھی مشہور ہو جاتا تھا. لڑکیاں ان کی دیوانی تھیں .انہوں نے فلم بینوں کے دلوں پر راج کیا. انہوں نے کہا کہ میری ان کی آخری فلم تھی پیاری اس میں ، میں اور وحید مراد نیگیٹیو کردار کررہے تھے میں اس میں ایسی ماں دکھائی گئی تھی

    جو بیٹے کو اکساتی ہے. وحید مراد کا جب انتقال ہوا تو میں ان کو لاہور والے گھر دیکھنے کےلئے گئی تھی لیکن ان کو کولڈ سٹور میں رکھا ہوا تھا کیونکہ ان کے بیوی بچے امریکہ میں تھے ، جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تھا تو میں لیٹ پہنچنے کے باعث ان کا چہرہ نہ دیکھ سکی. وحید مراد کا انداز آج بھی مقبول ہے.

  • 25 نومبر کو ٹچ بٹن اور ضرار کا ٹاکرا

    25 نومبر کو ٹچ بٹن اور ضرار کا ٹاکرا

    مولا جٹ کو ریلیز ہوئے 6 ہفتے ہو چکے ہیں لیکن تاحال فلم کی مقبولیت برقرار ہے اور فلم نے دو سو کروڑ بزنس کر لیا ہے. اس فلم کی کامیابی سے بہت سارے فلم میکرز کا حوصلہ بڑھا ہے. 25 نومبر کو دو فلموں کا آپس میں ٹاکرا ہونے جا رہا ہے . دونوں فلمیں سینما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہیں. دونوں فلمیں ایک دوسرے کے مزاج سے کافی مختلف ہیں. ضرار ایکشن فلم ہے جبکہ ٹچ بٹن رومینٹک کامیڈی فلم ہے. ضرار میں شان شاہد ، ندیم بیگ کرن ملک جبکہ ٹچ بٹن میں ایمان علی ، فیروز خان ، فرحان سعید اور سو نیا حسین و دیگر شامل ہیں. دونوں فلموں کی پرموشنز زوو شور سے جاری ہیں. دونوں فلمیں ایک ایسے وقت میں سینما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہیں جب دا

    لیجنڈ آف مولا جٹ کی دھوم ہر طرف ہے.اس فلم کی کامیابی کے بعد شائقین دوسری فلموں‌کو کس طرح‌سے لیتے ہیں یہ چیز دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے. ضرار اور ٹچ بٹن دونوں فلموں‌کی ٹیمز کا کہنا ہے کہ ہمیں‌ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی کامیابی کی بہت خوشی ہے لیکن ہمیں ایسا کوئی ڈر خوف نہیں ہے کہ ہماری فلمیں اس فلم کی وجہ سے نہیں چلیں گی. ہر فلم کی اپنی اپنی اہمیت ہوتی ہے لہذا دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی کامیابی سے گھبراہٹ والی کوئی بات نہیں ہے.

  • سکرپٹ اچھا ملا تو ڈرامے کروں گی مدیحہ شاہ

    سکرپٹ اچھا ملا تو ڈرامے کروں گی مدیحہ شاہ

    سینئر اداکارہ مدیحہ شاہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں ڈراموں سے دور نہیں ہوئی بس اٹھاراں برس پہلے سٹیج چھوڑ‌دیا تھا اور جب چھوڑا تو سوچ لیا تھا کہ سٹیج پر دوبارہ کام نہیں کرنا. مدیحہ شاہ نے کہا کہ میں نے حال ہی میں‌فلم کی ہے جس کا نام ہے رنگ عشقے دا. مدیحہ شاہ نے کہا کہ میرا اس میں‌ کردار بہت اچھا ہے اور اس طرح کا کردار مجھے کافی عرصے کے بعد آفر ہوا. انہوں نے کہا کہ میری خاصی مصروفیت ہوتی ہے لیکن رنگ عشقے دا میں میرا کردار کافی مضبوط تھا اسلئے میں‌نے وقت نکالا. مجھے بہت خوشی ہے کہ پاکستان میں بہت اچھی فلمیں بن رہی ہیں. مدیحہ شاہ نے مزید کہا کہ آج کل کی نوجوان نسل کافی ٹیلینٹڈ ہے رنگ عشقے دا میں نئے لڑکے

    لڑکیاں‌ہیں‌ سب کے ساتھ مجھے کام کرکے بہت مزاہ آیا کیونکہ سب نے بہت اچھا کام کیا. مدیحہ شاہ نے کہا کہ یہ وقت سینما انڈسٹری کے لئے بہت اچھا ہے. اب ہر طرح کی فلم بن رہی ہے ہر طرح کے موضوع کو فلموں میں‌زیر بحث لایا جارہا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ میں کرداروں کے انتخاب کے معاملے میں بہت چوزی ہوں اور میں شروع سے ہی ایسی ہوں. میں‌نے ہمیشہ کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دی.

  • آڈینز ڈرامے اور فلم میں فرق کو سمجھیں شان شاہد کی نصیحت

    آڈینز ڈرامے اور فلم میں فرق کو سمجھیں شان شاہد کی نصیحت

    اداکار شان شاہد جو ایک دو روز سے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں دئیے بیان کی وجہ سے ہیں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ چرچا میں ہیں . انہوں نے ہمایوں سعید کو بات لگاتے ہوئے کہا کہ ادھر نہیں جائوں گی ادھر نہیں جائونگی سے نکل کر مختلف موضوعات پر فلمیں‌ بنانا ہوں گی. اب انہوں نے ایک اور بیان دیا ہے جو کہ سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے. فلم ٹی ٹونٹی ہے اور ڈرامہ میچ ہے ہمیں ان دونوں کو مکس نہیں کرنا چاہیے یہ دو مختلف فارمیٹ ہیں ان دونوں کو الگ الگ رکھیں . شان شاہد ایک بار پھر ڈرامے میں کام کرنے والوں پر طنز کررہے ہیں یا نہیں لیکن یہ بات طے

    ہے کہ وہ آڈینز کو نصیحت کررہے ہیں کہ ڈرامے اور فلم کے فارمیٹ کو سمجھیں اور ان کو الگ الگ رکھیں . واضح رہے کہ شان شاہد کی فلم ضرار 25 نومبر کو سینما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہے. شان شاہد نے اس فلم کو لکھا بھی ہے ڈائریکٹ بھی کیا ہے اور شان شاہد کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فلمیں‌بننا وقت کی اہم ضرورت ہیں . فلم میں مرکزی کردار کرنے والی لڑکی معروف ماڈ ل کرن ملک ہیں جو پہلی بار کسی فلم میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں.

  • بھارتی فلموں میں کام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی لاشانہ

    بھارتی فلموں میں کام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی لاشانہ

    پاکستانی اداکارہ لاشانہ جنہوں نے فلم، ٹی وی اور سٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا انہوں نے کم وقت میں اپنی پہچان بنائی . انہوں نے جتنا بھی کام کیا وہ یقینا شائقین کو یاد رہ گیا. لاشانہ بہت تیزی سے شوبز انڈسٹری میں آگے بڑھیں جتنی تیزی سے وہ آگے بڑھیں اتنی ہی تیزی سے وہ شوبز انڈسٹری سے غائب بھی ہوئیں. انہوں نے کئی برس کے بعد حال ہی میں ایک انٹرویودیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے ہمیشہ معیاری کام کرنے کو ترجیح دی. مجھے بھارتی فلموں میں کام کرنے کی پیشکش ہوتی رہی لیکن میرا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ میں پاکستانی ہوں تو مجھے پاکستان میں رہ کر کام کرنا چاہیے جو لوگ بھارت میں کام کررہے ہیں وہ ان کی مرضی ہے میں اس پر

    کمنٹ نہیں‌کرنا چاہتی ہر انسان اپنی مرضی میں آزاد ہوتا ہے وہ جو چاہے مرضی کرے .میرے ضمیر نے گوارہ نہیں کیا کہ میں انڈیا جا کر کام کروں اس لئے وہاں سے ہونے والی ہر پیشکش کو ٹھکرا دیا . انہوں نے کہا کہ میں جب شوبز انڈسٹری میں آئی تھی کہ تو مجھے نہیں پتہ تھا کہ لوگوں سے کیسے ڈیل کرنا ہے اس لئے مجھے بہت زیادہ نقصان بھی اٹھانا پڑا لیکن ٹھیک ہے تجربے وقت کے گزرنے کے ساتھ ہی ہوتے ہیں .