Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • سعودی عرب کی ایک اور ایئرلائن کو پاکستان کیلئے آپریشن شروع کرنے کی اجازت

    سعودی عرب کی ایک اور ایئرلائن کو پاکستان کیلئے آپریشن شروع کرنے کی اجازت

    ریاض: سعودی عرب کی ایک اور ایئر لائن کو پاکستان کے لیے آپریشن شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق سعودی آدیل ائیرلائن (Flyadeal) اپنا فلائٹ آپریشن 2 فروری سے شروع کررہی ہے، پہلی پرواز ریاض سے کراچی پہنچے گی، پروازیں کراچی ریاض اور جدہ کیلئے آپریٹ کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق آدیل ایئر کی پہلی پرواز کراچی پہنچنے پر طیارے کو ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے واٹر سلوٹ پیش کیا جائے گا، سی اے اے فلائی آدیل کو پاکستان کے لیے فضائی آپریشن کی اجازت پہلے ہی دے چکی ہے سعودی عرب کی نئی ایرلائن کے پاکستان آنے سے مسافروں کو براہ راست سفری سہولت میسر آئے گی۔

    امریکا: شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی کے باعث 500 سے زائد جانور ہلاک

    گلگت بلتستان میں پاک فوج کی جانب فری لانسنگ ہب کا قیام

    حکومت کا پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی پر عمل درآمد سخت کرنے کا فیصلہ

  • توجہ برائے وزیراعظم پاکستان، تجزیہ : شہزاد قریشی

    توجہ برائے وزیراعظم پاکستان، تجزیہ : شہزاد قریشی

    توجہ برائے وزیراعظم پاکستان ورلڈ بینک اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض ملک ہے ۔ کیا ایک مقروض ملک کو زیب دیتا ہے کہ وہ وزیروں اور مشیروںکی مزید بھرتی کرے؟ اسی ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری سے تنگ آکر انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کے لئے موت کی آغوش میں جا رہے ہیں ۔ وزیراعظم صاحب یہ فیصلہ افسوسناک ہے اس فیصلے کے اثرات مسلم لیگ(ن) بطورجماعت پر پڑیں گے ۔ کیا یہ اڑان پاکستان ہے ؟ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت پنجاب میں مریم نواز کی قیادت میں پنجاب اُڑان کر چکا ہے۔ جہاں میرٹ اور بس میرٹ پرعمل ہو رہا ہے ۔ فلاحی کاموں سے پنجاب میں (ن) لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وفاق میں نئے وزیروں ،مشیروں کی بھرتی مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت میں کمی کا باعث ہوگی۔ کیا کابینہ میں اضافے سے معیشت میں اضافہ ہوگا؟ کیا ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بے روزگاری کے اثرات کو کم کرنے کے لئے کابینہ میں اضافہ یا جا رہا ہے؟ ۔بیمار لاعلاج ہیں ،بچے تعلیم سے محروم، مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ۔ عوام غربت کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں ۔ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بدترین افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ریاست بدترین سیاسی انتشار کی زد میں ہے۔ ریاست اگر چل رہی ہے تو وہ پاک فوج اور جملہ اداروں کی وجہ سے زمینی حقائق ہے۔ کوسوں دور سیاسی گلیاروںمیں شوروغل مچا ہوا ہے۔ بے وجہ کی بیان بازیاں ،ایک دوسرے پر الزامات ،عوام میں ایک خلفشار اور بے چینی ہے جو صاف نظر آرہی ہے۔ کہیں نیکی اور پارسائی کے روپ دھار کر مذہب کے لبادے میں اپنے گناہوں اور جرائم کو چھپایا جارہا ہے ۔ کہیں جمہوریت کے نام پر جرائم کی سزائوں کو چھپانے کا سلسلہ ۔اگر عمران کی حکومت میں مہنگائی کی وجہ سے عوام چلا اُٹھے تھے تو آج شہباز اور حکومت میں شامل جماعتوں اور کے پی کے کی عوام زندہ لاشیں بن چکی ہیں۔ ملک میں اس وقت اگر تجزیہ کیا جائے تو پنجاب میں مغربی ممالک کی طرز پر پنجاب کی عوام کی خدمت کی جا رہی، فلاحی کاموں سے لے کر میرٹ نظر آرہا ہے ۔پنجاب کی عوام اگر سُکھ کا سانس لے رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ وزیراعلیٰ پنجاب کی پشت پر میاں نواز شریف کھڑے ہیں جنہوں نے 1985 ء میں اور پھر تین بار وزارت عظمیٰ کے دوران میگا پراجیکٹس اور دیگرترقیاتی کام کئے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،شہباز شریف

    چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،شہباز شریف

    لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ اور اسمال اینڈ میڈیم اینٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) سے متعلق اجلاس ہوا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعتوں کو گلوبل سپلائی چین کا حصہ بنانے کے حوالے سے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے، ایس ایم ایز کی ترقی کے حوالے سے وفاق اور تمام صوبے مل کر کام کریں اجلاس کو سمیڈا کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی اور آگاہ کیا گیا ہےکہ وزیراعظم کی ہدایت پر سمیڈا کے بورڈ کی تشکیل ہو چکی ہے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

    ننکانہ : پاکستان عالمی دباؤ کا شکار، معیشت تباہ ہوچکی ہے، چوہدری محمد سرور

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ملک میں ایس ایم ایز سیکٹر کی ترقی کے لیے بین الاقوامی معیار کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہےایس ایم ایز سیکٹر کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز کو بھی شامل کر دیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بینکوں کو ہدایات کی گئی ہیں کہ ایس ایم ایز کو قرض کی فراہمی کے حوالے سے بینک فارمز کو مزید آسان اور سہل بنایا جائے۔

    تربت میں ایف سی کی بس پر بم حملہ، کنڈکٹر سمیت 4 افراد جاں بحق، 35 زخمی

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے ایس ایم ایز سیکٹر کی ترقی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سے رابطے مزید بہتر بنائے ہیں ایس ایم ایز سیکٹرز کے حوالےسے سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے اس حوالے سے جامع لائحہ عمل تیار کر لیا ہے جبکہ پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔

    مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں موجود ایس ایم ایز کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

    شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی کیسز میں وکلا فیسوں کا آڈٹ کروانےکا مطالبہ

  • ورلڈ بینک سے پاکستان کو  40  ارب ڈالرز قرض ملنے  کا امکان

    ورلڈ بینک سے پاکستان کو 40 ارب ڈالرز قرض ملنے کا امکان

    اسلام آباد: عالمی بینک (ورلڈ بینک) پاکستان کو 10 سال میں 20 ارب ڈالرز قرض دینے کیلئے رضامند ہوگیا ہے، عالمی بینک کے نائب صدر مارٹن ریسر کا اسلام آباد کا دورہ بھی متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق پاکستان کو 10 سال میں 20 ارب ڈالرز قرض دینے کیلئے رواں ماہ ورلڈ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے قرض کی منظوری متوقع ہے قرض پروگرام کے تحت 10 سال کے اہداف طے کیے گئے ہیں، یہ قرض کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک 35-2025 کے تحت دیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پروگرام کا مقصد سب سے زیادہ نظر انداز اہم شعبوں کو بہتر بنانا ہے، ان شعبوں میں صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہے،قرض کے تحت منصوبوں کو سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ رکھا جائے گا عالمی بینک مزید 20 ارب ڈالرز کے نجی قرضوں میں معاونت کرے گا، مزید 20 ارب ڈالرز سے مجموعی پیکیج 40 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گا،جبکہ قرض کی منظوری کے بعد عالمی بینک کے نائب صدر مارٹن ریسر کا اسلام آباد کا دورہ بھی متوقع ہے۔

    68 سالہ شخص نے اپنی ہونے والی بہو سے شادی رچا لی

    10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک نے ترقی کی اہم بنیادوں پر توجہ مرکوز کرنے والے ان چھ اہداف کے نتائج کو ترتیب دیا جہاں پاکستان سب سے پیچھے ہے منصوبہ کے مطابق 10 سال میں ہدف بنائے گئے اضلاع میں بچوں کی ناقص نشوونما میں 30 فیصد کمی لائے جائے گی، تعلیم کی کمی کو 60 فیصد تک کم کیا جائے گا،ورلڈ بینک کا رعایت پر قرض دینے والا ونگ ، انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (IDA) ۔ 20 بلین ڈالر میں سے 14 بلین ڈالر قرض دے گا، بقیہ 6 بلین ڈالر نسبتاً مہنگی ونڈو ،بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو اور ترقی (IBRD) کے ذریعے فراہم کیے جانے کا امکان ہے ۔

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

  • اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی نئی اننگ کا آغاز

    اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی نئی اننگ کا آغاز

    پاکستان آج یکم جنوری 2025 سے آٹھویں بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے ذمے داریاں نبھائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عالمی سیاست کے پیچیدہ اور اہم موڑ کے پس منظر میں پاکستان نئے سال کے پہلے دن سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر اپنی دو سالہ مدت کا آغاز کر رہا ہے۔پاکستان کو اس کے لیے گزشتہ جون میں جاپان کی جگہ بڑی اکثریت سے منتخب کیا گیا تھا اور 193 رکنی جنرل اسمبلی میں اسے ایک سو بیاسی ووٹ ملے تھے، جو کہ دو تہائی اکثریت سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ اس طرح اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایشیا پیسیفک کی دو نشستوں میں سے ایک پاکستان کے پاس ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار منیر اکرم نے اس حوالے سے کہا، ’’سلامتی کونسل میں ہماری موجودگی کو محسوس کیا جائے.

    نیا سال کراچی کی تعمیر و ترقی کا سال ثابت ہوگا ،مرتضیٰ وہاب

    سال 2024:سندھ پولیس کی سالانہ رپورٹ پیش

    پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

  • 2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    دنیا کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی اور وسیع ہو چکی ہے، اور یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ جدید ہوائی جہاز نیو یارک سے سنگاپور یا لندن سے کیپ ٹاؤن تک محض چند گھنٹوں میں لوگوں کو پہنچا سکتے ہیں، جبکہ پہلے یہ سفر کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کے تمام دوست اور جاننے والے کسی نہ کسی عجیب و غریب مقام پر تعطیلات گزار رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس جگہ کا انتخاب کریں؟سی این این ٹریول کا ماننا ہے کہ ہر جگہ کا اپنا جواز ہے جو اسے دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم، ان کے عملے نے 2025 میں سفر کے لیے ان 25 مقامات کی فہرست تیار کی ہے جو خاص طور پر ملاحظہ کرنے کے قابل ہیں۔ان 25 مقامات میں سے پاکستان کا علاقہ گلگت بھی شامل ہے جسے 2025 کے خوبصورت ترین مقامات میں 9ویں نمبر پر رکھا گیا ہے

    1970 کی دہائی میں پاکستان ایک ایڈونچر ٹریول ہاٹ سپاٹ تھا، اس کی بلند و بالا پہاڑی مناظر "ہپی ٹریل” کے راستے پر یورپ سے جنوبی ایشیا جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ تھے۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ دن چلے گئے۔ پھر بھی، ان بلند پہاڑوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔گلگت بلتستان کا علاقہ جو قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، وہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے — پروازوں کے شیڈول غیر متوقع ہو سکتے ہیں، سڑکیں موسم کی بنا پر بند ہو سکتی ہیں — لیکن اس علاقے میں ایسے بلند پہاڑ ہیں جو کسی بھی مٹھائی سے زیادہ لذیذ اور دلکش ہیں۔

    oplus_2

    یہاں دنیا کے 14 "آٹھ ہزاربلند” پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ واقع ہیں، جن میں کے 2 شامل ہے، جو دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے، مگر دشواری اور خطرے کے اعتبار سے اسے پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

    سیاحت اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، اس علاقے میں ہائیکنگ اتنی آسان نہیں ہے کہ آپ اسے ہمالیہ کے مشابہ سمجھیں، جہاں ایک ہلکا سا سفر ممکن ہو۔ اس علاقے میں ٹریکنگ کرنا ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ تجربہ ہو سکتا ہے، اور اس لیے یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں آپ اکیلے سفر کریں۔

    گلگت بلتستان میں موجود قدرتی مناظر اور بلند پہاڑ سیاحوں کے لیے ایک خواب کی مانند ہیں۔ یہاں کی ٹریکنگ، برف پوش پہاڑ، اور گلیشیئرز دنیا کے سب سے دشوار گزار لیکن خوبصورت سفر کا حصہ ہیں۔ آپ اگر اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بہترین ٹور آپریٹرز کی مدد سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے، تاکہ آپ اس کے قدرتی حسن اور چیلنجز کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔

    پاکستان کے ان پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی اب بھی غیر دریافت شدہ اور کم معلوم ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین منزل ہے جو خود کو قدرتی مناظر اور انتہائی چیلنجنگ ہائیکنگ کے تجربے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

  • دنیا کے صاف ستھرے ممالک کی فہرست جاری، پاکستان  کس نمبر پر؟

    دنیا کے صاف ستھرے ممالک کی فہرست جاری، پاکستان کس نمبر پر؟

    ورلڈ پاپولیشن ریویو نے ماحولیاتی کارکردگی انڈیکس (Environmental Performance Index) کی بنیاد پر 2024 کے دنیا کے سب سے صاف ستھرے ممالک کی فہرست ترتیب دی ہے۔

    باغی ٹی وی : ورلڈ پاپولیشن ریویو کی ویب سائٹ کے مطابق اس فہرست میں 180 ممالک کی درجہ بندی انڈیکس ییل یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی اور ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے تعاون سے کی گئی ہے اس درجہ بندی کے لیے 40 مختلف اشاریے استعمال کیے جا تے ہیں جن میں ماحولیاتی صحت، ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کارکردگی کے معیار کو جانچا جاتا ہے۔

    مسلسل ناکامیاں،گوتم گمبھیر کا شدید غصہ،بھارتی ٹیم کےڈریسنگ روم کا ماحول تلخ

    سال 2024 میں ایسٹونیا 75.3 کے اسکور کے ساتھ سرفہرست ہے جو اس کی ماحولیاتی پالیسیوں اور آلودگی کے کم سطح کی عکاسی کرتا ہے پچھلے دس سالوں میں بالٹک ریاست مسلسل ٹاپ تیس میں شامل ہے،دوسرے نمبر پر لکسمبرگ ہے جس کا انوائرمینٹل پرفار منس انڈیکس 75 ہے جب کہ 74.6 اسکور کے ساتھ جرمنی تیسرے نمبر پر ہے اس کے بعد فن لینڈ (73.7)، برطانیہ (72.7)، سویڈن (70.5)، ناروے (70.0)، آسٹریا (69.0)، سوئٹزرلینڈ (68.0) اور ڈنمارک (67.9) اسکور کے ساتھ بالترتیب چوتھے سے دسویں نمبر تک ہیں۔

    بالی ووڈ فلمساز نہیں سمجھتے کہ فلم سازی کیا ہوتی ہے،انوراگ کشپ

    ان ممالک کی ماحولیاتی صفائی میں نہ صرف بہتری نظر آئی بلکہ انسانی صحت بھی بہتر ہوئی کیونکہ صاف پانی، خالص ہوا، اور مؤثر صفائی کےذریعے بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے180 ممالک کی فہرست میں بھارت کا نمبر 175 اور بنگلادیش 174 ویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا نمبر 178 ہے جس کے بعد دو آخری ممالک بالترتیب ویت نام اور مغربی افریقی ملک گنی بساؤ ہے۔

    نامور خاتون ماہر علم نجوم کی 2025 کیلئے بڑی پیشگوئیاں

    واضح رہے کہ عالمی سطح پر آلودگی کے اعلیٰ سطح والے ممالک میں غیر متعدی بیماریوں کی شرح زیادہ ہوتی ہے جو عالمی اموات کا 72 فیصد حصہ ہیں۔

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک 30 سالہ نوجوان بادل بابو نے سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہو کر غیر قانونی طور پر سرحد پار کی اور پاکستان پہنچ گیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے فیس بک پر ایک پاکستانی لڑکی سے دوستی کی تھی، جس کے بعد وہ اس لڑکی سے ملنے کے لیے سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچا۔ پاکستانی حکام نے اُسے گرفتار کر لیا ہے اور اس وقت اس سے تفتیش جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ اس کی ملاقات اس پاکستانی لڑکی سے فیس بک پر ہوئی تھی، اور وہ اُسی سے ملنے کے لیے پاکستان آیا تھا۔ پاکستانی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ بادل بابو نے کس طرح سرحد پار کی اور کیا اس کے پاس قانونی دستاویزات تھے یا نہیں۔

    اس واقعہ نے ایک اور بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والی محبتوں کے باعث لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سرحدوں کو پار کرتے ہیں۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب کسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے محبت کے نتیجے میں سرحد پار کی ہو۔ اس سے پہلے بھی متعدد افراد نے ایسی محبتوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی ہیں۔ سال 2023 میں، سیما حیدر نامی پاکستانی خاتون نے پب جی گیم پر بھارتی لڑکے سے دوستی کی اور اس کے بعد وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ نیپال کے راستے بھارت پہنچ گئیں، جس کے بعد بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

    اسی سال، 19 سالہ پاکستانی لڑکی اقرا جیوانی کی دوستی 25 سالہ بھارتی شہری ملائم سنگھ یادیو سے آن لائن گیم کے ذریعے ہوئی۔ اس دوستی کے بعد دونوں نے نیپال میں شادی کر لی۔ اس طرح کے واقعات سوشل میڈیا کی محبتوں کے حوالے سے ایک نیا رجحان بن گئے ہیں جہاں افراد اپنی زندگیوں کے فیصلے آن لائن تعلقات کے نتیجے میں کرتے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، اور سرحد پار محبت کی کہانیاں دونوں ممالک میں خبریں بن چکی ہیں۔ گزشتہ سال ایک بھارتی لڑکی انجو نے فیس بک پر دوستی کے بعد پاکستان آ کر دیر بالا میں پاکستانی نوجوان نصر اللہ سے نکاح کیا تھا۔ ایسے واقعات معاشرتی اور سیاسی سطح پر دونوں ممالک میں بحث کا موضوع بنتے ہیں۔

    ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے محبت اور تعلقات کے تصور کو نئی جہت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرحدوں کے پار جانے والے افراد کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات ان کی زندگیاں خطرے میں بھی آ جاتی ہیں۔پاکستانی حکام اس وقت بادل بابو کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وہ کسی اور مقصد کے لیے سرحد پار کر کے آیا تھا یا صرف محبت کی وجہ سے ایسا کیا۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا اثر افراد کی ذاتی زندگیوں پر کتنا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    مری میں بارش متوقع،پنجاب میں دھند،سندھ میں موسم سرد،خشک

    جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل

  • افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی  وزیراعظم سے ملاقات

    افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے افغانستان کے لئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی، محمد صادق خان، نے ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں محمد صادق خان نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہء افغانستان کے دوران کی جانے والی ملاقاتوں اور پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔پاکستانی حکومت کے اعلیٰ حکام کے مطابق، اس ملاقات میں افغانستان میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محمد صادق خان نے افغانستان میں موجودہ سیاسی، اقتصادی اور انسانی حالات پر روشنی ڈالی اور وہاں پاکستان کے اقدامات اور معاونت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور، طارق فاطمی بھی موجود تھے، جنہوں نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اہمیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے کردار کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    محمد صادق خان نے وزیراعظم کو افغانستان میں پاکستانی سفارتکاری کے مختلف پہلوؤں پر بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ افغانستان میں پاکستان کے مفادات کو مزید فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں طرف سے اقتصادی ترقی، تجارت اور انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    اس ملاقات میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے افغانستان میں سیاسی استحکام، امن و سکونت کی فضا کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنے تمام ممکنہ ذرائع کو بروئے کار لائے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مستحکم کرے گا۔ملاقات کے اختتام پر محمد صادق خان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور افغانستان کے لئے پاکستان کی پالیسی کو مزید کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا۔

    خواتین کو دیکھنا فحاشی، گھروں کی کھڑکیاں بند کریں،افغان حکومت کا حکمنامہ

    برطانوی سائنسدان کی ایک صدی قبل کی گئی درست پیشگوئیاں

  • پہلا ٹیسٹ:جنوبی افریقہ نے پاکستان کو شکست دیدی

    پہلا ٹیسٹ:جنوبی افریقہ نے پاکستان کو شکست دیدی

    سنچورین: جنوبی افریقا نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میچ میں 2 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی: سنچورین میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقی ٹیم نے پاکستان کی جانب سے دیے گئے 148رنز کا ہدف 8 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا، پروٹیز نے چوتھے روز کھیل کا آغاز کیا تو اسے جیت کے لیے مزید 121 رنز جبکہ پاکستان کو کامیابی کے لیے 7 وکٹیں درکار تھیں۔

    چوتھا روز

    چوتھے روز کھیل کا آغاز ہوا تو جنوبی افریقا نے 147 رنز کے تعاقب میں 27 رنز بنا لیے اور اس کے 3 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے جنوبی افریقا کی جانب سے ہدف کے تعاقب میں ٹونی ڈی زورزی 2 اور کیلی وارین 2، 2، ڈیوڈ بیڈنگھم 14، ریان رکیلٹن اور کوربن بوش صفر جبکہ ٹرسٹن اسٹبس ایک رن بناکر پویلین لوٹے۔

    ایڈن مارکرم اور کپتان ٹمبا باوما نے 43 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم 37 رنز بناکر مارکرم وکٹ گنوابیٹھے، ٹمبا باوما نے 4 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 40 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے 6 جبکہ نسیم شاہ اور خرم شہزاد نے ایک ایک وکٹ حاصل کی، اس سے قبل گزشتہ روز پاکستانی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں محض 237 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

    اس سے قبل تیسرے دن کے اختتام تک جنوبی افریقا نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 27 رنز بنائے تھے، ایڈم مارکرم 22 اور کپتان ٹمبا باووما بغیر رن بنائے کریز پر موجود تھے تاہم محمد عباس نے ایڈم مارکرم کو 37 رنز پر آؤٹ کر دیا-

    پاکستان نے پہلی اننگز میں 211 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں جنوبی افریقا کی ٹیم پہلی اننگز میں 301 رنز بناکر آؤٹ ہوئی تھی جبکہ گرین کیپس نے دوسری اننگز میں 237 رنز بنائے تھے۔

    پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان سیریزکا دوسرا ٹیسٹ 3 جنوری سے کیپ ٹاؤن میں شروع ہوگا۔