Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

    کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

    وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے کہا ہے کہ کوئی طاقت پاکستان اور کشمیر کو جدا نہیں کر سکتی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا مشکور ہوں۔ اور کمیٹی کے اجلاس میں سفارشات مرتب کی گئیں۔ آزاد کشمیر میں منصوبوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ اور آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر غور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کوئی طاقت پاکستان اور کشمیر کو جدا نہیں کر سکتی۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کےعوام کو سستی بجلی کی سہولت فراہم کی۔ جبکہ آرڈیننس عدالتوں میں چیلنج ہوسکتے ہیں۔ میں وہ سیاسی کارکن ہوں جس کی سب سے بڑی طاقت مذاکرات ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں کشمیر کے مسائل کو ڈسکس کرنا بڑا اہم قدم ہے۔ کشمیر میں عوام نے ایک مسئلہ اٹھایا اور حکومت نے اس کو حل کیا۔ گفتگو کے ذریعے آزاد کشمیر کے مسائل حل کریں گے۔ اسی حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کے شہریوں کو 3 روپے بجلی فراہم کی۔ اور اجلاس میں کشمیر میں وفاق کے منصوبوں کے علاوہ ہمارے ائیرپورٹس کو چلانے کی بات کی گئی۔

    محکمہ تعلیم سندھ کا درسی کتب کا جائزہ لینے کا فیصلہ

    یورپی بینک کی کراچی واٹر کارپوریشن کو تعاون فراہم کرنے کی منظوری

    چیمپئنز ٹرافی 2025 کیلئے ٹکٹس کی رجسٹریشن شروع

  • فوجی عدالتوں سے سزا  پر امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین  کے بیانات پر پاکستان کا جواب

    فوجی عدالتوں سے سزا پر امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کے بیانات پر پاکستان کا جواب

    اسلام آباد: پاکستان نے سانحہ نو 9 مئی میں فوجی عدالتوں سے سزا کے معاملے پر امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کو دو ٹوک جواب دیا ہے-

    باغی ٹی وی: فوجی عدالتوں کے حالیہ فیصلوں پر امریکی، برطانوی اور یورپی یونین بیانات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کی ترجمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کی تکمیل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، پاکستان کا قانونی نظام بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، بشمول بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہے۔

    خلا میں 140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ بڑا پانی کا ذخیرہ دریافت

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے عدالتی نظرثانی کے مواقع فراہم کرتا اور انسانی حقوق و بنیا د ی آزادیوں کے فروغ و تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، یہ فیصلے پارلیمنٹ کے ذریعے منظور شدہ قانون اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کے تحت کیے گئے ہیں پاکستان جمہوریت، انسانی حقوق، اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے فروغ کے لیے تعمیری اور بامقصد مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔

    ایران کا واٹس ایپ پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

    دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم جی ایس پی پلس اسکیم اور بنیادی بین الاقوامی انسانی حقوق کے کنونشنز کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں، بشمول یورپی یونین، کے ساتھ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے رابطے جاری رکھیں گے۔

    ہم وزارت تعلیم کی رجسٹریشن کے تحت رہنا چاہتے ہیں، جامعہ بنوریہ عالمیہ

    واضح رہے کہ امریکا نے 9 مئی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں کی جانب سے شہریوں کو سزائیں سنائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی فوجی عدالتوں کی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس کو 9 مئی کے مظاہروں میں ملوث شہریوں کے خلاف فوجی ٹریبونلز کی جانب سے سزاؤں کی سنائی جانے والی کارروائی پر تحفظات ہیں ،امریکی حکومت نے ان سزاؤں کو منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر بھی زور دیا تھا۔

    دن رات کام کرنے سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں، وزیراعظم

    دریں اثنا یورپی یونین نے بھی فوجی عدالتوں سے 9 مئی مجرمان کی سزاؤں کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں کیے جانے والے فیصلے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں، یورپی یونین نے اپنے بیان پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے اور ان کے خلاف منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دے۔

    ملک کی پانچوں ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی نامزدگیاں طلب

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا منفی دن رہا،سونا اور ڈالر سستا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا منفی دن رہا،سونا اور ڈالر سستا

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا منفی دن رہا اور 100 انڈیکس میں کمی دیکھی گئی۔

    باغی ٹی وی : آج کاروباری دن کے اختتام پر 100 انڈیکس 1509 پوائنٹس کی کمی کے بعد ایک لاکھ 12 ہزار 414 پوائنٹس پر بند ہوا، آج کاروباری دن میں 100 انڈیکس 2 ہزار 742 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا جبکہ انڈیکس کی بلند ترین سطح ایک لاکھ 15 ہزار 36 رہی، بازار میں آج 88 کروڑ شیئرز کے سودے 54 ارب روپے میں طے ہوئے جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 194 ارب روپے کم ہوکر 14 ہزار 251 ارب روپے ہے،جبکہ گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر انڈیکس ایک لاکھ 13 ہزار 925 کی سطح پر بند ہوا تھا۔

    عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد کر دیا

    دوسری جانب ملک بھر میں سونا سستا ہو ا فی تولہ قیمت میں 800 روپے کی کمی ہو ئی،آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 800 روپے کی کمی کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ 72 ہزار 600 روپے ہو گئی ہے،دس گرام سونے کی قیمت میں 685 روپے کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد دس گرام سونا 2 لاکھ 33 ہزار 711 روپے کا تولہ ہو گیا ہے، عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 8 ڈالر کم ہوکر 2614 ڈالر فی اونس ہے۔

    اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں،وہ حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،حافظ نعیم

    علاوہ ازیں انٹربینک تبادلہ میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوگئی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق آج انٹربینک میں ڈالر 278 روپے 47 پیسے پر بند ہوا، انٹربینک میں آج ڈالر 10 پیسے سستا ہوا ہے، انٹربینک میں گزشتہ روز ڈالر 278 روپے 57 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان کر دیا

  • اٹلی،پی ٹی آئی سول نافرمانی کیخلاف پاکستانیوں کا احتجاج

    اٹلی،پی ٹی آئی سول نافرمانی کیخلاف پاکستانیوں کا احتجاج

    پاکستانی کمیونٹی نے اٹلی میں پاکستان اور پاک فوج کے لیے ریلی کا انعقاد کیا.

    اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری نے پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے سلسلے میں ایک عظیم الشان ریلی اور کانفرنس کا انعقاد کیا.کانفرنس میں اٹلی کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے سینکڑوں اوورسیز پاکستانیوں نے بھر پور شرکت کی واضح پیغام دیا کہ وہ پاکستان اور اُس کی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں.ریلی میں اوورسیز پاکستانیوں نے سول نافرمانی نامنظور، ہماری فوج ہمارا فخر کے فلک شگاف نعرے لگائے.اس موقع پر پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کی مذمت کی گئی.محب الوطن پاکستانیوں نے اس ریلی میں پیغام دیا کہ اوورسیز پاکستانی اور پاکستان کی عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے .ریلی میں ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہرا رہے تھے اور اس موقع پر پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگے.

    نوجوانوں نے ڈھول کی تھاپ پر فلک شگاف نعرے لگائے اور پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والی مخصوص لابی کو منہ توڑ جواب دیا.اس موقع پر مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ تحریک اب رکنے والی نہیں اور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کا پیچھا کیا جائے گا .مقررین نے یہ بھی اعادہ کیا کہ یورپ کے بعد اب یہ تحریک برطانیہ اور امریکہ تک بھی لے جائی جائے گی.مقررین نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی اب جاگ گئے ہیں اور وہ کسی بھی منفی پروپیگنڈا کا حصہ نہیں بنیں گے

    فوجی عدالتوں سے سزائیں،برطانیہ کے بعد امریکا کا ردعمل

    بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف ڈائریکٹر شیام بینیگل چل بسے

  • نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    برطانیہ نے ایک غیر ضروری اور غیر معقول بیان میں پاکستان میں شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ یہ اعتراض اُس ملک کی طرف سے آیا ہے جو خود 29 جولائی 2024 کو ساؤتھ پورٹ کے علاقے میں ہونے والے نسل پرستی کے فسادات کے بعد اپنے شہریوں پر سخت کارروائی کر چکا ہے۔ ان فسادات کے بعد برطانیہ نے چند دنوں کے اندر 200 سے زیادہ افراد، بشمول تین بچوں، کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے غیر مستقیم الزامات پر سزا دی اور سخت سزائیں سنائیں۔

    فسادات میں ملوث تمام افراد کو فوراً جیل بھیج دیا گیا۔ 54 سزا یافتہ افراد میں سے 47 بالغ اور 3 نابالغ افراد کو قید کی سزائیں دی گئیں۔ جنہوں نے جرم قبول کیا، ان کے مقدمات کو تیزی سے نمٹایا گیا، جبکہ باقی افراد کو حراست میں رکھا گیا۔خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے براہ راست تشدد میں حصہ نہیں لیا لیکن سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی پھیلائی، ان کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔ نارتھمپٹن میں ایک 26 سالہ شخص، جس نے ہوٹلوں اور تارکین وطن کی مدد کرنے والے وکیلوں کو جلانے کی دھمکی دی تھی، کو تین سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔پاکستان نے کبھی برطانیہ کے اس عمل پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ فسادات کے دوران جعلی خبروں پھیلانے والے افراد کی شناخت میں مکمل تعاون کیا، کیونکہ یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ تھا۔اب برطانیہ کی طرف سے پاکستان میں ایک قانونی اور آئینی عمل پر اعتراض کرنا نہایت مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے۔ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ایک سال سے زیادہ عرصہ لگ گیا، اور اب ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمات کو نمٹایا جا رہا ہے۔ یہ سب پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہو رہا ہے۔

    یہ بات واضح ہے کہ ہر ملک کے قوانین اور عدالتی نظام مختلف ہوتے ہیں اور ان کا انحصار زمینی حقائق پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانا ایک قانونی اور آئینی عمل ہے جو ملک کے قوانین اور آئین کے تحت جائز ہے۔برطانیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے معاملات پر توجہ دے اور غزہ اور فلسطین کے عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائے، اور اسرائیل کو نسل کشی سے روکے۔برطانیہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر کسی بیرونی دباؤ کے تحت۔ پاکستان کسی بھی غیر ضروری اور بے بنیاد سیاسی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔

    کوشش ہونی چاہیے کہ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل ہو،سعید غنی

    9 مئی مقدمات میں شہریوں کی سزاؤں پربرطانیہ کاردعمل آگیا

    کراچی کو ٹینکروں کے ذریعے نہیں نلکوں میں پانی دیا جائے ، منعم ظفر خان

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

  • چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024منعقدہوئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ،وفاقی وزیر اوور سیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب میں شرکت کی۔ سیکریٹری صنعت و تجارت ڈاکٹر احسان بھٹہ ،سیکریٹری ٹرانسپورٹ احمد جاوید قاضی،انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور،صنعتکاروں،کالم نگاروں اور سینئر صحافی بھی تقریب میں شریک تھے۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین ،سابق نگران صوبائی وزیر عامر میر اور دیگر کو فرینڈشپ ایوارڈ دیئے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پر محیط تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں گے۔چین مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ہر گزرتے لمحے پاکستان اور چین کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے قائد اعظم بزنس پارک شیخوپورہ میں گارمنٹ سٹی بنایا ہے جو سولر انرجی پر ہوگا۔چین کی کمپنیاں پنجاب میں سولر،ٹیکسٹائل،زراعت ،لیتھیئم بیٹریاں بنانے اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔چین کی آئکو سولر انرجی کمپنی کے ساتھ پنجاب میں سولر پینلز مینوفیکچرنگ کا کارخانہ لگانے کا معاہدہ پہلے ہی ہوچکاہے۔چین کی بڑی موبائل فون کمپنی فیصل آباد میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کا پلانٹ لگائے گی۔صوبائی وزیرصنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہاکہ میں نے اپنے دورہ چین کے دوران الیکٹرک وہیکلز بنانے والے گروپ کے علاوہ متعدد کمپنیوں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔بہت سی کمپنیوں نے پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں آمادگی ظاہر کی۔پنجاب کے سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات حاصل ہیں۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوچکا اب دوسرے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور گیم چینجر ثابت ہوگا۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے کہاکہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور دونوں ممالک کے مابین دوستی اور تجارتی تعاون کی اعلیٰ مثال ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کے حالیہ دورہ چین سے دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔چینی قونصل جنرل نے کہاکہ پنجاب میں بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام سے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو کی سہولت ملی ہے۔چین کے سرمایہ کاروں کو بہترین سکیورٹی کی فراہمی پر حکومت کے مشکور ہیں۔

    کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری
    اسٹیل ملز سے قیمتی دھاتیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار

  • عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    پاکستان اور عراق کے تعلقات میں پاکستانی زائرین کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے تناؤ آ رہا ہے۔

    حالیہ پیش رفت نے ایک پیچیدہ مسئلے کو اجاگر کیا ہے جو قانونی زائرین کے ساتھ غیر قانونی پاکستانیوں کی موجودگی کو بھی شامل کرتا ہے۔ عراقی حکومت نے غیر قانونی ہجرت کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت پالیسیاں اپنائی ہیں جن میں زائرین کی تمام داخلی راستوں پر تفتیش، ان کے پاسپورٹس کو قبضے میں لینا اور گروپوں کے سفر کی زیادہ نگرانی شامل ہے۔اگرچہ ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی ہجرت کو روکنا ہے، لیکن ان کا اثر قانونی زائرین پر بھی پڑا ہے جو اب غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے اتنی ہی نگرانی کا سامنا کر رہے ہیں جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر بوجھ ڈال دیا ہے۔عراقی حکومت خاص طور پر اس لیے متنبہ ہے کیونکہ عراق میں تقریباً 40,000 سے 50,000 پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جن میں سے بیشتر انسانوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے ذریعے عراق پہنچے ہیں۔

    غیر قانونی بحران اور اس کا اثر

    عراق کی سخت امیگریشن تدابیر کی بنیاد غیر قانونی ہجرت ہے۔ پاکستان کے کئی غریب علاقوں جیسے وزیرآباد، گجرات، گجرانوالہ، پاراچنار اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے نوجوان پاکستانیوں کو انسانی اسمگلروں کا شکار بنایا جاتا ہے۔یہ غیر قانونی تارکین وطن اکثر اپنے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد عراق میں غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں اور انہیں زیادہ تنخواہوں کا وعدہ کیا جاتا ہےجو کبھی $700 ماہانہ تک پہنچتی تھی۔تاہم، جب سے ان تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ان کی اجرتیں کم ہو کر $300 سے $400 ماہانہ تک پہنچ چکی ہیں، اور وہ شدید استحصال اور غیر محفوظ حالات میں کام کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 2023 میں عراق میں کم از کم 50 پاکستانی کارکن ہلاک ہوئے تھے جن کی وجہ یہ خطرناک کام کے حالات تھے اور 2024 میں بھی تقریباً اتنے ہی افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔عراق کی بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں پاکستان نے گجرات اور گجرانوالہ جیسے علاقوں میں سرگرم انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے کردار کی تحقیقات کی ہیں۔ پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ان غیر قانونی نیٹ ورکوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے اور کارروائی کرنے کا عہد کیا ہے، تاہم اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی وسعت اور مقامی ایجنٹوں اور سرحدی سیکیورٹی اہلکاروں کی مداخلت کی وجہ سے قانون کی عملداری کو یقینی بنانا مشکل ہو گیا ہے۔

    انسانی بحران کا بڑھنا

    غیر قانونی تارکین وطن کو عراق میں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں، وہ ان کی زندگی اور کام کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سے پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں چھپ کر رہتے ہیں، جہاں وہ عراقی سیکیورٹی فورسز کی گرفتاری اور بدسلوکی کا شکار رہتے ہیں۔بعض اوقات یہ افراد اسمگلروں اور عراقی حکام کے ہاتھوں تشدد اور حتیٰ کہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈی پورٹیشن کا عمل بھی سست اور پیچیدہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے گرفتار شدگان طویل عرصے تک بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں۔پاکستانی زائرین جو مذہبی مقصد کے لیے عراق آتے ہیں، ان کے لیے عراقی حکومت کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ داخلے اور اخراج کے وقت پاسپورٹس کو ضبط کرنے کا عمل ایک اہم لاجسٹک مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستانی زائرین جو گروپوں میں سفر کرتے ہیں اور جن کا ایک مخصوص رہنما (سالار) ہوتا ہے، اکثر پاسپورٹ کی واپسی میں تاخیر کا سامنا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کی ناقص کارکردگی نے زائرین اور ان کے اہل خانہ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    مفاہمت کا معاہدہ: مسئلے کا حل

    پاکستان اور عراق کے درمیان زائرین کے سفر کے حوالے سے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔ عراق کی غیر قانونی ہجرت کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں دونوں حکومتیں ایک مفاہمت کا معاہدہ (MoU) تیار کر رہی ہیں جس کے تحت پاکستانی عازمین کو ایمرجنسی کی صورت میں گروپ سے علیحدہ ہونے کی اجازت دی جائے گی، تاکہ زائرین کو درپیش سخت سفری پابندیوں میں کمی لائی جا سکے۔پاکستان نے پاسپورٹ کی ضبطی کے عمل پر بھی اعتراض اٹھایا ہے اور عراقی حکام سے کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز کی جانچ کریں تاکہ تاخیر کو کم کیا جا سکے اور پاسپورٹس کی واپسی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔عراق نے اس عمل کا جائزہ لینے کی کچھ آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کب تک اس پر عملدرآمد ہوگا۔ مزید برآں، پاسپورٹس کی تاخیر اور گم ہونے کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی میکانزم کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں،تاہم، انسانی اسمگلنگ کا بڑا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔عراقی حکام نے اسمگلروں اور ایجنٹوں کے کردار کو تسلیم کیا ہے لیکن ان نیٹ ورکوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان نے غیر قانونی ٹور آپریٹرز اور انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ دونوں ملکوں کو ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ان قوانین کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے جو زائرین کو استحصال سے بچا سکیں۔

    آگے کا راستہ: ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت

    پاکستان سے عراق جانے والے غیر قانونی تارکین وطن، خاص طور پر وہ نوجوان جو بہتر روزگار کے مواقع کے لیے عراق جاتے ہیں، نے زائرین کے سفر کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قانونی عازمین اور غیر قانونی تارکین وطن دونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان اور عراق کو متعدد اقدامات پر تعاون کرنا ہوگا۔ان میں زائرین کے سفر کے قانونی فریم ورک کو بہتر بنانا، ایجنٹوں کے مافیا کے خلاف کارروائی کرنا، پاسپورٹ کے انتظام کے نظام کو بہتر بنانا اور غیر قانونی تارکین وطن کے لیے مؤثر ڈی پورٹیشن میکانزم بنانا شامل ہے۔جب کہ دونوں حکومتیں مفاہمت کے معاہدے کے تفصیلات پر بات چیت کر رہی ہیں، یہ واضح ہے کہ زائرین کے سفر کا مستقبل مؤثر دو طرفہ تعاون پر منحصر ہے۔ اگرچہ کچھ مسائل کے حل میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو انسانی اسمگلنگ کو روکنے، ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنانے اور دونوں طرف کے ادارہ جاتی میکانزم کو بہتر بنانے پر مرکوز ہو۔صرف مسلسل تعاون کے ذریعے دونوں ممالک یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ زائرین کا سفر روحانی اور محفوظ رہے، جو استحصال اور مشکلات سے آزاد ہو۔

    اراکین پارلیمنٹ اور اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال

    لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی،کاروبار کا مثبت دن رہا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی،کاروبار کا مثبت دن رہا

    کراچی: آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت دن رہا –

    باغی ٹی وی: پاکستان اسٹاک ایکسچنج میں مسلسل مندی کے بعد آج بحالی کے ساتھ کاروبار کا آغاز ہوا ہے،پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئےکاروباری ہفتے کا آغاز 1800 پوائنٹس اضافے سے ہوا جو کاروبار کے اختتام تک 4 ہزار 411 پوائنٹس ہوگیا-

    کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 13 ہزار 924 ہے 100 انڈیکس کاروباری دن میں ایک لاکھ 14 ہزار 189 تک گیا بازار میں 85 کروڑ 78 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 50 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد رہی،مارکیٹ کیپٹلائزیشن 487 ارب روپے اضافے سے 14 ہزار 445 ارب روپے ہے۔

    دوسری جانب آج ملک میں سونے کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ملک میں فی تولہ سونے کا بھاؤ 2 لاکھ 73 ہزار 400 روپے پر برقرار ہے آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 2 لاکھ 34 ہزار 396 روپے پر برقرار ہے جبکہ عالمی بازار میں سونے کی قیمت 2 ہزار 622 ڈالرز فی اونس پر برقرار ہے۔

    علاوہ ازیں انٹربینک میں آج ڈالر 15 پیسے مہنگا ہوا ہے،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق انٹربینک تبادلہ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کا بھاؤ 278 روپے57 پیسے ہے،انٹربینک میں ڈالرکا بھاؤ گزشتہ کاروباری روز 278 روپے 42 پیسے پر بند ہوا تھا، انٹربینک میں ڈالر آج 15 پیسے مہنگا ہوا ہے،اوپن مارکیٹ میں ڈالر 17 پیسے مہنگا ہو کر 279 روپے 59 پیسے پر بند ہوا ہے۔

  • عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    آج 23 دسمبر کو برصغیر کی مشہور و مقبول گلوکارہ، "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ نورجہاں، جن کا اصل نام اللہ وسائی تھا، 1926 میں قصور، پنجاب کے ایک موسیقار خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز نو برس کی عمر میں کلکتہ سے بطور چائلڈ سنگر کیا اور جلد ہی اپنی آواز اور گائیکی کے منفرد انداز سے ایک نئی پہچان حاصل کر لی۔

    پیدائش کے وقت نور جہاں کی خالہ نے نومولود بچے کے رونے کی آواز سن کر کہا، اس بچے کے رونے میں موسیقی ہے۔ نورجہاں کے والدین تھیٹر میں کام کرتے تھے۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے نور جہاں بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھیں،نور جہاں نے فیصلہ کیا کہ وہ بطور پلے بیک سنگر اپنی شناخت بنائیں گی۔ ان کی والدہ نے نورجہاں کے ذہن میں موسیقی کی طرف بڑھتے ہوئے جھکاؤ کو پہچان لیا، اس راستے پر آگے بڑھنے کی ترغیب دی اور گھر پر موسیقی سیکھنے کا انتظام کیا۔

    نور جہاں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم کجن بائی سے اور کلاسیکی موسیقی کی تعلیم استاد غلام محمد اور استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی، 1930 میں نور جہاں کو انڈین پکچر کے بینر تلے بننے والی خاموش فلم ’ہند کے تارے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا، کچھ عرصے بعد ان کا خاندان پنجاب سے کلکتہ چلا گیا، اس عرصے کے دوران انہیں تقریباً 11 خاموش فلموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا، 1931 تک نور جہاں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنی پہچان بنا لی تھی۔ 1932 میں ریلیز ہونے والی فلم ششی پنوں نورجہاں کے سینما کیرئیر کی پہلی ٹاکی فلم تھی، اس عرصے میں نورجہاں نے کوہ نور یونائیٹڈ آرٹسٹ کے بینر تلے بننے والی کچھ فلموں میں کام کیا۔ کولکتہ میں ان کی ملاقات فلم پروڈیوسر پنچولی سے ہوئی،پنچولی نے نورجہاں کو فلم انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اسٹار کے طور پر دیکھا اور انہوں نے انہیں اپنی نئی فلم گل بکاولی کے لیے منتخب کیا،اس فلم کے لیے نورجہاں نے اپنا پہلا گانا ’سالا جوانیاں مانے اور پنجرے دے وچ‘ ریکارڈ کروایا۔ تقریباً تین سال کولکتہ میں رہنے کے بعد نور جہاں واپس لاہور چلی گئیں۔ وہاں ان کی ملاقات مشہور موسیقار جی اے چشتی سے ہوئی، جو اسٹیج پروگراموں میں موسیقی دیا کرتے تھے۔ انہوں نے نورجہاں کو اسٹیج پر گانے کی پیشکش کی جس کے بدلے میں نورجہاں کو فی گانا ساڑھے سات آنہ دیا گیا۔ ان دنوں ساڑھے سات آنہ اچھی رقم سمجھی جاتی تھی۔1939 میں پنچولی کی میوزیکل فلم گل بکاولی کی کامیابی کے بعد نور جہاں فلم انڈسٹری کی ایک مقبول شخصیت بن گئیں۔ اس کے بعد سنہ 1942 میں پنچولی کی پروڈیوس کردہ فلم خاندان کی کامیابی کے بعد نور جہاں نے بطور اداکارہ فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی۔

    نورجہاں نے اپنی زندگی کے 35 سال سے زائد عرصے تک پاکستان اور ہندوستان کی فلم انڈسٹری پر اپنی آواز کا جادو چلایا اور اپنے دور کی سب سے اہم گلوکارہ کے طور پر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اردو، پنجابی، سندھی اور دیگر زبانوں میں تقریباً 10,000 گانے ریکارڈ کیے، جو آج بھی موسیقی کی دنیا میں اہم مقام رکھتے ہیں۔1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران، نورجہاں کے ملی نغموں نے پاکستانی عوام اور فوج میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کیا۔ ان کے گانے "ہمتِ مردانہ”، "دل دل پاکستان” اور دیگر نغمے آج بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہیں۔ ان کی آواز نے فوجیوں میں حوصلہ پیدا کیا اور عوامی جذبات کو مضبوط کیا۔

    نورجہاں کی فنی زندگی میں بے شمار ایوارڈز اور اعزازات شامل ہیں۔ 1957 میں انہیں بہترین گلوکاری اور اداکاری کے لیے صدر پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے نگار ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، ستارہ امتیاز، پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور ملینیم ایوارڈ جیسے اہم اعزازات بھی اپنے نام کیے۔ان کے گانے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سنے جاتے ہیں، اور ان کا اثر آج بھی موجود ہے۔ نورجہاں کی آواز کی مٹھاس اور گائیکی کے جذباتی رنگ ہمیشہ ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

    2000 میں آج ہی کے دن نورجہاں کراچی میں انتقال کر گئیں اور انہیں رمضان المبارک کی ستائیسویں رات کو دفن کیا گیا۔ ان کی وفات ایک ایسا لمحہ تھا جس سے پاکستانی قوم اور موسیقی کی دنیا ہمیشہ کے لیے غمگین ہو گئی۔نورجہاں کا فن اور ان کی شخصیت آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی آواز کی جادوگری، ان کے ملی نغمے اور ان کی بے شمار موسیقی کی تخلیقات انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی برسی پر مداحوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی یاد میں محافل منعقد کیں، جہاں ان کے گانے سن کر لوگوں نے اپنے پسندیدہ گانے دوبارہ سنے۔نورجہاں کا نام ہمیشہ گلوکاری کی دنیا میں ایک سنہری باب کے طور پر زندہ رہے گا اور ان کی گائیکی ہمیشہ نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی۔

  • پاکستانی انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک، آذربائیجان سے یورپ تک کا غیر قانونی راستہ

    پاکستانی انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک، آذربائیجان سے یورپ تک کا غیر قانونی راستہ

    پاکستانی انسانی اسمگلروں کی جانب سے آذربائیجان، ایران، عراق، اور سعودی عرب کے راستے یورپ اور مغربی ممالک شہریوں‌کو بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    گزشتہ دنوں یونان میں کشتی ڈوبنے کے واقعات میں متعدد پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد انسانی اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کا پتہ چلا، جس نے ان افراد کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ آذربائیجان پاکستانی انسانی اسمگلروں کے لیے ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ آذربائیجان کے وزٹ ویزے کی قیمت صرف 26 ڈالر (تقریباً 7206 پاکستانی روپے) ہے اور یہ آن لائن دستیاب ہوتا ہے۔ اس ویزے کے لیے کسی پاکستانی شہری کو بینک اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ یا دیگر اضافی دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں پاکستانی اور مقامی ٹریول ایجنٹس کا ایک نیٹ ورک موجود ہے جو غیر قانونی اسمگلنگ کی سرگرمیاں چلاتا ہے۔ یہ ایجنٹ پاکستانی شہریوں کو باآسانی آذربائیجان کا وزٹ ویزہ دلاتے ہیں اور وہاں پہنچنے کے بعد، یہ افراد غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لیے مزید سہولتیں حاصل کرتے ہیں۔

    آذربائیجان کے راستے یورپ کی طرف غیر قانونی سفر
    آذربائیجان کے وزٹ ویزے کے ذریعے یورپ جانے کا طریقہ کار کچھ یوں ہے: پاکستانی شہری آذربائیجان پہنچ کر ایجنٹوں سے رابطہ کرتے ہیں اور پھر مختلف ممالک کی طرف غیر قانونی طور پر سفر کرتے ہیں، جہاں سے یورپ پہنچنا نسبتا آسان ہوتا ہے۔ آذربائیجان میں پہنچنے کے بعد اکثر افراد ایجنٹوں کے ساتھ مل کر جعلی دستاویزات یا ویزے حاصل کرتے ہیں، جس سے انہیں یورپ پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔

    سعودی عرب، ایران اور عراق کے راستے اسمگلنگ
    اسی طرح سعودی عرب میں عمرہ ویزے پر پہنچ کر وہاں موجود ایجنٹوں سے جعلی ویزے یا پاسپورٹ حاصل کر کے اگلے سفر کی تیاری کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب سے ایسے درجنوں افراد کو پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا ہے جو عمرہ ویزے پر سعودی عرب گئے تھے اور وہاں سے آگے غیر قانونی طور پر سفر کرنا چاہتے تھے۔
    ایران اور عراق کے راستے بھی پاکستانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے لیے اہم ہیں۔ ایران میں زمینی یا بحری راستوں سے پہنچ کر پاکستانی یا مقامی ایجنٹس کے ذریعے جعلی دستاویزات حاصل کی جاتی ہیں، اور پھر یہ افراد یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح عراق میں بھی انسانی اسمگلنگ کا ایک نیٹ ورک سرگرم ہے، جہاں پاکستانی شہری مختلف طریقوں سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستانی انسانی اسمگلروں کا نیٹ ورک صرف آذربائیجان، ایران، سعودی عرب اور عراق تک محدود نہیں بلکہ ترکی، ملائیشیا، تھائی لینڈ، مراکش، جارجیا اور دیگر ممالک میں بھی پاکستانی اسمگلرز موجود ہیں۔ ان ممالک میں مختلف طریقوں سے پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک پہنچانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

    پاکستان کی حکومت کی جانب سے اس مسئلے کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر ایس او پیز (معیاری آپریٹنگ پروسیجرز) موجود نہیں ہیں۔ 2005 میں آخری بار وزارت داخلہ نے امیگریشن پالیسی جاری کی تھی، جس کے بعد سے اس میں کوئی تبدیلی یا اپ ڈیٹ نہیں کی گئی۔ نتیجتاً، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک نے آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں اور ہزاروں افراد غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی اسمگلنگ کے اس پیچیدہ نیٹ ورک کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان کو فوری طور پر نئی پالیسی تیار کرنے اور انٹرنیشنل لیول پر کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، پاکستانی شہریوں کو آگاہی دینے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ انسانی اسمگلروں کے جال میں نہ پھنسیں اور غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کی کوششوں میں جان کی بازی نہ ہاریں۔یونان میں کشتی ڈوبنے کی حالیہ واردات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کے شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے کی کوشش میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    کراچی ، انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی ہدایت

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل