Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کسی عالمی طاقت کے توازن میں بگاڑ کے لئے کسی بھی قسم کے عزائم نہیں رکھتا یہ بات امریکہ سمیت مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے بارے میں ایک متنازعہ فیصلہ کیاہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو لے کر ہمارے سیاستدانوں نے دلیل کے بجائے غلیل اٹھا لی ہے جیسا کہ ملک کے صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں امریکہ کو للکارا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ بائیڈن انتظامیہ اور ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں بہت فرق ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کے بارے کیا پالیسی ہوگی ۔ بہت ہی تھوڑا فاصلہ باقی ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بھارت پاکستان کو لیکر کس پالیسی پر گامزن ہے ۔ بھارت کے جارحانہ عزائم سے امریکہ سمیت عالمی قوتیں آگاہ ہیں اور پاکستان کو اپنی سلامتی اور بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا دفاع مضبوط رکھنے کا پورا حق ہے۔پاکستان کے دفاع کو مستحکم دیکھ کر بھارت کو تکلیف ہے۔ بھارت نے خود خطے میں سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیار حاصل کئے ہوئے ہیں ۔ عالمی طاقتوں سے دفاعی نظام حاصل کر رکھا ہے ۔ اُمید ہے کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ بائیڈن انتظامیہ کے ان فیصلوں پر عمل نہیں کرے گی امریکہ اور پاکستان دونوں اتحادی ملک ہیں پاکستان نے 9/11 کے بعددہشت گردی کے خاتمے کے لئے جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ آج تک پاکستان دہشت گردی کی زدمیں ہے ۔عالمی دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کا کردار کیا رہا اور بھارت افغانستان میں قیام امن کو برباد کرنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی میںملوث رہا جبکہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھی ملوث رہا جس کا ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہے۔ نئی آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ مشرق وسطیٰ سمیت روس یوکرین جنگ عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق مشرق و سطیٰ میں طویل جنگ نہیں چاہتے جبکہ امریکی دفاعی ادارے چین کو امریکی طاقت اور مفاعدات کے لئے سب سے زیادہ ممکنہ چیلنجز کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ٹرمپ کے پاس عالمی دنیا کے لئے نئی خارجہ پالیسی کا تعین کرنے کا اہم اختیار ہوگا۔ پاکستان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ2025 وائٹ ہائوس کی خارجہ پالیسی کا نقطہ نظر 2024 بائیڈن انتظامیہ سے مختلف ہوگا۔ پاکستا ن کو نئی ٹرمپ انتظامیہ کو دلیل کے ساتھ اپنے دفاع اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنا ہوگا۔سیاسی جماعتوں کو غلیل سے نہیں دلیل کے ساتھ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات کرنا ہوگی۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • معیشت کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا، وفاقی وزیر خزانہ

    معیشت کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا، وفاقی وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ م اسلام آباد میں دربار لگا کر نہیں بیٹھیں گے، تاجر اپنے کام پر توجہ دیں ہم آپ کے پاس خود حاضر ہوں گے، بجٹ کی تیاری میں تجاویز اور مشورے کیلئے تمام سٹیک ہولڈر کے پاس جائیں گے۔

    باغی ٹی وی: کسانوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، ہمیں پائیدار معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ہے، ہمیں برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینا ہے ہم اسلام آباد میں دربار لگا کر نہیں بیٹھیں گے، تاجر اپنے کام پر توجہ دیں ہم آپ کے پاس خود حاضر ہوں گے، بجٹ کی تیاری میں تجاویز اور مشورے کیلئے تمام سٹیک ہولڈر کے پاس جائیں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ دسمبر کا آخر ہے، اللہ کے کرم سے جو باتیں کہیں تھیں وہ کر کے دکھائیں، وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں تمام کہیں باتوں پر عمل آیا جس سے معاشی استحکام آیا ہے، اللہ کا شکر ہے مہنگائی کم ہوئی ہے، افراط زر 5 فیصد پر پہنچ گیا ہے، فارن ایکسچینج ریزرو میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی طبیعت ناساز ، اسپتال منتقل

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی معیشت کا پہیہ ابھی چلنا شروع ہوا ہے، معاشی اہداف ہمیں استحکام کی طرف لے کر گئے اور لے کر جا رہے ہیں، کوشش ہے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لے آئیں، زراعت کے سلسلے میں پچھلے سال اچھی چیز ہوئی، زراعت اور پولٹری کے سیکٹر کو آگے لے کر چلنا ہے، پچھلے 6 ماہ کے اہداف دیکھے چاول کی بہترین ایکسپورٹ ہوئی، ترسیلات پچھلے سال 30.2 بلین ڈالرز تھیں، اللہ مدد کرتا رہا تو ترسیلات 35 بلین ڈالرز سے زیادہ ہوں گی۔

    اوور سیز پاکستانیوں نے 31 فیصد زیادہ پیسے بھیج کر سول نافرمانی کی کال مسترد کردی، مریم اورنگزیب

    وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا، مثبت پالیسیوں کی وجہ سے معیشت بہتر ہوئی، ہمارے اختلافات ہوسکتے ہیں مگر ملک کی خاطر اکٹھا ہونا پڑے گا، یہاں کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتا، چارٹر آف اکانومی پر سب اکٹھے ہوجائیں، ملک ہے تو ہم ہیں،ٹیکسیشن، انرجی اور گورنمنٹ کے اداروں میں اصلاحات کی طرف جا رہے ہیں، پاکستان سے بڑا کوئی ملک نہیں جو خیرا ت نہ دیتا ہو، خیرات سے تعلیمی ادارے اور ہسپتال چل سکتے ہیں، ملک خیرات سے نہیں چلتے، ملک ٹیکسز سے چلتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

  • سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب کا نقصان

    سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب کا نقصان

    سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی جا سکی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا.

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 24 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران 15 سرکاری کمپنیوں کو 405 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوا۔وزارت خزانہ کی مالی سال 24 کی ایس او ایز پر ششماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2023 سے دسمبر 2023 تک ان ایس او ایز کے مجموعی نقصانات کا تخمینہ 405 ارب 86 کروڑ روپے لگایا گیا تھا، اس کے برعکس دیگر تمام ایس او ایز کے نقصانات 2 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد تھے۔مجموعی نقصانات میں 15 سرکاری ملکیت والے اداروں (ایس او ایز) کا حصہ 99.3 فیصد رہا، جو ایس او ای سیکٹر میں وسیع پیمانے پر نااہلی اور آپریشنل مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔وزارت خزانہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی طور پر ایس او ای نقصانات میں گزشتہ سال کے 452 ارب 68 کروڑ روپے کے مقابلے میں 9.72 فیصد کمی ہوئی ہے، تاہم 2014 سے اب تک مجموعی خسارہ 5 ہزار 900 روپے تک پہنچ چکا ہے۔حکومت پہلے ہی ایس او ایز کی درجہ بندی کرنے اور نجکاری یا کارپوریٹ تنظیم نو کے دیگر اختیارات کی طرف ان کے راستوں کی وضاحت کرنے کے لیے ایک ایس او ای کمیٹی تشکیل دے چکی ہے۔اس کمیٹی کا مقصد بہتر کارکردگی کے لیے نجی شعبے کی شرکت سے فائدہ اٹھانا اور عوامی خزانے پر ایس او ایز کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کمیٹی کے سربراہ ہیں، تاہم یہ کمیٹی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔سرکاری ملکیت والے اداروں کے اعدا و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ این ایچ اے کو سب سے زیادہ 151 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، اس کے بعد کیسکو کو 56 ارب 20 کروڑ روپے اور پی آئی اے کو 51 ارب 70 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، پیسکو نے 39 ارب روپے کا نقصان ریکارڈ کیا جبکہ پاکستان ریلوے کو 23 ارب 60 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی، پاکستان اسٹیل ملز کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کے نقصانات کی بھی اطلاع ہے کہ انہیں بالترتیب 20 ارب 90 کروڑ روپے، 14 ارب 40 کروڑ روپے اور 12 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔سینٹرل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (جینکو ٹو) کو 8 ارب 30 کروڑ روپے، پی ٹی سی ایل کو 7 ارب 70 کروڑ روپے، پاکستان پوسٹ آفس کو 5 ارب 50 کروڑ روپے، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کو 5 ارب 20 کروڑ روپے، ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کو 2 ارب 60 کروڑ روپے، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو 4 ارب 60 کروڑ روپے جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (پرائیویٹ) کو 2 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔حکومت نے دسمبر 2023 کو ختم ہونے والے 6 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 436 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی، اس امداد کو 120 ارب روپے کی گرانٹ، 231 ارب روپے سبسڈی اور 85 ارب روپے کے قرضوں میں تقسیم کیا گیا تھا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مدت کے دوران کوئی ایکویٹی انجکشن نہیں بنایا گیا تھا، یہ مالی مداخلت سالانہ بنیادوں پر وفاقی بجٹ کی وصولیوں کا 7 فیصد سے زائد بنتی ہے۔ مالی سال 24 کے پہلے 6 ماہ کے دوران لائن لاسز کی بنیاد پر ڈسکوز کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے، لیسکو 323 ارب 46 کروڑ روپے کے ساتھ پہلے، میکپو 272 ارب 96 کروڑ روپے کے ساتھ دوسرے، فیسکو 217 ارب 41 کروڑ روپے کے ساتھ تیسرے اور گیپکو 159 ارب 32 کروڑ روپے کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی۔حیسکو کے لائن لاسز کا تخمینہ 59 ارب 78 کروڑ روپے، آئیسکو کا 68 ارب 72 کروڑ روپے، سیپکو کا 62 ارب 84 کروڑ روپے، پشاور الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کا 186 ارب 30 کروڑ روپے اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کا 86 ارب 72 کروڑ روپے ہے۔جولائی تا دسمبر 2023 کے 6 ماہ کے دوران منافع کمانے والے ٹاپ 15 اداروں نے 510 ارب 20 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ مضبوط مالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب کہ دیگر تمام ایس او ایز کا منافع 50 ارب 20 کروڑ روپے رہا۔ان میں سے او جی ڈی سی ایل 123 ارب 20 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ سرفہرست ہے، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ 68 ارب 70 کروڑ روپے اور نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ 36 ارب 20 کروڑ روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، دیگر اہم شراکت داروں میں پاک عرب ریفائنری کمپنی 35 ارب روپے اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ساڑھے 32 ارب روپے کے ساتھ شامل ہیں، مزید منافع بخش اداروں میں نیشنل بینک آف پاکستان 26 ارب 60 کروڑ روپے اور پورٹ قاسم اتھارٹی 18 ارب 40 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ شامل ہیں۔ایس او ایز کی مجموعی آمدنی 7 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔متعلقہ مدت میں ایس او ایز نے 200 ارب روپے کے ٹیکس ادا کیے، جو گزشتہ 6 ماہ کے مقابلے میں 14 فیصد کم ہے، نان ٹیکس محصولات جن میں سیلز ٹیکسز، رائلٹیز اور لیویز شامل ہیں، (27 فیصد کمی سے) 349 ارب روپے رہے، 9 ارب روپے کا ڈیوڈنڈ تقسیم کیا گیا، جو 71 فیصد کم ہے۔

    مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    کراچی میں آج بھی احتجاج، شہریوں کو شدید مشکلات

  • پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2024 کے پہلے نو ماہ میں ایچ آئی وی کے 9 ہزار 713 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ماہانہ اوسطاً 1 ہزار 79 افراد ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں۔

    وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2024 کے اختتام تک ایچ آئی وی کے 12 ہزار 950 کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال یعنی 2023 میں ایچ آئی وی کے 12 ہزار 731 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے صحت کے نظام میں مزید احتیاطی تدابیر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کے ایچ آئی وی کیسز میں مردوں کی تعداد 69.4 فیصد، خواتین کی 20.5 فیصد، خواجہ سرا 4.1 فیصد اور بچوں کی تعداد 6 فیصد ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کا سب سے زیادہ اثر مردوں پر پڑ رہا ہے، تاہم خواتین، خواجہ سرا اور بچے بھی اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    اگر صوبوں کی بات کی جائے تو اس سال پنجاب میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں 5 ہزار 691 افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔ سندھ میں 2 ہزار 383، خیبرپختونخوا میں 926 اور بلوچستان میں 329 ایچ آئی وی کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں 9 ماہ میں 378 اور آزاد کشمیر میں 10 ایچ آئی وی کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ماہرین اور حکام نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی رسک گروپز جیسے کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کرنے والے افراد اور منشیات کے استعمال کرنے والے افراد سے ایچ آئی وی عام آبادی میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آگہی کی کمی، حفاظتی تدابیر کا فقدان اور صحت کی سہولیات میں حفاظتی اقدامات کی کمی بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوامی آگہی میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ غیر محفوظ جنسی تعلقات سے بچاؤ، منشیات کے استعمال سے اجتناب اور صحت کے مراکز پر حفاظتی اقدامات کی فراہمی بھی انتہائی اہم ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائیں اور وقتاً فوقتاً ٹیسٹ کرواتے رہیں تاکہ اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 2024 کے اختتام تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکام اور ماہرین کی جانب سے عوام کو آگاہی دینے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی تاکید کی جا رہی ہے تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    ڈیرہ غازی خان: حمام اورہیئر سیلون ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا گڑھ بن گئے

    ڈیرہ غازی خان: گلف ممالک سے واپس آنے والوں کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں میں خوفناک اضافہ

    ایڈز سے بچاؤ کیلئے سیمینار ،شرکا کی واک،آگاہی مہم

    ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    نشتر ہسپتال ملتان،ایڈز کا پھیلاؤ، وزیراعلیٰ کا ایکشن،افسران معطل

  • پاکستان کاآذربائیجان سےگیس سپلائی کا معاہدہ

    پاکستان کاآذربائیجان سےگیس سپلائی کا معاہدہ

    پاکستان کاآذربائیجان سےگیس سپلائی کااہم معاہدہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل اور آذربائیجان کی سوکار کمپنی کا گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدہ ہوا،پاکستان اسٹیٹ آئل نے معاہدے کی تفصیلات پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کردیں۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان گیس سپلائی کا معاہدہ ہوا،خط کے مطابق پی ایس او اور سوکار معاہدے کی رسمی منظوری 24دسمبر کو موصول ہوئی۔پی ایس او کو معاہدے پر دستخط کی اجازت وزارت توانائی نے 3 دسمبر کو دی،گیس سپلائی معاہدے پر عملدرآمد مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا۔پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان معاہدہ توانائی کے شعبے میں بڑا قدم ہے۔واضح رہے پاکسستان کو اس وقت گیس کی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث گھریلو صارفین کو محدود اوقات کے لیے گیس دی جا رہی ہے جبکہ سردیوں میں صنعتوں کو مکمل گیس کی سپلائی بند ہے.

    ٹیکس جمع نہ کروانے پر شادی ہالز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

  • بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، ترجمان پاک فوج

    بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کےخلاف ایک طویل جنگ لڑی اور لڑ رہا ہے، افواج نے بے بیش بہا قربانیاں دی ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اہم کامیابیاں ملیں، بلوچ دہشت گردوں کے انتہائی مطلوب سرغناؤں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشت گردی میں ملوث 27 افغان دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کیا گیا، سیکورٹی فورسز کو رواں برس بڑی کامیابی ملی جب دو خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جن کے قبضے سے دس خود کش جیکٹ ،دھماکا خیز مواد، اسلحہ برآمد ہوا تھا، بلوچستان سے گرفتار ہونے والی خود کش خواتین بمباروں نے انکشاف کئے کہ کیسے دہشت گرد نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتے ہیں،فتنہ الخوارج کے متعدد سر غنہ جہنم واصل کئے گئے، 2 خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جبکہ 14 مطلوب دہشتگردوں نے ہتھیار ڈالے،دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 169 سے زائد آپریشنز کیے جا رہے ہیں

    پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف 59775 کامیاب آپریشن کئے اور دہشت گردی کے خلاف کئی منصوبوں کو ناکام بنایا ،رواں سال 925خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ،رواں سال کامیاب آپریشنز میں متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا ،گزشتہ 5سال میں ہلاک دہشت گردوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے،ان آپریشنز کے دوران 73 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرد ہلاک ہوئے،انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں میاں سید عارف قریشی عرف استاد، محسن قادر، عطا اللہ عرف مہران، فدا الرحمان عرف لال، علی رحمان عرف طحہ سواتی اور ابو یحییٰ شامل ہیں،ریاستی اداروں کی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں 14 مطلوب دہشت گردوں قومی دھارے میں شامل کیا گیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور لڑرہا ہے ، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں،دہشتگردوں کے کئی منصوبوں کو ناکام بنایا گیا،افواج پاکستان کے 384 جوان 2024 میں شہید ہوئے ، پوری قوم اِن بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا،پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے لیکن ہماری کوششوں کے باوجود افغانستان کی سرزمین سے فتنۃ الخوارج پاکستان میں دہشتگردی کرتے آ رہے ہیں،پاکستان سے غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے، آٹھ لاکھ 15 ہزار غیر قانونی افغان باشندے واپس جا چکے ہیں،آرمی چیف واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان سے کارروائیوں پر تحفظات ہیں۔پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،قبائلی اضلاع میں 72 فیصد علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا گیا، حکومت کی خصوصی ہدایات پر سمگلنگ، بجلی چوری، منشیات و ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے،

    پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں، رواں سال میں بھارت نے متعدد مرتبہ سیز فائز کی خلاف ورزیاں کیں،بھارت کی جانب سے 25 سیز فائر وائلیشن، 564 سپیکولیٹو فائر کے واقعات، 61 ایئر سپیس وائلیشن، 181 ٹیکٹیکل ایئر وائلیشنز کے واقعات شامل ہیں ،رواں سال بھارت کی طرف سے فالس فلیگ آپریشن کئے گئے جن کا مقصد اندرونی سیاست اور خلفشار سے توجہ ہٹانا تھا فالس فلیگ آپریشن کی اطلاع را سے جڑے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دی جاتی رہی.پاکستان کی فوج ایل او سی پر کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، ہم ملک کے دفاع کے لئے ہمہ وقت کسی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں، بے گناہ کشمیری نوجوانوں‌کو بھارت شہید کررہا ہے، کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لئے عالمی دنیا کے توجہ کے منتظر ہیں، بھارت اقوام متحدہ کی قرارداروں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، ہم مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، انکی حمایت جاری رکھیں گے،بھارت میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے کڑا سوال ہے،بھارتی حکومت ریاستی دہشت گردی کا کھلم کھلا ارتکاب کر رہی ہے ،بھارتی ریاستی دہشت گردی میں بیرون ممالک ماورائے عدالت ٹارگٹ کلنگ باشمول بھارتی نزاد سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی شامل ہے ،بھارت میں مسلمانوں ،اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،بھارت مختلف ریاستوں میں حقوق کےلئے تحریکوں کو پوری قوت کے ساتھ کُچل رہا ہے، بھارت دیگر ممالک میں سکھوں کے قتل میں بھی ملوث ہے، بھارت میں سازش کے تحت اقلیتوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے مظلوم عوام کی قانونی، سفارتی، اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔خطے میں اجارہ داری کے لیے بھارتی اقدامات سے بخوبی واقف ہیں،پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری کیلئے ہمہ وقت ہر قربانی کیلئے تیار ہیں، ڈ

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج روایت کے مطابق عوام کی فلاح پر توجہ دے رہی ہے۔ قدرتی آفات سے نبردآزما ہونا ہو یا دوسرے چیلنجز، افواج پاکستان نے حکومتی ہدایات کے مطابق کام کیا،تعلیم، صحت کے منصوبے بھی ہیں.بجلی چوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی پاک فوج سرگرم عمل ہے، سیلاب کے دوران امدادی کیمپس لگائے گئے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کر کے پاکستان کو مضبوط کریں،فلاحی کاموں کے پروجیکٹس فوج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مکمل کیے جاتے ہیں ، 2024 ء میں صوبہ خیبرپختونخوا میں پاک فوج کی جانب سے 6500 Outreach programs شروع کیے گئے ، ”علم ٹولو دا پارہ” کے تحت 7 لاکھ سے زائد طالب علموں کو تعلیمی سہولیات میسر کیں ، صحت کے شعبے میں 113 سے زائد میڈیکل کیمپس کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ، سبی اور ہرنائی کے درمیان 140 کلومیٹر لمبے ریلوے ٹریک میں سے 93 کلومیٹر ریلوے ٹریک کو مرمت کے بعد 17 سال بعد کھول دیا گیا ، کچھی کینال، کام مکمل ہونے کے بعد نومبر 2024 سے پہلے مرحلے میں 65 ایکڑ اراضی کو سیراب کر رہی ہے ، اب تک 15825 ایکڑ رقبہ گرین پاکستان انیشیٹو پروگرام کے تحت زیر کاشت لایا گیا ہے،

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے سخت ٹریننگ کے معیار کو قائم رکھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہ ہمارا طرہ امتیاز اور شناخت کا اہم حصہ ہے،ہماری ٹریننگ کا اہم پہلو جذبہ شوق شہادت کے ساتھ فرنٹ سے لیڈ کرنا ہے، پاک فوج کا شمار دنیا کی اُن چند افواج میں ہوتا ہے جہاں افسر سب سے آگے بڑھ کر آپریشنز لیڈ کرتے ہیں اور دفاع وطن میں جان قربان کرتے ہیں،پاکستانی فوجی افسران کی شہادت کا تناسب شہداء کی تعداد سب سے زیادہ ہے.2024 میں 183 یونٹس نے جنگی مشقیں کیں.رواں سال 11 ہزار جوانوں کو Pre Induction Training دی گئی. رواں سال آٹھ مختلف بین الاقوامی مشترکہ مشقوں کا انعقاد کیا گیا ،رواں سال فروری میں PATs کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں 12 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا ، پاکستان بحریہ نے بھی رواں سال 25 کثیر الجہتی مشقوں میں شرکت کی ،اکتوبر میں ہونے والی Exercise Industrial 2024 میں 24 ممالک کی فضائی افواج نے شرکت کی ، رواں سال طویل المدتی War Games حکمت نو مکمل کی گئی، یاد رکھیں محفوظ پاکستان ہی مضبوط پاکستان ہے،

    پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم،جسے اشرافیہ کی پشت پناہی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم موجود ہے، اُس میں بھتہ خوری ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ہیں، اغوا کاری ہے، سمگلنگ ہے اور فیک نیوز پروپیگنڈہ بھی ہے، اور ان سب کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہو،یہ غیرقانونی سپیکٹرم ختم ہو گا، اشرافیہ کی پشت پناہی ختم ہو گی تو پاکستان میں خوشحالی آئے گی،آرمی چیف نے چند دن قبل کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صرف سکیورٹی فورسز نہیں پوری قوم لڑتی ہے، ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ گورننس میں جو گیپس ہیں وہ ہم ہر روز شہدا کی قربانیوں سے پر کر رہے ہیں، رواں برس 900 سے زائد دہشت گردوں کو مارا گیا، اس وقت پورے پاکستان میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں خارجیوں کی عملداری ہو ،اگر دہشت گرد جن کے ہاتھ پاکستانی شہریوں کے خون سے آلودہ ہیں اور ان دہشت گردوں کو سرحد پار سے مدد ملتی ہے تو پھر،…آٹھ لاکھ غیر قانونی افغانیوں کو واپس بھیجا، سمگلنگ میں کمی آ چکی ہے، آرمی چیف واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو کالعدم تنظیموں کیلئے دستیاب پناہ گاہوں ، سہولت کاری اور افغان سرزمین سے آزادانہ کارروائیوں پر تحفظات ہیں،پاکستان دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور شہریوں کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے گا۔

    اس(دہشتگردی)ایشو پر سیاست اور بیانیہ نہ بنائیں خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس پر زور دیں۔ڈی جی آئی ایس پی ار
    فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی کس کے فیصلے پر دوبارہ ان کو آباد کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے، افغانستان کو کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کو روکے،برادر ملک کے ذریعے بھی بات چیت جاری ہے،افغان خود کش بمباروں کو پکڑا ہے،وہ روزانہ معصوم شہریوں کا نا حق خون بہائیں تو کیا ہم بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہیں،دوغلی سیاست کا پرچار کرنے والوں سے سادہ سوال ہے کہ چھ دن قبل 21 دسمبر کو جنوبی وزیرستان میں 16 ایف سی کے جوان شہید ہوئے، کیا ان کے خون کی کوئی قیمت نہیں کیا وہ پاکستان کے شیر دل جوان نہیں تھے، 2021 میں جب فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی تو اس وقت کس کے فیصلے پر ان کو دوبارہ آباد کیا گیا، کس نے ان کو طاقت اور دوام بخشا، یہ جو فیصلے جس کا ہم سب خمیازہ بھگت کر رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ان فیصلوں کی لکھائی اپنے خون سے دھو رہے ہیں، اگر کوئی فریق اپنی گمراہ سوچ، مرضی مسلط کرنے پر تلا ہو تو اس سے کیا بات کریں، ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو دنیا میں کوئی جنگ، غزوہ،مہمات نہ ہوتی، جان قربان کرنا مسلمان کے لئے فخر ہوتا ہے، ہم اپنے ایمان، وطن ،آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، جس تلخ تجربے سے ہم گزرے اسکے باوجود کوئی لیڈر یا سیاسی شخصیت یہ کہے ، اور جو یہ سمجھتا ہو کہ اسے ہر چیز کا علم ہے تو ایسے رویوں کی قیمت پوری قوم اپنے خون سے چکاتی ہے، دوبارہ آبادگاری کی قیمت ہم بھگت رہے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے پر کنفیوژن اور بیانیے نہ بنائیں خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس پر توجہ دیں، بجائے بیانیے بنانے، سیاست کرنے کے گڈ گورننس پر توجہ ہونی چاہئے، وہ ہم نے نہیں کرنا اسلئے یہ سیاست کرتے ہیں،نو مئی واقعات میں ملوث لوگوں کو اپنے انجام تک پہنچنا چاہیے۔ برطانیہ میں ہونیوالے نسلی فسادات میں بالغ اور نابالغ سب کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، امریکہ میں کیپیٹل ہل میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، فرانس میں فسادات میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں تو پھر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔

    فوجی عدالتوں کے فیصلے سے واضح پیغام جاتا ہے کہ مستقبل میں بھی کوئی ایسے معاملات میں ملوث ہو گا تو اُسے ہر صورت سزا ملے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
    جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کررہے ہیں کچھ عرصہ قبل تک وہ خود اس کے سب سے بڑے حامی تھے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    کہا جاتا نومئی فالس فلیگ آپریشن ہے فوج نے خود کروایا تو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے فوج اپنے بندوں کو سزائیں دے رہی ہے انتشار یوں کو تکلیف کیوں ہو رہی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    نو مئی کے گھناونے کردار اور منصوبہ ساز کو انجام تک پہنچانے تک انصاف کا سلسلہ جاری رہے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ نومئی پر افواج پاکستان کا مؤقف واضح ہے، نومئی افواج کا نہیں عوام پاکستان کا مقدمہ ہے، یہ بات واضح ہونی چاہئے، اگر کوئی جتھہ،مسلح ،پرتشدد گروہ اپنی مرضی، سوچ معاشرے پر مسلط کرنا چاہے اور اسکو قانون کے مطابق نہ روکا جائے تو ہم معاشرے کو کس طرف لے کر جائیں گے، 2023 میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی رو میں ملٹری کورٹس میں جن کو ریفر کیا گیا تھا وہ منجمد کر دیا گیا تھا، اب سپریم کورٹ نے جب فیصلے دینے کو کہا تو تمام قانونی تقاضوں کو دیکھتے ہوئے،قانونی عمل پورا کر کے ان افراد کو سزائیں دی گئیں، واضح پیغام ہے کہ اس طرح کے معاملات میں کوئی گنجائش نہیں، مستقبل میں بھی اس طرح ہو گا تو سزا ہو گی، پاکستان میں ملٹری کورٹس آئین ،قانون کے مطابق دہائیوں سے قائم ہیں، یہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہیں،ملٹری کورٹس میں ملزمان کو اپنا وکیل کرنے سمیت تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں، سزا ہو جائے تو مجرموں کواپیل کا حق حاصل ہے، آرمی چیف، ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں، یہ فیصلے اس وقت سنائے گئے جب سپریم کورٹ نے حکم دیا، نومئی کا کسی طرح دفاع نہیں کر سکتے اسلئے ملٹری کورٹ بارے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، ابھی جو عناصر بات کر رہے ہیں وہ خود کچھ عرصہ قبل ملٹری کورٹ کے حامی تھے،یہ بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ فوج نے خود یہ کروایا، فالس فلیگ، تو پھر اگر ہم نے ان فوج کے بندوں کو سزائیں دے دیں تو انکو خوش ہونا چاہئے، یہ منافقت اور فریب کی آخری حدوں کو کراس کر چکے ہیں، انسداد دہشت گردی عدالتوں میں بھی نو مئی کے مقدموں کو انجام تک پہنچانا چاہئے،نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں ، کچھ لوگ اپنی سیاست کے لئے ان میں زہر ڈالتے ہیں، جو اس بیانیے پروپیگنڈے کی بنیاد رکھتے ہیں اصل ملزم وہی ہیں، انصاف کا سلسلہ اسی وقت چلے گا جب تک نومئی کے منصوبہ ساز کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکتا،

    یہ خوش آئند ہے کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر اپنے سیاسی اختلافات حل کریں نہ کہ انتشاری اور پرتشدد سیاست کے ذریعے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی واضح کر چکا،دوبارہ کہتا ہوں کہ افواج پاکستان کا ہر حکومت کے ساتھ سرکاری ، پیشہ وارانہ تعلق ہوتا ہے، سرکاری تعلق کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، پاکستان کی فوج قومی فوج ہے، ہمارے لئے تمام سیاسی پارٹیاں، رہنما قابل احترام ہیں، کوئی فرد واحد اور اُس کی سیاست اور اقتدار کی خواہش پاکستان سے بالاتر نہیں ہے، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی حکومتیں موجود ہیں، سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، یہ خوش آئند بات ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کریں نہ کہ انتشار کے ذریعے.

    جو فوجی افسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا، اُسے جواب دینا ہو گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید کو فوجی عدالت میں تمام حقوق حاصل ہیں،فوج میں خود احتسابی کا نظام اہم ہے، نومئی کے پیچھے مضبوط منصوبہ بندی تھی جو بھی اس میں شامل تھے اس کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے، ہر افسر کے لئے ریاست پاکستان مقدم ہے،کوئی بھی آفیسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا تو اسکو جواب دینا پڑے گا، فیض حمید کا کیس حساس کیس ہے غیر ضروری تبصروں ،تجزیوں سے گریز کیا جائے،

    سیاسی قیادت کے بھاگنے کی وجہ سے جگ ہنسائی سے بچنے کےلئے ہلاکتوں کا بیانیہ بنایا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے کی گئی نومبر سازش سیاسی دہشت گردی ہے، یہ منفی تشدد کی سیاست کا سلسلہ 2014 میں جب پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، سرکاری املاک پر حملہ ہوا، 2022 میں بھی، 2023 میں بھی اور اسی کا تسلسل اب 2024 میں دیکھا، عوام کے شعور کی وجہ سے تمام کوششیں ناکام ہوئیں، آئندہ بھی ناکام ہوں گی، فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک تھی۔ جب پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو شہید کیا جاتا ہے تو یہ سیاسی احتجاج نہیں سیاسی دہشت گردی ہے۔فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک محدود تھی، وہ پرتشدد ہجوم کے ساتھ براہ راست کنٹیکٹ میں نہیں رہی، نہ ہی اُسے اِس لئے تعینات کیا گیا، دشمن پریشان ہے کہ باوجود دہشتگردی، سیاسی انتشاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈا کے یہ ملک ترقی کر کیسے رہا ہے،آپ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک دم پوری دنیا سے انسانی حقوق کی تنظیمیں قانونیت اور انسانی حقوق کا منفافقانہ پرچار کرنے کےلئے’’پاپ اپ‘‘ہو جاتی ہیں،پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے پیچھے سوشل میڈیا اور اُسے چلانے والے ہیں، قانون اور آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن کیلوں والے ڈنڈوں، اسلحے اور شیل لے کر دھاوا بول کر پولیس اور رینجرز کو شہید کرتے ہیں تو یہ سیاسی احتجاج نہیں، سیاسی دہشتگردی ہے،26 نومبر کو ڈی چوک میں سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کو آتشیں اسلحہ دیا ہی نہیں گیا تھا، جب سیاسی قیادت وہاں سے بھاگی تو پہلے سے تیار شدہ سوشل میڈیا فیک کانٹینٹ کو بڑی سپیڈ کے ساتھ ڈالا گیا،جو لوگ پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلا رہے ہیں ان سے میری درخواست ہے وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے خلاف بھی سوشل میڈیا مہم چلائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو جو واضح اور کھلی بربریت غزہ اور کشمیر میں ہورہی ہے وہ ان کو نظر نہیں آرہی ان کو شام اور لیبیا میں ہوتے ہوئے مظالم نظر نہیں آرہے اور یہاں پاکستان میں ان دیکھی لاشوں پر آپ دیکھیں گے کہ ان کے جذبات بے قابو ہوجائیں گے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ کرم کا ایشو قبائلی اور زمینی تنازعہ ہے۔ اسکو صوبائی حکومت اور سیاست دانوں نے حل کرنا ہے بجائے اس کے کہ اس کا ملبہ اداروں پر ڈالا جائے۔

  • وزیراعظم کی  آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    وزیراعظم کی آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف آذربائیجان کے سفارت خانے پہنچے جہاں انہوں سفیر سے آذر بائیجان کے طیارے کو پیش آئے حادثے پر اظہار افسوس کیا۔

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کی آذر بائیجان کے سفارت خانے آمد ہوئی جہاں انہوں ںے سفیر سے ملاقات کی وزیر اعظم نے قزاقستان کے علاقے اکٹاؤ (Aktau) میں آذربائیجان کے ہوائی جہاز کو پیش آنے والے حادثے اور اس میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا۔

    وزیراعظم نے حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی اور زخمیوں کی جلد از جلد صحتیابی کے لیے دعا کی، وزیراعظم نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام آذربائیجان کے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، آذربائجان اور پاکستان کے مابین مشترکہ مذہبی اور ثقافتی اقدار پر مبنی بھائی چارے کے مضبوط تعلقات ہیں-

    آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف (Khazar Farhadov) نے وزیراعظم کا ان کی تشریف آوری پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وزیراعظم پاکستان کا ہمارے سفارت خانے آ کر اظہار افسوس کرنا ہمارے لیے انتہائی قابل قدر ہے-

  • وزیراعظم  سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم   کی ملاقات

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں چیئرمین ماؤ زے تنگ کی بھتیجی مادام ماؤ شیاؤ چنگ بھی موجود تھیں،ماسٹر یوآن کے بنائے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح اور چیئرمین ماؤ زے تنگ کے اسکلپچرز کے حوالے سے خصوصی تقریب ہوئی،یہ تقریب 25 دسمبر کو قائد اعظم اور 26 دسمبر کو ماؤ زے تنگ کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی،وزیراعظم نے پاکستان آمد پر ماسٹر یوآن کو خوش آمدید کہا،وزیراعظم نے قائد اعظم اور چیئرمین ماؤ کا شاندار اسکلپچرز بنانے پر ماسٹر یوآن کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کی یہ تقریب تاریخی ہے،دونوں لیڈرز کے اسکلپچرز ماسٹر یوآن کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے ،قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے نئی اسلامی مملکت پاکستان کی بنیاد رکھی،جدید چین کی بنیاد رکھنے میں چئیرمین ماؤ کا کلیدی کردار تھا،چیئرمین ماؤ زے تنگ کی عزت و احترام ہر پاکستانی کے دل میں ہے ،پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات کی بنیاد مشترکہ عزت و احترام اور بھروسے پر مبنی ہیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ چین اور پاکستان دونوں قدیم تاریخی ورثوں کے امین ہیں،اس سال جون میں اپنے دورہء چین کے دوران شیان میں ٹیرا کوٹا واریئرز میوزیم جانے کا اتفاق ہوا جو کہ انتہائی متاثر کن تاریخی ورثہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ،پاکستان وادیء سندھ کی قدیم ترین تاریخ کا مسکن ہے ؛ موہنجو دڑو اور ہڑپہ میں ہزاروں سال پرانی انسانی تاریخ پنہاں ہے ،اس سال چین کے وزیراعظم عزت مآب لی کی چیانگ کے پاکستان کے دورہ سے دونوں ممالک کے مثالی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ،پاکستان اور چین کی آل -ویدر اسٹریٹجک پارٹنر شپ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے،چین-پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے لے کر دفاع اور دفاعی پیداوار اور زراعت کے شعبوں میں تعاون میں مزید بہتری آ رہی ہے،پاکستان سے زراعت کے شعبے کے گریجوئیٹ کا پہلا بیچ چینی زرعی یونیورسٹیوں میں تربیت اور تحقیق کی غرض سے جلد چین روانہ ہو گا ،

    تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات ، نشریات و ثقافت عطاء اللہ تارڑ ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ،پاکستان میں تعینات چینی سفیر عزت مآب جیانگ زی ڈونگ ، چین میں تعینات پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی اور سرکاری افسران موجود تھے۔

    ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

  • پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستان نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں خوارج کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کی، جس میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جن میں کئی اہم کمانڈرز شامل ہیں۔ اس کارروائی کے دوران خوارج کے 4 اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک خودکش جیکٹ بنانے والی فیکٹری اور ‘عمر میڈیا سیل’ بھی شامل ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئیں، جس سے مقامی آبادی یا شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے برعکس، دہشت گردوں کے درمیان مایوسی اور بھگدڑ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ خوارج ایک دوسرے کو بھاگنے کی ہدایات دے رہے تھے اور شکایت کر رہے تھے کہ مقامی لوگ ان کی مدد کے لیے نہیں آ رہے۔ یہ ویڈیوز اور آڈیوز اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے غیر متنازعہ اور درست کارروائیاں کیں۔

    پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قیمت پر کارروائی کرے گا۔ ایک سینئر سیکیورٹی افسر نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں سرحد پار کارروائیاں کی ہوں۔ ماضی میں بھی پاکستان نے ڈرون حملے کرکے دہشت گردوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم، افغان طالبان نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملوں کی روک تھام میں ناکام رہے۔ افسر نے کہا کہ اگر افغان طالبان پاکستان اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے اور خوارج کے خلاف مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

    افغان وزارت دفاع نے پاکستانی کارروائی کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس حملے میں 46 سویلین ہلاک ہوئے ہیں اور افغانستان اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کو اپنا ناقابل تنسیخ حق سمجھتا ہے۔ افغان وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے ایک احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود کی خلاف ورزی کی اور افغان عوام کی زندگی کو خطرے میں ڈالا۔

    پاکستانی ذرائع نے انکشاف کیا کہ افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے 2023 کے افغانستان کے زلزلے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کی کارروائی کو غلط طریقے سے پیش کیا جا سکے۔ یہ اکاؤنٹس اس مہم کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر اس کارروائی کو بدنام کیا جا سکے۔ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے یہ واضح کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد صرف دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنانا تھا، اور شہریوں یا دوسرے غیر فوجی مقامات کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔

    پاکستانی فضائی حملوں میں جن چار اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا ان میں شیر زمان، اختر محمد، اظہار اور شعیب چیمہ جیسے مشہور دہشت گرد کمانڈرز کے مراکز شامل ہیں۔ یہ مراکز خوارج کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر کام کر رہے تھے اور ان کی انتظامی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھے۔ ان مراکز کی تباہی نے دہشت گردوں کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    پاکستان کے موقف میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں اور اس کا مقصد پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانا تھا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس کے حملوں کا مقصد افغان عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا، بلکہ صرف ان دہشت گردوں کو نشانہ بنانا تھا جو دونوں ممالک کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

    پاکستان نے اپنی فضائی کارروائیوں کے ذریعے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو نہیں چھوڑے گا اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، چاہے وہ کہاں بھی چھپے ہوں۔

    افغان حکومت نے ایک اہم اجلاس کے بعد حالیہ پاکستانی حملے پر لاتعلقی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جلاس میں افغان حکام نے واضح کیا کہ حملے میں مارے جانے والے تمام افراد پاکستانی شہری ہیں اور ان میں کوئی افغان شامل نہیں تھا۔ اسی بناء پر افغان حکومت نے اس واقعے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے اور کسی قسم کے ردعمل سے اجتناب کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، افغان حکومت کے اس موقف کے پیچھے خطے میں غیر جانبداری کی پالیسی کو مضبوط کرنے کا مقصد ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایران نے بھی پاکستان کے ایک حملے پر اسی قسم کا موقف اپنایا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ حملے میں مارے جانے والوں میں کوئی ایرانی شہری شامل نہیں، لہذا وہ اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیں گے۔افغان حکام نے کہا ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج تمام اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے ملک کی حفاظت کرتی رہےگی، آرمی چیف

    پاک فوج قومی یکجہتی کی علامت،پاس آؤٹ نوجوان افسران کے جذبات

  • مزار قائد پر گورنراور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ

    مزار قائد پر گورنراور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش پرمزار قائد پرمیڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق گورنرسندھ نے وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرکےکہا کہ وزیراعظم سےجب بات کریں تو کراچی کے لیے بھی فنڈ ریلیز کروائیں، گورنرسندھ نے جواب میں کہا کہ کراچی میرا شہرہے،اس کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ہم سب کا ہے،آپ صرف کراچی کی بات کررہے ہیں آپ پورے سندھ کے گورنرہیں۔وزیراعلی کے جواب پرگورنر سندھ نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ میں کراچی اورپورے سندھ کا گورنر ہوں،اس موقع پروزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے لیے کے فورمنصوبے اوربی آر ٹی منصوبےسمیت بڑے بڑے پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔

    جنرل ساحر شمشادکی دورہ کویت کے دوران ولی عہد سے ملاقات

    کرنٹ سے بچے کی موت، والد کا کے الیکٹرک پر 48 لاکھ جرمانہ الخدمت کو دینے کا اعلان

    جنوبی افریقہ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے پلیئنگ الیون کا اعلان

    بھارتی گلوکار جیسی گِل نے پاکستان آنے کا اعلان کر دیا